Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • ٹویٹر اکاؤنٹ کی ویرفکیشن مشکل مگر ناممکن نہیں : تحریر: محمد جاوید

    آج کل ٹویٹر پہ ایک دوڑ لگی ہوئی ہے جیس کو دیکھو اکاؤنٹ کی ویرفکیشن کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ مجھ سمیت ہر بندہ ٹویٹر پہ اپنے اکاؤنٹ کی ویرفکیشن میں لگا ہوا ہے اور ہونا بھی چائے کیونکہ ویرفکیشن کرانا سب کا حق ہے۔ سب کو بلیو ٹک ملنا چائے تو اس سلسلے میں بنا کسی ریسرچ کے بندہ ناچیز نے بھی اکاؤنٹ کی ویرفکیشن کے لئے اپلائی کیا اور بعد میں کافی ریسرچ کے بعد تب جاکر معلوم ہوا کہ اکاؤنٹ کی ویرفکیشن کا کام اتنا آسان نہیں اور ناممکن بھی نہیں ہے بس کچھ باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے ۔

    پولیس کی زیادتی، خواجہ سراؤں نے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دے دی

    پلاسٹک بیگ پر پابندی لگی تو خواجہ سراؤں نے ایسا کام کیا کہ شہری داد دینے پر مجبور

    کرونا لاک ڈاؤن، شادی کی خواہش رہی ادھوری، پولیس نے دولہا کو جیل پہنچا دیا

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    اکاؤنٹ کی ویرفکیشن کے لئے اپلائی کرنے سے پہلے ایک بار اپنے اکاؤنٹ کو دیکھو کیا وہ ٹویٹر کے رولز کے حساب سے قابل قبول ہے بھی یا نہیں تو اس سلسلے میں کچھ بنیادی باتیں ہے جن کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے اس کے بعد اگر اپ اپلائی کرتے ہو تو 99 فیصد مثبت نتائج کے توقع کیا جا سکتا ہے
    اگر آپ ان شرائط پہ پورے اترتے ہیں تو اپکے اکاؤنٹ کو ویرفکیشن سے کوئی نہیں روک سکتا بس ان بنیادی باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے

    (1) سب سے پہلے آپ کا اکاؤنٹ ایکٹو ہو اور کمپلیٹ ڈیٹیلز موجود ہو ۔
    (2) اکاؤنٹ کے پروفائل میں نام اور تصویر ہو ۔
    (3) پچھلے 6 مہینوں سے اکاؤنٹ آپ کے استعمال میں ہو اسکا مطلب ہے ایکٹو ہو
    (4) اکاؤنٹ میں تصدیق شدہ ای میل ایڈریس یا فون نمبر موجود ہو ۔
    (5) پچھلے 12 مہینوں میں ٹویٹر کی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کیا هو۔ جیسا کہ تین دن یا سات دن کی لمیٹ نہیں لگی ہو۔

    دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    شادی شدہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد ملزمان نے ویڈیو وائرل کر دی

    مالی نے خاتون کے ساتھ زیادتی کے بعد دوستوں کو بلا لیا،اجتماعی درندگی کا ایک اور واقعہ

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    اگر آپ کا اکاؤنٹ ان شرائط پہ پورا اترتا ہے تو اس کے بعد آپ جس پیشے سےوابستہ ہے اس کٹیگری میں اپلائی کرو اور اس کٹیگری کے شرائط پہ بھی پورا اترنا ضروری ہے جب آپ ویرفکیشن فارم پر کرو گے تب ٹویٹر آپ سے مانگے گا جیسا کہ اگر آپ جرنلسٹ کٹیگری میں اپلائی کرتے ہو تو آپکو کسی نیوز ارگنائزیشن کے ساتھ منسلک ہونا اپکا لکھا ہوا آرٹیکل جیس میں اپکا اکاؤنٹ مینشن ہوا ہو اور اس لنک کا ہونا بھی ضروری ہے۔

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

    ویڈیو کس نے وائرل کی تھی؟ عدالت کے استفسار پر سرکاری وکیل نے کیا دیا جواب

    یہ مخصوص کٹیگری والے شرائط تو بہت آسان ہے مگر سب سے مشکل شرط جو ہے وہ نمبر 5 ہے کیونکہ ہم سب لوگ یا تو کسی ٹرینڈ کی وجہ سے یا زیادہ فولونگ/ان فولونگ کی وجہ سے اسکی زد میں آجاتے ہیں اب اگر آپ نے اپنے اکاؤنٹ کی ویرفکشن کرانی ہو تو پہلے بنیادی باتوں کا خیال رکھنا ہےاس کے بعد مخصوص کٹیگری کے شرائط پہ بھی پورا اترنا ہے۔
    اکاؤنٹ ویرفکیشن ڈیپارٹمنٹ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ٹویٹر جلدی ہی تین اور کٹیگریز کا اضافہ کرنے والا ہے جن میں سب سے پہلے سائنٹسٹ پھر مذہبی رہنما اور اس کے بعد ٹیچرز تو ان حضرات کے لئے اچھی بات ہے جو موجودہ کٹیگریز پہ پورا نہیں اترتے۔
    اب یہ آپ کے اوپر منحصر ہے کس طرح آپ ٹویٹر کے بنیادی شرائط پہ پورا اترتے اور بلیو ٹک کا حقدار بن جاتے۔

    پیسوں کی ضرورت نہیں، خوشحال ہوں،جوڑے سے معافی مانگ لی تھی،عثمان مرزا کا عدالت میں بیان

  • ‏ہماری کرکٹ بدحالی کا شکار کیوں ،تحریر عبید الله

    ‏ہماری کرکٹ بدحالی کا شکار کیوں ،تحریر عبید الله

    پاکستانی کرکٹ ٹیم انگلینڈ کے خلاف 3-0 سے ہارنے کی وجہ سے دل ابھی تک صدمے سے باہر نہیں آیا تب سے یہی سوچ رہا ہوں آخر کیا محرکات ہیں جو ہماری کرکٹ اتنی زوال کا شکار ہے
    ایک وقت تھا کہ پاکستان کے بارے میں کہا جاتا تھا یہاں کی مٹی کرکٹر اگلتی ہے اس مٹی نے کیسے کیسے ہیرے پیدا کیے عمران خان، جاوید میانداد، انضمام الحق، وسیم اکرم، وقار یونس، شعیب اختر، عبدالرزاق،
    شاہد خان آفریدی، سعید انور، عامر سہیل، عبدالقادر، عاقب جاوہد.
    لیکن اب تو لگتا ہے قومی کرکٹ ٹیم کو پسند ناپسند کے بھینٹ چڑھایا جارہا ہے۔ اسی وجہ سے ہم نے کیسے کیسے ہیرے ضائع کر دیے جیسا کہ عمران نذیر، عبدالرزاق، حسن رضا، محمد آصف، محمد عامر، عمر گل، وہاب ریاض، محمد شبیر، سعید اجمل.
    اسی طرح بہت سے کرکٹر سفارش، یا پیسا نہ ہونے کی وجہ سے آگے نہیں آ پاتے۔

