Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • ریپ کا لباس سے تعلق ؟ تحریر: درخشاں رمضان

    ریپ کا لباس سے تعلق ؟ تحریر: درخشاں رمضان

    سوشل میڈیا پر لوگ ہر قسم کے تبصرے کرتے ہیں جن میں سے کچھ یہ کہہ رہے ہوتے کہ عورت کا لباس کا یا اکیلے نکلنے کا ریپ سے تعلق نہیں جب کہ دوسری طرف کچھ لوگ اس کو ریپ کی وجہ بتاتے ہیں

    تمام باتوں پر اگر بغور جائزہ لیا جائے تو معاشرے میں زیادتی کا تعلق عورت کے لباس سے ہو یا نہ ہو لیکن یہ intentional relation invitation ضرور ہے یہ راستہ ہم نے خود ہی چنا ہے ایک مثال سے سمجھاتی ہوں

    اگر آپ کے سر میں درد ہو اور ڈاکٹر آپ کو دوائی دے اور آپ ڈاکٹر کو کہیں کہ نہیں میں اپنی بیماری خود ڈھونڈ کر دوا استعمال کروں گاآپ ایسا کرلیتےہیں لیکن آرام آنے کی بجائے سر درد مزید بڑھ جاتا ہے تو اس میں آپ کس کو قصور وار ٹھہرائیں گے خود کو یا ڈاکٹر کو

    اسی طرح اللہ نے ہمیں قرآن دیا ایک بہترین نظام دیا ہمیں شرعی سزاوں کا بتایا اور کہا اسے فالو کرو نافذ کرو کامیاب رہو گئے لیکن کیا ہم نے وہ راستہ اپنایا؟ وہ نظام نافذ کیا؟
    فحاشی اور بے حیائی بڑھتی جارہی ہے عورتوں کو اپنی عزت کا احساس نہیں ماں باپ اولاد سے بے خبر ہیں وقت پر شادیاں نہیں کرتے یہ سب کہیں نہ کہیں وجہ ہے زیادتی کی

    آپؐ نے کتنی قربانیاں دیں کتنےصحابہ کرام شہید ہوئے انہوں نے نظام قائم کیالیکن ہم کیا اس نظام قائم کر پائے ہم اپنے ہاتھوں سے معاشرے کو جہنم بنا رہے ہیں

    ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں مجرم گرفتار ہوجائیں تو کچھ دن بعد باہر ہوتے ہیں قانون عدالتی نظام کمزور ہونے کی وجہ سے مجرم میں خوف ختم ہوگیا ہے طاقتور مافیا پشت پناہی کرتا ہے اور یہی مافیا اللہ کا نظام قائم کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اسلامی سزاوں کے نفاظ کی مخالفت یورپ کی خوشنودی ہے

    آپ ایک منٹ کے زرا سوچیں زناکار زمین میں آدھا دھنسا ہوا اور ہر طرف سے پتھر ہی پتھر برس رہے ہوں کوئی پتھر سر پر لگے اور کوئی آنکھ پر یہ سوچ کر ہی ہمیں خوف آنے لگتا
    تو اگر یہ سزا نافذ کر دی جائے اور ایک بار کسی کو دے دی جائے سرعام تو کیا لوگوں کی روح نہیں کانپیں گی کسی بھی لڑکی کا ریپ تو کیا آنکھیں اٹھانے سے بھی اجتناب کریں گے یہ واحد حل ہے لڑکیوں کے تحفظ کا جو کہ ریاست دے سکتی ہے اس کے علاوہ حجاب کو لڑکی کے لیے لازمی قرار دیا جائے نکاح کو آسان بنایا جائے فحاشی سے بھرپور ڈراموں اور فلموں پر پابندی لگا دی جائے

    والدین اپنے بچوں کی جسمانی تربیت کے ساتھ ذہنی تربیت کریں تو ہی اس سے نجات پائی جاسکتی ہےجب تک ہم شریعت پر عمل نہیں کریں گے شریعت کے مطابق سزائیں نافذ نہیں کریں گے اللہ کا نظام نہیں لائیں گے ہم زلیل ہوتے رہیں گے

    اللہ پاک سب کی عزتوں کی حفاظت فرمائے

    آمین

    ‎@DarakhshanR786

  • باب دوستی تک پہنچنے والے طالبان. تحریر : نادر علی ڈنگراچ

    باب دوستی تک پہنچنے والے طالبان. تحریر : نادر علی ڈنگراچ

    امریکہ جس طرح افغانستان سے اپنا بوریا بستر گول کر کرتا جا رہا ہے اس طرح افغانستان طالبان کے قبضے میں تیزی سے آرہا ہے. خطے کے تمام ممالک اس پیش رفت سے پریشان ہیں. طالبان مختلف ممالک سے لگنے والی سرحدی علاقوں پر قبضہ اور اپنا اثر و رسوخ بڑھاتے جا رہے ہیں. ایران سے لگنے والی سرحد کاروباری راستے ” اسلام قلعہ ” ترکمانستان سے لگنے والی سرحدی علاقے پر کنٹرول کے بعد پاک-افغان سرحد پر کاروباری راستے ” باب دوستی ” پر بھی قبضہ کرلیا ہے اور آنے جانے کا وہ اہم راستہ بند ہوگیا ہے. بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی انتظامیہ پاکستان سرحدی شہر چمن کے ساتھ لگنے والے افغان علاقے ویش منڈی پر طالبان کی موجودگی کی آگاہی دے دی گئی ہے اور پاکستان کے اس پار افغان علاقے میں طالبان کے جھنڈے نظر آرہے ہیں…

