Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • والدین کی زمہ داری اور نسل نو . تحریر : سید غازی علی زیدی

    والدین کی زمہ داری اور نسل نو . تحریر : سید غازی علی زیدی

    اولاد ایک امانت
    والدین کی غفلت
    سنگین خیانت
    غلط صحبت
    سخت جہالت
    بچوں کی تربیت
    نسلوں کی عافیت

    پاکستانی معاشرے میں تعلیم و تربیت، تہذیب و شائستگی، تمیز وآداب جیسے الفاظ و اصطلاحات متروک ہوتے جا رہے ہیں۔رات دن زمانہ خراب ہے کی گردان کرنے والے بھول گئے کہ زمانہ نہیں انسان میں خرابی آ چکی ہے۔ جب آپ اپنی اولاد کو وراثت میں جھوٹ، کینہ، بغض، حسد اور لالچ جیسی دولت دیں گے تو وہ درندے بنیں گے انسان نہیں۔ وہ انسان جو کہ اشرف المخلوقات قرار پایا تھا اسے مال حرام اور سیاہ کاریوں نے اسفل السافلین کے درجے پر لا پٹخا۔ لیکن صد افسوس کوئی ملال نہیں کوئی رنج نہیں۔ ہم نفس کے غلام بنے، بنا سوچے سمجھےشیطانیت کی راہ پر بگٹٹ بھاگے جارہے۔ زیادہ سے زیادہ مال اکٹھا کر لیں تاکہ اولاد کو کوئی تنگی نہ اٹھانی پڑے۔
    کونسی اولاد؟ وہ جو والدین کو بڑھاپے میں اولڈ ہاؤس میں جمع کرادیتی کہ والدین کی کھانسی کی آواز ان کے آرام میں مخلل ہوتی۔ یا وہ اولاد جس کی حرام کاریوں کی وجہ سے ماں باپ بڑھاپے میں جیل کی چکی پیستے اور بھری عدالتوں میں رسوا ہوتے۔ یا وہ اولاد جو خود تو حرام موت مر جاتی لیکن ماں باپ کو کلنک کا داغ لگا جاتی اور تا عمر بوڑھے والدین اولاد کی بے راہروی پر دنیا کے طعنے سنتے۔ ایسے میں برسوں میں کمائی گئی عزت و مرتبہ خاک میں مل جاتا اور رہی بات مال و دولت کی تو جب اولاد ہی نہ رہی تو ایسی دولت کا کیا فائدہ؟
    حرام کا لقمہ اولاد کو کہلاتا انسان بھول جاتا کہ یہ وہ آگ ہے جو نہ صرف دنیا میں جلا کر خاکستر کر دیتی بلکہ آخرت کا وبال بھی ہے۔ سونے چاندی کا نوالہ نہیں تھوہر کے کانٹے ہیں جو اولاد کے حلق میں پیوست ہورہے۔ یہ وہ زہر ہے جس کا کوئی تریاق نہیں۔ جیسے پیشاب کا ایک قطرہ سارا پانی نجس کر دیتا ویسے ہی جان بوجھ کر کھایا گیا ایک نوالہ حرام انسان کا جسم وروح پلید کردیتا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے؛
    "بیشک انسان خسارے میں ہے”

    دنیا میں قابلیت کے جھنڈے گاڑتا، جاہ و حشمت کی بناء پر ناقابل تسخیر بنا انسان بھول جاتا کہ اس کا خمیر کھنکھناتی مٹی سے اٹھا ہے۔ اس کی اوقات ایک گوشت کے لوتھڑے سے زیادہ نہیں۔ جس جسم کی خوبصورتی پر اکڑتا، سانس بند ہو جائے تو وہی جسم ناقابل فراموش بدبو دینے لگتا ہے۔ جس اولاد کیلئے تمام عمر مال اکٹھا کیا اسی اولاد کو قبر میں اتارنے کی جلدی ہوتی تاکہ بٹوارہ جلد از جلد ہوسکے۔ برسوں گزر جاتے نہ کوئی قبر پر پھول ڈالتا نہ فاتحہ پڑھتا۔ اب تو اللّٰہ کے فضل سے قلوں کی جگہ موم بتی رتجگے نے لے لی ہے پہلے مولوی کو پیسے دے کر دنیا دکھاوے کو ہی سہی قرآن خوانی تو ہو جاتی تھی اب بھلا ہو جدیدیت و لبرل ازم کا اس سے بھی گئے۔ اور ہمارے معاشرے میں اگر نقالی کی رسم نہ پوری کی جائے تو معاشرہ طعنے دے دے کر مار دیتا سو یہ رسم بد خیر سے اب امراء و زعماء کی بدولت حکومتی سطح پر منتقل ہوچکی ہے۔ فنکارسے لیکر ادیب تک، سیاستدان سے لیکر طبیب تک کوئی فوت ہوجائے تو کینڈل لائٹ ویجل از حد ضروری ہے۔

    جنریشن گیپ ختم کرنے کے چکرمیں تعلیم یافتہ والدین نے اولاد کے دل سے ادب واحترام، ڈر و خوف ہی ختم کر دیااور پھر یہ گلہ کہ آج کل کی اولاد زبان دراز و بدتمیز ہے۔ ارے بھائی اولاد کو سر پر تو آپ نے خود چڑھایاہے۔ ہر جائز ناجائز فرمائش پوری کر کے، منہ سے بات نکلنے سے پہلے مطلوبہ چیز مہیا کر کے، دین و مذہب سے دور کر کے، تو اب گلہ کیسا اور کس سے بھلا؟ دنیاداری سکھانے کے چکر میں دین کو پس پشت ڈال دیا۔ سکول کیلئے اٹھنا لازمی لیکن فجر کیلئے ابھی بچہ ہے کہہ کر غفلت برتنا۔ قبر میں پہلا سوال نماز کا ہونا اکنامکس کا نہیں۔ نرسری میں لہک لہک کر پوئم پڑھنا تو آ جاتی لیکن سورہ اخلاص وزیر بن کر بھی صحیح نہیں آتی۔
    بچے کا دماغ تو کورا کاغذ ہوتا اس کو جو سکھاؤ نقش ہو جاتا۔ لیکن اگر سکھانے والے خود میں مگن ہوں تو بچے کا بہک جانا لازم ہے۔ اپنے سماجی روابط استوار کرتے والدین جب اولاد سے بے اعتنائی برتیں تو کبھی کوئی خانساماں تو کبھی ڈرائیور یا کوئی دور و نزدیک کا رشتہ دار بچوں کو ورغلا کر بچپن تباہ کر دیتا اور بچے کبھی خوف سے تو کبھی لاعلمی کےسبب کسی کو بتا نہیں پاتے بس تاعمر خود ساختہ احساس ندامت کا شکار رہتے۔

    اپنی خرابیوں کو پسِ پشت ڈال کر۔
    ہر شخص کہہ رہا ہے زمانہ خراب ہے

    ہم اپنے معاشرے کی کیا بات کرتے فرانس جیسے ماڈرن ملک میں جب "می ٹو” کی مہم چلی تو بیشمار لوگوں نے سوشل میڈیا پر اپنی آپ بیتی شیئر کی کہ کیسے ان کو بچپن میں انکے قریبی لوگوں نے جنسی درندگی کا نشانہ بنایا جس کا سب سے زیادہ قصوروار انہوں نے اپنے والدین کی غفلت کو ٹھہرایا۔

    آج جب ہم نوجوان نسل کی بے راہروی پر سیخ پا ہوتے ہیں تو اس کے محرکات کو نظر انداز کرنا جہالت ہے۔ جدیدیت کے چکر میں والدین آپنی اولادوں کو ہائی فائی سکولوں میں داخل کرا دیتے جہاں کی فیس تو لاکھوں میں لیکن تربیت ٹکوں میں بھی نہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق تمام بڑے اسکولوں میں منشیات فروشی اپنے عروج پر ہے۔ ساتھ ہی ساتھ کبھی ویلنٹائن ڈے تو کبھی میوزیکل نائٹ کے نام پر نوعمر لڑکے لڑکیوں کو نچایا جارہا۔ کبھی تعلیمی دوروں پر لے جاکر مکمل جنسی آزادی دے دی جاتی تو کبھی عشق میں ناکامی پر خودکشی تک کی نوبت آ جاتی۔ اور والدین کو اس وقت ہوش آتا جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا۔
    ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ اور باپ کی شخصیت بچے کا پہلا آئیڈیل ہوتی۔ لیکن جب والدین ہی بے توجہی برتیں تو بچے کی شخصیت کا مسخ ہونا خارج از امکان نہیں۔ بلاشبہ قوموں کی ترقی کا دارومدار نوجوان نسل پر ہوتالیکن اگر بزرگوں کی تربیت میں ہی نقص ہو تو کیسی تربیت اور کیسی ترقی۔ خالی دینی یا انگریزی تعلیم کے رٹوں کا کیا فائدہ جب تربیت صفر ہو۔

    تہذیب سکھاتی ہے جینے کا سلیقہ
    تعلیم سے جاہل کی جہالت نہیں جاتی

    ہر طبقے کے نوجوانوں میں جرائم کی بڑھتی شرح تشویشناک ہے۔ نشہ، چوری، ریپ، گھر سے بھاگنا اور خودکشی جیسے خطرناک جرائم ہمارے بچوں کو تباہ کررہےاور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ آج کے پرفتن دور میں اسلامی تعلیمات کی پیروی کر کے ہی ہم اپنے بچوں کو مضبوط بنیاد، بہترین تربیت، اچھا اخلاق اور اعلیٰ پائے کی دینی و دنیاوی تعلیم فراہم کرسکتے اور یہ ایک واحد راہ ہے جس پر چل کر ہم اپنی نسلوں کو سنوار سکتے اور پاکستان کو صحیح معنوں میں ریاست مدینہ میں ڈھال سکتے۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے
    "کوئی باپ اپنی اولاد کو حسن ادب اور اچھی تربیت سے بہتر کوئی اور تحفہ نہیں دے سکتا”

    @once_says

  • نور کیس، سماج کیلئے تازیانہ . تحریر: سید غازی علی زیدی

    نور کیس، سماج کیلئے تازیانہ . تحریر: سید غازی علی زیدی

    امیر زادہ و اعلیٰ تعلیم یافتہ، جوان اور خوبصورت، مال و دولت کی ریل پیل، نوکروں کی فوج ظفر موج، امریکی شہریت کا حامل، پارٹی کلچر کا دلدادہ، مادر پدر آزادی کا قائل، 
      ظاہر جعفر

    لیکن اب بس ایک سفاک قاتل
    کیونکہ ایک لڑکی نے شادی سے انکار کردیا!!!
    تو لڑکی کی یہ اوقات؟ 

    کیا ہوا اگر وہ بھی امیر تھی، بچپن کی دوست تھی، اس کا باپ  حکومتی اعلی ترین عہدوں پر فائز رہا تھا۔ تھی تو وہ ایک لڑکی۔