    ایسے ہی ایک کرکٹر عبید اللہ جنکا تعلق پشاور سے اور (پدائش 4 جون 1992) ہیں

    انہوں نے اپنی فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز اکتوبر 2016 کو قائد اعظم ٹرافی میں پاکستان ایئر لائنز کی نمائندگی کرتے ہوئے کیا
    انہوں نے 19 نومبر 2017-18 کے قومی ٹی ٹوئنٹی کپ میں پشاور کی طرف سے نمائندگی کی۔ انیس نومبر، 2017 کو راولپنڈی میں کراچی کے مخالف جبکہ پشاور کی نمائندگی کرتے ہوے 72 سکور کیا اور 23 نومبر 2017 کو راولپنڈی میں پشاور کی نمائندگی کرتے ہوئے فیصل آباد کے خلاف سینچری پلس 114 سکور کیا.

    سٹرائیک ریٹ 92.30 رہا جبکہ ایوریج 18.00 رہی. اگر پی سی بی نے اس پسند ناپسند کے نظام کو نہ بدلا تو آنے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں حال انگلینڈ کے خلاف سیریز سے بھی برا ہوگا
    اس لیے پی سی بی کو چاہیے کہ کھلاڑیوں کا میرٹ پر انتخاب کریں نہ کہ ذاتی پسند کی بنیاد پر.
    سوشل ٹویٹر اکاؤنٹ
    ‎@ObaidVirk_717

  • واٹر کولر اور قربانی .تحریر ماریہ بلوچ

    واٹر کولر اور قربانی .تحریر ماریہ بلوچ

    ہر سال عید قربان پہ ایک خاص طبقہ اس طرح کے ایشوز لے کر آتا ہے اور دلائل ایسے ہوتے ہیں کہ اکثر لوگ قائل ہو جاتے ہیں واٹر کولر نصب کرنا کسی غریب کی بچی کی شادی کرنا وغیرہ ۔ ایسے کام بلاشبہ نیکی کے کام ہیں جن سے انکار نہیں اور عام فہم عوام قربانی اور ان نیک کاموں میں موازنہ کر کے ہاں میں ہاں ملانے لگتی ہے ۔
    قربانی ایک فریضہ ہے جو کہ سال بھر میں صرف ایک بار مخصوص ایام کے لیے ہے جبکہ واٹر کولر شادی کرنا غریبوں کو کھانا کھلانا وغیرہ فلاحی کام ہیں جن کو اسلام نے صدقات کے زمرے میں رکھا ہے اور صدقات بھی اللہ کو بہت محبوب ہیں اسکے قرب کا ذریعہ ہیں۔
    سوچنے کی بات یہ ہے اللہ نے قربانی کو اتنی اہمیت کیوں دی ؟ سنت ابراہیمی کو دین محمدیﷺ کی شریعت میں کیوں لاگو کیا؟؟ کوئ اور چیز یا کام بھی اسکی جگہ مختص کیا جا سکتا تھا مگر اللہ نے کیوں نہیں کیا؟؟؟؟

    جب انسان اس نہج پر سوچتا ہے تو وہ باقی چیزوں میں کنفیوز نہیں ہو پاتا۔۔
    عید قربان دراصل غربا کی عید ہے ۔ وہ غریب جو سال بھر مویشی پالتے ہیں اچھی قیمت وصول کر پاتے ہیں۔
    چارا بیچنے والے ،قصاب، جانور لاد کر لے جانے والے گاڑیوں کے مالکان، منڈیوں میں جانوروں کی دیکھ بھال کرنے والے مزدور یہ سب لوگ صدقات نہیں بلکہ محنت کر کے اسکا اچھا صلہ وصول کر پاتے ہیں ۔ انکی عزت نفس بحال رہتی ہے۔

    قربانی کا گوشت صرف اقربا ہی نہیں بلکہ ان لوگوں کو بھی کھانا نصیب ہوتا ہے جو سال بھر شاید دور سے حسرت بھری نگاہوں میں ہی دیکھ پاتے ہیں ۔ انکو یہ گوشت صدقہ نہیں ہدیہ کیا جاتا ہے. جیسے اپنے عزواقربا کو دیا جاتا ہے اور بالکل جیسے قربانی کرنے والا خود باعزت طریقے سے کھاتا ہے۔
    اس اتنی بڑی نیکی کو ایک واٹر کولر سے موازنہ کرنا بالکل ناانصافی ہے ۔۔ فلاحی کاموں کے لیے اللہ نے آپکو پورا سال اور توفیق دے رکھی ہے دل کھول کر خرچ کیجئے مگر جہاں حکم الہی قربانی مانگے وہاں اسکی تعمیل صرف قربانی ہی ہو گی کوئ دوسرا عمل اسکی جگہ نہیں لے سکتا۔۔

    تحریر ماریہ بلوچ
    @Shezm__

  • آذان  .تحریر:ماریہ مغل

    آذان .تحریر:ماریہ مغل

    آپ نے کبھی آذان پہ غور کیا ہے اللہ تعالی کیا کہتے ہیں۔۔
    حی الصلوۃ
    کہ آو نمار کی طرف ۔۔
    جیسے ایک ماں اپنے بچے کو بلاتی ہے جو اس دور جا رہا ہو ۔۔
    پھر ایک۔بار مزید اللہ کیا کہتے ہیں
    حی الصلوۃ ۔۔
    کہ آ جاو ناں نماز کی طرف ۔۔
    ایسے میں جو اچھے اور تابع دار ہوتے ہیں وہ دوسرے بلاوے پہ ہی بھاگے بھاگے جاتے ہیں اپنے رب کی بارگاہ میں کہ اللہ ہم حاضر ہے مگر جو بچے ضدی ہوتے ہیں ان کو اپنی طرف بلانے کے لئے لالچ دینا پڑتا ہے ان کو ان کی پسندیدہ چیز یں دیکھا کہ کر ان کو متوجہ کرنا پڑتا ہے

