Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • میئرلندن صادق خان ناکام ہوگئےہیں،کچھ بہتری کی امید نہیں:برطانوی چلا اٹھے

    میئرلندن صادق خان ناکام ہوگئےہیں،کچھ بہتری کی امید نہیں:برطانوی چلا اٹھے

    لندن:میئرلندن صادق خان ناکام ہوگئےہیں،کچھ بہتری کی امید نہیں:برطانوی چلا اٹھے،اطلاعات کے مطابق لندن کے میئر صادق خان کواس وقت سخت مشکلات کا سامنا ہے اوربرطانوی شہریوں خصوصا لندن کے رہائیشیوں کا کہنا ہے کہ صادق خان کچھ نہیں کرپارہےہیں اور نہ ہی ان سے کوئی امید کی جاسکتی ہے

    صادق خان کی ناکامی کے متعلق اب یہ الزامات لگنے شروع ہوگئے ہیں کہ صرف چار دنوں میں چھ قتل اورایک سال ابھی مکمل نہیں ہوئے 59 افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں‌

    سابق کنزرویٹو رہنما سر آئن ڈنکن اسمتھ نے کہا: ‘لندن اس وقت غدر میں ڈوبا ہوا ہے اوراس کی تباہی کے ذمہ دار صادق خان ہیں کہ جن کو پرواہ تک نہیں‌ ہے

    ان کا کہنا تھا کہ لندن کی سڑکوں پر جنگ کا سامان ہوتا ہے لیکن صادق خان کی ترجیحات کہیں اور ہوتی ہیں۔صادق خان کو اپنے معاملات سے فارغ ہونے کا وقت نہیں ہوتا

    سابق پولیسنگ ایبٹ کٹ مالٹ ہاؤس نےصادق خان پر الزام عائد کیا کہ وہ بورس جانسن کی طرف سے لائے جانے والے کے لیے تو بڑے سرگرم تھے مگراب کہاں گُم ہوگئے ہیں کہ لندن میں قتل وغارت جاری ہے لیکن ان کو پرواہ تک نہیں

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صادق خان یہ تسلیم بھی کرتے ہیں کہ اس قتل وغارت گری کے پیچھے کچھ گروہ ہیں مگروہ ان کے خلاف اقدامات کیوں نہیں کرتے کیا ان کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں ہے، ان کا کہنا تھا کہ بورس جانسن کی طرح صادق خان بھی اب معاملات کو چلانے کے اہل نہیں رہے

  • بلوچستان، پنجاب میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری

    بلوچستان، پنجاب میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری

    راولپنڈی:بلوچستان اورپنجاب میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سیلاب سے متاثرہ صوبے بلوچستان اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ پاک فوج کے دستے ڈی جی خان، راجن پور، نصیر آباد اور لسبیلہ میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق متاثرہ آبادی اور ان کے سامان کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ فوج کی میڈیکل ٹیمیں متاثرہ افراد کو طبی امداد فراہم کر رہی ہیں۔

    دوسری طرف بلوچستان میں گزشتہ کئی روز سے جاری طوفانی بارشوں اور جان لیوا سیلاب کے باعث مختلف حادثات کے دوران جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 205 تک جاپہنچی ہے۔ذرائع کے مطابق انتظامیہ کی تمام تر کوششوں کے باوجود کوئٹہ اور ملک کے دیگر علاقوں کے درمیان ریلوے ٹریک اور سڑکیں متاثر ہونے کے باعث بلوچستان کا زمینی رابطہ منقطع ہے۔صوبائی حکومت نے وفاق سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلوچستان کے علاقوں میں امدادی سامان، انفرااسٹرکچر کی بحالی اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے 60 ارب روپے کا خصوصی پیکج فراہم کرے۔

    حکام نے صوبے بھر میں جاں بحق افراد کی تعداد 205 بتائی ہے جبکہ منگل کی شام ضلع پشین کے علاقے سرانان کے قریب ریلا پانچ افراد کو بہا لے گیا تھا جن میں سے 5 سالہ بچی کی لاش سرانان کے علاقے سید حمید ریور سے برآمد ہوئی۔

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے بدھ کی رات تک بلوچستان میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد سے متعلق اعداد و شمار جاری نہیں کیے تھے۔

