Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • کتابیں اور کتب خانے .تحریر:صائمہ رحمان

    کتابیں اور کتب خانے .تحریر:صائمہ رحمان

    کتابوں کی اہمیت اور ضرورت کسی بھی دور میں ختم نہیں ہو سکتی کیونکہ کتابیں ہماری بہترین دوست ہوتی ہیں۔ اور ہمیں سیر کرواتی ہیں معلومات کا بہترین ذریعہ ہے لیکن ہر شخص اس بات پر متفق ہے کہ مطالعہ کرنے سے علم و معلومات میں اضافہ ہوتا ہے لیکن ہر شخص مطالعہ نہیں کرتا البتہ جو لوگ مطالعہ کرتے ہیں وہ اس سے فائدے حاصل کرتے ہیں۔ موجودہ دور میں مطالعہ نہ کرنا بہت دیکھا جارہا ہے لوگوں میں کتب بینی کا شوق ختم ہوتا جا رہا ہے لوگ زیادہ محنت کرنے کے بجائے انٹرنیٹ سے معلامات حاصل کرنا زیادہ آسان سمجھتے ہیں بعض لوگ اپنی ملازمت سے مطمئن ہوکر مطالعہ چھوڑ دیتے ہیں۔ تجارت پیشہ افراد اپنی کاروباری مصروفیات کا بہانہ بناتے ہیں اور جو لوگ مطالعہ کرتے ہیں ان میں سے بھی بیشتر افراد بے ترتیب مطالعہ کرتے ہیں، کبھی کوئی کتاب اٹھالی، کبھی کوئی کتاب دیکھ لی، اس لئے مطالعہ کے باوجود کچھ حاصل نہیں کر ۔ہم کتابوں کا مطالعہ کیوں کرتے ہیں اس کے لئے ہمیں سمجھنے کے لئے پہلے ہمیں کتابوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ کتابیں پڑھنا آپ کی جسمانی اور ذہنی صحت دونوں کو فائدہ پہنچاتا ہے ، اور وہ فوائد زندگی بھر قائم رہ سکتے ہیں۔ وہ ابتدائی بچپن میں شروع ہوتے ہیں اور سینئر سالوں تک جاری رہتے ہیں۔ یہاں ایک مختصر وضاحت دی گئی ہے کہ کتابیں پڑھنا آپ کے دماغ کو اور آپ کے جسم کو کیسے بہتر بنا سکتا ہے۔پڑھنا آپ کے ذہن کو لفظی طور پر بدل دیتا ہے۔ مصروف رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
    ایم آر آئی اسکین کا استعمال کرتے ہوئے ، محققین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پڑھنے میں دماغ میں سرکٹس اور سگنلز کا ایک پیچیدہ نیٹ ورک شامل ہوتا ہے۔ جیسے جیسے آپ کی پڑھنے کی صلاحیت پختہ ہوتی جاتی ہے ، وہ نیٹ ورک بھی مضبوط اور زیادہ نفیس ہوتے جاتے ہیں۔
    کہانیاں جو کرداروں کی اندرونی زندگی کو دریافت کرتی ہیں – دوسروں کے جذبات اور عقائد کو سمجھنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ جو طالب علم چھوٹی عمر سے باقاعدگی سے کتابیں پڑھتے ہیں ، وہ آہستہ آہستہ بڑی ذخیرہ الفاظ تیار کرتے ہیں۔

    کتابیں پڑھنے کے فوائد یہ آپ کی زندگی پر کس طرح مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔دماغ کو مضبوط کرتا ہےالفاظ کی تعمیر کرتا ہے۔علمی زوال کو روکتا ہےتناؤ کو کم کرتا ہےڈپریشن کو دور کرتا ہے۔
    اکثر کتابیں پڑھنے کے فوائد کو نہیں سمجھتے ، کچھ کہتے ہیں کہ یہ وقت کا ضیاع ہے ، کچھ اسے بورنگ سمجھتے ہیں ، اور بہت سی وجوہات کی بنا پر لوگ یقین رکھتے ہیں یا کہہ سکتے ہیں کہ ان کی ذہنیت ہے کہ کتابیں پڑھنا اتنا مفید نہیں ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں ، صرف ایک وقت کا ضیاع ، توانائی کا ضیاع ، تاہم حقیقت اس طرح کی ذہنیت کے برعکس ہے ، اس کی مختلف وجوہات ہیں کیوں کہ پڑھنا بہت اہم اور فائدہ مند ہے۔
    کتب بینی آپ کو نئی چیزوں ، نئے طریقوں ، نئی تفہیم ، نئی معلومات ، حالات کو سنبھالنے کے نئے طریقے اور ان کو حل کرنے کے نئے طریقوں سے روشناس کراتا ہے ، پڑھتے ہوئے آپ چیزوں کو مختلف نقطہ نظر سے سمجھتے ہیں ، اس سے آپ کو دنیا اور اپنے آپ کو ایک مختلف انداز میں سمجھنے اور سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ ، پڑھنے سے آپ کو اپنے مشاغل معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے ، اور آپ ایسی چیزوں کو دریافت کر سکتے ہیں جو بالآخر آپ کا کیریئر اور مستقبل میں کامیابی بن جاتی ہیں
    پڑھنا آپ کو اپنے آپ کو مختلف طریقے سے سمجھنے میں مدد دیتا ہے ، یہ آپ کے ذہن کو کھولتا ہے ، اور آپ کو اپنی زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کو قبول کرنے میں مدد دیتا ہے ، اور آپ کو زندگی کے مختلف مثبت پہلوؤں کو سمجھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ اور دنیا کو زیادہ صحیح طریقے سے سمجھنے میں آپ کی مدد کرتا ہے۔ پڑھنا آپ کو ہوشیار بناتا ہے۔انسانی تہذیب کے ارتقاء داستان کتاب اور کتب خانوں کے تذکرے کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی یہ سب تاریخ ان کتابوں میں بند ہیں تحریروں اور دستاویزات کے ان ذخیروں کو جس جگہ محفوظ کیا گیا وہی کتب خانے کی ابتدائی شکل تھی۔
    کتب خانےپہلا اور اہم فائدہ مفت کتابیں مل جاتی ہے کتب خانے یعنی لائبریری کو کتابوں کا خزانہ کہنا غلط نہیں ہو گا جی ہاں! مفت کتابیں! ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ لائبریریاں آپ کو کتابیں بالکل مفت میں لینے دیتی ہیں۔ آپ کو کسی بھی کتاب کے لیے ایک پیسہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے جو آپ ادھار لیتے ہیں۔ وہ لوگ جو شوق سے پڑھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ کتابیں بہت مہنگی ہوسکتی ہیں اور اگر آپ کوئی خریدنے جاتے ہیں تو آپ کی جیب میں بہت بڑا نقصان ہوسکتا ہے۔ ایک بار پڑھنے کے لیے کتابیں خریدنا حماقت کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ آپ کو صرف ایک مہنگی کتاب کیوں خریدنی چاہیے تاکہ اسے بیکار بنا سکیں جب آپ اس کے ساتھ کام کر لیں۔ ہوشیار انتخاب کریں اور مقامی لائبریری کی طرف جائیں اور جتنی کتابیں آپ لے سکتے ہیں ادھار لیں۔ یہ بہت مفید بھی ہے کیونکہ آپ کے پاس کتابیں حاصل کرنے کی کوئی حد نہیں ہوگی اور آپ اس کے مکمل ہونے کے بعد اس کا تبادلہ کر سکتے ہیں اور پڑھنے کے لیے ایک نئی کتاب حاصل کر سکتے ہیں۔ کتاب پڑھنے کی خواہش کو صرف اس لیے ختم نہ کریں کہ یہ مہنگی ہے۔ لائبریری کارڈ حاصل کریں اور لطف اٹھائیں۔
    ہر قسم کی کتابوں کی دستیابی۔ لائبریری کتابوں کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ آپ کو یہاں ہر قسم کی کتابیں مل سکتی ہیں۔ مختلف نوع کی کتابیں جیسے سائنس فکشن ، افسانہ اور بہت کچھ لائبریری میں لوگوں کے لیے ادھار لینے کے لیے رکھا گیا ہے۔ آپ لائبریری میں موجود کتابوں کو بہت سے مختلف مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ آپ اپنی تحقیق میں مدد کے لیے دیگر حوالہ کتابوں کے ساتھ مطالعہ کرنے میں مدد کے لیے ٹیکسٹ بکس استعمال کر سکتے ہیں۔ مختلف قسم کی کتابوں کی دستیابی آپ کی زندگی کو آسان بنا دے گی کیونکہ آپ کو پورے شہر میں کتابیں ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ہے اور ایک چھت تلے ہر چیز مل سکتی ہے۔

    email saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6

  • جرم کسی جنس کی میراث نہیں تحریر:اقصٰی یونس

    جرم کسی جنس کی میراث نہیں تحریر:اقصٰی یونس

    کچھ مہینے پہلے ایک واقعہ نظروں سے گزرا ۔ اور وہ کہانی اور وہ واقعہ دیکھ کر ہر فرد چاہے مرد ہو یا عورت ایک بار ضرور پورے قد سے ہلا ہوگا کیونکہ مرد کا یہ بھی روپ اس دنیا میں پایا جاتا ہے کہ وہ اپنی ہی بیٹی کو کئی ماہ تک زیادتی کا نشانہ بناتا رہے اور اسی باپ سے بیٹی چھ ماہ کی حاملہ تھی ۔ اور پھر بھی وہ بھیڑیا نما مرد اس بات سے انکاری تھا کہ اس نے اپنی بیٹی کے ساتھ کچھ غلط کیا۔ بجائے اپنی غلطی ماننے کے وہ اپنی ہی بیٹی پہ الزامات اور تہمتوں کی بوچھار کر رہا تھا ۔ لیکن بھلا ہو ٹیکنالوجی کا کہ ڈی این اے ٹیسٹ نے سارے رازوں سے نہ صرف پردہ اٹھایا بلکہ مرد کا وہ چہرہ بھی دیکھایا جیسے دیکھ کر انسانیت بھی شرما جائے ۔ ہاں شاید مرد کا یہ روپ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے ۔

    اور انہی آنکھوں نے ایک ایسا منظر بھی دیکھا کہ بیٹی نے اپنے کسی آشنا کے ساتھ مل کر باپ کو موت کی میٹھی نیند سلا دیا ۔ اور وہ قتل فقط اس لئے کیا گیا کہ باپ نے اپنی بیٹی کو دنیا داری ، صحیح غلط کی تمیز سکھاتے ہوئے گناہ کی دلدل میں جانے سے روکا تو بیٹی نے اپنے ہی قبیح ہاتھوں سے اپنے باپ کا گلا دبا دیا ۔ میں حیران تھی اور پریشان بھی جب عورت کا ایسا گھنوؤنا روپ دیکھا ۔ مگر شاید چشم فلک کے مقدر میں یہ بھی دیکھنا باقی تھا ۔

