Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • لاقانونیت…تحریر: عثمان غنی

    لاقانونیت…تحریر: عثمان غنی

    پاکستان میں جرم کی شرح دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔دن دیہاڑے اغواہ،راستے میں گاڑی یا موبائل فون جیسے قیمتی سازو سامان چھین لینا،بھتہ خوری،راتوں کو گھروں یا دوکانوں میں نقب لگانا،ءیہ سب عام ہے۔ان وارداتوں کے ڈر سے اکثر لوگ مغرب ہوتے ہی گھروں میں دبک کر بیٹھ جاتے ہیں۔عوام خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔اور ان میں ایک خوف کی کیفیت پائی جاتی ہے۔جس وہ کھل کر سانس نہیں لے پاتے۔۔۔
    ہم اکثر بات کرتے ہیں ترقی یافتہ ممالک کے امن کی۔اور پھر اس کے بعد ہم ان کے امن کی وجہ ڈھونڈھتے ہیں۔اور سب سے آخر میں ہم ان سب ممالک کا اپنےملک کےموازنہ کرتے ہین۔موازنہ کرنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں ادارے کس طرح کام کرتے ہیں اور ہمارے ہاں ادارے کس طرح کام کرتے ہیں۔
    اس صورت حال میں پولیس کا کردار سب سے زیادہ ہے۔اور اسی لحاظ سے سب سے زیادہ تنقید بھی اسی ادارے پر کی جاتی ہے۔اب اگر اس ادارے کا موازنہ ہم ترقی یافتہ ممالک کی پولیس سے کریں تو سب سے بڑا فرق ہمیں عددی لحاظ سے نظر آتا ہےنظر آتا ہے ۔ ہماری پولیس کا سب سے بڑا مسئلہ اس کے پاس افرادی قوت کی کمی ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں جہاں ہر دو منٹ بعد آپ کو پولیس موبائل دیکھائِ دے گی وہیں پاکستان میں دو گھنٹے بعد بھی نہیں دیکھائی دے گی۔دور دراز کے علاقوں میں پولیس اپنی چوکیاں بناتی ہے مگر نفری کی کمی کی وجہ سے انہیں آباد نہیں کر سکتی۔تنخواہوں اور مرعات کی کمی وغیرہ ۔۔ثانوی مسائل ہیں جو تقریبا تمام سرکاری اداروں کو در پیش ہیں۔
    لیکن اگر ہم اپنی تاریخ میں دیکھیں تو عددی کمی کبھی بھی مسلمانو کے آڑھے نہیں آسکی۔زیادہ دور نہیں جاتے سن 1972سے پہلے کے سعودی عرب کو ہی دیکھ لیں۔ایک انگریز رائٹر جان پرکائنز اپنی کتاب "دا اکنامک ہٹ مین ” میں لکھتے ہین کہ اس زمانے میں سعودی میں حالات ایسے تھے کے اگر آپ ایک دن اپنا کوئی سامان کہیں چھوڑ جاتے ہیں تو دوسرے دن وہ آپ کو وہیں پڑا ملے گا۔
    اور آج کل سعودی بھی انگریزوں کے نقش قدم پر چلتا ہوا عددی قوت سے قابو پانے میں کوشاں نظر آتا ہے ۔مگر یہ بہر حال ناممکن کی حد تک مشکل ہے۔
    ایک لحاظ سے پولیس کی تعداد بڑھانا بھی ٹھیک ہے مگر ۔۔۔جو چیز ہمیں اند سے کھائےجا رہی ہے وہ اس سے زرا مختلف ہے۔
    مثال کے طور پر کہیں پولیس کا ناکا لگا ہے اور کسی پولیس والے کا استاد وہاں سے گزرتا ہے تو اس کو بنا چیکنگ کے جانے دیا جاتا ہے ۔ وجہ ۔۔۔۔ استاد کی عزت ہے۔ خاندان کو تو خیر رہنے ہی دیں۔۔۔اگر کوئی ہمسایا بھی گزرتا ہے تو اس کو بھی دوسروں پر فوقیت دی جاتی ہے وجہ۔۔۔ہمسائے کے حقوق۔۔

    اور اگر کوئی بیچارہ پولیس والہ ایسا نہ کریں تو ہم "امن پسند”عوام گلہ کرنے ان بیچاروں کے گھر پہنچ جاتے ہیں۔۔گھر نا بھی جاسکیں تو کہیں بھی ملے ہمارہ شکوہ تیار ہوتا ہے۔۔۔اور وہ اگلی بر لازما ہم سے رعایت برتتا ہے۔اس سب سے عوام میں اختلافات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔اور پولیس جیسے حساس ادارے کے بارے میں منفی خالات پروان چڑھتے ہیں۔
    پولیس کی ناکامی کی جو سب سے بڑی وجہ ہے وہ ہے پولیس پر سیاست دانوں کا کنٹرول ۔۔۔۔اگر کسی چوکی میں کوئی نیا اے ایس آئی آتا ہے تو اس علاقے کے کونسلر کے پاس اس کے آنے سےبھی پہلے اس کی ساری معلومات پہنچ چکی ہوتی ہے ۔اور اس کے پہلے آرڈر سے بھی پہلے اس کو "آج رات کھانا ہمارے ساتھ کھانے "کا آرڈر مل چکا ہوتا ہے۔اس کھانے میں اس کو نمک حلالی کے سارے گر سیکھاے جاتے ہیں۔اور اس کے بعد پولیس کوئی بھی ایکشن لے "چھوڑ دو پاجی ساڈا بندا ے”کہہ کر سب رفہ دفعہ کرا دیا جاتا ہے۔اور وہ بیچارہ نمک حلالی کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔

    اور دیکھا جائے تو ہماری آدھی پولیس عدالتوں کے باہر اور آدھی سیاستدانوں کے گھرں کے باہر ملتی ہے۔اور اگر کوئی پولیس والا کہیں کچھ غلط کرتا نظر آحائے تو پوری علم فاضل قوم اپنے نادر و نایاب خیالات کا اضہار کرنے اور ان کو گالیاں دینے مین پیش ہوتی ہے۔اصل میں ہم شہدا کی لاشوں پر روتے ہیں غازیوں کو جوتوں کے ہار پہناتے ہیں۔ایک نوجوان جب پولیس مین جاتا پے تو وہ یہ یرارادہ لے کر نہین جاتا کے رشوت لون گا مگر ہم اس کو عادی کرتے ہین اپنے چھوٹے غیر قانانی کام نکلوانے کے لیَے کچھ کام جلدی کروانے کے لیئے۔۔۔۔
    اس تمام صورت حال کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پولیس اپنا کام صیح نہیں کر سکتی۔اور ملک میں جرم بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ہمیں پولیس پر تنقید سے پہلے اپنا محاسبہ کرنا چاہئے۔ہم اپنے پیاروں کو امتحان میں ڈال دیتے ہیں جب ہم ان سے تھوڑی سی "غیر اخلاقی”فیور لیتے ہیں۔ہم خود اپنے فرض پر جلدی پہنچنےکے لئے ان کے فرض کو سائد پر رکھ دیتے ہیں۔ہمیں باہر سے امن ادھار نہیں ملے گا ۔کوئی ہمیں امن گفٹ نہیں کرے گا ۔
    ہمیں اپنے ملک کے امن کے لئے خود کوششیں کرنی ہوں گی ۔اور سب سے بڑی کوشش ہم اپنے پیاروں کے لئے امتحان نا بن کر کر سکتے ہیں۔۔اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ کیا واقعی ہم کر سکتے ہیں؟؟؟؟؟؟

  • مرد مجاہد.تحریر:سیف اللہ عمران

    مرد مجاہد.تحریر:سیف اللہ عمران

    تاریخ انسانی میں کئی عظیم انسان آئے کئی آئیں گے لیکن ان میں سے مرد مجاہد بہت ہی کم آئیں ہیں میرا موضوع اس دور کا مرد مجاہد وزیر اعظم پاکستان عمران خان ہے

    5 اکتوبر 1952 کو شوکت خانم کی گود سے جنم لینے والے اس عظیم انسان نے جس میدان میں قدم رکھا اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطاء فرمائی

    عمران خان کی پہلی وجہ شہرت کرکٹ ہے عمران خان کا ڈیبیو 1971 میں ہوا پہلے میچ کے بعد آپ کو آپ کو ٹیم سے باہر کر دیا گیا لیکن عمران خان اور ہار مان لے یہ نا ممکن ہے
    عمران خان نے ٹیم سے باہر رہتے ہوئے انتہائی سخت محنت کی اور پہلے سے زیادہ اچھے آل راؤنڈر بن کر ابھرے

    عمران خان شاندار کارکردگی کے باعث 1982 میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بنے اس طرح عمران خان کے شاندار کپتانی کیریئر کا آغاز ہوا
    عمران خان پاکستان کی تاریخ کے سب سے کامیاب کپتان ہیں عمران خان کی قیادت میں پاکستان نے عظیم ترین فتوحات حاصل کیں پاکستان نے پہلی دفعہ انڈیا کو انڈیا میں شکست دی پاکستان نے انگلینڈ کو انگلینڈ میں ہرایا اور اس طرح پاکستان کے اچھے دن شروع ہو گئے

    1987 ورلڈ کپ عمران خان کے لیے ایک اہم ایونٹ تھا کیوں کہ عمران خان کینسر ہسپتال بنانے کا اعلان کر چکے تھے اور عالمی کپ جیتے بغیر یہ مشکل تھا پاکستان ٹیم شاہینوں کی طرح میدان میں اتری کئی فتوحات حاصل کیں لیکن بد قسمتی سے سیمی فائنل میں شکست ہوئی اور عمران خان نے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا

    لیکن پاکستانی عوام کی پر زور درخواست پر عمران خان نے ریٹائرمنٹ واپس لے لی اور کرکٹ کے میدان میں ایک بار پھر قدم رکھ دیا

    اب پاکستان کی کرکٹ تاریخ کا سب سے تاریخی ایونٹ 1992 کا ورلڈ کپ آ چکا تھا لیکن قومی ٹیم کے دو اہم کھلاڑی سعید انور اور وقار یونس زخمی ہو کر ٹیم سے باہر ہو گئے اس وقت عمران خان نے حوصلہ نہ ہارا ٹیم کا مورال بلند کیا ابتدائی شکستوں کے با وجود ٹیم کی امید نہ ٹوٹنے دی کواٹر فائنل میں ویسٹ انڈیز کی مضبوط ٹیم کو شکست دے سیمی فائنل میں پاکستان نے انضمام الحق کی شاندار اننگ کی بدولت نیوزی لینڈ کو زیر کیا اور پاکستان فائنل میں پہنچ گیا
    فائنل شروع ہوا عمران خان اپنی کارنرڈ ٹائیگر شرٹ کے ساتھ ٹاس کیلئے آۓ پاکستان ٹاس جیتا بیٹنگ کا آغاز ہوا عمران خان ایک کھلاڑی آؤٹ ہوتے ہی کھیلنے آ گئے اور فاتحانہ اننگ کھیلی

    میچ کا اختتام بھی عمران خان کی جانب سے لی گئی وکٹ سے ہوا یوں عمران خان کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے

    ایک مقصد یہاں پورا ہوا اب اگلے کی باری تھی یہ مقصد شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر تھی عمران خان نے دنیا بھر میں تحریک چلائی اور نہ صرف شوکت خانم ہسپتال بنایا بلکہ چلا کر بھی دکھایا
    اس کے بعد آتی ہے سیاست عمران خان نے 1996 میں سیاست کے میدان میں قدم رکھا تحریک انصاف کے نام سے جماعت بنائی لیکن 1996 میں وہ اپنی نشست بھی نہ جیت سکے لیکن وہ عمران خان ہی کیا جو ہمت ہار جائے وہ مرد مجاہد دوبارہ کھڑا ہوا 2002 میں ایک نشست جیتی 2008 کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا 2013 میں آپ کی جماعت اپوزیشن آئی اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں آپ کی جماعت حکومت میں آئی
    عمران خان کی انتھک محنت سے آپ کی جماعت 2018 میں سب سے زیادہ نشستیں لینے والی جماعت بنی اور عمران خان نے وزیراعظم پاکستان کا حلف اٹھایا اب وہ اپنے مقصد”نیا پاکستان” کی تکمیل کی کوشش کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اس مقصد میں بھی کامیابی عطاء فرمائے آمین ♥️
    تحریر:سیف اللہ عمران
    Twitter: @Patriot_Mani

