Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • اصل قصوروار .تحریر: محمد حنظلہ شاہد

    اصل قصوروار .تحریر: محمد حنظلہ شاہد

    مینار پاکستان پر جو بھی واقعہ پیش آیا یقیناً افسوس ناک تھا اور اسکی جتنی بھی مزمت کی جائے کم ہے
    لیکن یہ میڈیا اور پاکستان کے خلاف بغض رکھنے والے لبرل ٹولے نے یہ کیا تماشا شروع کر رکھا ہے کہ
    ایک بیچاری لڑکی کو چارسو بغیرت مردوں نے نوچ لیا کوئی بھی غیرت مند نہ نکلا؟
    ان کے پاس لوگوں کی غیرت ناپنے کا کیا پیمانہ ہے؟
    کیا ثبوت ہے کہ اس عورت کو ڈالا جانے والا ہر ہاتھ اسے رسوا کرنے کیلئے تھا؟
    وہ ہاتھ اس کی حفاظت کے لیے اور بچاو کے لیے بھی توہو سکتا ہے نا؟
    کیسے دی جاسکتی ہے یہ سٹیٹمنٹ کہ سب مرد بھیڑیے تھے؟

    اگر واقع ہی وہاں موجود سب مرد عورت کی بے حرمتی کے لیے اکھٹے ہوئے ہوتے تو آج محترمہ کی بوٹیاں بھی نہ ملتیں معذرت کے ساتھ!!!!!
    اگر دس بارہ آوارہ لڑکوں کے ساتھ اس کی لڑائی ہوگئی تھی تو یقیناً باقی ویلی عوام اس تماشے کو دیکھنے کیلئے اکٹھی ہوئی ہوگی۔اور باقی کچھ عورت کے بچاو کے لیے۔
    ویسے جب مرد اور عورت برابر ہیں تو وہ ہاتھا پائی بھی تو سکتی ہے نا واویلا کیسا؟

    لڑکے لڑکے بھی تو لڑتے ہی ہیں لڑکی لڑکا لڑ پڑے تو اب عورت کو عورت کارڈ کی ضرورت کیوں پڑ گئی؟ ہمارے ملک کو تباہ ہی یہ لبرل اور ان کی گندی سوچ نے کیا ہے۔ یہ گندے لوگ آپس میں ہی لڑ مر کر معاشرے کی بربادی اور بدمامی کا سبب بن رہے ہیں ۔کبھی آزاد خیال نور مقدم اپنے ہی بوائے فرینڈ کے ہاتھوں قتل ہو جاتی ہے تو کبھی عائشہ آوارہ لونڈوں کے ہاتھوں میں کھلونا بن جاتی ہے

    لیکن بدنام کون ہوتا ہے؟
    ہم سب عورتیں
    ہم سب مرد
    سب پاکستانی
    نور مقدم کو بھی بے دردی سے قتل کر کے اس کا سر تن سے جدا کر دیاگیا پھر لبرل قاتل اس کے سر کے ساتھ کھیلتا رہا یقیناً ظلم ہوا۔نور کے ماں باپ کو زندگی بھر کا روگ لگ گیا لیکن کیا اس سب میں قصوروار صرف قاتل اور اسکی ذہنی گندگی تھی؟؟ کیا پورا لبرل ٹولا قصوروار نہیں تھا جس نے ماڈرن بننے کے لیے بے حیا بننے کو لازم قرار دے دیا ہے؟
    تو اب ہم مقتولہ کے غم میں کیوں نڈھال ہوتے رہیں؟اللہ اسکی مغفرت فرمائے بس۔

    جب ان عورتوں کو گھر پہ ٹکنے اور باہر نکلتے ہوئے مناسب لباس پہننے اور پردہ کرنے کا کہا جاتا ہے تو یہ خواتین اسے اپنی توہین سمجھتی ہیں قید سمجھتی ہیں آزادی چاہتی ہیں تو لے لیں آزادی کے مزے اب رونا پٹنا کیوں ڈال رہی ہیں؟
    ابھی تو شروعات ہے اگر ہمارا میڈیا اور لبرل ٹولا مل کر ایسے ہی نوجوان نسل کے دماغوں میں گند بھرتے رہے تو ایسے اور بھی واقعات پیش آئیں گے
    تواتر سے پیش آئیں گے
    اور ہماری یہ مزمت ان واقعات کو بالکل کنٹرول نہیں کرسکے گی۔
    اس لیے ابھی بھی ہوش کے ناخن لیں اور لوٹ آئیں اپنے دین کی طرف۔چھوڑ دیں بے حیائیاں اور اور الله کی حدود کو پامال کرنا خدارہ چھوڑ دیں
    چھوڑ دیں وہ تمام حرکتیں جن کا انجام اتنا بھیانک نکلتا ہے کہ انسانیت کیا حیوانیت بھی شرما جائے

  • افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال، افغان سیاسی وفد کا پاکستان دورہ ،تحریر:صائمہ رحمان

    افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال، افغان سیاسی وفد کا پاکستان دورہ ،تحریر:صائمہ رحمان

    افغانستان میں20 سال بعد ایک بار پھر طالبان کے قبضے نے افغان شہریوں اور عالمی برادری کے ذہنوں میں نئے سوالات جنم رہے ہیں کہ کیا طالبان پہلے کی طرح سخت پابندیاں عائد کریں گے یا اس دفعہ حکمت عملی تبدیل کرے گئے افغان طالبان کی جانب سے افغان عوام اور عالمی برادری سےجووعدےکیےگئے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ انہیں کس طرح پورا کرتے ہیں۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ کافاکس نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ افغانستان میں فوج بھیجنا ملک کی تاریخ کا سب سے ‏غلط فیصلہ تھا۔انہوں نے کہا کہ جوبائیڈن کو نہیں پتہ صدر کا منصب کتنا اہم ہے جلد بازی میں انخلا کا فیصلہ اور ‏بداتنظامی امریکا کیلئے باعث شرم ہے اتنے سالوں میں امریکا کی اتنی بے عزت نہیں ہوئی ‏جتنی اب ہورہی ہے۔ٹرمپ نے اشرف غنی کو بدمعاش قرار دیا اور کہا کہ شروع سے اشرف غنی پر بھروسہ نہیں تھا اور ‏نہ ہی وہ پسند تھے البتہ طالبان سربراہ سے ہمیشہ اچھی بات ہوئی۔ ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ اسلامک امارات تما م ممالک سےاچھےتعلقات چاہتی ہے تمام ممالک سےاچھے سفارتی اور تجارتی تعلقات چاہتے ہیں کسی بھی ملک کیساتھ تجارت معطل نہیں ت کر رہے کسی بھی ملک کیساتھ تجارت معطل رکھنے کی افواہیں بھی بےبنیاد قرار دی ہیں ۔ امریکی صدرجوبائیڈن کہنا ہے کہ ہم 31 اگست تک افغانستان سےمکمل انخلا کرنا چاہتے ہیں ہم نےاسامہ کو مارا،افغانستان میں القاعدہ کوختم کیا ہمارے پاس دہشت گردی سےلڑنےکی صلاحیت رکھتے ہیں ہمیں انتہائی سنگین خطرات سےنمٹنےپرتوجہ دیناہوگی طالبان ایک وجودی بحران سے گزررہے ہیں طالبان جائزحکومت کےطور پر خودکو تسلیم کرانا چاہتے ہیں مجھےنہیں لگتا کہ طالبان تبدیل ہوئے ہیں طالبان کو فیصلہ کرنا ہوگا جس سےعالمی برادری انہیں تسلیم کرے۔

