Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • بے روزگاری اور جرائم کی شرح میں اضافہ .تحریر:صائمہ رحمان

    بے روزگاری اور جرائم کی شرح میں اضافہ .تحریر:صائمہ رحمان

    ورلڈ بنک کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت کے تین سالوں میں بےروزگاری میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ جرائم کی شرح میں کافی حد تک کمی کی سکتی ہے مگر افسوس کی بات یہ کہ دن بدن بے روزگاری کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے۔ روزگاری ایک عالمی مسئلہ ہے امریکہ برطانیہ فرانس اور جرمنی جیسے ترقی یافتہ ممالک میں اور ترقی یافتہ ممالک
    میں بھی بیروزگاری پائی جاتی ہےہمارا پاکستان بھی اس مجبوری کی زد میں ہےمعاشرے میں بے روزگاری ایک سماجی برائی تصور کی جاتی ہے جس سے خطرناک حالات جنم لیتے ہیں اس سے فاقہ طاری ہونا ، بیماری پھیلتی ہے
    پاکستان کے نوجوان طبقے کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے ہمارے وطن ِمیں بے روزگاری کا دور دورا ہے۔ حالات اس قدر خراب ہوچکے ہیں کہ اب لوگ زندگی سے تنگ اور خاندان کے بوجھ سے تنگ آ کر خودکشی جیسے سنگین اقدامات پر اتر آئے ہیں۔جس کی وجہ سے جرائم میں بھی تیزی سے اچھے پڑھے لکھے نوجوان ایسے جرائم میں ملوس ہو جاتے ہیں جو معاشرے کے لئے ایک بد نما داغ بن جاتے ہیں جرائم کی شرح دیکھی جائے تو پڑھے لکھے نوجوان کا تناسب نظر آئے گا یا وہ جن کو نوکریاں نہیں ملتی بوجھ بھی آج کل جس طرف دیکھا جائے بےروزگاری کا رونا رویا جارہا ہے حالات کی ستم ظریفی دیکھئی جائے تو کئی نوجوان نامور تعلیمی اداروں سے پڑھ کر اچھی ڈگری لے کر بھی جام کی تلاش میں دربرد کی ٹھوکرے کھاتے ہوئے نظر آتے ہیں چہرے پر بے یقینی اور ناکامی کا لیبل سجائے باہر آتے ہیں۔ اور نوکری کی تلاش میں رہتے ہیں کچھ نوجوان تو اپنی ڈگری سے نچلی سطح پر جام کرتے نظر آتے ہیں کچھ نوجوان دل برداشتہ ہو کر ایسے کام کرنےپر مجبور ہو جاتے ہیں جو ان کے خاندان کے لئے شرمندگی کا باعث بنتا ہے۔

    کچھ نوجوانوں کے روزگار نا ملنے کی وجہ سے اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے رہیتے ہیں اور پھر کسی چھوٹے موٹے کاروبار یا درمیانے درجے کی ملازمت کو اپنی توہین سمجھنے لگتے ہیں۔ خواہ مخواہ اپنے معیار کو اونچا کرکے کئی ایسے موقعے نوکریوں کو بھی ضائع کردیتے ہیں یہ کہے کر یہ ہمارے معیار کی نہیں ہے”بہت اچھے“ کی تلاش میں” کچھ اچھے“ سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں مایوس نوجوان زندگی کی کئی دور میں پیچھے رہے جاتے ہیں روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کو یقینی بنایا جائے اور بے روزگاری ختم کرنے لئے مواقع پیدا کیے جائیں۔ بے روزگاری کے باعث غربت جنم لیتی ہے اور بے روزگاری کے ساتھ ساتھ غربت کی وجہ سے پاکستان میں غربت کی شرح میں اضافہ ہوجاتا ہےبے روزگارسے انسان کو شرافت اور ایمانداری کی توقع کرنا ناممکن ہوجاتا ہے وہ اپنے بیوی بچوں کے لیے دو وقت کا کھانا اور بیماری میں دوائی میسر نہیں کرسکتا تو اس سے اچھے اور برے کی تمیز کھو دیتا ہے اور ہر وہ کام کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے جس کا نتیجہ بیانک ہوتا ہے غربت اور بے روزگاری ایک ریاست کی سب بڑی کمزوری اور نا اہلی سمجھی جاتی ہے جو ملک نوجوانوں کو روزگار نہیں دے سکتا تو پھر اور کیا کرے گا یہی حال ہمارے ملک کا ہے بس وعدے کئے جاتے ہیں روزگار نہیں۔ بیروزگاری اچانک ہی نہیں امڈ آتی۔ اس کے پیچھے بہت سی وجوہات اور عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ یہ وجوہات ایسی ہوتی ہیں کہ انہیں انفرادی طور پر دور کرنا مشکل ہوتا ہے بلکہ صرف حکومت ہی ہےجو نوجوانوں کو ایسے عوامل پیدا کرے جس سے وہ کام پر لگ سکے سرکاری سطح پر ایسے عناصر کی روک تھام کے لیے اقدامات کر سکتی ہے

    نوجوانوں کو چاہئیے کہ یہ صبر کا دامن تھامے رکھے اور اللّٰہ تعالٰپر یقین رکھتے ہو ئے یہ سوچے کہ رزق کا دروازہ اللہ ضرور انشاءاللہ کھولے گا۔ ہمارا ملک تبی ترقی کر سکتا ہے جب زیادہ زیادہ نوجوانوں کو روزگار ملے گا اور وہ اچھا کام کر کے اس ملک کی خدمت کر سکے گئے ہم بس دعا کر سکتے ہیں ہمارے ملک سے ایک بار بے زورگاری کا خاتمہ ہوجائے پھر ہی غربت میں کمی ممکن ہے پھر کوئی انسان بھوک کی وجہ سے اپنے بچوں سمیت خود کشیاں نہ کرے ۔
    email saima.arynews@gmail.com

  • مقام نسواں- شمع محفل یا چراغِ خانہ تحریر: سید غازی علی زیدی

    مقام نسواں- شمع محفل یا چراغِ خانہ تحریر: سید غازی علی زیدی


    شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشت خاک اس کی
    کہ ہر شرف ہے اسی درج کا در مکنوں

    عورت ہمیشہ سے مظلوم، تحقیر و تذلیل کا شکار، نہ کوئی عزت نہ کوئی مقام۔ یہود و نصاری ہوں یا رومی و شامی، مصری ہوں یا ہندی، عرب کے صحرا سے یورپ کے درباروں تک ہر جگہ عورت کی حیثیت ایک لونڈی سے زیادہ نہ تھی۔ کبھی جانوروں کے مول اس سے زیادہ لگتے تو کبھی اچھوت سمجھی جاتی، کبھی شیطانی روح کہلاتی تو کبھی ستی کردی جاتی۔ غرض آمد اسلام سے پہلے عورت کے سرے سے جینے پر ہی قدغن تھی۔ کہیں پیدائش کیساتھ ہی زندہ رہنے کا حق چھین لیا جاتا تو کہیں شمع محفل بنا کر مردوں کی نشاطِ طبع کا سامان کیا جاتا، کہیں مال وراثت کی صورت بٹتی تو کہیں سربازار لٹتی، کہیں گروی رکھوا کر پامال کی جاتی تو کہیں جوے میں ہار دی جاتی، غرض دنیا کی سب سے حقیر ترین شے عورت تھی۔