    تو اللہ کیا کہتے ہیں کہ
    حی الفلاح ۔۔
    آ جاو فلاح کی طرف ۔۔
    یعنی آ جاو اور سمیٹ لو سارے خزانے ۔۔اب انسان اللہ کے خزانوں کو نہیں سمجھتا ۔۔اس نے خواہشات کے نام پہ چھوٹے چھوٹے پتھر رکھے ہوتے ہیں جو انسان کہ عظمت کے سامنے تو بہت چھوٹے ہیں ۔اب سوچیئے ذرا ایک بچے کو چاکلیٹ دیکھائی جائے تو وہ فورا آپ کا دوست بن جاتا ہے مگر انسان کتنا ناشکرا اور بے قدرا ہے ناں ۔۔رب اسے دونوں جہانوں کہ کامیابیاں دیتا ہے سجدے میں ۔مگر وہ حجتیں پیش کرتا رہتا ہے کبھی خود اور کبھی لوگوں کو ۔۔تو آج سے اپنے رب سے تجدید وفا کریں اپنی محبت اور آزان کی پہلی آواز پہ کہیں کہ اللہ میں لوٹ آیا ہوں یقین مانو تمہارا رب تمہیں بڑی محبت اور مان سے بلاتا ہے۔
    @l_m_Mairi
    ماریہ مغل

  • "ہمارے معاشرے میں خواتین کا کردار” تحریر:اقصیٰ احمد خان

    "ہمارے معاشرے میں خواتین کا کردار” تحریر:اقصیٰ احمد خان

    عورت معاشرے کی بنیادی اکائی ہے کائنات کی رنگارنگی اور تنوع میں عورت کا کلیدی کردار ہےاسی اہمیت کے پیش نظر قرآن نے جا بجا عورت کی عظمت اور اہمیت کو اجاگر کیا ہےاور عورت کے وجود کو معاشرے کی تشکیل ،تعمیر اور بقا کا ضامن قرار دیا ہے عورت کی اہمیت کسی لحاظ سے بھی مرد سے کم نہیں۔ ایک مرد علم حاصل کر کے زیادہ سے زیادہ اپنے گھر کے لیے فائدہ دے سکتا ہے جبکہ عورت کی تعلیم کے اثرات گھر اور گھرانے سے بڑھ کر شہر اور معاشرے تک پھیل جاتے ہیں ۔ایک بہترین عورت ہی انسانی تہذیب و تمدن کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔جب عورت اپنی ذات کی اصلاح کرے اور اسلامی تعلیمات سے آگاہی حاصل کرے تو معاشرے کو ترقی سے ہمکنار کرسکتی ہے۔

    باوقار اور اثر انگیز خاندا ن کی تشکیل اور تعمیر میں عورت مختلف روپ میں مثبت کردار ادا کر تی ہے۔

    عورت اجتماعی اور معاشرتی ترقی میں فقید المثال کارنامہ انجام دے سکتی ہے

    اسلام نے واقعی عورتوں کو بہت حقوق دیے ہیں۔ عورت کو بہترین مقام دیا ہے۔ عورت کے لئے جو حقوق اسلام نے دیے ہیں اور جو شرائط اسلام نے بتائی ہے وہ وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوسکتیں۔ عورت کو اختیار ہے کہ وہ اپنے آپ کو معاشرے کی تعمیر میں استعمال کرے لیکن حدود کے ساتھ۔۔۔عورت کا ایک حق یہ بھی ہے کہ وہ اپنے مرد کے ساتھ معاشی طور پر بوجھ اٹھاسکتی ہے۔ لیکن ہمارے آج کے مولویوں نے اور مرد حضرات نے اپنی انا کو اونچا رکھنے کے لئے اسلام کو ہتھیار بناکر بدنام کیا ہوا ہے ۔ ایجوکیشن اور ہیلتھ دو شعبے ایسے ہیں جو مسلمان عورت کے لئے موزوں ترین ہیں۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے مرد سے عورت کی تخلیق ذرا مختلف بنائی ہے۔ ان دو شعبوں میں مسلم عورتوں کا کردار مسلمہ ہے۔ مسلم سماج میں عورتیں بہتر کردار ادا کررہی ہیں، تاہم ابھی بھی کافی رکاوٹیں ہیں جن کی وجہ سے قومی تشکیل میں ان کا کردار کم ہے۔ عورتوں کو ابھی بھی سیکنڈ گریڈ شہری سمجھا جاتا ہے۔ لیکن گزشتہ ایک عشرے میں کافی تبدیلیاں آئی ہیں۔
    آج اگر ہم اپنی خواتین کو دیکھتے ہیں تو وہ نہ صرف گھر میں بلکہ خاندان میں اپنے آپ سے منسلک ہر رشتے کو بڑی خوبصورتی سے نبھا رہی ہیں اور زندگی کے ہر شعبے میں خواہ وہ سیاسی ، ادبی ، کاروباری ، صحت ، تعلیم ، کھیل جیسا کوئی بھی شعبہ ہو، ہماری خواتین نہ صرف اپنا بلکہ اپنے ملک کا بھی نام روشن کررہی ہیں۔

    تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک معاشرے کی خواتین کی شمولیت نہ ہو۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ ہرکامیاب مرد کے پیچھے ایک عور ت کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے اسی طرح ہر کامیاب معاشرے کے پیچھے خواتین کی محنت اور کردار ضرور ہوتا ہے۔

    آج پاکستان کی خواتین میدانوں میں، فضاﺅں میںاور خلاﺅں میں ہر جگہ کامیابی کے جھنڈے گاڑتی پھر رہی ہیں۔ بے شک یہ ان خاندانوں کی خواتین ہیں جہاں انہیں عزت دی گئی، جن کو انسان تسلیم کیا گیا۔ چاہے ان کا تعلق پسماندہ ماحول سے ہو یا شہر کے گھٹن زدہ ماحول سے ، انہیں جینے کا پورا پورا حق دیا گیا۔ ماں باپ نے انہیں اعتماد اور شعور دیا، اس لئے وہ کسی پر بوجھ نہیں،وہ طاقتور ہیں۔ اس لئے وہ توانا سوچ کی مالک بھی ہیں۔ اس لحاظ سے پاکستان کی خواتین خوش قسمت ہیں ۔یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ وہی معاشرہ مضبوط ہوتا ہے جس معاشرے کی عورت مضبوط ہوتی ہے۔