    خواتیں کی ایک محفل میں ہر عورت زور و شور سے خود کا با وفا اور مرد کو بے وفا ثابت کرنے میں بازی لے جانا چاہتی تھی ۔ اور یہ نیک خیالات کا اظہار یوں کیا جا رہا تھا کہ مرد عورتوں کو اپنی طرح دھوکے باز سمجھتے ہیں۔ اور وفا تو انکے خمیر میں ہی شامل نہیں ۔اسی لیے انہیں لگتا ہے کہ ان کا رشتہ خطرے میں ہے اور اسی شک میں زندگی گزار دیتے ہیں کہ کہیں اس کی بیوی کو کوئی دوسرا شخص پسند نہ آ جائے اور یہ بھی کہ صرف عورت کے کردار پہ بات کی جاتی ہے مرد کو تو ہر طرح کی آزادی ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ ۔

    اسی طرح ایک مردوں کی محفل جس میں زیر بحث عورت کی ذات تھی اسکا احوال بھی کچھ مختلف نہ تھا بس وہی روایتی باتیں کہ عورت فریبی ہے بری ہے اور دنیا کے سارے فتنے عورت کی ذات سے ہی جڑے ہیں ۔جس میں عورت کے لباس سے لے کر اسکے خدوخال تک کو زیر بحث لانے کے بعد نتیجہ وہی نکلتا ہے کہ سارے فتنے ، فساد اور گناہوں کی جڑ تو عورت ہی ہے ۔

    عورت اور مرد معاشرے کا انتہائی اہم اور خوبصورت حصہ ہیں اور دونوں مل کر نہ صرف ایک خوبصورت گھر بلکہ ایک خوبصورت معاشرہ تشکیل دیتے ہیں ۔مرد کے کئی روپ ہیں اور مرد ہر روپ میں بہترین ساتھی ثابت ہوتا ہے یہی مرد باپ کی شکل میں ہے تو فرشتہ ہے بھائی کی شکل میں ہے تو محافظ ، شوہر کی شکل میں ہے تو ایک محبت کرنے والا اور ساتھ نبھانے والا ساتھی اور بیٹے کی شکل میں ہے تو محبت اور مان ہے ۔اور بھی کئی رشتے ہیں جو اس مرد سے وابستہ ہوتے ہیں کہیں پہ دوست ہے تو کہیں پہ بھتیجا بھانجا غرض ہر شکل میں مرد ایک بہترین ساتھی ہے ۔

    جبکہ دوسری جانب عورت وہ ہستی ہے جو مکان کو گھر میں تبدیل کرتی ہے عورت اگر ماں ہے تو سراپا محبت ۔ جبکہ عورت بہن ہے تو بھائی کیلئے ایک مان ہے اگر بیوی ہے تو سراپہ وفا اور اگر بیٹی ہے تو سراپہ رحمت ۔ اسی طرح عورت بھی ہر روپ اور ہر مقام پہ سراپہ محبت وفا اور قربانی ہے ۔ چشم فلک نے ایسی بھی عورت دیکھی جس نے اپنے ساتھی کو اسکی تمام تر کمزوریوں اور معذوری کے باوجود اپنے شریک سفر کا دایاں بازو بنی۔

    دھوکے بازی کسی جنس کی میراث نہیں ہوتی ہے۔ اخلاقی برائیوں کا ٹائیٹل کسی ایک صنف پر نہیں لگایا جاسکتا۔ جیسا کہ ہمارے معاشرے میں مردوں کو ہمیشہ ظالم اور دھوکے باز ہی پیش کیا جاتا ہے۔جبکہ عورت پہ بے وفائی کا ٹائیٹل لگایا جاتا ہے ۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ جب وہ کسی کے حقوق کی بات کرتا ہے تو اس میں توازن کا عنصر کھو بیٹھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم خواتین کے حقوق کا پرچار کرتے ہیں تو یہ بھول جاتے ہیں کہ مرد بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں اور وہ بھی اس معاشرے میں ویسے ہی پس رہے ہیں جیسے کہ خواتین۔ اور اس بات میں قطعی کوئی شک نہیں کہ عورت کے زیادہ تر مسائل عورت ہی نے کھڑے کئے ہیں ۔ جیسے جہیز ، گھریلو تشدد وغیرہ جس میں مرد سے زیادہ کرداد عورت کا ہوتا ہے ۔

    اس بات سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہم ایک پدر شاہی معاشرے کا حصہ ہیں،جہاں خواتین کو ویسی طاقت اور آزادی حاصل نہیں جو مردوں کو ہے۔ لیکن اس صورت حال کو کچھ دیگر پہلوؤں سے دیکھنا بھی ضروری ہے۔ یہ مسئلہ صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں۔ پوری دنیا میں انیسویں صدی سے جہاں خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد شروع ہوئی، وہیں مردوں کے حقوق کی تنظیمیں بھی انیسویں اور بیسویں صدی میں اپنی آواز بلند کرنا شروع کرتی رہی۔ مردوں کے حقوق کا دفاع کرنے والی کچھ تنظیمیں صرف اس لیے وجود میں آئیں تاکہ وہ خواتین کے حقوق کی تنظیموں کے مدمقابل آسکیں۔ اور فقط یہ ایک مقابلے کی دوڑ تھی اس تنظیم کا موقف یہ تھا کہ معاشرے میں خواتین سے زیادہ مرد ظلم کا شکار ہیں اور وہ اپنی زندگی کے ہر شعبے میں تعصب کا سامنا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگوں میں ہلاک ہونے والے مرد ہی ہوتے ہیں اور کوئلے کی کان میں جا کر سخت ترین کام بھی مرد کرتے ہیں۔ ان پر جنسی زیادتی کے جھوٹے مقدمات بنا کر انہیں بدنام بھی کیا جاتا ہے۔

    جبکہ اگر عورت کی بات کی جائے تو وہ ظلم کی چکی میں ہمیشہ پستی آئی ہے ، کبھی غیرت کے نام پہ قتل ہوئی تو کبھی قتل کے مقدمے میں ونی کی گئی ۔ کبھی اسکی عزت کو نیلام کیا گیا تو کبھی اسکو جنسی حوس کا نشانہ بنایا گیا ۔ لیکن یہ معاملات فقط پاکستان تک محدود نہیں جنسی اور ہراسانی کے واقعات کی تعداد کا موازنہ اگر یورپ سے کیا جائے تو اب بھی پاکستان میں حالات اتنے حالات اتنے سنگین نہیں ۔ جبکہ مرد بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں اور انکے بھی مسائل ہیں ۔

    ہم ایک پدر شاہی معاشرے میں رہتے ہیں ۔
    ‎جناب پدرسری کا مطلب ہے ایسا معاشرہ جہاں والد یا گھر کا کوئی مرد خاندان کی نگہداشت کرتا ہے لیکن جدید معاشرے کی خواتین اس کا کچھ یوں مطلب لیتی ہیں ’ایسا معاشرہ جہاں سارے نظام کی باگ ڈور مردوں کے ہاتھ میں ہو اور خواتین کو اس سے دور رکھا جاتا ہو‘۔
    ‎گذشتہ چند برسوں سے خواتین کی ایک بڑی تعداد مارچ میں مارچ پر نکلتی ہے۔ زیادہ تر بڑے شہروں کی خواتین اس مارچ کا حصہ بنتی ہیں اور اسی نعرے کا پرچار کرتی نظر آتی ہیں کہ عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق دیے جائیں اور انہیں کسی بھی صورت مرد حضرات سے کم تر نہ سمجھا جائے۔
    ‎بطور مسلمان اور بطور پاکستانی آپ سب ہم اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ قرآن اور پاکستان کے آئین میں خواتین اور مردوں میں تفریق نہیں۔

    ‎قرآن میں عورتوں اور مردوں کو علیحدہ علیحدہ مخاطب کیا گیا ہے بلکہ ہمیشہ ہی اے ایمان والوں! کہہ کر پکارا گیا۔ اسی طرح ملک کے آئین میں بھی فرد کی بات کی گئی ہے یعنیٰ معاشرے کا ہر فرد عورت اور مرد برابر ہے۔
    ‎اب معاشرے کی بات چل نکلی ہے تو ذرا پاکستانی معاشرے کو بھی سمجھ لیتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں واقعی گھر کا سربراہ مرد ہوتا ہے اور اس کی کفالت میں بیوی بچوں کے علاوہ والدین ہوتے ہیں۔
    ‎وہ ہر دُکھ سُکھ اور خوشی وغم کے موقعے پر خرچہ کرتا ہے۔ اپنی آمدنی کا ایک حصہ خصوصی تقریبات کے لیے صرف کرتا ہے اور جب بیٹی یا بہن کی شادی کرنا ہو تو اپنی حیثیت سے بڑھ کر اور بہت مرتبہ اُدھار کا بھار اُٹھا کر جہیز پورا کرتا ہے۔ ہمیشہ وہ اپنی ذات سے زیادہ اپنے سے منسلک عورتوں پہ خرچ کرتا ہے ۔
    بسا اوقات مرد کو ایک اے ٹی ایم مشین سمجھا جاتا ہے ۔
    ‎اب ذرا گھر کی چار دیواری سے باہر نکل کر حالات پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں خواتین کی نشستیں مخصوص ہیں۔ ان کی عظمت و عزت اور غیرت کے پیش نظر ان کے ساتھ نہ کسی مرد کو بٹھایا جاتا ہے اور نہ ہی خواتین کی طرف سے بیٹھنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
    ‎اگر کسی کمپنی میں شفٹس کی صورت میں نوکری کی جاتی ہے تو نائٹ شفٹ میں صرف مرد حضرات سے ڈیوٹی لی جاتی ہے۔ اگر مزدوری کی بات جائے تو یہ کام بھی صرف مردوں کے ذمے ہے۔
    ‎وطن عزیز کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے بھی آج تک صرف مرد فوجی ہی جان سے گئے۔ ایک بھی نشان حیدر کسی خاتون کو نہیں ملا، اللہ کرے وہ دن بھی آئے کہ ایک نشان فاطمہ کا اعلان کیا جائے اور وطن کی بیٹی کو دیا جائے۔
    اور اگر بات جنسی حراسانی کی آئے تو عورت عورت کارڈ کے نام پہ اگر ہراسمنٹ کا ڈرامہ رچاتی ہے اور پورا معاشرہ بغیر کسی تحقیق اورتفتیش کے اس عورت کے شانہ بشانہ کھڑا ہوتا ہے اور صرف یہی نہیں کبھی کبھار صرف ایڈونچر کے نام پہ لڑکیاں کسی بھی راہ چلتے شخص کی تصویر بنا کر اسے سوشل میڈیا پہ ڈال کر تماشہ دیکھتی ہیں ۔