    افغانستان میں بدلتی ہوئی صورت حال کے پیش نظرافغان سیاسی وفد کا کل پاکستان کا دورہ کیا جس میں افغان اولسی جرگہ کے اسپیکر میر رحمان رحمانی بھی شامل ہیں۔ افغان سیاسی وفد میں محمد یونس قانونی، استاد محمد کریم، احمد ضیا مسعود، احمد ولی مسعود، عبدالطیف پیدرام اور خالد نور شامل تھےافغان سیاسی وفد کی وزیراعظم عمران خان ،آرمی چیف ،ڈی جی آئی ایس آئی سے بھی ملاقات ہوئی افغان اولسی جرگہ کے اسپیکر میر رحمان رحمانی کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان تشریف لائیں اسپیکر افغان اولسی جرگہ رحمان رحمانی کا کہنا تھا کہ افغان امن عمل کو ختم کردیا گیا جو افسوسناک ہے اور ہمارے دورے کا مقصد مفاہمت ،خون ریزی کا خاتمہ کرنا ہے اس ملاقاتوں میں تمام ایشوز پر بات چیت کی گئی اب آئندہ مرحلہ افغانستان میں حکومت سازی ہے اور تمام فریقین کو حکومت میں شامل کرنےسے ہی کامیابی ملے گی ہم افغان عوام کی آزادی اظہاررائے،قانون کے نفاذ پریقین رکھتے ہیں۔

    اولسی جرگہ میر رحمان رحمانی کا یہ بھی کہنا تھا اگر طالبان ناکام ہوگئے تو پھر 1996 والی صورت حال ہوگی اورحکومت ایسی ہونی چاہیے جوافغان عوام کیلئے قابل قبول ہو۔
    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6

  • "عورت ایک سربستہ راز” .تحریر: فرزانہ شریف

    "عورت ایک سربستہ راز” .تحریر: فرزانہ شریف

    کہتے ہیں عورت راز نہیں رکھ سکتی بلکہ اس پر لطیفے بنے ہوئے ہیں کہ کوئی بات پورے محلے میں پھیلانی ہوتو کسی عورت کو وہ بات بتا دو آپ کو اعلان کروانے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی اور بعض اوقات ہم خود بھی ان لطیفوں سے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے سچ تو یہ ہے کہ عورت "سربستہ” راز ہوتی ہے اگر ماں ہے تو اپنے بچوں کے عیب لوگوں سے ایسے چھپا کر رکھتی ہے جیسے اس کے اپنے عیب ہوں کہ لوگ یہ عیب جاننے کے بعد آپکو عجیب نظروں سے دیکھیں گے اپنے بچوں کی کامیابیاں خوشیاں ہر بندے سے شئیر کرے گی لیکن کبھی اپنی اولاد کا

    "ویک پوائنٹ "کسی کو نہیں پتہ چلنے دے گی حتی کہ اگر بچہ کسی بات پر نافرمانی بھی کرے گا تو بھی اس کو اپنے اور بچے کے درمیان رکھے گی ۔۔اور اسی طرح ایک بہین اپنے بھائی کا کوئی راز کبھی مرکر بھی کسی اور کو نہیں بتایے گی چاہے کوئی اس کی کتنی قریبی دوست ہی کیوں نہ ہو ۔۔بھائی اپنی بہنوں سے اپنے دل کی ہر بات شئیر کرکے خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرتے ہیں انھیں اپنی بہین پر یقین ہوتا ہے یہ راز بہین اپنے تک محدود رکھے گی ۔۔۔!!!

    ایسی طرح بیوی اپنے شوہر کے ہر راز کی آمین ہوتی ہے اس کے دکھ تکلیف کی ساتھی اگر وہ مالی طور پر کمزور بھی ہے تو بیوی اپنے شوہر کا تماشا غیر لوگوں میں تو کیا بلکہ اپنے سگے رشتہ داروں میں بھی نہیں لگائے گی بلکہ بعض اوقات تو اس کی بےوفائی تک جیسے جرم کو بھی اکیلے اذیت کا گھونٹ پی جائے گی لیکن کسی کو اس راز کی ہوا بھی نہیں لگنے دے گی ۔۔۔!!!
    یہ تو بات تھی ایک وفاشعار مشرقی عورت کی۔۔!!

    نہ سب عورتیں مکمل ہوتی ہیں نہ سب مرد مکمل ۔۔بےعیب صرف اللہ سبحان تعالی کی پاک ذات ہے ہر انسان خطا کا پتلا ہے چاہے وہ مرد ہے یا عورت ۔۔میرا کبھی دل نہیں چاہتا کہ میں بنا وجہ کے مردوں پر یا صرف عورتوں پر تنقید کروں ۔دونوں اپنی جگہ ٹھیک ہوتے ہیں بس ماحول کا فرق ہوتا ہے جس وجہ سے ہر انسان کے رویے میں فرق ہوتا ہے کچھ حالات انسان کو اتنا مجبور کردیتے ہیں کہ وہ اچھا کرنے کی کوشش میں بھی بعض اوقات وہ کامیابی حاصل نہیں کرسکتے جو ان کا حق ہوتی ہے ان میں ذیادہ تر وہ طبقہ پیسا ہوتا ہے جو مالی طور پر کمزور ہوتا ہے مالی حالت ۔ ڈیپریشن میں مسلسل اضافے کا باعث بنتے ہیں جس وجہ سے وہ چاہ کر بھی خوش اخلاقی جیسی نعمت سے محروم ہوجاتا ہےمسلسل خراب حالات اور ناکامیوں کی وجہ سے چڑچڑاپن اس کی طبعیت میں شامل ہوجاتا ہے ایسے لوگوں کی صاحب حثیت لوگوں کی طرف سے تھوڑی سی حوصلہ افزائی ان کی ویران مایوس ۔اندھیر ذندگی میں روشنی کی کرن ثابت ہوسکتی ہے مشکل وقت کسی پر ۔کسی وقت بھی آسکتا ہے حالات کا پہیہ چکر میں ۔کون جانے اگلا شکار کون ۔۔۔!!!

    میری ذندگی میں اتنے عظیم رشتے ہیں کہ ان کے تقدس کا سوچتی ہوں تو فخر محسوس ہوتا ہے شائد اس معاملے میں اللہ نے مجھے بےحد بے حساب نوازا ہے میرے عزیز الجان دو ماموں جی میرے آئیڈیل میرے چچا جی بہت معتبر انسان ان کا ایک معاشرے میں ایک مقام ۔میرے بھائی جان ایک آئیڈیل انسان بہت بہت عزت دار ۔کہ عام انسان بھی ان کو دیکھے تو احترام سے کھڑا ہوجائے اللہ سب کو ایسے پیارے رشتوں سے نوازے آمین ۔