  • ‎امریکی انخلاء اور ممکنہ خدشات.تحریر :محمد محسن خان

    ‎امریکی انخلاء اور ممکنہ خدشات.تحریر :محمد محسن خان

    اکتوبر 2001 میں افغانستان پر امریکی حملہ انٹرنیشنل قوانین کے تحت ایک جرم تھا۔ یہ جرم ہی تھا کیونکہ امریکی فوج کی بے پناہ طاقت افغانستان کے عامیانہ انفراسٹرکچر کو مسمار کرنے اور اس کے معاشرتی بندھنوں کو توڑنے کے لئے استعمال ہوئی۔
    ‎ آپکو یاد ہوگا کہ اکتوبر ۲۰۰۱ کوصحافی اناطول لیون نے پشاور میں معروف افغانی رہنما عبدالحق کا انٹرویو لیا۔ طالبان کے خلاف مزاحمت کا حصہ بننے والے عبدالحق ، امریکی فضائی بمباری کی آڑ میں افغانستان واپس جانے کے لئے تیار ہو رہے تھے۔ تاہم ، وہ جس طرح امریکہ نے جنگ کے مقدمے چلانے کا فیصلہ کیا تھا اس سے افغان رہنما عبدالحق متفق نہیں تھے۔ عبد الحق نے لیون کو بتایا ، "موجودہ حالات میں خود سے فوجی کاروائی صرف حالات کو ہی مشکل بنا رہی ہے۔ خاص طور پر اگر یہ جنگ طویل عرصے تک جاری رہی اور بہت سے شہری بے گناہ مارے جائیں۔” وقت نے دیکھا کہ یہ جنگ دو دہائیاں تک جاری رہی اس عرصے میں کم از کم ستر ہزار کے قریب شہری اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

    ‎عبد الحق نےمزید کہا کہ "سب سے بہتر بات یہ ہوگی کہ امریکہ تمام افغان گروہوں کو اتفاقِ رائے سے سیاسی حل کے لئے کام کرے۔ بصورت دیگر ، مختلف ممالک کے تعاون سے اور پورے خطے کو بری طرح متاثر کرنے والے ، مختلف گروہوں کے مابین گہری تقسیم کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ یہ پیش گوئی حق پر مبنی تھی لیکن عبدالحق جانتا تھے کہ کوئی بھی اس کی بات نہیں سنے گا ۔اسی طرح وہ مزید بولے ، "شاید ، امریکہ نے پہلے ہی اپنا ذہن بنا لیا ہے کہ کیا کروں ، اور میرے ذریعہ کی جانے والی سفارشات میں بہت دیر ہو جائے گی۔”

    ‎اس جنگ میں ہونے والی ناقابل یقین تباہی کے 20 سال گزرنے کے بعد امریکہ سیاسی مصالحت کی طرف لوٹ آیا۔
    ‎عبدالحق افغانستان واپس چلے گئے اوراطلاعات کیمطابق ۲۶ اکتوبر ۲۰۰۱ کو طالبان نے قتل کردیا۔ ان کا مشورہ اب ماضی کا حصہ ہے۔ ستمبر ۲۰۰۱ میں ، افغانستان میں طالبان سمیت اکثر سیاسی اشرافیہ بات چیت کے لئے تیار تھی کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ امریکی طیارے افغانستان کے لئے جہنم کے دروازے کھول دے گے۔ اب دو دہائیوں بعد ، طالبان اور دیگر کے مابین خلیج مزید وسیع ہوگئی ہے۔ مذاکرات کی بھوک اب زیادہ موجود نہیں ہے

    ‎14 اپریل 2021 کو ، افغانستان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر میر رحمن رحمانی نے متنبہ کیا کہ ان کا ملک ایک "خانہ جنگی” کے دہانے پر ہے۔ کابل کے سیاسی حلقے خانہ جنگی کے بارے میں بات چیت کا آغاز کر رہے ہیں جب 11 ستمبر تک امریکہ کا انخلاء ہو۔ یہی وجہ ہے کہ 15 اپریل کو کابل میں امریکی سفارتخانے میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران ، طلوع نیوز کی شریف امیری نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی سے پوچھا خانہ جنگی کے امکان کے بارے میں آنکھیں بند کرنا کیسے ممکن ہے؟ وزیرخارجہ بلنکن نے جواب دیا ، "مجھے نہیں لگتا کہ یہ کسی کے مفاد میں ہے ، کم سے کم یہ کہنا کہ افغانستان کو خانہ جنگی کا شکار ہونا ، لمبی جنگ میں جانا۔ اور یہاں تک کہ طالبان ، جیسے ہم نے یہ سنا ہے ، نے کہا ہے کہ اسے اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے

    درحقیقت افغانستان کم از کم نصف صدی سے خانہ جنگی کا شکار ہے ، کم از کم مجاہدین کی تشکیل کے بعد سے افغانستان کے شمالی اتحاد سے لڑنا تھا۔ اس خانہ جنگی کو افغانستان کے انتہائی قدامت پسند گروہ طالبان کی حمایت کے ذریعہ تیز کیا گیا تھا۔ اس عرصے میں کبھی بھی امریکہ نے امن کا راستہ پیش نہیں کیا۔ اس کے بجائے ، اس نے کابل میں نتائج پر قابو پانے کے لئے امریکی طاقت کی بے تحاشا استعمال کرنے کے لئے ہر موڑ پر ہمیشہ بے تابی کا مظاہرہ کیا ہے۔امریکی فوج کا انخلاء جس کا اعلان اپریل ۲۰۲۱کے آخر میں ہوا تھا اور یکم مئی سے شروع ہوا تھا ، اتنا واضح نہیں تھا جتنا اب ایسا لگتا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے 14 اپریل 2021 کو اعلان کیا کہ "امریکی فوجیوں کے گھر واپس آنے کا وقت آگیا ہے۔” اسی دن امریکی محکمہ دفاع نے واضح کیا کہ 11 ستمبر تک 2500 فوجی افغانستان سے چلے جائیں گے۔ ، نیو یارک ٹائمز نے نوٹ کیا تھا کہ امریکہ کے افغانستان میں 3500 فوجی موجود ہیں حالانکہ واضح طور پر کہا جاتا ہے کہ اس ملک میں 2500 امریکی فوجی موجود ہیں۔” پینٹاگون کے ذریعہ امریکی فوج کی تعداد بارے مبالغہ آرائی ہے۔ اسسٹنٹ سکریٹری برائے دفاع برائے استحکام کے دفتر کی ایک رپورٹ کے علاوہ ، یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ امریکہ کے پاس افغانستان میں زمین پر تقریبا 16000 ٹھیکیدار موجود ہیں۔ وہ متعدد خدمات مہیا کرتے ہیں ، جن میں زیادہ تر فوجی مدد شامل ہوتی ہے۔ان میں سے کسی بھی ٹھیکیدار یا اضافی نامعلوم ایک ہزار امریکی فوجیوں سے انخلا کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ، اور نہ ہی ہوائی بمباری ، ڈرون حملوں سمیت ختم ہوگی اور نہ ہی اسپیشل فورسز کے مشنوں کا کوئی خاتمہ کا فیصلہ یا ارادہ ظاہر کیا گیا۔