    بہرحال جب کسی جرم یا گناہ کی بات کی جائے تو ہم شدت پسندی کا تاثر دیتے ہوئے سارے قصور مرد کے زمے لگا کر بری الذمہ ہوجاتے ہیں جبکہ کسی بھی جرم کا تعلق جنس سے نہیں ہوتا ۔ معاشرے میں بری عورتیں بھی موجود ہیں اور مرد بھی لیکن اسی معاشرے میں رہنے والے مرد اور عورت کے کرداد نہایت خوبصورت ہیں ۔ تو کسی بھی ایک برے مرد کی وجہ سے #Allmenaretrash کا ٹرینڈ چلانے والوں کو سمجھنا چاہیے کہ معاشرہ مختلف طرز اور مزاج کے لوگوں سے بنتا ہے جس میں ہر طرح کے لوگ شامل ہوتے ہیں اور یہی ایک معاشرے کی خوبصورتی بھی ہے کہ جہاں اگر ایک مرد ہراس کرتا ہے تو 1 لاکھ مرد آپکی آواز بن کر انصاف کے طلبگار بھی ہوتے ہیں ۔ جب اس آرٹیکل کو لکھتے ہوئے میری میں نے مختلف مردوں کی آرا جانی تو یہ جان کر مجھے بہت خوشی ہوئی اور دکھ بھی کہ مرد کو نہ تو اپنے حقوق کی زیادہ فکر ہے اور نہ ہی انکی جستجو ۔ بہت سے مردوں نے بات کو بس یہ کہہ کر ختم کر دیا کہ ہمیں حقوق نہیں چاہیے بس یہ معاشرہ ہماری محنت اور لگن کو تسلیم کرکے ہمیں عزت دے یہی ہمارے لئے کافی ہے۔ تو عزت اور احترام مرد اور عورت دونوں کی ضرورت بھی ہے اور حق بھی ۔ اس معاشرے کا ایک باشعور فرد ہونے کی حیثیت سے آج یہ عہد کریں کہ ہم ایک متوازن معاشرے کی بنیاد رکھتے ہوئے ہمیشہ جرم اور مجرم کو الزام دیں گے نہ کہ کسی بھی جنس کو ۔<Writer Aqsa Younas


     Aqsa Younas

    Aqsa Younas is a Freelance Journalist Content Writer, Blogger/Columnist and Social Media Activist. He is associated with various leading digital media sites in Pakistan and writes columns on political, international as well as social issues. To find out more about her work on her Twitter account

      

     


    https://twitter.com/AqsaRana890

  • نور  بھی  کسی  گھر  کی  آنکھ  کا  تارا  تھا۔ تحریر:راؤ اویس مہتاب

    نور بھی کسی گھر کی آنکھ کا تارا تھا۔ تحریر:راؤ اویس مہتاب

    آج کل کے ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں انسان کا Exposure اتنا ہو گیا ہے کہ چھ سال کے بچے کو آج اتنا پتا ہے جو ساٹھ سال کے بزرگ کو نہیں پتا اور ہر لمحہ خبر اور دنیا میں پے در پے ہونے والی زیادتی کی خبروں نے اس حد تک ناظرین کے دماغوں کو بے حس کر دیا ہے کہ اللہ کی پناہ۔۔ کوئی بھی واقعہ ہوتا ہے۔ ہم اسے کے بارے میں ایک لمحہ سوچتے ہیں اور پھر آگے چل پڑتے ہیں۔ نور مقدم کیس کے حوالے سے کئی اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
    لیکن ان انکشافات پر روشنی ڈالنے سے پہلے میں تھوڑا سا آپ کے ضمیر کو جھنجوڑنا چاہتا ہوں۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں نور مقد م صرف ایک کیس نہیں ہے بلکہ ایک جیتی جاگتی اور ہنستی کھیلتی لڑکی کا نام تھا۔ لوگ کہتے ہیں نور مقدم کیس پر تو مٹی ڈل گئی ہے۔ عائشہ کا کیس آگیا ہے، لاری اڈا چنگچی والا واقعہ پیش آ چکا ہے۔وہاڑی سے آنے والی ماں اور بیٹی کی لاہور میں دن دیہاڑے آبرو ریزی ہو چکی ہے۔
    اب تو یہ کیس پرانا ہو گیا ہے۔ نہیں نور مقدم کا کیس اس وقت تک پرانا نہیں ہو گا جب تک ظالم درندے کو پھانسی اور اس کے سہولت کاروں کو سزا نہیں ہو جاتی۔ اس ظالم درندے کو کس نے اتنی ہمت دی کہ اس نے ایک معصوم کا سر تن سے جدا کر دیا۔ کس کی شہ پر ، کس طاقت کے نشے میں وہ اتنا مطلق العنان سوچ کا مالک ہو گیا تھا کہ اس نے ایک بچی کو ذبحہ کر ڈالا۔ کیا اس نے ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں سوچا ہو گا کہ وہ اسے قتل کرنے کے بعد کیسے اس صورتحال سے نکلے گا۔ وہ کیسے اپنے آپ کو پھانسی کے پھندے سے بچائے گا۔ یقینا سوچا ہو گا لیکن پھر اس نے یہ بھی سوچا ہو گا کہ میرے بابا اسے سنبھال لیں گے۔ ان کے پاس ایسے لوگ ہیں جو لاش کو ٹھکانے لگانے کی کابلیت رکھتے ہیں۔ اس لیے کوئی مسئلہ نہیں میں نور کو ختم کر کے اپنے انتقام کی آگ بجھاوں گا۔ اس نے ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں سوچا کہ نور بھی کسی گھر کی آنکھ کا تارا تھا۔ گھر میں سب سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے وہ سب کی لاڈلی تھی ۔
    23 october کو یعنی قتل کے تین ماہ بعد جب اس کی سالگرہ اآئے گی تو اسکے گھر والے اور دوست اسے یاد کر کے کتنا روٴیں گے۔ وہ نور مقدم جو جہاں جاتی تھی اپنی ملنساری سے دل جیت لیتی تھی۔وہ نور مقدم جو اپنی ماں کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا اپنے دوستوں کے لیے شوق سے لے جاتی تھی۔وہ نور مقدم جو ہر روز اپنے والد کو پھل کاٹ کر دیتی تھی۔وہ نور مقدم جو مہمان آنے کی صورت میں آپنی ماں کی مدد کرتی تھی۔وہ نور مقدم جو اآپنے والدیں کے ساتھ ہر رشتے دار کے گھر جاتی تھی۔وہ نور مقدم جو اپنی بڑی بہن سے آٹھ نو سال چھوٹی ہونے کے باوجود اس کی بہترین دوست تھی وہ نور مقدم جو اپنے بھانجے کی بہترین دوست تھی اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کے لیے، کئی کئی گھنٹے اس کے ساتھ کھیلتی تھی۔وہ نور مقدم جو دنیا بھر میں گھومنے کے باوجود پاکستان سے پیار کرتی تھی اور پاکستان میں رہنا چاہتی تھی اور بیرون ملک اپنے رشتہ داروں کو بھی پاکستان میں رہنے کی ترغیب دیتی تھی۔وہ نور مقدم جسے پینٹنگ کا شوق تھا اور اس کے ہاتھ سے بنائی ہوئی پینٹنگ آج بھی اس کے گھر میں لگی ہوئی ہیں۔وہ نور مقدم جو کسی کو بھی دکھی دیکھ کر غمگین ہو جاتی تھی اور دوسروں کو Comfortable کرنے کی کوشش کرتی تھی۔ اور یہی چیز اس کی جان لے گئی۔
    ایک منٹ کے لیے رکیں اور سوچین نور کی کتنی عادتیں ہماری بیٹیوں سے مشترک تھی اگر آپ ایک دفعہ بھی نور سے ملے ہوتے تو آپ کو نور میں اپنی بیٹی نظر آتی۔۔کیا ہم اپنی بیٹی کے قاتلوں کو اس طرح نظر انداز کر سکتے ہیں۔ نہیں بلکل نہیں۔نور قدم کیس کے حوالے سے میں مسلسل آپ کو اپ ڈیٹ دیتا آرہا ہوں۔
    اورہر روز ایک نئی گتھی جہاں سلجھتی ہے وہاں کئی گتھیاں الجھ جاتی ہیں۔اس وقت نور مقدم کیس میں درندے ظاہر جعفر اس کے والدین، تین نوکر سمیت پانچ اہلکار تھراپی ورکس کے اور چھٹا مالک گرفتار ہے۔بائیس سے زائد لوگوں کے بیانات قلم بند کروائے جا چکے ہیں۔ DNAFinger prints سمیت کئی فرانزک آچکے ہیں جبکہ لیپ ٹاپ کا فرانزک بقایا ہے۔ آج نور مقدم کو قتل ہوئے ایک ماہ سے زائد کا وقت گزر چکا ہے لیکن بدقسمتی سے درندے ظاہر جعفر کے فون کے ڈیٹا کا کچھ اتا پتا نہیں آخری اطلاع کے مطابق وہ ایف آئی اے کے حوالے کیا جا چکا ہے اور اس کی سکرین ٹوٹی ہوئی ہے۔
    ظاہر جعفر کے والدین کی ضمانت ایک دفعہ ریجکٹ ہو چکی ہے اور دوسری دفعہ کے لیے وہ مناسب وقت کے انتظار میں ہیں ۔ وہ اس وقت کے انتظار میں ہیں کہ قوم اس بچی کو بھولے اور وہ کرپٹ سسٹم کو اپنی مرضی کے مطابق گھمائیں۔اور تو اور تھراپی ورکس کا مالک طاہر ظہور اب معصوم بننے کی کوشش کر رہا ہے
    وہ کہتا ہے کہ میں تو موقعہ واردات پر گیا ہی نہیں، میں تو معصوم ہوں۔ میری عمر 73 سال ہے اور میں شوگر، دل اور کڈنی کے امراض میں مبتلا ہوں۔ کوئی اس ظالم آدمی سے پوچھے کے ایک تہتر سال کے بوڑھے کو پارٹیاں کروانا زیب دیتا ہے۔ایک تہتر سال کے بوڑھے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ لاش کو ٹھکانے لگانے کے لیے اپنے ملازم بھجوائے۔کیا ایک تہتر سال کے بوڑھے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ قتل کا پتا چلنے کے باوجود حقائق کو پولیس سے چھپائے۔کیا ایک تہتر سال کے بوڑھے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اپنے ملازم امجد پر مجرم کے حملوں کو روڈ ایکسیڈینٹ بنا دے۔ کیا ایک تہتر سال کے بوڑھے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ ڈگر ی نہ ہونے کے باوجود۔ جعلی تھراپی ورکس چلائے اور لوگوں کے بچوں کے علاج کی بجائے انہیں مزید عذاب میں مبتلا کروا دے۔ یہ پاکستان میں اشرافیہ کا وطیرہ ہے ظلم کرتے ہیں زیادتیاں کرتے ہیں ، ملک کی دولت لوٹتے ہیں اور جب قانون کا شکنجہ گردن پر پڑتا ہے تو فورا معصوم بن جاتے ہیں۔تھراپی ورکس کے مالک طاہر کے وکیل فرماتے ہیں کہ میرے موکل کا نام ایف آئی آر میں نہیں تھا اور نہ ہی انہوں نے ایسا جرم کیا ہے کہ انہیں جیل میں رکھا جائے۔
    واہ کیا بات ہے۔۔۔ سبحان تیری قدرت
    لاشیں ٹھکانے لگانے والے آج اپنا جرم پوچھ رہے ہیں ، قاتل درندے کو مشکل صورتحال سے نکالنے والے اپنا جرم پوچھ رہے ہیں۔ حقائق کو مسخ کرنے اور چھپانے والے اپنا جرم پوچھ رہے ہیں۔اور تو اور زخمی امجد جو تھراپی روکس کے لیے کام کرتا ہے، اور قاتل اور مقتول کو سب سے پہلے دیکھتا ہے۔فرماتا ہے کہ وہ اس کیس کا سب سے بہترین گواہ ہے۔
    اسی نے پولیس کو فون کر کے بتایا۔۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک کسی کو پتا ہی نہیں چلا کہ فون کس نے کیا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بتانے والے نے اپنی شناخت چھپانے کی درخواست کی تھی۔ ورنہ پولیس کو اطلاع دینے والوں کے تو فون نمبر سے لے کر شناختی کارڈ تک کا پوچھ لیا جاتا ہے۔ اور جو شخص یہ دعوی کر رہا ہے کہ اس نے پولیس کو بتایا وہی ہسپتال میں اپنے زخمی ہونے کی وجوہات چھپا رہا ہے۔ وہی کہہ رہا ہے کہ میرا روڈ ایکسیڈینٹ ہوا ہے۔ اس وقت کیوں اس نے یہاں تک کہ ہسپتال سے حقائق چھپائے تاکہ اسے شامل تفتیش کر کے کہیں ظالم درندے کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے۔ امجد پر یقینا طاہر کا پریشر ہو گا کہ وہ حقائق چھپائے تاکہ اس کے کلائنٹ پر کوئی مشکل نہ اآئے۔ اور بات یہ ہے کہ اگر امجد کو گواہ بنا لیا گیا۔ جو اب تک ان کا کردار رہا ہے اگر اس نے آگے جا کر یہ کہہ دیا کہ وہاں ظاہر کے علاوہ بھی نقاب پوش لوگ تھے۔ اور وہ کھڑکی سے بھاگ گئے تو سارا کیس وہیں تباہ ہو جائے گا۔
    کہ نور مقدم کیس کے چشم دید گواہ نے جو دیکھا وہ بتا دیا اور کیس کا رخ ہی تبدیل ہو گیا۔ اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ کسی بھی صورت حقائق چھپانے والوں کو معاف نہیں کرنا چاہیے۔
    طاہر کا کردار اس کیس میں بہت اہم ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر قاتل درندے کا وٹس ایپ ڈیٹا ریکور کر لیا جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ اور ہر وٹس ایپ اکاونٹ کا
    Back up
    بھی ہوتا ہے جسے بڑے آرام سے فون نمبر کی مدد سے کسی بھی فون پر ریکور کیا جا سکتا ہے۔ اگر پولیس یہ کرنے میں ناکام رہی جو کہ بہت ہی آسان کام ہے تو سمجھ لیں کہ کافی لوگوں کو بچالیا گیا ہے۔
    تھراپی ورکس کے بارے میں میں واحد شخص نہیں ہوں جو تشویش میں مبتلا ہو اس جعلی ڈاکٹر کو لوگ جھولیاں اٹھا اٹھا کر بد دعا ئیں دے رہے ہیں۔ اور کئی نے تو اس کے خلاف کیس بھی کیا ہوا ہے۔ایک بلکل اسی طرح کا کیسTherapy Works & Tahir Zahoor Ahmed کے خلاف Dec 2020میں کیا گیا Civil Suit 1080/20
    تھا جو Sr. Civil Judge South, Karachi کی عدالت میں آج بھی پینڈنگ پڑا ہے۔ اور رہی بات تھراپی ورکس کے جعلی این او سی کی۔ یہاں پر نہ صرف مریضوں کو لوٹا جاتا ہے بلکہ طالب علموں کو بھی چونا لگایا جاتا ہے۔ جو لوگ بھی یہاں سے بھاری معاوضہ دے کر کو رس کرتے ہیں انہیں شائد ہی کبھی سرٹیفیکیٹ ملا ہو۔