    افغانستان سے امریکہ کے بھاگ جانے کے فیصلے اور اس پر عمل کرنے کے بعد غیریقینی کی دھند نے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے. افغانستان کے بڑے بڑے علاقوں پر طالبان کی گرفت مضبوط ہوتی جا رہی ہے. کابل انتظامیہ آہستہ آہستہ کمزور ہوتی جا رہی ہے. افغان طالبان نے مذاکرات میں عالمی طاقتوں کو انسانی حقوق, اور خطے کے دوسرے ممالک میں مداخلت نہ کرنے سمیت جتنی خاطریاں کروائی تھیں وہ بہتی ہوئی نظر آرہی ہے. افغان سرکاری فوج کے جوان جان بچا کر بھاگ گئے. کئی افغانستان سکیورٹی فورسز کے جوانوں نے ترکمانستان میں پناہ لے لی ہے. اور جو ہتھیار ڈال رہے ہیں انکو جنگی قیدیوں کی حیثیت دے کر عالمی اصولوں اور معاہدوں پر عمل کرنے کی بجائے ان کو مارا جا رہا ہے. طالبان کی اس وقت جنگ افغان سرکاری فورسز کے ساتھ چل رہی ہے تاکہ پورے ملک پر کنٹرول حاصل کیا جائے. پر دوسرا مرحلہ ان قوّتوں سے ٹکراؤ کا ہے جو افغانستان میں اختیار اور اقتدار کے خواہشمند ہیں مطلب کہ وہ ” وار لارڈز ” بھی لڑنے کی تیاری میں ہیں جنہوں نے 90ع میں مخالفین کی گردنیں کٹوا کر ان سے فٹبال کھیلے یاں کٹی گردنوں میں سوراخ کر کے ان میں موم بتیاں جلا کر جیت کا جشن منایا. اس ساری صورتحال کا جس ملک پر زیادہ اثر پڑے گا وہ ملک پاکستان ہے. ویسے بھی افغانی پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے رہے ہیں اور پاکستان بھی افغان پناہگیروں کی 40 سال سے زائد عرصے سے مہمان نوازی کا رکارڈ قائم کر چکا ہے ان کی اس ملک میں آبادکاری کی سرکاری سطح پر بالواسطہ یا بلاواسطہ صحولتکاری ہوتی رہی ہے. صورتحال زیادہ خراب ہوئی تو نہ صرف پاکستان پر افغان پناہگیروں کا وزن بڑھے گا بلکہ پاکستان پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ افغانی پناہگیروں کے شکل میں دہشتگرد بھی آ سکتے ہیں جو ایک حقیقت ہے. پاکستان حکمران یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ طالبان کو پاور ملنے سے پاکستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان مضبوط ہوگی. زبانی باتیں ہو رہی ہیں ان خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے مگر عملی طور پر دیکھا جائے تو غیر سنجیدگی ہی نظر آرہی ہے. پاکستان میں دہشتگردوں کی سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں جس کا ایک ثبوت دو دن پہلے صوبے خیبر پختون خواہ کے ضلع کرم میں دہشتگردوں سے مقابلہ ہے جس میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے جوان شہید ہوئے ہیں. ہمارے حکمرانوں نے اگر سنجیدگی سے کام نہ کیا تو عالمی قوتیں جن کے اس خطے میں مفاد ہیں اور دہشتگرد اس ملک کو میدان جنگ بنا سکتے ہیں. اس وقت ہی پاکستان کے تفریحی مقامات مری اور دوسری کئی جگہوں پر طالبان کے حق میں نعرے اور ان کے حق میں سرگرمیاں رپورٹ کی گئی ہیں.

    پاکستان خطے میں ہونے والی تبدیلیوں, افغانستان میں ہونے والی نئی پیش رفت اور عالمی طاقتوں کی مفادات کی جنگ سے لاتعلق نہیں رہ سکتا. ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ساری صورتحال کو عقابی نظر سے دیکھا جائے اور ساتھ ساتھ ایسے اقدامات نہ اٹھائے جائیں جو پاکستان اس ساری تبدیلی اور ٹکراؤ کا تختۂ مشق بن جائے. افغانی پناہگیروں کا وزن اٹھانے کا مقصد ہوگا کہ اس ملک میں نئی جنگ اور خطرے کو اس ملک میں راستہ دینا. اس لئے پرامن افغانستان پاکستان سمیت پورے خطے کے حق میں بہتر ہے اس لئے افغانستان معاملے کی سیاسی حل کی کوششیں کرنی چاہئیں

  • ‏عدل و انصاف کا حصول ناگزیر .تحریر۔: زمان خان

    ‏عدل و انصاف کا حصول ناگزیر .تحریر۔: زمان خان

    کیا آپ جانتے ہیں
    جو ترازو عدالت کے باہر لٹک رہی ہوتی ہے وہ انصاف کی قیمت اپنے اپنے وزن کے مطابق طے کرنے کے لیئے ہوتی ہے۔
    عوام تو بھولی بادشاہ، عدل کے وہ پلڑے سمجھ بیٹھی جو انصاف دیا کرتے ہیں۔
    بھلا کیا یہ ممکن ہے کہ جھوٹ بیچنے، کمانے اور کھانے والے کرپٹ ترین وکلاء جن پر سیاستدانوں کی نظر کرم نے جج کا تمغہ عطا کیا ہو وہ نیک اور صالح لوگ عوام کو انصاف دے سکیں؟
    جو جتنا بڑا چور، غنڈہ اتنا ہی اثرو رسوخ والا وکیل!
    جس کے نام سے جج کی بھی ٹانگیں کانپتی ہوں!
    یہ کہاں ہوتا ہے؟
    جی ہاں یہ سب ملک خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہوتا ہے
    آخر یہ سب کب تک چلے گا؟ کب تک ہمارے ملک کی اعلی عدلیہ کا وقار اسی طرح مجروح کرتے رہیں گے؟
    کیوں انصاف کرنے والا بلا خوف و خطر فیصلہ سنانے کی ہمت نہیں رکھتا؟
    کیوں ایک غریب پھانسی کے پھندے تک آسانی سے پہنچ جاتا ہے اور ایک سیاسی گدھ کے تمام گناہ یا تو معاف کر دیئے جاتے ہیں یاتو سیاسی مصلحتوں کا شکار کر دیئے جاتے ہیں۔
    کیوں سیاسی مقدموں کا فیصلہ نہیں ہوتا؟

    اگر ہو بھی تو لولا لنگڑا
    آخر کیوں
    ایان علی کیس رزلٹ صفر
    ارسلان افتخار کیس رزلٹ صفر
    ڈاکٹر عاصم کیس رزلٹ صفر
    سستی روٹی کرپشن کیس رزلٹ صفر
    احد چیمہ صرف ریمانڈ رزلٹ صفر
    بینظیر ایئر پورٹ کرپشن کیس رزلٹ صفر
    رئیسانی حرام کمائی گھر سے برآمد رزلٹ صفر
    شرجیل میمن کرپشن کیس رزلٹ صفر
    صاف پانی کرپشن کیس رزلٹ صفر
    ماڈل ٹاون کیس رزلٹ صف
    شہد کی بوتل کیس رزلٹ صفر
    مجید MPA اہلکار قتل کیس رزلٹ صفر
    بلدیہ ٹاون کیس رزلٹ صفر
    سانحہ ساہیوال کیس رزلٹ صفر
    شاہ رخ جتوئی کیس رزلٹ صفر
    پرویز رشید غداری کیس رزلٹ صفر
    راجہ رینٹل کیس رزلٹ صفر
    حسین حقانی کیس رزلٹ صفر
    فائز عیسی کیس رزلٹ صفر