    ‎اپریل ۲۰۲۱ کو ، بلنکن نے کہا کہ امریکہ اشرف غنی کی افغانستان حکومت کو تقریبا۳۰۰ملین ڈالر فراہم کرے گا۔ اشرف غنی ، جو اپنے پیش رو حامد کرزئی کی طرح ایک کمزور اور کٹھ پتلی صدر دکھائی دیتے ہیں کی موجودگی میں اب افغانستان امریکی انخلا کے بعد کی حکومتوں کی باتوں سے گونج اٹھا ہے ، جس میں یہ تجویز بھی شامل ہے حزب اسلامی کے رہنما گلبدین حکمت یار کی حکومت تشکیل دینے کی تجویز بھی شامل ہے جس میں وہ قیادت کریں گے اس میں طالبان شامل نہیں ہوں گے۔ اس دوران اب امریکہ نے اس خیال سے اتفاق کیا ہے کہ حکومت میں طالبان کا کردار ہونا چاہئے۔ اب یہ کھل کر کہا جارہا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کا خیال ہے کہ طالبان 1996 سے 2001 تک کے مقابلے میں "کم سختی سے حکومت کریں گے”۔

    ‎ایسا لگتا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ دو یقین دہانیوں کے ساتھ طالبان کو اقتدار میں واپس آنے کی اجازت دینے کے لئے تیار ہے: پہلا ، یہ کہ امریکی موجودگی باقی ہے ، اور دوسرا ، کہ امریکہ کے اہم حریفوں یعنی چین اور روس کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے جو اس کے بزدلانہ انخلا کے بعد ایک شکست خوردہ مصالحت لگتی ہے۔ کابل۔ 2011 میں ، امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے ہندوستان کے شہر چنئی میں بات کی ، جہاں انہوں نے ایک نئی سلک روڈ انیشیٹو کی تشکیل کی تجویز پیش کی تھی جو وسطی ایشیا کو افغانستان اور ہندوستان کی بندرگاہوں کے راستے جوڑتی تھی۔ اس اقدام کا مقصد روس کو وسط ایشیا میں اپنے روابط سے منقطع کرنا اور چینی سی پیک کے قیام کو روکنا تھا ، جو اب ترکی تک پوری طرح سے مکمل ہے۔

    ‎استحکام اب افغانستان کے کارڈوں میں نہیں۔ جنوری میں ، ازبکستان کے سابق وزیر خارجہ اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے موجودہ سکریٹری جنرل ، ولادی میر نوروف نے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام ایک پروگرام سے خطاب کیا۔ نوروف نے کہا کہ داعش یا داعش اپنے جنگجوؤں کو شام سے شمالی افغانستان منتقل کررہے ہیں۔ شدت پسند جنگجوؤں کی یہ تحریک نہ صرف افغانستان بلکہ وسطی ایشیا اور چین کے لئے بھی تشویش کا باعث ہے۔ 2020 میں ، واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا کہ امریکی فوج ، داعش کے جنگجوؤں کے خلاف فوائد حاصل کرنے کے دوران ، طالبان کو فضائی مدد فراہم کرتی رہی ہے۔ یہاں تک کہ اگر طالبان کے ساتھ امن معاہدہ ہوتا ہے تو ، آئی ایس آئی ایس اسے غیر مستحکم کردے گی

    ‎فراموش کی گئی افغان خواتین کے حالات تشویشناک ہیں ، اقوام متحدہ کے ایک عہدیدار ، رسول باسو نے 1986 سے 1988 تک افغان حکومت میں خواتین کی ترقی کے اعلٰی مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 1987 میں خواتین کو برابری کے حقوق مہیا کیے گئے ، جس کی وجہ سے خواتین کے گروپوں کو کام کاج اور گھر میں برابری کے لئے جدوجہد کرنے اور مردانہ اصولوں کے خلاف جدوجہد کرنے کی اجازت دی گئی۔ چونکہ جنگ میں مرد کی بڑی تعداد ہلاک ہوگئی تھی ، باسو نے ہمیں بتایا ، خواتین کئی پیشوں میں چلی گئیں۔ خواندگی کی شرح میں اضافے سمیت خواتین کے حقوق کیلئے خاطر خواہ فائدہ ہوا۔ اگر طالبان اب اس خانہ جنگی میں کابل حکومت کو جس کا امکان زیادہ ہے نکال باہر کرتے ہیں تو مغرب و انسانی حقوق کی تنظمیں خواتین کے حقوق بارے تشویش کا شکار ہیں ۔امریکہ کو افغانستان چھوڑنے سے قبل ہی ایک مشترکہ حکومت کے قیام اور خواتین کے حقوق یقینی ضمانت حاصل کرنی چاہیے تھی جبکہ وہ اب چونکہ افغانستان سے بھاگ کھڑا ہوا ہے تو اس بات کی ضمانت دینا قطعی مشکل ہے کہ اس خانہ جنگی یا اس کے بعد قائم طالبان ممکنہ حکومت میں خواتین کے حقوق کا خیال رکھا جا سکے گا ۔
    تحریر محمد محسن خان
    Twitter :MMKUK1

  • "پاکستانی صحافت کی معراج”۔    تحریر:رانا آصف محبوب

    "پاکستانی صحافت کی معراج”۔    تحریر:رانا آصف محبوب

            

