Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • رومن رسم‌الخط کے نقصانات،تحریر:عمارہ کنول چودھری

    رومن رسم‌الخط کے نقصانات،تحریر:عمارہ کنول چودھری

    ہم پچھلے 75 سالوں سے پڑھتے آ رہے ہیں کہ اردو پاکستان کی قومی زبان ہے۔
    یہ صرف ایک خواہش ہی رہی کہ قومی زبان کو سرکاری و دفتری سطح پر رائج کیا جائے، مگر اس سے پہلے کہ اردو کا نفاذ ممکن ہوتا، ہماری قومی زبان اردو پر رومن رسم‌الخط کے خطرات منڈلانے لگے۔دورِ حاضر پر نظر ڈالیں تو ہمیں انگریزی سے زیادہ رومن رسم‌الخط سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔

    نئی نسل اردو لکھنا بھولتی جا رہی ہے، اور قوم ہر گزرتے دن کے ساتھ رومن رسم‌الخط کی عادی بنتی جا رہی ہے۔آج اگر ہم سماجی ذرائع ابلاغ پر نظر ڈالیں یا اپنے حلقۂ احباب کا مشاہدہ کریں، تو اکثریت رومن رسم‌الخط میں پیغام رسانی کرتی نظر آتی ہے۔

    اب نوجوان نسل کو رومن رسم‌الخط میں لکھنا تو آسان لگتا ہے، مگر اردو رسم‌الخط میں لکھنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔
    مختلف حلقوں میں موجود نامور ادبی شخصیات کو دیکھیں تو بہت کم ایسے افراد ہیں جو اردو رسم‌الخط میں پیغامات لکھتے ہیں۔

    وہ ادیب اور مصنفین، جنہیں اردو نے شہرت بخشی اور آج بھی دے رہی ہے، وہ بھی رومن رسم‌الخط یا انگریزی میں لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں، حالانکہ اردو ادب سے منسلک لکھاریوں پر زیادہ ذمّے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اردو کو ترجیح دیں اور محبت سے اسے اپنائیں۔

    آج، بحیثیتِ پاکستانی، ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنا چاہیے اگر ہم اپنی قومی زبان اردو کو عزت اور ترجیح نہیں دیں گے، تو کون دے گا؟

  • اب آگ گھر کے آنگن میں ہے،تحریر:رقیہ غزل

    اب آگ گھر کے آنگن میں ہے،تحریر:رقیہ غزل

    یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں ہر حادثہ اپنے ساتھ ایک اور سانحہ لاتا ہے اور وہ ذمہ داروں کی بے حسی اور انسانیت سے عاری ردعمل ہوتا ہے۔ کسی بھی سانحے کی پہلی چیخ سڑک پر گونجتی ہے۔ دوسری سوشل میڈیا پر اور تیسری کسی پریس ریلیز میں دب کر رہ جاتی ہے۔ باقی سب ایک ایسی خاموشی میں گم ہو جاتا ہے جسے ہم ’’قومی مزاج‘‘ کا نام دے کر خود کو تسلی دے دیتے ہیں۔ جیسے ہم نے اجتماعی طور پر یہ طے کر لیا ہو کہ مسئلہ حل کرنے سے بہتر ہے کہ وقت کے ڈھیر تلے دبا دیا جائے اگر بدبو اٹھے بھی تو ناک پر ہاتھ رکھ کر گزر جائیں مگر کچھ بدبوئیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف ناک نہیں، روح کو بھی جلا دیتی ہیں اورجب روح جلتی ہے تو سوال اٹھتے ہیں جس کا جواب یوں ملتا ہے کہ اب میں ڈھکن کہاں کہاں لگائوں ؟

    کراچی کے دل گلشن اقبال میں تین سالہ بچے کا کھلے گٹر میں گر جانا ایسا ہی حادثہ تھا۔ منظر کوئی ڈرامائی نہیں بلکہ روز مرہ کی حقیقت ہے۔ چیخ اٹھتی ہے، لوگ بھاگتے ہیں، کالیں کی جاتی ہیں مگر پھر شہر کی پوری انتظامی مشینری ایک اندھی تلاش میں گھومتی رہتی ہے کہ تاریک سرنگ میں ہاتھ پیر مارتے ہوئے پندرہ گھنٹے گزرنے کے بعد اس بچے کی لاش کئی سو میٹر دور ایک دوسرے کھلے مین ہول سے خاکروب نکالتا ہے جسے شاباش نہیں الٹا ہتک آمیز رویہ تحفے میں ملتا ہے جیسے کوئی گناہ کر دیا ہو۔ دکھ اپنی جگہ، ملال اپنی جگہ، مگر خوف اس بات کا ہے کہ یہ المناکیاں ہمیں اب حیران بھی نہیں کرتیں ؟ جیسے ہم نے شہر کی بدنظمی کے ساتھ ایک خاموش معاہدہ کر لیا ہو کہ ’’تم بے حس رہو، ہم صبر کرتے رہیں گے۔‘‘ریسکیو ادارے صاف کہتے ہیں کہ وہ بلائنڈ آپریشن کرتے ہیں۔ یعنی شہر کی نالیاں آج بھی کسی پراسرار غار کے نقشے کی طرح ہیں جنہیں شاید بنانے والوں نے بھی کبھی مکمل نہیں دیکھا۔ برسوں کے سیاسی جوڑ توڑ نے نالوں کا ایسا تھیلا بنا دیا ہے جسے محکمے خود کھولنے سے گھبراتے ہیں۔ اوپر سے حکم کہ رات کو سرچ کرنا ممنوع ہے۔ یعنی کہ شہر رات میں حادثے کرے مگر ادارے صبح کے سورج کے بغیر آنکھ نہیں کھول سکتے۔

    بالفرض کھل بھی گئی تو بیانات کا سیلاب اور عمل کی قحط سالی کے سواکچھ نہیں ملتا۔ یہ درد کے لمحے پہلے ہی طویل تھے ہی کہ ایک اور دلخراش واقعے نے کہانی کا رخ موڑ دیا جب اسلام آباد کی ایک سجی ہوئی سڑک پر، ایک جج صاحب کا سولہ سالہ شہزادہ اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ گاڑی میں مستیاں کرتے ہوئے دو نوجوان لڑکیوں کو سکوٹی سمیت کچل گیا۔ ایک لمحہ، ذرا سی بے احتیاطی اور دو گھر ہمیشہ کے لیے لاوارث ہوگئے۔ مگر ہمارے پاس پھر وہی روایتی ہلچل، وہی کاغذی کارروائیاں، سیاسی اور قانونی بحثیں اور پھر وہی سوال جو ہر شہری کی آنکھ میں ٹھہر گیا ہے کہ اس بار بھی انصاف طاقتور کے جوتے کے نیچے دب جائے گا؟ کیونکہ یہاں جرم کا تعین عدالت نہیں بلکہ جیب اور عہدہ کرتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہمارے ہاں گٹر کا ڈھانچہ ضروری نہیں رہابلکہ پورا نظام اب اصلاح چاہتا ہے تاکہ طاقتوروں کی غلطیاں واقعات اور کمزوروں کی لغزشیں جرائم نہ کہلائیں۔