  • افغانستان  کیسے  دنیا  کا  امیر  ترین  ملک بن سکتا ؟ تحریر: راؤ اویس مہتاب

    افغانستان کیسے دنیا کا امیر ترین ملک بن سکتا ؟ تحریر: راؤ اویس مہتاب

    آج کی اس تحریر میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ افغانستان کیسے دنیا کا امیر ترین ملک اور پاکستان کیسے دنیا کی سب سے اہم منڈی بن سکتا ہے۔ جبکہ چین کیوں امریکہ کی حماقتوں پر خوش ہے اور آنے والے دن کیسے اس خطے کی قسمت بدلنے والے ہیں۔ افغانستان کے بارے میں جو بات ہم بار بار سنتے ہیں وہ یہ ہے کہ افغانستان سپر پاورز کا قبرستان ہے۔ لیکن اس کے علاوہ بھی افغانستان کے حوالے سے کئی چیزیں بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ اس وقت چین امریکی صدر بائیڈن کے غلط فیصلوں پر قہقے لگا رہا ہے۔ جہاں بھارت یہ شور مچا رہا ہے کہ پاکستان اس جنگ میں سب سے بڑا فاتح ہے وہاں دنیا کے بڑے معاشی ملک یہ کہہ رہے ہیں کہ چین طالبان کے زیر قبضہ دولت کو استعمال کر کے اپنی طاقت میں حیران کن اضافہ کر سکتا ہے۔کیا آپ کو پتا ہے کہ امریکہ سمیت یورپ میں 2030 کے بعد شائد ہی کوئی ایسی گاڑی ہو جو الیکٹرک نہ ہو اور پٹرول سے چلتی ہو اس کی وجہبڑھتی ہوئی Pollution سمیت ماحولیات سے دنیا کو لاحق خطرات سے نبٹنا ہے اور جب دنیا کی سب گاڑیاں خاص طور پر مغربی ممالک اور ترقی یافتہ ممالک میں الیکٹرک ہو جائیں گی تو انہیں چلانے کے لیے پٹرول کی بجائے۔ طاقتور بیٹریوں کی ضرورت ہو گی۔
    آج گاڑی چلانے کے لیے جتنا اہم سعودی عرب کا پٹرول ہے دس سال بعد وہ اہمیت بیٹریاں بنانے والی دھاتیں لے لیں گی۔

    اور دھات وہ چیز ہے جسے فیکٹریوں میں نہیں بنایا جا سکتا بلکہ معدنیات کے طور پر زمین سے نکالا جاتا ہے۔ بیٹری ایک دھات لیتھیم سے بنتی ہے ۔ اور دنیا بھر میں لیتھیم کی ڈیمانڈ میں دوہزار چالیس تک چالیس گنا اضافہ ہو جائے گا۔clean energy technologiesکے لیے جن اہم منرلز کی ضرورت ہےاس میں Solar PV
    اور Electricity networks بنانے کے لیے کاپر، ایلومینیم جبکہ EVs and battery storage کے لیئے کاپر، نکل کوبالٹ،لیتھیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ معدنیات آج کی ماڈرن انڈسٹری کی Backbone ہیں۔کیا آپ کو پتا ہے کہ پینٹا گون کی ایک اسٹڈی کے مطابق افغانستان کے چونتیس میں سے صرف ایک صوبے غزنی میں$1 trillion
    کےuntapped mineral depositsموجود ہیں۔جبکہ اس سے پہلے ہونے والی اسٹڈیز کے مطابق افغانستان میںiron, copper, cobalt, goldاور دیگر ایسے منرل جس میں
    Lithiumبھی شامل ہے کے بڑے خزانے ہیں۔ جو آج کی ماڈرن انڈسٹری کے لیے ضروری ہیں اور یہی چیز افغانستان کو دنیا کے سب سے اہم Mining centers
    میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ یہ ماننا ہے امریکی حکام کا۔۔پینٹا گان کے Internal memo کے مطابقافغانستان لیتھیم کا سعودی عرب ہے۔ یعنی جتنا تیل سعودی عرب میں ہے اتنا لتھیم افغانستان میں ہے اور لیتھیم کے دنیا کے سب سے بڑے ذخائر افغانستان میں موجود ہیں۔ جو موبائل فون، ٹیبلٹس، لیپ ٹاپ، کیمروں، ڈرونز اور دوسری ڈیوائسز کی بیٹریز کے علاوہ الیکٹرک کارز کی ری چارج ایبل بیٹریز کا بھی لازمی جزو ہے۔جو آج دنیا میں ختم ہو جائیں تو دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں کا کام ٹھپ ہو جائے۔ اور افغانستان میں تیس کھرب ڈالر سے زائد کی یہ معدنیات موجود ہیں۔ جبکہ بہت سی جگہیں افغانستان میں بد امنی اور دیگر وجوہات کی بنا پر آج تکExplore ہی نہیں ہو سکی۔جیسے تیل سے مشرقِ وسطیٰ کی معیشت دیکھتے ہی دیکھتے بدل گئی ویسے ہی معدنیات سے مالامال ملک ان سے فائدہ اٹھا کر اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں۔جبکہ افغانستان میں یہ معدنیات اتنی بہتات میں موجود ہیں کہ یہ دنیا بھر کی انویسٹمنٹ کمنیوں کو اپنی طرف راغب کر سکتی ہیں اور وہاں نسلوں سے جنگیں لڑنے والے نوکریاں ملنے کی صورت میں اپنی قسمت بدل سکتے ہیں۔
    لیکن اس وقت امریکہ کی صورتحال دیکھ کر چینی حکام یقینا قہقے لگا رہے ہوں گے۔ کہ امریکہ نے بیس سال میں ٹریلین ڈالر لگا کر ہزاروں فوجیوں کی قربانی دے کر کیا پایا۔جبکہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ چین جو روڈ نیٹ ورکس بنانے کا ماہر ہے، افغانستان میں کابل سے اسلام آباد تک روڈ کا منصوبہ تیار کیے بیٹھا ہے، کاپر کی مائننگ کا بڑا کنٹریکٹ وہ کرزئی حکومت کے دور میں لے چکا ہے جبکہ لیتھیم کی مائننگ کے منصوبے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ چین، روس اور پاکستان پر طالبان کی مدد کا الزام ہے جبکہ چین اور پاکستان کے آپس میں تعلقات بھی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اس لیے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ چین طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان کی دولت سے مستفید ہو سکتا ہے۔ وہ افغانستان سے مزید Copper, cobalt اور سونا بھی نکالنے کی منصوبہ بندی کیے بیٹھا ہے تو امریکہ کو کیا ملا۔ امریکہ کی انڈسٹری اب کیسے Survive کرے گی جبکہ چین افریکہ میں بھی معدنیات کے بڑے منصوبے شروع کر کے بیشتر افریکی ممالک کو اپنے ہاتھ میں کر چکا ہے۔دنیا کو سمجھ نہیں آرہی کہ بائیڈن نے یہ کیا کیا ہے اور یہ امریکہ کی ایک Major strategic failure ہے۔ افغانستان کو اس وقت انفرا سٹرکچر کی ضرورت ہے جبکہ چین کو بھی اپنے روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے کے لیے افغانستان میں انفرا سٹرکچر بلڈ کرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں کی ضرورتیں بھی ایک ہیں اور دوستی بھی۔چین کے پاس یہ قابلیت ہے کہ و ہ ایک سال میں 100 coal power plant تیار کر سکتا ہے لیکن اس کے لیے اسے Raw material کی ضرورت ہے جو اب وہ افغانستان سے حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ امریکہ طالبان سے کیا حاصل کر سکتا ہے۔