    تو بات کررہی تھی کہ راز نہ رکھنے والی بات ہنسی مذاق کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے توعام طور پر یہ انسانی کمزوری ہے چاہے عورت ہو یا مرد کسی بات کا پتہ چلنے کی دیر ہے جب تک سب جاننے والوں کو وہ بات بتا نہ دی جائے تب تک سکون والی بات نہیں ۔۔بشری کمزوریاں ہر انسان میں ہوتی ہیں یہ تاثر غلط ہے کہ ہر غلط کام کسی ایک جنس پر لاگو کردیا جائے اور خود برالذمہ ہوجائیں ہمیں سوچنا ہوگا ہماری وجہ سے کوئی بےسکون نہ ہو اگر کسی کو خوشی نہیں دے سکتے اس کے دکھ کی وجہ بھی نہ بنیں ۔اگر انجانے میں کسی کو ہرٹ کر بھی دیا ہوتو خلوص نیت سے ہلکی سی معذرت اگلے کے دل سے بوجھ اتار دے گی اور آپکو پرسکون کردے گی کیونکہ ایک مومن انسان کا دل کبھی اس بات پہ خوشی یا سکون محسوس کر ہی نہیں سکتا کہ اس کی وجہ سے کوئی دکھی ہوا یاہرٹ ہوا یا کسی کا سکون ختم ہوا ہو یا کسی کی نیندیں ڈسٹرب ہوئیں ہوں ۔۔۔!! کوشش کریں اپنی ذندگی کی غلطیاں دنیا میں ہی سدھار لیں آگے حساب بہت سخت ہے دنیا میں ہی اپنے معملات نمٹا کر جائیں کہ کل کو اپنی نیکیاں دے کر حساب نہ چکانا پڑے ۔اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ میں اپنے حقوق معاف کرسکتا ہوں حقوق العباد معاف نہیں کروں گا تو اس کے بندوں سے پیار کریں اپنے سے وابستہ رشتوں کا احترام کریں اپنی طرف سے ہر ایک کے جذبات کا خیال رکھیں ۔جن رشتہ داروں کو منہ لگانے کو بھی دل نہ کرے ان سے بھی حسن اتفاق سے بات کرنا آپ کی اعلی ظرفی اور اچھی ماں کی تربیت کی نشانی ہے
    کہتے ہیں
    ‏انسان کے پورے جسم
    میں صرف ایک دل ہی ہوتا ہے
    جو پیدائش سے لے کر موت تک
    بِنا ریسٹ کیے کام کیے جاتا رہتا ہے
    اسے ہمیشہ خوش رکھیں
    چاہے یہ آپ کا اپنا ہو
    یا پھر اپکے پیاروں کا ۔۔
    ۔ہمیشہ اپنے سے نیچے والوں کو دیکھیں کہ ان کا بھی وہی اللہ ہے جو اپ کا ہے آپ میں ایسا کیا تھا جو اللہ نے آپکو اتنا بےحد بے حساب نوازا اور آپکو لوگ رشک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں آپ جیسی ذندگی آپ جیسا لائف سٹائل میں جینا چاہتے ہیں شائد آپ کے ساتھ کسی کی دعائیں ہیں جو اللہ آپکو نوازتا ہی جارہا ہے تو اس میں بھی اللہ کا بہت گہرا راز پوشیدہ ہے ہر سانس کے ساتھ اس کا شکر ادا کریں کہ اس نے آپکے تمام عیب جاننے کے باوجود آپکو بےحد بے حساب عزت دولت سے نوازا ہوا ہے۔وہ اگر ہمیں ایک جھونپڑی میں پیدا کردیتا تو ہم خدانخواستہ اللہ کا کیا بگاڑ سکتے تھے وہ واحد لا شریک ہے وہ دے کر بھی ازماتا ہے اور نہ دے کر بھی پھر غرور کس بات کا۔۔شیطان تو چاہتا ہی یہی ہے کہ انسان اللہ کی نافرمانی کرے جیسے اس نے کی ۔۔اور قیامت تک اپنے لیے لعنتیں خرید لیں رہتی دنیا تک اس پر لعنتوں کا سلسلہ جاری رہے گا ۔۔ہر اس انسان پر شیطان کا غلبہ ہوتا ہے جو اپنی دولت شہرت پر غرور سے اکڑ کر چلتا ہے خود کو افلاطون قسم کی کوئی چیز سمجھنے لگ جاتا ہے جس کے دل میں اللہ سبحان تعالی کا ذرا سا بھی خوف ہوگا وہ اپنی عزت دولت شہرت پر کبھی غرور نہیں کرے گا بلکہ اللہ کا فرمانبردار بندہ بن کر رہے گا اسے پتہ ہوگا کہ اللہ کو عاجزی پسند ہے اپنی طبعیت میں عاجزی پیدا کرنے کی کوشش کریں اللہ عاجز بندے کو بےحد بے حساب نوازتا ہے جلدی یا بدیر ۔۔ !!

  • اے قائد ھم شرمندہ ھیں ، تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    اے قائد ھم شرمندہ ھیں ، تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    مینار پاکستان 14 اگست ایک عورت پر 200 سے زائد مرد بشمول ایک دس سالہ بچے نے مال غنیمت سمجھ کر حملہ کردیا اسکے کپڑے پھاڑ دیئے اسکو برھنہ کرکے ھوا میں اچھالا تین دن اس لڑکی نے کیس نھیں کیا اور پھر اچانک وہ ویڈیو وائرل ھوئ ایف آئ آر درج ھوگئ وزیراعظم نے نوٹس جو لیا تو پولیس بھی ھوش میں آگئ سوشل میڈیا پر عوام ماوں بہنوں بیٹیوں اور درد رکھنے والے لوگوں نے شدید غصہ دکھ کا اظہار کیا عورت نے آج ایک ویڈیو بنائ یوٹیوب پر اپلوڈ کی اور ویڈیو کے آخر میں سب سے کہا مجھے فالو کریں

    میں سوشل میڈیا فیس بک ٹیوٹر پر نا صرف کافی پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ سے رابطہ میں رھتا ھوں بلکہ بھارت افغانستان سعودی عرب جیسے ممالک سے تعلق رکھنے والے ایکٹوسٹ بھی میرے قریبی دوستوں کی لسٹ میں رھتے ایسا کوی واقعہ سانحہ پیش آئے تو لازما ایک دوسرے سے رابطے ھوتے میں آج ان سب سے نظریں نھیں ملا سکا آج میں گھر میں آیا تو ایک عجب خوف ایک عجب ڈر کیساتھ داخل ھوا مجھے رہ رہ کر ایک خیال آتا جھر جھری ھوتی جھٹلا دیتا میرے جیسے کئی لوگ اپنی فیملیز ساتھ مینار پاکستان جیسے تاریخی مقامات کی سیر کو جاتے ھر لمحہ اس واقعہ کو میں ان یادگار لمحات ساتھ جوڑتا ڈر سا جاتا سہم سا جاتا کوی وجہ کوی توجیح کوی کہانی اس بدکاری بے غیرتی زیادتی گھٹیا پن کا جواز نھیں ھوسکتی بطور مسلمان بطور پاکستانی بطور انسان میں شرمندہ ھوں

    اب آتے اس بات پر کہ پولیس اسوقت کہاں تھی؟14 اگست کو جب دنیا گھروں سے نکلتی مینار پاکستان آتی ایسے وقت میں کوی 200 لوگ ایک عورت پر حملہ آور کیسے ھوگئے اگر وہ عورت مر جاتی تو؟اسکا مطلب کوئی فیملی کوئی شخص بھی اس اھم دن پر محفوظ نھیں تھا ابھی تک تو یہ معمہ بھی حل طلب ھے کہ وزیراعلی عثمان بزدار کی موجودگی میں ایک شادی کے فنکشن پر ذاتی دشمنی ھی سہی پر ایک قتل ھوگیا کیا یہ سکیورٹی لیپس نھیں تھا کیا اس ناکامی پر آئی جی پنجاب سے لیکر ایس ایچ او تک کی بازپرسی نھیں ھونی چاھیئے؟جانور ھر جگہ پائے جاتے یہ بے قابو تب ھوتے جب انکو یہ احساس ھوجاتا وہ جنگل میں ھیں سعودی عرب میں کوی ایسا کرکے دکھائے اگلے دن الٹا لٹکا دیں پولیس کو جوابدہ ھونا پڑیگا