    بلوچستان کو دوسرے صوبوں سے ملانے والا ریلوے ٹریک گزشتہ کئی روز سے سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے جس کی وجہ سے مسافر ٹرینیں اور مال گاڑی سروس معطل ہے جبکہ ریلوے حکام سمجھتے ہیں کہ ٹریک کی بحالی میں ابھی مزید چند روز لگیں گے۔ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ 3 روز سے کوئٹہ سے کراچی، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے لیے کوئی ٹرین روانہ نہیں ہوسکی۔

    علاوہ ازیں چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت کی صدارت میں حالیہ بارشوں کے بعد ہونے والی صورتحال کے متعلق اہم اجلاس سندھ سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں تمام ڈویژنل کمشنر، ڈپٹی کمشنرز، متعلقہ سیکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی شریک ہوئے۔ اجلاس میں تمام ڈپٹی کمشنر نے صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 220 ملی میٹر سے زائد بارش ہوئی ہے، انہونے بتایا کے عمرکوٹ، ملیر، جامشورو، دادو، ٹنڈو محمد خان، حیدرآباد، مٹیاری، بدین، ٹھٹہ اور سجاول میں بارش سے انفراسٹرکچر اور عوام کا جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت نے متاثرہ اضلاع کے ہر ڈپٹی کمشنر کو رلیف کے کاموں کے لئے فوری طور پر فوری طور پر 30-30 لاکھ روپے جاری کرنے کا فیصلا کیا۔ انہونے سیکریٹری خزانہ کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کے تمام اضلاع کو فنڈز آج ہی جاری کئے جائیں تا کے رلیف کیمپ، بارش کے پانے کے نکاس کو یقینی بنایا جا سکے۔ چیف سیکریٹری سندھ نے مزید کہا کے بارش سے متاثرہ افراد کو راشن، ٹینٹ دیگر ضروریات کو پورا کیا جائے۔ جہاں زیادہ صورتحال خراب ہو وہاں بارش متاثرہ افراد کو اسکولوں میں رکھا جائے۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے ٹینٹ، راشن بیگ فراہم کی جائیں گی۔ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت نے میزد کہا کے صوبے میں غیر معمولی بارش سے انفراسٹرکچر اور زراعت کو بہت نقصان ہوا ہے تمام کمشنر انفراسٹرکچر، عوام کے جانی و مالی نقصان اور زراعت کے نقصان کا تخمینہ لگا کر رپورٹ پیش کریں۔ چیف سیکریٹری سندھ نے محکمہ صحت کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کے بارش متاثرہ علاقوں میں گیسٹرو اور دیگر بیماریوں کے ادویات کو یقینی بنایا جائے۔

  • سپریم کورٹ نے مخدوم خسرو بختیار کی نااہلی کیلے دائر چیمبر اپیل کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا

    سپریم کورٹ نے مخدوم خسرو بختیار کی نااہلی کیلے دائر چیمبر اپیل کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا

    اسلام ا ٓباد: سپریم کورٹ نے مخدوم خسرو بختیار کی نااہلی کیلے دائر چیمبر اپیل کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا ہے ،اطلاعات کے مطابق اس سلسلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس منصور علی شاہ نے ان چیمبر اپیل کا حکم نامہ تحریر کیا

    اس حوالے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلہ تحریر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ رجسڑار کے پاس درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے فیصلہ کرنے کاکوئی اختیار نہیں ، سپریم کورٹ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ صرف عدالتی اختیارات کے تحت ہی ہوسکتا ہے

    مخدوم خسروبختیار کی نااہلی کے حوالے سے سپریم کورٹ کی طرف سے تفصیلی فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ موجودہ کیس میں رجسڑار نے63 اے(5 ) کے تحت دائیر درخواست کو نا قابل سماعت قرار دیا

    سپریم کورٹ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ قواعد کے مطابق رجسڑار صرف غیر سنجیدہ درخواست کو ہی ناقابل سماعت قرار دے سکتا ہے،یہ بھی کہا گیا ہے کہ بادی النظر میں غیر آئینی ،غیر قانونی درخواست کے ناقابل سماعت ہونے کا فیصلہ بھی عدالت ہی کر ے گی

    سپریم کورٹ کے سینئر جج منصورعلی شاہ نے فیصلہ لکھتےہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے رجسڑار آفس اعتراضات کے خلاف اپیل منظور کرلی، سپریم کورٹ نے درخواست کو گرمیوں کی چھٹیوں کے فوری بعد سماعت کیلئے مقرر کرنے کا بھی حکم دے دیا

