Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • پاکستانیت۔۔۔۔۔۔تحریر:محمد ثقلین

    پاکستانیت۔۔۔۔۔۔تحریر:محمد ثقلین

    پاکستان سے محبت،اس کی زبان و ثقافت اوراقدار کو اپنانا،اور اس کی تعمیرو ترقی میں عملی طور پر اپنا کردار ادا کرنا پاکستانیت ھے پاکستان ہمارا وطن ہے
    وطن ایک گھر کی مانند ہوتا ہے جس میں ہر شخص اپنے گھر اپنے خاندان اپنے دوست و احباب کے ساتھ خوشی سے زندگی گزارتا ہے ایک انسان کے لیے اس کے وطن کی اہمیت ماں باپ ،بھائی بہن سے بڑھ کر ہوتی ہے جس کا نظارہ سرحدوں پران جاں بازجوانوں کی شکل پرکیا جاسکتا ہے جو ملک کی حفاظت وصیانت کے لیے اپنے گھر بار کی پرواہ کیے بغیر پوری مستعدی کے ساتھ رات ودن ایک کیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں ہمارے شہیدوں نے ہمیں ایک ہی درس دیا ہے کہ اپنے گھر اپنی اولاد اپنی دولت سے بڑھ کر اس ملک کی حفاظت کرنی ہے اپنے کلچر کو فروغ دینا ہے اپنی زبان کو فروغ دینا ہے آج تک پاکستان میں انگلش کلچر کو فروغ دیا گیا یہاں پر انگلش لباس کو اہمیت دی گئی جس شخص کو انگریزی بولنا آتی ہے وہی پڑھا لکھا ہے اس بات کو فروغ دیا گیا ہماری زبان ہمارے لباس کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی یہاں تک ہمارے وزراء اعظم بھی انگلش لباس پہنا کرتے ہیں اپنی ساری تقاریر انگریزی میں کرتے ہیں اگر ہمیں اپنا سافٹ امیج بہتر بنانا ہے تو ہمیں پاکستانیت کو فروغ دینا ہو گا اپنی ثقافت اپنے کلچر اپنی روایات کو فروغ دینا ہو گا

    وزیر اعظم عمران خان صاحب جو کہ رہے بھی انگلش ممالک میں لیکن انہوں نے پاکستانی وزیر اعظم بننے کے بعد پاکستانی کلچر کو فروغ دیا پاکستانی لباس کو فروغ دیا اگر وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب کے باہر کے سارے دورے دیکھے جائے تو ہمیں ہمارا قومی لباس دیکھائی دے گا وزیراعظم کا قومی لباس اور زبان اردو میں تقاریر کرنا خوش آئند ھے۔مگر پاکستانیت کے فروغ کے لئے محض اتنا کافی نہیں ھے ہمارے سلیبس میں اردو کو فروغ دینا ہو گا ہمارے تعلیمی نظام میں انگلش تاریخ دانوں کی جگہ اسلامی تاریخ دانوں کی تاریخ ڈالنی ہو گی ہمیں ہماری قوم کے بچے بچے کو اپنی تاریخ سے آگاہ کرنا ہو گا بدقسمتی کا یہ عالم ہے کہ ہمارے ملک میں بچہ بچہ
    ” Jafri chosr ”
    کو جانتا ہے لیکن مولوی عبد الحق اور سرسید احمد خان کو نہیں جانتے کیونکہ ہماری رگوں میں انگلش کلچر کو بھر دیا گیا ہے کہا جاتا ہے جو قوم اپنی تاریخ کو بھول جائیں وہ قوم زوال کا شکار ہو جاتی ہے ہمارے ٹی وی ڈراموں کو بدل دیا گیا ہمارے فنکاروں نے قوم کو ہمارے کلچر سے ہٹا کر فحاشی پر لگا دیا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جہاں صبح کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہونا چاہیے تھا وہاں صبح ڈانس موسیقی شوز دیکھائیں جا رہے ہیں ہماری اداکارہ کے لباس انتہائی نازیبا ہوتے ہیں جو ہمارے معاشرے پر اثرات چھوڑتے ہیں ہمارے کالجوں ہماری یونیورسٹیوں میں انگلش بولنے پر زور دیا جا رہا ہے ہمیں انگریزی کلچر کا عادی بنایا جا رہا ہے ہمیں ہماری زبان کو سرکاری زبان کے طور پر استعمال کرنا ہو گا عدالت عظمی کے فیصلوں کی رو سے اردو کو قومی کے ساتھ دفتری زبان کے طور پر رائج کرنا ھوگا۔علاقائی زبانوں کو بھی ترقی اور فروغ دینا ھو گا۔دفاتر اور عدالتوں کی دستاویز عام آدمی کے لئے ھوتی ہیں مگر انگریزی زبان میں۔جس سے اس کا دور سے بھی واسطہ نہیں۔کیا ملکی نظام عام آدمی کے لئے نہیں ھوتا؟انگریزی علمی ترقی کے لئے بلا شبہ ضروری ھے ۔مگر مخصوص اشرافیہ نے اسی کے سہارے بیوروکریسی اور اہم اداروں پر قبضہ کر رکھا ھےاور ایک طبقاتی تضاد سو سائٹی میں بڑھتا جا رھا ھے۔اس کا سد باب بھی بہت ضروری ھے۔قومی زبان بولنے سے زیادہ حقیقی معنوں میں اداروں میں رائج کرنے سے پاکستانیت فروغ پائے گی۔

  • قربانی کی فضیلت و اہمیت.تحریر  چوہدری عطا محمد

    قربانی کی فضیلت و اہمیت.تحریر چوہدری عطا محمد

    تاریخ ِاور مذاہب کے مطالعے سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسانی تاریخ جتنی قدیم ہے، قربانی کی تاریخ بھی تقریباً اتنی ہی قدیم ہے،

    ہم جو ہر عیدقرباں پر جانوروں کی قربانی کرتے ہیں، یہ حضرت ابراہیم و اسمٰعیل علیہما السلام کی قربانی کی یاد گار ہے۔ اسی قربانی کی یادگار میں اہلِ ایمان ہر سال جانوروں کے قربانی کرتے ہیں

    قربانی کی فضیلت و اہمیت

    حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا کہ رسول اکر م ﷺ نے مدینہ منورہ میں دس سال قیام فرمایا اور ہر سال پابندی سے قربانی فرماتے تھے۔(مشکوٰۃ)

    حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے
    حضور اقدسﷺ نے فرمایا: بقرعید کے دن قربانی کا خون بہانے سے بڑھ کر کوئی عمل اللہ کے نزدیک محبوب نہیں ہے اور بلاشبہ قربانی کرنے ولا قیامت کے دن اپنی قربانی کے سینگوں، بالوں اور کھروں کو لے کر آئے گا (یعنی یہ حقیر اشیاء بھی اپنے وزن اور تعداد کے اعتبار سے ثواب میں اضافہ ور اضافہ کا سبب بنیں گی اور (یہ بھی) فرمایا کہ بلاشبہ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک درجہ قبولیت حاصل کرلیتا ہے ،لہٰذا خوب خوش دلی سے قربانی کرو۔ (مشکوٰۃ)

    حضرت زیدبن ارقمؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سے صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسولﷺ یہ قربانیاں کیا ہیں؟آپﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ تمہارے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، صحابہؓ نے عرض کیا، ہمارے لیے اس میں کیا ثواب اور اجر ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔ صحابہؓ نے عرض کیا، اگر اون والا جانور ہو (یعنی دنبہ ہو جس کے بال بہت ہوتے ہیں) اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: اس کے بھی ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔ (مشکوٰۃ)مذکورہ احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا

    عیدالاضحی کے دن قربانی کرنا، اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین عمل ہے، پس جو عمل محبوب حقیقی کو محبوب ہو، اسے کس قدر محبت اور اہتمام سے کرنا چاہیے، اس دن قربانی کرنا ہمیں اللہ سے کتنا قریب لے جائے گا اور ہم پر سے کتنی مصیبتیں ٹل جائیں گی، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے،
    اگر حالات حاضرہ کا زکر کیا جاۓ یعنی موجودہ دور کی بات کی جاۓ تو اس کے بالکل بر خلاف کہنے والے یہ کہہ رہے ہیں کہ ! قربانی کیا ہے یہ قربانی (معاذ اللہ) خوا مخواہ رکھ دی گی ہے، لاکھوں روپیہ جانوروں کے خون بہانے کی شکل میں لگا دیا جاتا ہے اور بڑے بڑے جانور اونٹ بیل اور بچھڑے گھر کے دروازے کے باہر نمائش کے لئے باندھ دئیے جاتے ہیں یہ عمل معاشی اعتبار سے نقصان دہ ہے، جانوروں کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے لہٰذا قربانی کرنے کے بجائے یہ کرنا چاہیے کہ جو لوگ غربت کے ہاتھوں بھوک اور افلاس کی زندگی بسر کر رہے ہیں ہیں، قربانی کے گوشت تقسیم کرنےکے بجائے وہ روپیہ پیسہ غریب کو دیا جائے، تاکہ اس کی ضروریات پوری ہوجائیں۔ یہ پروپیگنڈا اتنی کثرت اور اس۔ طرح کی مثالیں دے کر کیا جاتا ہے کہہ کچھ لوگ اس پر سوچنے اور عمل کرنے کے لئے بھی تیار ہوجاتے ہیں اب عید قربان کے نزدیک لوگ علماء حضرات سے پوچھتے نظر آتے ہیں کہ اگر ہم قربانی نہ کریں اور وہ رقم غریبوں میں تقسیم کردیں تو اس میں کیا حرج ہے؟یہ خودساختہ فلسفہ قرآن و سنت اور اسلامی تعلیمات کے صریح خلاف ہے۔اسلامی شریعت کے مطابق جیسا کہہ اوپر حدیث مبارکہ کا بھی زکر کیا ہے کہہ قربانی کے تین دنوں میں قربانی سے بڑھ کر اللہ کے نزدیک کوئی عمل محبوب اور پسندیدہ نہیں۔

    قربانی سے ہمیں کیا درس ملتا ہے

    قربانی ہمیں صبر وتحمل، برداشت اور ایثار کا سبق دیتی ہے، ہمیں ایک دوسرے سے محبتوں کو بڑھانا چاہیے اور صبرو استقامت کے جذبے کو عام کرنا چاہیے۔ اور اپنے ہمسایوں عزیزو اقارب اور آس پاس رئنے والوں کو اپنی خوشیوں میں شامل کرنے اور ان کے حقوق کا خیال رکھنے کا درس دیتی ہے ۔

    جو لوگ بھی صاحب استطاعت ہیں وہ اس کا خیال کریں کہ گائے اور اونٹ میں سات حصے جبکہ بکرا، دنبہ وغیرہ ایک حصہ ہے۔

    قربانی کے گوشت کے تین حصے کیے جائیں، ایک اپنا، ایک رشتہ داروں کا اور تیسرا غرباء اور مساکین میں تقسیم کردیں۔اور اس بات کا خوب خیال رکھا جاۓ کہہ زیادہ سے زیادہ گوشت ان گھروں تک پہنچے جن کے گھر سارا سال بہت کم گوشت پکتا ہے یا جو لوگ اپنی غربت اور مفلسی کے ہاتھوں گوشت جیسی نعمت سے اکثر اوقات محروم رئیتے ہیں۔
    قربانی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہہ سال کے ایک دن نہیں ہر روز ہمیں اپنی کمائی میں سے اپنی حیثیت کے مطابق کسی مستحق کی کسی نہ کسی ضرورت کو پورا کو پورا کرتے رہنا چائیے۔

    اللہ تعالیٰ ہم سب کو قربانی کے عمل سے سنت طریقہ سے گزرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

    تحریر چوہدری عطا محمد

    @ChAttaMuhNatt

  • قربانی کے احکام و مسائل.تحریر: قاری محمد صدیق الازھری

    قربانی کے احکام و مسائل.تحریر: قاری محمد صدیق الازھری

    الحمد لله رب العالمين والصلاه والسلام على اشرف المرسلين وخاتم النبيين ورحمه الله للعالمين سيدنا محمد وعلى اله وصحبه اجمعين . اما بعد : فان الله تبارك وتعالى امر عباده بعبادته وحده لا شريك له قال الله في كتابه : اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ(۱)فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ(۲)اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠(۳)

    اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کی سورة الفجر آیت نمبر ۲ میں ذی الحجہ کی دس راتوں کی قسم کھائی ہے (وَالْفَجْرِ وَلَیَالٍ عَشْرٍ) جس سے معلوم ہوا کہ ماہ ذی الحجہ کا ابتدائی عشرہ اسلام میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔ حج کا اہم رکن: وقوفِ عرفہ اسی عشرہ میں ادا کیا جاتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے خاص فضل وکرم کو حاصل کرنے کا دن ہے۔ غرض رمضان کے بعد ان ایام میں اخروی کامیابی حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے۔ لہٰذا ان میں زیادہ سے زیادہ اللہ کی عبادت کریں، اللہ کا ذکر کریں، روزہ رکھیں، قربانی کریں۔ اس ماہ مقدس کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی دن ایسا نہیں ہے جس میں نیک عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہو۔ (صحیح بخاری ) اس ماہ مقدس میں مسلمان حج بیت الله ادا کرنے کے ساتھ ساتھ قربانی جیسے عظیم فریضے سے بھی فیضیاب ہوتے ہیں جس کے متعلق الله تعالٰی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: وَلِکِلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسِکًا لِیَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَی مَا رَزَقَہُمْ مِنْ بَہِیْمَةِ الْاَنْعَامِ (سورة الحج ۳۴) ہم نے ہر امت کے لیے قربانی مقرر کی؛ تاکہ وہ چوپایوں کے مخصوص جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے۔ ایک اور آیت میں اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا کہ ” قربانى ابراہیم عليہ السلام اور محمد ﷺ دونوں كى سنت ہے اور اللہ تعالىٰ نے قرآن ميں ان دونوں انبيا كى سنت اپنانے اور اتباع كرنے كى تلقين فرمائى ہے-(آلِ عمران:31) "۔ قربانی کا ثواب بہت بڑا ہے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’ قربانی کے دنوں میں قربانی سے زیادہ کوئی چیز اﷲ تعالیٰ کو پسند نہیں، ان دنوں میں یہ نیک کام سب نیکیوں سے بڑھ کر ہے اور قربانی کرتے وقت خون کا جو قطرہ زمین پر گرتا ہے تو زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی اﷲ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوجاتا ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ)

    آپ ﷺ کا فرمان ہے: ’’ قربانی کے جانور کے بدن پر جتنے بال ہوتے ہیں ، ہر ہر بال کے بدلے ایک ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔‘‘

    آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ قربانی تمہارے باپ ( ابراہیمؑ) کی سنت ہے۔ صحابیؓ نے پوچھا: ہمارے لیے اس میں کیا ثواب ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ ایک بال کے عوض ایک نیکی ہے۔ ‘‘ اُون کے متعلق فرمایا: ’’ اس کے ایک بال کے عوض بھی ایک نیکی ہے۔‘‘