    اقصیٰ احمد خان
    کراچی
    @ShinyAqsa

  • پنجاب حکومت کا عوام دوست بجٹ . تحریر:شعیب قدیر ملک

    پنجاب حکومت کا عوام دوست بجٹ . تحریر:شعیب قدیر ملک

    وزیر اعلٰی پنجاب سردار عثمان بزدار نے ایسے وقت میں عوام دوست بجٹ پیش کرکے مخالفین کے منہ بند کردیئے ہیں جب ملک میں کرونا کی عالمی وبا نے معاشی طور پر ایک عام آدمی سے اس کی قوت استطا عت چھین لی ہے بزدار حکومت کی طرف سے یہ بجٹ 2,653ارب روپے کا بجٹ تھا گو اپوزیشن نے حسب روایت لفظوں کی گولہ باری اور الزام تراشی میں کوئی کسراُٹھا نہ رکھی لیکن یہ ایک حقیقت پسندانہ اور متوازن بجٹ تھا جس میں کسی بھی شعبے پر اضافی بوجھ نہیں ڈالا گیا بلکہ 23شعبوں کو ٹیکس میں ریلیف دیا گیا جنوبی پنجاب کے عوام جن کے ذہن میں ایک تصور نے جنم لیا کہ وہ تخت لاہور کے قیدی ہیں اور ان کی قسمت کے فیصلے بھی تخت لاہور ہی کرتا ہے عثمان بزدار کی حکومت میں اس تصور کو یکسر ختم کردیا اور جنوبی پنجاب کے عوام کیلئے ایک بھاری رقم جو 189ارب روپے ہے علیحدہ بجٹ کی شکل میں مختص کردی گئی عوام کی مالی مشکلات تو کسی دور میں بھی کم کرنے کی کاوش نہیں کی گئی، اس سے بڑی اور قباحت کیا ہوسکتی ہے کہ جانے والی حکومت کی ناقص حکمرانی کے باعث 56ارب روپے کے واجب الادا چیکس تھے جس کے ساتھ 41ارب روپے کے اوور ڈرافٹس اور اعلیٰ خدمت کا دھنڈورا پیٹنے والوں نے 8000سے زائد نامکمل سکیمیں آنے والی حکومت کیلئے چھوڑیں زراعت کیلئے ایسی پالیسیاں بنائی گئیں جنہوں نے ایک ایسے شعبے کی تباہی کی بنیاد رکھی جسے وطن عزیز میں سب سے بڑی صنعت قرار دیا جاسکتا ہے اور پاکستان کے 79فیصد افراد کا معاشی انحصار اس شعبے کے ساتھ وابستہ ہے اس شعبے کیلئے پالیسیاں بنانے والے ایسے افراد تھے جن کا زراعت سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا اسی طرح سابقہ ادوار میں تعلیم کے شعبہ میں بھی ایسی پالیسیاں متعارف کرائی گئیں جس سے عام فرد وطن پر تعلیم کے دروازے بند ہو گئے کووڈ 19کی وبا نے بھی وطن عزیز میں اپنے خونی پنجے گاڑھ لئے کوئی اور حکومت ہوتی تو شاید حالات اس کے کنٹرول میں نہ رہتے مگر موجودہ حکومت نے اپنی بہترین حکمت عملی کے باعث پاکستان کو ان تین ممالک کی صف میں لاکھڑا کیا جنہوں نے کووڈ پر قابو پانے میں پہلے تین ممالک کا اعزاز پایا اس صورت حال سے نمٹنے کیلئے 106ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا گیا جس میں کاروباری طبقہ کیلئے روزگار کی بحالی کیلئے 56ارب روپے کا تاریخی ٹیکس ریلیف دیا گیا اور یہ پہلی بار ہوا ہے کہ تعلیم اور صحت کیلے 205ارب 50کروڑ کی کثیر رقم مختص کی گئی ہے سابقہ ادوار میں ترقیاتی کاموں کا ڈھنڈورا پیٹا گیا لیکن موجودہ دور میں حالیہ بجٹ میں ان کاموں کیلئے 66فیصد زائد رقم کا ضافہ کیا گیا ہے پانچ شعبہ جات جو انتہائی اہم ہیں جن میں صنعت، زراعت،لائیو سٹاک،ٹورازم،جنگلات کے شعبہ جات شامل ہیں کیلئے پہلی بار 57ارب 90کروڑ کی رقم مختص کی گئی یہ اعجاز بھی عثمان بزدار کی حکومت کو ہی جاتا ہے صحت کا شعبہ ہمیشہ سے نظر انداز ہوتا رہا ہے لیکن جنوبی پنجاب خاص طور پر جہاں عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہیں پنجاب کی 11کروڑ آبادی کی ہیلتھ انشورنس ایک طرف صرف ڈیرہ غازیخان ڈویژن کیلئے ہر وہ فرد جو شناختی کارڈ کا حامل ہے کیلئے ”صحت انصاف“کارڈ کی سہولت رکھی گئی اور ساہیوال و ڈیرہ غازیخان میں قومی شناختی کارڈ کوہی صحت انصاف کارڈ کا درجہ دے دیا گیا جنوبی پنجاب جہاں انسانیت بنیادی سہولیات کیلئے ترستی ہے حالیہ بجٹ میں جنوبی پنجاب کے عوام کیلئے اور انسانی ترقی پر خرچ کرنے کیلئے کثیر رقم مختص کی گئی، صحت تعلیم اور انفراسٹرکچر کے میدان میں بزدار حکومت انقلاب برپا کرنے جا رہی ہے، پہلی مرتبہ جنوبی پنجاب کی پسماندگی کا خاتمہ ہو رہا ہے۔اگر ہم دیکھیں تو اپوزیشن نے حکومت کے عوام دوست اقدامات پر بھی واویلہ پر ہی اکتفا کیا