    اب آخر میں آتے ھیں اس محترمہ پر جس پر ایسا حملہ ھوا کہ پوری دنیا میں پاکستان کی سبکی ھوی وہ یوٹیوب پر اپنا چینل چلاتی ھیں اور آج بھی ایک ویڈیو بھی اپلوڈ کرکے سب سے سوالات پوچھ کر کہتی کہ مجھے فالو کریں یہ کیا دور ھے کیا زمانہ ھے ابھی سوشل میڈیا پر یہ بات بھی چل نکلی ھے کہ محترمہ نے خود ان لوگوں کو اپنی طرف راغب کیا میں اس بات کو مانوں یا نا مانوں میں اس بات پر ضرور بولونگا کا کہ جو ھوا وہ درندگی تھی چلو ایف آئ آر نھیں کاٹی ماں لیتے معاشرہ ایسا مگر ایف آئ آر نھیں کٹوانی کے عزت پر حرج نا آجائے تو ویڈیو بناکر فالوور کی آواز لگانا یہ سمجھ سے بالاتر ھے حکومت سے درخواست اس معاملے کو غور سے دیکھیں کہیں ملک دشمن عناصر نے منصوبے کے تحت یہ سانحہ رونما تو نھیں کروایا بہرحال وجہ جو بھی ھو ظلم تو ھوا ھے زیادتی تو ھوی ھے ملک کی بدنامی تو ھی ھے سبکی الگ سے ھوی اب اسکا مداوا بھی کرنا ھوگا اور آئندہ ایسا نا جو اسکے لئے سدباب بھی کرنا پڑیگا

  • تاریخِ  افغانستان ۔۔ماضی کے جھروکوں  کی رسہ کشی۔۔تحریر: کرن خان

    تاریخِ افغانستان ۔۔ماضی کے جھروکوں کی رسہ کشی۔۔تحریر: کرن خان

    علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے کہ،
    افغان باقی، کہسار باقی
    الحکم اللّٰہ، الملک اللّٰہ!!
    ہم سب آج کل افغانستان پر بہت سے تجزیے، کہانیاں اور خبریں دیکھ رہے ہیں، افغانستان میں طالبان کی حکمرانی کے چرچے اب ہر گزرتے دن کے ساتھ معمول کے معاملات لگ رہے ہیں، بیس سالہ پرانے طالبان اب جدید معاشرے کے ماڈرن گُڈ لکنگ بوائز جیسا رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔
    طالبان، کٹھ پتلی افغان حکومتین جن کے سربراہان جو پاؤں جلنے پر دم دبا کر بھاگ نکلے، ایک فریق امریکہ اور اتحادی، مزید برآں خطے کے باقی ممالک کی شوروغل بھری آوازوں میں کیا کسی نے افغان قوم کی بہادری وجرات کو بھی ایک نظر دیکھا کہ خطہ ایسی دلیر قوم سے بھرا پڑا ہے کہ یہاں ماضی میں جتنے بھی حکمران آئے، اگر وہ افغان عوام سے مخلص نہیں تھے تو ان کی کرسی زیادہ دیر نہیں چلی، کٹھ پتلی حکمرانوں کی کرسیاں گرانے کی افغان عوام کی ایک تاریخ ہے، آئیے آج دیکھتے ہیں کہ ماضی میں کس کس نے افغانستان پر حکمرانی کی اور پھر کس طرح اپنی کرسی سے ہاتھ دھوئے۔

    بیسویں صدی سے شروع ہوتے ہوئے سب سے پہلے بات کرتے ہیں بادشاہ ظاہر شاہ کی۔
    ظاہر شاہ تاریخِ أفغانستان میں اس خطے پر سب سے زیادہ عرصہ حکمرانی کرنے والاے حکمران کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ 1973 میں جب یہ روم گئے ہوئے تھے اس دوران ان کے کزن داؤد خان نے ان کی حکومت کا تختہ الٹا دیا۔انہیں 2002 تک جلاوطنی میں رہنا پڑا۔ ان کا چالیس سالہ دورِ حکومت پوری أفغان تاریخ کا سب سے پرامن عرصہ جانا جاتا ہے۔طویل علالت کے بعد ظاہر شاہ نے 2007 میں 92 سال کی عمر میں وفات پائی۔

    داؤد خان۔۔
    ظاہر شاہ کے دورِحکومت میں دو مرتبہ وزیرِاعظم رہنے والے داؤد خان 1973 میں ظاہر شاہ کی حکومت گرانے کے بعد پہلے صدر بنے۔
    1978 میں سویت یونین کے بننے کے بعد افغان خطے میں آنے والے انقلابِ ثور کے بعد داؤد خان کو اپنے خاندان کے بیشتر افراد سمیت ظالمانہ حملے میں اس وقت کی انقلابی جماعت پی ڈی پی اے کے افراد نے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ انقلابِ ثور کی تنظیم میں شامل تین افراد نور محمد ترکئی ، حفیظ اللہ امین اور ببرک کمال کا کردار کلیدی تھا۔
    داؤد خان اور خاندان کی باقیات 2008 میں ایک اجتماعی قبر سے ملے تھے جنہیں بعد میں کابل میں دفنا دیا گیا تھا۔

    نور محمد ترکئی۔۔
    انقلابِ ثور کے تین مرکزی کرداروں میں سے ایک نور محمد ترکئی تھے۔ یہ بمشکل ایک سال کا عرصہ ہی صدارت کے عہدے پر رہ سکے۔ اس ایک سالہ دورِ حکومت میں نور محمد نے قتل و غارت کی ندیاں بہا دیں تھیں۔ انقلابِ چور کی مخالفت کرنے والے ہر افغان کو کونے کونے سے ڈھونڈ کر بدلے لینے میں نور محمد نے کوئی کسر نہیں اٹھائی تھی۔
    حیران کن بات یہ ہے کہ انقلاب کے ساتھی اور داؤد خان کے تختے کو الٹانے والے حفیظ اللہ نے ہی ستمبر 1979 میں تختہ الٹا اور 8 اکتوبر 1979 کو قتل کر دیا۔

    حفیظ اللہ امین۔۔

    ان کا انجام نور محمد ترکئی سے بھی بد تر نکلا۔سویت یونین کو شک تھا کہ حفیظ اللہ کے تانے بانے امریکی ایجنسی سی آئی اے سے ملتے ہیں، دسمبر 1979 میں مشہورِ زمانہ آپریشن سویت 333 میں انکو مار دیا گیا۔

    ببرک کرمال۔۔

    ببرک کرمال جو انقلابِ ثور کے تیسرے کردار تھے، انہوں نے جب قیادت سنبھالی تو انکا عرصہِ حکومت 7 سالہ تھا۔یہ سویت یونین کی کٹھ پتلی کے طور پر جانے جاتے تھے۔
    1980 کی دہائی میں جب افغان مجاہدین نے پاکستان، امریکہ اور سعودی عرب کے تعاون سے سویت یونین سے لڑنا شروع کیا تو ببرک کرمال پر سویت پریشر بڑھنا شروع ہو گیا جس کے نتیجے میں انکو استعفیٰ دینا پڑا اور 1996 میں کینسر سے وفات پائی۔