    ایسے کڑے حالات میں ریاستی ترجیحات مزید سوالات کو جنم دیتی ہیں کہ عوام کا ذکر روزمرہ ایجنڈے میں تو دور کی بات کسی ضمنی خانے میں بھی نہیں ملتا۔ ہر روز کوئی نئی خبر ملتی ہے کہ فلاں سیاسی رہنما کا سیل بدل دیا گیا، فلاں کے بیان کو مبینہ طور پر اے آئی کے ذریعے مسخ کر کے پھیلایا گیا، فلاں کی بہنوں کے بیانات کو ریاستی سلامتی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ جیسے پوری قوم صرف تین چار شخصیات کے آس پاس گھومتی ہو، اور باقی کروڑوں لوگ کسی اور کائنات کی مخلوق ہوں جن کا وجود صرف بل اور ٹیکس کی حد تک مانا جاتا ہے حالانکہ آئی ایم ایف کی رپورٹ ایک واضح تنبیہ ہے کہ سنبھل جانے کا وقت ابھی ہے! درحقیقت معیشت کا حال بھی کسی سے نہیں چھپا کہ بازاروں میں قیمتیں دیکھ کر بھی انسان سوچتا ہے کہ شاید ٹیگ غلط لگ گیا ہو، مگر پھر معلوم ہوتا ہے کہ غلطی ٹیگ کی نہیں، امید کی تھی۔ تنخواہیں دھوپ میں رکھے پانی کی طرح اڑ رہی ہیں، ٹیکسوں کی یلغار کسی موسم کی طرح نہیں رکتی، ٹریفک چالان آندھی کی طرح آتے ہیں اور پٹرول کی قیمتیں یوں اچھلتی ہیں جیسے رسّی تڑوا کر بھاگا ہوا گھوڑا کسی کو روندتا ہوا آگے نکل جائے۔ بجلی کے بل عوام کی جیب میں نہیں، دل میں بجلی گراتے ہیں۔ مگر۔۔ریاست اپنی دنیا میں گم کہ نوٹیفکیشن آیا یا نہیں اور اگلی باری کس کی؟ گویا ملک کے تمام مسائل حل ہوچکے !جس میں ذاتی مفاد مقدم ہو، زمینی حقائق کی پرواہ نہ کی جائے جس میں ملکیت و قومی مفادات کو ذاتی خواہشات کے سامنے قربان کیا جائے دراصل یہی رویہ کہ پہلے ہم، بعد میں عوام اصل’’ کھلا گٹر ‘‘ہے اورگٹر تو ایک جان لیتا ہے مگر بے حسی پوری قوم کی امید کا جنازہ اٹھا دیتی ہے۔ فیصلے طاقت کے کمروں میں تیار ہوتے ہیں، سیاست سکرینوں پر کھیلی جاتی ہے اور عوام کے لیے کوئی راستہ نہیں چھوڑا جاتا، سوائے اس کے کہ وہ اندھیری سرنگ میں چلتے رہیں، اس امید پر کہ شاید کبھی روشنی نظر آ جائے جبکہ نہ رہنمائی ہے، نہ نقشہ، نہ کوئی سمت۔ بس تجربے پر تجربہ، جیسے ملک نہیں کوئی لیبارٹری ہو جس میں ہر روز ایک نیا تجربہ ہوتا ہے۔ کبھی سیاسی انجینئرنگ، کبھی انتظامی اکھاڑ پچھاڑ، کبھی معاشی نسخے جنہیں آزماتے آزماتے عوام کی کمر ٹوٹی جا رہی ہے لیکن ناکامیوں پر عوام ہنس بھی نہیں سکتے، کیونکہ ہنسی بھی مہنگی پڑتی ہے کہ ناکامی کا پھندا گلے میں ڈال کر کہا جاتا ہے کہ۔۔گھبرائیں نہیں، یہ سب آپ کی بہتری کے لیے ہے۔۔مگر عوام اب اس جملے پر ایمان نہیں رکھتے اوروہ جانتے ہیں کہ آگ اب صرف گلی کے گٹر تک محدود نہیں رہی، بجلی کے بلوں میں جھلستی ہے، بچوں کی فیسوں میں روتی ہے، دکانوں کی مہنگی روشنیوں میں تڑپتی ہے، گیس، پیٹرول، پانی، روزگا رسب اس آگ کا ایندھن بن چکے ہیں۔ آگ اب دہلیز پر نہیں، گھر کے آنگن میں دہک رہی ہے۔بہر حال اگر ہم آج بھی نہ جاگے تو کل اخبار میں یہ نہیں لکھا جائے گا کہ ’’ایک بچہ گٹر میں گر کر جاں بحق ہوا‘‘ ممکن ہے یہ لکھا جائے کہ یہ قوم بہت پہلے اپنے اجتماعی گٹر میں گر چکی تھی، فرق صرف اتنا ہے کہ اسے گرنے کا احساس ہی نہ تھاکیونکہ وہ تماشے دیکھنے میں مصروف تھی اور جب قومیں تماشوں میں گم ہو جائیں ،خوف آخرت سے خالی ہوں، وہ خود اپنی بربادی لکھتی ہیں۔ لہذااب سوال یہ نہیں رہاکہ جگر گوشے کیوں نہ بچ سکے بلکہ سوال تو یہ ہے کہ کیا ہم اپنا باقی بچا ہوا شعور، بچی ہوئی غیرت اوربچا ہوا ملک‘ بچا سکیں گے یا نہیں؟

  • فوج جو نہ کسی فرد، نہ کسی پارٹی، نہ کسی سوچ کی ہے بلکہ 25 کروڑ عوام کی .تجزیہ:شہزاد قریشی

    فوج جو نہ کسی فرد، نہ کسی پارٹی، نہ کسی سوچ کی ہے بلکہ 25 کروڑ عوام کی .تجزیہ:شہزاد قریشی

    جب کوئی قوم اپنی ہی فوج پر انگلیاں اٹھانے لگے تو وقت ثابت کرتا ہے کہ قومیں اندر سے ٹوٹنے لگتی ہیں

    آج فوج کو سیاست کے شور میں کھڑا کرکے نشانے پر رکھا جا رہا ہے ہر کوئی اپنے مفاد کی آگ بھڑکھانے میں مصروف ہے

    آج سیاسی جماعتوں اور اداروں کے درمیان بڑھتے فاصلوں نے صورتحال خطرناک بنا دی ہے ریاستیں بیانیوں پر نہیں اتحاد پر چلتی ہیں

    جو اس ملک کے ہر انچ کی حفاظت کرتا ہے، اس کے ساتھ ٹکراؤ کا راستہ نہیں، بات چیت، احترام اور ذمہ داری کا راستہ اپنانا ہو گا

    اگر فوج سلامت ہے تو پاکستان سلامت ہے اور اگر پاکستان سلامت ہے تو ہم سب سلامت ہیں سیاستدان اپنی پالیسیوں زبان اور رویوں پر اَزسرِنو غور کریں

    تجزیہ شہزاد قریشی

    وطن عزیز دنیا میں ایک ایسا ملک ہے جو آزمائشوں میں گِھرا رہا دہشتگردی، انتہا پسندی، بیرونی دباؤ، داخلی انتشار مگر ایک ستون ایسا تھا جو ہر وقت کھڑا رہا۔ ایک ادارہ ایسا جو راتوں کی نیندیں چھوڑ کر قوم کی نیند محفوظ بناتا رہا وہ ادارہ ہے پاکستان کی فوج جو نہ کسی فرد کی ہے، نہ کسی پارٹی، نہ کسی سوچ کی، یہ 25 کروڑ لوگوں کی فوج ہے۔ اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی، اس کی ڈھال، اس پہچان مگر افسوس آج اسی فوج کو سیاست کے شور میں کھڑا کرکے نشانے پر رکھا جا رہا ہے۔ بیانیے ایسے بن رہے ہیں جیسے فوج دشمن ہو اور سیاست دان ریاست کے ٹھیکیدار سوشل میڈیا نے نفرت کو ایسے پروان چڑھایا جیسے آگ کے سامنے خشک گھاس رکھ دی جائے۔ ہر کوئی اپنے مفاد کی آگ بھڑکانے میں مصروف ہے مگر سوچ کوئی نہیں رہا کہ اس آگ میں آخر جلتا کون ہے؟ (پاکستان) وطن عزیز کی فوج دنیا کی چند سب سے ڈسپلن اور موثر افواج میں شمار ہوتی ہے۔ امریکہ سے لیکر یورپ تک طاقت ور ملک اس پروفیشنل ازم کو تسلیم کرتے ہیں ہم جس فوج کو روز تنقید کا نشانہ بناتے ہیں وہی فوج آج بھی دنیا بھر میں ایک مضبوط فورس کے طور پر جانی جاتی ہے۔ یہ وہی فوج ہے جس نے اپنی جانوں کی قربانی دیکر دہشتگردی کا وہ طوفان روکا جس نے ملک کو جکڑ لیا تھا یہ وہی فوج ہے جس نے ماؤں کے بیٹے کھوئے مگر پاکستان اور قوم کو بچائے رکھا۔ آج سیاسی جماعتوں اور اداروں کے درمیان بڑھتے فاصلوں نے صورتحال خطرناک بنا دی یے۔ ایک طرف سیاست اپنے بیانیوں کے نشے میں ہے دوسری طرف ادارے ریاست کو سنبھالنے کی کوشش میں، لیکن ریاستیں بیانیوں پر نہیں اتحاد پر چلتی ہیں اور جب کوئی قوم اپنی ہی فوج پر انگلیاں اٹھانے لگے تو وقت ثابت کرتا ہے کہ قومیں اندر سے ٹوٹنے لگتی ہیں۔ اگر سیاست اور فوج ایک دوسرے کے مقابل کھڑی ہوں تو نقصان صرف ایک کا نہیں پورے پاکستان کا ہوتا ہے۔ ہمیں سمجھنا ہو گا کہ اختلاف رائے دشمنی نہیں ہوتا مگر اداروں کو متنازعہ بنانا یہ دشمنی ہے وطن سے بھی اور اپنے مستقبل سے بھی۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں کو لمحہ فکریہ لینا ہو گا کہ ہم اپنے ہاتھوں سے کیا آگ لگا رہے ہیں؟ کیا ہم دوبارہ اس ملک کو انتشار کے اس گڑے میں دھکیلنا چاہتے ہیں جس سے نکلنے میں ہمیں دہائیاں لگیں؟ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاست دان اپنی پالیسیوں، اپنی زبان اور اپنے رویوں پر اَز سرِ نو غور کریں جو ادارہ ہمیں دہشتگردی سے نکال کر لایا جو اس ملک کے ہر انچ کی حفاظت کرتا ہے اس کے ساتھ ٹکراؤ کا راستہ نہیں بات چیت، احترام اور ذمہ داری کا راستہ اپنانا ہو گا۔ وطن عزیز کو مزید لڑائیاں نہیں چاہیں اسے امن چاہیے، اتفاق چاہیے، ترقی چاہیے یہ ملک ہم سب کا ہے اور فوج بھی۔ اب وقت ہے کہ ہم سب ملکر اسی ایک سچ کو پہچانیں اگر فوج سلامت ہے تو پاکستان سلامت ہے اور اگر پاکستان سلامت ہے تو ہم سب سلامت ہیں۔