    شریعت كے وہ چند مسائل جو ہمارى توجہ كسى نہ كسى تاريخى واقعہ كى طرف مبذول كرواتے ہيں ان ميں سے ايک قربانى بھى ہے- ايسے مسائل سے مقصود محض انہيں مقررہ وقت پر كر لينا ہى كافى نہيں ہے بلكہ ان تاريخى واقعات پر گہرى نگاہ ڈالتے ہوئے اس جذبہ عبادت اور قربانى كى ناقابل فراموش حقيقت كو سمجھ كر اپنانے كى كوشش كرنا بھى ضرورى ہے جس كے باعث يہ مسائل ہمارى اسلامى روايات ميں اہم حيثيت اختيار كر گئے ہیں۔ جيسا كہ حاجيوں كے ليے صفا مروہ كى سعى كرنا محض ايک دوڑ نہيں ہے بلكہ يہ اس تاريخى واقعہ كى غماز ہے جس ميں ايک طرف ننھا سا بچہ شدتِ پياس كے باعث زمين پر ايڑياں مارتا نظر آتا ہے اور دوسرى طرف حضرت ہاجِرَ عليها السلام پانى كى تلاش ميں صفا مروہ كى پہاڑيوں كے چكر لگاتى نظر آتى ہيں كہ جنہيں ابراہیم عليہ السلام اللہ تعالىٰ كے حكم پر اپنى تمام تر محبتيں قربان كر كے مكہ كى بے آب وگياہ زمين ميں تنہا چھوڑ گئے تھے۔ قربانى كا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ عيد ِقربان كے دن جانور ذبح كرنا، كچھ گوشت تقسيم كر دينا،كچھ كھا لينا اور پھر خود كو شريعت كے ہر حكم سے آزاد تصور كرنا اور قربانى كے مقصد يا غرض وغايت پر سنجيدگى سے غوروفكر نہ كرنا، كسى طور كافى نہيں ہے بلكہ يہ بھى ضرورى ہے كہ جانور قربان كرنے كے ساتھ ساتھ ابراہیم علیہ السلام كى مثالى اطاعت وفرمانبردارى اور اثر آفريں عقیدت واِردات كو بهى پيش نظر ركها جائے كہ جس كى وجہ سے انہوں نے اللہ تعالى كے حكم پر اپنا كم سن خوبصورت بيٹا بھى قربان كرنے سے دريغ نہ كيا-

    اگرچہ چھرى ذبح نہ كرسكى اور پھر حكم الٰہى كے مطابق مينڈها ذبح كر ديا گيا ليكن وہ اللہ تعالى سے كيسى محبت ہوگى اور اللہ تعالى كے ليے ہر چيز قربان كر دينے كا كيسا جذبہ ہوگا كہ جس كى بدولت وہ اس مشكل ترين عمل سے بھى پیچھے نہ ہٹے، پهر اللہ تعالى نے بهى اس محبت واطاعت كا صلہ يوں ديا كہ اس عمل كو تمام مسلمانوں كے ليے مسنون قرار دے كر قيامت تک كے ليے ابراہیم علیہ السلام كى سنت كو جارى وسارى كر ديا۔ ہم سے بھى اسلام صرف جانوروں كى قربانى نہيں چاہتا بلكہ اس جذبہ اطاعت اور خشيت ِالٰہى كو بھى اُجاگر كرنا چاہتا ہے جس كے ذريعے ہم اپنى ہر چيز بوقت ِضرورت اللہ تعالى كى خاطر قربان كردينے كے ليے تيار ہوجائيں۔ اور يقينا آج اسلام كو جانوروں كى قربانيوں سے كہيں زيادہ ہمارى محبوب ترين اشيا يعنى مال، اولاد اور جان كى قربانيوں كى ضرورت ہے۔ لہٰذا ہميں چاہيے كہ اس عمل كو محض ايک تہوار ورسم سمجهتے ہوئے تفاخر اور رياء ونمود كا ذريعہ ہى نہ بنا ڈاليں كہ جس كے باعث ہميں دنيا ميں تو اسلامى شعائر و روايات اپنانے كا اعزاز مل جائے ليكن ہمارى عقبىٰ تباہ وبرباد ہو كر رہ جائے بلكہ ہميں چاہيے كہ اس عمل كے پيچهے چھپى اُس عظيم قربانى كو مدنظر ركهتے ہوئے اپنے ايمانوں كو اس قابل بنائيں جو ہميں دنياوى لہو ولعب اور مصنوعى عيش ونشاط سے نكال كر اپنى زندگى كا ہر لمحہ اور ہر گوشہ رضاے الٰہى كى خاطر قربان كر دينے كے ليے تيار كر دے۔
    سورۂ کوثر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حکم دیا کہ جس طرح نماز اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی دوسرے کے لئے نہیں ہوسکتی اسی طرح قربانی بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کے لئے نہیں ہوسکتی ۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں کہ:’’ آپ کہہ دیجئے! کہ بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔‘‘(سورۂ انعام) ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ سلم نے ارشاد فرمایا : ’’بنی آدم کا کوئی عمل بقر عید کے دن اللہ تعالیٰ کو (قربانی کا) خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ، اور بے شک (قربانی کا) خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہو جاتا ہے ۔ تو تم اپنا دل اس کے ذریعہ سے خوش کیا کرو!۔ (ترمذی و ابن ماجہ)صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا : ’’یا رسول اللہؐ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ‘’ اور فرمایا: ’’استطاعت کے باوجود جو شخص قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کا رُخ بھی نہ کرے ! ان تین دنوں میں قربانی سے بڑھ کر کوئی دوسرا نیک عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ نہیں ہے‘‘۔(مسند احمد ، ابن ماجہ، الترغیب والترہیب)ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’جس شخص نے دل کی خوشی اور ثواب طلب کرنے کے لئے قربانی کی تو وہ قربانی اس شخص کے واسطے دوزخ کی آگ سے آڑ ہو جائے گی‘‘۔(الترغیب والترہیب)
    قربانی کے متعلق چند احکامات جو احادیث مبارکہ میں قابل ذکر ہیں وہ درج ذیل ہیں:
    ۱-جس شخص کے پاس رہائشی مکان، کھانے پینے کا سامان، استعمال کے کپڑوں، اور روز مرہ استعمال کی دوسری چیزوں کے علاوہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کا نقد روپیہ ، مالِ تجارت یا دیگر سامان ہو ، اس پر قربانی کرنا واجب ہے۔(فتاویٰ شامی: ۶/۳۱)
    ۳-جس شخص پر صدقۂ فطر واجب ہے اس پر قربانی بھی واجب ہے۔ (فتاوی عالمگیری: ۵/۲۹۲)
    ۴-اگر کسی شخص نے مرنے سے پہلے قربانی کرنے کی وصیت کی ہو اور اتنا مال چھوڑا ہو کہ اس کے تہائی مال سے قربانی کی جاسکے تو اس کی طرف سے قربانی کرنا واجب ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری: ۵/ ۲۰۶)
    جس شخص پر صدقۂ فطر واجب ہے اُس پر بقرۂ عید کے دنوں میں قربانی بھی واجب ہے۔(در مختار:۵؍۳۰۴) فقیر اورمسافر پر قربانی واجب نہیں۔(شرح البدایہ: ۴؍۴۴۳)
    قربانی کے لئے بہیمۃ الانعام یعنی اونٹ،گائے، بھیڑ، وبکری کا ہونا شرط ہے۔ قربانی کے جانوروں کے متعلق آپ مزید (سورۃالانعام:آیات:۱۴۲،۱۴۳،۱۴۴) کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ اسی طرح قربانی کے جانوروں کا مسنہ(یعنی دوندا) ہونا شرط ہے۔ مسنہ جانور اس کو کہتے ہیں جس کے اگلے دو (دودھ کے) دانت گرگئے ہوں اور اگر دوندے جانور دستیاب ہوں تو قربانی کیلئے دو دانتیں جانور کا انتخاب لازم ہے۔ ہاں مجبوری کی حالت میں (یعنی مسنہ جانور مارکیٹ میں نہ مل سکے یا اس کی استطاعت نہیں ہے تو) ایک سالہ دنبہ یا مینڈھا ذبح کیا جاسکتا ہے۔لیکن یاد رہے یہ صرف مجبوری کی حالت میں ہے اور اس میں بھی صرف بھیڑ کی جنس کا جزعہ قربانی میں کفایت کریگا، بکری وغیرہ کی جنس کا جزعہ کفایت نہیں کریگا۔(صحیح مسلم)