    نااہل اپوزیشن کی راہیں جدا جدا ہوچکیہیں اسمبلی میں بھی یہ متفق نہ ہوسکے، ان کو صرف اپنی لوٹ مار اور چوری چکاری بچانے کی فکر رہی، وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدانے پنجاب اسمبلی میں اپنی تقریر میں عوامی نمائندوں اور عوام کے سامنے بدلتے ترقی کرتے پھلتے پھولتے پنجاب کا نقشہ فارمولا اور روڈ میپ پیش کیا گگیا اس سے بڑی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ ڈگری یافتہ ایک نسل روزگار کیلئے سرکاری دفاترز کی دہلیز پر دھکے کھا رہی ہے سردار عثمان بزدار کا تعلق چونکہ جنوبی پنجاب سے تھا اس لئے انہوں نے جنوبی پنجاب کے نوجوانوں کی محرومی کا احساس کیا اور صوبائی ملازمتوں میں 32 فیصد کوٹہ مختص کیا۔ میانوالی اوربھکر کو شامل کرنے پرکوٹہ 35 فیصد کردیا جائے گا۔یہ سردار عثمان بزدار کا عہداورعزم تھاکہ جنوبی پنجاب کی پسماندگی کے ازالے کو مشن بنا لیا۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ سابق حکمرانوں نے محروم علاقوں کی پسماندگی دور کرنے کے لئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ لاہور میں بیٹھ کر فیصلے کرنے والے دور دراز علاقوں کے مسائل سے یکسر لا علم رہے جب کہ عثمان بزدار نے لاہور میں بیٹھ کر پسماندہ علاقوں کی نمائندگی کی۔وہ ہر ضلع اورہر تحصیل میں جاکرمسائل اورضروریات کا جائزہ لیتے رہے۔ انہوں نے دیگر علاقوں کی طرح پسماندہ علاقوں میں بھی فلاح عامہ کی سکیموں پر کام مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔ حالیہ بجٹ سے ایک بات ثابت ہوئی کہ پنجاب حکومت نے جنوبی پنجاب کی 71 سالہ محرومیوں کے خاتمہ کیلئے وسائل کا رخ جنوبی پنجاب کیطرف موڑ ا جس سے پسماندگی کا خاتمہ اور ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوا۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار کی کاوش سے جنوبی پنجاب میں ترقی کی نئی راہیں ہموارہونے لگی ہیں۔ جہاں تک جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ بہاولپور کا معاملہ ہے تو سیکٹریٹ وہی بنے گا،سیاست عوام کی خدمت کا نام ہے اورالزامات برائے الزامات کی سیاست میں عوامی خدمت نہیں بلکہ عوام کی خاطر کام کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کو وطیرہ بنایا گیا۔ پراپیگنڈا کرنے والے عناصرہمیشہ مخصوص ایجنڈا لیکر چلتے رہے۔ ماضی میں جنوبی پنجاب سمیت صوبے کے بڑے حصے کو ترقیاتی منصوبوں تک سے محروم رکھا گیا۔سابق حکمرانوں نے جنوبی پنجاب کے لئے مختص فنڈز کو بھی ذاتی پسند کے منصوبوں پر خرچ کیا اور گزشتہ 7برس کے دوران جنوبی پنجاب کو265 ارب روپے کی رقم سے محروم کیا گیا اور جنوبی پنجاب کے عوام کے لئے ترقی وخوشحالی کے منصوبے صرف کھوکھلے نعرے ہی رہے۔موجودہ حکومت پنجاب پورے صوبے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم نا اپنا عزم سمجھتی ہے۔در اصل جنوبی پنجاب کے عوام سے ماضی میں کی گئی زیادتیوں کے ازالے کا وقت آ گیا ہے۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ پنجاب حکومت نے پسماندہ علاقوں کے لوگوں کی قسمت بدلنے کیلئے حالیہ بجٹ میں بڑے اقدامات اٹھا ئے اور یہ بھی پہلی بار ہوا ہے کہ ترقیاتی بجٹ میں 66 فیصد تاریخی اضافہ کیا گیا۔پنجاب کے بجٹ کی شفافیت پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔صحت کی سہولیات کی فراہمی بھی موجودہ پنجاب حکومت کی اولین ترجیح رہی۔ ہر ضلع کا علیحدہ ڈویلپمنٹ پیکیج بنانا وزیر اعلیٰ کا بہترین اقدام ٹھہرا۔پی ٹی آئی حکومت نے جنوبی پنجاب کے ہر ضلع کو 35 ارب روپے کا ریکارڈ بجٹ دیکر مثالی بجٹ پیش کیا جس پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار مبارکباد کے مستحق ہیں۔علاقہ بھر میں بجلی کی ترسیل،پینے کے پانی کی فراہمی،ہاکڑہ نہر کی توسیع،ریسکیو 1122 سمیت مختلف شاہرات کے منصوبے منظور ہوئے۔ عوام باشعور ہیں بہتر سمجھتے ہیں کہ اب کسی اور کے منصوبوں پر اپنی تختیاں لگوانے کی سیاست ختم ہو چکی ہے۔ نامساعد حالات کے باوجود 350ارب روپے سے زائدرقم ترقیاتی کاموں کے لیے جنوبی پنجاب کے لیے فنڈز کا مختص کرنا ترقی کی نوید نہیں تو اور کیا ہے۔پسماندہ ضلع لیہ کے لیے اربوں روپے کی مالیت سے ایم ایم روڈ دورویہ تعمیر،دوسوبستر پر مشتمل چار ارب روپے کی لاگت سے زچہ بچہ ہسپتال و نرسنگ سکول کی تعمیر،50کروڑ روپے کی لاگت سے سیوریج سکیموں کی اپ گریڈیشن،گریٹر تھل کینال فیز llتحصیل چوبارہ کے لیے ساڑھے نو ارب روپے مختص کرنے،حفاظتی و سپربندوں کی تعمیر،ریگولیٹری کے کام کی تکمیل کے لیے فنڈز مختص کرنے،رورل ایریا کی سٹرکات کی درستی کے لیے دس کروڑ روپے،شلٹر ہوم کی تعمیر،سپورٹس کے لیے فنڈز مختص کرنے کے علاوہ 40کروڑ روپے کی لاگت سے لیہ تاجمن شاہ کارپٹ روڈ کی تعمیر،ضلع بھر میں کالجز،سکولوں کی اپ گریڈیشن کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز کا مختص کیا جانے سے ضلع لیہ کی عوام کی حالات بدلنے،بے روزگاری کے خاتمہ اور روزگار کے مواقع کے لیے ضلع لیہ کی عوام کے لیے یہ بجٹ سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