    مرد کا راج
    سر کا تاج
    سہما وجود
    رسموں کی قیود
    ظلم و ستم مقدر
    جیون فقط صبر
    کچلی ہوئی ذات
    ہر حال میں مات
    لیکن پھر رحمت للعالمین ﷺ کی آمد نے سسکتی، بلکتی عورت کی زندگی کو منور کر دیا۔ وہ کرلاتی مخلوق جو سانس بھی اپنی مرضی سے نہیں لے سکتی تھی اس کو وہ وقار و سربلندی بخشی جو اس کا جائز حق تھا۔ پیروں کی جوتی سمجھی جانے والی کے پاؤں تلے جنت رکھ دی۔ بیٹی کو نحوست کی جگہ رحمت بنا دیا، ذلت سمجھنے والوں کیلئے بہن باعث تکریم بنا دی گئی اور آدھا ایمان ہی بیوی سے مکمل کروادیا گیا۔شمع محفل کو گھر کی زینت بنا کرعورت کے ہر رشتے کو افتخار بخشا گیا۔ قرآن پاک کی پوری ایک سورت کا نام النساء رکھ کر تاقیامت خواتین کے مرتبے کا تعین کر دیا گیا۔ وراثت سے لیکر معاشرت تک کے تمام حقوق و فرائض متعین کردیے گئے۔ اور زمانہ جاہلیت کی تمام ظالمانہ رسوم و رواج کا مکمل خاتمہ کر کے اسے عظمت کا نمونہ بنادیا گیا۔
    اسلام نے فرعون کی بیوی کا درجہ جنت کی سردار کا کر دیا۔ حضرت مریم ؑ کی پاکدامنی پر پوری سورت اتاری گئی۔ قرآن مجید میں حضرت زینب ؓ کے خلع کے حق کو تسلیم کرکے نبی ﷺ سے نکاح کا شرف بخشا گیا، حضرت عائشہ ؓ کی برأت کیلئے آیات کا نزول ہوا اور تاقیامت عورت کی عصمت و عفت پربہتان طرازی کرنے والوں کیلئے قانون بنا دیا گیا۔ مرد کو عورت کا ولی مقرر کر کے عورت کو ہر طرح کی معاشی زمہ داری سے بری الذمہ قرار دے دیا۔
    یہ اسلام ہی تھا جس نے عورت کو ایک کمتر مخلوق کے درجے سے نکال کر بطور انسان مردکے برابر رتبہ دیا۔
    لیکن صد افسوس کہ آج کا ترقی پسند مرد خواہ مشرقی ہو یا مغرب کا پروردہ، جو خود کو تہذیب یافتہ و انسانی حقوق کا علمبردار سمجھتا، خواتین کو ان کا جائز حق دینے سے خائف ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کہیں عورت تیزاب گردی کا شکار ہے تو کہیں بدترین گھریلو تشدد کا، ماڈرن ازم کے باوجود آج بھی بیٹی کی پیدائش پر ناگواری ظاہر کی جاتی اور بیوی کو پیر کی جوتی سمجھا جاتا۔ پوری دنیا میں خطرناک حد تک بڑھتے عصمت فروشی، آبرو ریزی، جنسی ہراسگی اور صنفی امتیازی سلوک کے واقعات اس بات کی نشاندھی کرتے ہیں کہ جدیدیت کے نام پر عورت کا استحصال کیا جارہا۔ ستم ظریفی یہ کہ اکثر خواتین کے حقوق کے چمپئن ہی ان گھناؤنے جرائم میں ملوث ہوتے۔ چوراہوں پر عورت مارچ کے بینر اٹھائے یہ مرد حضرات گھر کی چار دیواری میں بیوی کو معمولی بات پر دھنک کر رکھ دیتے۔ بڑی بڑی این جی اوز عورت کے حقوق کی بحالی کیلئے فنڈز تو حاصل کرلیتی ہیں لیکن اپنی خواتین ورکرز کو جائز تنخواہیں تک نہیں دیتی۔ تیزاب گردی پر فلم بنا کر آسکر ایوارڈ لینے والی خاتون نے خود سب سے زیادہ متاثرہ عورت کا استحصال کیا۔ لیکن اگر کوئی ان امور پر آواز اٹھائے تو اس پر بنیاد پرستی اور پدرسری کا الزام لگادیا جاتا۔
    آزادی نسواں اور فیمینزم کا راگ الاپتے یہ لوگ صرف مغربی تعصب کی تقلید میں اسلام کو عورت کی ترقی کا دشمن سمجھتے۔ ان کا ہر ہر نعرہ اسلام کیخلاف ہوتا۔ حالانکہ اگر یہ صحیح معنوں میں اسلام سے واقف ہوتے تو جان لیتے کہ اسلام خواتین کے حقوق کا سب سے بڑا داعی ہے۔ پردے کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دینے والے نہیں جانتے کہ پردہ عورت کی عزت کا محافظ اور وقار کا باعث ہے۔ اسلامی تعلیمات کیخلاف دشنام طرازی کرتے یہ لوگ بھول جاتے کہ ترویج اسلام میں خواتین کا نمایاں کردار رہا ہے۔
    حضرت خدیجہ ؓکی اخلاقی و مالی مدد نے اسلام کوابتدائی مشکل ترین دنوں میں سہارا دیا۔ ان کا درجہ اتنا بلند کہ خود باری تعالیٰ نے حضرت جبرائیل کے زریعے سلام کہلوایا۔ غزوات میں مسلم خواتین کی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ تلوار بازی سے مرہم پٹی تک ہر مرحلے میں مردوں کے قدم بقدم رہیں۔ حق گوئی و بیباکی، جرآت و شجاعت، ذہانت و فراست ازدواج مطہرات و صحابیات کی نمایاں ترین خصوصیات تھیں۔ ایک بیٹی کو اللّٰہ نے وہ مرتبہ دیا کہ نبی پاک ﷺ کی تاقیامت مبارک ترین نسل حضرت فاطمتہ الزہرا ؓ کی بابرکت آغوش کی بدولت ہے۔ یزید کے دربار میں حضرت زینب ؓ کی للکار جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کی بہترین مثال ہے۔ سائنس، طب، فقہ، ادب، تاریخ، اقتصادیات غرض کونسا ایسا شعبہ زندگی ہے جس میں ہمیں ماہر ترین مسلم خواتین نہیں ملتی ہیں۔ ہم مسلمانوں کی ستم ظریفی کہ ہم نے اعلیٰ ترین اخلاقی اقدار کی حامل مسلم خواتین کو چھوڑ کر دو ٹکے کی اخلاق باختہ ماڈلز کو آئیڈیل بنا لیا ہے۔ ہندوؤں سے متاثرہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کو کم عقل اور صرف گھریلو کام کاج تک محدود سمجھا جانے لگا۔ نتیجتاً ہمارے اسلاف کے شاندار کارنامے سیرت کی کتابوں تک محدود ہو گئے۔ مزید برآں جو پردہ عورت کی عصمت کا محافظ تھا اسے عورت کی ترقی کا سب سے بڑا دشمن بنا کر پیش کیا گیا۔ پروپیگنڈہ کی ایسی ہوا چلی کہ اچھے خاصے سمجھدار لوگ اس کے دام میں آ گئے۔ یہاں تک کہ اسلام کی اصل روح اور تعلیمات سے واقف اور اس پر عمل کرنے والے آٹے میں نمک کے برابر رہ گئے ہیں۔
    ابھی بھی وقت ہے خدارا سنبھل جائیں۔ خدا سے بڑا نہ کوئی خیرخواہ ہوسکتا نہ معلم۔ شیطان انسان کا ازلی دشمن ہونے کے ناطے ہمیشہ گمراہی کے گھنگور اندھیروں کیطرف ہی لے جائے گا جس کا انجام دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی۔ شیطان کے چیلے مسحور کن نعروں اور رنگین نظاروں کی مدد سے سبز باغ دکھا کر بے حیائی کی راہ پر گامزن کررہے اور ہماری خواتین بلا سوچ سمجھ کے اپنی جنت چھوڑ کر بازار کی زینت بن رہی ہیں۔ جائز مطالبات اور حرام کاری کے فروغ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ خدارا ان دونوں کو آپس میں نہ ملائیں ورنہ عورت کی مظلومیت کی داستانیں تو ختم نہ ہوں گی لیکن بے حیائی و فحاشی میں ضرور اضافہ ہوگا جس کا انجام بلآخر معاشرے کی بربادی ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کا ارشاد پاک ہم سب کیلئے مشعل راہ بھی ہے اور تنبیہ بھی؛
    ”تم میں کامل ترین مومن وہ ہے جو اخلاق میں سب سے زیادہ اچھا ہے ، اور تم میں سب سے بہتر ہے وہ ہے جو اپنی عورتوں کے حق میں سب سے بہتر ہے ۔”
    کیا اس کے بعد بھی کوئی کہہ سکتا کہ اسلام خواتین کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ نہیں ہے؟
    ‎@once_says

  • واٹس ایپ صارفین کے لئے بڑی خوشخبری

    واٹس ایپ صارفین کے لئے بڑی خوشخبری

    واٹس ایپ صارفین کے لئے بڑی خوشخبری
    سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور اپلیکیشنز ہر چند ماہ بعد صارفین کی سہولت کے پیش نظر تبدیلیاں کرتی رہتی ہیں، اس مقصد کے لئے وہ مختلف قسم کے سرویز کراتی ہیں اور اپنے یوزر / صارفین سے آراء طلب کرتی ہیں کہ وہ کس قسم کے اپشن میں مزید بہتری چاہتے ہیں.