  • بھارت نے پاکستانی چینل سمیت 8 یوٹیوب چینلز بلاک کروادیئے

    بھارت نے پاکستانی چینل سمیت 8 یوٹیوب چینلز بلاک کروادیئے

    لاہور:بھارت نے پاکستانی چینل سمیت 8 یوٹیوب چینلز بلاک کروادیئے،اطلاعات کے مطابق بھارت نے ‘انڈیا مخالف مواد’ نشر کرنے پر ملک میں ایک پاکستانی یوٹیوب چینل سمیت 8 چینلز تک رسائی بلاک کروا دی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ سال دسمبر سے اب تک بھارتی حکومت 102 یوٹیوب چینلز کی رسائی بھارت میں بلاک کرواچکی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلاک ہونے والے یوٹیوب چینلز کے سبسکرائبرز کی تعداد 86 لاکھ سے زائد تھی اور ان پر موجود مواد پر 114 کروڑ ویوز بھی موجود تھے۔بھارت کی وزارت اطلاعات کے مطابق یہ یوٹیوب چینلز ملک میں ‘جھوٹے دعوؤں کے ذریعے مذہبی برادریوں کے درمیان نفرت پھیلارہے تھے’۔

    وزارت اطلاعات کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ یہ چینلز ‘فیک نیوز’ پھیلارہے تھے کہ بھارتی حکومت ملک میں مذہبی مقامات گرارہی ہے اور مذہبی تہوارات پر پابندیاں لگارہی ہے۔بھارت میں بلاک ہونیوالے پاکستانی یوٹیوب چینل کا نام ‘نیوز کی دنیا’ ہے جس کے سبسکرائبرز کی تعداد تقریباً ایک لاکھ ہے۔

    خیال رہے بھارتی حکومت نے رواں سال اپریل میں بھی 22 یوٹیوب چینلز بلاک کروائے تھے، جن میں سے 4 پاکستانی چینلز شامل تھے۔

    واضح رہے کہ انٹرنیشنل میڈیا بھی بھارت میں مذہبی آزادی کیخلاف اقدامات کی بھرپور کوریج کرتا ہے، ہندو انتہاء پسندی سے سب سے زیادہ مسلمان اور عیسائی متاثر ہورہے ہیں۔

  • دوسرا ون ڈے: پاکستان نے نیدرلینڈز کو 7وکٹوں سے ہرادیا، سیریز میں فیصلہ کن برتری

    دوسرا ون ڈے: پاکستان نے نیدرلینڈز کو 7وکٹوں سے ہرادیا، سیریز میں فیصلہ کن برتری

    روٹریم :پاکستان نے دوسرے ون ڈے انٹرنیشنل میں نیدرلینڈز کو 7 وکٹوں سے شکست دیدی، بابر اعظم، محمد رضوان اور آغا سلمان نے نصف سنچریاں اسکور کیں۔ گرین شرٹس کو سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل ہوگئی۔

    روٹرڈیم میں کھیلے گئے دوسرے ون ڈے انٹرنیشنل میں نیدرلینڈز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، پوری میزبان ٹیم 44.1 اوورز میں 186 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی، باس ڈی لیڈ 89 اور ٹام کوپر 66 رنز بنا کر ٹاپ اسکورر رہے، نیدرلینڈز کے 8 کھلاڑی ڈبل فیگر میں بھی داخل نہیں ہوسکے۔

    پاکستان کی جانب سے حارث رؤف اور محمد نواز نے 3، 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ پاکستان کو 187 رنز کے ہدف کے تعاقب میں ابتداء میں ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، فخر زمان 3 اور امام الحق 6 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے، اس موقع پر بابر اعظم اور محمد رضوان نے ٹیم کو سنبھالا، دونوں کے درمیان 88 رنز کی شراکت قائم ہوئی۔

    کپتان بابر اعظم 57 رنز بنا کر آریان دت کی گیند پر ڈی لیڈ کے ہاتھوں کیچ ہوگئے، محمد رضوان 69 اور آغا سلمان 50 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے۔

    میزبان ٹیم کی جانب سے ویویان کنگما نے 2 اور آریان دت نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

    پاکستان نے ہدف 33.4 گیندوں پر 3 وکٹوں کے نقصان پر مکمل کرلیا، گرین شرٹس کو 3 میچوں کی سیریز میں 0-2 کی برتری حاصل ہوگئی، سیریز کا تیسرا اور آخری میچ 21 اگست کو اسی گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا۔