  • غریب کی مجبوری پر وار  بینظیر انکم سپورٹ کی آڑ میں ابھرتا نیا مافیا ،تحریر:  آمنہ خواجہ

    غریب کی مجبوری پر وار بینظیر انکم سپورٹ کی آڑ میں ابھرتا نیا مافیا ،تحریر: آمنہ خواجہ

    یہ ملک شاید ترقی کے لیے نہیں، ہر روز ایک نیا مافیا پیدا کرنے کے لیے بنا ہے۔ کبھی آٹے کا بحران، کبھی چینی کا، کبھی پٹرول کی مصنوعی قلت، اور اب باری ہے غریب کے حق پر ڈاکا ڈالنے والوں کی وہ لوگ جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے نام پر والٹ اکاؤنٹ کھولنے کیلئے فی بندہ 1000 روپے مانگ رہے ہیں۔
    یہ دھندا اس تیزی سے پھیل رہا ہے کہ دیہات، قصبوں اور چھوٹے شہروں میں جعلی ریٹ لسٹیں جعلی دفتر، جعلی اہلکار، اور جعلی فارم تک گردش کرنے لگے ہیں۔

    یہ کالم اُن ہی غریبوں کی آواز ہے جو اپنے بچوں کے لیے سہارے تلاش کرتے ہیں، مگر ان کے نصیب میں سہارا نہیں، استحصال لکھ دیا گیا ہے۔یہ پروگرام غریب عوام کے لیے بنایا گیا تھا، ان خواتین کے لیے جن کے گھروں میں چولہا جلا رہتا ہے یا نہیں یہ حکومت کی طرف سے ایک مستحکم مدد ہے۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ جیسے ہی کسی پروگرام کا نام مشہور ہو جائے، ہمارا معاشرہ اسے ثواب کی جگہ کمائی سمجھ لیتا ہے۔اب صورتحال یہ ہے کہ جعل ساز گروہ، مقامی دکاندار، ایجنٹس اور نام نہاد “رجسٹریشن سنٹر” لوگو‌ں سے کہتے ہیں “بینظیر انکم سپورٹ والٹ کھل رہا ہے 1000 روپے فیس دو، فائدہ اٹھاؤ۔حالانکہ حقیقت میں آن لائن والٹ ہو، موبائل اکاؤنٹ ہو، یا ریگولر رجسٹریشناس کی بروکری، اس کی فیس، اس کی رشوت صفر روپے ہے۔مگر جب علم کم ہو، اور ضرورت زیادہ، تو مافیا کو پنپنے میں دیر نہیں لگتی۔

    غریب عوام: امید کے نام پر دھوکہ
    دیہات کی خواتین جنہوں نے کبھی موبائل استعمال تک صحیح سے نہیں کیا، وہ جب سنتی ہیں کہ ’’1000 روپے دو، نام اپڈیٹ ہو جائے گا‘‘… تو کسی نہ کسی طرح پیسے جوڑ کر دے دیتی ہیں، اس امید کے ساتھ کہ شاید اگلے ماہ 10-12 ہزار روپے ان کے ہاتھ لگ جائیں۔یعنی ایک طرف غربت، دوسری طرف اندیشہ کہ اگر 1000 روپے نہ دیے تو شاید حکومت کی امداد ملنا ہی بند نہ ہو جائے۔یہ خوف ہی مافیا کی اصل کمائی ہے۔

    جعلی رجسٹریشن سنٹر۔ ایک نیا کاروباری ماڈل
    کئی شہروں میں لوگوں نے کرسی، ٹیبل، ایک بینر اور چند موبائل فون لگا کر جعلی BISP مراکز بنا لیے ہیں۔
    یہ لوگ نہ صرف پیسے لیتے ہیں، بلکہ غریب عورتوں کا ڈیٹا بھی چوری کرتے ہیں، جس کا آگے جا کر غلط استعمال خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔شناختی معلومات کی چوری ایک بڑا جرم ہے، مگر یہاں اسے کاروبار بنا لیا گیا ہے۔
    حکومت نے کئی بار وضاحت کی کہ رجسٹریشن مفت ہے،کوئی والٹ اکاؤنٹ فیس کے بغیر بنتا ہے،BISP کا عملہ گھر گھر جا کر پیسہ نہیں لیتا،لیکن زمین پر کیا ہو رہا ہے؟کسی ضلع میں کوئی پکڑا نہیں جاتا، اور اگر پکڑا بھی جائے تو اگلے دن پھر یہی کاروبار شروع ہو جاتا ہے۔غریب کی جیب تو خالی ہوتی ہے،مگر حکومت کی عملداری بھی شاید خالی ہے۔

    معاشرہ کیوں خاموش؟
    ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ مہنگائی، بیروزگاری، اور پریشانی نے عوام کو اتنا مصروف کر رکھا ہے کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کو ظلم سمجھتے ہی نہیں۔لوگ کہتے ہیں “چلو 1000 ہی تو ہیں، اگر نام لگ گیا تو کیا مسئلہ؟”یہ سوچ ہی مافیا کی طاقت ہے۔یہ عوامی سطح پر آگاہی کا وقت ہے، ورنہ یہ دھندا بڑھ کر ہر گھر تک پہنچ جائے گا۔ یاد رکھیں، بینظیر انکم سپورٹ کی رجسٹریشن مفت ہے۔کوئی فیس، کوئی چارج، کوئی ٹوکن کچھ نہیں۔ کوئی والٹ اکاؤنٹ، موبائل اکاؤنٹ، یا ATM سسٹم 1000 روپے نہیں لیتا۔ جعلی ایجنٹوں سے بچیں، صرف سرکاری مراکز پر جائیں۔ اپنا ڈیٹا کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔

    شکایت کریں خاموشی جرم کو مضبوط کرتی ہے،اسٹیشنری دکانوں پر مافیا” کیوں پنپتا ہے؟اکثر دکاندار یہ سوچ کر یہ دھندا شروع کرتے ہیں کہ“ہم تو خدمت کر رہے ہیں، تھوڑے پیسے لے رہے ہیں تو کیا ہوا؟”مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ خدمت نہیں، استحصال کر رہے ہوتے ہیں۔اسی طرح کے غیر ذمہ دار رویوں نے ہر شعبے میں بدنیتی کو جنم دیا ہے۔یہ سچ ہے کہ ایسے فراڈ صرف کمزور معاشروں میں پنپتے ہیں، جہاں قانون سست ہو،اداروں کی آنکھ پر پٹی بندھی ہو،میڈیا سنجیدہ مسائل چھوڑ کر سیاست کے پیچھے لگا رہے،پولیس کو رشوت زیادہ اور ذمہ داری کم دکھائی دے،اگر حکومت بروقت کارروائیاں کرے، تو ایک ہفتے میں یہ پورا دھندا ختم ہو سکتا ہے۔ لیکن جب سب کی نظریں دوسری طرف ہوں، تو مافیا کو پھلنے پھولنے میں دیر نہیں لگتی۔

    یہ کالم صرف الفاظ نہیں ایک چیخ ہے۔ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہم اس معاشرے کو ایسی سمت میں جانے دیں گے جہاں غریب کی بے بسی ہی اس کا جرم بن جائے؟غریبوں کو امداد نہیں چاہیے،انہیں احترام چاہیے، عزت چاہیے اور ان کا حق لوٹنے والوں سے حفاظت چاہیے۔بینظیر انکم سپورٹ کے نام پر ہو رہا یہ لوٹ مار صرف ایک دھندا نہیں ایک بدنیتی کی علامت ہے۔اور جب تک ہم اجتماعی طور پر اس کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے، یہ سلسلہ رکنے والا نہیں۔