     مردانگی کیخلاف یہ انکار کیسے برداشت کر لیتا؟؟؟

     گو کہ وہ اس طبقے سے تعلق رکھتا جہاں صنفی امتیاز کی بجائے صرف مساوات کا دلفریب تصور دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا۔ لیکن فطرت کون بدل سکتا؟ ایلیٹ کلاس کی نفسیاتی معالج ماں کا لاڈلا سپوت، جو خود بھی ایلیٹ تعلیمی اداروں میں نفسیاتی مشاورت کیلئے بطور بہترین استاد مشہور تھا۔ بظاہر مہذب اور عمدہ اخلاق کا حامل، لیکن درحقیقت سفاک اور جنونی، بظاہر عورتوں کی مادر پدر آزادی کا علمبردار لیکن عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھنے والا۔ جس کی پر تشدد حرکتوں سے نہ تو خود اسکی اپنی ماں محفوظ تھی نہ کوئی یورپین کال گرل۔ امریکہ و یورپ نے تو ڈیپورٹ کر کے پابندی لگا دی لیکن پاکستان میں دولت کے بل پر حقائق چھپانا کیا مشکل؟ جبکہ آپ کے والدین نہ صرف امیر ہوں بلکہ جاہ و حشمت والے بھی۔ جب دولت اور افسر شاہی آپ کے گھر کی باندی ہوں تو کیسا خوف، کیسی اخلاقیات۔ اور رہا خوف خدا تو خدا کو تو آپ مانتے ہی نا ہوں۔ خدا کو غیر ضروری قرار دے کر جب آپ زندگی سے نکالتے ہیں تو ساتھ ہی ایمان کا نور اور دل کا سکون بھی چھن جاتا لیکن الحادیت کے علمبرداروں کو یہ بات کون سمجھا سکتا جب خود خدا ہی ان سے منہ موڑ چکا ہو۔

    نشے کا عادی، شراب و کباب کا دلدادہ، اذیت پسند، ملحد، غرض کونسی  بد خصلت تھی جو اس میں نہیں تھی۔بدقسمتی سے نور اسکی پرتشدد طبیعت اور سیاہ ترین فطرت کے کچھ پہلوؤں سے واقفیت حاصل کرچکی تھی۔سو پوری منصوبہ بندی سے اس کے گرد ایک شیطانی جال بنا گیا۔ بچپن کی دوستی اور پرانی محبت کا واسطہ دے کر کچھ دن آخری بار ساتھ گزارنے پر مجبور کیا گیا اور یہ بات تو طے ہے کہ لڑکی چاہے امیر زادی ہو یا فقیرنی، مردوں کے جھانسے میں آ ہی جاتی ہے۔ ساری عقلمندی، تعلیم، خاندانی رواج سب طاق میں پڑے رہ جاتے جب لڑکی اپنی حدود پار کر لیتی پھر چاہے وہ روایتی مشرقی عورت ہو یا مادر پدر آزادی کی حامی۔ سو قارئین کرام اسکے بعد شروع ہوتی ہے سفاکیت اور بربریت کی وہ کہانی جس کا ہرروز ایک نیا دلخراش پہلو منظر عام پر آ رہا ہے۔ وہ دلدوز تفاصیل جس نے سارے لبرل ازم اور جدیدیت کا حسین مگر کھوکھلا بت پاش پاش کر دیا ہے۔

    ایک نہتی لڑکی جو اندھی محبت کے نشے میں چور تھی اسکو وحشیانہ انداز میں مارمار کر سارا نشہ اتار دیا۔ حبس بیجا میں رکھ کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ بھاگنے کی ناکام کوشش پر سر کے بالوں سے گھسیٹا اور بدترین سفاکیت کا مظاہرہ کرتے چھریوں کے وار کرکے مار دیا اور جب شقی القلب انسان کی اس پر بھی تسلی نہ ہوئی تو سر ہی قلم کر کے لاش سے4 فٹ کے فاصلے پر رکھ دیا۔ خدا کی پناہ اس واردات کا تصور ہی عام انسان کے رونگٹے کھڑے کردینے کیلئے کافی ہے۔ لیکن یہ سب کرتے نہ قاتل کو کوئی جھرجھری آئی نہ رحم کی کوئی رمق اس کے دل میں جاگی۔ گھر کے ملازم گونگے بہرے بنے سب دیکھتے رہے لیکن کوئی انسانیت کسی میں بیدار نہ ہوئی۔  ستم بالائے ستم یہ کہ وہ ماں باپ جن کی آنکھوں کے سامنے نور پلی بڑھی تھی وہ ایک ایک لمحے کی کاروائی سے واقف تھے لیکن بجائے بیٹے کو روکنے کے الٹا ملازمین کو ہدایات جاری کرتے رہے۔ یہاں تک کہ نور کے والد کے سامنے نور کی گمشدگی پر سختی سے لاعلمی کا اظہار بھی کیا۔ شور سن کر راہ چلتے کسی بھلا مانس کے فون کرنے پر جب پولیس پہنچی تو طاقت کے نشے میں چور قاتل کے ماں باپ پولیس کو بھی دھمکاتے اور معاملہ رفع دفع کرنے کی کوشش کرتے۔ کیونکہ کچھ دیر بعد قاتل کی بیرون ملک روانگی طے تھی۔

    انسانیت، اعتبار، تعلق داری، اخلاقیات، رواداری۔۔۔ غرض ہر چیز کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں اس اندوہناک واقعے نے۔ شاید اگر نور کے والد بارسوخ نہ ہوتے تو کبھی قاتل نہ پکڑا جاتا۔ اگر نور کا تعلق کسی عام گھرانے سے ہوتا تو کیا کبھی بھی یہ تفصیلات سامنے آنی تھیں؟

    اس سانحہ میں کئی اسباق پوشیدہ ہیں۔ اس بہیمانہ قتل نے ہمارے معاشرے کے کئی تاریک ترین پہلوؤں کو بری طرح سے آشکار کر دیا ہے۔ پہلی دفعہ جدیدیت اور لبرل ازم کی ہولناکیاں اس شدت سے سامنے آئی ہیں کہ انہوں نے مادر پدر آزادی کی طرف تیزی سے گامزن معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے ہر معاشرتی برائی کا الزام مذہبی انتہا پسندی کے سر ڈال کرلبرل ازم اور جدیدیت کا راگ الاپنے والوں کی زبانیں اب کنگ ہیں.

    آج تک مادر پدر آزادی اور عورت مارچ کے حق میں نعرے لگانے والوں نے عورتوں پر ظلم وتشدد کے تمام واقعات کی جڑ پدرسری معاشرے، مذہبی روایات اور قدامت پرست طبقے کو قرار دیا ہے۔ وہ اب بت بنے بیٹھے ہیں۔ عورت مارچ کے نام پر طوفان بے حیائی مچانے والوں کو سانپ سونگھ چکا ہے۔

     اگر پاکستان کے امیر ترین طبقہ کا نوجوان، ماڈرن ازم کا پروردہ، فارن کوالیفائڈ ملحد ہونے کے باوجود اتنی سفاکیت سے جان لے سکتا تو باقی کیا بچتا؟ الحادیت کی تو بنیاد ہی یہ کہ کوئی خالق حقیقی نہیں کوئی آسمانی مذہب نہیں بلکہ انسانیت ہی اصل مذہب ہے۔ پھر اب وہ انسانیت کہاں گئی؟

    امیر کبیر ماں باپ کے بچے شرابی، نشئی، زانی، ملحد بنے لوگوں کی زندگیاں اجاڑ رہے اور ماں باپ ماڈرن بننے کے چکر میں جان بوجھ کر انجان بنے بیٹھے۔ بلکہ الٹا اولاد کی سنگین غلطیوں پر پردہ ڈال رہے کبھی رشوت دیکر کبھی دیت ادا کرکے۔ ظاہر جعفر کا باپ بہت بڑی کامیاب تعمیراتی کمپنی کا مالک لیکن اپنے ہی بیٹے کے کردار کی تعمیر میں بری طرح ناکام ہو گیا۔ دوسروں کے بچوں کی کونسلنگ کرتی ماں اپنے بیٹے کا آخر تک ناجائز دفاع کرتی رہی۔ یہ صرف ایک کیس نہیں بلکہ ہر ہر طبقے کیلئےلمحہ فکریہ ہے کیونکہ الحادیت و جدیدیت کا زہر اب مڈل کلاس بلکہ مزدور طبقے تک میں سرایت کر چکا ہے۔ کبھی کوئی لڑکا لڑکی کی لاش، غیرقانونی  اسقاط حمل کے بعد یونیورسٹی کے گیٹ پر پھینک کر چلا جاتا تو کبھی کوئی عثمان مرزا سالوں لڑکیوں کو بلیک میل کر کے ریپ کرتا رہتا۔

    خدارا! لڑکیوں کو چاہیے اپنی آنکھیں کھولیں۔ کوئی بھی غیر محرم کبھی اعتبار کے قابل نہیں ہوسکتا۔ پیار و محبت کے جھانسے میں آ کر اپنی اور اپنے والدین کی عزت کو داؤ پر نہ لگائیں۔ جو حقیقی چاہت رکھتا وہ باعزت طریقے سے رشتہ بھیجتا گیسٹ ہاؤسز میں چھپ کر نہیں بلاتا نہ برہنہ تصاویر مانگتا۔ خدارا سمجھیں یہ محبت نہیں ہوس ہے اور دنیا ہوس کے پجاریوں سے بھری پڑی۔ اسلام نے عورت کو بحیثیت ماں، بہن، بیٹی، بیوی جو مقام دیا ہےاسی میں عورت کی عزت محفوظ ہے باقی ہر رشتہ بس ٹائم پاس اور جھوٹ ہے جس کا مقدر ذلت ہوتا۔ لڑکوں کے جھانسے میں آکر صرف رسوائی مقدر ہوتی یا دردناک موت۔

    ابھی بھی وقت ہے ہمارا معاشرہ اپنی ان قدروں کیطرف واپس پلٹ جائے جن کو دقیانوسی کہہ کر ہم ترک کر چکے ہیں۔ اخلاقیات، شرم وحیاء، والدین کا احترام سب سے بڑھ کر اسلام کی اقدار و روایات کو دوبارہ سماج میں رائج کرنا ہوگا۔ رزق حلال اور قناعت پسندی کو اپنانا ہو گا۔ جائز و ناجائز طریقے سے دولت کمانے کے چکر میں ہم نے اللّٰہ تعالیٰ کو بھی ناراض کردیا ہے اور خود کو تباہی کے دہانے پر بھی کھڑا کر دیا ہے۔ نتیجتاً دین، دنیا، آخرت سب ہم سے چھنتی جا رہی۔ نور کیس نے یہ بات سمجھا دی ہے کہ ہماری نوجوان نسل کو تعلیم سے زیادہ تربیت کی ضرورت ہے۔

    نور مقدم کیس پورے معاشرے کیلئے عبرت بھی ہے اور سبق بھی۔ اس سانحہ نے ہمارے معاشرے کی وہ مکروہ حقیقت آشکار کردی ہے جس سے ہم سب کہیں نہ کہیں نظریں چرا رہے تھے۔ والدین سے دست بدست التجا ہے کہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں۔ ان کی تربیت صحیح اسلامی اصولوں پر کریں۔ ان کو رزق حلال مہیا کریں اس سے پہلے کہ آپ کی اپنی اولاد کا انجام نور یا جعفر جیسا ہو۔