    سماجی رابطوں کی اپلیکیشن ‘واٹس ایپ’ کی نئی آنے والے اپ ڈیٹ میں کچھ نئی تبدیلیوں کا امکان متوقع ہے جن میں سب سے بڑی تبدیلی، واٹس ایپ پہ ساتھی سے اپنا last seen چھپانا ہے، جبکہ وہ اپکی contact list میں بھی موجود ہو. واٹس ایپ کی موجودہ اپ ڈیٹ تک ایسا کوئی فیچر یا آپشن متعارف نہیں کرایا گیا تھا کہ آپ ایسے شخص سے اپنا last seen چھپا سکتے ہوں جو آپ کی contact list میں موجود ہو. آپ کو ایسا کرنے کے لئے یا تو اس کا نمبر ڈیلیٹ کرنا پڑتا تھا یا پھر دوسرا آپشن بلاک کی صورت میں دستیاب تھا. مگر اب آپ اپنے موبائل میں محفوظ کردہ نمبرز سے بھی اپنا last seen چھپا سکتے ہیں.

    واٹس ایپ کا یہ فیچر کافی لوگوں کے لئے مددگار ثابت ہو سکتا ہے. بالخصوص ان لوگوں کے لئے جن کو بہت سارے لوگوں کے نمبر اپنے پاس save محفوظ رکھنے ہوتے ہیں.
    رپورٹ: مدثر حسین
    @mudassiradlaka

    خواتین کو ہراساں کرنے کی ویڈیوز وائرل،بزدار سرکار کا بڑا حکم

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی، 40 ملزمان کی عدالت پیشی

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی،71 سالہ بزرگ بھی گرفتار

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی، ایک اور ملزم کی ضمانت،شناخت پریڈ کب ہو گی؟

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی کیس ، پولیس نے سب کی دوڑیں لگوا دیں

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی، ملزم کی درخواست ضمانت پر عدالت نے سنایا فیصلہ

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی، عائشہ اکرم نے کتنے ملزمان کی شناخت کر لی؟

    مینار پاکستان، دست درازی،عائشہ اکرم نے کن ملزمان کی شناخت کی، نام سامنے آ گئے

    کس نے بلایا، کس نے چھیڑا، کس نے نازیبا حرکات کیں، سب سامنے آ گئے

  • عزت نفس اور خود اعتمادی. تحریر:صائمہ رحمان

    عزت نفس اور خود اعتمادی. تحریر:صائمہ رحمان

    خود اعتمادی خود پر پختہ یقین کا نام ہے یہ سماجی اور نفسیاتی تفہیم ہے۔ خود اعتمادی اس حالت کو کہتے ہیں جہاں فرد بھرپور اعتماد کی کیفیت میں رہتاہے ۔ خود اعتمادی کے لیے اہم عناصر میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت،عمل کرنے کی صلاحیت اور قوت ہوتی ہے خود اعتمادی ایک ایساجوہر ہے جو خود اعتماد شخص کے ذہن میں ایسی صفات پیدا کردیتا ہے کہ وہ مشکل سے مشکل کام بھی آسان سمجھنے لگتا ہے اور اس کو مکمل کرنے لئے آخری حد تک اپنی کوشش کرتا ہےاور وہ ہر ذمہ داری کو قبول کرنے اور اس کے نبھانے میں کوئی گھبراہٹ محسوس نہیں کرتا۔ایسے شخص کا چہرہ پر کشش، جازب نظر، گفتار بامعنی اور شخصیت پروقار ہوتی ہے
    یہ خوبی انسان کے بہترین اوصاف میں شمار کی جاتی ہے جس کو خود پر اعتماد ہو وہ انسان اپنی منزل پر پہنچ ہی جاتا ہے اور اس کے آگے حائل ہونے والی رکاوٹوں سے نہیں ڈرتا ۔خود پر اعتماد کرنے والے لوگ نا صرف زندگی کے ہر میداں کامیاب ہوتے ہیں یہی خود اعتمادی ان کو مضبوط کرتی ہے۔
    خود اعتماد انسان کو اپنے کام اپنی ذات پر بھروسہ ہوتا ہے مخالف حالات سے ان کے اداروں پر کچھ اثر نہیں پڑتا وہ اپنی کوشش جاری رکھتے ہیں کیونکہ ان کو یقین ہوتا ہے ہم جیت جائے گے۔ ایسا انسان اپنی خود اعتمادی سے اپنی تقدیرخود بناتا ہے ہار کر بھی جیت کی تلاش میں رہتا ہے خود اعتماد شخص شیشے کی طرح شفافءت پسند ہوتا ہے وہ ناکامی کے بعد بھی اپنی کامیابی کی طرف امید سے دیکھتا ہے ۔

    خود اعتماد شخص ہمیشہ عزت نفس کا قائل ہوتا ہے بہت سے بے بس انسانوں کی خود اعتمادی نے ان کو زندگی میں بلندی تک پہنچا دیا ہے بطور ایک باشعور خود اعتماد اور عزت نفس رکھنے والا شخص ہمیشہ یہ سوچتے ہیں کہ اس دنیا میں اپنی موجودگی کی کوئی اچھی وجہ بنے رہے۔ ہم یہ کوشش کرتے ہیں کہ دوسروں کی نظر میں ہماری عزت برقرار رہے اور انہی لوگوں کی طرف سے دی جانے والی عزت کو ہم اپنی قدر جانتے ہیں جو شخص خود اعتماد ہوتا ہے وہ عزت نفس کا بھی قائل ہوتا ہے۔
    اپنے اندر خود اعتمادی کیسے بھال کی جائے اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ نے زندگی میں جو کچھ حاصل کیا ہے اس کا احساس کریں۔ بعض اوقات ایسی چیزوں پر توجہ دیناآسان ہوتی ہے جنہیں آپ حاصل نہ کر سکے ہوں بہ نسبت ان چیزوں کے جو آپ حاصل کر چکے ہیں۔ ایسی چیزوں پر دھیان دے کر جو آپ حاصل نہیں کر سکے آپ آسانی سے اپنا اعتماد کھو سکتے ہیں۔ اپنی زندگی میں مثبت رہیں۔ مثبت سوچے اچھا سوچے ہر کسی کی کچھ خوبیاں اور خامیاں ہوتی ہیں۔ اپنی خوبیوں پر توجہ رکھیں۔ اپنی خوبیوں کا ادراک ہانا چائیے اور اپنی صلاحیتوں کو اپنی خوبیوں کے مطابق ڈھالا جا ئے تو آپ کی خود اعتمادی میں اضافے کا ہوتا ہے اور عزت نفس پیدا ہو گی۔خود اعتمادی ایک ایساوصف ہے جس کے بغیرکوئی بھی خواہ وہ کتنی بھی خوبیوں کا مالک کیوں نہ ہو، کامیاب نہیں ہو سکتا۔ خوداعتمادی ایک صحت مند شخصیت کیلئے بنیادی حیثیت رکھتی ہےخود اعتمادی ہو توزندگی خوشگوار بن جاتی ہے اور اپنی صلاحیتوں کے لحاظ سے کامیابی کی بلند ترین منزلوں کو حاص کرنا آسان ہوتا ہے۔
    آخر میں، اپنی خود اعتمادی کی تعمیر کرنے کے لیے ہمیں کوشش کرتی رہنی چاہیے اور چھوٹا موٹا خطرہ مول لیتے ہوئے ایسے کام کرنے چاہیئں ہار نہیں منانی چائیے ہار کر بھی جیت کی کوشش جاری رکھنی چاہیئے ایسے کام جو ہم نے پہلے کبھی نہیں کیے ہوتے۔ ہر نئے کام کے اندر ایک چیلنج پوشیدہ ہوتا ہے۔ چھوٹے بڑے چیلنجوں کی وجہ چاہے ہم اس کام کو کرنے میں ناکام رہیں، لیکن ہمارے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔
    email saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6