    نجیب اللہ ۔۔
    روسی جاسوس ایجنسی کے تربیت یافتہ نجیب اللہ نے ببرک کرمال کی جگہ جب حکومت سنبھالی تو یہ اس وقت کے اشرف غنی ثابت ہوئے، جب مجاہدین باقی سارا افغانستان اپنے نام کرتے جا رہے تھے تو نجیب نے کابل کو سنبھالنے میں بہت مزاحمت کی، آخر کار اپنے ہی دوست جنرل دوستم نے جب مجاہدین سے ہاتھ ملایا تو نجیب سے روسیوں نے بھی ہاتھ کھینچ لیا، بالآخر نجیب کو 1992 میں اقوامِ متحدہ کے دفتر میں پناہ لینا پڑی۔ بہت مزاحمت کے بعد نجیب نے طالبان کے کہنے پر استعفیٰ دیا اور بھارت بھاگنے کی کوشش میں ناکام ہوئے۔ 1996 میں طالبان نے انہیں اور ان کے بھائی کو اقوامِ متحدہ کی عمارت سے گھسیٹ کر نکالا اور پھانسی پر لٹکا دیااور کئی دنوں تک کابل کے مرکز میں لٹکے رہے۔
    ملا عمر نے اس وقت نجیب کے بارے میں کہا تھا کہ، "ہم نے اسے اس لئے مارا کیونکہ یہ ہمارے لوگوں کا قاتل تھا”

    برہان الدین ربانی۔۔۔
    1992 میں سویت یونین کے انخلا کے بعد یہ ایک سال تک افغانستان کے صدر رہے، ان کے دورِ حکومت میں کابل سمیت افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو گئی تھی۔ جس کے نتیجے میں طالبان بطور حکمران ابھر کر آئے، ستمبر 2011 میں برہان الدین ربانی کو ایک طالبان خود کش حملہ آور نے پگڑی میں بم رکھ کر ان کی رہائش گاہ پر مار دیا تھا۔

    ملا عمر۔۔۔
    90 کی دہائی اور برہان الدین کے خانہ جنگی کے دور کے بعد طالبان کے دور میں ملا عمر افغانستان کے حکمران بنے، انکی حکومت کو پاکستان نے تسلیم کیا جبکہ امریکہ نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔11/9 کے بعد اسامہ بن لادن کو ڈھونڈنے میں جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو طالبان کی حکومت کا دھڑن تختہ ہوا۔ انکے مرنے کے دو سال بعد دنیا کو انکے مرنے کا پتہ چلا تھا۔

    حامد کرزئی۔۔۔
    2001 سے 2014 تک امریکی اور نیٹو افواج کی موجودگی میں افغانستان کے صدر حامد کرزئی تھے۔ جو اب بھی کابل میں طالبان کے ساتھ موجود ہیں جبکہ اشرف غنی سینکڑوں ملین ڈالروں سمیت ملک سے بھاگ چکے ہیں۔

    اشرف غنی۔۔
    اشرف غنی کو اب کون نہیں جانتا۔۔ حامد کرزئی کے بعد ڈالروں سمیت ملک سے بھاگنے والے اشرف غنی کو افغان تاریخ میں اب صدیوں یاد رکھا جائے گا۔

    اگر گزشتہ 50 سالہ تاریخ کو ہی دیکھ لیا جائے تو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ افغانستان کی مٹی ہی ایسی ہے کہ یہاں سے روسی بھی رسوا ہوئے اور امریکہ بھی بے سرو سامان نکلا، حالانکہ جو کوئی بھی حکمران عوام کی امنگوں سے نہیں آیا تو افغان عوام نے اسے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ خطے میں امن و سلامتی کی فضا ہوگی اور جنوبی ایشیا سمیت دنیا ایک امن کا گہوارا بنے گی۔ آمین!!

    ٹویٹر اکاؤنٹ:
    @Kirankhan9654

  • حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک عظیم خلیفہ ! تحریر: ناصرہ فیصل

    حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک عظیم خلیفہ ! تحریر: ناصرہ فیصل

    عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے، آپ کا نام عمر بن خطاب، لقب ‘فاروق’ اور کنیت ‘ابو حفصہ’ تھی۔ آپ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار بہترین علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا عمر رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ اور پہلے مسلم لیڈر تھے جنہیں امیر المومنین کا خطاب دیا گیا۔ ہمارے پیارے نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد ،آپ کے سب سے قریبی دوست ،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کا پہلا خلیفہ چنا گیا اور انہوں نے تقریباً دو سال تک مسلمانوں کی رہنمائی فرمائی، جب ابوبکر صدیق کو اپنا آخری وقت قریب دکھائی دیا تو انہوں نے اپنے قریبی رفقاء کو اکٹھا کیا اور انہیں بتایا کہ انکا ساتھ اب ختم ہونے کو ہے اس لیے اب وہ اپنا اگلا خلیفہ اپنے درمیان سے کسی کو چن لیں۔ لیکن بہت سی بحث اور مشوروں کے بعد بھی جب کی فیصلہ نہیں کر سکے تو انہوں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو فیصلہ کرنے کا اختیار سونپا ۔آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انتخاب فرمایا۔۔

    حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آس پاس کے کچھ لوگوں نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ک چونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بہت ہی سخت مزاج اور غصیل شخصیت کے حامل ہیں تو لوگوں پر بہت سختی کریں گے۔ جسکے جواب میں
    حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس وقت اُن سب میں سے بہترین انسان ہیں۔ حضرت عمر فاروق کو مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ کے طور پر چن لیا گیا۔ آپ نے خلافت سنبھالتے ہی سب سے پہلے اپنے لوگوں سے خطاب کیا اور خود سے اپنی توقعات کے بارے میں وضاحت کی۔۔ آپ کو اپنی سخت گیر طبیعت کے بارے میں لوگوں کی تشویش سے آگاہی تھی اس لیے اپنے خطاب میں اسکے متعلق فرمایا:

    لوگو! گواہ رہی کے مجھے آپ لوگوں کے معاملات دیکھنے کے لیے چنا گیا ہے اس لیے میری سختی آپ لوگوں کے لیے اب کمزور پڑ گئی ہے۔ لیکن میری سختی اور کھردرا پن ابھی بھی حد سے تجاوز کرنے اور جبر کرنے والوں کے لیے قائم ہے۔ اور انکے رخسار مٹی میں ملاؤں گا ۔۔ نیک اور پرہیز گار لوگوں کی حفاظت کے لیے میں اپنے رخسار بھی مٹی میں ملا ڈالوں گا۔
    ساتھ ہی ساتھ آپ نے لوگوں کو بتایا کہ وہ جو کچھ بھی کاشت کرتے ہیں یا جو بھی مال غنیمت انکا ہے اس میں سے کچھ بھی نہیں لیں گے ہاں مگر بس اتنا ہی جتنا کے اللہ کا حکم ہے۔ اور اس مال کو بھی وہ صرف اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کریں گے۔ انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ وہ انکی تنخواہیں بڑھائیں گے اور انکی سرحدوں کی حفاظت کریں گے. آپ نے وعدہ کیا کے وہ اپنی فوج کو غیر ضروری خطرے میں نہیں ڈالیں گے اور انکو زیادہ لمبے عرصے تک اپنے خاندانوں سے دور نہیں رکھیں گے۔ اور انکی غیر موجودگی میں ریاست انکے بیوی بچوں کی ذمےداری لیے گی۔ آپ یقین رکھتے تھے کے لیڈر کا کام اپنی ریاست کے لوگوں کی حفاظت کرنا ہے۔

    آپ اتنی بڑی ریاست کے حکمران ہونے کے باوجود ،اپنے ساتھ کوئی محافظ نہی رکھتے تھے۔ مدینہ کی گلیوں میں آپ ایک عام انسان کی طرح گھومتے پھرتے تھے، حتٰی کہ رات کے وقت بھی۔ بلکہ رات کے وقت وہ جان بوجھ کر گلیوں میں گھومتے اور مجبور لاچار لوگوں کی مدد فرماتے۔