     بقول اقبال

     رسوا کیا اس دور کو جلوت کی ہوس نے

    روشن ہے نگہہ آئینۂ دل ہے مکدر

    بڑھ جاتاہے جب ذوق نظر اپنی حدوں سے

    ہوجاتے ہیں افکار پر اگندہ و ابتر

    @once_says

  • کیا دانتوں کی صفائی کروانی چاھیے؟(4) تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    کیا دانتوں کی صفائی کروانی چاھیے؟(4) تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    ٹویٹر ھینڈل : @nabthedentist

    بطور ڈینٹل سرجن کلینک پر جب ھم کسی مریض کو دانتوں کی صفائی کا مشورہ دیں تو سب سے پہلی بات جو سننے کو ملتی وہ یہ کہ دانتوں کی صفائی سے تو دانت خراب ھوجاتے میں نے سنا کسی نے صفائی کروای تو اسکے دانت ھلنا شروع ھوگئے کوی کہتا پڑوسی نے کروائ اسکے دانتوں میں ٹھنڈا گرم آگیا تو آئے آج اس پر تفصیلی بات کرتے کہ

    کیا دانتوں کی صفائی کروانی چاھیئے؟
    اور اگر کروانی چاھیئے تو کب اور کیوں کروانی چاھیئے؟
    کیا دانتوں کی صفائی کا کوی نقصان ھے؟
    کیا صفائی کے بغیر بھی کوی حل ھے؟
    صفائی اور رگڑائی میں فرق کیسے سمجھنا چاھیئے؟
    کیا صفائی سے دانت سفید ھوجاتے؟
    تو ایک ایک کرکے ان سب پر مختصرا بات کرتے
    تو اس سب کا جواب کچھ یوں ھے کہ جی بلکل اگر آپ کے دانتوں کو صفائ کی ضرورت ھے اور آپکا ڈینٹل سرجن یہ سمجھتا ھے کہ دانتوں کی صفائی کروائے بغیر مسئلے کا حل نھیں ھوگا تو دانتوں کی صفائی لازمی فی الفور کروایئں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ پائ جانے والی بیماری مسوڑوں کا انفیکشن یعنی Gingivitis ھے جسکی وجہ سے مسوڑوں سے خون آنا اور پھر اسکے بعد دانتوں پر Plaque اور پھر Calculus کا لگ جانا جوکہ پتھر نما ھوتے یعنی Periodontis کی بیماری لاحق ھوجاتی یہ نا صرف مسوڑھے خراب کرتی ان سے خون نکلنے کا باعث بنتی بلکہ آگے چل کر دانتوں کا ھلنا اور نکلنے تک نوبت آجاتی جسم کے دوسرے حصے پر اسکے مضر اثرات الگ دل کے مسئلے معدے کی خرابی خون کی کمی ھیپاٹائٹس کو خراب کرنے اور کئ موذی مرض کا باعث بنتی اس سے اندازہ لگایا جاسکتا کہ جس مسئلے کو ھم سب سے کم تر سمجھتے وہ کتنے بھیانک رنگ روپ اختیار کرسکتا اسلئے اگر آپ کے دانتوں میں مسوڑوں میں مسئلہ ھو تو فوری ڈینٹل سرجن سے رجوع کریں اگر وہ دوائ اور oral hygiene کو برقرار رکھنے لئے ماؤتھ واش اور ٹوتھ پیسٹ دینا ھی کافی سمجھے تو ٹھیک نھیں تو لازمی صفائی کروایئں

    اب آتے ھیں کیا صفائی سے دانتوں کو کوی نقصان ھوتا اسکو جاننے لئے ھم کو سمجھنا ھوگا کہ اگر گھر گندا ھو تو اسکو صاف کرنا ضروری ھی نھیں مجبوری ھوتا نھیں صاف کرینگے تو بیماریاں پھینلنگی ایسے ھی منہ بھی ایک گھر ھے اسکی صفائ میں کوی کمی رہ جائے یا کسی بیماری وجہ سے وہاں مسئلے آجائیں تو اسکی صفائ بھی اتنی ھی ضروری اب جب صفائ ھوتی تو اس سے دانتوں کے درمیان جو پتھر نما گندگی ھوتی جس نے مسوڑوں کو زخمی بھی کیا ھوتا اور نیچے بھی دکھیلا ھوتا انکو صاف کیا جاتا تو ظاہر سی بات وقتی طور پر جگہ خالی معلوم ھوتی جس سے کئ لوگوں کو گمان ھوتا کہ Spaceبن گئی حالانکہ ایسا نھیں اور اگر واقعتا ایسا ھو بھی جائے تو یہ اس سے لاکھ گنا بہتر کہ منہ میں آپ بیماریوں کے ڈھیر لئے پھریں دوسرا کہ دانتوں میں ٹھنڈا گرم آجاتا ایسا وقتی طور پر کبھی کبھی ھوتا جب ھم الٹرا سانک مشین سے صفائ کرتے تو گرم مشین ناڑوں کو sensitize کردیتے ماوتھ واش اور ٹوتھ پیسٹ کا استعمال اس مسئلے کو ایک آدھ ھفتے میں ٹھیک کردیتا یہ نارمل ھے اسکا آنا کوی معنی رکھتا لیکن اصل ایشو تب ھوتا جب مریض کسی جعلی ڈاکٹر کے ہاتھ لگتا اور وہ صفائی کے نام پر سب دانتوں کی رگڑائی کردیتا جس سے دانتوں کی اوپر کی سطح اتر جاتی مریض خوش ھوتا کہ میرے دانت سفید ھوگئے مگر وہ بیچارا ساری زندگی لئے sensitivity لیکر چلا گیا ھوتا ھے یاد رکھیں دانتوں کی صفائی صرف گندگی ھٹاتی مسوڑوں کو مضبوط کرتی دانتوں کو مسوڑوں کو صحت کو بچاتی لیکن دانتوں کو سفید یا کوی نیا رنگ نھیں دیتی جو مریض کے دانتوں کا اصل رنگ ھے وھی اسکو ملتا دانتوں کی صفائی شوگر کے مریض اور دوسری بیماریوں سے جڑے لوگوں کو ھر 6 ماہ بعد کرانی چاھیئے اور جو صحت مند لوگ ھیں انکو صفائی کے بعد ھر 6 ماہ بعد چیک اپ کرایئں ضرورت پڑی تو ٹھیک نھیں تو ضرورت پر ھی کروانی چاھیئے
    یاد رکھیں صفائی نصف ایمان ھے

  • ‏نظریہ پاکستان – لا الہ الا اللہ . تحریر : سید غازی علی زیدی

    ‏نظریہ پاکستان – لا الہ الا اللہ . تحریر : سید غازی علی زیدی

    برصغیر پرپہلے مسلمان کے قدم رکھتے ہی نظریہ پاکستان کی بنیاد رکھی گئی۔ مسلم و ہندو ایک نہیں دو الگ الگ اقوام؛ یہ تفریق جنس، رنگ یا نسل کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس نظریہ کی بنیاد پر ہے جس سے زیادہ مضبوط بنیاد روئے زمیں پر کوئی اور ہو نہیں سکتی اور وہ ہے لا الہ الا اللہ۔ یہی کلمہ نظریہ پاکستان کی روح ہے اور مسلمانان عالم کا ایمان بھی۔ اسی نظریہ کی بنیاد پر مملکت پاکستان معرض وجود میں آئی اور اسی عقیدہ پر تاقیامت قائم دائم رہے گی ان شاءاللہ۔

    تقسیم ہند سے پہلے برصغیر میں مختلف قومیتیں آباد تھیں جن میں ہندوؤں کی غالب اکثریت تھی۔ جب تک ہندوستان پر مسلمانوں کی حکمرانی رہی کبھی کوئی مسئلہ نہ ہوا کیونکہ دین اسلام رعایا کو مکمل مذہبی و معاشرتی آزادی دیتا۔ مسلم بادشاہت کے مختلف ادوار میں ہندو وزیروں مشیروں تک کے عہدے پر فائز تھے۔ انہیں مذہب و سماج کے معاملات میں پوری آزادی و خودمختاری حاصل تھی۔ لیکن انگریزوں کے برصغیر پر قبضہ کرتے ساتھ ہی ہندوؤں کی صدیوں پرانی چھپی مسلم دشمنی کھل کر سامنے آ گئی۔ ہندو بنیے کی ازلی فطرت "بغل میں چھری منہ میں رام رام” پورے طور پر آشکار ہو گئی۔ تہذیب، طرز بودو باش، نظریاتی فکر، کردار و عبادات‘ طرز معاشرت و معیشت غرض ہر شعبہ میں اختلاف کھل کر سامنے آ گئے۔ صدیوں سے ایک ساتھ رہتی دو الگ قومیتوں میں کوئی ایک چیز بھی مشترک نہ رہی۔
     اس نازک صورتحال میں کچھ مسلم اکابر و رہبران نے مسلمانوں کے حقوق حاصل کرنے کی ٹھانی کیونکہ صاف نظر آ رہا تھا کہ ہندو بنیا نے اپنی مکاری و عیاری کے زریعے انگریز سرکار کو شیشے میں اتار لیا ہے اور تاج برطانیہ ہندو کو برصغیر کا اگلا حاکم تصور کر چکا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی مربوط و منظم لائحہ عمل نہ اپنایا گیا تو مسلمانان برصغیر ہندوؤں کے غلام بن کر رہ جائیں گے۔ اس لئے عافیت اسی میں ہے کہ مسلمانوں کا علیحدہ وطن ہو جہاں پر وہ اسلام کے اصولوں کے مطابق آزادی سے زندگی بسرکرسکیں۔ مفکر پاکستان علامہ اقبال کے اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے مسلمانان ہند نے قائد اعظم محمد علی جناح اور دیگر سرکردہ رہنماؤں کی زیر قیادت انتھک جدوجہد کی۔ جس کے نتیجے میں پاکستان معرض وجود میں آیا۔ لیکن یہ تقسیم ہندوؤں نے کبھی دل سے قبول نہیں کی۔

    قائد اعظم کی بہترین حکمت عملی کی بدولت انگریز اور ہندو نے مسلمانوں کے الگ ملک کے مطالبے کو تسلیم تو کر لیا لیکن ساتھ ہی تقسیم کے دوران منافرت، منافقت، اور تشدد آمیز رویے سے وہ بیج بویا جس کا زہریلا پھل آج بھی بھارتی مسلمان کھانے پر مجبور ہیں۔ کئی بتوں کے پجاری منہ میں کئی زبانیں اور سینے میں بغض و نفرت بھرا دل رکھتے ہیں۔ وہ متعصب قوم جس کی بنیاد ہی چھوت چھات اور ذات پات پر رکھی گئی ہو وہ بھلا کیسے ایک خدا کو ماننے والوں کو برداشت کر سکتے؟ مکاری میں ید طولیٰ رکھنے والے، جن کی پوری سیاست جھوٹ ‘ فراڈ‘ وعدہ خلافی اور دھوکا دہی کی بنیاد پر قائم ہے وہ بے غرض کیسے کسی اور قوم کے ہمدرد ہو سکتے؟

