Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • بجلی کے بل یا عوام پر کوڑے بازی — حسام درانی

    بجلی کے بل یا عوام پر کوڑے بازی — حسام درانی

    پیٹرولیم مصنوعات، آٹا، چینی، کھانے کا تیل، سبزیاں پھل و دیگر روز مرہ استعمال کی اشیاء کی روزبروز بڑھتی ہوئی قیمتوں نے جہاں عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے وہیں پر بجلی و گیس کے بلوں نے بھی جینا اجیرن کر دیا ہے۔

    بجلی جہاں عام عوام کے لئے ضروری ہے وہیں پر ملک میں صنعتوں کا پہیہ چلنے میں بھی عضو خاص کا مقام رکھتی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں اتار چڑھاو جہاں لوگوں کی جیبوں پر بھاری پڑتا ہے وہیں پر اشیاء کی پیداواری لاگت میں اضافہ بھی اشیاء کو عوام کی پہنچ سے دور کرتی جا رہی ہیں۔

    اگرچہ یہ تو ہماری حکومتوں کا وطیرہ ہی رہا ہے کہ جب چاہیں اپنی آمدنی کو بڑھانے کے لئے نت نئے ٹکسسز لگا دیتی ہیں لیکن حالیہ حکومت کی اگر بات کی جائے تو رہتی سہتی کسر انہوں نے پوری کر دی ہیں ، جولائی کے مہنے میں بجلی کے بلوں میں تقریبا 8 روپے فی یونٹ کا فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج کے طور پر ڈالے گئے جن کی منظوری پیمرا نے دے دی۔

    تحریک انصاف کی حکومت نے پیٹرول و ڈیزل پر دی جانے والی سبسڈی کے ساتھ بجلی پر بھی پانچ روپے فی یونٹ سبسڈی کا اعلان کیا تھا تاہم نئی حکومت آنے کے بعد اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) کے ساتھ قرضہ پروگرام کی بحالی کی شرائط کے تحت بجلی پر دی جانے والی سبسڈی کا بھی خاتمہ کیا گیا جس کی وجہ سے بیس ٹیرف میں اضافہ ہوا اور جولائی کے بلوں میں سبسڈی کے خاتمے کا بعد کا اثر نظر آیا۔

    یاد رہے کہ مارچ میں سابقہ حکومت کی جانب سے بجلی پر سبسڈی کے بعد بیس ٹیرف 16 روپے فی یونٹ سے گر کر گیارہ روپے فی یونٹ ہو گیا تھا۔

    بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی اصل مسلہ تو تب شروع ہوتا ہے جب ان تمامتر ٹیر ف اضافہ کے بعد اسپر سیلز ٹیکس و انکم ٹیکس لگتا ہےمطلب سونے پر سوہاگا۔۔۔

    موجودہ مالی سال کے بجٹ میں ریٹیلر ٹیکس کا اعلان کیا گیا تھا جو اب جولائی کے مہینے میں لگ کر آیا جس کی وجہ سے کمرشل میٹروں پر بجلی کے بل میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔

    جبکہ اگر دیکھا جائے تو حکومت 36000 روپے سالانہ اور تین ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے ریٹیل سطح پر فل اینڈ فائنل ٹیکس لینا چاہتی ہے جس کی شروعات جولائی کے بل میں کی گئی ہے۔

    جون کے مہینے کا فیول ایڈجسٹمنٹ ابھی وصول کرنا باقی ہے جو آنے والے مہینے میں ہو گا تاہم اس کے ساتھ اب بجلی کے بیس ٹیرف یعنی بنیادی نرخ میں بھی اضافہ اگلے چند مہینوں میں بلوں میں اضافی رقم کی صورت میں نکلے گا۔

    26 جولائی سے 3.50 روپے فی یونٹ بیس ٹیرف کا اطلا ق ہو گیا ہے جو اگست کے بلوں میں نظر آئے گا اسی طرح 3.50 روپے فی یونٹ کے ایک اور اضافے کا اطلاق اگست کے مہینے میں ہو گا جو ستمبر کے بلوں میں نظر آئے گا۔

    پھر ایک اور اضافہ ستمبر، اکتوبر میں ہو گا جس سے ملک میں بیس ٹیرف میں اضافہ ہو گا اور یہ بجلی کے بل میں اضافے کا سبب بنے گا۔ اس کے ساتھ 17 فیصد کے حساب سے لگنے والا سیلز ٹیکس بھی نئے اضافی ٹیرف کی وجہ سے صارفین کے لیے بجلی کو مہنگا کرے گا۔

    فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج کا اثر اکتوبر تک نظر آئے گا جب صارفین سے فیول کی لاگت بڑھنے کی وجہ سے زیادہ بل وصول کیا جائے گا۔

    حالیہ دنوں میں اس ہوشربا اضافہ کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئی اور خصوصا تاجر برادری جو کے پہلے ہی کمرشل ریٹس پر بجلی کے بل ادا کر رہے ہیں انپر فکس ٹیکس کی شکل میں ایک اور بوجھ لاد دیا عوام کی اس حالت زار پر کسی بھی حکومتی ادارے یا حکومتی ترجمان کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔

  • ایفائے عہد اور تکمیل پاکستان —  حافظ شاہد محمود

    ایفائے عہد اور تکمیل پاکستان — حافظ شاہد محمود

    اوفوا بالعھد ان العھد کان مسئولا (71 : 43)

    ”اور وعدہ کو پور اکرو ، بیشک عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا“۔

    وفائے عہد کے بارے میں اللہ تعالیٰ خود سوال کرے گا اور جو لوگ وفائے عہد نہیں کرتے ، ان سے قیامت کے دن اس سلسلے میں باز پرس ہوگی۔

    کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر کسی سے عہد کے بارے میں پوچھ گچھ کرنی ہے۔ اس عہد سے مراد وہ عہد بھی لیا جاسکتا ہے جو روز آفر ینش اللہ تعالیٰ نے بنی آدم سے یہ کہہ کرلیا تھا کہ کیا میں تمہارا رب ہوں یا نہیں ؟اس عہد کی پاسداری نہ کرنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور شرک کرنا ہے۔ ایک دوسرے سے کیے ہوئے عہد کو توڑنا اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑا گناہ ہے۔ دنیا میں بھی عہد شکنی کرنے والے کی عزت کو شدید دھچکا لگتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی نماز، حج اور ہر قسم کی نیکی لوگوں کی نظروں میں طعنہ بن جاتی ہے۔

    مختصر یہ کہ ایفائے عہد کی اس قدر زیادہ اہمیت ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنی نسبت بار بار اعلان فرمایا ہے کہ :

    ” ان اللہ لا یخلف المیعاد “۔ الرعد ٣ : ٣١) ” بلاشبہ اللہ تعالیٰ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “
    ” لا یخلف اللہ المیعاد “۔ (الزمر ٣٩ : ٢٠) ” اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “
    ” انک لا تخلف المیعاد “ (آل عمران ٣ : ١٩٤) ” (اے ہمارے پروردگار) بلاشبہ تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “
    ” وعداللہ لا یخلف اللہ وعدہ “۔ (الروم ٣٠ : ٦) ” اللہ کا وعدہ ہے ‘ اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “
    ” ولن یخلف اللہ وعدہ “۔ (الحج ٢٢ : ٤٧) ” اور اللہ ہرگز نہ ٹالے گا اپنا وعدہ ۔ “
    (آیت) ” فلن یخلف اللہ عہدہ “۔ (البقرہ : ٢ : ٨٠) ” پس اللہ تعالیٰ اپنے قول وقرار کے خلاف نہ کرے گا۔ “
    ” ومن اوفی بعھدہ من اللہ “۔ (التوبہ ٩ : ١١١) ” اور اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو پورا کرنے والا کون ہے ۔ “

    جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کا سچا اور اپنے عہد کا پکا ہے ‘ اسی طرح اس کے بندوں کی خوبیوں میں سے ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کسی سے جو وعدہ کریں وہ پورا کریں اور جو قول وقرار کریں اس کے پابند رہیں ‘ سمندر اپنا رخ پھیر دے تو پھیر دے اور پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائے تو ٹل جائے مگر کسی مسلمان کی یہ شان نہ ہو کہ منہ سے جو کہے وہ اس کو پورا نہ کرے اور کسی سے جو قول وقرار کرے اس کا پابند نہ رہے ۔

    عام طور پر لوگ عہد کے معنی صرف قول وقرار کے سمجھتے ہیں لیکن اسلام کی نگاہ میں اس کی حقیقت بہت وسیع ہے وہ اخلاق ‘ معاشرت ‘ مذہب اور معاملات کی ان تمام صورتوں پر مشتمل ہے جن کی پابندی انسان پر عقلا شرعا قانونا اور اخلاقا فرض ہے اور اس لحاظ سے یہ مختصر سا لفظ انسان کے بہت سے عقلی ‘ شرعی قانونی اخلاقی اور معاشرتی فضائل کا مجموعہ ہے اسی لئے قرآن مجید میں بار بار اس کا ذکر آیا ہے اور مختلف حیثیتوں سے آیا ہے ، ایک جگہ اصلی نیکی کے اوصاف کے تذکرہ میں ہے ۔