  • چلئے کے چلتی کا نام گاڑی : تحریر عینی سحر

    چلئے کے چلتی کا نام گاڑی : تحریر عینی سحر

    رکئے مت چلتے رہیں ماہرین کیمطابق چلنا صحت کیلئے بے حد مفید ہے یہ جو دل ہے اسمیں جسکو مرضی بسائیں لیکن اسکو چلنے کی ورزش سے چاک وچوبند رکھیں تاکے کسی پر مٹنے سے پہلے خود ہی نہ مٹ جاۓ_ کاہلی چاہے جتنی بھی ہو جم جانے کا وقت نہ ہو تو بھی چلنے کی زحمت کرتے رہئے اس سے بڑھتی ہوئی توند کو افاقہ ہوگا بڑھتے ہوۓ وزن میں لاپرواہ رہنے کی بجاۓ دن میں چند گھنٹے چل لینا آپکے بڑھتے ہوۓ وزن کو تھوڑا بریک لگا لے گا_ اگر اماں بازار سے دہی لانے کو کہہ دیں تو اس پر موٹر سائیکل پر فراٹے بھرنے سے بہتر ہے تھوڑا سا پیدل چل لیاجاۓ اور فضا کو موٹر بائیک کے دھوئیں سے بچا لیا جاۓ

    چلنے سے وزن کم کرنے کے اور بھی بہت سے فوائد ہیں کے ہوسکتا ہے رشتوں والی مائی کو آپکا رشتہ تلاش کرنے میں آسانی ہو ورنہ موٹاپے کے شکار خواتین اور حضرات کیلئے مشکلات بڑھ سکتی ہیں

    صحتمند خوراک اور روزانہ کا پیدل چلنا آپکے بلڈ پریشر کو بھی کنٹرول میں رکھتا ہے بیچارابلڈ پریشر جو آجکل کے میڈیا کے ڈراموں ، آلو پیاز مرغی کے گوشت کے بھاؤ کو دیکھ کر بہت بلند ہو جاتا ہے چلنے سے اسکے قابو میں رہنے کا امکان ہے البتہ جتنا مرضی چل لیں آلو پیاز اور مرغی کا بھاؤ قابو میں نہیں آنے والا

    جو کیلوریز موبائل فون اور کمپیوٹر پر جانو مانو کو میسج کرکر کے وزن میں کاہلی سے بڑھتی ہیں اسطرح کی فضول کی کیلوریز چلنے سے جلنا شروں ہوتی ہیں اور جسم کو چاک و چوبند رکھتی ہیں

    ماہرین کہتے ہیں کم از کم چلنے کی ورزش ضرور کریں کیوں کے چلنے سے آپکا موڈ بہتر ہوگا اور بسورتی شکل کو افاقہ ہوگا کیوں کے آپکا مزاج بھی خوشگوار ہوگا جس سے آپکا حلقہ احباب بھی وسعت اختیار کریگا ہوسکتا ہے اس خوشگواری میں کچھ خوش اخلاقی بھی سرایت کرجاۓ اور آپ ہر وقت کی چڑچڑاہٹ سے نجات پائیں

    چلنے کا ایک فائدہ یہ بھی بتایا جارہا ہے کے اس سے آپکی یادداشت بہتر ہو سکتی ہے _ ایسے میں آپکو گھر کے بل اور محلے کی خالہ کو کمیٹی کے پیسے وقت پر دیتے میں مدد ملے گی

    یادداشت کی بہتری سے سبق بھی یاد رہے گا اور امتحان میں نقل کرنے کی محتاجی نہیں ہوگی _ اور امتحان کا نتیجہ آنے کے دنوں میں جو پریشانی کے دورے پڑتے ہیں ان سے نجات ملے گی _

    چلنے کا ایک فائدہ یہ بھی بتایا جاتا ہے کے اس سے آپکے اعصاب مضبوط ہونگے _ جو آپکو اماں اور ابا جی سے پڑنے والی جھڑکیوں پر مضبوط بناتے ہوۓ صبر عطا کریگی.
    اسلئے چلتے رہئے اس کو اپنا معمول بنا کر خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر صحتمند رکھئے کیوں کے چلتی کا نام گاڑی ہے

  • ‏”تعلیم” .تحریر:سعدیہ ناز

    ‏”تعلیم” .تحریر:سعدیہ ناز

    کیا کبھی ہم نے لفظ تعلیم پر غور کیا ہے؟ تعلیم ہے کیا؟ اور جو ہم تعلیم لے رہے ہیں وہ کیا ہے؟ شاید ہم نے کبھی اس چیز پر غور ہی نہیں کیا، یا ہمیں اس چیز کی ضرورت ہی نہیں پڑی.
    تعلیم کی بنیادی معنی ہے "علم حاصل کرنا” اور علم حاصل کرنے کا مطلب شعور کا آ جانا اور جب شعور آ جاتا ہے تو ہم ہر چیز سے واقف ہو جاتے ہیں،ہمیں اچھے اور برے کا مطلب سمجھ آ جاتا ہے،ہمارے دل میں انسانیت جاگ جاتی ہے،ہمیں لوگوں کی مدد کرنا سمجھ آ جاتا ہے اور سب سے بڑی چیز ہم ایک اچھے انسان بن جاتے ہیں جس کی ہمارے معاشرے کو بہت ضرورت ہے،وہ اچھا انسان جو لوگوں کے کام بنا مطلب اور بنا رشوت کے کرے،وہ اچھا انسان جو محنت سے ایمانداری سے اپنا کام کرے اپنے ملک کا نام روشن کرے اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے..آپ نے دیکھا ہوگا تعلیم سے ہم کہاں سے کہاں تک پہنچ گئے، میرا مقصد اصل میں یہ سمجھانا تھا کہ اگر ہم علم حاصل کرنے کی وجہ سے تعلیم لیں گے تو اس کے کتنے فوائد ہیں اور اس سے ہم کیا کچھ حاصل کر سکتے ہیں.