    قربانی ایک اہم عبادت اور اسلام کا شعار ہے اور یہ وہ عمل ہے جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جاتا ہے۔اسی لیے صحت مند اور بے عیب جانور کی قربانی دینی چاہیے۔اور ان عیوب کو جاننا ہمارے لیے ضروری ہے جن سے قربانی نہیں ہوتی۔
    جس طرح تقویٰ اور خالص رضائے الٰہی قربانی کی قبولیت کی اہم شرط ہے، اسی طرح جانور کا ان عیوب سے پاک ہونا بھی ضروری ہے جسے نبی کریم ﷺ نے قربانی کی قبولیت میں مانع قرار دیا ہے۔

    1) ان عیوب کی تفصیل جن کی وجہ سے قربانی درست نہیں ہوتی درج ذیل ہے:
    سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «أربع لا تجوز في الأضاحي:العوراء بين عورها، والمريضة بين مرضها، والعرجاء بين ظلعها، والكسير التي لا تنقى.»
    ‘‘چار قسم کے جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے:
    1.ایسا کانا جانور جس کا کانا پن ظاہر ہو ۔
    2.ایسا بیمار جس کی بیماری واضح ہو ۔
    3.ایسا لنگڑا جانور جس کا لنگڑاپن ظاہر ہو۔
    4.انتہائی کمزور اور لاغر جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو۔’’
    5. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جانوروں کی قربانی کرنے سے منع فرمایا جن کے سینگ ٹوٹے اور کان پھٹے ہوئے ہوں۔
    6. جس کا کان نصف یا نصف سے زیادہ کٹا ہوا ہو۔
    7. اندھا اور ٹانگ کٹا جانور کی قربانی جائز نہیں ہے۔

    ان تمام مسائل کا خاص خیال رکھیں اور اپنی عید کی خوشیوں میں غرباء و مساکین کو بھی شامل کریں۔ بارگاہ ایزدی میں دعا ہے کہ خدا تعالیٰ تمام مسلمانوں کو قربانی کی عبادت صحیح اصولوں کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

  • پھر کہتے ہیں تبدیلی کہاں سے؟تحریر: راجہ ارشد

    پھر کہتے ہیں تبدیلی کہاں سے؟تحریر: راجہ ارشد

    اے پاک وطن تیری کہانی سب سے اونچی، اونچی تیری شان
    ‎ تیرے آگے ہم سر جھکا کر اور بڑھائیں ہم تیری شان
    ‎ تیری حفاظت مقصد ہمارا
    ‎ ہمارا ایمان صرف پاکستان

    ‏اشرف غنی جو ہمیشہ بھارت کے ایجنڈے پہ چلتے ہوئے پاکستان پہ جھوٹے الزام لگاتا تھا۔
    لیکن! اس بار وزیر اعظم عمران خان نے ساری دنیا کے سامنے اسے چپیڑیں مار دیں۔

    بلاشبہ! ایسے کھل کر جواب صرف وزیراعظم عمران خان ہی دے سکتا تھا۔
    پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اور بلاشبہ اللہ نے اسے بلندوبالا ہی رکھنا ہے ۔اللہ نے ہماری قوم کی تقدیر بدلنے کیلئے ایک رہنما اتارا جو صرف اور صرف اس ملک کی بقا کا جذبہ رکھتا ہے ۔ وہ انقلابی بھی ہے اور ایک لشکر کا سپاہ سالار بھی ہے جس کا نعرہ ہے تبدیلی جو اپنی انتھک محنت کے باوجود بھی تنقید برائے تنقید کا شکار ہے ۔ سازشوں کا جال ان کے قدموں میں بچھایا جا رہا ہے لیکن خدا سلامت رکھے ان کی استقامت کو کہ ان کا حوصلہ بلند ہے اور وہ ملک کی تقدیر بدلنے کیلئے کوشاں ہیں ۔
     
     یہ تبدیلی مخالف شور ، میرا تبدیلی پہ ایمان کو مزید مضبوط کر رہا ہے ۔ جب کوئی اچھا اور نیک کام ہونے جا رہا ہو اور باطل قوتیں اس سے ٹکرائیں تو سمجھ لیں کہ کامیابی بہت قریب ہے لہٰذا تبدیلی آچکی ہے ، تبدیلی آ بھی رہی ہے اور تبدیلی مزید بھی آتی رہے گی ، کوئی روک سکتا ہے تو روکے ۔

     ایک سوال جو بارہا میری سماعتوں سے ٹکرایا ہے کہ تبدیلی سرکار نے کیا کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب تو بہت سی صورتوں میں موجود ہے لیکن وہی شور و غل برپا کرنے والی مفاد پرست قوتیں اس جواب کو چھپانے کی سازش میں محوِ عمل ہیں، لیکن ہمیشہ یاد رکھیں کے باطل کے سمندر میں حق اکیلا بھی ہو تو ابھر کر نکلتا ہے ، اسے جتنا بھی دبانے کی کوشش کی جائے اتنا ہی وہ سامنے آ کر للکارتا ہے ۔

    تبدیلی کے متعلق سوالات کے جوابات چاہیے تو پچھلی دہائیوں اور دورِ حاضر کا غیر جانبدارانہ موازنہ کریں ، حقیقت آشکار ہو جائے گی بس اپنی نظر کا زاویہ بدل کر دیکھیں ۔

    جو مضبوط خارجہ پالیسی پاکستان کی آج ہے وہ ماضی میں کبھی نہ تھی ۔ بین الاقوامی سطح پر ایک ملک کی عزت اس کی خارجہ پالیسی پر انحصار کرتی ہے ۔ صد شکر خدا جس نے پاکستان کو ایک غیور اور نڈر وزیرِ خارجہ سے نوازا ، جن کی یو این یو میں پہلی تقریر نے اقوامِ عالم کو جگایا کہ ہم پاکستانی دہشتگرد نہیں ہیں ، ہم تو امن کے سفیر ہیں ۔ حقیقی دہشتگرد تو بھارت  ہے جو نہتے کشمیریوں کے خون کا دشمن بن چکا ہے ۔ اس سے پہلے یو این او میں بھارت کا بے رحم چہرہ کسی نے بے نقاب نہیں کیا ۔ اس تقریر کا نتیجہ یہ ہوا کہ اقوامِ عالم حرکت میں آیا اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی اداروں نے بھارت مخالف رپورٹس پیش کی۔ ابھی حال میں ہی برطانیہ کے ہاوس آف کامنز میں ہونے والی کشمیر کانفرنس اس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ آج پاکستان کو امریکہ جیسے مغرور ملک نے امن کا سفیر مانتے ہوئے طالبان سے مذاکرات کرنے کیلئے مدد مانگی جبکہ پچھلی حکومتوں کے دور میں امریکہ کی طرف سے صرف ڈرون حملے ہوتے تھے یا پھر ڈو مور کا مطالبہ ۔

    کرتارپور رہداری کی تعمیر نے پاکستان کو دنيا کے سامنے ایک پرامن قوم کے طور پر پہچان دی ۔ یاد رکھیں کہ ایک انسان بھوک سے مر جاتا ہے لیکن عزت کے بغیر جیتے جی مر جاتا ہے ۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی عزت کی بحالی نے ہمیں نئی زندگی بخشی ہے جو ایک غیور قوم کا اثاثہ ہوتی ہے ۔