    ” والموفون بعھدھم اذا عاھدوا “۔ (البقرہ ٢ : ١٧٧)
    اور اپنے قول وقرار اور عہد کو پورا کرنے والے جب وہ عہد کریں ۔
    بعض آیتوں میں اس کو کامل ال ایمان مسلمانوں کے مخصوص اوصاف میں شمار کیا گیا ہے ۔

    ” والذین ھم لامنتھم وعھدہم راعون “۔ (المومنون ٢٣ : ٨)
    اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس ملحوظ رکھتے ہیں ۔

    ایک دوسری سورة میں جنتی مسلمانوں کے اوصاف کا نقشہ کھینچا گیا ہے اس کی تصویر کا ایک رخ یہ ہے :

    ” والذین ھم لامنتھم وعھدہم راعون “۔ (المعارج ٧٠ : ٣٢)
    اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس ملحوظ رکھتے ہیں ۔

    تمام عہدوں میں سے سب سے پہلے انسان پر اس عہد کو پورا کرنا واجب ہے جو خدا اور اس کے بندوں کے درمیان ہوا ہے ‘ یہ عہد ایک تو وہ فطری معاہدہ ہے جو روز الست کو بندوں نے اپنے خدا سے باندھا اور جس کو پورا کرنا اس کی زندگی کا پہلا فرض ہے چنانچہ ارشاد ہوا:
    ” الذین یوفون بعھد اللہ ولا ینقضون المیثاق والذین یصلون ما امر اللہ بہ ان یوصل “۔ (الرعد ١٣ : ٢٠ ، ٢١)

    جو اللہ کے ساتھ اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اپنے اقرار کو نہیں توڑتے اور جو خدا نے جن تعلقات کے جوڑنے کا حکم دیا ہے ان کو جوڑے رکھتے ہیں ۔

    اس آیت میں پہلے اس فطری عہد کے ایفاء کا ذکر ہے جو خدا اور بندہ کے درمیان ہے پھر اس قول وقرار کا جو باہم انسانوں میں ہوا کرتا ہے ‘ اس کے بعد اس فطری عہد کا ہے جو خاص کر اہل قرابت کے درمیان قائم ہے ۔

    سورة نحل میں اللہ کے عہد کا مقدس نام اس معاہدہ کو بھی دیا گیا ہے جو خدا کو حاضر وناظر بتا کر یا خدا کی قسمیں کھا کھا کر بندے آپس میں کرتے ہیں ، فرمایا :

    ” واوفوا بعھد اللہ اذا عاھدتم ولا تنقضو ال ایمان بعد توکیدھا وقد جعلتم اللہ علیکم کفیلا “۔ (النحل ١٦ : ٩١)

    اور اللہ کا نام لے کر جب تم آپس میں ایک دوسرے سے اقرار کرو تو اس کو پورا کرو اور قسموں کو پکی کرکے توڑا نہ کرو اور اللہ کو تم نے اپنے پر ضامن ٹھہرایا ہے ۔

    سورة انعام میں بھی ایک اور عہد الہی کے ایفا کی نصیحت کی گئی ہے ، فرمایا :

    ” وبعھد اللہ اوفوا ذلکم وصکم بہ لعلکم تذکرون “۔ (الانعام ٦ : ١٥٢)
    اور اللہ کا اقرار پورا کرو ‘ یہ اس نے تم کو نصیحت کردی ہے تاکہ تم دھیان رکھو۔

    صلح حدیبیہ میں مسلمانوں نے کفار سے جو معاہدہ کیا تھا ‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی کارسازی نے یہ موقع بہم پہنچایا کہ فریق مخالف کی قوت روز بروز گھٹتی اور اسلام کی قوت بڑھتی گئی اس حالت میں اس معاہدہ کو توڑ دینا کیا مشکل تھا مگر یہی وہ وقت تھا جس میں مسلمانوں کے مذہبی اخلاق کی آزمائش کی جاسکتی تھی کہ اپنی قوت اور دشمنوں کی کمزوری کے باوجود وہ کہاں تک اپنے معاہدہ پر قائم رہتے ہیں ‘ چناچہ اللہ تعالیٰ نے بار بار اس معاہدہ کی استواری اور پابندی کی یاد دلائی اور فرمایا کہ تم اپنی طرف سے کسی حال میں اس معاہدہ کی خلاف ورزی نہ کرو جن مشرکوں نے اس معاہدہ کو توڑا تھا ان سے لڑنے کی گو اجازت دے دی گئی تھی اور مکہ فتح بھی ہوچکا تھا پھر بھی یہ حکم ہوا کہ انکو چار مہینوں کی مہلت دو ۔

    ” برآء ۃ من اللہ ورسولہ الی الذین عاھدتم من المشرکین فسیحوا فی الارض اربۃ اشھر واعلموا انکم غیر معجزی اللہ “۔ (التوبہ ٩ : ١)
    اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکوں کو پورا جواب ہے جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا تو پھر لو (تم اے مشرکو) ملک میں چار مہینے اور یقین مانو کہ تم اللہ کو تھکا نہیں سکتے ۔

    آگے چل کر جب یہ اعلان ہوتا ہے کہ اب ان مشرکوں اور مسلمانوں کے درمیان کسی قسم کے معاہدہ کی ذمہ داری نہیں رہی تو ساتھ ہی ان مشرکوں کے ساتھ ایفائے عہد کی تاکید کی گئی جنہوں نے حدیبیہ کے معاہدہ کی حرمت کو قائم رکھا تھا فرمایا :

    ” الا الذین عاھدتم من المشرکین ثم لم ینقصوکم شیئا ولم یظاھروا علیکم احدا فاتموا الیھم عھدھم الی مدتھم ان اللہ یحب المتقین “۔ (التوبہ ٩ : ٤)

    مگر جن مشرکوں سے تم نے عہد کیا تھا پھر انہوں نے تم سے کچھ کمی نہیں کی اور نہ تمہارے خلاف کسی کو مدد دی تو ان سے ان کے عہد کو ان کی مقررہ مدت تک پورا کرو ‘ بیشک اللہ کو پسند آتے ہیں تقوی والے ۔

    اور ان مشرکوں کے ساتھ اس ایفائے عہد کو اللہ تعالیٰ تقوی بتاتا ہے اور جو اس عہد کو پورا کریں ان کو متقی فرمایا اور ان سے اپنی محبت اور خوشی کا اظہار فرمایا آگے بڑھ کر ان مشرکوں سے اپنی براءت کا اعلان کرتے وقت جنہوں نے اس معاہدہ کو توڑا تھا اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو پھر تاکید فرماتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ جوش میں ان عہد شکن مشرکوں کے ساتھ ان مشرکوں کے ساتھی بھی خلاف ورزی کی جائے جنہوں نے اس معاہدہ کو قائم رکھا ہے ۔

    ” کیف یکون للمشرکین عھد عند اللہ وعند رسولہ الا الذین عاھدتم عند المسجد الحرام فما استقاموا لکم فاستقیموا لھم ان اللہ یحب المتقین “۔ (التوبہ ٩ : ٧)

    مشرکوں کے لئے ان کے پاس اور اس کے لئے رسول کے پاس کوئی عہد ہو ‘ مگر وہ جن سے تم نے مسجد حرام کے نزدیک معاہدہ کیا جب تک وہ تم سے سیدھے رہیں تم ان سے سیدھے رہو بیشک اللہ کو تقوی والے پسند آتے ہیں ۔

    سیدھے رہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ اپنے عہد پر قائم رہیں تم بھی اس عہد کو پورا کرتے رہو اور جو لوگ اپنے عہد کو اس احتیاط سے پورا کریں ان کا شمار تقوی والوں میں ہے جو قرآن پاک کے محاورہ میں تعریف کا نہایت اہم لفظ ہے اور تقوی والے اللہ تعالیٰ کی محبت اور رضامندی کی دولت سے سرفراز ہوتے ہیں نتیجہ یہ نکلا کہ معاہدہ کا ایفا اللہ تعالیٰ کی خوشی اور پیار کا موجب ہے اور یہ وہ آخری انعام ہے جو کسی نیک کام پر بارگاہ الہی سے استعمال کیا گیا ہے ۔

    ” یایھا الذین امنوا اوفوا بالعقود “۔ (المائدہ : ٥ : ١)

    مسلمانو ! (اپنے اقراروں کو پورا کرو۔

    (عقد) کے لفظی معنی گرہ اور گرہ لگانے کے ہیں اور اس سے مقصود لین دین اور معاملات کی باہمی پابندیوں کی گرہ ہے اور اصطلاح شرعی میں یہ لفظ معاملات کی ہر قسم کو شامل ہے چناچہ امام رازی تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں ” اوفوا بالعھد “۔ خداوند تعالیٰ کے اس قول کے مشابہ ہے ۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا اوفوا بالعقود “۔ اور اس قول میں تمام عقد مثلا عقد بیع ‘ عقد شرکت ‘ عقد یمین ‘ عقد نذر ‘ عقد صلح ‘ اور عقد نکاح داخل ہیں ، خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت کا اقتضاء یہ ہے کہ دو انسانوں کے درمیان جو عقد اور جو عہد قرار پایا جائے اس کے مطابق دونوں پر اس کا پورا کرنا واجب ہے ۔ (تفسیر کبیر جلد ٢ ص ٥٠٥)