    سب سے پہلے ضروری چیز جو ہم تعلیم لے رہے ہیں وہ کیا ہے؟ اگر میں یہ کہوں کے وہ ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے تو بلکل بھی غلط نہیں ہوگا کیوں کہ ہم جو آج کل تعلیم لے رہے ہیں وہ فقط "ڈگری” ہے ۔اگر ہم لفظ ڈگری پر چلے گئے تو اس کے بھی بہت زیادہ مطلب نکل آئیں گے بہرحال ہم اس پر نہیں جا رہے لیکن ہمیں ڈگری اور تعلیم میں فرق جاننا بھی بہت ضروری ہے۔
    یہ 2021 چل رہا ہے آج کل بچے جو اسکول جاتے ہیں وہ تعلیم نہیں بلکہ ایک ڈگری لینے جاتے ہیں ایک فرسٹ کلاس کی ڈگری.اس چیز میں بچوں کا کوئی قصور نہیں بچے تو جو اسکول ،گھر اور معاشرے میں سُنیں گے ،دیکھیں گے تو وہ وہی کریں گے۔اگر ہم گھر کی مثال لیں تو والدین اپنے بچوں کو کہتے ہیں بیٹا/بیٹی تم نے کلاس میں فرسٹ آنا ہے اور فرسٹ کلاس کی ڈگری لینی ہے،تمہارا فلاں کے ساتھ مقابلہ ہے دیکھتے ہیں تم کیا پوزیشن لیتے ہو تم نے بس نمبر ون کی ڈگری لینی ہے جیسے ہم اپنے آس پاس، پڑوس، رشتےداروں کو بتائیں ہمارے بچے بہت قابل اور ذہین ہیں پہلے نمبر کی پوزیشن اور ڈگری لے کر آئیں ہیں۔اور یہی چیز اسکول میں استاد کرتے ہیں مقابلہ کراتے ہیں پوزیشن کا ۔اب آپ خود سوچیں جب بچہ اسکول اور گھر میں یہ سب سُنے گا تو وہ تعلیم نہیں بلکہ نمبر ون کی ڈگری حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔اور اس سب میں تعلیم جو بنیادی چیز ہے وہ چلی گئی پیچھے .

    اور جب یہ ڈگری والے لوگ نمبر ون ہائے فائے نوکری کرنے لگتے ہیں تب وہ اپنے دل میں ایک چیز رکھتے ہیں وہ یہ کہ”ہم نے اتنے پیسے بھر کے اچھے ڈگری لی ہے تو اب ہمیں وہ سارے پیسے دوسرے لوگوں سے وصول کرنے ہیں۔اب اس کی مثال ایک ڈاکٹر کی لیں جو پیسے بھر کر ایک اعلیٰ ڈگری لے کر آیا ہے ،تو وہ کہے گا مجھے یہ پیسے اپنے مریضوں سے علاج کی صورت میں وصول کرنے ہیں۔ایسی بہت ساری مثالیں ہیں ہمارے معاشرے میں ڈگری یا فتہ لوگوں کی جو پڑھ کر ڈگری تو لے لیتے ہیں لیکن افسوس وہ علم جو بنیادی چیز ہے اسے حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں.

    اگر ہم چاہتے ہیں ہماری آنے والی نسل اچھے انسان،اچھے شہری ،اچھے پاکستانی بنے تو ہمیں چاہیے ہم انہیں وہ علم دیں جو ان کے بھی کام آئیں اور دوسرے لوگوں کے بھی۔ جسے حاصل کر کے انہیں سب سے پہلے خود کی اچھے سے پہچان ہو پھر اپنے آس پاس کے لوگوں کی.اور اس چیز کے لیے ضروری ہے ہمارے والدین،بزرگ اور ہمارے استاد جو بچوں کو صرف علم لینا سکھائیں اور علم حاصل کر کے ایک اچھا شہری بننا سکھائیں جس کے دل میں انسانیت اور ہمدردی ہو لوگوں کے لیے.

    "ہمارے معاشرے اور ملک کو علم والے لوگوں کی ضرورت ہے”

  • مہنگائی۔  تحریر: محمد ابراہیم

    مہنگائی۔ تحریر: محمد ابراہیم

    مہنگائی۔ تحریر: محمد ابراہیم
    زیادہ سے زیادہ سال میں مہینہ ڈیڑھ مہینہ ایسا ہوتا ہے کہ ھماری بجلی کے طلب 25ہزار میگا واٹ تک آتی ہے ۔

    جو یہ کرکے گئے 2028 تک انہوں نے مزید 30ہزار میگا واٹ بجلی معاہدوں میں add کرلی، مطلب 25+30 ہزار ٹوٹل 55ہزار میگا واٹ ، مثلاً

    سال بھر میں 25 ہزار میگا واٹ بھی صرف زیادہ سے زیادہ دو مہینے ملک کی ضرورت ہوتی ہے سردیوں میں یہ کھپت 16ہزار میگا واٹ سے بھی کم لیکن 2028 کے معاہدوں تک مُسلم لیگ ن نے 55ہزار میگا واٹ کے معاہدے کیئے اب آپ چاہے 20 ہزار بجلی استمال کریں لیکن پیسہ قوم نے 2028 تک 55 ہزار میگا واٹ کا ھی ادا کرنا ہے ۔

    اب یہ پیسے ہیں کتنے ؟؟

    جب 2013 میں نواز شریف کی حکومت آئی تو اُس وقت قوم معاہدوں کے مطابق سالانہ 180 ارب ادا کررہی تھی ۔

    اُسکے بعد 2018 میں جب تحریک انصاف کی حکومتِ آئی تو معاہدوں مطابق 450 ارب ادا کرنے تھے ۔

    اب اِس وقت اُسی سودوں کے مطابق 700 ارب سالانہ ہے اور 2023 تک یہ رقم 1100 ارب تک پہنچ جائے گی ۔

    اور 2028 تک یہی معاہدوں کی وجہ سے سالانہ رقم 6 ہزار ارب سے بھی تجاوز کر جائے گی ۔

    مطلب اگر 2028 تک پاکستان کی بجلی کی ضرورت 20 ہزار میگا واٹ بھی ہوئی تو پیسے ہم نے 55ہزار میگا واٹ کے ہی دینے ہیں ۔

    اور یہ ساری بجلی مہنگے آئل ، گیس ، کوئلے سے پیدا ہورہی ہے ،

    •آئل مہنگا امپورٹ ہونے سے بجلی مہنگی
    •ایل این جی سے بجلی پیدوار ایک نقصان جبکہ ٹرمینل کا کارگو کھڑا ہونے سے اُسکے چارجز الگ ۔
    •کوئلے کی بجلی بھی وُہ کہ پاکستان کا کوئلہ چھوڑ کر باہر سے امپورٹ کوئلہ پہلے کراچی پورٹ پر آتا ہے پھر کراچی سے ساہیوال تک پہنچتے ڈیڑھ روپیہ فی ٹیرف کا خرچہ ٹرانسپورٹ کی صورت بڑھ جاتا ہے ۔

    جبکہ اِسی دوران ہم ہوا، پانی ، اپنے کوئلے سے بجلی پیدا کرسکتے تھے ۔

    لیکن نواز شریف حکومت نے اپنے فرنٹ مینوں کے زریعے کّک بیکس کی خاطر سب کچھ کیا اور قوم کی پسلیوں سے پیسہ نکال لیا ۔