  • سندھ کے بعد اب پنجاب میں ایڈز کے کیسز بڑھنے لگے

    سندھ کے بعد اب پنجاب میں ایڈز کے کیسز بڑھنے لگے

    لاہور:پنجاب میں ایڈز کے کیسز بڑھنے لگے ،اطلاعات کے مطابق سندھ کے بعد اب صوبہ پنجاب میں بھی ایڈز کے کیسز بڑھنے کا انکشاف ہوا ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی سابقہ حکومت نے اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی یہ معاملہ پھچلی کئی دہائیوں سے تشویش کا باعث تھا مگرسب نے توجہ نہ دی

    اس حوالے سے جوحقائق سامنے آئے ہیں ان کے مطابق پنجاب اسمبلی میں پیش کی گئی دستاویز کےمطابق صوبے میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں خوفناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    سال2019 سے 2022 تک ہر سال مریضوں کی تعداد بڑھتی رہی۔سال 2019 میں ماہ اکتوبر میں پنجاب بھر میں ایڈز کے642 نئے کیس رپورٹ ہوئے۔ اکتوبر کے دوران لاہور میں50 کیسز سامنے آئے۔

    سال 2019 جنوری سے ستمبرتک صوبے بھر میں ایڈز کے 2646 کیس رپورٹ ہوئے۔اکتوبر2019 سے دسمبر 2019 تک ایڈز کے 1241 کیسز سامنے آئے۔سال 2020 میں صوبے بھر میں ایڈز کے 4872 کیسز رپورٹ ہوئے۔سال 2021 میں صوبے بھر میں ایڈز کے کُل 5096 کیسز رپورٹ ہوئے۔جنوری 2022 سے جون 2022 تک صوبے بھر میں ایڈز کے 3241 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    یاد رہے کہ سندھ میں معاملات بہت ہی زیادہ خراب ہیں اور سندھی عوام بے بسی کی زندگی گزارنے پرمجبور ہیں‌ ، ایچ آئی وی یا ایڈز کنٹرول پروگرام سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ میں ایک اندازے کے مطابق ایچ آئی وی یا ایڈزسے متاثرہ غیر رجسٹرڈ افرادکی تعداد78ہزار ہے جن میں سے صرف 16ہزار ریکارڈ میں موجود ہیں، سندھ بھر میں قائم 16ایچ آئی وی اورایڈز پروگرام میڈیکل سینٹرز میں مفت علاج کی سہولت موجودہے،

    معاشرے میں عام طور پر ایچ آئی وی اورایڈز کے حوالے سے غلط فہمی اورمناسب معلومات نہ ہونے کی وجہ سے مذکورہ ٹیسٹ کروانے سے گریز کیاجاتا ہے، تاہم ایچ آئی وی پھیلانے کی سب سے بڑی وجہ انجکشن کے زریعے منشیات کا استعمال ہے نہ کہ غیر اخلاقی سرگرمیاں، یو این ایڈ ز، کمیونیکیبل ڈیزیز کنٹرول ڈائریکٹریٹ آف سندھ اوریونائیٹڈ نیشنز پاپولیشن فنڈ کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں صحافیوں کے لئے منعقدہ تربیتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ایڈز کنٹرول پروگرام سندھ ڈاکٹر ارشاد کاظمی کاکہنا ہے کہ ایچ آ ئی وی یاایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت سندھ بھر میں 16علاج معالجے کے لئے میڈیکل سینٹر ز قائم ہیں جہاں متاثر افرادکا مفت علاج کیاجاتا ہے ۔

  • انٹراپارٹی الیکشن کیس؛چوہدری شجاعت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    انٹراپارٹی الیکشن کیس؛چوہدری شجاعت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    چیف الیکشن کمشنرسکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے چوہدری شجاعت حسین کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔چوہدری شجاعت کے وکیل نے دلائل دیے کہ پارٹی کی صدارت صرف استعفے یا موت کی صورت میں چھوڑی جا سکتی ہے، پارٹی صدارت سے متعلق کیس الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