     قائداعظم ؒ، ڈاکٹر علامہ اقبالؒ، نوابزادہ لیاقت علی خان، سردار عبدالرب نشتر، سرسید احمد خاں، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی جوہر اور دیگر رہنما و رہبر اگر اپنی دور اندیشی اور بصیرت افروزی کی بدولت آج کے ہندوتوا نظریے کو نہ جانچتے تو ہمارا حال بھی بھارتی و کشمیری مسلمانوں سے مختلف نہ ہوتا۔ جن کی نہ تو عزتیں محفوظ ہیں نہ جان۔ نہ مذہبی آزادی ہے اور نہ ہی کوئی معاشرتی مقام۔ گنتی کے چند مسلمان فنکار ہیں جن کو بھارت سیکولرازم کا جھوٹا چہرہ دنیا کو دکھانے کیلئے عزت دیتا اور وہ فنکار بھی ہندو سرکار کو خوش کرنے چکر میں آدھے تیتر اور آدھے بٹیر بن چکے ہیں۔ کبھی ہندو عورتوں سے شادی کرتے تو کبھی بتوں کو سجدہ کرتے۔ اس کے باوجود انتہا پسند ہندوؤں سے ان کو مسلسل خطرہ رہتا۔

    آئیے مل کر سجدہ شکر ادا کریں اور جدوجہد آزادی کے علمبرداروں کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کریں جن کی بدولت ہم آزاد مملکت کی آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔

    بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں
    جو ضربِ کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر کیا

    @once_says

  • ایثار ایک نایاب صفت :تحریر  عینی سحر

    ایثار ایک نایاب صفت :تحریر عینی سحر

    اپنے لیے تو ہر کوئی جیتا بھی ہے محنت و مشقت اور اپنے سکون آسائشوں اور خواہشوں کیلئے جدوجہد کرتا ہے لیکن ایثار اپنی ذات کی پس پشت ڈالتے ہوۓ دوسروں کی ضرورتوں کا خیال رکھنے کا نام ہے ایک ایسی قربانی جو بے لوث ہوکر صرف کسی کی مدد کرنے کیلئے دی جاۓ

    معروف دانشور مرحوم اشفاق احمد فرماتے تھے ایثار یہ نہیں کے تم کسی کو کھانا کھلا دو بلکے ایثار یہ ہے کے جب تم کو خود بھی بہت بھوک لگی ہو اور تم وہ کھانا کسی ضرورتمند کو کھلا دو
    بقول انکے بابا جی فرماتے ہیں درد وہ ہوتا ہے جو ہمیں دوسروں کو تکلیف میں دیکھ کر ہو ورنہ اپنا درد تو جانوروں کو بھی محسوس ہوتا ہے
    ایثار میں قربانی پنہاں ہے کے انسان اپنی ضرورتوں کو فراموش کرکے دوسروں کی ضرورت کوپورا کرنے کو ترجیح دے تاکے مخلوق خدا کا بھلا ہوسکے
    ہمارے لیے ایثار کی سب سے بڑی مثال تو ہمارے والدین ہیں جو خود تکلیفیں اٹھا کر اپنی اولاد کو پالتے ہیں جنھیں یہ خواہش ہوتی ہے کے انکے بچوں کو کوئی کمی نہ ہو اچھا کھانا کھلانے سے لیکر کھلونوں تک اولاد کی ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں آجکل کے مہنگے تعلیمی نظام میں والدین خود کو محنت و مشقت میں ڈال کر اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو اچھے اور مہنگے سکولوں میں تعلیم دلواتے ہیں ، کتابوں ، یونیفارم اور ٹیوشن تک ہر قسم کے اخراجات پورے کرنے کیلئے کمر بستہ رہتے ہیں
    والدین کے ایثار ہی کی یہ ایک مثال ہے کے عید پر اگر ماں باپ خود نئے کپڑے سلوا نہ سکیں پھر بھی وہ اپنے بچوں کیلئے ہر طرح کے جدید کپڑے اور جوتے خرید کر انھیں خوشیاں دینے کی کوشش کرتے ہیں

    دوسری جانب ہم فرمانبردار اولاد کے ایثار کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتے جو جوان ہوکر اپنے والدین کاسہارا بنتے ہیں اور اپنی ضرورتوں کو پس پشت ڈال کر والدین کی خدمت میں کوتاہی نہیں کرتے

    ہماری اسلامی تاریخ ایثار کی مثالوں سے بھری پڑی ہے ، جن میں سے ایک مشہور جنگ کا واقعہ ہے جب کئی صحابی میدان جنگ میں زخمی تھے اور پانی مانگ رہے تھے ایسے میں ایک شخص پانی کی چھاگل لیے ایک زخمی کے پاس پہنچتا ہے تو قریب ہی ایک اور زخمی بھی کراہتے ہوۓ پانی مانگتا ہے پہلے صحابی نے کہا کے جاکر پہلے اسکوپانی دے دو ، وہ شخص اس کے پاس پہنچتا ہے تو اسکے پہلو میں بھی ایک زخمی پانی پانی پکارتا ہے تو وہ بھی کہتا ہے جاکر اسے پہلے پانی پلا دو ، جب وہ شخص اس آدمی کے پاس پہنچتا ہے تو وہ شہید ہو چکا ہوتا ہے وہ واپس پہلے والے کے پاس آتا ہے لیکن وہ بھی اللہ کو پیارے ہو چکے ہوتے ہیں ایسے میں وہ پہلے زخمی کے پاس پہنچتا ہے تو دیکھتا ہے وہ بھی شہید ہو چکے ہوتے ہیں

    ایثار و قربانی کی یہ ایک عظیم مثال ہے کے جان کنی کے عالم میں بھی ان عظیم ہستیوں نے اپنی ذات سے بڑھ کر دوسرے کی مدد کرنا چاہی ، ایسا حوصلہ ہمت اور رب کی خوشنودی کا جذبہ انتہائی عظیم ہے جو ہمارے لیے مشعل راہ ہے

    سورۃ الحشر ،آیت نمبر 9میں اللہ نے فرمایا ہے: ’’ وہ دوسروں کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں خواہ خود فاقہ سے ہوں اور جو شخص اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو ایسے ہی لوگ کامیاب ہیں۔‘‘
    بے شک ایسی قربانی سب سے بڑھ کر ہے جس میں انسان اپنی ذات کی بجاۓ دوسروں کی مدد کرنے کو ترجیج دے

    ہمارے معاشرے میں بے حسی کے ڈیرے ہیں جہاں جائیداد , مال و دولت کیلئے بھائی بھائی کی جان کا دشمن بنا بیٹھا ہے بہنوں کوانکے جائز ورثے سے محروم رکھا جارہا ہے ، پڑوسیوں کی خبر نہیں کے انکے گھر میں کھانا ہے یا فاقہ ہے ، دکھلاوے کی دوڑ میں ہم ایثار و قربانی کی روایتوں کو بھول چکے ہیں

    اس معاشرے کو مجموعی طور پر تنزلی سے نکالنے کیلئے ضروری ہے کے ہم اپنی اصلاح کریں ، خودغرضی لالچ جیسی مہلک اخلاقی بیماریوں سے نجات حاصل کر کے مخلوق خدا کی خدمت کرکے ہی ہم عظیم ہستیوں کی عظیم مثالوں کی پیروی کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں
    ایثار و قربانی مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں

  • اسلام آباد دریا جیسا: کیسے؟ تحریر:صوفیہ صدیقی

    اسلام آباد دریا جیسا: کیسے؟ تحریر:صوفیہ صدیقی

    پاکستان کا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہلے بھی ساون کی بارشوں میں بھگتا تھا، یہاں چھوٹے موٹے سیلاب تقریبا ہر سال ہی آتے ہیں۔ لیکن یہ سال تھوڑا مختلف ہے۔ اس سال اسلام آباد کے نشیبی اور ریہہ علاقوں میں نہیں بلکہ سیلابی پانی، شہر کے نئے بننے والے سیکٹرز میں آرہا ہے۔ اوپر سے غصب یہ کہ گزشتہ دس دونوں میں یہ دوسری بار ہوا ہے کہ اسلام آباد کا ایک نجی تعمیراتی سیکٹر ای گیارہ اور فیڈرل گورنمنٹ ھاوسئنگ سوسائٹی اور سی ڈی اے کے زیر انتظام بننے والا سیکٹر ڈی بارہ، میں سیلابی ریلہ آیا ہے۔ جس سے قیمتی جانوں اور لوگوں کے اثاثوں کو شدید پہنچا ہے۔

    مون سون کی بارشوں سے بہتا شہر اقتدار، یقینا بنانے والوں نے ایسا نہیں بنایا ہو گا نہ سوچا ہوگا۔ یہ شہر میں گزشتہ کئی سالوں سے اکثر بارش کی لپیٹ میں آتا ہے لیکن اس بار شاید انتظامیہ کی غفلت زیادہ ہے ۔

    ای 11 اور ڈی 12 کے علاقوں سے آج سوشل میڈیا کے ذریعے بے شمار ایسی ویڈیوز دیکھنے کو ملیں جو بتا رہی تھی کہ یہ اسلام آباد بہیں بلکہ کوئی بہتا ہوا دریا ہے۔
    سیلاب کا پانی بہہ رہا ہے اور گاڑیوں کو اپنے ساتھ لیے جا رہا ہے۔ ایسے لگتا ہے اگر اس شہر کا ایسے ہی رکھا جاتا رہا تو کہیں کوئی نیا دریا یہاں ہی نہ بن جائیں۔ ویسے انگریزی زبان میں شہری علاقوں میں آنے والے ایسے سیلابوں کے لیے” اربن فلڈنگ” کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔

    راولپنڈی کے رہنے والے اس سیلابی صورتحال سے اچھی طرح واقف ہیں۔ جبکہ اسلام آباد کے باسیوں کے لیے یہ ایک نئی نئی زحمت ہے۔ اور یقینا اس کی کچھ وجوہات ہیں۔
    ان کتابی باتوں میں ایک نظر ڈالتے ہیں جو شہر اقتدار میں بڑھنے کے ساتھ ساتھ نظر انداز کی جارہی ہیں۔

    گزشتہ کئی دہائیوں سے دیکھا جا رہا ہے کہ پاکستان میں ، سیلاب خطے کے دیگر ممالک کی نسبت زیادہ نقصان دہ خطرہ ہے ، جو کہ بارشوں کے ساتھ قدرتی توانائیوں کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں 1950 سے 2010 19 بڑے سیلابوں نے بہت زیادہ تباہی مچائی ہے ۔
    ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق ، اس عرصے میں قریب 8،887 اموات کی اطلاع ہے۔ جبکہ حالیہ کچھ برسوں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ ملک کے بہت سے شہروں میں شہری سیلاب ایک عام واقعہ بن گیا ہے۔ صرف یہ ہیں نہیں کہا جاتا ہے کہ 2010 کے میگا سیلاب نے تقریبا 20 ملین افراد کی زندگیوں کو متاثر کیا۔ اس سیلاب سے بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر ، زراعت اور ماحولیاتی نظام اورزمین کی پیداواری صلاحیت کو 10 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