    امریکہ کی منصوبہ بندی تھی کہ اس خطے میں امن قائم نہ ہو تاکہ چین یہاں پر اپنا کام نہ کر سکے اسی لیے اس نے ایک طرف طالبان سے معاہدہ کر کے نکلنے کا منصوبہ بنا لیا تو دوسری طرف افغان فورسز کو لڑائی کے لیے نہ صرف تیار بلکہ اکساتا رہا ۔ لیکن افغانستان کے ہمسایہ ممالک نے امریکہ کی اس چال کو الٹ کے رکھ دیا۔ اب طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان میں اگر امن قائم ہوتا ہے تو چین اس سے سب سے زیادہ مستفید ہو سکتا ہے۔
    دوہزار دس کی ہی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 420 ارب ڈالر مالیت کا لوہا270 ارب ڈالر مالیت کا تانبہ بھی موجود ہے۔ جبکہ افغانستان کی جی ڈی پی بارہ بلین ڈالر کے قریب ہے۔ افغانستان میں غیر قانونی کان کنی پہلے ہی زوروں پر ہے،2001 کے بعد سے افغان حکومت کو مقامی سرداروں اور وار لارڈز کی جانب سے 30 کروڑ ڈالر سالانہ کا نقصان ہو رہا تھا۔ جب امریکہ نے دوہزار ایک میں افغانستان پر حملہ کیا تو اس وقت بھی افغانستان کے صوبے لوگر میں چین ایک تانبہ کی کان میںMining کر رہا تھا۔ صرف اسی کان میں تانبہ کی مالیت کا اندازہ لگایا جائے تو وہ پچاس بلین ڈالر سے زائد ہے۔لیکن میں یہ ویڈیو کرتے ہوئے مسلسل یہ سوچ رہا ہوں کہ پاکستان کو اس کا کیا فائدہ ۔۔۔۔ طالبان کے بعد اگر کوئی دوسرا گروپ یا ملک اگر اس فتح کا کریڈٹ لینے کا مستحق ہے تو وہ پاکستان ہے۔ اگر سب کچھ چین ہی لے جائے گا تو پاکستان کو اتنی قربانیاں دینے کا کیا فائدہ ہو گا۔ پاکستان کے پاس بلوچستان میں معدنی ذخائر نکالنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے تو افغانستان میں کیا کرے گا۔ کیا پاکستان صرف اپنی راہداری، گوادر اور سی پیک سے ہی مستفید ہو پائے گا۔ کیا پاکستان معدنیات کی منڈی نہیں بن سکتا۔چین کے پاس افغانستان پہنچنے کا پاکستان کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ افغانستان سے چین کی سرحد ایک برفانی اور پہاڑی علاقہ پر ہے جہاں سفر کرنا بہت مشکل اور مہنگا پڑتاہے۔
    افغانستان کے صوبہ بدخشان کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے مویشی پالتے ہیں اور وہاں تاجر ٹرکوں پر کھانے پینے کی چیزیں اور آٹا لے جاتے ہیں اور اس کے بدلے میں ان کے مویشی خرید لاتے ہیں۔ اس روٹ پر ایک چکر کم از کم پندرہ دنوں میں مکمل ہوتا ہے۔ اور یہ صرف گرمیوں میں ہی ممکن ہوتا ہے۔تو پاکستان چین کے پاس واحد روستہ ہے اپنی چیزوں کو دنیا کی منڈیوں تک پہنچانے کا۔لیکن میرا سوال یہ ہے کہ ہم ساری زندگی اپنی جغرافیائی اہمیت سے فائدہ اٹھانے کے علاوہ بھی کچھ کر پائیں گے۔
    بہر حال افغانستان میں امن پاکستان کو سینٹرل ایشیا سمیت پورے رجن کا تجارتی مرکز بنا دے گا، پاکستان کے لیے وسطی ایشیا کا توانائی سے مالامال علاقہ بھی کھل جائے گا۔
    لیکن طالبان کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ اس کے لیے امن سمیت سرمایہ کاری کے لیےPerfect
    ماحول فراہم کرنا پڑے گا۔ پاکستان اور افغانستان کے حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے لیکن پاکستان اس کے باوجود بلوچستان کی معدنیات سے مستفید نہیں ہو پا رہا۔ افغانستان کی معدنیات بھی ایک بٹن دبانے سے باہر نہیں آجائیں گی۔ بلکہ اس کے لیے دنیا کی بہترین کمپنیوں سے بہتریں کان کنوں کی ضرورت ہو گی۔ جبکہ شفاف کنٹریکٹس اور ممالک کے ساتھ معاہدے بھی ایک بڑا امتحان ہو گا۔
    جبکہ اس وقت ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ افغانستان میں امن قائم ہو چکا ہے اور طالبان نے افغانستان پر قبضہ کر لیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان پر قبضہ کرنا آسان اور اسے MAINTAINکرنا مشکل ہے۔ افغانستان کے تمام وار لارڈز ہمسایہ ممالک میں پناہ لے چکے ہیں ان کی طاقت ابھی تک موجود ہے، اگر طالبان نے انہیں حکومت میں جائز حق دے کر قومی حکومت نہ بنائی تو افغانستان میں امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو پائے گا۔

  • آج کل کے نوجوانوں میں باغی پن کیوں؟ تحریر:صائمہ رحمان

    آج کل کے نوجوانوں میں باغی پن کیوں؟ تحریر:صائمہ رحمان

    جب انسان جوان ہوتا ہے تو اس وقت نوجوانوں میں قویٰ مضبوط، اور حوصلے بُلند ہوتے ہیں، ان کو سب کچھ اچھا نظر آتا ہے ان کےاندر اچھے برے کی تمیز نہیں ہوتی وہ دماغ سے کم اور دل سے کام لیتے ہیں ۔ وہ پہاڑوں سے ٹکرانے کے لئے پرعزم ہوتا ہے اپنی من مانی کرتے ہیں لیکن جب ان کے راستے تبدیل کیے جاتے ہیں تو ہجانی کفیت کا شکار ہو جاتے ہیں اور پھراس کا رَدِعمل نظر آنے لگتا ہے جو ان کے لئے اور والدین کے لئے مسئلے کا باعث بنتا ہے نوعمروں میں ذہنی صحت کے مسائل عام سوچنے سے کہیں زیادہ عام ہیں آج کا نوجوان باغی ہیں۔
    ہمارے معاشرے میں دو قسم کے نوجوان موجود ہیں ایک وہ جو امیر ہیں جواپنی موج مستی میں مست، اپنی مرضی کرتے من پسند کام کوئی روکے ٹوکنے والا نہیں دُوسرا طبقہ متوسط اور غریب نوجوانوں کا ہے جو محنت سے پڑھتے ہیں اور ایک میانہ روی اختیار کرتے ہیں اور اپنی زندگی میں متوازن رکھتے لیکن کبھی ان نوجوان کے اندر باغیانہ رویّہ اُبھارنے لگتا ہے ۔ نوجوان من چاہی خواہشات ابھرنے لگتی ہیں

    برہم ہوتے غصہ کرتے غلط قدم اٹھاتے ہیں اور اس کے بعد شدید اضطرابی کیفیت کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں جو ان کی زندگی میں بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں اور پھر بغاوت کی طرف چل بڑھتے ہیں اپنی کچھ ماہرِ نفسیات، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والےماہر سے پوچھا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ آج کا نوجوان باغی اس لئے اس کے پیچھے بہت سے بہت سے عوامل کار فرما ہیں اور ایسے حالات ہیں جو ان کو باغی بننے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
    آج کے نوجوانوں یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو لگتا ہے کہ ان کو کوئی سمجھتا نہیں، نا کوئی سنتا ہے وہ سمجھتے ہیں جو وہ کہے رہے ہیں وہ ٹھیک ہے باقی جو ان کوسمجھا رہے ہیں ان کو برا سمجھنے لگتے ہیں جسے کہ وہ ان کے دشمن ہوں۔ پھران کے اندر غصّے کے جذبات اُبھارنے لگتے ہیں، بالآخر وہ بغاوت پر اُتر ہی آتے ہیں۔ اور اپنے جذباتی قدم سے اپنا نقصان کر بیٹھتے ہیں۔

    نوجوان نسل معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں جو آںے والے یہ نوجوانوں ملک کامستقبل بننے ہیں نوجوان کسی بھی ملک کی معاشی، اقتصادی اور سماجی فلاح و بہبود و ترقّی میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ جب نوجوان پڑھ لکھ کر نکلتے ہیں تو ان کی آنکھوں میں کئی خواب ہوتے ہیں ہم یہ کرے گئے وہ کریں گے پہلا خواب تو اچھی ملازمت حاصل کرنے کا ہوتا ہے جس کے لیے وہ جگہ جگہ انٹرویو دیتے ہیں، کچھ جگہوں پر ناکامی دیکھنی پڑتی ہے جس کے باعث وہ فرسٹریشن اور ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں اور پھر یہ کیفیت ان کو غلط صیحح کا فیصلہ نہیں کر پاتے اور باغی پن کا شکار ہوتے ہیں۔ نوجوانوں کی تربیت میں والدین کے ساتھ ساتھ استاتذہ بہت اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ اس عمر کے نوجوان والدین سے زیادہ اپنے استاتذہ کی سنتے اور کچھ تو اپنے استاتذہ کی عادتوں کو اپناتے ہیں اور ان کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں ۔