    وکیل عمر اسلم نے کہا کہ صرف سینٹرل ورکنگ کمیٹی کو عہدیدار کے خلاف تادیبی کارروائی کا حق حاصل ہے، سینٹرل ورکنگ کمیٹی تشکیل ہی نہیں دی گئی،دوسرے گروپ نے ق لیگ پنجاب کے دفتر پر قبضہ کرلیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے استفسار پر پرویز الہٰی کے وکیل نے بتایا کہ پارٹی آئین کے مطابق سینٹرل ورکنگ کمیٹی 200 ارکان پر مشتمل ہوتی ہے، پارٹی عہدیدار کو ہٹانے یا الیکشن کے فیصلے کے خلاف پارٹی کونسل سے رجوع کرنا چاہیئے تھا۔

    کامل علی آغا کے وکیل نے دلائل دیے کہ کسی سیاسی جماعت کے انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار نہیں ہے، درخواست گزار کو ایسے فورم پر جانا چاہیئے جہاں شواہد ریکارڈ کیے جا سکیں۔

    بعدازاں الیکشن کمیشن نے دلائل مکمل ہونے پرشجاعت حسین کو پارٹی صدارت سے ہٹانے اور انٹرا پارٹی انتخابات کروانے کے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔2روز قبل 16 اگست کو وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے مسلم لیگ(ق)انٹراپارٹی انتخابات میں الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار ہی چیلنج کیا تھا۔

  • خدیجہ تشدد کیس شہری نے مرکزی ملزم شیخ دانش کے سر پر جوتا دے مارا

    خدیجہ تشدد کیس شہری نے مرکزی ملزم شیخ دانش کے سر پر جوتا دے مارا

    فیصل آباد:خدیجہ تشدد کیس میں‌ شہری نے مرکزی ملزم شیخ دانش کے سر پر جوتا دے مارا،اطلاعات کےمطابق فیصل آباد کے مشہورکیس جسے خدیجہ تشدد کیس کا نام دیا جارہا ہے ، اس کیس کے مرکزی ملزم کے ساتھ بہت عجیب معاملہ پیش آیا ہے ، ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ خدیجہ تشدد کیس میں شہری نے مرکزی ملزم شیخ دانش کے سر پر جوتا دے مارا

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے فیصل آباد سے ملنے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ تشدد کیس میں مرکزی ملزم دانش کو پولیس کے حصار میں عدالت میں پیش کیاگیا اس موقع پر وکلا کی طرف سے ملزم شیخ دانش پر تشدد کیا گیا،پولیس کی بھاری نفری طلب کر لی گئی

     

     

    فیصل آباد سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ کچھ اور شکل اختیار کرتا جارہا ہے اورجس طرح خدیجہ نامی خاتون نے اپنے بارے بتایا ہے ، اس کے پیچھے کوئی اور ہی کہانی ہے

     

     

     

    یہ بھی اطلاعات ہیں‌کہ لڑکی پر تشدد اور تذلیل کیس کے مرکزی ملزم شیخ دانش عدالت میں پیش کردیئے گئے ہیں ، اس موقع پر عدالت کی سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مرکزی ملزم دانش کی جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیشی کے بعد عدالت نے ملزم کو5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ۔

    فیصل آباد میں میڈیکل کی طالبہ پر تشدد اور انسانیت سوز سلوک کرنے والے 5 ملزمان کو عدالت نے 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔مرکزی ملزم صنعت کار شیخ دانش کو جمعرات کو عدالت میں پیش کیا جائے گا، جبکہ ملزمہ ماہم نے تمام واقعہ جھوٹا اور من گھڑت قرار دے دیا۔

    میڈیکل کی طالبہ خدیجہ کو بھائی سمیت اغواء اور تشدد کیس میں گرفتار پانچ ملزمان کو پولیس نے مقامی عدالت میں پیش کیا۔ابتدائی سماعت کے بعد عدالت نے ملزمان ماہم، خان محمد، شعیب، فیضان اور اصغر کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

    ملزمہ ماہم کے حوالے سے نیا انکشاف

    کیس کی اہم ملزمہ ماہم کے حوالے سے بھی نیا انکشاف سامنے آیا ہے جس کے مطابق وہ مرکزی ملزم صنعت کار شیخ دانش کی سیکرٹری نہیں بلکہ بیوی ہے۔ملزمہ ماہم کا عدالت میں کہنا تھا کہ طالبہ خدیجہ پر انہوں نے کوئی تشدد نہیں کیا اور نہ ہی اسے اغواء کیا گیا، بلکہ وہ خود بھائی کو لے کر ان کے گھر آئی۔