    دھرتی اگر ماں ہوتی ہے تو وہ اپنے بچوں کو بے سروسامانی کی حالت میں سڑک کنارے پڑا نہیں دیکھ سکتی ۔ آج تحریکِ انصاف کی حکومت نے پناہ گاہوں کے قیام کو یقینی بنا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ دھرتی واقعی ہی ماں ہوتی ہے ۔

    تاریخ گواہ ہے کہ گزشتہ حکومتوں نے جب بھی اقتدار سنبھالا ، بےدردی سے اس ملک کو لوٹا، لیکن موجودہ حکومت کرپشن کے خاتمے کی جنگ لڑ رہی ہے جس کی وجہ سے اس حکومت کا سکون غارت کیا جا رہا ہے ۔ لیکن یہ پھر بھی پاکستان کو کرپشن سے پاک کرنے کے عزم پہ قائم و دائم ہیں ۔ آج کے پاکستان میں حکمران احتساب کے عمل سے آذاد نہیں ہیں ، اس سے بڑی تبدیلی اور کیا ہوسکتی ہے ؟

    کلین گرین پاکستان ، پاکستان سٹیزن پورٹل ، پاکستان بناو سرٹیفکیٹ سکیم، اسلامی ممالک سے بردارانہ تعلقات ، آئی ایم ایف کی سخت شرائط ماننے سے انکار ، سیاست سے پاک آذاد ادارے ، یورپی یونین کے پاکستان کے قوانین میں ردوبدل سے متعلق مطالبات ماننے سے انکار ، یہ سب وہ کام ہیں جو تحریک انصاف کی حکومت نے اس مختصر سے عرصے میں سرانجام دئيے جو ماضی کی تجربہ کار حکومتیں نہ کرسکی تھیں ۔ واقعتاً قیادت دیانتدار ہو تو عزت اور کامیابی قوم کا مقدر بن جایا کرتی ہیں ۔

    میرا قلم آج تحریک انصاف کی کارکردگی پہ رطب السان اس لیے ہو رہا ہے کہ میرے مستقبل کی آنکھیں کھلی ہیں ۔ میرا  لاشعور گواہی دیتا ہے کہ اس قوم کی تقدیر میں ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ باطل کے تمام قلم ٹوٹ جائیں گے اور ہر طرف حق حق کی پکار ہوگی ، بین الاقوامی سطح پر ہم ایک خود مختار اور باعزت قوم کے طور پر جانے جائیں گے ، معاشیات بھی عروج پہ ہو گی اور پاکستان سے مہنگائی کا خاتمہ بھی ہو گا ، امیر ، امیر تر اور غریب مزید غریب نہیں ہوگا ، حکمران عوام کو اپنے اثاثہ جات کے جوابدہ ہوں گے  ۔ علم کا بول بالا ہوگا اور ادب ہمارا پیرہن ہوگا (انشاءاللہ )۔
                                                    تبدیلی کی چنگاری اب آلاو بن چکی ہے ، جسے کوئی نہیں بجھا سکتا ، جو چاہے سازش کرے ، یہ ملک تبدیل ہو کر رہے گا ، کوئی روکنا چاہے تو روکے ، لیکن تبدیلی کا یہ طوفان اب نہیں رکنے والا ۔ ہم نے طے کرلیا ہے کہ اپنے خون کا نذرانہ بھی دینا پڑا تو ہم اس نئے پاکستان کی بنیاد کو ہلنے نہيں دیں گے ۔

    جو سازشی عناصر سادہ لوح پاکستانی عوام کو گمراہ کرنے میں محوِ عمل ہیں وہ خبردار ہو جائیں کہ یہ محب الوطن قوم ہے یہ ذیادہ دیر تک غفلت کی نیند نہیں سو سکتی اور جس دن یہ قوم مکمل طور پر جاگ اٹھے گی ، باطل کو دنیا بھر میں کوئی پناہ نہیں ملے گی ۔
                                      خراجِ تحسین ہے تبدیلی کے اس پورے لشکر کیلئے جو کہ پاکستان کو مستحکم دیکھنے کیلئے دن رات ایک کئے ہوئے ہے ۔ اللہ آپ کی کاوشوں کو کبھی رائیگاں نہیں کرے گا۔ دعاگو ہوں کہ اللہ ہماری قیادت کو خلفائے راشدین کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا کرے (آمین )

  • "جذبہ ایمانی”تحریر.زوہیب خٹک

    "جذبہ ایمانی”تحریر.زوہیب خٹک

    تاریخِ انسانی میں ہمشیہ حق و باطل کی جنگ رہی ہے ۔

    مسلمان ہمیشہ آزمائشیں دیکھتے رہے وجہہِ کائنات سرورِ کونین میرے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے غربت کی زندگی گزاری صحابہ کرام جو مالدار تھے وہ بھی اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں وقف کر کہ فقیری کی زندگی جئیے ۔ مسلمانوں نے کبھی عیاشی کی زندگی نہیں گزاری کبھی تخت و تاج محلات مسلمانوں کی خواہش نہیں رہی ۔پیوند لگے کپڑوں کے ساتھ روم اور فارس کے عظیم تخت اکھاڑ پھینکنے۔ یہ جزبہ ایمانی ہی تھا کہ آدھی دنیا کے حکمران حضرتِ عمر رضی اللہ عنہہ بیت المال سے وظیفہ لیتے تھے۔ لیکن جب زلزلے سے زمین کانپی تو پاؤں کی ٹھوکر سے زمین کو رک جانے کا حکم دیا اور پوچھا کیا تجھ پر عمر عدل نہیں کرتا ۔؟؟

    یہ جزبہ ایمانی ہی تھا کہ تین سو تیرا ہزار کے مقابلے میں لڑ کر فتح یاب ہوتے یہ جزبہ ایمانی ہی تھا جس نے قیصر و قصریٰ کا غرور خاک میں ملایا یہ جزبہ ایمانی ہی تھا جس کی بدولت سلطان صلاح الدین ایوبی نے پورے یورپ سے اکیلے ٹکر لی اور فتح کے جھنڈے گاڑے یہ جزبہ ایمانی ہی تھا کہ سترہ سالہ محمد بن قاسم سندھ فتح کر گیا یہ جزبہ ایمانی ہی تھا جی ہاں یہ جزبہ ایمانی ہی ہے کہ سکندرِ اعظم برطانیہ روس اور امریکہ جیسی طاقتیں نیٹو افواج سمیت افغانستان کی سر زمین پر نیست و نابود ہوگئیں ۔۔ کیا خوب کہا ہے علامہ اقبال نے کافر ہو تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی ۔۔
    جزبہ ایمانی جب تک ہماری میراث رہے گی دنیا کی کوئی طاقت ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی لیکن اگر یہ جزبہ ایمانی نا رہا تو پھر جدید اسلحہ جدید میزائل سسٹم بڑی سے بڑی فوج بھی راکھ کا ڈھیر ثابت ہوگی۔ یاد رکھیں جنگیں ہتھیاروں سے ضرور لڑی جاتی ہونگی پر جنگیں جزبوں سے جیتی جاتی ہیں اور بے شک جزبہ پھر ایمان کا ہو تو آج بھی دنیاوی عالمی طاقتیں اس جذبے کے سامنے ڈھیر ہو جائیں گی۔

    اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نا کر
    خاص ہے ترکیب میں قومِ رسول ہاشمی