    لیکن (عقد) کا لفظ جیسا کہ کہا گیا صرف معاملات سے تعلق رکھتا ہے اور عہد کا لفظ اس سے بہت زیادہ عام ہے یہاں تک کہ تعلقات کو اس ہمواری کے ساتھ قائم رکھنا جس کی توقع ایک دوسرے سے ایک دو دفعہ ملنے جلنے سے ہوجاتی ہے حسن عہد میں داخل ہے ، صحیح بخاری کتاب الادب میں حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ مجھ کو حضرت خدیجہ (رض) سے زیادہ کسی عورت پر رشک نہیں آیا ‘ میرے نکاح سے تین سال پیشتر انکا انتقال ہوچکا تھا لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کا ذکر کیا کرتے تھے اور بکری ذبح کرتے تھے تو اس کا گوشت ان کی سہیلیوں کے پاس ہدیتا بھیجا کرتے تھے یعنی حضرت خدیجہ (رض) کی وفات کے بعد بھی ان کی سہیلیون کے ساتھ وہی سلوک قائم رکھا جو ان کی زندگی میں جاری تھا ۔ امام بخاری (رح) نے کتاب الادب میں ایک باب باندھا ہے جس کی سرخی یہ ہے ” حسن العھد من ال ایمان “ اور اس باب کے تحت میں اسی حدیث کا ذکر کیا ہے ۔

    حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں حاکم اور بیہقی کے حوالہ سے یہ روایت کیا ہے کہ ” ایک بڑھیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے کہا کہ تم کیسی رہیں ‘ تمہارا کیا حال ہے ‘ ہمارے بعد تمہارا کیا حال رہا ؟ اس نے کہا اچھا حال رہا ۔ جب وہ چلی گئی تو حضرت عائشہ (رض) نے کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بڑھیا کی طرف اس قدر توجہ فرمائی ؟ فرمایا عائشہ ‘ یہ خدیجہ کے زمانہ میں ہمارے ہاں آیا کرتی تھی اور حسن عہد ایمان سے ہے ۔ “ یعنی اپنے ملنے جلنے والوں سے حسب توقع یکساں سلوک قائم رکھنا ایمان کی نشانی ہے سبحان اللہ۔

    یہاں ہم کچھ اور احادیث مبارکہ ذکر کرتے ہیں

    (عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ؓ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَ لَا تَسْتَعْمِلُنِیْ قَالَ فَضَرَبَ بِیَدِہٖ عَلٰی مَنْکِبِیْ ثُمَّ قَالَ یَا اَبَا ذَرٍّ اِنَّکَ ضَعِیْفٌ وَاِنَّھَا اَمَانَۃٌ وَاِنَّھَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ خِزْیٌ وَنَدَامَۃٌ اِلَّامَنْ اَخَذَھَا بِحَقِّہَا وَاَدَّی الَّذِیْ عَلَیْہِ فِیْھَاوَفِی رِوَایَۃٍ قَالَ لَہٗ یَا اَبَاذَرٍّ اِنِّیْ اَرَاکَ ضَعِیْفًا وَاِنِّیْ اُحِبُّ لَکَ مَا اُحِبُّ لِنَفْسِیْ لَا تَأَمَّرَنَّ عَلَی اثْنَیْنِ وَلَا تَوَلَّیَنَّ مَالَ یَتِیْم)
    [ رواہ مسلم : کتاب الامارۃ، باب کَرَاہَۃِ الإِمَارَۃِ بِغَیْرِ ضَرُورَۃٍ ]

    ”حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی ‘ کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ مجھے کوئی عہدہ کیوں نہیں عنایت فرماتے ؟ آپ نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھتے ہوئے فرمایا اے ابوذر ! یقیناً تو کمزور آدمی ہے اور یہ عہدہ امانت ہے جو قیامت کے دن رسوائی اور ذلت کا باعث ہوگا۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے اس کے حقوق کو پورا کیا اور ذمہ داریوں کو صحیح طور پر نبھایا۔ ایک روایت میں ہے۔ آپ نے اس سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا : اے ابوذر ! میرے خیال میں تم کمزور آدمی ہو۔ میں تیرے لیے وہی کچھ پسند کرتا ہوں ‘ جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں۔ دو آدمیوں کی بھی ذمّہ داری نہ اٹھانا اور نہ ہی یتیم کے مال کی ذمّہ داری لینا۔“

    (عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ عِنْدَ اِسْتِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِوَفِیْ رَوَایَۃٍ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرْفَعُ لَہٗ بِقَدَرِ غَدْرِہٖ اَ لَاوَلَا غَادِرَ اَعْظَمُ غَدْرًا مِنْ اَمِیْرِ عَامَّۃٍ)
    [ رواہ مسلم : کتاب الجہاد والسیر، باب تحریم الغدر ]

    ”حضرت ابو سعید ؓ بیان کرتے ہیں نبی مکرم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ہر عہد شکن انسان کی مقعد کے نزدیک جھنڈا ہوگا۔ ایک روایت میں ہے ہر عہد شکن کے لیے قیامت کے دن جھنڈا ہوگا ‘ جو اس کی عہد شکنی کے مطابق بلند کیا جائے گا۔ خبردار ! سربراہ مملکت کی عہد شکنی سب سے بڑی ہوتی ہے۔“

    (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ مَا خَطَبَنَا نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ إِلَّا قَالَ لَا إِیمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَۃَ لَہٗ وَلَا دینَ لِمَنْ لَا عَہْدَ لَہٗ)[ رواہ احمد ]

    ”حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں نبی معظم ﷺ نے جب بھی ہمیں خطبہ دیا تو فرمایا جو بندہ امانت دار نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جو شخص وعدہ پورا نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں۔“

    قرآن مجید کی آیات اور فرامین مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوتا ہے کہ وفائے عہد ہی اصل معیار ہے کہ کون شخص ٹھوس اور ثابت قدم ہے ، کون ضمیر کے اعتبار سے پاکیزہ ہے چاہے یہ عہد اللہ کی طرف سے ہو ، لوگوں کی طرف سے ہو ، فرد کی طرف سے ہو ، کسی جماعت یا سوسائٹی کی طرف سے ہو ، رعایا کی طرف سے ہو یا حکومت کی طرف سے ہو ، حاکم کی طرف سے ہو یا محکوم کی طرف سے ، نیز بین الاقوامی تعلقات میں اسلام نے عہد کی پابندی کی وہ مثایں قائم کیں کہ انسانی تاریخ میں ایسی مثالیں صرف اس حصے میں ملتی ہیں جن میں مسلمان دنیا کے حکمران تھے ، یا دنیا کے حکمرانوں میں سے معتبر حکمران تھے.

    یہ بھی انفرادی اخلاقی ہدایت نہیں بلکہ جب اسلامی حکومت قائم ہوئی تو اسی کو پوری قوم کی داخلی اور خارجی سیاست کا سنگ بنیاد ٹھہرایا گیا۔ اسلامی اخلاق میں ڈپلومیسی کے نام پر وعدے کی خلاف ورزی اور جھوٹ بولنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ سیاستدانوں میں یہ بات عام ہے کہ سیاسی وعدے پورا کرنے کے لیے نہیں ہوتے اور اپنی کہی ہوئی بات سے مکر جانا سیاستدان کا حق ہے۔ لیکن اسلام میں یہ ایک جرم ہے چاہے اس کا ارتکاب کوئی بھی کرے۔ اس لیے جس طرح عہد کی پابندی افراد کے لیے ضروری ٹھہری اسی طرح اسلامی حکومت بھی اس کی پابند رہی اور مشکل سے مشکل حالات میں بھی اسلامی حکومتیں عہد و پیمان کو نبھاتی رہیں۔ تاریخ میں نقل کیا گیا ہے کہ حضرت امیر معاویہ (رض) نے قیصر سے جنگ بندی کا ایک معاہدہ کیا اور یہ طے کیا گیا کہ فلاں تاریخ تک جنگ بند رہے گی۔ چناچہ جب اس معاہدے کا آخری دن آیا تو آپ (رض) نے آخری دن کا سورج غروب ہوتے ہی اپنی فوجیں اس کی مملکت میں داخل کردیں۔ بظاہر یہ معاہدے کی خلاف ورزی نہیں تھی کیونکہ معاہدے کی مدت گزر گئی تھی۔ فوجیں فتح کا پھریرا لہراتے ہوئے آگے بڑھتی جا رہی تھیں کہ پیچھے سے سر پٹ دوڑتا ہوا ایک سوار نظر آیا۔ اسے دیکھ کر امیر معاویہ رک گئے۔ جب وہ قریب آیا تو دیکھا کہ ایک مشہور صحابی عمرو بن عبسہ (رض) ہیں جنھوں نے ہاتھ بلند کیا ہو اتھا اور وہ بلند آواز سے کہہ رہے تھے کہ وفائً لاغدرًا ”وعدہ توڑنا نہیں پورا کرنا ہے۔“

    امیر معاویہ (رض) نے حیران ہو کر پوچھا کہ ”ہم نے کون سا وعدہ توڑا ؟“ انھوں نے بتایا کہ ”معاہدے کی مدت ختم بھی ہوجائے تب بھی حملہ کرنے سے پہلے دشمن کو بتلانا ضروری ہے۔ بیخبر ی میں حملہ کرنا یہ ایک طرح کی وعدہ خلافی اور معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔“ امیر معاویہ نے اسی وقت مفتوحہ علاقے خالی کردیے اور فوجوں کو واپسی کا حکم دے دیا۔ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ یہ صرف اخلاقی نصیحتیں نہ تھیں ‘ بلکہ اسلامی حکومتوں کے رہنما اصول تھے.