    والدین کو چاہییے ایسے نوجوانوں پر خاص توجہ دیں ایک طریقے سے ان ہو ہیڈل کرے جتنا ہو سکے ان عمر کے نوجوانوں کے ساتھ ٹایم گذارے تاکہ ان کو ان سیکورٹی محسوس نا ہو اور اپنی بتاوں کو شئیر کرے ان کو اپنا دوست بنائے ۔

    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6

  • افغانستان، عالمی طاقتیں اور نیا اکھاڑہ .تحریر: ارشد محمود

    افغانستان میں آخر کار وہ کام شروع ہوچکا ہے جس کا اندیشہ تھا اور میرے جیسے کچھ لوگ اس کا دبے لفظوں میں اظہار بھی کرچکے تھے ۔ آسان فتح اپنے پیچھے ہولناکی بھی لاتی ہے ۔ امریکا و دیگر عالمی طاقتوں نے جب دیکھا کہ ان کی تربیت یافتہ افغان فوج مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور پنج شیر میں بھی دوسرا گروپ حاوی ہوچکا ہے تو انھوں نے مبینہ طور پر اپنا وہ گروپ میدان میں اتار دیا ہے جس نے شام میں بالکل اس وقت اپنا آپ دکھا کر پانسہ پلٹ کر رکھ دیا تھا جب اسلام قوتیں کام یاب ہورہی تھیں ۔ وہاں پر بھی جب یہ طاقتیں ناکام ہوئیں تو انھوں نے داعش نامی بدنام زمانہ دہشت گرد جماعت کو میدان میں اتار کر مسلمانوں کے خون کو مزید ارزاں کردیا ۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ داعش تو اپنے آپ کو اسلامی جماعت گردانتے ہیں اور علی الاعلان دعویٰ بھی یہی ہوتا ہے تو عرض صرف اتنی ہے کہ آپ کا مطالعہ جہاں کم ہے وہی آپ کی غور وخوض کرنے کی قابلیت بھی قدرے کم ہی ہے ۔ بہرحال اس وقت افغانستان سے عالمی طاقتیں اپنے افراد بڑی تیزی سے نکال کر افغانستان کو ایک نیا اکھاڑہ بنانے کی کوشش میں مصروف ہوچکی ہیں ۔

    خبروں کے مطابق کابل ائیرپورٹ پر 2 خودکش دھماکوں میں بچوں ، خواتیں اور 13 امریکی فوجیوں سمیت 60 کے قریب افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اور اس کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی ہے ۔ معلومات کے مطابق ایک دھماکہ ایئرپورٹ کے سامنے ہوٹل کے قریب ہوا۔ ہوٹل میں زیادہ تر برطانوی اہلکار ٹھہرے ہوئے ہیں۔ دھماکے کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ دوسرا دھماکہ ایئرپورٹ گیٹ کے سامنے ہوا۔ ہدف کابل ایئرپورٹ کے باہر جمع لوگ تھے۔ عرب میڈیا کے مطابق طالبان نے ایئرپورٹ کے اطراف میں سکیورٹی سخت کردی اور لوگوں کو منتشر کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ بھی کی۔ ائیر پورٹ پر دھماکے کے بعد زخمیوں کو ریڑھیوں پر ہسپتال لے جایا گیا۔ ترجمان افغان طالبان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ امارت اسلامیہ کابل ایئرپورٹ پر شہریوں پر بمباری کی مذمت کرتی ہے۔ دھماکے کے مقام کی سکیورٹی امریکی افواج کے ہاتھ میں تھی۔ شرپسند حلقوں کو سختی سے روکا جائے گا۔ ترجمان طالبان نے کہا کہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔ کابل دھماکوں کی تحقیقات کا حکم اور خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے۔ کابل ہسپتال ایمرجنسی کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ دھماکوں کے 60 کے قریب زخمیوں کو لایا گیا ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی حکام کو یقین ہے کہ ایئرپورٹ حملے میں داعش خراسان گروپ کا ہاتھ ہے۔ امریکی سینٹ حکام کمانڈر جنرل میکنزی نے کہا ہے کہ کابل دھماکوں میں 12 امریکی اہلکار ہلاک اور 15زخمی ہو گئے۔ کابل ائرپورٹ پر حملے کے باوجود انخلاء آپریشن جاری رہے گا۔ حملے کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ترجمان پینٹاگون جان کربی کے مطابق کابل ایئرپورٹ کے باہر دو دھماکے ہوئے۔ کابل ائرپورٹ کے ایبے گیٹ پر دھماکہ کمپلکس اٹیک کا نتیجہ تھا۔ دھماکے میں امریکی فوجی اور عام شہری دونوں ہلاک ہوئے ہیں۔ کابل ائرپورٹ سے اڑنے والے اطالوی فوجی طیارے پر فائرنگ کی گئی۔ کوئی نقصان نہیں ہوا۔ سربراہ نیٹو نے کہا ہے کہ اتحادی افواج ترجیحی بنیادوں پر کابل سے انخلاء کا عمل جاری رکھیں۔ پاکستان نے کل ایئرپورٹ دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کرتا ہے۔ متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا گو ہیں۔ بچوں سمیت قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کی اطلاع ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف کا کابل دھماکوں میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار بچوں سمیت دیگر افراد کی جان لئے جانے کے دلخراش واقعہ پر بے حد افسوس ہے۔ قائد حزب اختلاف کا متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار، زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ طالبان حکام نے داعش کی طرف سے ایئرپورٹ کے علاقے میں خودکش حملوں کا خطرہ ظاہر کیا تھا۔ علاوہ ازیں ڈیڈ لائن ختم ہونے میں 5 روز باقی، افغانستان سے امریکی انخلا میں تیزی آگئی، 24 گھنٹے کے دوران 19 ہزار افراد کو نکال لیا گیا۔ امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا نے افغانستان میں موجود اپنے شہریوں کو خبردار کیا تھا کہ کابل کے ہوائی اڈے پر دہشت گرد حملے کے خطرے کے پیش نظر وہاں جانے سے گریز کریں۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ طالبان نے 31 اگست کو انخلا کی آخری تاریخ کے بعد بھی امریکی شہریوں اور خطرے سے دوچار افغانوں کو ملک چھوڑنے کی اجازت دینے کا وعدہ کیا ہے۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق ترک فضائیہ نے اپنے 345 فوجیوں کو اسلام آباد منتقل کیا۔ قندھار ایئرپورٹ بین الاقوامی پروازوں کیلئے کھول دیا گیا۔ غیرملکی پاسپورٹوں پر طالبان نے اسلامی امارات کی مہر لگائی۔ فرانس اور نیدرلینڈز کابل ایئرپورٹ سے اپنے شہریوں کے انخلاء کا آپریشن آج بند کردیں گے۔ بیلجیم نے اپنے تمام شہریوں کو افغانستان سے نکال لیا۔ حکومت بیلجیم نے کہا ہے کہ بدھ کو آخری 5 فلائٹس کابل اور اسلام آباد کے درمیان چلائی گئیں۔ یورپین کمشن نے کہا ہے کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک کو مہاجرین کیلئے سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ پاکستان سے بات چیت مہاجرین کی ممکنہ آمد کی تیاری کیلئے ہے۔رات گئے امریکی کماندر نے تصدیق کی ایئرپورٹ پر ہونے والے دونوں دھماکے خودکش تھے۔

    یہ ایک پہلا قدم ہے جو داعش کے نام پر اٹھایا گیا ہے ۔ اس کے بعد تسلسل سے یہ کام ہوتا رہے گا ۔ عالمی طاقتیں اس وقت کوشش میں ہیں کہ ان کے افراد زیادہ سے زیادہ افغانستان سے نکل سکیں ۔ یاد رہے کہ مکمل نہیں نکالے جائیں گے بلکہ چند ایک گم نام و غیر معروف افراد کو رہنے دیا جائے گا اور پھر آنے والے دنوں میں اسی طرح کے خود کش دھماکے ہوں گے اور طالبان کی شکل و صورت اختیار کرکے گھناؤنا کھیل کھیل کر انھیں بدنام کیا جاے گا۔ یہ ان کا پرانا وتیرہ ہے ۔ پاکستان پر پھر سے ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوچکی ہے ۔ اسے جہاں پاکستانی سرحدوں کو محفوظ رکھنا ہے وہی پر افغانستان میں داعش کو پاوں جمانے نہ دینا بھی اس کا سردرد ہوگا ۔ افغانستان میں داعش کا مطلب ہے کہ بھارت اسرائیل و امریکا ہمیں پھر سے گھیر کر بیٹھ جائیں ۔ کشمیر میں بھی تحریک آزادی کو اس سے دھچکا لگ سکتا ہے ۔ یہ میرا اپنا تجزیہ اور خیالات ہیں جو میں اپنی معلومات کے سہارے الفاظ میں ڈھال رہا ہوں ۔ داعش اور دیگر گروہوں کو طالبان کی حکومت کے خلاف استعمال کیا جاے گا اور ایک لمبی پراکسی وار کا کام شروع ہوگا ۔ طاقتوں کا پلڑا بے شک طالبان کا بھاری ہوگا لیکن اندرون خانہ حمایت دیگر گروہوں کی بھی ہوگی ۔ اس سب میں طالبان کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ انھیں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہوگا اور احتیاط سے مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اپنے پتے واضح کرنے ہوں گے۔ ایک بڑی اور لمبی جنگ پھر سے افغانستان کے دروازے پر کھڑی ہے جس میں افغانیوں کو ہی افغانیوں سے لڑوا کر اپنے مفادات کو سمیٹا جاے گا اور مزید ہولناکی کے لیے داعش کو بھی داخل کردیا گیا ہے ۔

  • ہماری قومی زبان اردو ہماری پہچان ،صائمہ رحمان

    زبان اظہار رائے کا سب سے حسین اور بہترین ذریعہ ہے کسی بھی ملک کی قومی زبان نا صرف اس کی شناخت ہوتی ہے بلکہ اتحاد و ترقی کی ضامن بھی ہوتی ہے زبان اس ملک کی معاشرت اور تہذیب اور تمدن کی بنیاد ہوتی ہے کسی بھی قوم کی ترقی قومی زبان پر منحصر ہے ہوتی ہے امریکہ جرمنی جاپان اور فرانس ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہے وہ اس لئے انھوں نے اپنی اپنی زبانوں کو بہت فوقیت دی اور قومی زبان کو ذریعہ تعلیم اور سرکاری زبان زبان کے طور پر فروغ دیا۔ دوسری طرف ایک عظیم مثال ہمارے چینی بھائیوں نے قائم کی انھوں نے اپنی چینی زبان کو فروغ دیا۔