    ماہم کا کہنا تھا کہ خدیجہ نے بلیک میلنگ کیلئے گینگ بنا رکھا ہے۔ جس کے تمام ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں۔ملزمہ نے یہ بھی بتایا کہ انا شیخ کی عمر 13 سال ہے اور وہ طالبہ خدیجہ کی سہیلی نہیں ہے، خدیجہ نے انا شیخ کے خلاف گندی زبان استعمال کی۔

    ویڈیو وائرل

    طالبہ خدیجہ کو مبینہ طور پر شادی کے لیے رضامند نہ ہونے، اغواء کے بعد تشدد کا نشانہ بنانے اور اس کے بال کاٹے جانے کی ویڈیو کا سوشل میڈیا پر بھی خوب چرچا رہا، اور سول سوسائٹی کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

  • "پاک دھرتی پاکستان اور ہمارا کردار” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    "پاک دھرتی پاکستان اور ہمارا کردار” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    1947ء سے پہلے پاکستان برطانوی کالونی تھی۔

    ہندوستان کی آزادی (انگریزوں سے) کی تحریک کے دوران میں ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنے لئے ایک الگ ملک کا مطالبہ کیا۔

    "پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ” اس تحریک میں جان ڈالنے والا اور مسلمانوں کو متحد کرنے والا اک مقبول نعرہ تھا۔

    اس مطالبے کے تحت تحریک پاکستان وجود میں آئی۔ اس تحریک کی قیادت محمد علی جناحؒ نے کی۔
    بانی پاکستان بابا جی محمد علی جناحؒ کی انتھک محنت اور اپنی بیماری کو دشمن دین و پاکستان سے چھپا کر دن رات محنت کی، اور پھر رب العزت نے مسلمانوں کو دنیا میں عزت دی اور 27 المبارک کی طاق رات 14 اگست 1947ء کو پاکستان وجود میں آیا۔

    تقسیم برصغیر پاک و ہند کے دوران میں انگریزوں نے کچھ ایسے سقم چھوڑے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان میں 1948ء اور 1965ء میں کشمیر کے مسئلہ پر دو جنگوں کا سبب بن گئے۔

    اس کے علاوہ چونکہ پاکستانی پنجاب میں بہنے والے تمام دریا بقول بانی پاکستان محمد علی جناحؒ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے
    اسی شہہ رگ پاکستان کہ جس شہہ رگ کشمیر پر انڈیا نے ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے.

    اسی مقبوضہ قبضہ کشمیر سے ہوکر آتے ہیں،

    لہذا پاکستان کو 1960ء میں انڈیا کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ کرنا پڑا، جس کے تحت پاکستان کو مشرقی دریاؤں، ستلج، بیاس اور راوی سے دستبردار ہونا پڑا۔ جبکہ دریائے سندھ، چناب اور جہلم پر پاکستان کا حق تسلیم کر لیا گیا۔

    1947ء سے لے کر 1948ء تک پاکستان کو بڑی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ بھارت نے پاکستان کے حصہ میں آنے والی رقم پاکستان کو ادا نہ کی۔ اس کے علاوہ صنعتی ڈھانچے کے نام پر پاکستان کے حصے میں گنتی کے چند کارخانے آئے اور اس کے علاوہ کئی اندرونی و بیرونی مشکلات نے بھی پاکستان کو گھیرے رکھا۔

    جب ہم چھوٹے تھے تو 14 اگست کا انتظار عید کی طرح کرتے تھے، ہفتہ پہلے سے انتظار شروع ہوجاتا تھا اور پھر 13 اگست کی ساری رات صبح کے اجالے کا انتظار ہوتا تھا، صبح ہوتے ہی گھر میں ٹی وی نا ہونے کے باعث ہمسایہ کیطرف جا کر ٹی وی پر پریڈ دیکھنا،
    جھنڈیاں لگانا۔

    پاکستانی پرچم تھام کر نکل جانا۔ جشن منانا اپنے انداز میں آزادی کا۔

    شام کو جشن آزادی کے حوالے سے محلہ میں ہونے والے پروگرام میں شریک ہونا، پاکستان، پاک فوج، سے محبت بڑھ جاتی تھی۔تحریک آزادی پاکستان کے شہداء کے بارے سن کر جذبات ایسے ہوتے تھے کہ قلم کے ذریعہ بتانا ممکن نہیں،

    لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر قائم ہونے والے پاکستان کے وجود اور اس پاکستان میں رہنے پر فخر محسوس ہوتا تھا۔