    آپ خود کو ایک معمولی انسان گردانتے لیکن تاریخ اور حقائق حمے یہی بتاتے ہیں کے آپ ایک عظیم الشان حکمران اور انسان تھے، آپ جسمانی اور روحانی دونوں لحاظ سے بہت مضبوط انسان تھے۔ آپ بہت سخی، نیکوکار اور عاجزی سے زندگی گزارنے والے انسان تھے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر پوری طرح کاربند تھے۔ آپ حق اور باطل کی بخوبی پہچان کر سکتے تھے۔ آپ تکلیف محسوس کرتے تھے جب امت یا کوئی ایک فرد بھی کسی تکلیف میں ہوتا اور آپ خوش ہوتے تھے جب امت کو خوشحال اور مطمئن دیکھتے تھے۔ آپ چار خلفائے راشدین میں سے تھے۔ آج بھی آپ طاقت، انصاف، پیار اور رحم کرنے میں سب کے لیے ایک مثالی شخصیت ہیں۔آپ ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں۔
    @NiniYmz

  • افغان حکومت کا قیام اور تشکیل ، تحریر:صائمہ رحمان

    افغان حکومت کا قیام اور تشکیل ، تحریر:صائمہ رحمان

    افغانستان میں مضبوط اسلامی قومی حکومت کی تشکیل کا عمل شروع ہو چکا ہے افغان طالبان کی موجودہ حکمت عملی ماضی سے مختلف ہے طالبان کے نائب امیر اور قطر میں سیاسی دفتر کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر المعروف ملا برادرکو سونپی جا رہی ہے۔ ملا عبدالغنی برادر کو ملا برادر” کے نام سے جانا جاتا ہے جو 1994 میں افغانستان میں قائم ہونے والی تنظیم طالبان کے بانی قائدین بھی رہے ملا عبدالغنی برادر 1968 میں افغانستان کے صوبے ارزوگان میں پیدا ہوئے ان کا تعلق افغانستان کے انتہائی بااثر پوپلزئی قبیلے سے ہے، وہ کئی سال افغان صوبے قندھار میں مقیم رہے اور طالبان دور میں ہرات کے گورنر رہنے کے علاوہ طالبان فوج کے سربراہ بھی رہے چکے ہیں ۔ 2001 میں ملا عبدالغنی برادر نائب وزیر دفاع بھی رہے

    فروری 2010 میں پاکستان اور امریکا کی مشترکہ کارروائی میں ملا برادر کو پاکستان سے گرفتار کر لیا گیا تھا اور افغان حکومت سے امن مذاکرات کو فروغ دینے کے لیے اُنہیں 2018 میں رہا کر دیا گیا۔ 2020 میں ملا عبدالغنی برادر نے امریکا کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کیے جس کے بعد ہی افغانستان میں امریکا کی 20 سالہ جنگ کا خاتمہ ہوا۔ اگر طالبان کے تنظیمی ڈھانچے پر نظر ڈالی جائے تو سربراہ امیر مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ سابق چیف جسٹس طالبان اور 2016 سے طالبان کے سربراہ بھی ہیں اور سیاسی ، مذہبی عسکری امور پر حتمی فیصلے کے مجاز ہیں نائب ملا محمد یقیوب بانی طالبان ملا عمر کے صاحبزادے ہیں اور ملٹری آپریشنل کمانڈر ہیں نائب امیر سراج حقانی سربراہ حقانی نیٹ ورک ہیں اس کے علاوہ سنئیر جج ملا عبدالحکیم نگران طالبان عدالتی نظام اور دوحہ مذاکراتی ٹیم کی قیادت کرتے ہیں لیڈر شپ کونسل یعنی رہبری شوری طالبان اعلی ترین مشاورتی فیصلہ ساز اتھارٹی 26 اراکین پر مشتمل ہے۔

    طالبان کو اپنی حکومت کے قیام سے جلد ہی افغانستان میں موجود تجربہ کار غیر ملکی عسکریت پسندوں کی حمایت میسر آئی۔ اس حمایت نے طالبان کو عسکری محاذ اور ملک پر اپنا قبضہ جمانے میں بھرپور مدد فراہم کی۔طالبان کے افغانستان کے کنٹرول کے بعد تمام امریکی سفارتی اہلکاروں کو کابل سے نکال لیا گیا ہے دوسری طرف یہ ترجمان وائٹ ہاوس کا کہنا تھا کہ طالبان نے شہریوں کو بحفاطت ائیر پورٹ جانے کی اجازت دی امید کرتے ہیں طالبان اپنے وعدوں کو پورا کرے گئے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے افغانستان میں طالبان کی فتح قرار دیا اور تسلیم بھی کر لیا۔ دوسری طرف کینیڈا کے وزیراعظم نے طالبان کی حکومت نہ مانے کا اعلان کیا ہے ان کا موقف یہ تھا کہ منتخب افغان حکومت کو طاقت کے زور پر ہٹایا گیا برطانوی وزیرخارجہ نے افغان حکومت کے قیام کی امید ظاہر کی ہے

    پاکستان سےزیادہ افغانستان میں امن کا خواہشمند کوئی ملک ‏نہیں، موجودہ صورتحال میں افغان رہنماؤں پربھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ پاکستان نے طالبان کی جانب سے افغان سرزمین کسی اور ملک کے خلاف اور دہشتگردی کے لیے ‏استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔پاکستان افغان عوام کے ساتھ کھڑا ہے پاکستان افغانستان میں دیر پا امن کے لئے بھرپور اقدامات کرنے کے لئے تیار ہیں افغان وفد نے آرمی چیف سے ملاقات کے دوران پاک فوج کی قربانیوں اور کامیابیوں کو سہراہا اور ساتھ ہی پاک فوج کی افغانستان کی سماجی واقتصادی ترقی اور امن کے لئے کوششوں کو قابل قدر قرار دیا۔

    email saima.arynews@gmail.com

  • ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کا اس خطے کو امن کا پیغام  ہم امن چاہتے ہیں جنگ نہیں تحریر: صائمہ رحمان

    ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کا اس خطے کو امن کا پیغام ہم امن چاہتے ہیں جنگ نہیں تحریر: صائمہ رحمان