  • دانت کا درد اور اسکا علاج .تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    دانت کا درد اور اسکا علاج .تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    دانت کا درد آپ کے مسوڑھے میں پھنسے ہوئے پاپ کارن سے لیکر ٹوٹے ہوئے دانت یا بیکٹیریل انفیکشن کی وجہ تک کسی بھی وجہ سے ہوسکتا ہے۔کچھ دانتوں میں درد عارضی طور پر ھوتا مگر دانتوں کے شدید درد کو دانتوں کے پیشہ ور ڈاکٹر سے علاج کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ درد کی جو بھی وجہ ہو اس کو حل کیا جائے۔آج کے کالم میں بتانے کی کوشش کرونگا کے دانتوں کے درد کی وجہ یہ ھوتا کیسے اور اس مناسبت سے اسکا حل و علاج کیا ھونا چاھیئے۔
    دانت کے درد کی ساری وجوہات میں سے چند درج ذیل ھیں
    1۔دانتوں میں کیڑا لگنا
    2۔دانت کا فریکچر ھونا
    3۔ٹوٹی یا خراب فلنگ یعنی بھرائی کا ھونا
    4۔مسوڑوں کا انفیکشن ھونا
    5۔نئے دانت کا بالخصوص عقل داڑھ کا نکلنا
    6۔دانتوں کو رگڑنا گرائنڈ کرنا
    7۔کوی بھی ایسی بیماری یا وجہ جس سے دانت کا کمزور پڑ جانا
    اب آتے ھیں دانت کا درد ھوتا کیسے ھے یہ بات تو صاف ھے کے دانت بذات خود ایک بے جان ھڈی ھے جسکو ٹھنڈا گرم لگنا یا درد کا ھونا ناقابل فہم ھے تو پھر دانت میں کوئی مسئلہ ھو تو درد کیوں ھوتا ھے؟ سنسیٹویٹی کیوں محسوس ھوتی ھے؟اسکی وجہ ھے دانتوں میں موجود Pulp یعنی پلپ یہاں موجود ھوتی تمام innervation عام لفظوں میں ناڑ یعنی nerve supply پس یہی وہ چیز ھے جسکو جب کوی چھیڑخانی ھو تو سردی بھی لگے گی اور گرمی بھی کسی قسم کی انجری ھوی تو درد بھی ھوگا اسکو سمجھنے لئے بتاتا ھوں ایک مریض شدید دانت درد میں آیا اسکا علاج کرنے لئے ٹیکا لگایا جگہ سن ھوگئی دانت کا درد وقتی طور پر غائب ھوگیا یہ درد کیوں غائب ھوا؟ دانت وھی انفیکشن وھی پر تو درد کیسے غائب وہ اسلئے کہ جو ناڑ درد کی زد میں تھی وہ دانت کے اندر pulp میں موجود تھی اور جب وہ سن ھوئی تو درد وقتی غائب ھوگیا یہ pulp دانت کا ڈیفنس سسٹم ھے درد کی شدت جہاں مریض کو سکون سے بیٹھنے نھیں دیتی وھی وہ مریض لئے باعث نعمت بھی ھے کہ اگر یہ محسوس نا ھو اور انفیکشن بڑھتا جائے تو نا صرف دانت بلکہ کئ کیسز میں جبڑا تک لپیٹ میں آجاتا ھے۔

    دانت کے درد کی شدت ایک معمولی سنسناہٹ سے لیکر دل کی تکلیف سے زیادہ تک ھوتی ھے اس شدت کا تعلق بھی اسکی وجوہات میں پوشیدہ ھے دانتوں کے درد دو طرح کے ھوتے ایک درد کو ھم Acute Pain کہتے یہ اچانک ھوتا شدید ترین ھوتا اور فوری علاج بھی مکمل غائب بھی ھوجاتا دوسرا chronic pain کہلاتا یہ پرانا انفیکشن پرانا درد کہلاتا یہ شدت میں کم کسی خاص وقت زیادہ اور کبھی کبھی ھوتا یہ دیر سے ختم ھوتا اکثر دانت کے نکلوانے کیبعد ھی جاکر اس درد کا خاتمہ ھوتا یہ وہ کیسز ھوتے جن کا بگاڑ شوکت خانم ھسپتال جیسے اداروں طرف رخ کرواتے اسکے علاوہ ایک درد جسکو Referred Pain کہتے یعنی ھو کسی اور دانت میں رھا مگر محسوس کسی اور جگہ ھورا ھوتا کہلاتا دانتوں کے درد کا کوی خاص وقت نھیں ھوتا اکثر لوگ جو دانتوں کے مسائل میں گرے ھوتے وہ مجھ سے جب شکایت کرتے انکو رات کے وقت شدید درد ھوتا تو میں انکو سمجھانے لئے بتاتا وہ اسلئے کہ رات کو منہ زیادہ خشک ھوتا تو ایسے میں بیکٹریا کو اپنا پراجیکٹ باآسانی کرنے کو ریلاکس ماحول مل جاتا اسلئے رات سونے سے پہلے نیم گرم پانی نمک ڈال کلی لازمی کریں بہرحال وجوہات کئ تو علاج بھی کئ موجود ھیں انفیکشن ھے کیڑا لگ گیا ھے آدھا ٹوٹ گیا فریکچف ھوگیا تو دانت کا روٹ کینال کرائیں زیادہ خراب ھونے کی صورت نکلوا دیں مسوڑوں کا انفیکشن ھے تو دانت صاف کرائیں ماؤتھ واش توتھ پیسٹ استعمال کریں دانت گرائنڈ کرتے تو اسکے پیچھے جو وجوہات ھیں انکو دور کریں Bells Palsy یا Trigeminal Nuralgia مخصوص nerves کی بیماری ھوتی اسکی وجہ سے منہ میں دانتوں میں شدت کا درد ھوتا یہ باقی دانتوں کے درد سے مختلف اس طرح ھوتا کہ یہ کسی خاص عمل سے ایک دم شروع ھوتا انتہائ شدید ھوتا مگر جلد ختم ھوجاتا جبکہ دانت کا اپنا درد جب ھوا دیر تک رھتا ساتھ کئ کیسزز میں ٹھنڈا گرم بھی ساتھ لگ رھا ھوتا کوی نا کوی دانت کیڑا لگا ھوا ضرور ھوتا اسکا علاج دوائیوں سے لیکر جو ناڑھ زد میں آئی اسکی سرجری تک ھوتا ھے دانتوں کے درد میں وقتی طور انفیکشن کنٹرول لئے دوائیاں دی جاتی اکثر کیسز میں میٹرونیڈازول المعروف flagyl دی جاتی تو مریض کہتا کہ یہ دو معدے لئے ھے تو انکو بتانے لئے کہ کہ antibiotic کوی بھی ھو وہ کسی جسم کے حصے لئے نھیں وہ ھمیشہ مخصوص بیکٹریا لئے ھوتی اب وہ بیکٹیریا اگر منہ میں ھوں یا معدے میں اگر وہ ایک خاص قسم کے ھیں تو دوائ بھی وھی ھوگی درد انفیکشنز کی دوائیاں بھی مختلف ھوتی اس سے اکثر مریض معدے میں جلن اور درد کی شکایت کرتے اسکے لئے معدے کے لئے بھی Antacid ساتھ دیا کرتے گھریلو ٹوٹکوں کے طور پر اکثر لوگ لونگ کا تیل cotton پر لگا کر دانت کے اندر رکھتے نیم گرم پانی میں نمک ڈالکر کلی کرتے اور اسی طرح لہسن کو پیس کر پانی نکال کر cotton ساتھ لگا کر دانت میں رکھ لیتے اس سے وقتی آرام آجاتا