  • قوم کے حقیقی خدمت گار ،تحریر:چوہدری شفیق الرحمن وڑائچ

    قوم کے حقیقی خدمت گار ،تحریر:چوہدری شفیق الرحمن وڑائچ

    پانچ دسمبر کو دنیا بھر میں عالمی والنٹئیزز ڈے منایا جاتا ہے۔ یہ دن منانے کا مقصد خدمت ِ خلق اور دوسروں کی مدد کرنے کی ترغیب دینا اور یہ باور کروانا ہے کہ چھوٹے چھوٹے اعمال اور رضاکارانہ خدمات معاشرے میں مثبت تبدیلی لاسکتے ہیں۔ یہ دن لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی اور باہم تعاون کرنے کی طرف بھی مائل کرتا ہے۔ یہ دن 1985ء میں اقوام متحدہ نے متعارف کروایا تھا۔ لیکن اگر ہم مسلمان ہونے کی حیثیت سے والنٹئیر ڈے کے مقاصد کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ہمارے دین نے آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہی بتا دیا تھا۔ رسول مقبول ﷺ کے سر پر اللہ نے جہاں نبوت کا تاج رکھا وہاں آپ ﷺ خدمت خلق کا اعلی ترین نمونہ بھی تھے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ اور اس کا ”شعبہ خدمت ِ خلق“ بھی رسول مقبول ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے خدمت ِ خلق کو حرزجان بنائے ہوئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ایک عام کارکن سے لے کر اعلیٰ عہدیدار تک سب ہی والنٹئیرز ہیں۔یہ وہ جوان ہیں جن کے قدموں میں خاکِ وطن کی مہک ہے اور دلوں میں امتِ مسلمہ کا درد ہے۔یہ کہیں بوڑھوں کے کندھوں پر مدد کا ہاتھ رکھتے ہیں، کہیں بیواؤں کے آنگن میں کھانا ہے، کہیں یتیم کے سر پر سایہ ہے اور کہیں کسی بے بس کی فریاد کے جواب میں اٹھتی ہوئی اور دوڑتی قدموں کی چاپ ہے۔

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے والنٹیئرز کی سب سے بڑی خوبی یہ جہاں بھی جہاں جاتے ہیں وہاں امید کے دیئے روشن ہو جاتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں اگر راشن کا بیگ ہوتا ہے تو ساتھ ہی دعاؤں کی خوشبو بھی ہوتی ہے۔ اگر یہ کسی علاقے میں میڈیکل کیمپ لگاتے ہیں تو دراصل وہ زخموں پر مرہم نہیں بلکہ دلوں پر اعتماد اور محبت کا مرہم رکھتے ہیں۔ ان کے قدموں میں تھکن تو ہوسکتی ہے مگر ارادوں میں پختگی ہے۔یہ طعنوں کی پروا نہیں کرتے، مخالفتوں سے نہیں گھبراتے کیونکہ ان کا محور رضائے الٰہی ہے۔

    ان کی خدمات کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ ان کی جدوجہد اور محنت سے سینکڑوں گھروں میں سکون، امید اور شکرگزاری کی روشنی پہنچتی ہے۔ ایک وقت آئے گا جب تاریخ یہ ضرور لکھے گی کہ اس ملک میں ایسے والنٹئیرزبھی تھے جو تقسیم اور تخریب کی سیاست نہیں، تعمیر کے سفر سے جڑے ہوئے تھے۔پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے والنٹیئرز نے قوم کو یہ احساس دلایا ہے کہ خدمت محض ایک لفظ نہیں یہ ایک طرزِ فکر، ایک اخلاقی فرض اور ایک روحانی نظم ہے۔ یہ لوگ ملک کے لیے وہ کام کر رہے ہیں جو بڑے بڑے ادارے بھی نہیں کر پاتے۔ یہ نعروں کے بیوپاری نہیں، عمل کے شہسوار ہیں۔ ان کے کردار سے سادگی جھلکتی ہے، مگر ان کے اثرات میں عظمت کی گھن گرج سنائی دیتی ہے۔یہ والنٹیئرز اس قوم کے اصل رہنما ہیں۔ اگرچہ ان کے پاس کوئی وزارت نہیں مگر ان کے ساتھ ہزاروں دلوں کی دعائیں ہیں۔ ان کے پاس کوئی پروٹوکول نہیں مگر آسمان کے فرشتے ان کیلئے پر بچھاتے ہیں۔

    حقیقت یہ ہے کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے شعبہ خدمت ِ خلق کی خدمات کی بات کی جائے تو اس کیلئے ہزاروں صفحات بھی کم ہوں گے۔ اس کی خدمات اور کام کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے ہمارے ملک کو بدترین سیلاب کاسامنا کرنا پڑا۔گلگت بلتستان اور خیبر پختونخواہ میں سیلاب اور کلاؤڈ برسٹ سے کئی بستیاں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں، پل ٹوٹ گئے اور راستے بند ہوگئے۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ جب بھارت نے پانی چھوڑا تو ہمارے تمام دریا بپھر گئے اس سے بھی درجنوں بستیوں کا نام ونشان مٹ گیا۔ یہ تاریخ کا بدترین سیلاب تھا۔ یہی وہ لمحے تھے جب چشم فلک نے دیکھا کہ قوم کے حقیقی خدمت گار کون ہیں!۔مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں نے وہ کام کئے جو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے۔ ایک لاکھ 71ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ 138ریسکیو کشتیاں اور 16ہزار سے زائد رضاکار بحالی مہم کا حصہ بنے۔ 25ہزار سے زائد افراد کو ٹینٹ ویلج بستیوں میں پناہ دی گئی۔چالیس لاکھ سے زائد پکے پکائے کھانے کے پیکٹ تقسیم کئے گئے۔ ایک لاکھ اٹھائیس ہزار سے زائد خشک راشن بیگز اور انیس لاکھ سے زائد پینے کے صاف پانی کی بوتلیں، متاثرین کو بستر، مچھر دانیاں اور ہزاروں افراد کو برتن سیٹ پہنچائے گئے۔ میڈیکل ریلیف کیلئے 1500سے زائد فیلڈ میڈیکل کیمپس سے سات لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا۔ شعبہ خدمت خلق پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی قائم کردہ کئی بستیوں میں نوزائیدہ بچوں نے جنم لیا۔ مسلم سٹوڈنٹس لیگ نے 20مددگار سکول قائم کئے۔ بچوں کے چہروں پر خوشیاں واپس لانے کیلئے گفٹ پیک، کھلونے اور دودھ کے ڈبے تقسیم کئے گئے۔

    سیلاب تو ختم ہوگیا مگر سیلاب متاثرین کے مسائل ابھی ختم نہیں ہوئے۔ ریسکیو اور ریلیف ہنگامی کام تھا اصل کام سیلاب متاثرین کی بحالی ہے۔ اس مقصد کی خاطر مرکزی مسلم لیگ شعبہ خدمت خلق کے رضاکار گھروں کی تعمیر اور کسانوں کی معاونت کاکام شروع کرچکے ہیں۔ بحالی کا یہ کام دنوں اور ہفتوں کا نہیں بلکہ مہینوں پر مشتمل ہے جس کیلئے ہمارا شعبہ خدمت ِ خلق دن رات مصروف عمل ہے

    ہمارے ملک کو تقریباََ ہر سال ہی تباہ کن سیلاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔وجہ یہ ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ بھی یہ بات ہمیں بار بار باور کرواچکا ہے۔ ان حالات میں مرکزی مسلم لیگ شکوہ ظلت شب کی بجائے اپنے حصے کا دیا جلانے پر یقین رکھتی ہے۔اقوام متحدہ کے ایجنڈے کے مطابق پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے بچانے کیلئے ہرسال ملک میں وسیع پیمانے پر شجر کاری کی جاتی ہے۔

    شعبہ خدمت خلق مرکزی مسلم لیگ قدرتی آفات، حالات اور سیلاب سے نمٹنے کیلئے کئی طرح کے اقدامات کر رہا ہے۔ ایک وہ جو ہنگامی اقدامات ہیں۔ دوسرے اقدامات وہ جو مستقل بنیادوں پر قائم ہوں گے۔ مثلاََ ملک بھر میں ضلعی سطح پر ریسکیو سنٹر بنائے جائیں گے، جن میں ہنگامی امداد، فائر اور واٹر ریسکیو سمیت میڈیکل کی تمام سہولیات میسر ہوں گی۔تمام ریسکیو سنٹرز پر ہفتے کے سات دن اور چوبیس گھنٹے تربیت یافتہ والنٹئیرز موجود ہوں گے۔ جدید اکیڈمیز بنائی جائیں گی جہاں ہزاروں نوجوانوں کو ہنگامی حالات سے نمٹنے، مشکلات میں پھنسے لوگوں کی زندگیاں بچانے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ خواتین کو باعزت روزگار کی فراہمی کیلئے خواتین ووکیشنل سنٹرز، صاف پانی کی فراہمی، فوڈ پروگرام ”کھانا سب کیلئے“ کے تحت ملک بھر میں روزانہ پبلک مقامات اور ہسپتالوں کے باہر سینکڑوں دستر خوان سجائے اور بچھائے جاتے ہیں جہاں سے لاکھوں مزدور اور محنت کش مستفید ہوتے ہیں۔رمضان المبارک میں ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں دیہاتوں میں چلنے والا پروگرام سحری سب کیلئے اپنی مثال آپ ہے۔