    معراج عروج سے نکلا ہے اور اس کے معنی ہی اوپر جانا یا چڑھنا ہیں۔انسان کو بھی اسی فطرت پر پیدا کیا گیا ہے کہ جس سے انسان اپنی زندگی میں اوپر کی طرف سفر کرے انسان اسی لئے بلندی کے حصول کی تگ و دو میں دن رات ایک کرتا ھے۔
    اسلامی جمہوریہ پاکستان کو بنے تقریبآ 73 سال ہو چکے اور یہ ریاست چار ستونوں پر کھڑی ھے بلکہ لیٹی ھے۔اس ریاست میں چار ستون اس طرح ٹھونکے گئے ہیں جس طرح کبھی شادیوں پر ٹینٹوں کے درمیان میں ایک بمبو ٹھونکا جاتا تھا جو تن تنہا نا صرف پورے ٹینٹوں کا بوجھ اٹھاتا تھا بلکہ اس کے گرد گھومنے والے بچوں کی گردش حالات کی گردش سمجھ کر برداشت کرتا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد یقینا ایک تاثر تھا کہ فوج اور سیاست دان ریاست کے دو ستون ہیں ۔پھر رفتہ رفتہ جب بیگم نصرت بھٹو کیس ،جسٹس حمود الرحمن کیس ایسے چند واقعات رونماہوئے تو ریاست کے ستونوں میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا اور عدلیہ کو بھی ریاست کا تیسرا ستون تسلیم کر لیا گیا اور جب ججوں کے ایک ٹولے نے مشرف آمریت کو قانونی قرار دیتے ہوئے اسے آئین میں ترامیم تک کا حق عطا کر دیا تو اس ستون کی مسلمہ حیثیت کو چیلنج کرنا ناممکن بنا دیا۔

    اج ہم ریاست کے چوتھے ستون یعنی صحافت کی بات کریں گے۔صحافت پاکستان کا ستون مشرف کی بندوق سے نکلنے والی گولی ثابت ہوا۔اکیسویں صدی کے آغاز میں دنیا الیکٹرانک میڈیا کے چنگل میں پھنسی تو پاکستان بھی گلوبل ویلج کا حصہ بن کر اس سے محفوظ نہ رہ سکا اور الیکٹرانک میڈیا کی پرائیوٹائزیشن نے اپنے قدم جمائے تو پاکستان کے سیاسی، سماجی، معاشی، معاشرتی حلقے اور عسکری وجوڈیشری اس کے اثر سے ثمر آور ہوئے تو میڈیا ریاست کے چوتھے ستون کی حیثیت سے اپنے آپ کو متعارف نہ صرف کروا چکا تھا بلکہ کنگ میکر کی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔

    میڈیا پہلے اتنا آزاد اور مضبوط نہیں تھا وقت کے ساتھ ساتھ اسکی اہمیت میں ا ضافہ ہوا تو سیاستدانوں نے میڈیا کے اس میدان میں اپنے مطلب کے دوست تلاش کر لیے ۔ پھر جب 21ویں صدی کے آغاز میں پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا نے پاﺅں جمانے شروع کیے اور امن کی آشا کے نام پر ہنودویہود نصاری سے دولت اکٹھی کرنے کو اپنا مقصد حیات بنا لیا اور میڈیا میں موجود ایسے گروپوں نے خبر بتانے کی بجائے خبر بنانے کو صحافت کا شیوا بنا لیایہی وجہ ہے کہ یہ اپنے ذاتی مفادات کے لیے کبھی آمروں سے مل جاتے ہیں اور کبھی اپنے ہی تراشیدہ بتوں سے مہم جوئی شروع کر لیتے ہیں۔سوشل میڈیا کے دور میں اب اپنے ہی خیالات سے بھاگنا ناممکن ہو چکا ھے چہ جائیکہ وہ عوام تک ٹؤئیٹ یا فیس بک سٹیٹس کی مد میں نا پہنچ سکیں۔آج کا صحافی اپنے پیشے کے اعتبار سے صحافی کم اور کسی سیاسی یا طاقتور ادارے کا سپوکس پرسن بن چکا ھے۔اس کے باوجود کہ الیکٹرانک میڈیا کی عوام میں تیزی سے گرتی ساکھ کا زمہ دار بھی یہ خبر دینے کی بجائے خبر بنانے والے صحافی ہیں جو ہر بات پر "تو” کی گفتگو کرنے سے بھی گریز نہی کرتے۔پہلے صحافت کی معراج سچی اور مصدقہ زرائع سے من و عن خبر دینا سمجھا جاتا تھا۔لیکن مادہ کی اس دورڑھ میں شاید معراج کے معنی بدل دئیے ہیں۔آج پاکستان کے صحافی کی معراج ہوا میں اڑتا ھیلی کاپٹر ھے جس میں بیٹھ کر وہ کسی طاقتور انسان کا انٹرویو کر کے سوشل میڈیا پر تصاویر اپ لورڈ کر سکے۔آج کے صحافی کی معراج کے پائیدان یقینأ غلام گردشوں کی دھلیز سے شروع ہو کر غلام گردشوں کی دھلیز پر ہی ختم ہو جاتے ہیں۔

    تحریر:رانا آصف محبوب
    Twitter iD:@RAsifViews

  • صرف پردہ کا حکم عورت کا ہی کیوں عام ؟تحریر قراۃالعین

    صرف پردہ کا حکم عورت کا ہی کیوں عام ؟تحریر قراۃالعین

    ہمارے معاشرے میں ہر جگہ صرف عورت کے پردے کی ہی بات ہوتی ہے اچھی بات ہے اسلام کی خوبصورتی پردے میں ہے ہونی بھی چاہے
    پر وہ مرد جو ہر وقت عورت کا پردہ پردہ کرتے رہتے کیا وہ خود عورت کو دیکھ کر نگاہ نیچ رکھتے؟ ہرگز نہیں۔
    اگر رکھی ہوتی تو انہیں کبھی معلوم نہ ہوتا کوئی عورت بے پردہ گھوم رہی ہے یا پردے میں

    ہر جگہ عورت کا پردہ پردہ کرنے والے یہ بات بھول جاتے ہیں کہ قرآن میں عورت کے پردے سے پہلے مرد کو نگاہ نیچی رکھنے کا حکم ملا ہے

    پر یہ خاصہ مشکل کام ہے آپ کی اٹھی نگاہیں عورت کی بے پردگی کی طرح نہ تو کسی کو نظر آتیں ہیں نہ اس میں کوئی برائی
    سمجھی جاتی

    کوئی عورت پردے میں بھی ہوگی تو اسکا گھر تک پیچھا کیا جاتا اس کو تب تک دیکھا جاتا جب تک وہ آنکھوں سے اوجھل نہ ہو جائے
    تو اس میں قصور کس کا ہوا آپ کی حیوانیت کا یا عورت کے پردے کا
    تو خدارا منافقت چھوڑیں عورت کے پردے کے ساتھ ساتھ مردوں کو نگاہیں نیچے رکھنے کا فیصلہ بھی جگہ جگہ عام کریں
    جس طرح گھر میں اپنی ماں بہن بیٹیوں بہو کو دیکھ کر نگاہیں نیچی کرلی جاتی ہیں اسی طرح پرائی عورتوں کےلئے بھی نگاہیں نیچی
    کریں
    تحریر قراۃالعین
    @qurat_Writters