    پاکستانی نیوز چینلز پر پہلی بار ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کی براہ راست پریس کانفرنس میں کہا کہ 20 سال جنگ کے بعد افغان طالبان نے افغانستان کی سر زمین کو آزاد کروا لیا۔نااہل افغان حکومت آخرتک جنگ کی بات کرتی رہی اب چاہتےہیں ایسانظام بنےجس میں تمام طبقےکےلوگ شامل ہوں ہم نے11دن میں پورےافغانستان کوفتح کیاہے۔ سیاسی نظام پرکام جاری ہے جلداعلان کردیاجائےگا۔ یہ صرف ہماری ہی نہیں بلکے پوری وقم کی فتح ہے آزادی ہر قوم کا حق ہے آزادی افغان عوام کا بھی بنیادی حق ہے افغانستان میں تمام غیرملکیوں کورہنےکاحق بھی ہے احترام کرتےہیں ہمارا کابل میں ‏داخل ہونےکاکوئی ارادہ نہیں تھا لیکن کرپٹ حکمران وقت سےپہلےبھاگے نکلےلوٹ مارہوئی توکابل میں ‏داخل ہوئے ہم لوگوں کی حفاظت کیلئےمجبوری میں کابل میں داخل ہوئے طالبان نہیں چاہتےکہ افغانستان میں جنگ جاری رہے.
    ‏ عام معافی کااعلان افغانستان کی سرزمین کو دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں کرنےدیں گے ۔ خواتین کو شرعی حدود کے مطابق کام کرنے دیا جائے گا خواتین کسی بھی معاشرےکااہم جزہوتی ہیں ان کااحترام کرتےہیں۔ خواتین کوشریعت اورقانون کےمطابق مکمل حقوق دینگے۔
    ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کا یہ بھی کہنا تھا کہ قومی مفادات کے خلاف کوئی چیز نشر نہ کی جائے یہ بھی ایک تجویز دی گئی کابل میں سفارتخانوں اورگرین زون کومحفوظ بنایا جائے گا پڑوسی ممالک کو بھی ہمارےاصولوں کا احترام کرناچاہیِے ہماری افغان عوام سےکوئی دشمنی نہیں اسلامی امارت افغانستان میں ‏سیاسی نظام کی تشکیل کیلئےمشاورت جاری ہے چاہتےہیں ایسانظام بنےجس میں تمام طبقےکےلوگ ‏شامل ہوں ہم نے11دن میں پورےافغانستان کوفتح کیاہے ہم تکبرکی بات نہیں کرتےامن کی بات ‏کرتے ہیں۔ کسی سےذاتی دشمنی نہیں چاہتے کےکابل میں داخل ہونےکےبعدکسی کوتکلیف نہیں پہنچائی گئی یقین دلاتے ہیں عوام کےجان ومال کی حفاظت کی جائےگی افغانستان کوقبضےسےآزادکرانےپرفخرمحسوس کرتے ہیں
    افغانستان کوحق ہےکہ وہ قانون بنائےجواقدارکےمطابق ہوافغانستان کی تعمیرمیں بین الاقوامی برادری تعاون کرے ایسی حکومت تشکیل دی جائےگی جو عوام کی خدمت کرےافغان عوام اب افغانستان میں مثبت تبدیلی دیکھیں گےہم نےافغانستان کاکنٹرول سنبھال چکے ہیں اورجنگ ختم کر چکے ہیں اب ہم سب مل کر ایک متحدہ افغانستان چاہتےہیں اب عہدکر چکے ہیں افغان سرزمین دوسروں کےخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے میڈیاکوعوام کی اقداریااسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں ہو گی۔ افغان سرزمین کو آزادکرانا ہمارابڑاہدف تھا جو پورا ہوا۔
    میڈیاآزادہےتمام ادارےاپنی سرگرمیاں جاری رکھیں ہماری تین تجاویزہیں،غیرجانبداری ہونی چاہیے نشریات اسلامی اقدارسےمتصادم نہیں ہونی چاہئیں قومی مفادات کےخلاف کوئی چیزنشرنہ کی جائےمعاشی ترقی کےحصول کوشش کی جائے گی انفرااسٹرکچرکی تعمیرکیلئےکام کیا جائے گا۔ روس چین کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں ہم اپنی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہیں آنے والے دنوں میں افغانستان منشیات سےپاک ملک ہوگا حکومت کےقیام کےبعدہی افغانستان کےجھنڈےکافیصلہ ہوگا۔

    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6

  • افغان طالبان فاتح، جنگ بندی کا اعلان ، تحریر:صائمہ رحمان

    افغان طالبان فاتح، جنگ بندی کا اعلان ، تحریر:صائمہ رحمان

    افغانستان پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم ترین ملک ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے ، مشترکہ اعتقاد اور باہمی دلچسپی پاکستان کے افغانستان کی طرف رکاوٹ بننےکے بنیادی عوامل ہیں۔ یہ جنوب اور وسطی ایشیا پر مشتمل مجموعی سڑکوں پر محل وقوع ہے جو پاکستان کے لئے اس کی اہمیت میں مزید اضافہ کرتا ہے۔

    تاہم ، افغانستان کے اندرونی اور بیرونی مفادات کی بنا پر عدم تعاون کا رویہ خاص طور پر سرد جنگ کے نتیجے میں افغانستان کی ترقی کا رخ موڑ گیا۔ افغانستان پر طالبان کی حکمرانی کے چار سالوں کے بعد ، پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کبھی بھی مستثنیٰ نہیں تھے

    جس کی گہری جڑیں تاریخی روابط ، روایتی وابستگی ، معاشرتی تفاوت کی مماثلت ، مشترکہ مذہبی شناخت ، نسلی ثقافتی غلامی اور اسٹریٹجک شراکت داری سبھی تقسیم ہند سے قبل کے برصغیر کے زمانے کی ہیں۔ اس کے باوجود ، تقسیم کے بعد کی علاقائی حرکات اور برطانوی راج اور افغانستان کے مابین امور کی میراث میں ، دونوں کے مابین دوطرفہ تعلقات ہیں ، جس میں اتار چڑھاؤ نمایاں ہے۔ پھر بھی لوگوں سے لوگوں کی سطح پر وابستگی اور گرمجوشی اگر عام نہیں تو عام طور پر خوشگوار رہے ہیں۔ نائن الیون کے بعد ، امریکہ کی سربراہی میں بین الاقوامی اتحاد نے افغانستان پر حملہ کیا۔ اس نے طالبان کی حکومت کا تختہ پلٹ دیا اور تب سے ہی افغانستان کا سیاسی چہرہ اوورٹ جبر اور خفیہ سازشوں کے ذریعے سنبھال لیا گیا۔

    15 اگست کو افغان طالبان نے 22 صوبوں پر کنڑول حاصل کرنے کے بعد کابل کا گھیراو کیا طالبان نے زیر قبضہ صوبوں میں محکمہ انٹیلی جنس ، گورنر کا دفاتر، پولیس ہیڈ کواٹرز اور مقامی جیلوں پر کنٹرول حاصل کیا ساتھ ہی واشنگٹن نے امریکی سفارت خانے کو تمام اہم اور حساس دستاویزات کو تلف کردینے کا حکم بھی دیا اور سٹاف کو بحفاظت نکالنے کے لئے اپنے فوجی ائیر پورٹ پر تعینات بھی کئے۔پینٹا گون کے سیکرٹری اطلاعات جان کربی نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال بہت خراب ہے ہم طالبان کی تیز رفتار پیس قدمی سے پریشان ہیں۔

    امن اقتدار کی منتقلی کے معاہدے کے مطابق افغان صدر اشرف غنی اپنی ٹیم اور اہلخانہ کے ساتھ ہمراہ ملک سے فرار ہو ئےطالبان کی کابل شہر میں انٹری ہوتے ہی افراتفری پھیل گئی طالبان قیادت نے لوٹ مار روکنے کے لئے اور امن وا مان قائم کرنے کےلئے اپنے کمانڈرز اور جنگجووں کو تعینات کر دیا۔20 سال بعد قبضہ کرنے کے ساتھ ہی افغانستان میں جنگ بندی کا اعلان کر دیا ترجمان سہیل شاہین نے بیان میں کہا طالبان کو ہدایت دی گئی کہ بغیر اجازت گھروں میں داخل نا ہوا جائے کسی کی جان ، مال اور عزت کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ افغانستان میں 16 اگست کی صبح صدرارتی محل میں سورت النصر کی تلاوت اور دورد شریف کا ورد بھی کیا گیا ساتھ ہی افغان طالبان نے سرکاری ٹی وی پر نشریات میں شہریوں سے پر امن رہنے کو کہا کابل ائیر پورٹ سے تمام پروازیں منسوخ کر دی ۔