    2010 کے بعد تقریباً ہر سال سیلاب کا ایک بڑا واقعہ م پیش آیا ، جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔
    اب شہری سیلابوں میں دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ہمارے سب سے بڑے شہری مراکز خصوصا کراچی اور لاہور بار بار شہری سیلاب کا شکار ہو رہےہیں۔ اور اب یہ دائرہ پاکستان کے دارالحکومت تک بھی پہنچ گیا ہے۔ ان شہری سیلابوں کو روکنے کے لیے حکومت پاکستان کو موجودہ انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنے کے لئے بہت ذیادہ وسائل خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔لیکن شاید ہماری حکومتیں اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یا انھیں لوگوں کی جان و مال اور املاک کی فکر نہیں ہے۔

    وقت کرتا ہے پرورش برسوں
    حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔

    اربن فلڈنگ کے وجوہات میں سب سے موسمیاتی تبدیلی ہے لیکن پاکستان میں فلڈ مینجمنٹ اور دیگر اداروں کی اس معاملے پر نظر پوشی بھی اسے بڑھا رہی ہے۔

    پاکستان میں شہری سیلاب کا سبب بننے والی کچھ کلیدی وجوہات یہ ہیں:
    شہری سیلاب کی صورت میں کم وقت میں پانی کا زیادہ بہاؤ اور بارش شامل ہے۔ اسے سائنس زبان میں ہائیڈرو سسٹم کہا جاتا ہے۔
    بڑے شہروں میں غیر منصوبہ بند مقامات زیادہ تر آبی گزرگاہوں اور قدرتی نکاسی آب کے ارد گرد تعمیر کیے جاتے ہیں جو کہ شہر ی سیلاب کی اہم ترین وجہ ہے۔ یعنی شہری انتظامیہ کو کچی آبادیوں کی بھی نگرانی کی ضرورت ہے جو بیشتر نالوں کے کنارے پر بنائی جاتی ہیں۔
    کچی آبادیوں کی وجہ سے ، نالوں کو تجاوزات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ قدرتی نکاسی آب کے راستوں کو روکتا ہے۔
    اب تو انتہا وہ کوڑا کرکٹ ہے جو نکاسی آب والے نالوں میں ٹھونس دیا جاتا ہے ۔
    بلدیہ کا ایک اہم کردار ہے جو مسلسل نظر انداز ہو رہا ہے ۔
    شہر کے اصل نقشے کو نظر انداز کرنا بھی شہری سیلاب میں اضافے کا سبب ہے۔
    آبادی میں اضافہ اور شہروں کا پھیلاؤ بھی دیکھنا ہوگا۔
    ان تمام وجوہات کے بعد اسلام آباد کو دریا بنانے والی انتظامیہ کی بات کرتے ہیں۔
    سی ڈی اے سمیت ہر بڑے ادارے کو جو اسلام آباد کی خوبصورتی کا کریڈٹ لیتے ہیں، دیکھنے کی ضرورت ہے کہ شہر میں بننے والی غیر سرکاری اور غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیاں کو کب تک لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے دیا جائے گا۔
    اربن فلڈنگ مینجمنٹ والے لوگوں کو کہاں استعمال کیا جائے گا؟
    غیر قانونی تجاوزات اور تعمیرات کو کون دیکھے گا؟ سب سے آخر میں شہریوں کو اربن فلڈنگ کی صورت میں رسک مینجمنٹ کی تربیت کون دے گا؟.
    صرف یہ ہی نہیں عید الاضحی کے دن ہونے والی بارش ایک اشارہ تھی جس کے بعد نالوں کی صفائی انتظامیہ اور میونسپل کی ذمہ داری تھی۔جیسے نہیں دیکھا گیا۔
    اسلام آباد کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ اس شہر میں ایسی تمام تعمیرات کا خاتمہ ہو جو کہ پانی کی گزر گاہوں پر تعمیر ہوئیں ہیں اور ان تمام افسران کی سرزنش ہو جو اس اہم معاملے میں آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں اور شہر اقتدار کو دریا بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ۔۔۔کہیں یہ دریا ہم سب کو اپنے ساتھ بہا کے نا لے جائے۔
    ورنہ شہر دریا بن رہا ہے اور ہماری انتظامیہ آئندہ آنے والے سیلابوں سے بچنے کے لیے لوگوں کو لائف جیکٹ دے ہی رہی ہیں۔ یعنی دریا کے کنارے رہنے والوں کو اب تیراکی سیکھ لینی چاہیے

  • اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت اور بھارت . تحریر : ارشد محمود

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت اور بھارت . تحریر : ارشد محمود

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت ہمارے پڑوسی ملک بھارت کے حصے میں ایک ماہ کے لیے آچکی ہے ۔ بھارت جو تقسیم برصغیر کے وقت سے ہی غاصبانہ و جارحانہ رویہ اپناے ہوے ہے اسے اس قدر حساس ادارے کی سربراہی ملنا پاکستان و دیگر ممالک کے لیے تشویش ناک ہے ۔ پاکستان اس وقت افغانستان میں امن قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے ۔ اور بھارت امن کو سبوتاژ کرنے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہے ۔ ذرائع کے مطابق افغان فضائیہ کے زیراستعمال طیارے بھارتی ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے پائلٹ بھی بھارتی ہی ہوں۔ اور پھر مقبوضہ کشمیر میں جو خون کی ہولی وہ کھیل رہا ہے وہ اپنی جگہ سوالیہ نشان ہے ۔ سلامتی کونسل کی ہی منظور کردہ قراددیں بھارت نے ردی کی ٹوکری میں پھینک رکھی ہیں ۔ سلامتی کونسل کی سربراہی ملنے کا معاملہ یہ ہے کہ انگریزی حروف تہجی کے لحاظ سے ہر رکن ملک ایک ماہ کے لیے سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالتا ہے ۔ بھارت کی سربراہی کے موقع پر خارجہ پاکستان کے ترجمان زاہد حفیظ چودھری نے کہا کہ ’’امید ہے بھارت سلامتی کونسل کی صدارت کی اقدار کی پاسداری اور قواعد کا احترام کرے گا۔ بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسئلے پر سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں کی ذمہ داری یاد کرائیں گے۔‘‘ دوسری طرف بھارتی مستقل مندوب تیرومورتی نے سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں کہا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے لیکن ان کی حکومت پاکستان کے ساتھ دو طرفہ مسائل کو حل کرنے ے لیے بات کرنے کو تیار ہے ۔ ہم دنیا کو بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ ہے ، لہذا بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا ترمیم آئین کی دیگر شقوں کی طرح بھارتی پارلیمنٹ کا واحد اختیار ہے ۔ بھارتی مندوب شاید بھول رہے ہیں کہ جس فورم کی صدارت ان کے حصے میں آئی ہے اسی کی قراردادیں کشمیر کے متعلق بڑی واضح الفاظ میں موجود ہیں ۔ پاکستان نے مذکورہ بالا بیان کو مسترد کرتے ہوے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی سفیر کے بیان کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر دونوں ممالک کے درمیان ایک متنازعہ مسئلہ ہے جسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا ہے ، بھارت حقائق کو مسخ کر کے اقوام متحدہ کی قرادادوں کو جھٹلا نہیں سکتا، پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت اسی وقت ہو سکتی ہے جب وہ 5 اگست 2019ء کے اقدام کو واپس نہیں لیتا۔ جموں و کشمیر بھارت کا لازمی حصہ نہیں۔ سلامتی کونسل کی قراردادیں جن میں رائے شماری کا مطالبہ کیا گیا ہے نافذ العمل ہیں اور اسے صرف سلامتی کونسل ہی منسوخ کر سکتی ہے ۔ 5 اگست 2019 کے بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 91 اور نمبر 122 کی کھلم کھلا خلاف ورزی اوربھارت کا یہ اقدام کالعدم ہے ۔

    اقوام متحدہ کی قراردادوں کا جس طرح سے بھارت نے مذاق اڑایا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے بدترین کرفیو نافذ کررکھا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں آبادی سے زائد بھارت نے فوج تعینات کررکھی ہے اور اسے دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کیا ہوا ہے ۔ بھارت میں مسلمانوں سمیت دیگر اقوام کے ساتھ جو سلوک ہورہا ہے وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ گاؤماتا کی حرمت کے نام پر کہیں مسلمانوں کو تختہ دار پر لٹکایا جا رہا ہے تو کہیں مسلمان عورتوں کو سرعام جنسی تشدد کے ساتھ سسکتے ہوے مرنے کو پھینکا جارہا ہے ۔ کہیں عیسائیوں پر عرصہ حیات تنگ کیا ہوا ہے تو کہیں کسانوں پر نام نہاد قوانین کا نفاذ کرکے انھیں بغاوت پر ابھارا جارہا ہے ۔ اس سارے ظلم و تشدد کے بعد اگر کوئی بھارتی مسلمان ، عیسائی ، سکھ یا پھر کوئی اور جدوجہد کا آغاز کرتا ہے یا پھر مسلح جتھا بنالیتا ہے تو اسے پاکستان کے کھاتے میں ڈال کر دہشت گردی کا راگ الاپنا شروع ہوجاتا ہے ۔ ان حالات میں جب بھارت کے اپنے ملک کی حالت خانہ جنگی کی سی ہے تو سلامتی کونسل کی سربراہی دینا "بندر کے ہاتھ ماچس” دینے کے مترادف ہے ۔ لکھ رکھیے کہ بھارت کوشش کرے گا کہ وہ ایک ماہ میں پاکستان کے لیے مزید مشکلات کھڑی کرے ۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں کو پیروں تلے روند کر کشمیریوں کی نسل کشی کرنے والا صدر کی کرسی پر براجمان ہوچکا ہے

  • افغانستان خانہ جنگی کا شکار کیوں؟ تحریر:راؤ اویس مہتاب

    افغانستان خانہ جنگی کا شکار کیوں؟ تحریر:راؤ اویس مہتاب

    اس وقت افغانستان کے حالات کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ کھچڑی پکی ہوئی ہے اور معاملات اتنے گھمبیر ہو چکے ہیں کہ جیسے ایک ڈور کے بڑے گنجل کو سلجھانا۔ہر ملک اپنا کھیل کھیل رہا ہے اور ہر ایک کے مفادات دوسرے سے متصادم ہیں۔
    آج کی اس تحریرمیں ہم آپ پوری کوشش کریں گے کہ آپ کے ذہن میں افغانستان کے معاملے سے متعلق کئی سوالات کا جواب دے دیں۔ کیا افغانستان میں امن ممکن ہے اور اگر نہیں تو اس کی وجوہات کیا ہیں معاملات کتنے سنگیں ہیں اور کیا ماضی میں ان کے سلجھنے کے کوئی امکانات ہیں۔ امریکہ، چین، روس، بھارت اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کیوں افغانستان میں بر سر پیکار ہیں۔ ان کے کیا خدشات ہیں اور وہ انہیں کیسے ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے افغانستان آج خانہ جنگی کا شکار ہے۔