    کیا کبھی نیک اور دیندار لوگ جو آخرت اور یوم حساب کا خوف رکھتے ہوں انصاف کی کرسی پر بیٹیں گے؟
    کیا کبھی قرآن و سنت کے مطابق نظام عدل قائم کیا جاسکے گا؟
    کیا انگریز کا دیے ہوئے نظام عدل میں اسلامی اقدار اور قرآن و سنت کے مطابق ترامیم کر کے عملاً رائج کیا جا سکے گا؟
    کیا نظام عدل کے بنیادی اصول جو کہ اصل میں ایک اسلامی معاشرے کی بنیاد ہیں۔۔۔ ایمانداری، نیک نامی، دیانتداری، امانتداری نہیں ہونے چاہئیے؟

    کیا ہمارا معاشرہ ان تمام بنیادی اسلامی اقدار اور رہنما اصولوں سے بہت دور نہیں نکل آیا؟

    کیا یہ تمام خوبیاں ہمیں اپنے نظام میں کہیں نظر آتی ہیں؟
    تو پھر کیوں نا ملک بھر کے غیر سیاسی اور نیک نامی علماء کرام کی زیر نگرانی چلنے والے مدارس سے تعلیم حاصل کرنے والے قابل نوجوانوں کو قانون کے شبعہ میں لایا جائے؟
    دین جن کے سینوں میں ہو گا
    جنہیں کم از کم خوف خدا تو ہو گا
    جنہیں سچ اور جھوٹ کی تمیز تو گی
    جنہیں ناانصافی کرنے اور جھوٹ کا ساتھ دینے پر اللہ کا خوف تو آئے گا
    جنہیں رشوت کے عوض انصاف بیچنے پر عذاب الہی تو یاد ہوگا اور خوف خدا سے انکے ہاتھ تو کانپیں گے

    کیونکہ عدل و انصاف ہی وہ پیمانہ ہے جس کی بدولت انسانیت زندہ ہے
    اگر معاشرہ عدل وانصاف سے عاری ہو تو وہ معاشرہ ظلم و جبر کی آماجگاہ تو ضرور بن سکتا ہے مگر صالح معاشرہ نہیں بن سکتا۔
    عدل و انصاف کا جذبہ ہی وہ جذبہ ہے جو انسان کو بلندی کی طرف لے جاتا ہے
    یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اخلاقی و معاشرتی احکام کے ساتھ عدل و انصاف کو بیان فرمایا ہے
    ارشاد باری تعالی ہے
    ” اللہ تمہیں عدل و احسان کا حکم دیتا ہے”

    تحریر۔: زمان خان
    ‎@Zaman_Lalaa

  • ‏حکومت بوکھلاہٹ کا شکار .تحریر :فاطمہ بلوچ

    ‏حکومت بوکھلاہٹ کا شکار .تحریر :فاطمہ بلوچ

    سیاسی مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان جو چند سالوں میں میں بڑی جماعت ابھری اس کے بانی حضور امیرالمجاہدین امام خادم حسین رضوی نے 2017 میں اس اس پارٹی کو بنایا جو دیکھتے دیکھتے عروج پر چلی گئی اور آج پاکستان کی بڑی طاقت بن چکی ہے تحریک لبیک پاکستان جہاں اسلام کی ترجمانی کرتی ہے لوگوں کو دین اسلام کی دعوت دیتی ہے وہی مختلف مواقع پر جب ناموس رسالت ﷺ ختم نبوت ﷺ پر حملے ہوئے اپنے گھروں سے نکلے ن لیگ کے دور میں تحریک لبیک ناموس رسالت ﷺ پر پہرا دیتی رہی لیکن جو ظلم ن لیگ کے دور میں قائدین تحریک لبیک اور کارکنان پر ہوا اس سے کئی گناہ زیادہ ظلم پی ٹی آئی حکومت میں ہو جو ریاست مدینہ کا نعرہ لگاتی ہیں فرانس کے سرکاری سطح پر رسول اللّٰہ ﷺ کی گستاخی ہے یہ کوئی نارمل بات نہیں سرکاری سطح پر گستاخی ہو اور حکومت پاکستان خاموشی تماشائی بنی رہے یہ بہت بڑی بات ہے یہاں معلوم ہوتا ہے حکومت نے انگریزوں کی غلامی قبول کی ہوئی یے بہرحال تحریک لبیک نے حکومت سے مطالبہ کیا فرانس کا سفیر نکالا جائے لیکن حکومت ٹال مٹول سے کام لیتی رہی تحریک لبیک نے مارچ کا اعلان کیا تو حکومت نے کچھ دیر پہلے تحریک لبیک کے امیر علامہ سعد حسین رضوی صاحب کو گرفتار کرلیا ملکی کریک ڈاؤن شروع ہوگیا

    پاکستان کے مختلف شہروں میں لبیک والوں نے دھرنے دیئے حکومت نے سر توڑ کوشش کی مظالم کے پہاڑ توڑے گئے عشقان رسول ﷺ پر بہرحال جب حکومت کامیاب نہ ہوئی معاہدہ کرلیا گیا جس کو بعد میں توڑ دیا گیا یعنی وعدہ خلافی حکومت کیونکہ تحریک لبیک سے خوف زدہ ہوچکی تھی کہی ان کی حکومت نہ چلی جائے یا فرانس ناراض ہوگیا تو انکی غلامی کو خطرہ ہوگا اسی وجہ سے حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی لگادی جو کہ ابھی مکمل لگی نہیں کیونکہ یہ حکومت نے اپنے تحت کیا جو کہ ایک سیاسی جماعت کا دوسری سیاسی جماعت کو کلعدم کردینا کہی درست نہیں یہ صرف تخت کا کمال ہے کیونکہ وہ حکومت میں جو ہے پاور تو استعمال کریں گی لیکن طاقتیں ساری اللّٰہ کی ہیں پاکستان کی ایک بڑی مقبول ترین جماعت جس کے کروڑوں کارکنان ہیں اس پر پابندی کیسے لگ سکتی ہے ؟؟ جس قانون کے تحت حکومت نے پابندی لگائی وہ تو یہ کہتا ہے اگر کوئی گروہ ریاست پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھائے بغاوت کریں فوج سے لڑے بم دھماکے کرے اسکو کلعدم کیا جاسکتا یے

    اب بات یہ ہے تحریک لبیک کے پاس تو ایک پٹاخہ برآمد نہیں ہوا نہ یہ کسی ایسی ایکٹویٹی میں پائی گئی یہ تو واحد جماعت ہے جو الیکشن کمیشن سے کلئیر ہے جن کی حکومت ہے وہ خود الیکشن کمیشن سے کلئیر نہیں دوسری جماعتیں اپنے مخالف حکومت کے دور میں مظاہرے کرتی رہی ہیں جیسے پی ٹی آئی کا 126 دھرنا سول نافرمانی ہے ٹی وی پر حملہ ایسے سب جماعتیں ملکی املاک کو نقصان پہنچا چکی ہیں لیکن انکو آج کلعدم نہیں کیا گیا ؟؟؟ اصل میں تحریک لبیک حکومت کیلئے خطرہ بن چکی ہے کیونکہ حکومت بے نقاب ہورہی ہے روزانہ حکومت کی اسلام مخالف پالیساں واضع ہورہی ہیں اب بات حکومت نے ایک بڑی جماعت کو کلعدم کردیا لیکن یہ ایک لمبا پروسس ہے الیکشن کمیشن سپریم کورٹ میں باقاعدہ اسکا ہونا باقی ہے ایسے کسی جماعت پر پابندی نہیں لگ سکتی یہ تو حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اس وجہ سے اندھا دھندہ دیوار سے ٹکرے مار رہی ہیں بہرحال یہ پاکستانی قوم کیلئے لحمہ فکریہ ہے یہ حکومت اتنی بڑی جماعت کو پابندیاں لگا سکتی ہے تو یہ ملک کو کچھ بھی نقصان دہ سکتی ہیں