    آج جبکہ دنیا والنٹئیرز ڈے منا رہی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ مشکلات کے اندھیروں میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ شعبہ خدمت خلق کے والنٹیئز امید کی پہلی کرن ہیں۔ ان میں سے ہر فرد عزم وہمت کی ایک مکمل داستان ہے۔ کوئی طالب علم ہے جو اپنے وقت کا کچھ حصہ خدمت کے نام کرتا ہے؛ کوئی ملازم ہے جو چھٹی کے دن غریبوں کے گھروں تک پہنچتا ہے؛ کوئی تاجر ہے جو رزق کی گردش میں دوسروں کے لیے آسانیاں تلاش کرتا ہے۔کوئی ڈاکٹر ہے جو اپنی پریکٹس اور آرام تج کرکے بیماروں کا علاج کرتا ہے۔ یہ سب اپنی خوشیاں اور آرام کو بالائے طاق رکھ کر دوسروں کیلئے آرام اور خوشی کا اہتمام کرتے ہیں۔
    میں آخر میں قوم کے نام یہ پیغام دنیا چاہوں گا
    اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
    ہم نے تو دل جلاکے سرعام رکھ دیا ہے

  • نریندر مودی کی باریک وارداتیں،تحریر: علی ابن ِسلامت

    نریندر مودی کی باریک وارداتیں،تحریر: علی ابن ِسلامت

    نریندر مودی کی باریک وارداتیں جو وہ پاکستان کو کمزور کرنے اور نقشے سے مٹانے کیلئے کر رہا تھا وہ وارداتیں مودی کو ہی کھا گئیں، انڈیا میں جب سے بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں آئی ہے اور نریندر مودی وزیراعظم بنا تب سے انڈیا پاکستان تعلقات کشیدہ سے کشیدہ ہیں ۔کوئی شک نہیں کہ پہلی ٹرم میں مودی پاکستان کیلئے خطرناک جبکہ انڈیا کیلئے مضبوط لیڈر بن کر ابھراکیونکہ انڈیا کی سفارتی کوششوں سے پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں چلا گیا تھا، یہاں بہت سی سیاسی غلطیاں ایک شخص نے کیں جس کا نام عمران خان تھا ، عجلت میں عمران خان کی حکومت نے قانون پہ قانون پاس کروائے ۔ آخر کارسالوں کی جدوجہد کے بعد پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلا لیکن اس وقت تک مودی اور کئی معاملات پر باریک واردتیں ڈالنے کی تیاری کر چکا تھا ۔مثال کے طور پر جیسے ہی پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلا اس کے بعد مودی نے کشمیر میں اوڑی حملہ کروا کے پاکستان کے ساتھ بارڈر گرم کر دیا اور دونوں ملکوں کی فوجیں بارڈر پر پہنچ گئیں مودی نے اپنے شہریوں کو مروا کر ان کی لاشوں کو پاکستان کیخلاف استعمال کیا۔

    14 فروری 2019 کو پلوامہ حملے کا ڈرامہ رچایا گیا اور انڈیا نے فالس فلیگ آپریشن کرکے خود ہی اپنے تین درجن سے زائد فوجی مار دئیے۔ تب بھی الحمدللہ پاکستان حسب روایت عسکری سطح پر اپنا دفاع کرنے میں کامیاب ہوا، اور مودی کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا تھا ، لیکن پلوامہ ڈرامے کے بعد مودی نے کشمیر کے معاملے پر انتہائی باریک واردات ڈالی اور پاکستان کو دائیں دکھا کر بائیں ماری گئی۔پلوامہ کے بعد 5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا۔جس کے بعد جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہو گئی۔پلوامہ فالس فلیگ آپریشن کا پاکستان کو شدید نقصان پہنچا،کیونکہ ایک طرف پاکستان کو عالمی سطح پر الزامات کا سامنا کرنا پڑا تو دوسری طرف کشمیر کے حوالے سے سفارتی سطح پر بھی کوئی خاطر خواہ اقدامات نہ ہو سکے، سفارتی سطح پر ہمیں ناکامی ایک نالائق حکومت کی وجہ سے ہوئی کیونکہ یہاں عمران حکومت کے چند سیاسی مفاد پرستوں کی کمزوریوں نے مودی کو سیاسی فائدے حاصل کروا دئیے تھے۔ مارچ2019 میں ابوظہبی میں ہونے والے او آئی سی کے وزرائے خارجہ اجلاس میں انڈیا کو پہلی بار "گیسٹ آف آنر” کے طور پر مدعو کیا گیا۔ اُس وقت کی انڈین وزیر خارجہ سشما سوراج نے اجلاس میں شرکت کی اور خطاب کیا، یہ دعوت ایک ایسے وقت میں دی گئی تھی جب پلوامہ ڈرامے کے بعد پاک بھارت کشیدگی عروج پر تھی، او آئی سی میں انڈین وزیر خارجہ کا جانا اور خطاب کرنا اوپر سے پاکستان مخالف خطاب کرنا ، یہ بھی نریندر مودی کی باریک واردات تھی ۔

    پلوامہ ڈرامے کی پوری ڈویلپمنٹ کے بعد مودی نے پاکستان مخالف کاروائیوں کے نام پر ووٹ لئے اور پھر سے وہ انڈیا کا وزیر اعظم بن گیا اور نئی سازشیں رچنا شروع ہو گیا ، لیکن اندورونی معاملات کی خرابی باعث کوئی بڑا ایڈونچر نہ کر سکا۔لیکن اس دوران خطے میں بہت بڑی پیشرفت ہوئی اور افغانستان سے امریکی فوج نے انخلاء کا اعلان کر دیا جس کو پاکستان کی اہم کامیابی سمجھا گیا جس کو عمران خان نے ایک بار طالبان کے اقتدار کو سیلیبریٹ کیا اور ایک وقت کیلئے لگا کہ مودی کی اشرف غنی دور میں کی گئی ساری انویسٹمنٹ ڈوب گئی ہے لیکن یہاں بھی پاکستان سفارتی طور پر ناکام ہوا اور مودی کامیاب اور یہ سب عمرا ن خان کی وجہ سے ہوا ،کیونکہ طالبان انڈیا کے معاملے میں اشرف غنی کی پالیسی پر ہی عمل پیرا ہیں اور اس وقت مودی کی گود میں بیٹھے ہوئے ہیں جو کہ مودی ایک واردات تھی ۔اب مودی کی تیسری ٹرم چل رہی ہے جس میں اس نے پلوامہ ٹو کیا یعنی پہلگام اٹیک۔۔ 22 اپریل کو کشمیر میں پہلگام کے مقام پر اپنے ہی لوگوں کیخلاف ایک اور فالس فلیگ آپریشن کرکے دو درجن سے زائد سیاح مار دئیے اور ایک بار پھر اس وقوعہ کا سارا الزام لگایا اور بغیر کسی تحقیق و تفتیش کے پاکستان پر لگا حملہ کر دیا، پھر جو پاکستان نے انڈیا کا اور انڈین گجرات کے قصاب کا حال کیا وہ پوری دنیا نے دیکھا ہے ۔ سندھ طاس معاہدہ جس کیلئے مودی نے پورا ڈرامہ رچایا اور پہلگام کرکے جنگ کا سٹیج سجایا ، پھر دیکھا کہ کیسے پاکستان نے طلبل بجایا۔

    ابھی بھی مودی باریک وارداتیں ڈال کر انڈیا کو عارضی کامیابیاں دلوا رہا ہے لیکن مستقبل میں یہ کامیابیاں اس کی ناکامی میں بدلیں گی، اور اب بھی اگر مودی کی باریک وارداتوں کے نقصانات دیکھیں تو نیشنل اور انٹرنیشنل سطح پر اس کو شدید الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ اور جو اس کی انتظامی اور سفارتی ناکامی کا منہ بولتا ہے ۔مودی کے آشیرباد سے منی پور میں نسلی فسادات ، انڈین آرمی کے ہاتھوں کشمیریوں کیساتھ ناگالینڈ میں نہتے شہریوں کا قتل ، دوسری جانب سیون سسٹرز اسٹیٹ میں آزادی کی تحریک، یہ سب مودی کی باریک وارداتوں کے نقصان ہیں کیونکہ سب کو دشمن بنا چکا ہے کوئی مودی کا دوست نہیں بچا۔ نیپال، بنگلہ دیش، پاکستان، چائنا، کینیڈا، سری لنکا، چائنا، سب مودی کے ڈسے ہوئے ہیں، یہ ایک سانپ ہے جو اپنے ہی بچے کھا جاتا ہے، انڈیا میں رہنے والے سکھوں کو نہیں بخش رہا۔