    طالب حکومت پر امریکہ کے حملہ کرنے سے پہلے افغانستان میں چیچن مجاہدین، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، سنکیانک صوبے کی علیحدگی پسند تنظیم، القاہدہ سمیت دیگر تنظیموں کے لوگ پناہ لیے ہوئے تھے۔ جبکہ بھارت مولانا مسعود اظہر کی رہائی کے لیے جہاز کے ہائی جیک ہونے اور افغانستان میں قندھار ائیر پورٹ پر اترنے کے بعددنیا بھر میں یہ ڈھنڈورا پیٹ رہا تھا کہ بھارت میں بد امنی پھیلانے والی تنظیموں کی پرورش افغانستان میں ہو رہی ہے ۔
    جسے امریکہ کے افغانسان میں آنے کے بعد بھارت نے اپنے حق میں کر لیا۔ لیکن اب جہاں بھارت کے لیے مشکلات بڑھ رہی ہیں وہیں روس چین، ایران، سینٹرل ایشین ممالک سمیت پاکستان بھی پریشان ہے۔ اسے پتا ہے کہ اب پاکستان میں طالبانائزیشن زور پکڑے گی۔ ۔ چین الگ سے سنکیانک کے لیے پریشان ہے تو روس اپنے سینٹرل ایشین اتحادیوں کے لئے پریشان ہے جبکہ ایران بھی طالبان کی بڑھتی ہوئی طاقت سے الجھن کا شکار ہے اور اس نے پاکستان کی طرح ایران بارڈر پر فوج تعینات کر دی ہے۔
    چاہے پاکستان ہو یا ایران روس اور چین۔۔ طالبان کسی کی بھی من و عن بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں اور اگر اس سوال کا تسلی بخش جواب نہ ہو اور جس میں انہیں اپنا مفاد نظر نہ آئے تو وہ نہیں مانتے ۔ کہنے کو تو امریکہ افغانستان سے زلت آمیز شکست کھا کر جا رہا ہے یہاں ڈھائی ہزار فوجی مروانے اور ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کے باوجود انہیں طالبان سے معاہدہ کرنا پڑا ۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکی فوجی جا رہے ہیں لیکن امریکہ افغانستان میں موجود ہے۔ امریکی پیسے سے ہی افغانستان چلے گا اور افغانستان کو چلانے کے لیے طالبان کو بھی پیسے کی ضرورت ہے۔ اس کے افغانستان کے اردگرد
    دو درجن فوجی اڈے ہیں اور ان کی کٹ پتلی حکومت ابھی تک کابل میں براجماں ہے تو ایسی صورتحال میں پریشان دوسری پارٹیوں کو ہونے کی ضرورت ہے جن کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں۔
    روس کی پریشانی کا یہ عالم ہے کہ پیوٹن جنیوا میں بائیڈن سے ملاقات میں امریکہ کو یہ آفر کر چکا ہے کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک تاجکستان اور کرغستان میں اس کے فوجی اڈوں کو امریکہ ڈرون سے جاسوسی کے لیے استعمال کر سکتا ہے لیکن امریکہ نے روس کی اس پیشکش کا جواب دینا بھی گوارا نہیں سمجھا۔
    امریکہ نے افغانستان کی حکومت اور طالبان کے مزاکرات کروانے کی بجائے خود مذاکرات کیے۔ جس کے بعد طالبان غیر ملکی فوج کو نکالنے کا کریڈٹ لینے کے قابل ہو گئے۔ امریکہ کے طالبان سے مذاکرات میں طالبان کے وقار میں اضافہ ہوا۔
    افغان حکومت کا سب سے بڑا دشمن اس وقت طالبان ہیں جن سے ان کی جنگ جاری ہیں اور طالبان سے شکست کے بعد افغان ھکومت نے اپنی توپوں کا رخ پاکستان کی طرف کر دیا ہے۔ اس وقت افغان حکومت پر قوم پرست لیڈروں کا قبضہ ہے اور ان سے پاکستان کی کم ہی بنتی ہے۔ اس وقت پوری دنیا اس بات سے پریشان ہے کہ کہیں افغانستان دنیا بھر کے دہشت گردوں کا ہیڈ کوارٹر نہ بن جائے۔ اس لیے پوری دنیا اس بات پر متفق ہے کہ وہ افغانستان میں صرف ایسی حکومت کو تسلیم کرے گی جو افغانستان کی تمام عوام کی ترجمانی کرتی ہو صورف ایک یا دو طبقوں کو طاقت کے زور پر اقتدار پر قبضہ تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
    پاکستان پر طالبان کی سپورٹ کا الزام کیوں لگتا ہے پاکستان افغانستان میں گریٹ گیم کا حصہ کیوں بنا۔ افغانستان میں اثرورسوخ پاکستان کی سالمیت کا مسئلہ کیوں ہے۔ یہ انتہائی اہم سوالات ہیں۔
    افغانستان اور پاکستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن کو آج تک افغانستان کی حکومت نے تسلیم نہیں کیا یہاں تک کہ جب طالبان کی کابل پر حکومت تھی تو انہوں نے بھی پاکستان سے ڈیورنڈ لائن کے پرماننٹ معاہدے سے انکار کر دیا تھا۔ کیونکہ یہ معاملہ افغانستان میں بڑا ا حساس ہے۔ افغانستان پاکستان کی پوری پشتون بیلٹ کو اپنا حصہ کلیم کرتا ہے جو May 1879 میںTreaty of Gandamak کے زریعےافغان بادشاہ یعقوب خان نے انگریزوں کو لکھ کر دے دی تھی۔ اس کے بعد نئے بادشاہ عبدالرحمان خان نے اس معاہدےکی تصدیق بھی کی۔افغانستان کے قوم پرست لیڈروں نے پاکستان کے قیام سے لے کرستر کی دہائی تک اس کے خلاف ہر سازش کی اور اس کے دشمنوں کی مدد سے ان علاقوں میں شورش پیدا کر نے کی کوشش کی۔ پاکستان کے قوم پرست لیڈروں کو بھڑکایا گیا اور پاکستان کی سالمیت کو خطرات لاحق کئے گئے جو آج بھی جاری ہیں، پھر بھٹو کے دور میں افغانستان میں مذہبی طاقتوں کو سپورٹ کر کےپاکستان نے وہاں اپنی پوزیشن مضبوط کی۔ اور اس کے بعد طالبان کے دور میں پاکستان کو کافی سکون رہا۔ پاکستان نے امریکہ کے پریشر میں افغانستان پر حملے کا ساتھ تو دے دیا لیکن پھر بعد میں پاکستان پر الزام لگایا گیا کہ اس نے امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کی ہے اس نے طالبان کو بچنے میں مدد دی اور انہیں پناہ بھی دی گئی۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ امریکہ نے بھارت کو افغانستان میں قدم جمانے اور پاکستان کے ساتھ کھل کر ہاتھ صاف کرنے اور یہاں دہشت گردوں کو ٹریننگ دینے اور علیحدگی پسندوں کو پیسہ دے کر پاکستان میں بد امنی کروانے کی کھلی چھٹی دے دی جس کی پاکستان نے بھاری قیمت چکائی جو آپ سب کے سامنے ہے۔اب بھارت یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کی لاٹری نکل آئی ہے پاکستان طالبان کی صورت میں افغانستان میں کھوئی ہوئی طاقت حاصل کر رہا ہے۔ اوربھارت اپنے دشمن کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کی پوری کوشش کر رہا ہے خواہ اس کے لیئے اسے افغان حکومت پر قابض دھڑوں کو فنڈنگ کرنا ہو یا اسلحہ سمیت کوئی بھی چیز دینا ہو وہ انہیں دے رہا ہے۔ساتھ میں پاکستان کے امیج کو تناہ کرنے کے لیے مکروہ کھیل بھی کھیل جا رہے ہیں۔ لیکن طالبان اپنی منزل کی جانب گامزن ہیں۔ طالبان کے بڑھتے ہوئے غلبے سے نہ صرف افغان لبرلز کو ڈرایا جا رہا ہے بلکہ دنیا کو بھی یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر طالبان آگئے تو ان کے ساتھ دنیا کا چلنا ممکن نہیں اور افغانستان کی تباہی کا سفر یہاں سے شروع ہو جائے گا اور یہ وہی لوگ کر رہے ہیں جو طالبان کو کسی صورت افغانستان پر قابض نہیں دیکھنا چاہتے۔

    انڈیا 2002 سے اب تک افغانستان میں تین بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے اور اس کے مفادات سلامتی اور معیشت دونوں سے وابستہ ہیں۔انڈیا کویہ بھی خدشہ ہے کہ اگر افغانستان میں طالبان کا اثر و رسوخ بڑھتا ہے تو کشمیر کی صورتحال متاثر ہوسکتی ہے۔ بھارت نے ایران کے راستے افغانستان اور پھر سینٹرل ایشین ممالک تک پہنچنے کے لیے بھی بہت سرمایہ کاری کی ہے۔7200 کلومیٹر شمال جنوبی راہداری میں سرمایہ کاری کی ہے جو ایران سے روس تک چلے گی۔ مگر یہ سب امریکی سپاہیوں اور افغانستان میں جمہوری حکومت کی موجودگی کی وجہ سے ممکن ہوا تھا۔ طالبان سے بھارت کی محبت سب کے سامنے ہے۔ایسی صورتحال میں طالبان کی افغانستان میں آمد انڈیا کے لیے دھچکے سے کم نہیں ہےماضی میں انڈیا امریکہ کے ساتھ افغانستان میں سرگرم تھا لیکن ایران اور روس کے ساتھ ایسا کوئی اتحاد نہیں تھا۔ لیکن اب بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے تہران پہنچنے سے پہلے ایک طالبان کا وفد وہاں موجود تھا۔ جب وہ روس پہنچے تو وہاں بھی طالبان موجود تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ انڈیا اس وقت ایران اور روس دونوں کے ساتھ افغانستان پر کام کر رہا ہے۔شیو سینا کی راجیہ سبھا رکن پریانکا چترویدی اپنی ٹویٹ میں افغانستان میں طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بارے میں کہتی ہیں کہ
    افغانستان میں طالبان کے جمتے ہوئے قدم، ان کا پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی گرم جوشی صرف انڈیا کے لیے نہیں بلکہ تمام ممالک کے لیے باعثِ تشویش ہونی چاہیے کیونکہ اس ابھرتے ہوئے بنیاد پرست اتحاد کی وجہ سے خطے میں تمام کامیابیاں ضائع ہو جائیں گی۔انڈیا کو خدشہ ہے کہ یہ پاکستان کے خلاف سٹریٹیجگ سبقت کھو دے گا۔ پاکستان پر نفسیاتی اور سٹریٹیجنگ دباؤ ہے کہ افغانستان میں انڈیا مضبوط ہو رہا ہے۔ انڈیا کے کمزور ہونے سے پاکستان کا اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے۔جبکہ چین کا وسائل سے مالا مال صوبہ سنکیانگ اور افغانستان کے بیچ آٹھ کلو میٹر طویل سرحد ہے۔ افغان صورتحال کے پیش نظر چین کو خدشہ ہے کہ اگر طالبان اقتدار میں آئے تو اس سے سنکیانگ میں علیحدگی پسند ایسٹ ترکستان اسلامی تحریک کو پناہ اور مدد مل سکتی ہے۔یہ ایک چھوٹا علیحدگی پسند گروہ ہے جو مغربی چین کے سنکیانگ صوبے میں متحرک ہے۔ یہ ایک آزاد مشرقی ترکستان قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سنکیانگ صوبے میں چین کی ایک نسلی مسلم اقلیت اویغور آباد ہے۔