  • ففتھ جنریشن وار کے سپاہی . تحریر:عقیل احمد راجپوت

    ففتھ جنریشن وار کے سپاہی . تحریر:عقیل احمد راجپوت

    وطن سے محبت ہر پاکستانی کے دل میں ہے وطن کی خاطر جان مال نچھاور کرنے والوں کی ایک طویل داستان ہے جس پر لکھنا شروع کیا جائے تو الفاظ ختم ہو جائے گے حب الوطنی نہیں خیر میرا موضوع آج کچھ ہٹ کر ہے وطن سے محبت میں کچھ لوگ وردی میں ملبوس ہوکر اس کے دفاع کے لئے اپنی جان جوکھم میں ڈال کر اس کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں دن رات کوشاں رہتے ہیں کچھ سرحدوں پر کچھ وطن کے اندر کچھ نظر نہیں آکر مختلف انداز میں ملک سے محبت اور اس کا دفاع کیا جاتا ہے مگر کچھ سالوں سے ایک نیا طریقہ جسے ہم سوشل میڈیا جنریشن وار کے طور پر جانتے ہیں شروع ہوا جس کے بارے میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد نا واقف تھی اس وار کے مرکزی لیڈ ہیرو کو میں جناب آصف غفور کے طور پر جانتا ہوں جنہوں نے پاکستان کے سوشل میڈیا پر صرف یہاں وہاں کے ٹائم پاس کرنے والے ایکٹیوسٹوں کو ایک نظریہ اور لائن کھینچ کر دی کے کس طرح دشمن سوشل میڈیا کے زریعے ہمارے ذہنوں کو ملک کے خلاف استعمال کرکے اپنے ملک اور اداروں کے خلاف کرنا چاہتے ہیں

    آصف غفور صاحب کی کھینچی گئی وہ لائن جس سے لاکھوں پاکستانی سوشل میڈیا جنریشن وار کے سپاہی کے طور پر سامنے آئے اور ملک کی خاطر جھوٹا پروپیگینڈا کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دینے کا سلسلہ جو آصف غفور صاحب نے شروع کیا تھا وہ مستقل جاری وساری ہے نوجوان نسل سوشل میڈیا جنریشن وار کو بہتر انداز میں لڑ رہا ہے ملک دشمنوں کو ہمیشہ ہزیمت اٹھانی پڑتی ہے نوجوانوں نسل آصف غفور صاحب کی شکر گزار ہیں کے جن کی بدولت آج ملک کے دفاع میں وہ گھر بیٹھ کر کالجوں دفتروں سے بھی ملک کی خدمت کا موقع حاصل کررہی ہے اور ملک کے دشمنوں کی کسی بھی چال کو کسی بھی صورت کامیاب نہیں بننے دیگی پاکستان کا بچہ بچہ پاکستان ذندہ باد کے نعروں کو اپنے آخری خون کے قطرے تک لگاتار لگاتا رہے گا افواج پاکستان کی قربانیوں کو ملک کے کونے کونے تک پھیلانے کا سبب بھی بنے گا انشاء اللہ

  • ہمارا معاشرہ .تحریر:فرح  خان

    ہمارا معاشرہ .تحریر:فرح خان

    ہمارا ملک بہت سے مسائل میں گھرا ہوا ہے جن میں ناقص نظام تعلیم، بیروزگاری اور غربت جیسے مسائل سر فہرست ہیں۔ تعلیم وہ واحد مسئلہ ہے جس کے زریعے ہم معاشرے میں پیدا ہونے والے بگاڑ کو درست کرسکتے ہیں۔

    اگر ہم نے اپنے معاشرے کو درست سمت میں لانا ہے تو ہمیں نظام تعلیم کو بہتر کرنا ہوگا غربت اور بیروزگاری پر قابو پانا ہوگا کیونکہ غربت اور بیروزگاری ایسے مسائل ہیں جن سے مزید بگاڑ پیدا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔

    بیروزگاری کی وجہ سے بہت سے نوجوان منشیات کی فروخت، چوری اور ڈکیتی جیسے گھناؤنے جرائم میں ملوث ہوجاتے ہیں جس سے معاشرہ خراب ہوتا ہے۔

    اگر آپ اپنے اردگرد کے ماحول کا جائزہ لینے کے لیے گھر سے باہر نکلیں تو اندازہ ہوتا ہے ہماری نوجوان نسل کتنے گندے گندے الفاظ اپنی گفتگو میں استعمال کرتی ہے جسے سن کر شرم آتی ہے لیکن وہ لوگ ایسے لفظ کہتے ہوئے زرا بھی نہیں شرماتے جیسے انہوں نے کچھ کہا ہی نہ ہو لیکن جانے انجانے میں وہ لوگ اپنے گناہوں کی گٹھری کو بھاری کر رہے ہوتے ہیں۔

    منشیات کا استعمال نوجوان نسل میں ایک معمول بن گیا ہے چرس اور شراب ہر جگہ فروخت ہورہی ہوتی ہے لیکن اس منشیات مافیا کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہیں کی جاتی یہ مافیا ہماری جوانوں کی رگوں میں زہر گھول رہی ہے جس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے۔ نشے کے عادی لوگوں کو جب اپنا مطلوبہ نشہ چاہیے ہوتا ہے اور انکے پاس منشیات خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے تو وہ لوگ چوری ڈکیتی کرنے لگتے ہیں یا اپنے گھروں سے سامان چوری کرکے باہر بیچ کر اپنے لیے منشیات خریدتے ہیں۔

    والدین اپنی اولاد کے سب سے بڑے زمہ دار ہیں اپنے بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت کریں تاکہ وہ معاشرے میں اچھے فرد کی طرح جانے جائیں تاکہ وہ اپنے ساتھ اپنے ملک کا نام روشن کر سکیں کیونکہ نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں انہیں ضائع نہ ہونے دیں۔