    الغرض دانتوں کے کئی مسائل اور وجوہات کی بنا پر دانتوں میں درد نکل آتا ھے جنکا سدباب بروقت تشخیص اور علاج سے ممکن ھے کسی بھی طور پر کسی درد کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنا بڑی پریشانی اور تکلیف کا باعث بن سکتا ایسی تمام پریشانیوں سے بچنے لئے ڈینٹل سرجن کو لازم چیک کرواکر علاج کرانا بڑی پریشانی و تکلیف سے نجات کا باعث بن سکتا ھے

  • ہمارے معاشرے میں خواتین کا کردار اور بنیادی حقوق .تحریر:صائمہ رحمان

    ہمارے معاشرے میں خواتین کا کردار اور بنیادی حقوق .تحریر:صائمہ رحمان

    سوال یہ ہے کہ آج مسلم ممالک میں معاشرے میں خواتین کا کردار کیا ہے؟ زندگی کے کن شعبوں میں خواتین نے نمایاں کردار ادا کیا خواتین کے کردار میں تبدیلی آرہی ہے خواتین پاکستان کی آبادی کا نصف حصہ ہے۔ اپنے حقوق کی جنگ خود لڑنی ہوگی۔ کیونکہ ہم خواتین معاشرے کا ایک اہم حصہ ہیں ہمیں خود اپنے دفاع کے لئے کھڑا ہونا ہوگااور اس معاشرے میں اپنے آپ کو منوانا ہوگا کہ ہم ہی ہیں جو اس معاشرے کو تبدیل کر سکتی ہیں۔

    کسی بھی ملک یا ریاست کی تعمیر و معاشی ترقی میں خواتین کا کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں ۔ اسی طرح خواتین کو بااختیار بنا دیا جائے تو پاکستان میں ایک بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے ۔ہمارے ملک میں خواتین اپنی جہدِ مسلسل پر گامزن ہیں اور آج بھی انہیں لاتعداد مسائل و مشکلات کا سامنا ہے۔ خواتین کے آگے بڑھنے میں صرف نقل وحرکت کی پابندیاں ہی حائل نہیں بلکہ انہیں اجرتوں کے شدید فرق کا مسئلہ بھی درپیش ہے خواتین کے حقوق کو ہمارے ہاں کچھ زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی افرادی قوت میں خواتین کی شمولیت پر حوصلہ افزائی کے لئے ضروری ہے کہ موثر پروگرام اور پالیساں وضع کی جائیں اور ان کا نفاذ کیا جائے۔ اس کے علاوہ جو قوانین پہلے سے نافذ ہیں ان پر عملدرآمد کی صورتحال میں بہتری لانا بھی انتہائی ضروری ہے۔۔ خواتین کے حقوق کے لئے جنگ جاری رکھنی ہو گی خواتین کے حقوق کے لیے ہمیں نہ صرف قوانین کے ذریعے عمل درآمد کروانے کی ضرورت ہے بلکہ مائنڈ سیٹ تبدیل کرتے ہوئے جدوجہد کرنی ہوگی یہ ہمارا چیلنج ہے اور خواتین کو امتیازی سلوک اور بدسلوکی کے خلاف جنگ ہم سب کو آگے بڑھ کر لینی ہو گی ہم خواتین کو اپنے بنیادی حقوق کو خود پہچانا ہوگا

    آج کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ چل کر ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور ملک کے بہترین اداروں میں اپنا کردار ادا کر رہی آج کی عورت بدل چکی ہے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں برابری کی بنیاد پر سرمایہ کاری کے ذریعے خواتین کے لئے مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں جو پاکستان میں اقتصادی ترقی کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں برابری کی بنیاد پر سرمایہ کاری کے ذریعے خواتین کے لئے مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں جو پاکستان میں اقتصادی ترقی کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

    خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہین پاکستان کے آئین میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت
    بھی دی گئی ہے لیکن ان قوانین کے عملدرآمد کے مسائل کی وجہ سے خواتین کو مسائل کا سامنا کرنا پڑھتا ہے۔
    اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کے آئین میں عورتوں کے کون کون سے حقوق شامل ہیں اور خواتین ان قواتین سے
    کیسے اپنے حقوق حاصل کرسکتی ہیں اور ان حقوق کی پامالی کرنے پر مجرم کن سزاؤں کا مرتکب ہو سکتا ہے۔

    پاکستان کافی جہگوں پر دیکھا گیا ہے کہ خاص کر پسماندہ علاقوں میں خواتین کو اکثر جائیداد سے بے دخل کردیا جاتا ہے اور ان کو ان کا شرعی اور قانونی حق سے محروم رکھا جاتا۔ ہے لیکن پاکستان کا آئین اس بارے میں بالکل واضح طور پر عورتوں کو ان کا جائیداد میں حق دیا جائے۔
    ہراساں کرنے پینل کوڈ کہ مطابق یہ ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی خاتون کی عزت مجروح کرنے کی کوشش کرے، جس میں ایسےجملے بولے جائے، جو خاتون کو تکلیف پہچائے یا اس کو ہراساں کرے، ہراساں کرنے کی کوشش کی جائے ایسے خواہ یہ گھر میں ہوں یا دفاتر میں، ایسا شخص سزا کا مرتکب ہوگا۔وہ تمام خواتین جو ان حالات سے گزرنے کے بجائے انہیں چاہیے کہ وہ اپنے حقوق کا استعمال کرتے ہوئے قانونی ذرائع سے انصاف طلب کریں

    email saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6

  • حکومتی لاپرواہی ،تحریر:بسمہ ملک

    حکومتی لاپرواہی ،تحریر:بسمہ ملک

    گزشتہ کئی عرصے سے کئی صحافیوں کے اوپر جانی حملے ہوئے جس کی ایف آئی آر بھی کاٹی گئی لیکن نا تو حکومت کی طرف سے اور نا ہی تفشیشی اداروں کی جانب سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور نا ہی صحافی حضرات کو یقین دہانی کرائی گئی اس حوالے سے چند دن پہلے سٹینڈنگ کمیٹی اف انفارمیشن & ٹیکنجالوجی کے اندر بہت ہی سینئر صحافی ائے تھے جس میں حامد میر، عاصمہ شیرازی، اسد طور وغیرہ شامل تھے تاکہ صحافی حضرات جان سکے کہ حکومت صحافیوں کو انصاف فراہم کرنے کے لئے کتنے سنجیدہ ہے لیکن بدقسمتی سے ناں تو فیڈرل منسٹرز ائے اور نا ہی چیف منسٹر موجود تھے