    ائیر پورٹ پر موجود عینی شاہدین کے مطابق کابل ائیر پورٹ میں ہزاروں کی تعداد میں افراد موجود تھے جو کابل چھوڑنے کی وجہ سے جہازوں میں سوار ہونے کی کوشش کرتے رہے اور تین نوجوان ایک G17 طیارے کے پہیوں یا سامان رکھنے والے خانے میں چمٹ گئے جس کی وجہ سے ان کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا ۔روس چین ایران نے طالبان حکومت کا خیر مقدم کیا اور دوستانہ تعلقات کا اعلان کیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستا ن پر افغانستان کی صورتحال کا اثرا کیا ہو گا اپنا بارڈر سکیور کرنے کا ہوم ورک مکمل کر چکا ہے ٹی ٹی پی یا تو ختم ہوجائے گی ضم ہو جائے گی آنے والے دن پاکستان کے لیے بہتری زیادہ اور خطرات کم ہیں اشرف غنی کے ملک سے فرار اور طالبان کے کابل پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد پیدا ہونے والی ‏صورتحال پر پاکستان نے پالیسی بیان جاری کیا طالبان لیڈر شپ کو کامیابی مل چکی ہے پاکستان اب کیا اقدامات کرے گا۔

    امریکہ کا افغانستان سے چلا جانا پورے خطے پاکستان روس چین کے لیے ایک امید اور خوشخبری اعلان ہے بھارت افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتا رہا کس طرح بھارت افغانستان میں امن کو نقصان پہنچاتا رہا .

    طالبان کے کنڑول کے بعد کابل کی صورتحال اب کنٹرول ہو رہی ہے اب امریکہ کی فوجی شکست اور اس کے انخلاء کو افغانستان میں زندگی ، سلامتی اور پائیدار امن کی بحالی کا موقع بننا چاہیے افغانستان میں استحکام کی بحالی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں اور ایران چاہتا ہے پڑوسی اور برادر ملک کی وجہ سے افغانستان میں تمام گروہ قومی معاہدہ تشکیل دیں۔ طالبان 2001 کے بعد سے اب تک اپنی سب سے بہتر پوزیشن میں ہیں یہ وہ طالبان ہیں یہ جارحانہ انداز میں پیش قدمی کرنے اور ملک کو واپس لینے کی صلاصیت رکھتے ہیں امریکہ نے جدید ترین فوجی سازوسامان ، 3لاکھ مضبوط افواج اور ایک فضائی قوت پر اربوں ڈالر خرچ کِیے جو کہ طالبان کے پاس نہیں تھے لیکن پھر فتح ان کی ہوئی ۔
    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6

  • یوم آزادی اور قربانیاں ،تحریر : ارشد محمود

    یوم آزادی اور قربانیاں ،تحریر : ارشد محمود

    آزادی کا لفظ ذہن میں آتے ہی درد کی ٹیسیں بھی اٹھتی ہیں ۔ آزادی اپنے ساتھ ہجرت کے زخم بھی لاتی ہے ۔ آزادی بغیر تکالیف کے ممکن ہے اور نہ ہی اپنے اصل مفہوم میں آزاد ہونا۔ پاکستانی قوم اپنے یوم آزادی کو اس شان و شوکت سے مناتی ہے کہ پوری دنیا میں اس کی دھوم مچی ہوتی ہے ۔ پاکستانیوں کو اپنے اس دن کو منانا بھی اسی شان و شوکت سے چاہیے کہ غلامی سے آزادی تک کا سفر بڑا ہی خوف ناک اور اندوہ ناک بھی تھا ۔ خالی لٹتے لٹاتے ، کٹتے کٹاتے اور اپنوں کے لاشوں کو بغیر کفن دفن آہوں میں دفناتے خونی لکیر کو عبور کرنے کا نام آزادی تھا ۔ غلامی سے آزادی تک کا سفر آخری مغل بادشاہ سے لے کر جنگ آزادی ، تحریک خلافت و دیگر تحاریک سے ہوتا ہوا تقسیم برصغیر پر آکر رک سا گیا ۔ اس جگہ پر مسلمانوں کی قیادت نے فیصلہ کیا کہ ہم ہندوؤں کے ساتھ نہیں رہ سکتے ۔ مسلمانوں نے برصغیر پر صدیوں حکومت کی تھی اور انگریز کے بعد وہ محکوم بن کر بھی اپنا ماضی نہیں بھول سکتے تھے ۔ اس وقت ہندوؤں نے انگریزوں کا ساتھ دے کر اپنا آپ مضبوط کیا اور پھر جب ایسٹ انڈیا کمپنی و انگریز نے برصغیر چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو ہندوؤں نے سرتوڑ کوشش شروع کی کہ وہ پورے برصغیر پر قابض ہوجائیں۔ یوم آزادی کے روز ہمیں اس وقت کی مسلم قیادت کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ انھوں نے دنیا جہاں کی دشمنی مول لی ، خزانوں کو ٹھوکر ماری ، قیادتوں کے خواب چھوڑے اور پھر وہ کردکھایا جو کہ ناممکن حد تک مشکل تھا۔

    قیام پاکستان کا خواب جس قدر طویل تھا اسی قدر پرخطر بھی تھا ۔ جب فیصلے کی امید دونوں طرف بندھ گئی تو خوف و ہراس بھی پھیل گیا ۔ وہ لوگ جو صدیوں سے ایک دوسرے کے ہم ساے تھے ، ایک دوسرے کے ساتھ کھاتے پیتے ، اٹھتے بیٹھتے اور غمی و خوشی میں شریک ہوتے تھے ۔ دشمن بن گئے ۔ یہ ظاہر کرتا تھا کہ مسلم قیادت نے بروقت اور صحیح فیصلہ کیا ہے ۔ ہندوؤں کی طرف سے مسلمانوں پر ظلم و تشدد شروع ہوا ۔ حالات بے قابو ہوے تو ہجرت کے فیصلے شروع ہوے ۔ ہندو بلوائیوں نے انسانیت کے نام پر کلنک کا ٹیکا لگا دیا۔ مسلم قافلوں پر حملے کرتے ، جوان بیٹیوں کو چھوڑ کر سب کو شہید کردیتے ۔ وہ جو بچپن میں ایک دوسرے کے گھروں میں کھیلے تھے وہی آج راکھی باندھنے والی مسلم بہن کو ہوس کا نشانہ بناکر اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے نظر آ رہے تھے۔ قیام پاکستان جہاں شہداء کی مرہون منت ہے وہی پر پاک باز مسلم خواتین کی عزت و آبرو کا بھی مقروض ہے ۔

    آج ہم سب پاکستان میں موجود ہیں کسی بھی قسم کا خوف ہے اور نہ ہی کوئی بوجھ ۔ معاشرے پر نظر دوڑائیں تو معلوم پڑتا ہے کہ تقسیم برصغیر کے وقت دی جانے والی لاکھوں قربانیاں رائیگاں گئی ہیں۔  اس وقت ہندو مسلم جھگڑے تھے ، ہندو ہوس زدہ درندے بلوائیوں کی شکل میں قافلوں کے قافلے تہہ تیغ کردیتے تھے ۔ آج علاقوں میں ، گلیوں اور چوراہوں میں مسلم ہوس کے مارے لوگ پاکستانی بچیوں اور عورتوں کی عزتوں کے درپے ہیں۔ "پاکستان کا مطلب کیا ؟ لاالہ الا اللہ ” کا نعرہ لگانے والے ملک میں صنف نازک کی حفاظت کرنے میں ناکام نظر آرہا ہے ۔ قوانین موجود ہیں ، عمل درآمد کون کرواے ؟ آئیے اس بار جشن آزادی کے موقع پر اپنے آپ سے عہد کریں کہ اپنی بساط کے مطابق پاکستان کو اسلامی تعلیمات کے زیر اثر بنانے کی کوشش کریں گے ۔