    آج ہمارے وطن عزیز پاکستان کے مسائل کی بڑی وجہ بھی اللہ تعالیٰ سے کئے ہمارے عہد و پیماں ہی ہیں جو پورے کرنے سے اب تک قاصر رہے ہیں۔

    پاکستان بنتے وقت ہمارا اللہ رب العزت سے وعدہ تھا اللہ وطن دے ہم لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ کا وطن بنائیں گے جو اس وقت ہمارے بڑوں نے نعرے کی صورت ہمیں دیا تھا قائد اعظم محمد علی جناح سے لے کر علامہ محمد اقبال تک یہی بات تھی جو اللہ نے ہمیں وطن عزیز پاکستان کی صورت میں عطا فرمایا وہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ اللہ لیکن 75 سال گزرنے کے باوجود اس عہد کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں یاد رکھو!

    "نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان ہے ”

    اللہ تعالیٰ ہمیں وعدوں کو پورا کرنے والا بنائے

  • ماتھا ٹیکنا ایک ہندوانہ رسم — حسام درانی

    ماتھا ٹیکنا ایک ہندوانہ رسم — حسام درانی

    الف
    اللہ چنبے دی بوٹی میرے من وچ مرشد لائی ہو
    نفی اثبات دا پانی ملیں ہر رگے ہرجائی ہو
    اندر بوٹی مشک جمایا جان پھلاں تے آئی ہو
    جیوے مرشد کامل باہو جہس ایہہ بوٹی لائی ہو

    کلام باہو سے تحریر کا آغاز کرنے کا مقصد ایک موضوع کو زیر تحریر لانا تھا، ہم میں سے کتنے ہی اس کلام سے واقف ہیں اور صوفی ازم میں دلچسپی رکھنے والے ان اشعار کے معنی بھی خوب جانتے ہیں۔

    اصل موضوع تو ہے خدا کی واحدنیت کا اعتراف کرنا کسی کو اسکا ہم سر نا ٹھہرانا، اسی کی عبادت اور اسی کو سجدہ کرنا۔ اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک اللہ کی پاک ذات کو ایک ماننا اسی کے آگے جھکنا اور ہر مسلمان اپنے تئیں دن بھر میں پانچ نمازوں کے دوران رکوع اور سجود کی حالت میں اس بات کا اقرار کرتا ہے کے سواے رب کی ذات کے کوئی سجدے کے قابل نہیں ہے۔

    راقم نا تو اسلام کا مفکر اور نا ہی کوئی مذہبی ٹھیکدار ہے لیکن کوشش ہمیشہ اسی بات کی ہوتی ہے کے اسلام کے بنیادی عقائد سے متصادم کسی بھی چیز کو صاحبان علم و عقل کی باتوں سے پرکھا جاے۔

    پاکستان میں ایک سیاسی جماعت کے سربراہ جو کے آجکل اسلامی تعلیمات کے مطابق عمل کرنے پر زور دیتے ہیں، جنہوں نے بہت سے علماء وقت سے تعلقات کی بنا پر پاکستان میں ہمیشہ خلفہ راشدین کے ادوار کی ہی مثالیں دیں ہیں اور سب سے بڑھ کر وہ اس بات کا کھلے عام کہتے ہیں کے حضرت عمر کا دور حکومت لے کر آئیں گے۔ لیکن اگر دیکھا جاے تو عملی طور پر بہت دفعہ ان سے ایسے کام سرزد ہو جاتے ہیں جو کے بعد میں ان کے لیے باعث ندامت ہوتے ہیں۔

    اسی طرح اگر ہم پاکستان کی سیاسی تاریخ میں دیکھتے ہیں تو بہت سے سیاست دان اورکئی سیاسی جماعتوں کے سربراہان اسلام کی محترم ہستیوں کو اپنے لیے رول ماڈل کا درجہ دیتے ہیں اور بات بات پر ان کے حوالہ جات دیے جاتے ہیں ، لیکن اس کارساز سیاست میں ان کے عمل کے ساتھ ساتھ اگر ان کی ذاتی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو گراوٹ اور پستی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔

    اب اگر انتہائی ماضی قریب کی بات کرتے ہیں تو قارئین نے اپنی آنکھوں، اور کانوں سے ابن عربی سے زیادہ علم کے بارے میں سنا اور اس ہستی کو دیکھا ، اسی طرح ناموس رسالت ؐ کے تحفظ کے لیے دشنام درازی سے لبریز اجتماعات کہیں حضرت عمر پر ہوے مواخذے کا شور ہوتا ہے تو کہیں ناموس رسالت پر سیاست سب کے سامنے ہیں۔

    اگر نیاز ی صاحب کی بات کرتے ہیں تو جیسے ہر انسان کو اپنی زندگی آزادانہ گزارنے کا پورا حق ہے اسی طرح نیازی صاحب بھی پاکستان کے ایک شہری کی طرح یہ حق رکھتے ہیں لیکن بطور ایک کرکٹ اسٹار اور ایک سیاستدان کے تمام لوگوں کی نظر ان پر ایک سپراسٹار والی ہوتی ہے۔ نیازی صاحب نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ لائم لائیٹ میں گزارا اور اب عمر کے اس حصے میں بھی اس سے جان چھڑوانا ناممکن ہے ، وہ جو بھی کرتے ہیں وہ فورا ہی زبان زد عام ہو جاتا ہے۔

    إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَِعِیْن سے اپنی تقریر کا آغاز کرنے والا (شکریہ پروفیسر رفیق اختر صاحب، کیونکہ انہوں نے کہا تھا کے تقریر ان الفاظ سے شروع کرو) اور اس کے فورا بعد نت نیا میوزک شروع ہو جاتا ہے۔ یاران من نے اسکو قول کیا اور ایک سے بڑھ کر ایک توجیہ دی، لیکن حالیہ ویڈیو میں نیازی صاحب کو سجدہ کرتے ہوے دیکھا جا سکتا ہے، یار لوگوں نے کہا کے ہو ہی نہین سکتا کے خان سجدہ کرے لیکن جب ویڈیو وائیرل ہوئی تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا۔

    نیازی صاحب کی تمامتر سیاست کا مرکز صرف اور صرف وزارت عظمی کی کرسی کا حصول ہے جسکا اعادہ وہ انہوں نے بار ہا کیا، اسی کرسی کے حصول کے لیے تماتر جائز و ناجائز کام کرنے سے بھی نہیں چوکتے، لیکن جہاں کام کرنے کی باری تھی اور پورے پانچ سال تک بلا شرکت غیرے کے مطابق حکومت تھی وہاں کام کیا ہوا اور سارا وقت اسلام آباد اور لاہور کی سڑکوں کی خاک ہی چھانتے رہے بمعہ خلائی مخلوق کو سجدے ۔

    اور اب پانچ سال کے بعد جب تمام جماعتیں اپنے دور حکومت میں کئے گئے کام گنوا رہی ہیں تو نیازی صاحب اپنی پیرنی کا پلو تھامے مزاروں پر سجدے دینے لگ پڑے ہیں ۔ نیازی صاحب کی ان حرکات سے ایک بات یاد آتی ہے ۔

    ” پیر بابا علیہ الرحمہ کے مزار شریف پر ایک شخص زار و قطار رو رو کر دعا مانگ رہا تھا۔

    کہ

    ” اے پیرا بابا آپ کو تو معلوم ہے میں اکیلا ہوں ، تربور ( شریکے ) زیادہ ہیں۔ جائداد پر انھوں نے قبضہ کیا ہوا ہے ۔

    آپ ہی اب ساتھ دینا مجھے کم ازکم پانچ بیٹے عطا فرمانا”

    کچھ دیررونے کے بعد خاموش ہوجاتا پھر دعا کے لئے ہاتھ اٹھا کر اسی کرب کے ساتھ دعا مانگنے لگ جاتا ۔

    لیکن دوسری باری میں بیٹوں کی ڈیمانڈ پانچ سے چار پر آگئ۔

    کرتے کراتے آخرکار ایک پر آڑ گیا ۔

    کہ کم ازکم ایک بیٹے کے بغیر تو واپس خالی ہاتھ نہیں لوٹوں گا۔

    قریب ایک خدا ترس بندہ یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔

    اس سے یہ حالت نہ دیکھی گئی اور پاس آکر پیار سے پوچھا ،

    ” بھائی صاحب آپ کی شادی کو کتنا عرصہ ہوا ہے ؟”