    خود دار اور با وقار ملک ہمیشہ اپنی تہذیب و ثقافت اور اپنی زبان کی قدر کرتی ہیںجو ان کی پہچان کا ذریعہ بنتی ہیں قدر اور فخر محسوس کرتی ہیں۔ اپنی زبان کی اہمپت اندازہ تبھی ہوتا ہے جب کسی بیرون ملک میں جا کر اپنی زبان کے علاوہ دوسری زبان کو فوقیت دی جانا مجوری بن جاتی ہے اردو زبان واحد زبان ہے جس میں تازگی اپنا پن محسوس ہوتا ہے اردو زبان بول کر ہم باآسانی اپنی بات اپنے پیغام کو پہنچا سکتے ہیں جواثر بھی کرتی ہے دنیا میں جن قوموں نے ترقی کے مراحل تیزی سے طے کئے ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ اپنی ثقافت اوراپنی قومی زبان کو اہمیت دی ہے زبان کسی بھی ملک شناخت ہوتی ہے۔

    اس اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انگریزی زبان اور دوسری زبانیں بیرونی دنیا سے رابطے کا ذریعہ بنتی ہےباقی زبانوں کی اپنی جگہ اہمیت افادیت اپنی جگہ موجود ہے۔ انگریزی زبان کوبین الاقوامی معاملات زیر بحث لائیں ہم اپنے مقصد کو پورا نہیں کر سکتے۔ لیکن ہماری قومی زبان اردو کی اہمیت اپنی ہی جگہ ہے ترقی یافتہ ممالک اپنی قومی زبان کو ہمیشہ ہر معاملے میں اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
    قومی زبان کسی بھی قوم کا اثاثہ ہوتی ہے جو قومیں اپنی زبان، تہذیب و ثقافت اور ورثے کا خیال رکھتی ہیں وہی دنیا میں ترقی کرتی ہیں اردو پاکستان کی قومی زبان اور دنیا میں بولی جانے والی پہلی پانچ زبانوں میں سے ایک ہے،

    اردو کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ہندوستان پر برطانوی راج کے دور میں شمالی ہندوستان میں اردو رابطے کی سب سے موثر زبان کے طور پر تسلیم کی گئی تھی اور یوں سرکاری طور پر اردو نے فارسی کی جگہ لے لی۔

    1837 میں اردو کو انگریزی کے ساتھ سرکاری درجہ حاصل ہوا۔ یہ زبان مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان بھی موثر ترین پل کے طور پر استعمال ہوتی تھی اس موقع تک ہندوستانی زبان نستعلیق رسم الخط ہی میں لکھی جا رہی تھی اور اس وقت اردو اور ہندی کو دو الگ الگ زبانوں کے طور پر نہیں دیکھا جاتا تھا۔ ایسے میں آریا سمائی احتجاج شروع ہوا، ہندوستانی کے لیے مقامی دیوناگری رسم الخط پر زور دیا گیا۔ اسی تناظر میں ہندوستانی زبان کو دو الگ الگ رسم الخط میں لکھا جانے لگا اور یہیں سے اردو اور ہندی کی راہیں جدا ہوئیں۔
    اس دور میں اردو بولنے والے معاشرے کے سامنے ایک بہت ہی اہم مسئلہ اپنی زبان ، اپنی ثفاقت اور تشخص کا تحفظ کا ہے زبان کا لکھنا پڑھنا اور اس کی نظم ونثر کا تعارف ، حساب، ماحول کی سمجھ اور مل جل کر رہنے کی صلاحیت شامل ہے پرائمری تعلیم کے بنیادی مقاصد میں زبان اور کلچر کا تحفظ اور آگے منتقلی ہے اردو زبان کے سکھنے کے لئے پانچ سال بہت ہوتے ہیں ۔ اسے اورمنظم مربوط اور موثر بنائیں اس کی جدید کاری پر توجہ دی جائے

    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6

  • فری لانسنگ کیا ہے؟  تحریر:اقصٰی یونس

    فری لانسنگ کیا ہے؟ تحریر:اقصٰی یونس


    ‎فری لانسنگ ایک ایسا لفظ ہے جس کو سنتے ہی ہر شخص شیخ چلی کی طرح خیالات کی دوڑ میں دوڑتا چلا جاتا ہے اور اسے دوڑ میں وہ ڈالروں کی بارش میں خود کو مکمل طور پر ڈوبا ہوا محسوس کرتا ہے ۔ اور سوچتا ہے کہ بس اب تو راوی چین ہی چین لکھے گا اور زندگی بڑی پرسکون گزر جائے۔اگر آپ ایسا سوچتے ہیں تو مبارک ہو، آپ کے خیالات بھی باقی نئے فری لانسز جیسے ہی ہیں

    تو اصل میں فری لانسر دو الفاظ کا مجموعہ ہے یعنی فری اور لانسر ۔ مگر ان کے اصطلاحی معنی قدرے مختلف ہیں
    ‎۔ free مطلب مفت نہیں، یہاں free
    ‎اور lancer انگریزی میں اس فوجی کو کہتے ہیں جو ایک لمبا نیزہ لیے جنگ کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔۔
    ‎اس لحاظ سے فری لانسنگ کا مطلب ہوا، آزاد فوجی۔
    جی بالکل ایک آزاد فوجی جو اپنے کام میں مکمل آزاد ہو ۔یعنی
    ‎آپ فری لانسر نہیں ہیں آپ ایک آزاد فوجی ہیں جس نے ایک جنگ پر جانا ہے۔
    مگر اپنی رضامندی اور پوری مرضی کے ساتھ ۔

    ‎ایک عام فوجی اپنے ہتھیار لیے ، اپنے افسر کے حکم کا تابع ہو تا ہے، یہاں افسر نے جنگ کا حکم آنے سے لے کر جنگ لڑنے تک اور اسکے بعد کے تمام احکامات میں آپ افسر بالا کے پابند ہیں ۔ اسکی مثال آفس کی نوکری سے لی جا سکتی ہے یعنی آپ کام کرتے ہوئے اپنے سے اعلی افسر کے پابند ہوتے ہیں
    ‎جس میں روزانہ آپ کو روزانہ حکم بجا لاتے ہوئے ہدایت کے مطابق کام کرنا ہوتا ہے اور مہینے کے اختتام پر آپ کو اپنی تنخواہ مل جاتی ہے

    اس طرح آزاد فوجی وہ ہوا جسے اپنی جنگ کیلئے نہ تو کسی کا حکم کا انتظار ہے اور نہ وہ کسی کے حکم کا پابند ۔ اسے اس جنگ کی تیاری بھی خود کرنی ہے اپنی کمر کو کس کر میدان میں بھی خودی اترنا ہے اور آخر میں جنگ لڑنی بھی خود ہی ہے۔ تو آپکا جو بھی کام ہے وہ جنگ ہی ہوا نہ ۔

    فائیور پہ اکائنٹ بنانے سے لے کر اپنا پہلا آدڑد مکمل کر لینے تک آپ کے کئے گئے سارے کام جنگ کے زمرے میں ہی آتے ہیں ۔ اتنے سارے فری لانسرز کی دوڑ میں آرڑد لینا بھی تو کسی جنگ سے کم نہیں مگر آپ اس جنگ میں کسی کے پابند نہیں آپ اپنا آرڈر دن کو مکمل کریں یا رات کے وقت ۔ آپ اسے اپنے بیڈ روم میں بیٹھ کر کریں یا ڈرائنگ روم میں آپ آزاد ہیں ۔

    اس جنگ میں آپ اپنے ہتھیار یعنی سکلز بھی اپنی مرضی سے چنتے ہیں ۔ آپ چاہے ڈیزائینر بننا چاہیں چاہیے ایک کنٹینٹ رائیٹر ۔ یہ تمام باتیں بھی مکمل طور پہ آپ کی مرضی پہ منحصر ہیں ۔

    بس اس جنگ میں آپ کو محنت لگن اور جذبے کی ضرورت ہے اپنے آپ کو اور اپنے ہتھیاروں کو زنگ لگنے سے بچانا ہے اور اس جنگ میں محنت لگن ایمانداری سے اپنی فتح کے جھنڈے گاڑنے ہیں ۔
    <Writer Aqsa Younas


     Aqsa Younas

    Aqsa Younas is a Freelance Journalist Content Writer, Blogger/Columnist and Social Media Activist. He is associated with various leading digital media sites in Pakistan and writes columns on political, international as well as social issues. To find out more about her work on her Twitter account

      

     