  • اخلاص بہت بڑی نعمت ہے. تحریر:ماریہ مغل

    اخلاص بہت بڑی نعمت ہے. تحریر:ماریہ مغل

    لکھنو بازار میں ایک غریب درزی کی دکان تھی جو ہر جنازے کے لۓ دکان بند کرتے تھے…
    لوگوں نے کہا کہ اس سے آپ کے کاروبار کا نقصان ہوگا،
    کہنے لگا کہ علماء سے سنا ہے کہ جو کسی مسلمان کے جنازے پر جاتا ھے کل اس کے جنازے پر لوگوں کا ہجوم ہوگا…
    میں غریب ہوں نہ زیادہ لوگ مجھے جانتے ہیں تو میرے جنازے پر کون آۓ گا…
    اس لیے ایک تو مسلمان کا حق سمجھ کر پڑھتا ہوں اور دوسرا یہ کہ شاید اس سے ہی اللہ پاک راضی ہو جائیں
    اللہ پاک کی شان دیکھیں کہ 1902ء میں مولانا عبدالحئ لکھنوی صاحب کا انتقال ہوا…

    ریڈیو پر بتلایا گیا، اخبارات میں جنازے کی خبر آگئی.. جنازے کے وقت لاکھوں کا مجمع تھا. پھر بھی بہت سے لوگ انکا جنازہ پڑھے سے محروم رہ گئے
    جب جنازہ گاہ میں ان کا جنازہ ختم ہوا تو اسی وقت جنازہ گاہ میں ایک دوسرا جنازہ داخل ہوا. اور اعلان ہوا کہ ایک اور عاجز مسلمان کا بھی جنازہ پڑھ کر جائیں…
    یہ دوسرا جنازہ اس درزی کا تھا… مولانا کے جنازے کے سب لوگ ، بڑے بڑے اللہ والے ، علماء کرام سب نے اس درزی کا جنازہ پڑھا اور پہلے جنازے سے جو لوگ رہ گئے تھے وہ بھی اس میں شامل ہوگئے ۔ اس غریب کا جنازہ تو مولانا کے جنازہ سے بھی بڑھ کر نکلا
    اللہ پاک نے اس درزی کی بات پوری کرکے اس کی لاج رکھی..۔
    اللّٰہ ﮬﻢ ﺳﺐ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿں ﺁﺳﺎﻧﯿﺎﮞ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﮰ ﺁﻣﯿﻦ💕
    @l_m_Mairi
    ماریہ مغل

  • محبت اور نکاح. تحریر: کنزہ صدیق

    محبت اور نکاح. تحریر: کنزہ صدیق

    محبت ایک بہترین تعلق ہے اور یہ تعلق جب نکاح جیسے پاک بندھن میں بندھ جاتا ہے تو یہ دنیا کا بہترین رشتہ کہلاتا ہے
    اللہ پاک نےاس رشتے بےشمار برکت رکھی ہے نکاح کے متعلق بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے
    حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    تین طرح کے لوگ ہیں جنکی مدد اللہ پر حق اور واجب ہے
    1: اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا
    2:ایسا نکاح کرنے والا جو نکاح کے ذریعے پاکدامنی کی زندگی گزارنا چاہتا ہو
    3: وہ مکاتب جو مکاتبت کی رقم ادا کرکے آذاد ہوجانے کی کوشش کررہا ہو (سنن نسائی#3122
    اب بات آجاتی ہے کہ پسند کا نکاح اور بناء پوچھے بناء سمجھائے زبردستی نکاح۔۔
    ہمارے معاشرے میں یہ عجیب منطق ہے کہ اگر لڑکی اپنی پسند کا رشتہ بتاتی ہے تو وہ بےحیا یا بولڈ سمجھی جاتی ہے جبکہ بعض اوقات لڑکوں کے معاملے میں بھی کچھ اسی طرح ہوتا ہے والدین بچوں سے اس بات پہ خفا ہوجاتے ہیں کہ یہ زندگی کے بڑے فیصلے ہیں تو اس لیے یہ فیصلے بڑوں کو ہی کرنے چاہیے
    لیکن والدین کے لیے یہ سمجھنے کی بات ہے کہ ہمارا دین بھی اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اگر لڑکا یا لڑکی اپنی پسند کا اظہار کریں تو اس کی رائے کا احترام کیا جانا چاہیے
    اسی متعلق اس حدیث ہے جسکا مفہوم یہ ہے کہ بچوں کا رشتہ کرتے ہوئے انکی مرضی لازمی جان لینا چاہیے اگر وہ اپنی پسند کا اظہار کرئے تو اسے بےحیا نہ سمجھا جائے

    نکاح کے بعد اللہ پاک کی طرف سے میاں بیوی میں عجیب سی محبت پیدا ہوجاتی ہے یہ نکاح ہی کی برکت سے ہوتا ہے
    میاں بیوی کو چاہیے کہ وہ آپس کی اس محبت کو ہمیشہ قائم رکھیں جیسا کہ ہمارا دین محبت کا درس دیتا ہے
    حضور پاک اماں عائشہ سے بے تحاشہ محبت کرتے تھے
    آپ ﷺ کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت کا عالم یہ تھا کہ آپ ﷺ ان کے پس خوردہ کو بھی پسند فرماتے تھے اور جہاں سے آپ رضی اللہ عنہا ہڈی سے گوشت کھاتیں سرکار ﷺ وہیں سے گوشت تناول فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں ہڈی سے دانتوں سے گوشت کھاتی تھی حالانکہ میں حائضہ ہوتی تھی اور وہ ہڈی حضور ﷺ کوپیش کردیتی تو آپ ﷺ اپنا دہن مبارک اسی جگہ رکھتے جس جگہ میں نے رکھا تھا اور میں (پیالے میں ) پانی پی کر حضور ﷺ کو پیالہ دیتی تو آ پ ﷺ اسی جگہ اپنا لب مبارک رکھتے جہاں سے میں نے پیا ہوتا
    اسطرح کا محبت بھرا انداز ہمیں گھریلو ناچاقیوں اور نفرتوں کے ستون کو ڈھانے اور ان سے چھٹکارا پانے کے دائمی اصول بتاتا ہے جن پر عمل کرکے زوجین اپنے درمیان نفرتوں اور کدورتوں کے بیج نکال کر محبت و الفت کے بیچ بوسکتے ہیں اور گھر کو امن کا گہوارہ بناسکتے ہیں۔
    اللہ حامی و ناصر ہو۔

  • افغان امن عمل.تحریر: چوہدری یاسف نذیر

    افغان امن عمل.تحریر: چوہدری یاسف نذیر

    ‎سال 1988 میں ایک کانفرنس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ افغانستان میں غیرملکی افواج کی موجودگی برداشت نہیں کی جائے گی اور غیر ملکی افواج کے انخلاء کی حمایت کی جائے گی، اس میٹنگ میں امریکہ پیش پیش تھا اور یہ قرارداد روس کے خلاف تھی کیونکہ انکی افواج افغانستان میں موجود تھی۔۔۔‏ٹھیک 31 سال بعد 2019 میں یہ اعلان کیا گیا افغانستان میں غیر ملکی افواج کی موجودگی برداشت نہیں کی جائے گی اور غیر ملکی افواج کی انخلاء کی حمایت کی جائے گی، اس میٹنگ میں روس پیش پیش تھا اور یہ قرارداد امریکہ کےخلاف تھی، تاریخ نے 30 سال بعد ایک دفعہ پھر خود کو دوہرایا _ اور تقریبا وہی کچھ ہوا جو 30 سال پہلے ہوا، امریکی فوج کا جلد بازی میں افغانستان سے انخلاء ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ اربوں ڈالرز لگانے کے باوجود 20 سالہ جنگ ہار گیا

    یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان دو مختلف تنظیمیں ہیں، طالبان کا آغاز جہاد اور اسلامی نظام کے قیام کے اعلان سے ہوا جبکہ تحریک طالبان پاکستان بھارت اور غیرملکی ایجنسیوں کی آلہ کار ہے، گزشتہ کئی سال سے افغانستان میں موجود بھارتی سفارتخانے پاکستان کے خلاف منظم سازشوں میں ملوث رہے ہیں، ہر دہشتگردی کے تانے بانے سرحد پار سے ملتے تھے، امریکی انخلاء کے بعد بھارت کی سرمایہ کاری بھی ڈوب گئی

    امریکی اںخلاء کے بعد طالبان تیزی سے پیش قدمی کر رہے ہیں جبکہ افغان حکومت شدید دباؤ کا شکار ہے اور اسی دباؤ کی وجہ سے آئے دن اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا جارہا ہے حالانکہ پاکستان کئی دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھارہا ہے، طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے پاکستان نے ہر ممکن تعاون فراہم کیا، افغانستان میں کاروائیوں کے لیے فضائی اڈوں کی امریکی خواہش کو پاکستان نے Absolutely Not جیسے واضح الفاظ کے ساتھ مسترد کیا اور افغانستان کو باور کرایا کہ ہم اپنی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اسلئے آپ بھی سرحد پار سے پاکستان میں داخل ہونے والے دہشتگردوں کا راستہ روکیں

    افغان حکومت اور طالبان کا موجودہ تنازعہ انکا اندرونی معاملہ ہے لیکن پاکستان ہر سطح پر معاونت کی پیشکش کا اظہار کرچکا ہے کیونکہ پرامن افغانستان ہی پرامن خطے کی ضمانت ہے، روس، چین، ایران اور پاکستان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان قابل عمل معاہدے کی کوشش میں ہیں، جبکہ بھارت نے گزشتہ ہفتے اسلحے سے بھرے جہاز افغانستان پہنچا کر یہ واضح کردیا ہے کہ وہ افغان طالبان کے خلاف افغان حکومت کا ہر ممکن ساتھ دے گا چاہے اسکے لئے امن کو داؤ پر لگانا پڑے

    اچھی بات یہ ہے کہ امریکی انخلاء کے پیش نظر پاکستان نے کافی حد تک تیاری مکمل کرلی تھی، 2600 کلومیٹر طویل سرحد پر باڑ لگانے کا کام تکمیل کے مراحل میں ہے، باڑ لگاتے وقت پاک فوج نے شہادتوں کے نذرانے دئیے لیکن اس کٹھن کام کی رفتار میں کمی نہ آنے دی، موجودہ حالات میں مزید افغان مہاجرین کی آمد متوقع ہے جنہیں سرحد کے قریب ہی ٹھہرایا جائے گا، جبکہ آئندہ ہفتے اسلام آباد میں افغان امن کانفرنس بھی منعقد ہونے جارہی ہے، انتظار کرنا ہوگا کہ افغان حکومت ماضی کی طرح الزامات لگاتی رہے گی یا پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہے گی

  • امریکی اڈے اور پاکستان کی افغان پالیسی.تحریر:احمد فراز گبول

    امریکی اڈے اور پاکستان کی افغان پالیسی.تحریر:احمد فراز گبول

    گزشتہ کچھ روز سے مختلف سوشل پلیٹ فارمز پر ایک ایشو کو لے کر بہت زیادہ گفت و شنید دیکھنے میں آ رہی ہے اور پاکستانی عوام بھی ایک شش و پنج میں مبتلا ہے کہ کیا واقعی پاکستان نے امریکہ کو ملٹری بیس فراہم کر دیئے ہیں یا نہیں؟ یہ ٹاپک پینٹاگون سے لے کر پاکستان کے پسماندہ علاقوں کے چائے کے ڈھابوں تک برابر زیرِ بحث ہے۔ آئیے آج اس معاملے کے کچھ حقائق کی کھوج لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔
    جب سے امریکی انخلا کی خبریں آنی شروع ہوئیں ساتھ ہی افغان طالبان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے 34 میں سے 26 صوبوں میں اس وقت جنگ جاری ہے گزشتہ دو دنوں میں افغان طالبان کا نشانہ بننے والے افغان سیکیورٹی فورسز کے مقتولین کی تعداد 150 سے بڑھ چکی ہے۔ اب یہ ایک الگ بحث ہے کہ کیا واقعی یہ اعدادوشمار شمار درست ہیں یا امریکہ کو ہوائی اڈوں کی فراہمی کے لئے حالات کو سازگار بنانے کے لئے گراؤنڈ ورک کیا جا رہا ہے
    گزشتہ دنوں امریکہ کے انڈو پیسفک افیئرز کے نائب دفاعی سیکریٹری نے کہا تھا کہ پاکستان امریکہ کو اپنی سرزمین پر اڈے دینے کو تیار ہے، تاکہ انخلا کے بعد امریکہ خطے پر اپنی نظر رکھ سکے اور افغانستان میں امن کو یقینی بنا سکے۔ جبکہ دوسری جانب وزیرِ خارجہ پاکستان شاہ محمود قریشی نے اس عمل کی ناصرف سختی سے تردید کی ہے بلکہ واضح بھی کر دیا ہے کہ پاکستان امریکہ کو اپنی سرزمین کا ایک انچ بھی نہیں دے گا۔
    ماضی میں دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں شامل ہو کر پاکستان نے بہت زیادہ نقصان اٹھایا۔ ہماری معیشت تباہ ہوئی، بے شمار جانی نقصان ہوا، پاکستان خود دہشتگردوں کا ہدف بن گیا اور دنیا بھر میں پاکستان کو دہشتگرد ریاست ڈیکلیئر کرنے کے لئے انڈین لابی نے زمین آسمان کے قلابے ملا دیئے۔ اس کے علاوہ منشیات اور کلاشنکوف کلچر رائج ہوا جس کے نتائج پاکستان آج بھی بھگت رہا ہے۔ اگر دنیا میں کسی ملک نے دہشتگردی کے خلاف حقیقی قربانیاں دی ہیں تو وہ پاکستان ہے لیکن اس کے باوجود بھی "ڈو مور” اور "دہشتگرد” جیسے خطابات بھی پاکستان کو دیئے گئے۔ لیکن اب پاکستان کی موجودہ قیادت یہ غلطی دہرانے کے لئے تیار نظر نہیں آ رہی۔ جس کے پیچھے اور بھی بہت سارے عناصر ہیں۔
    اگر ہم کچھ اندرونی معاملات پر نظر دوڑائیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس وقت معاشی اور تجارتی حوالے سے دنیا کے تین ملک آپس میں گتھم گتھا ہیں۔ امریکہ، روس اور چین۔ جن میں سے دو ملک ایشیائی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی امریکہ ایشیا پر کسی نہ کسی طرح اپنا تسلط جمائے ہوئے ہیں جو کہ باقی ایشیائی ممالک کے لئے تجارتی مسائل کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی ایشو بھی ہے۔ فرض کریں اگر امریکہ کا افغانستان سے مکمل انخلا ہو جاتا ہے تو خطے میں امریکہ کی موجودگی ختم ہو جائے گی اور دنیا پر اپنی چودھراہٹ قائم کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکہ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں اپنی لابی افغانستان میں بیٹھ کر کنٹرول کر رہا تھا جو کہ روس اور چین کے لئے بھی مسئلہ تھا۔ لیکن اب امریکی انخلا کے بعد روس اور چین کے لئے میدان صاف ہو جائے گا، جو کہ امریکہ نہیں چاہتا اس لئے پاکستان کے انکار کے بعد امریکہ نے ازبکستان اور تاجکستان سے بھی زمینی اور فضائی رسائی کی ڈیل کرنا چاہی جو کہ چین کے پریشر کی وجہ سے ناکام ہوتی نظر آ رہی ہے۔ کیونکہ ان ممالک کی سرحدیں چین کے قریب ہیں۔ روس اور چین کے علاوہ افغان طالبان بھی خبردار کر رہے ہیں کہ کوئی ہمسایہ ملک امریکہ کو اڈے دینے کی غلطی نا کرے۔