    وہ سائل غصے میں بولا

    ” شادی کی ہوئی ہوتی تو یہاں پر آتا؟؟؟؟”

    اگر پانچ سال خیبرپختونخوا میں کارکردگی دکھائی ہوتی تو پاکپتن کیا لینے جاتا ۔

    وزیراعظم کی کرسی کیلئے پہلے زندوں کے پاؤں گرتا رہا پھر پیرنی کے آگے اور اب مردوں کو سجدہ کرنے لگا۔

    وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ

    ثناء خواں تقدیس نیازی صاحب باہر آئے اور ایسی ایسی توجیہات پیش کیں کہ اللہ کی پناہ۔ لیکن میرے وہ تمام دوست اس بات کو بھول گئے کے اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک سوائے رب کی ذات کے کسی کے آگے نہیں جھکنا، اور غیر اللہ کے سامنے تو شرک ہے۔ اس معاملے میں راقم کی کم علمی کو دوست احباب نے مختلف مشائخ کے آئمہ کرام کی کتب اور خطبات کے حوالہ جات سے پورا کیا۔

    چند یاران من نے تو جذبات میں یہاں تک کہ دیا کے جب وہ اپنے والد کے مرقد پر جاتے ہیں تو اسے بھی چومتے اور اپنا سر رکھتے ہیں ، یہ سجدہ تعظیمی تھا، کچھ نے کہا کے چوکھٹ چومی تھی ، کچھ نے کہا کے اسکا ایک گھٹنا ہوا میں تھا، الغرض جتنے منہ اتنی باتیں، صرف یہ بتانے کے لیے کے نیازی صاحب نے جو کیا وہ حلال تھا۔

    اگر اس معاملے میں مولانا احمد شاہ نورانی کی بات سنی جاے تو بقول ان کے مزارات پر جا کر سر جھکانا، سجدہ کرنا منع ہے، اگر عبادت کی غرض سے سجدہ یا جھک جانا شرک اور تعظیم کی غرض سے حرام ہے۔ امام احمد رضا رحمتہ اللہ نے قبر پر حاضری کی نسبت جو آداب بتاے ہیں یقینا وہ میرے قارئین کی نگاہوں سے اوجھل نہیں،

    اسی موضوع پر میرے ایک دوست/ بھائی نے پوسٹ کی کے اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کے کپتان کو پیرنی نے انگلی کا اشارہ کیا تو وہ فورا سجدہ ریز ہو گیا، اب بندہ زوجہ سوئم کے اشارے پر بھی نا چلے۔

    تو جناب یہ تو نیازی صاحب کی بہت پرانی عادت ہے انگلی کے اشارے پر چلنا چاہے بیگم کی انگلی ہو یا ایمپائر کی۔۔۔۔

    لیکن اسلام ان انگلیوں کے اشارے نہیں مانتا، اب چاہے عبادت کے لیے ہو یا تعظیم کے لیے

    سجدہ صرف ایک واحد ذات کے لیے

    سجدہ صرف خدا کے لیے۔

    کرسی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے

    وہ سجدے کئے ہیں جو جائز بھی نہی تھے

    جو لوگ کہہ رہے ہیں چوکھٹ کو بوسہ دیا، وہ غور سے دیکھیں کہ خان صاحب چوکھٹ سے پہلے ہی سجدہ ریز ہو گئے، چوکھٹ پر منہ شریف رکھا نہیں، تو کیا وہ زمین چاٹ رہے تھے اور اسے بوسہ دے رہے تھے….

    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتےہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نزع کی حالت طاری ہوئی تو آپ ﷺ اپنی چادر چہرہ مبارک پر باربار ڈال لیتے پھر جب شدت بڑھتی تو اسے ہٹا دیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حالت میں فرمایا تھا کہ اللہ کی لعنت ہو یہود و نصاریٰ پر جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو ان(یہود ونصاریٰ) کے کئے سے ڈرانا چاہتے تھے۔

    (صحیح البخاری:3454)

  • انگریز چین دشمنی کے ساتھ چین کے چائے کا فارمولا چرانے میں ملوث — عبدالحفیظ چنیوٹی

    انگریز چین دشمنی کے ساتھ چین کے چائے کا فارمولا چرانے میں ملوث — عبدالحفیظ چنیوٹی

    دنیا کے دو ارب انسان روزانہ صبح کا آغاز چائے کی پیالی سے کرتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن وہ چائے کی متعلق نہیں جانتے۔

    چائے کی تاریخ

    2737 قبل مسیح میں چین کا بادشاہ

    شین ننگ ایک درخت کے نیچے بیٹھا تھا، کہ اس کاملازم اس کے لئے پینے کا پانی {گرم کرکے} کرلایا، اچانک اس درخت سے کچھ پتّیاں اس کھولے ہوئے پانی میں گریں اور پانی کا رنگ تبدیل ہوگیا، بادشاہ بہت حیران ہوا، اس نے وہ پانی پیا تو اسے فرحت اور تازگی محسوس ہوئی۔

    اور اسکے منہ سے "چھا” نکلا غالباً وہ حیران ہوگیا تھا کہ یہ کیا ہے؟؟

    اور اس نے اس درخت کا نام ہی "چھا” رکھ دیا جو بگڑ کر چاء ہوگیا اور اب چائے کہلاتا ہے۔

    وہ ماہرِ نباتات بھی تھالہٰذا اس نے وقتاً فوقتاً کھولے ہوئے پانی میں چائے کا پتّا ملا کر پینا شروع کردیا۔

    چائے دنیا کا پسندیدہ مشروب ہے۔ یہ چائے کے پودے کی پتیوں کو چند منٹ گرم پانی میں ابالنے سے تیار ہوتی ہے۔

    پھر اس میں ضرورت اور مرضی کے مطابق چینی اور دودھ ملاتے ہیں چائے میں کیفین کی موجودگی پینے والے کو تروتازہ کر دیتی ہے۔

    چائے اور اس کی انگریزی "ٹی” T گیا دونوں چینی زبان کے الفاظ ہیں۔ چائے کے پودے کا اصل وطن مشرقی چین، جنوب مشرقی چین ہے۔

    فارچیون ایسٹ انڈیا کا جاسوس تھا جو چین کے ممنوعہ علاقے میں گیا، وہاں جاسوس کی حیثیت سے کام کیا اور چائے کی کاشت کا صدیوں پرانا راز چرا کر لایا اور بھارت کے علاقہ آسام میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے فارچیون کی نگرانی میں پودے اگانا شروع کردئیے۔

    لیکن انھوں نے اس معاملے میں ایک سنگین غلطی کر دی تھی۔فارچیون جو پودے لے کر آیا تھا وہ چین کے بلند و بالا پہاڑی سلسلوں کے ٹھنڈے موسموں کے عادی تھے۔ آسام کی گرم موطوب ہوا انھیں راس نہیں آئی اور وہ ایک کے بعد ایک کر کے سوکھتے چلے گئے۔

    اس سے قبل کہ یہ تمام مشقت بےسود چلی جاتی، اسی دوران ایک عجیب و غریب اتفاق ہوا۔

    اسے ایسٹ انڈیا کمپنی کی خوش قسمتی کہیے یا چین کی بدقسمتی کہ اسی دوران اس کے سامنے آسام میں اگنے والے ایک پودے کا معاملہ سامنے آیا۔

    اس پودے کو ایک سکاٹش سیاح رابرٹ بروس نے 1823 میں دریافت کیا تھا۔

    یہ مقامی پودا چائے سے ملتا جلتا آسام کے پہاڑی علاقوں میں جنگلی جھاڑی کی حیثیت سے اگتا تھا۔

    لیکن زیادہ تر ماہرین کے مطابق اس سے بننے والا مشروب چائے سے کمتر تھا۔

    فارچیون کے پودوں کی ناکامی کے بعد کمپنی نے اپنی توجہ آسام کے اس پودے پر مرکوز کر دی۔ فارچیون نے جب اس پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ چینی چائے کے پودے سے بےحد قریب ہے، بلکہ ان کی نسل ایک ہی ہے۔

    آسام میں چائے کی پیداوار

    چین سے سمگل شدہ چائے کی پیداوار اور پتی کی تیاری کی ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ کارکن بے حد کارآمد ثابت ہوئے۔ جب ان طریقوں کے مطابق پتی تیار کی گئی تو تجربات کے دوران لوگوں نے اسے بہت زیادہ پسند کرنا شروع کر دیا۔

    اور یوں کارپوریٹ دنیا کی تاریخ میں انٹیلیکچوئل پراپرٹی کی سب سے بڑی چوری ناکام ہوتے ہوتے بھی کامیاب ہو گئی۔

    دیسی چائے کی کامیابی کے بعد کمپنی نے آسام کا بڑا علاقہ اس ہندوستانی پودے کی کاشت کیلئے مختص کر کے اس کی تجارت کا آغاز کر دیا گیا اور ایک عشرے کے اندر یہاں کی پیداوار نے چین کو مقدار، معیار اور قیمت تینوں معاملات میں پیچھے چھوڑ دیا۔

    برآمد میں کمی ہونے کے باعث چین کے چائے کے باغات خشک ہونے لگے اور وہ ملک جو چائے کے لیے مشہور تھا، ایک کونے میں سمٹ کر رہ گیا۔