  • "تعلیم کی افادیت .تحریر:نـــازش احمــــد

    "تعلیم کی افادیت .تحریر:نـــازش احمــــد

    آج کے اس پر آ شوب اور تیز تیرین دور میں تعلیم کی ضرورت بہت اہمیت کا حامل ہے چاہے زمانہ کتنا ترقی کرلے حالانکہ آ ج کا دور کمپیوٹر کا دور ہے۔ ایٹمی ترقی کا دور ہے، سائنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے۔مگر اسکول میں بنیادی عصری تعلیم، ٹیکنیکل تعلیم، انجینٔرنگ، وکالت ، ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم حاصل کرنا
    آج کے دور کا لازمی تقاضہ ہے۔ جدید علم تو ضروری ہیں ہی اس کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی بہی اہمیت اپنی جگہ مسمم ہے ، اس کے ساتھ ساتھ انسان کو انسانیت سے دوستی کے لیے اخلاقی تعلیم بہی بے حد ضروری ہے۔ اسی تعلیم کی وجہ سے زندگی میں خدا پرستی عبادت،محبت ، خلوصِ، ایثار، خدمت خلق، وفاداری اور ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ اخلاقی تعلیم کی وجہ سے صالح اور نیک معا شرہ کی تشکیل ہو سکتی ہے۔
    تعلیم کے حصول کے لیے قابل اساتذہ بہی بے حد ضروری ہیں جو بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ استاد وہ نہیں جو محض چار کتابیں پڑھ کر اور کچھ کلاسز لے کر اپنے فرائض سے مبرا ہو گیا بلکہ استاد وہ ہے جو طلباء وطالبات کی خفیہ صلاحیتوں کو پیدا کرتا ہے اور انہیں شعور و ادراک، علم و آگہی نیز فکر کی دولت سے مالا مال کرتا ہے۔ جن اساتذہ نے اپنی اس ذمہ داری کو بہتر طریقے سے پورا کیا. ان کے شاگرد آ خری سانس تک ان کے احسان مند رہتے ہیں۔ اس تناظر میں اگر آ ج کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوگا کہ پیشہ تدریس کو بہی آ لودہ کر دیا ہے۔

    محکمہ تعلیمات اور اسکول انتظامیہ اور معاشرہ بھی ان چار کتابوں پر قانع ہوگیا۔کل تک حصول علم کا مقصد تعمیر انسانی تو آج نمبرات اور مارک شیٹ پر ہے۔مگر افسوس کہ ہمارے ملک کے تعلیمی اداروں پر مفاد پرست ٹولہ قصر شاہی کی طرح قابض رہا ہے
    جن کے نزدیک اس عظیم پیشہ کی قدرو قیمت کی کوئی اہمیت نہیں رہی ہے،بدقسمتی اس بات کی بھی ہے کچھ ایسے عناصر بھی تعلیم کے دشمن ہوئے ہیں جو اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے ہمارے تعلیمی نظم کے درمیان ایسی کشمکش کا آغاز کررکھا ہے جس نے رسوائی کے علاوہ شاید ہی کچھ عنایت کیا ہو۔ مگر پھر بھی جس طرح بیرونی دنیا کے لوگ تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اسی طرح مسلمان بھی کبھی جدید تعلیم دور نہیں رہے بلکہ جدید زمانے کے جتنے بھی علوم ہیں زیادہ تر کے بانی مسلمان ہی ہیں۔موازنا کیا جائے تو اندازہ ہو گا کہ آج یورپ تک کی جامعات میں مسلمانوں کی تصنیف کردہ کتابیں نصاب میں شامل ہیں۔
    @itx_Nazish
    نـــازش احمــــد

  • طالبان افغانستان اور الزام کی زد میں پاکستان .تحریر:عبدالمجید مہر ایڈوکیٹ

    طالبان افغانستان اور الزام کی زد میں پاکستان .تحریر:عبدالمجید مہر ایڈوکیٹ

    ٩/١١کے بعد امریکا نے افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تو امریکہ اور عالمی دنیا کے دباو میں مجبور ہوکر ہمیں امریکہ کو راستے بھی دینے پڑے ،کیونکہ ہم راستے نا دیتے تو شائد دنیا ہم پر کئ سخت پابندیاں لگاسکتی تھی جوکہ ہمارے اپنے ملک کے لئے بہت نقصاندہ ہوتا ،ادھر امریکہ کو راستے دینے پر طالبان نے ہمیں امریکی ایجنٹ تسلیم کرلیا
    اور نئ جنگ کا آغاز شروع ہوچکا جس کے نتیجے میں کئ لاکھ افغان پناھ گزینوں نے پاکستان کی طرف ہجرت کی اور ہم نے ان کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے مسلماں بھائیوں اور ان کے خاندانوں کو پاکستان میں نا صرف کھلے دل سے خوش آمدید کہا بلکہ ہم نے ان کے لئے کوئی مخصوص کیمپس یا علائقہ نہیں رکھا بلکہ اتنی حد تک آزادی دی کہ وہ پورے پاکستان میں جیسے چاہیں ،جہاں چاہیں رہ سکتے ہیں وہاں افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد ایک حکومت تشکیل دی گئی

    بقول طالبان کے حامد کرزئی کی حکومت امریکہ نے اپنے مفاد کے لئے بنائ ہے اس حکومت کا افغان سرزمین یا یہاں کے باشندوں سے کوئی تعلق نہیں اس لئے طالبان نے نا صرف امریکہ بلکہ افغان حکومت کے خلاف بھی جنگ کا اعلان کیا پاکستان کو اس جنگ کا خمیازہ بھی اس لئے بھگتنا پڑا کیونکہ ہمیں بھی امریکی ایجنٹ کا لقب دیا جاچکا تھا ،اسی سلسلے میں TTPکے دھشتگردوں نے پاکستان میں آرمی،سول اداروں ،ہمارے بازاروں،مسجدوں،اسکولوں سمیت ہر جگہ پر حملے کئے وہاں سے امریکہ کا جب دل چاہتا پاکستان میں ڈروں ماردیتا تھا جس کے نتیجے میں TTPکو ذیادہ فائدہ ہوتا تھا کیونکہ TTPقبائلی علائقوں میں مضبوط ہوتی گئ اور عوام کو پاکستان آرمی اور حکومت کے خلاف بھڑکانے میں مصروف رہی اس وجہ سے ڈرون حملے میں جس کے خاندان کے لوگ شہید ہوتے تو وہ ہتھیار اٹھالیتا پاکستان کے خلاف اسی وجہ سے ہمارے ملک میں بھی ایک جنگ سی کیفیت پیدا ہوگئ ،آئے روز دھماکوں سے نا صرف خوف کا عالم پیدا ہوگیا بلکہ اس کے نتیجے میں ہمیں ٧٠ ہزار سے زائد جانوں کے نزرانے اور اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ،بہرحال ہماری پاک افواج کی بہترین حکمت عملی سے ہم نے پاکستان میں دھشتگردی پر قابو پالیا اور ادھر افغانستان میں امریکہ اور طالبان کی جنگ اپنی آخری مراحل کی طرچ جاچکی تھی ٢٠ سالوں کی اس جنگ میں امریکہ کو مسلسل ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو ایک بار پھر اپنی عزت بچانے کے لئے امریکہ نے پاکستان سے درخواست کی کہ کسی طرح طالبان اور امریکہ کے مزاکرات کروائے ہیں آخرکار پاکستان نے اپنی کوششوں سے امریکہ اور طالبان کو آمنے سامنے بٹھایا اور مزاکرات شروع ہوئے جس کے بعد امریکہ نے افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنا شروع کردی اور اب ایک بار پھر طالبان افغانستان پر اپنا کنٹرول حاصل کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوتے نظر آرہے ہیں