    اور دل و دماغ ہر وقت اس عظیم مملکت کیلئے ایسا کچھ کر جانے کو مچل جاتا تھا کہ لوگ اس قربانی پر مجھے پاکستانی کہنے پر فخر محسوس کریں اور اس پاکستان کے دشمنوں کا میرے نام سے پسینے چھوٹ جائیں۔

    وہ پھول سر چڑھا جو چمن سے جدا ہوا

    عزت اسی کو ملی جو وطن پہ قرباں ہوا

    لیکن اک تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جیسے ہی 14 اگست کے دن کا اختتام ہوتا ہے تو اس کے بعد پورا سال پاکستانی پرچم والی لگی جھنڈیاں اور اور پرچم کے بے قدری شروع ہوجاتی ہے۔

    پاکستانی پرچم والی جھنڈیاں گلیوں بازاروں میں پاؤں تلے روندی جاتی ہیں، گندی نالیوں میں گری پائی جاتی ہیں۔

    پاکستانی پرچم چھتوں پر پورا سال لگے رہنے اور حفاظت نا ہونے کے باعث پھٹ جاتے ہیں پھر یہ کہ پھٹے پرانے پرچم لہراتے ہوئے دیکھ کر دل چھلنی ہوجاتا ہے۔

    ہمیں چاہئیے کہ ہم ان افعال سے بچیں اور اپنے معصوم بچوں کی ذہن سازی کریں انہیں اپنے پیارے پرچم کی عزت کرنا سکھائیں، سمجھائیں۔

    آخر میں یہ ہی پیغام دونگا اپنی پاکستانی عوام خصوصاً نوجوانوں کہ وہ پاکستان کی ترقی کیلئے کام کریں، آپ جس شعبہ سے بھی منسلک ہیں ایمانداری سے اپنے فرائض کو پورا کریں اگر آپ کا ایسا کوئی شعبہ ہے جس سے پاکستان کی ترقی و عظمت میں اضافہ ہوتا ہے تو آپ اپنے فرائض کو پوری ایمانداری سے نبھاتے ہوئے اس کام کیلئے اپنی جان لڑا دیں۔

    زندہ آباد پاکستان

  • ملکی صورتحال اور اس کا سیاسی حل — نعمان سلطان

    ملکی صورتحال اور اس کا سیاسی حل — نعمان سلطان

    بہت عرصہ پہلے ڈسکوری چینل پر ایک پروگرام آتا تھا "man vs wild” ، اس میں ایک شخص کو کسی قسم کے حفاظتی انتظامات اور زندہ رہنے کے لئے درکار اشیاء کے بغیر صحرا، جنگل، پہاڑوں کی چوٹیوں، برفانی علاقوں اور ویرانوں میں الغرض جہاں کسی قسم کی بیرونی امداد کے بغیر زندہ رہنا ناممکن ہو چھوڑ دیا جاتا تھا اس کے ساتھ اس کی ٹیم کے دو یا تین ممبران ہوتے تھے جن کا کام صرف اس کی مشکلات سے مقابلہ کرنے کی کوشش، دستیاب وسائل کو بروئے کار لانے کی صلاحیت اور حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے کسی قسم کی مشکل کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے مقررہ وقت میں مقررہ جگہ پر صحیح سلامت پہنچنے کی عکس بندی کرنا تھا تا کہ وہ لوگ جو مشکلات میں پھنس کر ناامید ہو جاتے ہیں ان میں مشکلات کا سامنا کرنے کی امنگ پیدا ہو.

    بظاہر جو سیاسی حالات نظر آ رہے ہیں اس وقت نوجوان نسل تحریک انصاف کے سحر میں گرفتار ہے، رہی سہی کسر مسلم لیگ کی وفاقی حکومت نے پوری کر دی ملک کے معاشی حالات ساڑھے تین سال میں جتنے خراب ہوئے انہوں نے چند مہینوں میں اس سے زیادہ خراب کر دیئے، عوام کے ذہن میں ایک تاثر مسلم لیگ نے بڑی محنت سے بنایا تھا کہ شہباز شریف "بہترین ایڈمنسٹریٹر” ہیں لیکن ان چند مہینوں میں ہونے والی خراب معاشی صورتحال اور غریب عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار نے یہ تاثر ختم کر دیا لوگ سوال کرتے ہیں کہ اگر ملک میں معاشی بحران تھا تو آپ تحریک عدم اعتماد کیوں لائے جب اسمبلی تحلیل ہو گئی تھی تو نئے الیکشن کی طرف کیوں نہیں گئے اور عوام سے فریش مینڈیٹ کیوں نہیں لیا ۔