    کسان تحریکیں ، گلوان وادی میں فوجی جھڑپیں،منی پور، ادھم پور، این آر سی کا تنازع ، اروناچل پردیش تنازع ، نیپال سرحدی تنازع، ان سب کا نقصان بھارت کو ہو رہا ہے ۔ یہ سب اس لیے کہ نریندر مودی کی ناکام چالاکیاں ، سازشیں ، باریک وارداتیں پوری دنیا میں عیاں ہو چکی ہیں، کینیڈا میں خالصتان رہنما ہردیپ سنگھ نجر کا قتل ،کینیڈا بھارت سفارتی تناؤ، امریکہ کی بھارت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر متعدد وارننگز بھارت کی تباہی کا سامان پیدا کرچکی ہیں۔سب سے بڑا کارنامہ بنگلہ دیش میں مودی کی پراکسی حسینہ واجد کا اقتدار تمام ہوا جو مودی کی بہت بڑی ناکامی تھا ، فرانس، جرمنی، اور دیگر یورپی ممالک کی جانب سے انسانی حقوق پر تشویش ، اقوام متحدہ میں کشمیر کے مسئلے پر عالمی دباؤ،اورعالمی میڈیا میں بھارت کا امیج "ہندو انتہا پسندی” بن کر ابھر رہا ہےجو صرف مودی نہیں بلکہ مودی کو ماننے والوں کی نسلوں کو کھا جائے گا۔آج نہ صرف امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے بھارت کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث پایا گیا ہے بلکہ عالمی میڈیا ، بلوم برگ ، بی بی سی، سی این این، الجزیرہ، سکائی نیوز، واشنگٹن پوسٹ مودی کی ناکام پالیسیوں کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں۔

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج ( جی سی یونیورسٹی ) لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں

  • کراچی پھر ماتم کناں ہے.تحریر: شازیہ عالم شازی

    کراچی پھر ماتم کناں ہے.تحریر: شازیہ عالم شازی

    کراچی ایک بار پھر ماتم کناں ہے ایک ایسا ماتم جو صرف ایک گھر کا نہیں بلکہ سارے شہر کے ضمیر کا ماتم ہے تین سالہ ابراہیم کا کھلے مین ہول میں گر کر جان گنوا دینا کوئی حادثہ نہیں، یہ اس بوسیدہ نظام کا کھلا اعتراف ہے جو شہریوں کی زندگیوں کو محض اعداد و شمار سمجھ کر نظر انداز کرتا ہے۔یہ سانحہ ایک معصوم بچے کی موت نہیں بلکہ ہمارے بلدیاتی ڈھانچے کی سنگین نا اہلی اور شہری حکومت کی شرم ناک بے حسی کا نوحہ ہے ،یہ واقعہ صرف ایک معصوم بچے کی جان کا سانحہ نہیں، بلکہ ہمارے بلدیاتی نظام کی سنگین نااہلی اور شہری حکومت کی مجرمانہ بے حسی کا نوحہ ہے۔ نیپا چورنگی جیسے مصروف مقام پر کھلا مین ہول کئی دنوں، بلکہ ہفتوں سے شہریوں کے لیے موت کا پھندا بنا ہوا تھا، مگر جسے صرف متعلقہ ادارے ہی نہ دیکھ سکے، نہ کسی کی فریاد سن سکے، نہ ہی حرکت میں آئے۔ تین سالہ ابراہیم کا اندوہناک موت اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ہمارے شہر میں جان کی قیمت صفر ہے اور ذمہ داری نام کی کوئی چیز موجود نہیں، بلدیاتی ادارے جن کا کام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے، وہ خوابِ غفلت میں ڈوبے رہتے ہیں، اور ہر حادثے کے بعد صرف میڈیا پر ان کے بیانات کی بازگشت سنائی دیتی ہے ،تحقیقات کا اعلان کیا جاتا ہے کمیٹیوں کے قیام کی خبریں چلتیں ہیں اور دھیرے دھیرے معاملے کے ٹھنڈے ہونے کا انتظار کیا جاتا ہے اوت پھر مکمل خاموشی، شہری حکومت کی یہ بے حسی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا کراچی کے لوگوں کی زندگیوں کو حقیقی معنوں میں کوئی اہمیت حاصل بھی ہے یا نہیں؟

    ایک کھلا گٹر، ایک چھوٹا سا مین ہول ڈھکن، اور ایک لمحہ کی کوتاہی ، اتنی معمولی سی چیزیں اگر زندگی اور موت کا فیصلہ بن جائیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ ریاست اپنے شہریوں سے اپنا بنیادی فرض ادا کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ ابراہیم کی موت نظام کی ناکامی کا ایسا ثبوت ہے جسے کوئی بھی صفائی، کوئی بھی بیان، اور کوئی بھی سیاسی جواز نہیں چھپا سکتا۔یہ وقت ہے کہ شہری حکومت سامنے آئے اور عوام کو جواب دے تاکہ واقعہ کے ذمہ داروں کا تعین ہو، اور کراچی کے لوگوں کو یہ یقین دلایا جائے کہ ان کی زندگیاں کسی کے سفارشی نظام، نااہلی، یا غفلت کی بھینٹ نہیں چڑھیں گی۔ورنہ کل کا ابراہیم کوئی اور ہوگا اور اس شہر کی ماتم کن آوازیں یونہی گونجتی رہیں گی۔

    کراچی آج صرف حادثوں کا نہیں، بے حسی کا شہر بن چکا ہے۔ سانحات پر آنسو خشک ہونے سے پہلے ہی حکمرانوں کی رعونیت بھری گفتگو زخموں پر نمک چھڑک دیتی ہے۔ میئر کراچی کی حالیہ پریس کانفرنس اسی تکبر، اسی حددھرمی اور اسی سنگدلی کا کھُلا اعلان تھی جیسے وہ شہریوں کے منتخب نمائندے نہیں، بلکہ کسی اونچے تخت پر بیٹھے خود ساختہ فرمانروا ہوں ، پریس کانفرنس سن کے یوں لگا جیسے یہ لوگ اپنے آپ کو جوابدہی سے ماورا، تنقید سے بالاتر اور خدائی دعوے کے قریب سمجھ بیٹھے ہیں۔اس پریس کانفرنس میں ایسا زعم، ایسی برتری، اور ایسا تکبر جھلک رہا تھا کہ گویا گردن میں سریا گاڑھ دیا گیا ہو نہ جھکنے کی گنجائش، نہ سننے کی صلاحیت، نہ ماننے کی ضرورت، یہ طرزِ گفتگو کسی خدمت گزار عوامی نمائندے کا نہیں، بلکہ اس ایلیٹ کلاس وڈیرہ شاہی کا ہے جو صدیوں سے عوام کو رعیت سمجھنے کی عادت میں مبتلا ہے۔یہ لوگ قوم کے خیرخواہ نہیں بن سکتے، کیونکہ خیرخواہی کے لیے دل میں درد چاہیے، اور درد وہاں ہوتا ہے جہاں اختیار کے بجائے احساس ہو۔

    کراچی کا شہری آج بدترین بلدیاتی بداعمالیوں، غفلتوں اور بدانتظامیوں کے بوجھ تلے کراہ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم فریاد لے کر کس کے پاس جائیں؟ کون ہے جو سنے؟ کون ہے جو بولے؟ کون ہے جو جائے وقوعہ تک قدم رکھے؟ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں شہرِ کراچی کے لوگ روزانہ جنازوں جیسے راستوں سے گزرتے ہیں سڑکوں پر ابلتے گٹر، گندگی کے ڈھیر، ٹوٹی پگڈنڈیاں، تعفن زدہ ماحول، اور کھنڈرات میں بدلتے محلے یہ وہ شہر نہیں جسے کبھی روشنیوں کا شہر کہا جاتا تھا۔

    ہم صبح گھروں سے نکل کر جس اذیت ناک منظر اور تعفن سے گزر کر دفتر پہنچتے ہیں، یہ صرف ہم ہی جانتے ہیں اور شام کو جب تھکن زدہ جسم گھر آتا ہے تو کئی گھنٹوں تک اس قابل نہیں ہوتا کہ زندگی کی کوئی اور ذمہ داری نبھا سکے۔ یہ تھکن جسمانی سے زیادہ ذہنی ہےایک شہر کی حالت دیکھ کر پیدا ہونے والی مایوسی کی تھکن، حکمرانوں کے رویے سے جنم لینے والی بے بسی کی تھکن۔یہ شہر ٹیکس سب سے زیادہ دیتا ہے، مگر بدحالی سب سے زیادہ سہتا ہے۔یہاں سانحات بھی عوام کے نصیب میں ہیں، اور حکمرانوں کا تکبر بھی کراچی کے شہریوں کا صبر اب آخری حدوں کو چھو رہا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ حکمران تخت و تاج والی ذہنیت کو ترک کریں، زمین پر آئیں، عوام کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیں، ذمہ داری قبول کریں، اور اس شہر کو اس کے بنیادی حقوق فراہم کریں۔اگر ایسا نہ ہوا تو کراچی کی چیخیں صرف ایک بچے کی موت پر نہیں، نظام کے ہر زخم پر بلند ہوں گی اور تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی شہر چیخیں، تخت لرز جاتے ہیں۔

  • آنے والا کل ہماری امید، ہماری طاقت.تحریر: رخسانہ سحر

    آنے والا کل ہماری امید، ہماری طاقت.تحریر: رخسانہ سحر

    ہمیشہ یہی سوچ کر جِئیں کہ آج سے بہتر میرا آنے والا کل ہوگا۔
    یہ جملہ صرف ایک نصیحت نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا ایک مثبت انداز ہے۔ انسان کی سب سے بڑی طاقت اُس کا یقین ہے وہ یقین جو مشکل ترین حالات میں بھی اندر کی امید کو زندہ رکھتا ہے۔ جب ہم یہ طے کر لیتے ہیں کہ ہمارا کل آج سے بہتر ہوگا، تو دراصل ہم اپنی سوچ کو روشن سمت میں ڈال دیتے ہیں، اور یہی سوچ ہمیں آگے بڑھنے کی ہمت دیتی ہے۔