  • دوسروں کو چور کہنے والا خود کتنا بڑا چور نکلا۔ اسحاق ڈار

    دوسروں کو چور کہنے والا خود کتنا بڑا چور نکلا۔ اسحاق ڈار

    دوسروں کو چور کہنے والا خود کتنا بڑا چور نکلا۔ اسحاق ڈار

    اسلام آباد( رپورٹ شہزاد قریشی) الیکشن کمیشن کے فیصلے نے ثابت کردیا کہ عمران خان جو قانون کی حکمرانی کا دعویدار تھا خود قانون شکن نکلا عمران کی جھوٹی سیاست کا سورج غروب ہونے والا ہے ۔ اس نے ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے پاکستان اورعوام کو نقصان پہنچا عوام کو گمراہ کیا مدینہ کی ریاست کے دعویدار کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی ۔ ان خیالات کا اظہار سابق وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں انتشار کی سیاست کو فروغ دیا تحریک انصاف افواہ ساز فیکٹری کا روپ دھار چکی ہے اس افوا ساز فیکٹری کو اب الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد تالا لگنے والا ہے ۔ یہ سیاسی جماعت نہیں ایک افواہ ساز تھی جو دوسروں کے خلاف جھوٹی افواہیں پھیلانے کا فریضہ سرانجام دے رہی تھی۔

    سینیٹر اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ عمران خود تسلیم کرلیں کہ وہ صادق اور امین نہیں تھے اور نہیں ہیں۔ ملکی معیشت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج اگر ملکی معیشت لڑکھڑا رہی ہے تو اس تباہی میں بھی عمران خان کا ہی ہاتھ ہے ۔ نواز شریف کے دور حکومت میں ملک ترقی کررہا تھا ملکی معیشت مستحکم تھی ۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا رُخ پاکستان کی طرف تھا ملک سے غربت ، بے روزگاری کا خاتمہ کیا جا رہا تھا عمران خان نے اپنے دور اقتدار میں ملک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہونے جا رہا تھا ۔ عمران خان کا دور حکومت پاکستان کی تاریخ میں بدترین دور اقتدار یاد کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ 22 کروڑ عوام اور پاکستان کے مستقبل سے نہیں کھیلنے دیا جائے ۔ قانون حرکت میں آئے گا ۔ عمران خان اور اس میں ملوث کرداروں کو کیفرکردار تک پہنچایاجائے گا۔الیکشن کمیشن کا فیصلہ اس بات کی گواہی ہے کہ دوسروں کو چور کہنے والا خود کتنا بڑا چور نکلا۔

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

  • سیاسی انتشار کی وجہ قیادت کا فقدان، تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاسی انتشار کی وجہ قیادت کا فقدان، تجزیہ: شہزاد قریشی

    تبدیلی آگئی ہے سے لے کر سلیکٹڈ تک اور سلیکٹڈ سے امپورٹڈ تک اور اب فارن فنڈنگ سے لے کر ممنوعہ فنڈنگ تک پاکستان بطور ریاست اور 22 کروڑ عوام کہاں کھڑی ہے؟ المیہ یہ ہے کہ اس دوران ملک کی جڑیں کھوکھلی ہو گئیں۔ ملک و قوم قرضوں کے بوجھ تلے دب گئی۔ معیشت روبہ زوال ہے۔ عوام پر مہنگائی کے بم گرائے جا رہے ہیں۔ کیا اس کو جمہوریت کا نام دیا جائے؟ پارلیمنٹ ہاؤس میں بغیر اپوزیشن کے اجلاس ہو رہے ہیں کیا یہ جمہوریت ہے؟ نجی ٹی وی چینلز پر پریس کانفرنسوں کی بہار ہے پریس کانفرنسیں کرنے والوں کے گھروں میں بہار ہے مگر عام آدمی کے گھروں میں موسم خزاں ہے۔ ہوس زر اورہوس اقتدار نے ان کے ضمیر مردہ کر دیئے ہیں دولت اس طبقے کا سب سے بڑا نظریہ بن چکا ہے

    سیاسی جماعتوں کا ٹکٹیں دینے کا معیار دولت ہی ہو وہاں کرپشن کیسے ختم ہو سکتی ہے؟ وطن عزیز کے ہر ادارے کو متنازع بنا دیا گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں نے ملک میں اتنا زوردار انتشار پیدا کر دیا ہے کہ جمہوریت کی پری بھی مکھڑا چھپا رہی ہے ۔ ایک دوسرے کو ڈاکو چور کہنے والوں سے سوال ہے کہ 75 سالوں میں اس ملک سے بجلی اور گیس کا بحران ختم کیوں نہیں ہوا کیا اس ملک کا عام آدمی اقتدار پر قابض رہا؟

    اس وقت پورا ملک ذہنی دبائو کا شکار ہے۔ ملکی معیشت ہمارے سامنے ہے ہر چند کے آئی ایم ایف سے معاہدہ ہو چکا مگر حکمرانوں اور بالخصوص وزیرخزانہ میں اتنی قابلیت نہیں کہ وہ ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کی قسط معاہدے کے مطابق جلدی منگوا سکے۔ اس کے لئے ملک کے چیف آف آرمی سٹاف کو فون کرنا پڑا۔ موجودہ سیاسی انتشار ملک میں لیڈر شپ کا فقدان بھی ہے۔ کہاں مفتی محمود (مرحوم) کہاں ، مولانا فضل الرحمن، کہاں بے نظیر بھٹو اور کہاں آصف علی زرداری، کہاں نوازشریف اور کہاں شریف شریف، کہاں ولی خان اور کہاں آج کی اے این پی ، کہاں نواب زادہ نصر اللہ کہاں مولانا عبدالستار خان نیازی، کہاں قاضی حسین احمد، آج پاکستان سیاسی انتشار اور بحران کی اصل وجہ لیڈر شپ کا فقدان ہے جس پارلیمنٹ ہاؤس میں بینظیر بھٹو جیسی عالمی سیاسی شخصیت اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہی ہو اس پارلیمنٹ ہائوس میں راجہ ریاض اپوزیشن لیڈر ہے خدا کی پناہ کہاں سیاسی قدر آور سیاسی شخصیات اور کہاں آج کی پارلیمنٹ ۔

  • علماء کرام پر اعتراض، حقیقت کیا؟؟؟  — نعمان سلطان

    علماء کرام پر اعتراض، حقیقت کیا؟؟؟ — نعمان سلطان

    اعتراض :–کیا علماء کرام قدامت پرست ہیں. اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں.

    جواب :–اس اعتراض کے دو حصے ہیں.

    پہلا حصہ ہم علماء کرام کو قدامت پرست کیوں کہتے ہیں.

    دین اسلام آج سے تقریباً چودہ سو سال پہلے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت ہم تک پہنچا. کیوں کہ یہ دین اللہ پاک کا آخری اور مکمل دین ہے. اس لئے ہم نے دنیا میں زندگی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق گزارنی ہے.

    اس لئے ہمیں جب بھی کسی شرعی حکم کے بارے میں جاننا ہوتا ہے تو ہم قرآن، حدیث اور اجماع امت کو دیکھتے ہیں. اگر وہاں سے راہنمائی ملے تو ٹھیک ہے ورنہ پھر علماء امت قیاس کرتے ہیں اور اس کے مطابق وقت کے علماء متفقہ طور پر شرعی مسئلے کا حل بتاتے ہیں.

    یہ یاد رکھیں کہ دین کے اصول اور حکم اٹل ہیں ہم ان میں کمی بیشی نہیں کر سکتے ہیں. اور جب ہم اپنے شرعی معاملات کے حل کی راہنمائی کے لئے چودہ سو سال پیچھے دیکھتے ہیں تو یہ قدامت پرستی نہیں بلکہ اسلام کی حقانیت اور جامعیت کا ثبوت ہے.

    اعتراض کا دوسرا اور اہم حصہ کہ علماء جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں؟؟؟؟

    جدید دور کے تقاضوں سے ہم عموماً مراد کپڑوں میں شلوار قمیض کے بجائے پینٹ شرٹ، زبان میں اردو اور عربی کے بجائے انگریزی، مدرسے سے فارغ التحصیل ہونے کے بجائے کسی یونیورسٹی کی ڈگری، اس کے علاوہ غیر نصابی سرگرمیاں جیسے ہوٹلنگ، کوئی گیم(کھیل ) یا کوئی سیمینار وغیرہ اور اس کے علاوہ روشن خیالی (اس کی تعریف لوگوں کی نظر میں مختلف ہے اور لوگوں کا سب سے زیادہ زور بھی اسی پر ہوتا ہے ) شامل ہیں.

    ابھی ہمیں سب سے پہلے یہ سمجھنا پڑے گا کہ مدارس میں اکثریت غریب گھرانوں کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں. اور روشن خیالی کے علاوہ جتنی بھی چیزیں اوپر گنوائی گئی وہ غریب گھرانوں کے بچے دوران تعلیم اور کسی مسجد یا مدرسے میں نوکری ملنے کے بعد بھی افورڈ ہی نہیں کر سکتے. تو وہ انہیں اختیار کیسے کریں گے.