    پاکستان نے واضع موقف اپنایا ہے کہ ہم کسی صورت ایسی کسی حکومت کو سپورٹ نہیں کریں گے جو افغان عوام کی خواہشات کے خلاف ہو اس لئے پاکستان اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان پرامن مزاکرات ہوں تاکہ افغانستان کی عوام بھی سکون سے اپنی زندگی کزارسکیں اور مستقبل کا فیصلہ افغان عوام پر چھوڑا جائے کہ وہ کس کی حکومت چاہتے ہیں
    اس سارے معاملات میں جہاں امریکہ،افغان حکومت اور طالبان سب پاکستان حکومت کے کردار کی تعریف کررہی ہے وہیں
    چند شرپسند عناصر اور خاص طور پر انڈیا پاکستان پر الزام تراشی کرتے نظر آرہے ہیں کہ طالبان کی پشت پر پاکستان کھڑا ہے حالانکہ پاکستان کا واضع موقف دنیا کے سامنے ہیں لیکن چونکہ انڈیا نے افغانستان میں بہت بڑی سرمایہ کاری جس کا مقصد افغان حکومت کو اپنا بناکر یہاں سے پاکستان کے خلاف دھشتگردی اور تخریب کاریاں کی جائیں گی تاکہ پاکستان کو کمزور کیا جاسکے لیکن افغانستان کی بدلتی صورتحال میں انڈیا کو اپنی ساری سرمایہ کاری ڈوبتی نظر آرہی ہے اس لئے وہ اب اس پروپگینڈہ کو فروغ دے رہے ہیں کہ پاکستان اور طالبان ایک ہی ہیں

    لیکن انڈیا شائد بھول گیا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کی عوام کا رشتہ ١۴ سو سالوں پر محیط ہے ہم دونوں اطراف کے المسلم اخو مسلم کے رشتے سے بندھے ہیں ،ہم ایک دوسرے کے بھائی ہیں ،ہم دونوں اطراف امن کے داعی ہیں آج بھی افغانستان کا بچہ بچہ پاکستان سے اتنی ہی محبت کرتا ہے جتنی محبت پاکستانی افغانستان کے لوگوں سے کرتے ہیں
    پاکستان کی امن کوششوں کو دنیا بھر میں سراہا جارہا ہے ،دنیا پاکستان کی تعریف کررہی ہے
    اور ہم پاکستانی ہماری حکومت ،افواج ،انٹیلجنس ادارے سب اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان کے حالات جلد سے جلد بہتری کی طرف جائیں تاکہ افغانستان میں بھی ایک عوامی حکومت آئے جو افغان عوام کی امنگوں کے مطابق کام کرے اور اس خطے میں ایک بار پھر سے امن و سکون کی ہوا چلے
    جزاک اللہ

  • لوگ کیا کہیں گے .تحریر: فرمان اللہ

    لوگ کیا کہیں گے .تحریر: فرمان اللہ

    یہ جملہ اکثر اوقات آپ سنتے ہوں گے کہ اگر ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے اور اس جملے کی وجہ سے ہم اکثر اوقات مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ ہم بعض اوقات اسلام کے بتائے ہوئے احکامات کے خلاف بھی چلے جاتے ہیں کیونکہ اگر ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے۔

    شادی کی تقریب کرنی ہے تو اپنی حیثیت سے بڑھ کر اخراجات کرنے ہیں کیونکہ اگر ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے۔ بچی کو جہیز دینا ہے اور جہیز ایک لعنت ہے لیکن دینا ہے کیونکہ اگر ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے۔ شادی بیاہ پر جانا ہے تو اچھے اور مہنگے کپڑے پہن کر جانا ہے اور اگر ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس جملے نے انسان سے اس کی اپنی خواہش چھین لی ہے اور ہم ساری عمر بس وہی کرتے ہیں جس سے لوگوں کو خوش کر سکیں۔

    ہمارا معاشرہ اگر اس جملے کو ہی ترک کر دے تو ہمارے بہت سارے مسائل حل ہو جائیں گے اور ہم بہت ساری مشکلات سے باہر آ جائیں گے لیکن ہمارے معاشرے میں یہ ایک رواج بن چکا ہے اور سب اس بات کو بخوبی جانتے بھی ہیں لیکن پھر بھی اپنی سوچ اور حیثیت سے ہٹ کر کام کریں گے کیونکہ اگر ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے

    میرا مشورہ ہے کہ لوگوں کو جو کہنا ہے کہنے دیں آپ وہ کریں جس کا حکم ہمیں ہمارے دین نے دیا ہے وہ کریں جو آپ کی حیثیت کے مطابق ہو۔

  • مائے نی میں کنوں آکھاں……..تحریر:فرح خان

    مائے نی میں کنوں آکھاں……..تحریر:فرح خان

    عدل و انصاف کے بغیر کوئی معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اب تک عدل کا حصول بہت مشکل ہے۔عام آدمی انصاف کی تلاش میں خود منوں مٹی تلے سو جاتا ہے،جس کی بڑی وجہ ہے:
    لاپرواہی، اثر و رسوخ اور انصاف میں تاخیر ۔