    کہا جارہا تھا کہ پرائمنسٹر کسی فنکشن میں بزی ہیں اور وزراء اسی وجہ سے نہیں آئے تھے پہلی بات یہ کہ یہ ایک سیرئیس قسم کا معاملہ ہے اور ان میں سے اگر فیڈرل منسٹرز اور چیف منسٹز اگرآدھا گھنٹہ بھی دے دیتے تو معاملہ حل ہوتا دوسری بات یہ کہ جو ادارے والے آئے تھے ان میں سے جونئیر افیسرز کو بھیجا گیا تھا جن کے پاس کسی قسم کے نا کوئی ثبوت تھے اور نا ہی شواہد تھے کہ یہ معاملہ کس طرح حل کیا جائے گا تیسری بات یہ کہ جو ہمارے سینئر جرنلسٹ آئے تھے ان کو زیادہ پتہ اور معلومات ہیں اپنے کیسز کا اپنے انویسٹیگیشن اور اپنے فنگرپرنٹس کا ،اکثر کے CCTV فوٹیج میں گاڑیوں کے نمبر تک واضح نظر ائے ہیں لیکن جو اداروں کے لوگ آئے تھے ان کے پاس کسی قسم کی کوئی انفارمیشن نہیں تھی اور نا ہی انہوں نے کوئی پیش رفت کی تھی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ کمیٹی کا استحقاق ہے؟ کہ جس منسٹر کو بلائے وہ بالکل اتا ہی نہیں اور نا ہی وہ کمیٹی کو سیرئیس لیتا ہے

    چوتھی بات یہ ہے کہ جو رپورٹ ہے اس کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے تاکہ پوری قوم کو پتہ چلے کہ حکومت کہاں تک صحافیوں کی تحفظ کرنے میں کامیاب رہی ہے تحریک انصاف والے اقتدار میں انے سے پہلے صحافتی ازادی اور صحافیوں کی تحفظ کی فراہمی کے تو بڑے دعوے سے کررہے تھے اب دیکھتے ہیں کہ اب جب تحریک انصاف برسراقتدار ائی تو کیا وہ صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب ہونگے؟ کیا تحریک انصاف صحافیوں کے گلے شکوہ دور کرنے میں کامیاب ہوپائے گی؟ یا تحریک انصاف کی باقی وعدوں جیسے صحافیوں والی بات بھی بس صرف باتوں کی حد تک محدود تھی اگے اگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟

    Tweeter ID Handel
    @BismaMalik890

  • ہم بحیثیتِ پاکستانی قوم  .تحریر:صائمہ رحمان

    ہم بحیثیتِ پاکستانی قوم .تحریر:صائمہ رحمان

    ہماری قوم پاکستانی ایک مضبوط، بہادر مستحکم قوم تصور کی جاتی ہے یوں تو ہم بڑے جوش جذبے سے نعرے لگاتے ہیں قائداعظم محمد علی جناج زندہ باد کے نعرے لگاتے لیکن کیا ہم قائد کے بتائے ہوئے اصولوں پرعمل پیرا ہیں بھی یا نہیں ؟ اتحاد ، ایمان اورتنظیم
    اپریل 1948ء کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’میرے نوجوان دوستو! آپ اپنی شخصیت کو محض سرکاری ملازم بننے کے خول میں محدود نہ کیجئے۔ اب نئے میدان، نئے راستے اور نئی منزلیں آپکی منتظر ہیں۔ سائنس، تجارت، بنک، بیمہ، صنعت و حرفت اور نئی تعلیم کے شعبے آپکی توجہ اور تجسس کے محتاج ہیں۔” آج بھی قائد اعظم کے بتائے اصول ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں۔ قائد اعظم ہم سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ہم اپنا تمام تر وقت حصولِ علم کیلئے وقف کریں اور اپنے ملک کیلئے حقیقی معنوں میں اثاثہ بنیں اور خدمت خلق کو اپنا شعار بنالیں۔ آج آدھی صدی گذار چکے ہیں جس ریاست کے قیام کے لئے انتھک جدوجہد قربانیاں دی گئی جس مقصد کے یہ ملک حاصل کیا گیا تھا ہم اس مقصد سے بہت دور ہو چکے ہیں ہم صرف اپنا فائدہ دیکھتے ہیں ملک کا نہیں سوچ رہء کیتنی مشکلات کے بعد ہم نے حاصل کیا گیا اور ہم اپنے پاکستانی قوم کی حثییت کیا ہم اہنا اپنے ملک کے اپنا فرض ادا کر رہے ہیں؟

    ہم اس ملک کو تخلیق کرنے کے مقاصد ہی نہ پورے کر پا رہے دستور کی تدوین سے لیکر جمہوری اداروں کی تشکیل ہو یا ملکی استحکام سے لے کر داخلی و خارجی پالیسیوں کی ترتیب ہو، سب کچھ ادھورا چھوڑا ہوا ہے کوئی بھی اس ملک کا نہیں سوچ رہا قائداعظم کے فرمان سے ہم پاکستانی قوم بہت پیچھے رہے گئی ہے۔ بس حوسِ اقتدار کی خاطرحکمران قائد اعظم کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی بجائے ایک دوسرے سے الجھ کر گروہوں میں بٹ چکے ہیں ۔ پاکستان کو ترقی دینے قائداعظم کی اصولوں کے مطابق ڈھالنے کے بجائے نسلی، لسانی، علاقائی اور صوبائی تعصبات کا شکار ہو چکے ہیں ملک میں اب صرف ۔ اقتصادی بحران، دہشت گردی، مہنگائی، کرپشن، اقرباء پروری اور قتل و غارت گری ہے اس سب کا ذمہ دار ہم سب پاکستانی ہیں
    یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ کیا ہم وہ سنہری اصول جن کی بنیاد پر پاکستان کو حاصل کیا گیا کیا ہم ان اصولوں پر چل رہے ہیں یعنی محبت، یقین محکم، تحمل اور برداشت آج ہم نے خود ان اصولوں کا گلا اپنے ہاتھوں سے گھونٹ رہے ہیں کیا ہم بحیثیتِ پاکستانی قوم وقت کی پابندی کرتے ہیں ؟ قانون پر چلتے ہیں؟

    ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں مگر سوال یہ ہے کہ ہم واقعی زندہ قوم ہیں ؟یا یہ ایک نغمہ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں
    علامہ اقبال نے کہا تھا؛ نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا
    کہ صبح و شام بدلتی ہیں اُن کی تقدیریں۔۔۔
    ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ پاکستان بننے کے بعد ہم نے پاکستان کی ترقی کے لئے کیا کیا ہے یہ تاریخ آپ کے سامنے ہے۔ کیا بحیثیتِ پاکستانی قوم ہم نے کوئی ایسا قابل ذکر کارنامہ سرانجام دیا ہے جو زندہ قوموں کا شیوہ ہوتا ہے ؟
    شاعر مشرق علامہ اقبال نے اس پاکستانی قوم کو اٹھانے کے لئے کے لئے اپنی ساری زندگی صرف کر دی۔ بڑی مشکل سے یہ قوم جاگی اور بالآخر پاکستان کے خواب کو شرمندہ تعبیربنایالیکن بد قسمتی دیکھئے کہ یہ قوم بلا آخرپھر سو چکی ہےنہ انہیں اپنی خبر ہے اور نہ کسی اور کی خبر ۔
    اگر ہم بحیثیتِ پاکستانی قوم ہم سچے دل سے صرف پاکستان کا سوچئے تو یہ ملک بہت ترقی کرسکتا ہے کیونکہ ہمارے ملک میں ایسی کوئی کمی نہیں بس اس ملک سے سچی محبت کرنے والے لوگ چاہیے جو اس ملک کو ترقی کی طرف لے جائے اور ہم پر فرض ہے ہم اس کو سنھبانے اور اس لو ٹنے کے بجائے اس کی حفاظت کرے کیوں کہ یہ ملک ہیں تو ہم ہیں۔