    زندگی کی دوڑ میں کبھی ہم تھک جاتے ہیں، کبھی حالات اتنے سخت ہو جاتے ہیں کہ لگتا ہے اب کچھ اچھا نہیں ہوگا۔ مگر یقین مانیے، دنیا کے ہر بڑے انسان کے پاس ایک ہی چیز مشترک تھی مثبت سوچ۔ اُنہوں نے حالات کو نہیں، اپنے اندر کے یقین کو اہمیت دی۔

    آج اگر آپ مشکل میں ہیں، ناکامی کا سامنا کر رہے ہیں، یا حالات آپ کی مرضی کے مطابق نہیں چل رہےتو ایک لمحے کے لیے رُکیں، سانس لیں، اور خود سے صرف اتنا کہہ دیں: “میرا آنے والا کل آج سے بہتر ہوگا۔”
    یہ جملہ آپ کے اندر ایک نئی توانائی بھر دے گا، آپ کے ارادے مضبوط کرے گا اور آپ کو بتائے گا کہ ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا۔خدا بھی اُس بندے کے ساتھ ہے جو ترقی کرنے کے عزم پر قائم رہے، چاہے حالات اُس کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔یقین رکھیں، ہر نیا سورج اپنے ساتھ نئی امیدیں لے کر طلوع ہوتا ہے۔ اگر آج کا دن سخت ہے تو کل کی صبح بہتر ہوگی اور اگر کل بہتر ہوا تو پرسوں بہترین ہو جائے گا۔اصل راز یہی ہے کہ سوچ کو مثبت رکھیں، نیت کو مضبوط کریں اور محنت جاری رکھیں۔ پھر دیکھئے گا وقت کیسے آپ کی زندگی میں خوشگوار تبدیلیاں لاتا ہے۔
    اس طرح آپ کا کل بہتر سے بہترین ہوتا جائے گا۔
    زندگی کی گہماگہمی میں ایک جملہ ہمیشہ دل کو تھامے رکھتا ہے:
    ’’ہمیشہ یہی سوچ کر جِئیں کہ آج سے بہتر میرا آنے والا کل ہوگا۔‘‘
    یہ جملہ بظاہر سادہ سا لگتا ہے مگر حقیقت میں یہ انسان کی پوری زندگی کا رخ بدل دینے کی طاقت رکھتا ہے۔
    دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے، کامیاب لوگ وہی تھے جنہوں نے حالات سے نہیں، اپنی امید سے سیکھا۔ وہ گر بھی گئے، ٹوٹے بھی، مگر ہر بار خود کو یہی تسلی دی کہ ’’اگلا لمحہ، اگلا دن، اگلا کل… آج سے بہتر ہوگا۔‘‘
    مایوسی آہستہ آہستہ انسان کے اندر کے چراغ بجھاتی ہے۔
    یہ قوتِ ارادی کم کرتی ہے اور مستقبل کا خوف بڑھاتی ہے۔
    لیکن امید اس کے بالکل برعکس ہے۔
    یہ ٹوٹی ہوئی ہمتوں کو جوڑتی ہے، سوچ کو روشن کرتی ہے، اور انسان کے اندر وہ روشنی پیدا کرتی ہے جو اندھیری راتوں میں بھی راستہ دکھا دیتی ہے۔
    کامیابی کا پہلا قدم مثبت سوچ ہے۔
    اگر آپ یہ طے کر لیں کہ ’’میرا آنے والا کل آج سے بہتر ہوگا‘‘ تو آپ کی ہر کوشش خودبخود اسی سمت میں چل پڑے گی۔
    سوچ جب روشن ہوتی ہے تو راستے خود بخود کھلنے لگتے ہیں۔
    اگر آج ناکامی ملی ہے تو کل کامیابی کا دروازہ کھل سکتا ہے۔
    اگر آج راستہ مشکل ہے تو کل کوئی نیا موقع مل سکتا ہے۔
    اگر آج کوئی آپ کو نہیں سمجھ رہا تو کل حالات بدل سکتے ہیں۔
    اصل بات حوصلہ رکھنے کی ہے۔
    خدا فرماتا ہے:
    "میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں۔”
    یعنی جو نیت لے کر انسان آگے بڑھتا ہے، خدا اُس کے ساتھ ویسی ہی مدد کرتا ہے۔
    اگر آپ یقین رکھیں کہ آپ کا مستقبل بہتر ہونے والا ہے تو اللہ آپ کے لیے وہی راستے ہموار کرتا ہے۔
    بس شرط یہ ہے کہ نیت صاف ہو، اور محنت سچی۔
    یہ کائنات ہمیں ایک سبق دیتی ہے:
    رات جتنی بھی لمبی ہو، آخر سورج ضرور طلوع ہوتا ہے۔
    اسی طرح زندگی کا ہر مشکل مرحلہ ایک نہ ایک دن ختم ہو جاتا ہے۔
    بس انسان کو ٹوٹ کر بیٹھ جانے کے بجائے خود کو سنبھالنا ہوتا ہے۔
    آج اگر حالات سخت ہیں تو کل نرم ہوں گے۔
    آج اگر تاریکیاں زیادہ ہیں تو کل روشنی ضرور آئے گی۔
    اور یہی یقین انسان کو زندہ رکھتا ہے۔
    آپ بس اپنا مقصد واضح کرنے، محنت کرنے اور مثبت سوچ رکھنے کا عزم کریں۔
    وقت وہی لوگوں کا ساتھ دیتا ہے جو خود کا ساتھ نہیں چھوڑتے۔
    یقین کیجیے
    اگر آپ آج یہ فیصلہ کر لیں کہ ’’میرا آنے والا کل بہتر ہوگا‘‘ تو واقعی آپ کا کل بہتر سے بہترین ہوتا جائے گا۔

  • افسانہ،جامہ جاہ  ،تحریر:پارس کیانی

    افسانہ،جامہ جاہ ،تحریر:پارس کیانی

    سائرہ آج یونیورسٹی جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی۔ آئینے کے سامنے کھڑے ہوئے وہ اپنے سادے کپڑوں کو دیکھ کر دبی آواز میں بولی،
    "کاش… کبھی میں بھی اچھی لگوں۔”
    اس کی آواز میں حسرت تھی، مگر وہ جانتی تھی کہ گھر کے حالات مہنگی خواہشوں کی اجازت نہیں دیتے۔

    دروازہ کھلا تو امی اندر آئیں۔ ہاتھ میں ایک بیگ تھا۔
    "یہ لو بیٹا… آج تم یہ پہن کر جاؤ۔”
    سائرہ نے حیرت سے پوچھا، "امی! یہ… یہ تو نیا ہے؟ اور کافی مہنگا بھی لگ رہا ہے۔ کہاں سے لیا؟”

    امی نے مصنوعی مسکراہٹ کی اوٹ میں اپنی تھکن چھپاتے ہوئے کہا، "بس لے لیا۔ کبھی کبھی بیٹیوں کے لیے دل چاہتا ہے کچھ کر دوں… تم پہنو گی تو اچھی لگو گی۔”
    سائرہ نے کپڑے ہاتھ میں لیے تو محسوس ہوا جیسے کپڑا نہیں، امی کی کئی قربانیاں اس کی ڈنت میں میں لگی ہیں۔
    “امی۔۔۔۔۔ ضرورت نہیں تھی۔”
    امی نے نرمی سے جواب دیا، “ضرورت کبھی کبھی دل کی بھی ہوتی ہے، صرف جسم کی نہیں۔ جاؤ بیٹا، پہنو۔”

    سائرہ نے وہ کپڑے پہنے تو پہلی بار اسے لگا کہ شاید وہ واقعی اچھی لگ سکتی ہے۔ مگر دل میں عجیب سا بوجھ تھا۔ جیسے اس لباس کی قیمت اس کی اپنی شخصیت سے کہیں زیادہ ہو۔
    یونیورسٹی پہنچی تو ماحول یکسر بدل گیا۔
    علی نے اسے دیکھتے ہی کہا،
    سائرہ! آج تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو!”
    نمرہ نے حیرت سے پوچھا، “یہ ڈریس کہاں سے لیا؟ بہت اسٹائلش ہے!”
    ایک اور لڑکی بولی، “یار، سائرہ! تمہاری کلاس” تو آج ہی بنی ہے!”

    سائرہ ان کی باتیں سنتی رہی، مگر تعریف کا ہر ہر تیر کی طرح دل میں چبھ رہا تھی۔
    اس نے دھیرے سے پوچھا، “میں اچھی لگ رہی ہوں… یا یہ کپڑے اچھے ہیں؟”

    نمرہ ہنس کر بولی، "ارے کپڑے تو انسان کو نکھار دیتے ہیں۔ آج تو تم پوری برانڈ لگ رہی ہو!”