    اب جہاں تک بات روشن خیالی کی ہے. اگر وہ ممنوعات دین کے بارے میں ہے. تو جو دین کے اصول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے طے ہو گئے ان میں ہم تبدیلی نہیں کر سکتے.

    لیکن بعض مقامات پر جہاں شریعت میں گنجائش یا ابہام ہے وہاں پر بعض علماء ضد میں آ کر انہیں بھی ممنوع کے درجے میں لے جاتے ہیں..اور اسی وجہ سے لوگ علماء سے متنفر ہوتے ہیں.

    ان مسائل کا حل:

    ابھی ضرورت اس امر کی ہے کہ جیسے سکولوں میں اسلامیات اور قرآن کی تعلیم لازمی ہے ایسے ہی مدرسوں میں بھی انگریزی سمیت جدید علوم کی تعلیم لازمی قرار دی جائے.ہمیں چاہیے ہم علماء کو صرف شادی بیاہ، جنازوں اور نمازیں پڑھانے تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں اپنی سوشل تقریبات کا لازمی جز بنائیں تاکہ وہ بھی ہمارے ساتھ ہم آہنگ ہو سکیں اور علماء اور نوجوان نسل کے درمیان فاصلے کم ہو سکیں.

    پہلے وقتوں میں امیرالمومنین مرکزی مسجد میں خود نمازیں پڑھاتے تھے خطبے دیتے اور اہم اعلانات (جیسے اعلان جنگ وغیرہ) کرتے تھے. وہ اپنے وقت کے دین کے عالم بھی ہوتے تھے اور وہ اپنے طرز عمل سے ثابت کرتے تھے کہ علماء کرام کا کام صرف امامت کرنا نہیں بلکہ امت کی اصلاح اور قیادت کرنا ہے.

    اس کے علاوہ مفتی حضرات کے لئے ماہرین کی مدد سے دو سال کا فزکس، بائیو اور کیمسٹری کا سپیشل کورس مرتب کیا جائے. جس میں ارتقاء، بگ بینگ اور ان سے متعلقہ نظریات اور جدید تحقیق کے بارے میں آسان اور عام فہم زبان میں انہیں بتایا جائے.

    اور انہیں پابند کیا جائے جب تک آپ یہ کورس نہیں کرتے آپ صرف عالم دین ہوں گے. دینی معاملات میں فتویٰ نہیں دے سکیں گے. اور حکومت وقت کی طرف سے مساجد کے لئے چار یا پانچ درجے بنائے جائیں.

    مسجد کے خادم، خطیب، قاری اور مفتی صاحب کو اچھے گریڈ میں اچھی سے اچھی تنخواہ دی جائے تا کہ وہ فکر معاش سے بے فکر ہو کر دین کی خدمت کر سکیں.

    مساجد اور مدارس جب تک زکوٰۃ خیرات کے پیسے پر چلتے رہیں گے وہاں سے فرقہ واریت ختم نہیں ہو گی.. حکومت کو تمام دینی مدارس اور مساجد کو اپنے کنٹرول میں لینا چاہیے. اور مدارس میں علماء کے ساتھ ساتھ متعلقہ مضامین کے ماہر اساتذہ کو بھی طلباء کی تعلیم و تربیت کے لئے مستقل بنیادوں پر بھرتی کرنا چاہیے.ان تمام اور ان جیسے دیگر اقدامات سے جو مدارس سے علماء کی کھیپ تیار ہو گی وہ لازمی پراعتماد اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو گی.

  • نفرتوں کوگڈبائےکہیں — اسامہ منور

    نفرتوں کوگڈبائےکہیں — اسامہ منور

    یہ بات صد فیصد درست ہے کہ اس نیلے آسمان تلے آپ سب کو خوش نہیں رکھ سکتے. اور نا ہی سب کی توقعات پر پورا اتر سکتے ہیں لیکن سب کو مطمئن تو کیا جا سکتا ہے.

    اپنے اچھے اخلاق، عمدہ زبان اور میٹھے بول سے. ہر شخص غصے سے بھرا ہے. ہر ایک جانی انجانی. آفات میں گھرا ہوا ہے. ہر کوئی اپنے اندر ایک لاحاصل جنگ لڑ رہا ہے.

    تو ایسی صورتحال میں ضرورت ہے. زخموں پر مرہم رکھنے کی نا کہ نمک چھڑکنے کی. دنیا پیار محبت کی بھوکی ہے. ہر ایک عزت پانا چاہتا ہے… ہر ایک کی خواہش ہے کہ اس کا احترام کیا جائے.

    تو اگر ہمارے میٹھا بولنے سے. یا گالی سن کر مسکرانے سے. یا لڑائی میں حق پر ہوتے ہوئے بھی پیچھے ہٹ جانے سے. یا کھیل میں جیت کر ہارنے والے کو گلے لگانے سے یا ناراض رشتہ دار کو منانے سے. بہت بڑے فساد سے بچا جا سکتا ہے.

    یا اگر آپ کی ہار سے کوئی جیت جاتا ہے . تو ایسا کر لینے میں کوئی حرج نہیں. یقین کیجئے ایسا کرنے کے بعد بھی آپ مرد ہی رہیں گے. آپ کی مردانگی میں کوئی فرق نہیں آئے گا.

    ہاں اپنے اس فعل سے آپ اپنے مقابل کا دل ضرور جیت لیں گے. اپنے اندر صبر و تحمل اور برداشت کو جگہ دیجئیے. یہ تینوں مل کر آپ کے اخلاق کو سنواریں گی اور اچھے اخلاق سے آپ دنیا کی کوئی بھی جنگ بغیر لڑائی کیے جیت سکتے ہیں.

    جھگڑے کبھی بھی مسائل کا حل نہیں ہوتے اور نا ہی ضد کبھی جیتتی ہے. پھل پانا چاہتے ہیں تو ہلکا سا جھک جائیں. اور فراخدلی کے ساتھ . دلوں کو جیتنا سیکھیں.. آپ ہمیشہ زندہ رہیں گے.

    لوگ نجانے نفرتوں کے لیے کہاں سے وقت نکال لیتے ہیں جب کہ محبتوں اور چاہتوں کے لیے تو یہ زندگی بہت چھوٹی ہے.

  • پاکستان ریلوے کا نوحہ اور اس کا سدباب — نعمان سلطان

    پاکستان ریلوے کا نوحہ اور اس کا سدباب — نعمان سلطان

    موجودہ وقت میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے کی وجہ سے جہاں اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں میں بے حد اضافہ ہوا ہے وہیں ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی بےپناہ اضافہ ہوا ہے جسکی وجہ سے مسافروں کا سفری بجٹ بھی متاثر ہوا ہے جن لوگوں کے پاس ذاتی ٹرانسپورٹ ہے ان کی اکثریت نے مہنگائی سے تنگ آکر سفر کے لئے مسافر گاڑیوں کا استعمال کرنا شروع کر دیا جبکہ جو لوگ مسافر گاڑیاں استعمال کرتے تھے ان کی اکثریت نے لانگ روٹ کے سفر کے لئے ریل گاڑیوں کا استعمال شروع کر دیا.

    کچھ عرصہ پہلے لوگوں کی سفر کے لئے پہلی ترجیح ریل گاڑی ہوتی تھی کیونکہ ریل گاڑی میں عام مسافر گاڑیوں کی نسبت زیادہ سہولیات فراہم کی جاتی تھی. ریل میں دوران سفر اگر آپ بیٹھ بیٹھ کر تھک گئے تو گاڑی میں چہل قدمی کر سکتے ہیں دوران سفر بچے ایک جگہ مستقل نہیں بیٹھتے ہیں اور والدین کو تنگ کرتے ہیں ریل میں وہ آزادی سے کھیل کود سکتے ہیں. اس کے علاوہ ٹوائلٹ کی سہولت بھی میسر ہے.

    دوران سفر ٹرین مختلف اسٹیشنوں پر رکتی ہے وہاں سے آپ اپنی ضروریات کی چیزیں لے سکتے ہیں اس کے علاوہ ٹرین میں بھی لوگ اشیاء بیچنے وقفے وقفے سے آتے رہتے ہیں جن سے آپ اپنی ضرورت کی چیزیں خرید سکتے ہیں. ٹرین میں برتھ کی سہولت بھی میسر ہوتی ہے اگر آپ لمبے سفر پر جا رہے ہیں تو برتھ بک کرا لیں اور راستے میں جہاں آرام کی ضرورت محسوس کریں برتھ پر لیٹ کر آرام دہ نیند سے لطف اندوز ہوئیں.

    اس کے علاوہ مسافروں کی استطاعت کے مطابق ٹکٹ اکانومی کلاس، اے سی اور بزنس کلاس میں بھی میسر ہے. مسافروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے اور ان کی شکایات کے ازالے کے لئے ریلوے پولیس کی سہولت بھی میسر ہے.اس کے علاوہ بزرگ شہریوں اور بچوں کے لئے ٹکٹوں کی قیمت میں رعایت اور متعدد سہولیات کی فراہمی کی وجہ سے پاکستان ریلوے کو دیگر ٹرانسپورٹ کمپنیوں پر واضح فوقیت حاصل تھی اور عرصہ دراز تک لوگوں کی پرسکون سفر کرنے کے لئے اولین ترجیح پاکستان ریلوے ہی رہی ہے.