    email saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6

  • تمباکو اور منہ کا کینسر، تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    تمباکو اور منہ کا کینسر، تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    آج سے دس سال پہلے جب میں نے ڈینٹل پریکٹس شروع کی تو تب سے اب تک روزانہ ھر قسم کے دانتوں کے مرض سے جڑے لوگوں کا چیک اپ کیا پہلے پہل سال میں ایک آدھ کیس ایسا آتا جس میں مریض کو منہ کے کینسر کا مرض لاحق ھوتا پھر یوں ھوا کہ کچھ عرصے سے اب قریبا روزانہ نھیں تو ایک آدھ دن چھوڑ کر مجھے ایسے مریضوں کا سامنا کرنا پڑ رھا ھے اس خیال سے کہ شاید یہ اتفاق ھو میں نے اور بھی اپنے دوست ڈینٹل سرجنز سے اس بارے میں جانکاری لی انھوں نے بھی کچھ ایسے ھی پیٹرن کا ذکر کیا سول ھسپتال اور بڑے سرکاری اداروں میں تناسب انتہائ زیادہ ھوچکا ھے دو دن پہلے باغی ٹی وی سے برادرم ممتاز اعوان اور انکے ساتھیوں کو کینسر اور سیگرٹ نوشی پر کی ایک کمپیئن پر دیکھا تو سوچا اس ٹاپک پر میں بھی ضرور لکھوں
    کینسر کی کئی اقسام ھیں اور کئ وجوہات ان وجوہات میں سب سے بڑی وجہ idiopathic جسکو ھم کہتے کہ نامعلوم وجہ کہتے وہ ھے اسکے علاوہ tobacco یعنی تمباکو ھے radiation یعنی شعائیں arsenic food یعنی کیمیکل سے بنے کھانے ھی کینسر کی کئ وجوہات میں سے ایک ھے
    کینسر دو طرح کے ھوتے Benign یعنی نا پھیلنے والا اور Malignant یعنی پھیلنے والا دونوں ھی خطرناک ھیں مگر ملیگننٹ کینسر عمومی طور پر اگر فوری علاج نا کیا جائے تو وہ جان لیوا ثابت ھوسکتا میں اس کالم میں صرف منہ کے کینسرز پر ھی بات کرونگا کیونکہ میرا تعلق اس شعبے سے تو اسکو سمجھانا میری ڈومین میں ھی آتا منہ کے کینسر مختلف قسم کے ھوتے
    منہ کے فلور پر زبان پر ھونٹوں پر اوپر والی ھڈی پر نیچے والے جبڑے پر یہ مختلف ھوتے اور ھر ایک کی وجہ مختلف ھوتی
    سب سے زیادہ 90 فیصد جو منہ کا کینسر مریض کو لاحق ھوتا اسکو Squamous cell carcinoma کا نام دیا گیا یہ زیادہ تر زبان پر ملیگا اکثر زبان پر چھوٹے سے چھوٹا زخم بار بار چھیڑنے یا irritation سے اس کینسر میں تبدیل ھوجاتا اگر اس کینسر کا بروقت علاج نا کرایا جائے تو یہ جان لیوا ھوتا اکثر کیسز میں اسکو ختم کرنے لئے سرجری کرنی پڑتی جس میں جبڑے تک کو ریمو کرنا پڑسکتا

    منہ کی کوی بیماری ھو خدارا اسکو معمولی نا سمجھیں دانتوں کا چھوٹے سے چھوٹا انفیکشن کب بگڑ کر کینسر کی شکل اختیار کرلے کوئی نھین جانتا مریض کو جب یہ بتایا جاتا کہ کینسر کی کئ وجوہات میں سے ایک وجہ سگریٹ نوشی تمباکو نوشی پان گھٹکا چھالیہ ھے تو اس پر مریض ایک عذر دیتا کہ چھوڑ نھیں سکتے یا اتنی دنیا پیتی ھے انکو کیوں نھیں ھوتا اور ایک عذر کی گورنمنٹ اسکو بین کیوں نھیں کرتی

    تو پہلا عذر کے عادت نھیں جاتی تو یہ ایک حقیقت ھے کہ سگریٹ تمباکو ایک ایسا نشہ ھے جسکو چھوڑنا ناممکن نا سہی مگر مشکل ضرور ھے میں نے کئ لوگ دیکھے وہ کسی ایک بات پر مصمم ارادہ کرلیتے اور پھر پورا کرتے یہ کوی ھیرویئن چرس جیسا نشہ تو ھے نھین کہ اسکو چھوڑنے پر سائیڈ ایفکٹ میں بندا بیمار پڑجائے یا حالت غیر ھوجائے میرے پاس ایک مریض دانت صاف کرانے آیا میں نے پوچھا سگریٹ پیتے تو کہتا پیتا تھا روز دو ڈبیاں خالی کردیتا تھا مگر جب ایکبار بیٹے نے کہا پاپا مت پیئں مجھے اچھا نھیں لگتا تب سے چھوڑ دیا دس سال ھوگئے اس بات کو تو یہ مثال میں یہاں ان لوگوں کو دے رھا جو ارادہ کرنے کی نیت تو کرتے مگر حوصلہ نھیں کرپاتے اسی طرح ایک مریض میرے پاس آیا میں نے کہا سیگریٹ چھوڑ دو آج اکیلے علاج کرانے آئے ھو کل یہ نا ھو کسی سہارے سے علاج کرانے جاو تین سال بعد میرے پاس آیا کہتا ڈاکٹر صاحب آپکی اس بات نے دل میں چوٹ دی قسم کھائی کہ سیگریٹ نھیں پیئونگا

    تمباکو اصل میں جسم کے ٹیشوز کی لائٹنگ کی ساخت تبدیل کردیتا جس پر یہ کینسر با آسانی حملہ آور ھوجاتے تو یہ وہ دوسری وجہ کہ مجھے کیوں ھوگیا کا جواب ھے کہ ھر انسان کا دفاعی نظام کینسرز سیل کے مقابلے میں مختلف ھوتا کسی کو ایک سیگریٹ ھی موت کے دھانے لے جاسکتا تو کسی کئ ھزار ڈبیاں بھی کچھ نھیں کہتی کسی کو چند ھفتوں بعد مسئلہ بن جاتا تو خودکشی کرنے کی اس کوشش کو جاری رکھنا حماقت ھے تیسرا عذر کہ گورنمٹ کچھ کیوں نھیں کرتی تو یہ ایک واقعتا قابل فکر امر ھے کہ گورنمنٹ ھر سال سیگریٹ پر ٹیکس تو بڑھاتی جاری مگر اس پر پابندی نھین لگاری ھونا تو یہ چاھیئے ھر قسم کے تمباکو پر مکمل پابندی لگائ جائے مگر بہرکیف ایسا پوری دنیا میں کہیں نھین ھورا تو اسکا مطلب ھے کہ مشتری ھوشیار باش جر شخص احتیاط خود کرے دوسرا ھر شخص کو سوچنا چاھیئے کہ کوی اگر زھر بیچ رھا ھو تو کیا آپ وہ خریدلوگے آپ مفت بھی نھین خریدو گے تو پھر سیگریٹ پان گھٹکا چھالیہ کو چھوڑنے کا ارادہ کریں اور جان چھڑائیں اس عادت سے

    یہاں پر شاباش دیتا ھوں ایسی تمام این جی اوز فلاحی اداروں کا جو سگریٹ تمباکو کیخلاف اٹھ کھڑے ھوئے ھیں لوگوں میں شعور پیدا کر رھے ایسے میں باغی ٹی وی کی تعریف نہ کرنا صریحا زیادتی ھوگی