    اِس سال پاکستان کا ٹوٹل بجٹ 8ہزار ارب خسارے کے ساتھ تھا ۔

    2028 تک 6ہزار ارب روپیہ بجلی کی کمپنیوں کو فالتو دینا پڑے گا ۔

    اندازہ کرلیں شریفوں نے جو اِس قوم کے ساتھ کیا جو شاید فرعون نے اپنی رعایا کے ساتھ بھی نہ کیا ہو
    Twitter handle, @IbrahimDgk1

  • زندگی ، خوشی اور غم کا میل جول .تحریر: کاوش

    زندگی ، خوشی اور غم کا میل جول .تحریر: کاوش

    سردی کا موسم تھا اور ایک بوڑھا آدمی گھر پر اکیلا تھا اسے چائے کی طلب ہو رہی تھی اس کی بیوی اور بیٹا دونوں مارکیٹ گئے تھے اس نے سوچا ان کے آنے کا انتظار کرنے کی بجائے کیوں نہ اٹھ کر خود ہی چائے بنا لی جائے ابھی اس نے چائے بنانا شروع ہی کی تھی کہ فون کی گھنٹی بجنے لگی اس کے بیٹے کا فون تھا وہ اسے بتا رہا تھا کہ بیس منٹ میں وہ لوگ گھر پہنچ جائیں گے اور یہ کہ کیا آپ کے لیے کچھ لے کر آئیں باتوں کے دوران اس آدمی کو خیال ہی نہ رہا اور اس نے بے دھیانی میں چینی کے چار چمچ چائے میں ڈال دیئے جب اس نے چائے کا سیپ لیا تو میٹھا بہت ہی زیادہ تھا اتنی میٹھی چائے پینا بہت ہی مشکل تھا بوڑھا آدمی سوچ میں پڑگیا کہ اب وہ کیا کرے چائے میں ڈالی ہوئی ہے ایکسٹرا چینی کو باہر واپس کیسے نکالے کیا وہ ایسا طریقہ ہو جس کی مدد سے تین چمچ چینی چائے سے باہر نکال پائے اور چائے کا ذائقہ ایک دم فرسٹ کلاس ہو جائے لیکن دوستوں یہ ناممکن تھا

    زندگی میں کچھ چیزوں کی واپسی نہیں ہوتی ان کو ہم undo نہیں کر سکتے جیسے جو پانی ایک بار بہ جائے وہ واپس نہیں آتا جو تیر کمان سے نکل جو بات منہ سے نکل جائے جو وقت ایک بار گزر جائے وہ کبھی دوبارہ نہیں آتا ایسے ہی کچھ چیزیں جو زندگی میں ایک بار ہو جائیں وہ بس ہوجاتی ہیں ان کو واپس نہیں کیا جاسکتا زندگی میں کوئی undo button نہیں ہوتا چائے میں ڈالی ہوئی ایکسٹرا چینی کو باہر نکالنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا لیکن پھر بھی اس مسئلے کو حل کرنے کا ایک طریقہ تھا چائے میں چینی کم کرنے کا اس کو پینے کے قابل بنانے کا ایک ہی طریقہ تھا وہ یہ کہ اس چائے میں دو کپ اور دودھ ڈال دیا جائے اور اس بوڑھے آدمی نے ایسا ہی کیا اور اب اس کے پاس چائے کے ایک کپ کی بجائے تین کپ تھے جو اپنی بیوی اور بیٹے کو دے سکتا تھا دوستو زندگی بھی بالکل ایسی ہی ہے زندگی میں بعض دفعہ کچھ ایسی غلطیاں کچھ ایسی غلط چیزیں کچھ ایسی واقعات کو ہی جاتے ہیں انجانے میں ہو جاتے ہیں جو ہمیں تکلیف دیتے ہیں جن کا ہمیں افسوس رہتا ہے 😊 جن کو ہم بدلنا چاہتے ہیں ہماری کچھ غلط چوائسز کچھ غلط فیصلے غلط انویسٹمنٹ کچھ ایسے غلط الفاظ جو ہم بول جاتے ہیں جو ہمارے منہ سے نکل جاتے ہیں اور ہم انہیں واپس نہیں لے سکتے undo نہیں کر سکتے ایسا نہیں کہ ہم کوشش نہیں کرتے ہم اپنی پوری کوشش کرتے ہیں چیزوں کو بہتر کرنے پر کام کرتے ہیں لیکن جن چیزوں کو ہم بدل نہیں سکتے انہیں ریورس نہیں کر سکتے undo نہیں کر سکتے تو انہیں بدلنے کی ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے رہنا بالکل ایسے ہی ہے جیسے چائے میں ڈالی ہوئی ایکسٹرا چینی کو باہر نکالنے کی کوشش کرنا جو ہم کبھی نہیں کر پائیں گے

    غلط چیزوں کو ٹھیک کرنے یا ریورس کرنے پر ٹائم ضائع کرنے کی بجائے ان پر ہی فوکس کرنے کی بجائے زندگی میں کچھ نئی کچھ اچھی چیزیں ایڈ کرنے کی کوششیں کرنی چاہئیں غموں کو مٹانے یا دکھوں کو ختم کرنے پر پر فوکس کرنے کی بجاۓ زندگی میں خوشیاں ایڈ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کیوں کہ وہ خوشیاں آٹومیٹکلی غم کو ختم کردینگی غم ان کے سامنے چھوٹا بھی پڑ جائے گا جب کچھ مسائل کچھ پرابلم ہماری زندگی میں ایسی ہو جو ان کو کنٹرول نہیں کر پاتے جن کو حل نہیں کر پاتے انہیں حل کرنے کی کوشش چھوڑ دینی چاہیے اور زندگی میں کچھ ویلیو ایڈ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے مثبت ایڈ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے چائے میں سے اگر چینی نکالنی ہے تو اس میں تھوڑا
    سا دودھ ملانا چاہیے اگر آپ کے بچے کا کھلونا کسی نے توڑ دیا ہے اور کوشش کرنے پر بھی آپ اس کا جوڑ نہیں پا رہے اور بہت اداس ہے دکھی ہے تو کھلونا جوڑنے کی کوشش کرتے رہنے کی بجائے اسے کہیں گھمانے لے جائیں اس کو خوشیاں وہ خود ہی کھلونا بھول جائے گا

    @Kashii_Back