  • دیامر میں خواتین کی تعلیمی پسماندگی کی وجوہات ۔تحریر: روشن دین دیامری

    دیامر میں خواتین کی تعلیمی پسماندگی کی وجوہات ۔تحریر: روشن دین دیامری

    کہتے ہیں اگرایک مرد پڑھا لکھا ہوتو ایک فرد پڑھا لکھا مانا جاتا لیکن جب ایک عورت پڑھی لکھی ہوتو ایک معاشرہ پڑھا لکھا بنا دیتے ہے ۔گلگت بلتستان کے ضلع دیامیر میں خواتین کے تعلیم پہ ایک عرصہ تک پابندی لگائی گی تھی جب کوئی سکول بنایا جاتا تو شر پسند عناصر اس کو بارود سے اڑادیتےتھے اکثر بیشتر والدین اپنے بچوں کو تعلیم دینا پسند ہی نہیں کرتے تھے اس کے وجہ یا تو مجبوری تھی حالت سے تنگ اکے یا قبائلی ذہنیت تھی۔ ہمارا ہاں اکثر جن کو پڑھایا جاتا تھا بھی تو ساتویں یا اٹھاوی پاس کرلیتے تو شادی کروادی جاتی تھی۔یہ صورتحال چند علاقوں کے علاوہ اج بھی جاری و ساری ہے۔ دیامر کے شہر چلاس میں تو خواتین کو تعلیمی سہولیات ہیں اس کے علاوہ دیامر کی تقریبا دو تحصیلوں داریل تانگیر اور تحصیل چلاس کے سات نالہ جات میں اج بھی وہی پرانا رواج جاری ہے۔

    خواتین کو تعلیم دینے سے مراد ان کے ہاں بے دینی پھیلانے کی لی جاتی ہے ۔اکثر رشتہ دار جب کسی ایسی گھر ائیں جہاں کوئی بچی سکول جاتی ہوتو انہیں نصیحت کی جاتی ہے اس کو مذید نا پڑھائیں ۔اس کی شادی کی عمر ہوگی شادی کروا دیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ میرے پاس ایسے سیکڑوں واقعات ہیں جن کو لکھنے بیٹھ جاو تو بیسوں کالم لکھے جا سکتے ہیں۔(ایک واقع ابھی کے دو ہزار اکیس کا بتاتا چلو میں گاوں سے اسلام اباد ارہا تھا تو میرے اگلی سیٹ پہ ایک ہمارے جاننے والی اپنے بچی کے ساتھ سفر کر رہے تھے ۔چونکہ ان علاقوں میں خواتین کے تعلیم نہی تو میں نے سلام دعا کے بعد پوچھا پوچھا انکل سس (بہن) بیمار ہے کیا ۔ہمارے لوگ خواتین کو شہروں میں صرف انتہائی بیماری کی صورت میں لے کر اتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا نہی بیٹھا یہ مدرسہ پڑھتی یے۔ اس کو مدرسہ چھوڑنے ایا ہوں خیر ہمارے گاوں سے اسلام اباد کا سفر تقریبا تیرا چودہ گھنٹوں کا ہے تو میرے ان سے باتیں چلتی رہی مجھے جب بھی کوئی ملتا ہے تو میں خواتین کے تعلیم کی ترغیب دیتا ہوں ۔خیر ہم لوگ اسلام انے تک شاہد اس نے مجھے سمجھ گیا ہوگا انہوں نے کہاکسی کو بتانا نہیں یہ کالج میں پڑھتی ہے اس کو پڑھنے کا شوق ہے اس نے مجھ سے واعدہ کیا اگر یہ ایف ایس سی کے بعد ڈاکٹر نہ بن سکی تو اگے پڑھنے کی ضد نہی کرے گی اس کے خواہش کے لے میں نے یہ بہانہ بنایا ہے ۔)

    اس لے میں کوشش کرونگا اس کو مختصر کر کے لکھوں۔ اس ساری صورت حال میں ریاست کا بھی بڑھا رول رہا ریاست نے ان علاقوں کو جان بجھ کے ان پڑھ رکھا اور ان کو شعور نہیں دیا گیا ۔ایک طرف گلگت بلتستان کا لٹریسی ریٹ پاکستان میں سب سے ذیادہ اور دوسرے طرف ایک ضلع ایسا جہاں خواتین کی تعلیم با مشکل چھے فیصد ہے ۔تعلیم کا فقدان کی وجہ سے ان علاقوں میں قتل غارت عام رہا ہے لوگوں میں دشمنی اس قدر بڑھ گی تھی کے مجھے یاد جب ہم سکول میں تھے تو ہم اس بات بہث کرتے تھے کس کس خاندان میں دشمنیاں نہیں ہیں تو ہمیں کوئی ایسی فیملی نہیں ملتی جو دشمن داری سے خالی ہوتی ۔ہمارے ہاں اسلحہ کا اس قدر رواج تھا کے ہم بندوقیں گن گن کے ایک دوسرے کو نیچے دیکھاتے تھے۔ باوجود اس کے کبھی حکومت کے طرف سے کوئی پالیسی واضع نہیں رہی ۔ہمارے ان علاقوں سے افغانستان کشمیر میں بیسیوں جوان شہید ہوگے ہیں۔ اور گذشتہ دو دہائی سے کچھ پالیسیاں بدل گے جسے مشرف کے دور میں ان علاقوں کے طرف توجہ دی گی کچھ کالج سکول بنائے گئے۔
    جاری ہے۔

  • ناراض بلوچ رہنمائوں سے مذاکرات، بلوچستان میں قیام امن کے لئے اہم پیشرفت .تحریر: خدیجہ رفیع

    ناراض بلوچ رہنمائوں سے مذاکرات، بلوچستان میں قیام امن کے لئے اہم پیشرفت .تحریر: خدیجہ رفیع