    یہ لفظ” برانڈ” اس کے دل پہ بجلی بن کر گرا۔

    پورے دن وہ ہنستی رہی، باتیں کرتی رہی، مگر اندر اتھل پتھل جاری رہی۔
    اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے لوگ اسے نہیں، اس کے لباس کو دیکھ رہے ہوں۔
    اس کی ذات کہیں پیچھے،
    اور اس کا لباس اس کا تعارف بن گیا ۔۔۔۔۔لباس کی اہنی دیوار کے پیچھے سے وہ ایڑیاں اٹھا اٹھا کر جھانک رہی تھی کہ لوگوں کو بتا سکے "میں یہاں ہوں” لیکن وہ گونگی چیخیں کسی کو سنائی نہ دیں۔

    شام کو واپس گھر پہنچ کر وہ سیدھی اپنے کمرے میں گئی۔ کپڑے اتار کر تہہ کرتے ہوئے اس نے امی کو آواز دی، "امی، لوگ۔۔۔۔۔( الفاظ گلے میں اٹک گئے )

    آج سب بہت اچھے تھے۔ سب تعریفیں کر رہے تھے۔”

    امی خوش ہو کر بولیں، "میں نے کہا تھا نا؟

    اچھا لباس انسان کو اعتماد دیتا ہے۔”
    ( کبھی کبھی اندر کے عقلمند انسان کو مار کر ،بظاہر ایک بے وقوف انسان کو بھی جینے کا حق دینا چاہیے )۔سائرہ کی ماں خود کلامی کے انداز میں گویا ہوئی۔

    سائرہ نے کپڑے کو ہاتھ میں پکڑا، پھر امی سے نظریں چرا کر آہستہ سے پوچھا، "امی… اگر میں یہی تعریفیں اپنے پرانے کپڑوں میں سن لیتی… تو شاید مجھے یقین آ جاتا کہ یہ میری اپنی قیمت ہے۔ لیکن آج… یہ سب سن کر میں عجیب الجھن میں ہوں۔”

    امی کچھ لمحے خاموش رہیں۔ پھر بولیں، “لوگوں کی نظر بدلتے دیر نہیں لگتی۔”

    سائرہ نے تلخی سے کہا، “ہاں امی… پر مسئلہ یہ ہے کہ آج ان کی نظر میں میں نہیں تھی… یہ برانڈ تھا۔ یہ کپڑے تھے۔ یہ قیمت تھی۔”

    امی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، مگر سائرہ کی آنکھوں میں وہ تیز چمک تھی جو کسی گہری سمجھ بوجھ کے بعد پیدا ہوتی ہے۔

    رات گئے وہ تنہا بیٹھی رہی۔ کھڑکی سے باہر اندھیری گلی دیکھتی، اور اندر روشنی میں رکھے ہوئے ان کپڑوں کو۔
    اس نے دھیرے سے، جیسے خود کو سمجھاتے ہوئے کہا:

    “اگر میری عزت، میرا وقار، میری اہمیت… کسی کپڑے کی قیمت سے وابستہ ہو سکتی ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ اصل میں میری کوئی قیمت تھی ہی نہیں۔”

    اس کی آواز ٹوٹ رہی تھی، مگر الفاظ بہت صاف تھے:

    “لوگوں کی نظر میں میں وہی تھی… بس آج دس ہزار کے کپڑوں نے مجھے بدل دیا۔”

    وہ نیچے دیکھ کر کپڑوں پر ہاتھ پھیرنے لگی ۔۔۔
    کپڑے نرم تھے، مگر حقیقت بہت کڑی۔
    اور اس وقت سارا نے اپنے ہاتھوں سے جلدی جلدی اپنے پورے جسم کو ٹٹول ڈالا، ایستادہ پنڈلیاں،نرم سینہ، چمکتے ،لہکتے بازو ،
    مہندی لگے ہاتھ ، روشن ماتھا ،دہکتے گال ،شکایت أمادہ گلابی ہونٹ ،مغرور ستواں ناک ،شفاف گردن ایسی کہ اندر پانی جاتا بھی دکھائی دے ،اور کچھ نہیں تو قیمتی دل ،آرزوؤں سے بھرا ہوا دل ،محبتیں بانٹنے اور محبت پا لینے کے لیے بے تاب دل ۔۔۔۔۔۔وہ جسم کے روئیں روئیں کی قیمت بنا رہی تھی کہ شاید اس کے لباس سے زیادہ قیمت کے نکل آئیں

    کیونکہ اس کے اندر کوئی چیخ رہا تھا ۔۔۔۔۔ُ
    سائرہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔! ! ! ! !

    “تمہاری قیمت دس ہزار بھی نہیں تھی لوگوں کی نظر میں۔”۔ ۔ ۔ ۔ ۔

  • ابھرتی ہوئی شاعرہ  لیلی رب نواز کے اعزاز میں "شام پزیرائی” کا انعقاد،تحریر:  صائمہ اختر

    ابھرتی ہوئی شاعرہ لیلی رب نواز کے اعزاز میں "شام پزیرائی” کا انعقاد،تحریر: صائمہ اختر

    وہ خوبرو جو بچھڑنے کی بات کرنے لگا
    خزاں نے گھیر لیا خوش مزاج لڑکی کو
    تحریک دفاع قومی زبان و لباس شعبہ خواتین کی یہ روایت ہے کہ ہمیشہ نوجوان نسل، ان کے علم و فن / قابلیت اور جذبے کو سراہتی ہے۔ نئی ابھرتی ہوئی شاعرات اور لکھاریوں کے فکر و فن کو ادبی حلقوں سے روشناس کراتی ہے اور ان کے لیے ادب کی دنیا کی راہیں ہموار کرنا ہماری تحریک کا اولین مقصد ہے تاکہ ان کو وہ مقام و مرتبہ ملے جس کی وہ حق دار ہیں۔ اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے خوبصورت لب و لہجے کی مالک شاعرہ لیلی رب نواز کے اعزاز میں 3 نومبر 2025ء بروز بدھ ایک بزم "شام پذیرائی” کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت بانی و سرپرست عمارہ کنول نے کی۔ عمارہ کنول نے بزم میں شریک تمام سامعین کو خوش آمدید کہا ۔بزم کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت پرتاثیر آواز کی مالک حافظہ آصفہ ارشاد کو حاصل ہوئی۔ عائشہ راجپوت نے اپنے منفرد اور دلکش انداز میں حمدیہ اشعار پیش کیے۔ نظامت کے فرائض بھی محترمہ عائشہ راجپوت نے بڑی خوبصورتی اور احسن طریقے سے نبھائے۔ اس یادگار بزم میں محترمہ ام کسوہ، ندا عباس ( انگلستان)فہیمہ شیرازی ،عائشہ راجپوت ،نغمہ عزیز ،عنبرین فاطمہ ،عائشہ صدیق ،حمیرا انور،عائشہ فاطمہ ،فاطمہ اعجاز،عابدہ صابر، محترمہ تاشفہ،عائشہ سعد ،عائشہ یاسین اور راقمہ صائمہ اختر نے شرکت کی۔ محترمہ فہیمہ شیرازی ے بہت پیارے اور منفرد انداز میں میٹھی بولی سرائیکی میں اپنا کلام پیش کیا۔

    لیلی رب نواز کو دعوت سخن دیا گیا انہوں نے اپنا پسندیدہ خوبصورت کلام سنا کر سامعین سے خوب داد سمیٹی۔ عائشہ راجپوت ے لیلی رب نواز صاحبہ سے کچھ سوالات کیے شاعرہ نے بہت خوبصورت انداز میں تمام سوالات کے جوابات دئیے۔ انہوں نے بتایا ان کے پسندیدہ شاعر محسن نقوی ہیں۔ لیلی رب نواز نے اپنی شاعری کے موضوعات پر بات کی۔ محبت، احساس، قدرت کی خوبصورتی پیڑ، پہاڑ اور پھول ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔ انہوں نے زندگی کے تلخ حقائق کو بہت کم موضوع سخن بنایا ہے۔ شعری فن کی خوبصورتی، الفاظ کا انتخاب اور وزن و بحر کا استعمال ذہنی سکون اور خوشی کا سبب بنتا ہے لیلی رب نواز کی شاعری سن کر بالکل ایسا ہی لگا۔ انہوں نے اپنی شاعری میں داخلی کیفیات، احساسات اور درد کی شدت کو بڑی سچائی اور خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ ان کی شاعری میں جذبات و احساسات کی گونج سنائی دیتی ہے۔ اختتام میں عمارہ کنول نے تمام سامعین کا شکریہ ادا کیا یوں ایک خوبصورت اور یادگار محفل اختتام کو پہنچی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے تحریک دفاع قومی زبان و لباس اسی طرح ترقی کرتی رہے اور نو آموز لکھاریوں کے لیے ایسی محافل کا انعقاد کرتی رہے تاکہ ہم ادب اور اپنی زبان سے جڑے رہیں