    کچھ عرصے سے چین افغانستان کے صوبے بدخشاں میں اپنے تاجکستان کے ملٹری بیس سے ایکٹیو ہوا ہوا ہے۔چین افغانستان کو بھی اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شامل کرنا چاہتا ہے اور افغانستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے امکانات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔طالبان نے چین کویقین دلایا ہے کہ وہ آئندہ سنکیانگ سے علیحدگی پسند اویغور جنجگوؤں کو افغانستان داخل نہیں ہونے دیں گے۔روس کو خدشہ ہے کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان سخت گیر اسلام کا گڑھ نہ بن جائے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر افغانستان میں اسلام کی بنیاد پر انتہا پسندی بڑھتی ہے تو اس سے پورے وسطی ایشیا کو خطرہ ہو گا۔ یعنی اگر خون بہے گا تو اس کے قطرے ماسکو پر بھی پڑیں گے۔روسی اثر و رسوخ میں رہنے والے ملک جیسے تاجکستان اور ازبکستان کی افغانستان کے ساتھ سرحدیں ہیں۔ روس کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں افغان سرحدوں پر انسانی اور سکیورٹی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔Islamic Movement of Uzbekistanاور
    and Eastern Turkistan Islamic Movement سے ان ممالک کو خطرہ ہے ان دونوں تحریکوں کے طالبان،القائدہ اور داعش سے تعلقات ہیں اسی لیے افغانستان کی سرحد پر سینٹرل ایشن ممالک اور روس نے پچاس ہزار فوجی اور سات سو ٹینک تعینات کر رکھے ہیں۔طالبان کے ایک وفد نے روس کے دورے پر یقین دہانی کرائی تھی کہ افغانستان میں کسی پیشرفت سے وسطی ایشیا کے علاقوں کو خطرہ نہیں ہو گا۔اورافغان سرزمین کو کسی ہمسایے ملک کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیا جائے گا۔ترکمانستان کو بھی اسی طرح کے خدشات ہیں جہاں یہ افغانستان کے ساتھ 804 کلو میٹر طویل سرحد رکھتا ہے۔ چین اور روس کی طرح قازقستان اور کرغزستان کو بھی افغانستان میں سخت گیر اسلام کے پھیلنے کا خدشہ ہے۔ ان کی سرحدیں افغانستان سے نہیں ملتیں مگر انھوں نے اپنے ملکوں میں ایسے حملے دیکھے ہیں جن کا تعلق افغانستان سے قائم کیا جاتا ہے۔ سیکیورٹی کے علاوہ افغانستان میں امن قائم کرنے سے وسطی ایشیا کے ملک تیل، گیس یا کوئلے جیسے قدرتی وسائل انڈیا اور پاکستان سمیت دیگر جنوبی ایشیا کے ملکوں میں بھیج سکیں گے۔ اس لیے بھی ان ممالک کی نظریں افغان صورتحال پر جمی ہوئی ہیں۔

  • پرانے  اور  نئے  طالبان  میں  کیا  فرق. تحریر:راؤ اویس مہتاب

    پرانے اور نئے طالبان میں کیا فرق. تحریر:راؤ اویس مہتاب

    دشمن انتہائی گندی حرکتوں پر اتر آیا ہے۔ اور پاکستان پر گھٹیا اٹیک کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ کیا سوچ رہا ہے اور پاکستان کے لیے طالبان کو کنٹرول کرنا کتنا آسان اور کتنا مشکل ہے جبکہ پرانے اور نئے طالبان میں کیا فرق ہے اس پر بھی بات کریں گے۔ اور سب سے بڑھ کر کیا دنیا جس طرح شور مچا رہی ہے کیا واقعی پاکستان افغانستان میں تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ اگر ہے تو کیسے۔۔
    امریکہ نے نعرہ لگایا کہ اس کی افغانستان میں نہ ختم ہونے والی جنگوں کی وجہ سے وہ اپنے گھر میں پیچیدہ مسائل پر دھیان نہیں دے پا رہا جو اسے دینا چاہیے۔ اور بہانہ بناتے ہوئے امریکہ باہر نکل گیا لیکن اس کے جھٹکے افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک میں بڑی شدت سے محسوس ہونے لگے ہیں۔
    جہاں یہ جواز پیش کیا جا رہا ہے کہ طالبان اقتدار پر دوبارہ دعوی کرنے کے لیے تیار ہیں وہیں بائیڈن یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ افغانستان کا پروسی اسلامی ایٹمی ملک پاکستان کیا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان امریکہ کا افغان جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی رہا ہے لیکن امریکہ پاکستان پر یہ سوچتے ہوئے اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ اس کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے طالبان اور القائدہ سے تعلقات ہیں۔ جب اسامہ بن لادن کے خلاف اآپریشن کیا گیا تو بائیڈن اس وقت اوبامہ کے نائب صدر تھے اور اس اآپریشن کو سکرین پر مانیٹر کرتے رہے۔ لیکن اس اآپریشن کے بارے میں پاکستان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا کیونکہ خدشہ تھا کہ اطلاع پہلے ہی لیک ہو جائے گی۔ کیونکہ پاکستان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ طالبان اور ایسے عناصر کو اپنے اسٹریٹیجک اثاثوں کے طور پر دیکھتا ہے تاکہ ان کے زریعے پاکستان افغان حکومت کو کمزور کرے جو پاکستان کے نمبر ون دشمن بھارت کی نمبر ون اتحادی ہے۔ جبکہ پاکستان کا یہ کہنا ہے کہ وہ اور وقت تھا جب پاکستان طالبان کو کنٹرول کرتا تھا۔ لیکن اب یہ طالبان پاکستان کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ پاکستان ا س سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے لاکھوں لوگ یہاں پر پناہ لے چکے ہیں جس کی وجہ سے اس کی سرحدیں دہشت گردی کا شکار ہوئی ہیں۔ یہ تشدد پاکستان کے لیے بھی نقصان دہ ہے کیونکہ اس سے پاکستان کی طرف بھی دہشت گرد عناصر سر اٹھاتے ہیں۔

    امریکہ کی افغانستان میں جنگ میں اگر ایک لاکھ دس ہزار افغانی شہید ہوئے ہیں تو پاکستان نے چھیاسی ہزار لوگوں کی قربانی دی ہے۔ پاکستان کو ڈیڑھ سو ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ جبکہ ہمارے دشمنوں کو افغانستان میں کھلے عام ہم پر حملہ کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے،ابھی تک بائیڈن کی عمران خان سے کوششوں کے باوجود فون پر بات نہ کرنا یہ ظاہر کرتی ہے کہ بائیڈن پاکستان پر ابھی بھی اڈے حاصل کرنے کے لیے پریشر ڈالنا چاہتے ہیں جس کا پاکستان نے صاف انکار کر دیا ہے۔ امریکہ کی سرپرستی اور برطانیہ، سعودی عرب، عرب امارات کی مدد سے پاکستان اور بھارت کی صلح کی بات کی گئی جس میں ماضی کی تلخیوں کو دفنانے کی بھی بات ہو چکی ہے۔ کیونکہ عالمی طاقتوں کو پتا ہے کہ ان دونوں کی دوستی کے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں ۔طالبان کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ اس کے ہمسایہ ممالک اور بڑی طاقتوں کے لیے چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ امریکہ اور دیگر ممالک ابھی بھی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ طالبان کے ذریعے افغانستان پر قبضہ کر کے اپنا اثرورسوخ بڑھا رہا ہے تاکہ افغانستان میں بھارت کے اثرو رسوخ کو چیلنج کیا جا سکے۔ جہاں چین پاکستان کے قریب آرہا ہے وہیں چین بھارت سے دور جا رہا ہے۔ ساری دنیا کو پتا ہے کہ افغانستان سپر پاورز کا قبرستان ہے تو یقینا بائیڈن بھی اس بات سے بخوبی واقف ہوں گے۔ امریکہ نے یہ کہتے ہوئے افغانستان سے ٹرن لے لیا ہے کہ اسے ماضی کو بھول کر مستقبل کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ ٹرن اسی وقت درست ثابت ہوتے ہیں جب کسی کو پتا ہو کہ کہاں ٹرن لینا ہے۔ امریکہ ایک غلط ٹرن لے چکا ہے۔ جسے امریکی ، افغانی، روسی سب ہی غلط قرار دے رہے ہیں۔ اور اب اس غلطی کا الزام پاکستان پر دھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پاکستان میں دشمن نے گندا کھیل شروع کر دیا ہے۔ پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے کبھی افغانی سفیر کی بیٹی پر تشدد کا ڈرامہ کروایا جا رہا ہے۔
    کبھی ائر فورس پر الزام لگایا جا رہا ہے تو کبھی اشرف غنی پاکستان سے دس ہزار جنگجو جانے کی باتیں کر رہا ہے۔ شکست کو حقائق سے تسلیم کرنے کی بجائے ایک جھوٹ کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔افغانستان ایک سرد ماحول والا ملک ہے۔ جہاں اکثر صوبوں میں سردیوں میں برف باری اور ٹمپریچر مائنس ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے۔ اور ملک کے بیشتر حصے برف سے ڈھکے رہتے ہیں جو نقل و حرکت اور روزمرہ کی زندگی کے تمام پہلوؤں کو متاثر کرتا ہےبحثیت انسان جس کی وجہ سے زندگی کے دوسرے معمولات کی طرح ، مجاہدین کی سرگرمیاں بھی ہر سال اس سیزن کے دوران سست روی کا شکار ہوتی ہیں۔لیکن گزشتہ چند سال میں جو غیر معمولی واقعات ہوئے اس میں طالبان نے پورے سال کابل کی کٹ پتلی حکومت کو ناچ نچوایا۔ اشرف غنی کو ہر جگہ کہتے پھر رہے ہیں کہ تین ماہ میں حالات ٹھیک ہو جائیں گے وہ سردیوں کا ہی انتظار کر رہے ہیں۔ امریکہ بھی نکلنے کے باوجود ستمبر کی تاریخ اس لیے دے کر بیٹھا ہے کہ اس کے آفیشلی نکلنے اور سردیاں آنے میں وقفہ بہت کم رہ جائے۔اشرف غنی جو پاکستان کا دشمن ہے اور کبھی بھی پاکستان کے خلاف دراندازی سے باز نہیں آتا اب نئے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔ اور اب تمام مختلف محکموں اور ترجمانوں نے مبالغہ آرائی شروع کردی ہے اور ان ساری غیر متوقع ترقی اور پیشرفت کے بارے میں جھوٹ بولنا شروع کر دیا ہے۔۔