    وزیراعظم عمران خان نے حالیہ دورہ بلوچستان میں واضح اعلان کیا کہ ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں لانے کے لئے مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے گا اس سلسلے میں وزیر اعظم عمران خان نے جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ شاہ زین بگٹی کو معاون خصوصی مقرر کر دیا ہے۔اور وہ وزیراعظم کے بلوچستان کے لئے مفاہمت و ہم آہنگی کے امور پر معاون خصوصی مقرر کئے گئے ہیں۔
    جبکہ دوسری طرف وفاقی حکومت کی طرف سے سید ظہور احمد آغا کو بلوچستان کا گورنر مقرر کیا گیا ہے، نئے گورنر آغا ظہور نے بھی ناراض بلوچ رہنمائوں سے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ناراض بلوچوں کو مذاکرات کا حصہ بننا چاہئے۔ شاہ زین بگٹی کی اہم عہدے پر تعیناتی وزیر اعظم عمران خان کے ناراض بلوچ رہنمائوں سے مذاکرات کے بیان کے بعد ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے جس کے مطابق حکومتی اتحادی جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ شاہ زین بگٹی وفاقی کابینہ کا حصہ بنے ہیں۔ شاہ زین بگٹی ناراض بلوچوں سے رابطہ کریں گے۔ شاہ زین بگٹی کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر ہوگا۔ دو روزقبل وزیراعظم عمران خان نے کوئٹہ میں طلبا اور بلوچ عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ناراض بلوچوں کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں غورو خوض کر رہے ہیں۔ ناراض ہونے والوں کو شاید دوسرے رنج ہوں اور وہ دوسرے ملکوں کے لئے استعمال بھی ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں بلوچستان کی طرف وہ توجہ نہیں دی گئی جو بلوچستان کے مسائل اور محرومیوں کے ازالہ کی متقاضی تھی۔ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ انمول اور قیمتی معدنیات کے ساتھ بلوچستان میں سونے تک کی کانیں ہیں۔ بلوچستان سے نکلنے والی گیس دیگر صوبوں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ پٹرول کے ذخائر بھی زیر زمین موجود ہیں اور پھر وفاق کی طرف سے بھی ہر دور میں بلوچستان کی ترقی کے لئے وسیع القلبی کا مظاہرہ دیکھا گیاہے مگر بلوچستان پسماندگی، غربت، مسائل اور مشکلات سے نہ نکل سکا۔ ماضی میں آغاز حقوق بلوچستان پیکج دیا گیا۔ پر امن مفاہمتی پالیسی کا اجرا ہوا۔ پاک فوج کی طرف کیڈٹ کالجز اور تعلیم و روزگار کے منصوبے شروع کئے گئے۔ بلوچستان کے لئے جس قدر بڑے بڑے مالی پیکجز سامنے آئے ان پر ان کی روح کے مطابق عمل ہو جاتا تو بلوچستان کی محرومیاں اور پسماندگی مکمل نہیں تو کافی حد تک ختم ہو جاتی۔ سارے پیکجز اور مراعات صوبے کے منتخب عوامی نمائندوں ، وڈیروں اور افسر شاہی کے توسط سے دی گئی تھیں۔ آج آمدن سے زائد اثاثوں میں لوگ ملوث و ماخوذ پائے جا رہے ہیں تو سمجھ آتی ہے کہ بلوچستان کا حق کس نے مارا۔

    کسی صوبے کے لوگ جتنی بھی مشکلات و مصائب سے دو چار کیوں نہ ہوں اس کا مطلب ہتھیار اٹھا کر ریاست کو چیلنج کرنا نہیں ہے۔ بلوچستان میں محرومیوں کے نام پر علیحدگی پسند گروپ وجود میں آئے۔ ان کے پاس بھاری اسلحہ و بارود بھی ہے، ناموں سے بھی ان کے کردار اور عزائم کی بو آتی ہے۔ بلوچستان لبریشن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ، بلوچ ری پبلکن آرمی ۔ ان گروپوں کی قیادت ملک سے باہر پاکستان دشمن قوتوں کے وسائل پر پل رہی ہے۔ محرومی و پسماندگی کا شکوہ کرنیوالا ہر بلوچ ہتھیار بند نہیں ہے لیکن مذکورہ تنظیموں کے شدت پسندوں کے بہکاوے میں آنے والے کچھ لوگ ضرور ہو سکتے ہیں۔ ان کے ساتھ بات چیت میں تاخیر اور دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے والوں کی معافی نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے لئے اسی صورت گنجائش نکل سکتی ہے کہ وہ پاکستان واپس آئیں اور اپنے گناہوں کا اعتراف کریں ماضی میں بھی دہشت گرد اور کالعدم گروپوں کے لئے کام کرنے والوں کو معافی دی گئی تھی۔ سینکڑوں افراد سرنڈر کر کے قومی دھارے میں آئے۔ایک دور میں وزیراعلی بلوچستان عبدالمالک بلوچ نے جلاوطن رہنمائوں سے مذاکرات کے لئے بیرون ملک دورے بھی کئے تھے۔ پاکستان کو مطلوب علیحدگی و شدت پسندوں کے سرغنہ بھارت ، اسرائیل اور یورپ میں بیٹھے ہوئے ہیں ان سب کو ایک بار وسیع تر مفاہمت کے جذبے کے تحت قومی دھارے میں آنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ اس مقصد کے لئے شاہ زین بگٹی بہترین انتخاب ہیں۔

    بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کے لئے بگٹی خاندان کا مجموعی طور پر اہم کردار رہا ہے۔ شاہ زین بگٹی اور ان کے والد طلال بگٹی نے ہمیشہ ہم آہنگی اور یگانگت کی بات کی۔ لاپتہ افراد کی بازیابی اور بلوچستان کی محرومیوں پر شاہ زین کھل کر بات کرتے رہے ہیں مگر کبھی ہتھیار اٹھانے کی بات کی نہ ایسے لوگوں کے پلڑے میں وزن ڈالا۔ بلوچ ہونے کے ناطے ان کے بڑے قبائل کے ساتھ مراسم کا ہونا قدرتی بات ہے۔ وزیراعظم کی طرف سے ان کو جو مشن سونپا گیا ہے وہ اپنے تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے اس میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔

    آج کل علاقائی حالات بھی موافق ہیں۔ امریکہ افغانستان سے انخلا کر رہا ہے اور بھارت دم دبا کر افغانستان سے بھاگ رہا ہے۔ پاکستان میں دہشتگردی کے لئے افغانستان میں موجود نیٹ ورک کمزور پڑ گیا ہے۔ بھارت کو پاکستان میں دہشتگردی کے لئے دیگر ذرائع کی تلاش ہو گی۔ اس وقت تک پاکستان کو امن کی بحالی کے تمام تر ممکنہ اقدامات اٹھانے کی ہر ممکن کوشش کرنا ہو گی۔ افغانستان سے باڑ کی تنصیب سے دہشتگردی کے داخلے راستے مسدود ہو چکے ہیں۔ بلوچستان میں بھارت کے لئے کام کونیوالوں کو قومی دھارے میں لانا آسان ہے جو بھارت کی نمک خواری پر بضد رہیں۔ ان کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ اب جبکہ ان کی کمک منقطع ہو چکی ہیں مزید آسان ہے۔

  • وزیراعظم عمران خان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ،تحریر:عامر بیگ

    وزیراعظم عمران خان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ،تحریر:عامر بیگ