    کچھ عرصہ پہلے روس کی طرف سے پاکستان کو "بلینک چیک” کی آفر بھی اسی حوالے سے تھی تاکہ پاکستان امریکہ کی مزید مدد نہ کرے اور خطے کو امریکہ سے خالی کیا جا سکے۔
    اگر ہم پاکستان کے حالات دیکھیں تو پاکستان نے "منٹھار بس تھیوری” چھوڑ کر ایک مناسب اور مضبوط حکمت عملی اپنا لی ہے۔ اب بجائے کسی لابی کا حصہ بننے کے پاکستان اپنی خودمختاری کو منوا رہا ہے۔ پاکستان اب جی حضوری کی بجائے جارحانہ حکمت عملی پر گامزن ہے اور ساتھ پاکستان اب چین کا معاشی شراکت دار بھی بن چکا ہے۔ کوئی بھی کاروباری انسان جھگڑوں کا شوقین نہیں ہوتا اس لئے اب پاکستان نے بھی بجائے جنگ کے معاشی سوچ اپنا لی ہے۔ سی پیک و بیلٹ اینڈ روڈ اور افغان جنگ ایک ساتھ نہیں چل سکتے اس لئے پاکستان نے وہی فیصلہ کرنا تھا جو اپنے مفادات کا دفاع کرے لہٰذا پاکستان نے جنگی راستہ چھوڑ کر معاشی راستہ اپنایا۔
    امریکی انخلا اور عدم موجودگی کا سب سے بڑا فائدہ چین کو ہو گا۔ چینی سرمایہ کار افغانستان کے ذریعے ایران اور مشرق وسطیٰ تک رسائی حاصل کر لیں گے۔ ساتھ ہی وسط ایشیائی ممالک اور افغانستان بھی سی پیک تک آسان رسائی حاصل کر سکیں گے۔ جبکہ دوسری طرف روسی اسلحے کی انڈسٹری کے بھی چمکنے کے امکانات ہیں۔ کیونکہ یورپ کے بعد پورے ایشیا میں صرف افغانستان ہی امریکہ کا دفتر بنا ہوا تھا جس کی وجہ سے امریکہ اپنی چودھراہٹ کے ساتھ ساتھ دکانداری بھی چمکا رہا تھا جو کہ اب کھٹائی میں پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔
    موجودہ حالات اور روس کی پاکستان کے ساتھ بڑھتی دلچسپی کے پیشِ نظر یہی نظر آ رہا ہے کہ افغانستان سے امریکہ کو نکالنا بھی روس اور چین کا پلان تھا جو پاکستان کے ذریعے مکمل ہوا اور مستقبل میں بھی امریکہ کو اس خطے میں کوئی اڈہ یا ٹھکانہ نہیں ملے گا۔ آنے والا دور اسلحے اور بارود کا نہیں بلکہ ایک مستحکم اور معاشی پاکستان کا دور ہے، سی پیک کا دور ہے اور گوادر کے عروج کا زمانہ ہے۔ لہٰذا یہ اڈوں اور جنگوں کے قصے اب نہیں دہرائے جائیں گے۔
    نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
    زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
    اللہ پاک وطنِ عزیز کو سلامت رکھے۔ پاکستان زندہ باد

  • پردے کی اہمیت.تحریر شمس الدین

    پردے کی اہمیت.تحریر شمس الدین

    اسلام میں پردے کے لحاظ سے عورتوں کے لیے پردے کا خاص حکم ہے. قرآن مجید میں پردے کے بارے میں آیتیں بھی نازل ہوئی ہیں….

    اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے،
    اور آپ مومن عورتوں كو كہہ ديجئے كہ وہ بھى اپنى نگاہيں نيچى ركھيں اور اپنى شرمگاہوں كى حفاظت كريں، اور اپنى زينت كو ظاہر نہ كريں، سوائے اسكے جو ظاہر ہے، اوراپنے گريبانوں پر اپنى اوڑھنياں ڈالے رہيں، اور اپنى آرائش كو كسى كے سامنے ظاہر نہ كريں، سوائے اپنے خاوندوں كے، يا اپنے والد كے، يا اپنے سسر كے، يا اپنے بيٹوں كے، يا اپنے خاوند كے بيٹوں كے، يا اپنے بھائيوں كے، يا اپنے بھتيجوں كے، يا اپنے بھانجوں كے، يا اپنے ميل جول كى عورتوں كے، يا غلاموں كے، يا ايسے نوكر چاكر مردوں كے جو شہوت والے نہ ہوں، يا ايسے بچوں كے جو عورتوں كے پردے كى باتوں سے مطلع نہيں، اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار كر نہ چليں كہ انكى پوشيدہ زينت معلوم ہو جائے، اے مسلمانو! تم سب كے سب اللہ كى جانب توبہ كرو، تا كہ تم نجات پا جاؤ النور ( 31 ).

    اس طرح ایک اور آیت میں ہے،
    بڑى بوڑھى عورتيں جنہيں نكاح كى اميد ( اور خواہش ہى ) نہ رہى ہو وہ اگر اپنى چادر اتار ركھيں تو ان پر كوئى گناہ نہيں، بشرطيكہ وہ اپنا بناؤ سنگھار ظاہر كرنے والياں نہ ہوں، تاہم اگر ان سے بھى ا حتياط ركھيں تو ان كے ليے بہت بہتر اور افضل ہے، اور اللہ تعالى سنتا اور جانتا ہے النور ( 60 ).

    ایک اور آیت ہے،
    اے ايمان والو! جب تك تمہيں اجازت نہ دى جائے تم نبى كے گھروں ميں كھانے كے ليے نہ جايا كرو، ايسے وقت ميں كہ پكنے كا انتظار كرتے رہو، بلكہ جب تمہيں بلايا جائے تو جاؤ، اور جب كھا كر فارغ ہو چكو تو نكل كھڑے ہو، اور وہيں باتوں ميں مشغول نہ ہو جايا كرو، نبى كو تمہارى اس بات سے تكليف ہوتى ہے، تو وہ لحاظ كر جاتے ہيں، اور اللہ تعالى ( بيان ) حق ميں كسى كا لحاظ نہيں كرتا، جب تم نبى كى بيويوں سے كوئى چيز طلب كرو تو پردے كے پيچھے سے طلب كرو، ، تمہارے اور ان كے دلوں كے ليے كامل پاكيزگى يہى ہے، نہ تمہيں يہ جائز ہے كہ تم رسول اللہ ( صلى اللہ عليہ وسلم ) كو تكليف دو، اور نہ تمہيں يہ حلال ہے كہ آپ كے بعد كسى وقت بھى آپ كى بيويوں سے نكاح كرو، ( ياد ركھو ) اللہ كے نزديك يہ بہت بڑا گناہ ہے الاحزاب ( 53 ).
    قرآن پاک میں ایک اور جگہ حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیںاور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے کہ جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد یا اپنے خسر کے یا اپنے بہن، بھائیوں اور بچوں کے۔

    خواتین کو مستورات بھی کہا جاتا ہے اور مستور کا مطلب ہے چھپا ہوا، عورت کے پردہ کے حوالہ سے ایک حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ ’’حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا عورت پردہ میں رہنے کی چیز ہے کیوں کہ جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے بہکانے کے لئے موقع تلاش کرتا ہے‘‘ جامع ترمذی،جلد نمبر اول ، حدیث نمبر 1181۔ عورت کے پر دہ کو اس قدر اہمیت دی گئی ہے کہ اس کے لئے عبادت بھی پردہ کے بغیر اور بے پردہ جگہ پر کرنا منع فرمایا گیا ہے۔