    اس ساری صورتحال کا تحریک انصاف نے فائدہ اٹھایا اور عوام میں اپنا "رجیم چینج” کا بیانیہ مقبول کرایا، لوگوں کو یہ باور کرایا کہ ملک کی معاشی صورتحال ہمارے دور میں بہتری کی طرف گامزن ہو چکی تھی لیکن "رجیم چینج "کی وجہ سے حکومت تبدیل ہوئی اور ملکی ترقی کر ریورس گئیر لگ گیا وفاقی حکومت کے سخت معاشی فیصلوں کی وجہ سے جلتی پر تیل گرتا گیا اور مسلم لیگ کی مقبولیت میں کمی اور تحریک انصاف کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا گیا ۔

    اب صورتحال یہ ہے کہ فی الحال الیکشن کی صورت میں اپنے مقبول عوامی بیانیے کی وجہ سے تحریک انصاف کی پوزیشن مضبوط ہے اب "man vs wild” کی طرح تحریک انصاف (الیکشن میں کامیابی کی صورت میں) اداروں کے لئے دستیاب ٹول(اوزار) بن گئی ہے، جس کو صحیح استعمال کر کے ہم ملک کو دوبارہ معاشی ترقی کی پٹری پر چڑھا سکتے ہیں، یاد رہے کہ اوزار بذات خود کسی کو کوئی نفع نقصان نہیں پہنچا سکتا بلکہ یہ اسے استعمال کرنے والے کاریگر پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اس اوزار کا مثبت استعمال کر کے اسے انسانیت کے لئے نفع بخش بناتا ہے یا منفی استعمال کر کے اسے انسانیت کے لئے نقصان دہ بناتا ہے، ہمیں یقین کرنا چاہیے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت ایسے کسی کام کی حمایت نہیں کرے گی جو ملکی مفاد کے خلاف ہو اور ان کی حب الوطنی کسی قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے ۔

    اس وقت ہم معاشی بحران کا شکار ہیں اس سے نکلنے کی صورت صرف یہ ہے کہ مضبوط سیاسی حکومت ہو اور پالیسیوں کا تسلسل ہو، مضبوط سیاسی حکومت کی وجہ سے ملک میں جاری سیاسی افراتفری کا خاتمہ ہو گا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو گا تو وہ ملک میں سرمایہ کاری کریں گے اس کے علاوہ اس سیاسی جماعت کے پاس پانچ سال کا وقت ہو گا تو وہ شروع کے سال میں سخت معاشی فیصلے بھی بآسانی کر لے گی جس کے ثمرات عوام کو وہ اپنی حکومت کے آخری سال میں دے کر عوامی حمایت حاصل کر لے گی اور پالیسیوں کے تسلسل کی وجہ سے آنے والی حکومت کو نئے سرے سے پالیسیاں نہیں بنانا پڑیں گی اور یہی وقت حکومت دیگر ملکی امور میں صرف کر لے گی۔

    اگر "man vs wild” میں ایک شخص کسی قسم کی بیرونی مدد کے بغیر مشکلات سے بخیر و عافیت نکل کر اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے تو ہمیں قدرت نے ہر طرح کے وسائل سے نوازا ہے ہم بھی متحد ہو کر ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور اپنی ترقی کے اہداف حاصل کر سکتے ہیں بس شرط یہ ہے کہ ہم ذاتی پسند نا پسند سے بالاتر ہو کر اکثریت کی رائے کو اہمیت دیں جیسے پاکستان ایک فرد واحد کی جدوجہد سے نہیں بلکہ اجتماعی جدوجہد سے حاصل ہوا ایسے ہی ہم بحیثیت قوم ترقی بھی اجتماعی جدوجہد سے ہی کر سکتے ہیں، اس وقت تحریک انصاف کو بھرپور عوامی پذیرائی حاصل ہو گئی ہے اور حالات کا تقاضہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کو اعتماد میں لے کر مستقبل کے فیصلے کئے جائیں تا کہ باہمی اعتماد پیدا ہو جس کے خوشگوار اثرات ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بھی مرتب ہوں گے ۔