    نائب افغان صدرامراللہ صالح جیسے لوگ جو پاکستان میں روس کے خلاف جہاد کی ٹریننگ لے چکے ہیں اور اس کے بعد نہ صرف طالبان کے خلاف جنگ لڑ چکے ہیں بلکے افغان خوفیہ ایجنسی کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں پاکستان کے خلاف زہر اگلنے میں مصروف ہیں۔ اشرف غنی نے وہی پرانے ناکام لوگوں کو اب کام کرنے کی بجائے پروپیگنڈے کی تدبیر کے طور پر مقرر کیا ہے یہ ناکام عہدے دار بے مثال جھوٹ ، جعلسازی اور پروپیگنڈے کا چکر شروع کر چکے ہیں تاکہ دنیا اور اپنے معصوم شہریوں کو گمراہ کر سکیں اور اب ان طالبان کو ختم کرنے کے دعوی کر رہے ہیں جنہیں بیس سال تک 48 ممالک کی افواج کے ہاتھوں شکست نہیں دی جاسکی۔ لیکن یہ بات اشرف غنی کو جان لینی چاہیے کہ جھوٹ ، مبالغہ آرائی اور پروپیگنڈہ کے ذریعہ طالبان کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی پاکستان کے پیچھے چھپا جا سکتا۔اسلامک امارات وسائل پر پابند باغی گروپ نہیں ہے اور نہ ہی ان کی جہادی انتظامیہ کی صورتحال ایسی ہے کہ آپریشنوں ، چھاپوں اور بم دھماکوں کے ذریعہ اس کو ختم کیا جا سکےاور اس کا جنگی مشن روک دیا جائے طالبان افغان سوسائٹی کا حصہ ہیں، امریکہ سمیت پوری دنیا ان سے معاہدے اور مذاکرات کر رہی ہے، وہ اپنے سیاہ اور سفید کے مالک ہیں۔یہ افغان قوم کی وسیع بغاوت ہے جس کی جڑیں اور بنیادیں گہری ہیں۔
    اگر طالبان کو فتح کرنا اتنا آسان ہوتا تو پورے نیٹو ممالک جو اپنی کتابوں میں موجود تمام بہترین حکمت عملیاں جن میں ملٹری آپریشنز سمیت کارپٹ بمبنگ بھی شامل تھی افغانستان مین ازما چکے ہیں ۔لیکن ختم ہونے کے بجائے ، اس جہادی تحریک نے صرف مضبوط اور مزید علاقوں میں توسیع کی۔بے شک ملا عمر کے صف اول کے ساتھی دارالعلوم اکوڑہ خٹک یا جامعہ بنوریہ ٹاؤن کراچی کے فارغ التحصیل تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے گوتم بدھ کے مجسموں کو اڑا دیا، انہوں نے ڈیورنڈ لائن کو پر ماننٹ لائن ماننے کے سمجھوتے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے سینٹرل ایشیا سے گیس پائپ لائن سے انکار کیا اور پھر پاکستان کے لاکھ سمجھانے کے باوجود اسامہ بن لادن کی مہمان نوازی چھوڑنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ جبکہ موجودہ طالبان وہ طالبان نہیں ہیں، وہ اپنے بزرگوں کی طرح تصویر گھنچنے کے خلاف نہیں ہیں، نہ ہی وہ پاکستان کے مدرسوں کے تعلیم یافتہ ہیں، انہوں نے بیس سال جنگ میں رگڑا کھایا ہے اور ان کی تربیت میدان جنگ میں ہوئی ہے۔ انہوں نے دنیا کی سپر پاور کو شکست دی ہے۔ یہ سفارت کے آ داب بھی جانتے ہیں اور جنگ کی سٹریٹیجی بھی۔پہلی نسل کی قیادت سو فیصد پشتون اور وہ بھی جنوبی افغانستان کے پشتونوں کے ہاتھ میں تھی۔ دوسری نسل میں آپ کو پشتونوں کے ساتھ ساتھ ازبک، تاجک، ہزارہ حتی کہ بلوچ نژاد طالبان کمانڈر بھی مل جائیں گے۔طالبان کی موجودہ نسل ان تمام علاقوں پر تقریبا قبضہ کر چکی ہے جہاں ان کے بزرگ کابل پر قبضہ کرنے کے باوجود کنٹرول نہیں کر پائے تھے۔ یہ نسل سینٹرل ایشیا اور ایران سے متصل صوبوں پر قبضہ مکمل کرنے کے قریب ہے۔ پہلی نسل اگر پاکستان کے مشوروں کی محتاج تھی تو آج کی طالبان نسل قطر، ایران، ترک، روس، چین اور سینٹرل ایشیا میں مزاکرات کر رہی ہے۔

    طالبان کی پرانی نسل کے مقابلے میں موجودہ نسل نہ صرف اپنے آپ کو پوری دنیا سے منوانا چاہتی ہے بلکہ اسے یہ بھی پتا ہے کہ معیشت کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ اور افغانستان کا ستر فیصد بجٹ بیرونی طاقتوں کا محتاج ہے۔ طالبان امریکہ کو تعمیر کے لیے کردار ادا کرنے کی دعوت دے چکا ہے۔ طالبان کی اس نسل کو پتا ہے کہ قبضہ کرنا اآسان اور پھر اسے جاری رکھنا مشکل ہے۔تو پوری دنیا کو سمجھنا چاہیے کہ اگر پاکستان کی بہت سی باتیں پرانے طالبان نے ماننے سے انکار کر دی تھی تو نئے طالبان تو بڑے کاریگر ہیں انہیں اپنی بات پر لانا اور وہ بھی امریکہ اور اشرف غنی کے لیے کتنا مشکل ہے جن سے وہ بیس سال سے جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے منہ پر کہتے ہیں کہ ہم نے عصر تک روزہ رکھ لیا ہے اب ہمیں مغرب سے پہلے روزہ توڑنے کا مت کہو۔۔ وہ افغانستان کے معاملات اپنی سوچ کے مطابق چلانا چاہتے ہیں۔اس لیے اشرف غنی میرے تمھیں ایک نصحیت ہے کہ اپنے اقتدار کی بجائے اپنے ملک اور لوگوں کی زندگیوں کے بارے میں سوچو۔ سچ بولو اور زمینی حقائق کو تسلیم کرو۔ ورنہ تمھارا انجام بہت بھیانک ہو گا۔

  • اخلاقیات کا مآخذ   تحریر:سید غازی علی زیدی

    اخلاقیات کا مآخذ تحریر:سید غازی علی زیدی

    بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
    آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

    اخلاقیات کا مآخذ کیا ہے؟ اصول و اقدار کی پاسداری، حق وباطل کے تصور سے مکمل آگاہی ، شر سے مستقل لڑائی، فلسفیانہ تحقیق اور مسلسل جستجو۔ مختصراً جو علم انسان پر بھلائی اور برائی کی پہچان واضح کر دے، اچھائی برائی کا شعور دے، باہمی تعلق داری کو فروغ دے یہی علم اخلاق کی اصل روح ہے۔ خود احتسابی ایک مستقل جنگ ہے اصول و اقدار کی، تصورات و نظریات کی۔ ناقدانہ انداز میں خود کو سچ و جھوٹ کی کسوٹی پر وقتاً فوقتاً پرکھنے کی تاکہ اپنے اعمال و افعال کی واضح نیت آشکار ہو۔ یاد رکھیے بلاشبہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ جتنی نیت نیک ہو گی اتنا ہی انسان خود اعتماد اور ذہنی طور پر پرسکون ہو گا۔
    اخلاقیات کسی ایک امر تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ کار نہایت وسیع ہے۔ یہ ایک ہمہ گیر و جامع موضوع ہے جس کی حدود ذات سے شروع ہو کر کائنات پر ختم ہوتی ہیں۔ انفرادی ہو یا اجتماعی، سماجی ہو یا مذہبی، عائلی ہوں یا قانونی غرض ہر شعبہ زندگی کے اعمال سے لیکر امور تک اخلاقیات کی پاسداری لازمی ہے۔ سیدھی راہ پر چلنے والے ہر حال میں اخلاقیات کا دامن تھامے رکھتے ہیں۔ فکری و عملی طور پر بہترین اخلاقیات کا تعین کرنا ہی اشرف المخلوقات ہونے کی اصل پہچان ہے۔
    محبت، شفقت، مدد، ایفائے عہد، حق گوئی و صداقت اعلی ترین اخلاقی اقدار کے زمرے میں آتے ہیں لیکن یہ نہ تو نفسیات ہے نا انسانی فطرت بلکہ کائنات کی سب سے بڑی سچائی ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ اس کے بالکل برعکس نفرت، جھوٹ، ایذارسانی، وعدہ خلافی ایسی علتیں ہیں جو انسانی شخصیت کو تباہ و برباد کر دیتی ہیں۔
    اخلاقیات کو اپنانے والا انسان نہ صرف خود کیلئے بلکہ پورے معاشرے کیلئے خیر و برکت کا باعث بن جاتا ہے۔ شعور و آگاہی سے بہرہ مند افراد ایک متوازن معاشرے کی بنیاد رکھتے۔ لیکن ہماری بدقسمتی کہ ہمارے معاشرے میں سوچنا اور سمجھنا ایک غیر ضروری و قبیح فعل سمجھا جانے لگا ہے۔ عقل و شعور سے عاری لوگ نفسانفسی کی بھینٹ چڑھ کر اخلاقی طور پر مردہ لاش بن چکے ہیں۔ اصل اخلاقیات کا ادراک ختم ہو چکا۔ صرف پیسہ و اختیارات ہی کسی انسان کی عزت کا معیار بن چکے ہیں۔ بنیادی اخلاقی اقدار کی گراوٹ کا شکار معاشرہ فکری بانجھ پن کا شکار ہے لیکن باشعور و سنجیدہ افراد بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے تماشائی بنے بیٹھے۔جب تک ہم رجعت پسندی کو خیرباد کہہ کر درایت کو فروغ نہیں دیں گے تب تک ہم پسماندگی و تنزلی کا شکار رہیں گے۔ بدقسمتی سے ہمارے دانشور و اساتذہ بجائے متوازن تنقید اور اخلاقی اقدار کو رائج کرنے کے صرف پند و نصائح تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے معاشرے میں انسانیت کی جگہ حیوانیت جڑ پکڑ چکی ہے جو کہ بگڑتے بگڑتے اس نہج پر پہنچ چکی کہ اب اخلاقیات بالکل مفقود ہو کر رہ گئی ہے۔
    مثل حیواں، خوردن، آسودن چہ سود
    گر بخود محکم نہ بودن چہ سود
    Twitter: ‎@once_says