    https://twitter.com/AqsaRana890

  • ناکامیوں کے بعد ملتی ہیں کامیابیاں   صائمہ رحمان

    ناکامیوں کے بعد ملتی ہیں کامیابیاں صائمہ رحمان

    ناکامی کامیابی کی کنجی ہے کچھ لوگ ناکامی کو اپنی جیت تصور کر کے آگےبڑھتے ہیں اور آخری کوشش تک اپنا مقصد حاصل کرنے کی بھرپور محنت کرتے ہیں اس مقصد کو حاصل کر کے ہی سکون لیتے ہیں ایسے لوگ اپنی زندگی میں کبھی ناکام نہیں ہوتے کیونکہ وہ اپنا پختہ ادارہ ان کو کمزور نہیں ہونے دیتا زندگی میں ہار جیت زندگی کے ساتھی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ کسی کو جیت تھوڑی محنت کر کے جلدی مل جاتی ہے کسی کو بہت محنت اور آزمائشوں کے بعد نصیب ہوتی ہے آزمائشوں میں کامیابیوں کا راز پوشیدہ ہے۔
    کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو جلد ہی ہار مان لیتے ہیں اور تھوڑی سی ناکامی کے بعد ہی اپنے اس مقصد کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ اور پھر اپنے مقصد سے دور ہو جاتے ہیں کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے جان توڑمحنت کرنی پڑھتی ہے پھر ہی اپنا مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ وہی لوگ کامیاب ہیں جو ہار کر بھی ہاتے نہیں اور اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔
    کامیابی ہمیشہ ان کو حاصل ہوتی ہے جو اپنے ارادوں پر یقین کے ساتھ ڈٹے رہتے ہیں کہ ہم نے کرنا سو کرنا ہی ہے اور مسلسل محنت کرتے ہیں، کامیابی ایک دن میں حاصل نہیں ہوتی، اس کے پیچھے سالوں کی محنت اور پختہ اعتماد اور یقین شامل ہوتا ہے
    کامیابی حاصل کرنے کے کچھ اصول بھی ہیں ہمیشہ مثبت سوچ رکھی جائیں آپ زندگی میں جو کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں آپ کی سوچ سے اس کا براہ راست تعلق ہوتا اپنے خیالات اور سوچ کو بڑا رکھنا چاہئیے اچھا مثبت سوچیں، منفی خیالات اور ہار جانے کے ڈر کو ذہن سے نکال دیں، اسی لیے مشہور کہاوت ہے کہ اچھا سو چو گے تو اچھا ہی ہوگا۔ مثبت رویہ زندگی میں آپ کو وہ سب کچھ حاصل کرنے میں مدد کرتا ہے جو کچھ آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں، مثبت انداز اور تحمل مزاجی سے کام لیا جائے ۔
    اگر زندگی میں کامیاب ہونا ہے تو اعتدال کے ساتھ چلیں زندگی میں اعتدال کا ہونا بہت لازمی ہے، ایک چھوٹا سا غلط یا جذباتی فیصلہ آپ کی محنت پر پانی پھیر سکتا ہے، ہر کام سوچ سمجھ کر کیا جائے اور اصولوں کے مطابق کریں، زندگی میں پختہ ارادے اور اعتدال ہر مقصد میں آپ کو کامیاب کر سکتا ہے۔
    اپنی ناکامی کو تسلیم کریں زندگی میں کوئی بھی انسان پہلی دفعہ ہی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو جاتا، ہر کامیاب انسان کے پیچھے کئی ناکامیاں، غلطیاں ہوتی ہے اور بہت سی کہانیاں بھی اپنی ناکامی کو تسلیم کریں اور اس پر پچھتا کر وقت ضائع کرنےسے اس سے بہترہے کہ اس بات کا اندازہ لگائیں کہ جو غلطی ہم نے کی ہے وہ دوبارہ ہم سے نا ہو۔
    جیسے کہا جاتا ہے کہ خاموشی طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے، اسی طرح کہا جاسکتا ہے کہ انسان کی ہر ناکامی، اس کی آنے والا قوت کامیابی کا پیش خیمہ ہوتی ہے فلسفیوں کا کہنا ہے کہ زندگی کامیابی اور ناکامی سے متصل ہے اس لئے مثبت مزاج میں کامیابی اور ناکامی دونوں کو سنبھالنے کی صلاحیت ہونا چاہئے. زندگی میں اگر کامیابی چاہتے ہیں تو زندگی میں ہار نا مانی جائے ہار کر بھی جیت کی تلاش کی جائے ہمت حوصلہ بڑھائے رکھے پھر کامیابی آپ کے قدم چھومے گی۔
    سیکھتے رہیں اور آ گے بڑھتے جائیں زندگی اسی کا نام ہے خود کو آزمایا جائے اور نئے تجربات کریں، اگر زندگی میں کوئی مقصد نہیں زندگی بے سود تبدیلی سے گھبرائیں نہیں بلکہ اسے خوش آمدید کہیں، خود کو ہمیشہ متحرک اور مثبت رکھیں اور آگے بڑھتے جائیں، خود کو ہر وقت سیکھنے کے مراحل میں رکھیں۔
    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6

  • اللہ کی خاطر محبت، فوائد و نشانیاں تحریر: رمیز راجہ

    "ایمان کی سر بلندی یہ ہے کہ الله کے لئے دوستی ہو اور الله کے لئے دشمنی ہو، الله کے لئے محبت اور الله کے لئے نفرت ہو۔”
    سب سے پہلا سوال جو ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کی خاطر یا اس کی رضا کے لیے محبت کرنے سے کیا مراد ہے، اُس کی صِفات کیا ہیں ؟ جن کی موجودگی میں اُس کی پہچان ہو تی ہے ؟ اِن شاء اللہ آج ہم اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ اور اُس کے رسول کریم مُحمدؐ کے فرامین مُبارکہ میں اِن سوالات کے جوابات کا مطالعہ کریں گے ۔
    اجمالی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اللہ کی خاطر مُحبت وہ ہے جِس میں کوئی مُحب کسی کو صِرف اللہ کی رضا کے حصول کے لیے اپنا مَحبُوب رکھے اور پھر وہ مُحب اپنے مَحبُوب کو اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کی طرف بلاتا رہے اور اس میں اس کا مددگار رہے ، اور نافرمانی سے روکتا رہے اور نافرمانی سے رُکے رہنے میں اُس کا مددگار رہے ، اُسے کفار و مشرکین اور اہل بدعت سے محفوظ رہنے میں اُس کا مددگار رہے ۔ عموما ً لفظ مُحبت سن کر اُن جذبات کا خیال آتا جو دو متضاد جنسوں میں ایک دوسرے کے لیےپائی جانے والی رغبت کی وجہ سے ظاہر ہوتے ہیں ، جبکہ مُحبت صِرف اُنہی جذبات کا نام نہیں بلکہ مُحبت انسانوں میں تو کیا بعض جانوروں کے درمیان پائے جانے والے رشتوں اور تعلقات میں تقریباً ہر رشتے اور تعلق میں موجود ہوسکتی ہے ۔ مُحبت انسانی جذبات میں سے سب سے زیادہ نازک ، لیکن مضبوط اور تُند و تیز جذبہ ہے ، اور اگر یہ جذبہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کے تابع کر دِیا جائے تو اِس جذبے کی کیفیت کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا ۔
    اللہ کی خاطر مُحبت کی وجہ سے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے محبوب رسول کریمؐ کی اُمت کو جو نعمتیں عطاء فرماتا ہے، اور اس مُحبت کے جو عظیم فوائد ہیں اُن سب کی بہت سی خبریں ہمیں دی گئی ہیں ، اور انہی خبروں میں اللہ کی خاطر ایک دوسرےسے مُحبت کرنے والوں کی ، اور محبت کی نشانیاں بھی بتائی گئی ہیں ، ان خبروں کا بغور مطالعہ ہمارے لیے اُن سوالات کے جوابات مہیا کرنے والا ہے جو میں نے اپنی بات کے آغاز میں پیش کیے تھے، آئیے اُن خبروں میں سے کچھ کا مطالعہ کرتے ہیں۔
    اللہ کی خاطر محبت کرنے کےفوائد:
    1۔ تکمیل اِیمان کے اسباب میں سے ہے۔
    ابی اُمامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐنے اِرشاد فرمایا،” جِس نے اللہ کی خاطر مُحبت کی ، اور اللہ کی خاطر نفرت کی، اور اللہ کی خاطرہی (کسی کو کچھ) دِیا ، اور اللہ ہی کی خاطر(کسی کو کچھ)دینے سے رُکا رہا ، تو یقیناً اُس نے اپنا اِیمان مکمل کر لیا” (سنن ابو داؤد)
    2۔ ایمان کی مضبوطی کے اسباب میں سے ہے۔
    رسول اللہ ؐ نے ابو ذر الغِفاری سے فرمایا، ” اے ابو ذر کیا تُم جانتے ہو کہ اِیمان کی سب سے زیادہ مضبوط گرہ کونسی ہے؟”۔ ابو ذر نے عرض کیا، ” اللہ اور اس کے رسول ہی سب سے زیادہ عِلم رکھتے ہیں”۔ تو رسول اللہ ؐ نے اِرشاد فرمایا، ” اللہ کے لیے دوستی رکھنا ، اور اللہ کے لیے دُشمنی رکھنا ، اور اللہ کے لیے مُحبت کرنا ، اور اللہ کے لیے نفرت کرنا”۔
    3۔ اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کی مُحبت پانے کے اسباب میں سے ہے۔
    مُعاذ ابن جبل کا کہنا ہے کہ میں نے رسول اللہؐ کو اِرشاد فرماتے ہوئے سُنا کہ، "اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمانا ہے کہ میرے لیے آپس میں مُحبت کرنے والوں، ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنے والوں ، اور ایک دوسرے کو جا کر ملنے والوں ، اور (ایک دوسرے کی خیر کے لیے) اپنی قوتیں صرف کرنے والوں کے لیے میری مُحبت واجب ہوگئی”۔
    4۔ قیامت والے دِن بھی یہ مُحبتیں قائم رہیں گی۔
    "اُس دِن سب ہی دوست دُشمن بن جائیں گے سوائے تقویٰ والوں کے "۔سُورت الزُخرف (43)/آیت67
    5۔ انبیاء اور شہداء کے لیے بھی پسندیدہ درجہ حاصل ہونےکے اسباب میں سے ہے۔
    رسول اللہ ؐکے دوسرے بلا فصل خلیفہ امیر المؤمنین عُمر الفارق کا فرمان ہے کہ رسول اللہ ؐنے اِرشاد فرمایا، "بے شک اللہ کے بندوں میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے،جو انبیاء میں سے نہیں اور نہ ہی شہیدوں میں سے ہوں گےلیکن قیامت والے دِن اللہ کے پاس اُن کی رتبے کی انبیاء اور شہید بھی تعریف کریں گے "۔ صحابہ نے عرض کیا، ” اے اللہ کے رسول ہمیں بتایے کہ وہ لوگ کون ہیں ؟ "۔ تو اِرشاد فرمایا، ” وہ(صِرف )اللہ کی خاطر مُحبت کرنے والے لوگ ہوں گے ، (کیونکہ ) اُن کے درمیان نہ تو (اِیمان کے عِلاوہ)کوئی رشتہ داری ہو گی اور نہ ہی کوئی مال لینے دینے کا معاملہ ، پس اللہ کی قَسم اُن کے چہرے روشنی ہی روشنی ہوں گے اور وہ روشنی پر ہوں گے ، جب (قیامت والے دِن) لوگ ڈر رہے ہوں گے اور غم زدہ ہوں گے تو وہ نہیں ڈریں گے ، اور نہ ہی غم زدہ ہوں گے "۔

    اللہ کی خاطر مُحبت کرنے والوں کی نشانیاں:
    1۔ ایک دوسرے کو نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے باز رہنے کی تلقین کرنا اور ان دونوں ہی کاموں کی تکمیل میں ایک دوسرے کی مدد کرنا۔
    2۔ ایک دوسرے کے دُکھ درد کو بالکل اپنے دُکھ درد کی طرح محسوس کرنا ، اور ایک دوسرے پر رحم و شفقت کرنا اور مددگار رہنا۔
    3۔ ایک دوسرے کو برائی سے روکنا اور ظلم سے بچانا۔
    اللہ تبارک و تعالی ٰ ہم سب کو اور ہر ایک کلمہ گو ایک دوسرے سے صرف اور صرف اللہ کے لیے مُحبت کی توفیق عطاء فرمائے اور ہمارے اختلافات کو ہماری مُحبت کے خاتمےکا سبب نہ بننے دے ، بلکہ اُسی مُحبت میں ایک دوسرے کی اصلاح کی نیک کوششوں کی ہمت دے ۔ آمین!