  • کتابیں اور کتب خانے .تحریر:صائمہ رحمان

    کتابیں اور کتب خانے .تحریر:صائمہ رحمان

    کتابوں کی اہمیت اور ضرورت کسی بھی دور میں ختم نہیں ہو سکتی کیونکہ کتابیں ہماری بہترین دوست ہوتی ہیں۔ اور ہمیں سیر کرواتی ہیں معلومات کا بہترین ذریعہ ہے لیکن ہر شخص اس بات پر متفق ہے کہ مطالعہ کرنے سے علم و معلومات میں اضافہ ہوتا ہے لیکن ہر شخص مطالعہ نہیں کرتا البتہ جو لوگ مطالعہ کرتے ہیں وہ اس سے فائدے حاصل کرتے ہیں۔ موجودہ دور میں مطالعہ نہ کرنا بہت دیکھا جارہا ہے لوگوں میں کتب بینی کا شوق ختم ہوتا جا رہا ہے لوگ زیادہ محنت کرنے کے بجائے انٹرنیٹ سے معلامات حاصل کرنا زیادہ آسان سمجھتے ہیں بعض لوگ اپنی ملازمت سے مطمئن ہوکر مطالعہ چھوڑ دیتے ہیں۔ تجارت پیشہ افراد اپنی کاروباری مصروفیات کا بہانہ بناتے ہیں اور جو لوگ مطالعہ کرتے ہیں ان میں سے بھی بیشتر افراد بے ترتیب مطالعہ کرتے ہیں، کبھی کوئی کتاب اٹھالی، کبھی کوئی کتاب دیکھ لی، اس لئے مطالعہ کے باوجود کچھ حاصل نہیں کر ۔ہم کتابوں کا مطالعہ کیوں کرتے ہیں اس کے لئے ہمیں سمجھنے کے لئے پہلے ہمیں کتابوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ کتابیں پڑھنا آپ کی جسمانی اور ذہنی صحت دونوں کو فائدہ پہنچاتا ہے ، اور وہ فوائد زندگی بھر قائم رہ سکتے ہیں۔ وہ ابتدائی بچپن میں شروع ہوتے ہیں اور سینئر سالوں تک جاری رہتے ہیں۔ یہاں ایک مختصر وضاحت دی گئی ہے کہ کتابیں پڑھنا آپ کے دماغ کو اور آپ کے جسم کو کیسے بہتر بنا سکتا ہے۔پڑھنا آپ کے ذہن کو لفظی طور پر بدل دیتا ہے۔ مصروف رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
    ایم آر آئی اسکین کا استعمال کرتے ہوئے ، محققین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پڑھنے میں دماغ میں سرکٹس اور سگنلز کا ایک پیچیدہ نیٹ ورک شامل ہوتا ہے۔ جیسے جیسے آپ کی پڑھنے کی صلاحیت پختہ ہوتی جاتی ہے ، وہ نیٹ ورک بھی مضبوط اور زیادہ نفیس ہوتے جاتے ہیں۔
    کہانیاں جو کرداروں کی اندرونی زندگی کو دریافت کرتی ہیں – دوسروں کے جذبات اور عقائد کو سمجھنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ جو طالب علم چھوٹی عمر سے باقاعدگی سے کتابیں پڑھتے ہیں ، وہ آہستہ آہستہ بڑی ذخیرہ الفاظ تیار کرتے ہیں۔

    کتابیں پڑھنے کے فوائد یہ آپ کی زندگی پر کس طرح مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔دماغ کو مضبوط کرتا ہےالفاظ کی تعمیر کرتا ہے۔علمی زوال کو روکتا ہےتناؤ کو کم کرتا ہےڈپریشن کو دور کرتا ہے۔
    اکثر کتابیں پڑھنے کے فوائد کو نہیں سمجھتے ، کچھ کہتے ہیں کہ یہ وقت کا ضیاع ہے ، کچھ اسے بورنگ سمجھتے ہیں ، اور بہت سی وجوہات کی بنا پر لوگ یقین رکھتے ہیں یا کہہ سکتے ہیں کہ ان کی ذہنیت ہے کہ کتابیں پڑھنا اتنا مفید نہیں ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں ، صرف ایک وقت کا ضیاع ، توانائی کا ضیاع ، تاہم حقیقت اس طرح کی ذہنیت کے برعکس ہے ، اس کی مختلف وجوہات ہیں کیوں کہ پڑھنا بہت اہم اور فائدہ مند ہے۔
    کتب بینی آپ کو نئی چیزوں ، نئے طریقوں ، نئی تفہیم ، نئی معلومات ، حالات کو سنبھالنے کے نئے طریقے اور ان کو حل کرنے کے نئے طریقوں سے روشناس کراتا ہے ، پڑھتے ہوئے آپ چیزوں کو مختلف نقطہ نظر سے سمجھتے ہیں ، اس سے آپ کو دنیا اور اپنے آپ کو ایک مختلف انداز میں سمجھنے اور سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ ، پڑھنے سے آپ کو اپنے مشاغل معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے ، اور آپ ایسی چیزوں کو دریافت کر سکتے ہیں جو بالآخر آپ کا کیریئر اور مستقبل میں کامیابی بن جاتی ہیں
    پڑھنا آپ کو اپنے آپ کو مختلف طریقے سے سمجھنے میں مدد دیتا ہے ، یہ آپ کے ذہن کو کھولتا ہے ، اور آپ کو اپنی زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کو قبول کرنے میں مدد دیتا ہے ، اور آپ کو زندگی کے مختلف مثبت پہلوؤں کو سمجھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ اور دنیا کو زیادہ صحیح طریقے سے سمجھنے میں آپ کی مدد کرتا ہے۔ پڑھنا آپ کو ہوشیار بناتا ہے۔انسانی تہذیب کے ارتقاء داستان کتاب اور کتب خانوں کے تذکرے کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی یہ سب تاریخ ان کتابوں میں بند ہیں تحریروں اور دستاویزات کے ان ذخیروں کو جس جگہ محفوظ کیا گیا وہی کتب خانے کی ابتدائی شکل تھی۔
    کتب خانےپہلا اور اہم فائدہ مفت کتابیں مل جاتی ہے کتب خانے یعنی لائبریری کو کتابوں کا خزانہ کہنا غلط نہیں ہو گا جی ہاں! مفت کتابیں! ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ لائبریریاں آپ کو کتابیں بالکل مفت میں لینے دیتی ہیں۔ آپ کو کسی بھی کتاب کے لیے ایک پیسہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے جو آپ ادھار لیتے ہیں۔ وہ لوگ جو شوق سے پڑھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ کتابیں بہت مہنگی ہوسکتی ہیں اور اگر آپ کوئی خریدنے جاتے ہیں تو آپ کی جیب میں بہت بڑا نقصان ہوسکتا ہے۔ ایک بار پڑھنے کے لیے کتابیں خریدنا حماقت کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ آپ کو صرف ایک مہنگی کتاب کیوں خریدنی چاہیے تاکہ اسے بیکار بنا سکیں جب آپ اس کے ساتھ کام کر لیں۔ ہوشیار انتخاب کریں اور مقامی لائبریری کی طرف جائیں اور جتنی کتابیں آپ لے سکتے ہیں ادھار لیں۔ یہ بہت مفید بھی ہے کیونکہ آپ کے پاس کتابیں حاصل کرنے کی کوئی حد نہیں ہوگی اور آپ اس کے مکمل ہونے کے بعد اس کا تبادلہ کر سکتے ہیں اور پڑھنے کے لیے ایک نئی کتاب حاصل کر سکتے ہیں۔ کتاب پڑھنے کی خواہش کو صرف اس لیے ختم نہ کریں کہ یہ مہنگی ہے۔ لائبریری کارڈ حاصل کریں اور لطف اٹھائیں۔
    ہر قسم کی کتابوں کی دستیابی۔ لائبریری کتابوں کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ آپ کو یہاں ہر قسم کی کتابیں مل سکتی ہیں۔ مختلف نوع کی کتابیں جیسے سائنس فکشن ، افسانہ اور بہت کچھ لائبریری میں لوگوں کے لیے ادھار لینے کے لیے رکھا گیا ہے۔ آپ لائبریری میں موجود کتابوں کو بہت سے مختلف مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ آپ اپنی تحقیق میں مدد کے لیے دیگر حوالہ کتابوں کے ساتھ مطالعہ کرنے میں مدد کے لیے ٹیکسٹ بکس استعمال کر سکتے ہیں۔ مختلف قسم کی کتابوں کی دستیابی آپ کی زندگی کو آسان بنا دے گی کیونکہ آپ کو پورے شہر میں کتابیں ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ہے اور ایک چھت تلے ہر چیز مل سکتی ہے۔

    email saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6