    ایک وقت تھا جب پاکستانی حکمرانوں کو امریکی صدر ائیرپورٹ پر استقبال کے لیے آتے تھے۔ جی بالکل ، صدر پاکستان ایوب خان کو امریکی صدر ایئرپورٹ پر ویلکم کرنے آئے تھے۔ پاکستان ساٹھ کی دہائی میں تیزی سے ترقی کررہا تھا۔
    مگر پھر ریاست میں کچھ ایسے واقعات ہوئے۔ جس سے ملک دو لخت ہو گیا۔
    اور بات ضیاء الحق کے مارشل لا تک آن پہنچی۔ اس وقت سوویت یونین افغانستان تک پہنچ چکا تھا۔ اور امریکہ بہادر کو اسے روکنا تھا۔ لہذا حسب ضرورت پاکستان کی یاد آ گئی۔ قصہ مختصر پاکستان کی مدد سے افغانستان میں سوویت یونین کو توڑ دیا گیا۔ اور امریکہ بہادر نے پاکستان کو چھوڑ کر ہاتھ جھاڑتے ہوئے واپس اپنے ملک چلا گیا۔ اس کے بعد ہمیں کرپٹ اور نااہل حکمران ملے۔ جن کی دن رات کرپشن اور نااہلی کے میدان میں کی گئی محنت کیوجہ سے پاکستان ستر سال پیچھے چلا گیا۔ یہ کرپٹ حکمران آپس میں گٹھ جوڑ کر کے ملک لوٹتے رہے۔ اور عوام کو چند دکھاوے کے منصوبے دکھا کر بے وقوف بھی بناتے رہے۔ دو سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگاتی تھیں۔ مگر شام کو سب نام نہاد ملکی مفاد میں چپ ہو جاتی تھی۔ ایسے ہی چلتا رہا۔ پھر اکیسویں صدی کا آغاز تھا۔ اور موبائل انٹرنیٹ عام ہونا شروع ہوا۔ تو عمران خان نے سیاست میں آنے سے پہلے ہی پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقبول تھا۔ برطانوی شاہی خاندان کے ساتھ دوستی کیوجہ سے فلاحی کاموں میں کافی مقبولیت مل چکی تھی۔ اور عمران خان کی دیانتداری اور ایمانداری کے چرچے پاکستان کے ساتھ ساتھ یورپ تک پہنچ گئے۔ جس کیوجہ سے نوازشریف نے عمران خان کی مقبولیت دیکھتے ہوئے اپنی جماعت جوائن کرنے کی آفر بھی کردی۔ جس کی ویڈیو یوٹیوب پر بھی موجود ہے۔

    ایسے میں الیکشن دو ہزار اٹھارہ آ گیا۔ اور عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی قومی اسمبلی میں پہلے نمبر پر آئی۔ اور عمران خان وزارت عظمیٰ کے منصب پر بیٹھ گئے۔ اب حالات یہ تھے کہ وزیراعظم عمران خان کو جب ملکی خزانوں کا بتایا گیا تو ہوشربا انکشافات سامنے آگئے۔ ملکی خزانہ خالی ہے۔ گردشی قرضے کا انبار سر پر ہے۔ اور ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ کی تلوار پاکستان کے سر پر لٹک رہی تھی۔ ایسے کڑے وقت میں اقتدار پھولوں کی سیج کی بجائے گرم گرم آلو کی مانند لگنے لگا۔ مگر عمران خان ہمیشہ سے ایک بات کرتے ہیں ۔ سے اللہ تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔ سب سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کے دوران کو ہمت اور استقامت کا دامن پکڑنے کی تلقین کرتے ہوئی ساری صورتحال بتادی۔ پھر وزیراعظم عمران خان نے اخراجات کم سے کم کرنے کا آغاز اپنی ذات سے کیا۔ اور وزیراعظم ہاؤس کا خرچے میں کروڑوں روپے کا کٹ لگا کر خاتم النبیین جناب رسول محترم کی سنت پر عمل کیا۔

    اس کے بعد دوست ممالک پاکستان کی مدد کو آئے۔ اور پاکستان کی تاریخ میں کافی دیر کے بعد حکومت اور فوج ایک پیج پر آگئے۔ پاکستانی قوم کے ہمت اور حوصلے اور وزیر اعظم عمران خان کی محنت شاقہ کی بدولت پاکستان کی معیشت رفتہ رفتہ ٹریک پر آگئی۔ اب تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی مقبولیت یہ ہے کہ دنیا کے کافی حکمران وزیراعظم عمران خان کی دیانتداری سے متاثر ہوتے نظر آرہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کو نہ صرف ملک اور خطے میں بلکہ اب عالمی لیڈر کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ دورہ ازبکستان کے موقع پر بین الاقوامی لیڈرز کے فوٹو سیشن میں مرکزی اور نمایاں جگہ وزیراعظم عمران خان کو ملتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے ماحول دوست اقدامات کو پوری دنیا میں مقبولیت مل رہی ہے۔ کرونا عالمی وبا کے دوران وزیراعظم عمران خان کی اپیل پر ترقی پزیر ممالک کا قرضہ تک فریز کردیا جاتا ہے۔ روسی صدر کے دورہ پاکستان کی خبریں آج کل زیر گردش ہیں۔ امید ہے اسی سال روسی صدر پاکستان تشریف لائیں گے۔ اسکے بعد چینی صدر کی آمد کا بھی روشن امکان موجود ہے۔ پاکستان کو خطے میں اہم پوزیشن حاصل ہوچکی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان سے پوری دنیا کے لیڈرز روابط بنانے کی کوششیں کررہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نہ صرف پاکستان کی معیشت کو بہتر کررہے ہیں۔ بلکہ یورپ پر جناب خاتم النبیین رسول محترم کی عزت و احترام بھی باور کروا رہے ہیں۔ کئی ممالک کو یہ بات بتادی ہے۔ کہ پیارے نبی کی توہین کر کے آپ مسلمانوں کی سب سے محبوب چیز پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔ جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی کشمیر پر جارحانہ پالیسی انڈیا کو بیک فٹ پر لے آئی ہے۔ انڈیا اب کشمیر سے آرٹیکل 370 ختم کرنے کی کوششوں میں مگن ہے۔
    وزیراعظم عمران خان نے کمال مہارت سے خارجہ ، داخلہ ، سیاحت اور دیگر میدانوں میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کی آدھی آبادی صوبہ پنجاب ، صوبہ خیبرپختونخوا کے تمام شہریوں کو سو فیصد صحت کارڈ اس سال کے آخر تک مل جائیں گے۔ جس کی وجہ سے ساڑھے سات لاکھ روپے تک سالانہ ہیلتھ انشورنس ملنے سے عوام کو بھرپور فائیدہ ملے گا۔ زراعت کے شعبے میں زبردست کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ بہت عرصے بعد گندم ، چاول ، مکئی اور گنے کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کو مہنگائی کا چیلنج ابھی بھی درپیش ہے۔ مگر جس چیز کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مافیا مل کر چیزیں مہنگی کر کے حکومتی کوششوں کو ناکام کرنے میں مصروف ہوجاتا ہے۔ مگر آہستہ آہستہ چیزیں درست ٹریک پر آ رہی ہیں۔ دس سال کے بعد پہلی دفعہ کرنٹ اکاونٹ سرپلس میں آ چکا ہے۔ سی پیک فیز ٹو برق رفتاری حاصل کر چکا ہے۔ کم و بیش تیس سال کے بعد بڑے ڈیمز وزیراعظم عمران خان کی ذاتی محنت اور توجہ سے ہی بن رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے 2018-2028 کو ڈیمز کی دہائی قرار دیا ہے۔ ڈیمز بننے کے بعد پاکستان میں سستی اور وافر بجلی مہیا ہوگی۔ اس کے علاوہ بھی بہت سارے اقدامات وزیراعظم عمران خان کی حکومت کررہی ہے۔ جس کے لیے پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ مگر فی الوقت اتنا ہی کافی ہے۔ اس کے بعد مزید باتیں آپ کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔

  • میری گپ میری مرضی اور سوشل میڈیا: تحریر عینی سحر

    میری گپ میری مرضی اور سوشل میڈیا: تحریر عینی سحر

    آجکل کے اس سوشل میڈیا کے دورمیں تقریبا” ہر کوئی سرگرم ہوئے بنا نہیں رہ سکتا _ نئے دور کے نئے تقاضے،ہم بھی اٹھتے بیٹھتے سوشل میڈیا پر جھانک کر دیکھ لیتے ہیں کے کیا ہورہا ہے _ یونہی ٹہلتے ہوۓ ایک ایسی گردش کرتی ٹویٹ نظر آئ جسمیں کسی صاحب نے ایک خوبصورت بچے کی تصویر پوسٹ کرتے ہوۓ لکھا کے انکے ہاں اللہ نے بیٹا دیا ہے کوئی اچھا سا نام تجویز کریں _ اب اس بچے کی معصومیت اور اس صاحب کی خوش قسمتی پر ہر کوئی خوشی سے بیتاب ری ٹویٹ کیساتھ پوسٹ کو پسند کررہا تھا یہی نہیں ٹویٹ کے نیچے بھی مبارکباد کے کمنٹس کیساتھ کچھ فراخ دل لوگوں نے مٹھائی کی تصویر بھی پوسٹ کرکے اس موصوف کی خوشی کو دوبالا کرنے میں کسر نہ چھوڑی _ ایسے میں میرا دل بھی اس بچے کو دیکھ کر پگھلا تو جھٹ سے لائیک دے کر مبارک باد دے دی _ ٹویٹ تھی کے تھمتی نہ تھی اور ٹویٹر پر خوب گردش کئے جارہی تھی

    لیکن جب ٹویٹر پر مزید چکر لگاۓ تو کرشمہ دیکھنے کو ملا کے وہی بچہ انہی کپڑوں میں تین چار اور لوگوں کے گھر بھی پیدا ہوا ہے اور وہ بھی اسی رفتار سے بیٹا ہونے کا اعلان کرکے مبارکبادیں اور لائیک ری ٹویٹ سمیٹ رہے ہیں _
    بات یہی رکتی تو صبر آجاتا لیکن فیس بک پر جھانکا تو اس بچے کو مزید چند لوگوں کی پوسٹ میں پیدا ہوکر مشہور ہوتے دیکھا اسکو اپنا بیٹا کہہ کر لایکس کمنٹس وہ لے رہے تھے جنہوں نے خود ابھی دسویں کلاس میں امتحان دینا تھا _ یہ ہی تو سوشل میڈیا کا لطف ہے
    یہاں ایک سے بڑھ کر ایک گپ مل سکتی ہے

    ابھی اس جھٹکے سے سنبھلے نہ تھے کے کسی دوشیزہ کی غمناک پوسٹ نے ٹویٹری آبادی کو پریشانی میں مبتلا کر رکھا تھا کے محترمہ نے اپنے ہاتھ کی فوٹو شئر کی جس پر ڈرپ لگی تھی کے وہ بیمار ہیں اور دعا کریں _ وللہ ٹویٹری شہزادے اسطرح پریشانی سے مرے جارہے تھے جیسے اسے کچھ ہوا تو وہ مر جائیں گے _ ایک سے بڑھ کر ایک بازو لمبی کرکرے دعا دے رہا تھا _ کچھ نے تو آگے بڑھ کر کمانڈ سنبھال لی اور اضافی ٹویٹ کرکرکے اعلان کرنے لگے کے فلاں کی طبیعت خراب ہے دعا کریں _ یہ وہ ہمدرد نونہال ہیں جنکی اپنی اماں جان بیمار ہوں تو انہیں پرواہ نہ ہو لیکن کسی متوقع حسینہ کیلئے یوں فرمانبردار بن کر دعائیں دیتے اور آسمان سے تارے توڑ لانے کے دعوے کرتے ہیں جیسے ان سے بڑا ہمدرد کوئی نہ ہو _ آخر کو یہ سوشل میڈیا کے ہیرو ہیں

    اب چونکے بقر عید کی آمد آمد ہے لہٰذا ایک دوشیزہ نے بکرے کیساتھ اپنی آدھی تصویر پوسٹ کرکے پوچھا بکرا کیسا ہے ؟بکرے کے نام پر سب اس دوشیزہ کی آدھی تصویر پر مرے جارہے تھے اور واہ واہ کرتے نہ تھکتے تھے ایسے میں ایک صاحب نے جھنجھلاتے ہوۓ کمنٹ کرکے پوچھا یہی بکرا اور یہ تصویر گزشتہ دو سال سے سوشل میڈیا پر کئی پوسٹوں میں گھمائ جارہی ہے آخر لوگ باز کیوں نہیں آتے ؟

    ایک صاحب نے فادر ڈے پر پوسٹ کرتے ہوۓ لکھا شکریہ ڈیڈی آپ نے مجھے سب کچھ دیا گھر میں پیسے کی چہل پہل بیرون ملک کی سیریں بنگلے ، بینک پلنس اور گھر میں دو تین گاڑیاں ہر وقت کھڑی رہتیں _ اصل میں اس پوسٹ میں شاعر کی مراد یہ تھی کے وہ تگڑی اسامی ہے اگر کوئی حسینہ متاثر ہوکر اس پر نظر کرم کر دے تو مہربانی ہوگی

    اللہ اللہ سوشل میڈیا پر جو لطیفےاور کامیڈی دیکھنے کو ملتی ہے اسکا بدل ڈراموں میں بھی نہیں _
    اس کامیڈی میں سیاستدان بھی حصہ ڈالتے ہیں جیسا کے نون لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے والد کی فوٹو لندن سے اٹھا کر کشمیر کے پل پر لگا کر خوب شغل لگایا

    یہ اسی سوشل میڈیا کا کمال ہے یہاں ایک سے بڑھ کر ایک گپ پڑھنے کو ملے گی کیوں نہ ہو یہاں اکثر جوروش دیکھنے کو ملتی ہے وہ یہی ہے میری گپ میری مرضی