    پھر جیسے دن کے بعد رات اور خوشی کے بعد غمی ہوتی ہے ایسے ہی پاکستان ریلوے کو بھی حاسدوں کی نظر اور دیگر پرائیویٹ کمپنیوں کی سازش کھا گئی. کیوں کہ جب تک پاکستان ریلوے میں دستیاب سہولیات انتہائی مناسب پیسوں میں میسر تھی دیگر ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی اجارہ داری قائم نہیں ہو سکتی تھی اور سرمایہ کاروں کی انویسٹمنٹ ڈوب سکتی تھی سرمایہ کاروں کے سینے میں دل نہیں بلکہ کیلکولیٹر ہوتا ہے وہ فیصلہ جذبات سے نہیں بلکہ نفع نقصان دیکھ کر کرتے ہیں.

    تو سرمایہ کاروں نے پاکستان ریلوے کو اپنی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے لئے خطرہ سمجھتے ہوئے اس کے خلاف سازشیں شروع کی سب سے پہلے دودھ کی راکھی پر بلا بٹھایا اور پاکستان ریلوے کی وزارت ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کے سربراہ کے حوالے کر دی جس نے ریلوے کی تباہی کی بنیاد رکھ دی اور اس کے دور وزارت میں ہر گزرتے دن ریلوے کا معیار بدتر سے بدتر ہوتا گیا.

    وقت پر ٹرینوں کا منزل پر نہ پہنچنا، پرانے انجن اور ڈبے، مشینری میں گھٹیا پرزوں کے استعمال کی وجہ سے دوران سفر ٹرینوں کا خراب ہونا، پٹریوں کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے حادثات کا ہونا، ریلوے عملے پر سے چیک اینڈ بیلنس ختم کرنے کی وجہ سے عملے کا بے لگام ہونا، سیاسی اور ضرورت سے زائد افراد کی بھرتیاں، سہولیات کی عدم دستیابی، شکایات کی صورت میں شکایت کنندہ کی دادرسی نہ کرنا، ریلوے اراضی پر قبضہ کر کے اونے پونے داموں فروخت کرنا الغرض جہاں تک ممکن تھا پاکستان ریلوے کا نقصان کر کے ایک انتہائی نفع بخش ادارے کو خسارے میں لے جایا گیا.اور مسافر ٹرین کے سفر سے متنفر ہو کر نجی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی گاڑیوں پر سفر کرنے لگ گئے.

    موجودہ مہنگائی کی جو لہر آئی ہے اس میں سفر کرنے کے لئے ٹرین کا سفر ہی ایک متوسط طبقے کے فرد کے لئے مناسب ہے اور گورنمنٹ کے لئے ایک اچھا موقع ہے کہ وہ دوبارہ سے سہولیات کی فراہمی کر کے، لوگوں کی شکایات دور کر کے اور ٹرینوں کے منزل پر پہنچنے کے اوقات کی سختی سے پابندی کرا کے مسافروں کو دوبارہ سے ٹرین کے سفر کی طرف راغب کر سکتی ہے اس طرح جہاں متوسط اور غریب طبقے کے افراد کو سفری سہولیات حاصل ہوں گی وہیں گورنمنٹ کا ادارہ بھی نقصان سے دوبارہ نفع میں چلا جائے گا اور گورنمنٹ کی طرف سے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے لوگوں کے جو سفری اخراجات بڑھے تھے وہ بھی دوبارہ قابو میں آ جائیں گے.اور لوگوں کو حکومت سے جو شکایات پیدا ہوئی ہیں ان کا بھی کسی حد تک ازالہ ہو جائے گا.

  • دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو! — حافظ گلزارعالم

    دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو! — حافظ گلزارعالم

    خوش طبع بنئے، ہنس مکھ بنئے، خوشیاں بانٹئے۔ دو دن کی زندگی سے خود بھی لطف اندوز ہوں۔ دوسروں کو بھی خوش رکھیں۔ کبھی کسی کو دکھ نہ دیں۔ کبھی کسی کی دل آزاری ہو تو معافی میں پہل کریں۔ آپ ہردلعزیز بن جائیں گے۔

    دنیا میں ہر طرح کے اچھے برے لوگ بستے ہیں، سب اپنی اپنی زندگی گزارتے ہیں اور گزرجاتے ہیں۔ مگر یاد وہی رہتے ہیں، جو خوشیاں بانٹتے ہیں، دوسروں کے دکھ درد میں، اور خوشی غمی میں شریک ہوتے ہیں، سب کو اپنا سمجھتے ہیں، کسی کے لئے دل میں برائ نہیں رکھتے۔

    جس قدر ممکن ہو۔ خلق خدا کو نفع پہنچائیے۔ آپ کے بگڑے کام بنتے رہیں گے۔ اور اللہ آپ کو وہاں سے عطا کرینگے۔ جہاں سے آپ کا گمان بھی نہ ہوگا۔

    احادیث مبارکہ میں خلق خدا کو خوش رکھنے پر بڑی بشارتیں آئ ہیں۔
    1. حضرت انس اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کی عیال یعنی کنبہ ہے، پس اللہ تعالیٰ کو اپنی ساری مخلوق میں زیادہ محبت اس شخص سے ہے جو اس کے عیال (مخلوق) کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہو ۔
    رواہ البیہقی فی شعب الإیمان، مشکوٰۃ/ص:۴۲۵/ باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق/الفصل الثالث

    2.اللہ کا جو بندہ بیوہ اور کسی بے سہارا عورت، اسی طرح کسی مسکین حاجتمند کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتا ہو، ان کی خدمت کا کوئی کام کرتا ہو تو وہ عمل بھی عبادت ہے، اور اجر وثواب میں اس مجاہد کی طرح ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جد وجہد کرنے والا ہے، دونوں کا اجر وثواب برابر ہے ۔ آگے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا خیال یہ ہے کہ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ’’خدمت خلق پر وہ اجر وثواب ملتا ہے جو دن بھر روزہ رکھنے والے کو اور رات بھر عبادت کرنے والے کو دیا جاتا ہے۔”
    متفق علیہ، مشکوٰۃ:۴۲۲/ باب الرحمۃ والشفقۃ علی الخلق

    3. نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”رحم کرنے والوں پر رحمان رحم فرماتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا“
    أبو داود والترمذي وأحمد

    ان احادیث مبارکہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کو اپنی مخلوق سے بہت محبت ہے۔ سو جو اس کی مخلوق کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرے۔ وہ اللہ کا محبوب بن جاتا ہے۔

    اسی کو ایک شاعر نے کہا

    یہ پہلا سبق ہے کتابِ ُہدیٰ کا
    کہ مخلوق ساری ہے کنبہ خدا

    عارف شیرازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

    ز تسبیح وسجادہ و دلق نیست
    طریقت بجز خدمت خلق نیست

    یعنی تسبیح ہاتھ میں لے کر،مصلیٰ پر بیٹھ کر گوشہ میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرنے اور گدڑی پہننے کا نام ہی عبادت نہیں ، بلکہ خیر کی نیت سے خیر کے کام انجام دینا نیز ضرورت کے موقع پر مخلوق کے کام آنا بھی نہایت اہم عبادت ہے ۔

    حضرت احمد علی لاہوری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ میرا ایک پاؤں ریل گاڑی کے پائیدان پر ہو اور دوسرا پلیٹ فارم پر اسی حالت میں مجھے کوئی آواز دے کر پوچھے کہ احمدعلی ذرا گاڑی میں سوار ہونے سے پہلے مجھے یہ بتادیجئے کہ پورے قرآن کا خلاصہ کیا ہے؟ تو میں کہہ دو نگا کہ پورے قرآن کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کو راضی کرو عبادت کے ذریعہ ،محمدالرسول اللہ ؐکو راضی کرو اطاعت کے ذریعہ ،صحابہ کرا م کوراضی کرو محبت کے ذریعہ اور مخلوق خدا کو راضی کروخدمت کے ذریعہ۔

    الغرض یہ دنیا بھی ہمارے لئے جنت بن سکتی ہے، اگر ہم بھائ بھائ بن کر رہیں۔ صرف اپنا ہی فائدہ نہیں،سب کا فائدہ سوچیں۔ دلوں کی نفرتوں کو ختم کریں۔ سندھی پنجابی بلوچی پٹھان ضرور رہیں۔ مگر اس بنیاد پر کسی سے خود کو بہتر نہ سمجھیں، اور نہ دوسروں کو کمتر سمجھیں۔

    اور آخری دردمندانہ گزارش یہ ہے کہ حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے سے بہت نقصان ہوا ہے۔ جس قدر ممکن ہو متاثرین تک اپنی امداد خود پہنچائیں،یا ایسے معتبر رفاہی اداروں کے ساتھ تعاون کریں جو متاثرین تک امداد پہنچا رہے ہیں۔ اور دعا بھی کریں کہ اللہ ان تمام متاثرین کی مدد فرمائے، اور نقصان کا ازالہ فرمائے آمین۔