    حیدرآباد تھانہ بلدیہ کی حدود میں شوہر کے ہاتھوں بہیمانہ تشدد سے قتل ہونے والی بیوی 4 معصوم بچوں کی ماں قرت العین کے لیے شوشل میڈیا پہ آواز بلند کی جارہی ہے ۔

    قرت العین کا قاتل شوہر عمر میمن بااثر ہونے کی وجہ سے پولیس پوسٹ مارٹم رپورٹ کو تبدیل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا مقتول خاتون کے ورثہ کی اپیل پہ مقتول قرت العین کے قاتل شوہر عمر میمن کو سخت سزا ملے گی؟کیا معصوم بچوں کو ان کی جنت اجڑنے پہ ان کو انصاف ملے گا۔یا ہمیشہ کی طرح انصاف کی دھجیاں اڑا دی جائیں گی۔پا اثر لوگ اپنے اثر و رسوخ سے بےگناہ اور آزاد دھندھناتے پھرتے رہیں گے۔

    مائے نی میں کنوں آکھاں،
    درد وچھوڑے دا حال نی
    مائے نی میں کنوں آکھاں،

    فرح خان
    @MastaniFarah

  • ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا؛تحریر۔سمیرہ جمال

    ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا؛تحریر۔سمیرہ جمال

    اسلام صرف عبادت کا ہی نام نہیں بلکہ زندگی کے ہر پہلو کو کیسے گزارنا ہے بہت خوبصورتی سے بتایا ہے
    اسلام میں باہمی رویوں میں توازن ہے۔ اسلام وہ مذہب ہے جہاں دوسروں کے حقوق پہ بھی بہت زور دیا گیا ہے۔ہمیں خالص اللہ کی رضا کے لئے جہاں تک ہو سکے نفع بخش بننا چاہیے، اور اپنی زندگی کو انسانیت کی بھلائی میں کسی نہ کسی طرح مصروف رکھنا چاہیے ۔ کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ زندگی ہمیں بہت کم وقت میں بہت سبق سکھا دیتی ہے۔ انسان کی زندگی میں رونما ہونے والے حوادث ہی انسان کی سوچ کا دھارا بدل دیتے ہیں۔ سوچ میں میں پختگی آجاتی ہے، انسان اپنی ,میں؛ سےنکل آتا ہے۔یہ وہ اسٹیج ہوتی ہے جہاں پھر آپ کی اپنی خواہشات ،اپنی تمنائیں، اپنی خوشیاں اتنی اہم دکھائی نہیں دیتی جتنا دوسروں کے کام آنا، ان کے دکھ، ان کے غم ،ان کے آنسو سمیٹنا آپ کو اچھا لگتا ہے
    میں سمجھتی ہوں یہاں اس اسٹیج پر آکر دراصل انسان کا اپنے رب سے رشتہ اتنا مضبوط ہو چکا ہوتا ہے کہ دنیا ہیچ نظر آتی ہے۔ تب سوچ بدلتی ہے اور اللہ کی مخلوق کی خدمت زیادہ سکون دیتی ہے۔ یہاں میں چند چھوٹے چھوٹے کاموں کا ذکر کروں گی کہ جن کو کرنے کے بعد انسان بہت پرسکون حالت میں ہو جاتا ہے ۔
    اگر آپ کو اللہ تعالی نے صاحب مال کیا ہوا ہے تو اسی کے دیے ہوئے مال میں سے لوگوں کی چھوٹی چھوٹی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کریں۔
    زیادہ دور نہیں کبھی اپنے اردگرد نظر دوڑائیں یقین کیجئے اتنے سفید پوش آپ کو نظر آئیں گے جو آپ کی مدد کے منتظر ہیں
    کبھی کہیں اگر آپ کو محسوس ہو کہ یہاں پہ کوئی شجر لگانا چاہیے لوگوں کی گزر گاہ تو وہاں پہ ایک سایہ دار شجر لگا دیں
    کبھی دیکھیں جہاں لوگوں کو پانی کی زیادہ ضرورت ہو یا گزرگاہ ہو تونلکا یعنی ہینڈ پمپ لگا کر دیکھیں اور مشاہدہ کریں آپ کے اس سے لوگوں کی دعائیں آپ کے شامل حال ہوگئی ہیں ۔اگر اللہ تعالی نے آپ کو اس سے زیادہ دے رکھا ہے تو آپ الیکٹرک کولر بھی لگوا سکتے ہیں۔
    گرمیاں سردیاں جب بھی موسم کا آ غا ز ہو آ پ اپنی فیملی کے کپڑے دھلوا کر پیک کروا کے اسے کسی کا تن ڈھانپنے کے لئے استعمال کرسکتے ہیں

    آپ کو معیوب لگے گا مگر کبھی ایسا کر کے دیکھیے کہ چھوٹی مارکیٹ میں شاپنگ کا بہانہ کر کے چکر لگائیں کہیں اگر آپ محسوس کریں کہ دکاندار کی مطلوبہ رقم گاہک ادا نہیں کر سکتا اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ مستحق ہے تو خاموشی سے دکاندار کو اشارہ کیجئے اس گاہک کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے دوکاندار ان کی خواہش کے مطابق رقم لے اور اوپر والے پیسے آ پ ادا کر دیجیے ۔
    جب بھی آپ کسی تہوار کے لیے نیا لباس لیں تو کوشش کریں کہ ایک اپنا پرانا لباس جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ اسے و شکر کے بیک کیجئے اور کسی مستحق کے گھر رات کے اندھیرے میں دے آئیے یہ بھی ایک قسم کا صدقہ ہے۔
    ہر مہینے کوشش کریں کہ کم از کم ایک یا دوفیملیز کو راشن کے ذریعے سپورٹ کیجئے ۔
    یاد رہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے کوشش کریں کہ یہ چند چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو ان سفید پوشوں کی بے بسی کو کیمرے میں مقید کرکے ضائع مت کیجئے
    خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اللہ کی رضا کی خاطر نیکیاں سمیٹ رہے ہیں
    جس سماج میں عدم مساوات ، دولت کی غلط تقسیم ، معاشی بدعنوانی اور سیاسی خود غرضی اور موقع پرستی جیسے رجحانات ہوں ،وہاں آپکی یہ چند چھوٹی چھوٹی نیکیاں ہوا کا جھونکا ہوں گی جہاں آپ دعائیں تو سمیٹے گے وہیں آپ خود کو بہت مطمئن بہت پرسکون محسوس کریں گے
    اللہ آپ کا، میرا، ہم سب کا حامی و ناصر ہو

    تحریر۔۔ سمیرہ جمال
    @sumairajamalkha