Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • جزباتی ہجوم ،تحریر: زوہیب خٹک

    جزباتی ہجوم ،تحریر: زوہیب خٹک

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے 2012 میں اپنی جماعت تحریک تحفظ پاکستان کی بنیاد رکھی اور جو ہجوم نما قوم آج غم میں مری جا رہی ہے اُنہوں نے ووٹ دینا تو دور کی بات ٹکٹ لینا بھی پسند نہیں کئے اور پورے پاکستان میں ڈاکٹر صاحب ایک سیٹ بھی نہیں جیت سکے تھے۔ اسی طرح ساری قوم عبدالستار ایدھی صاحب کی وفات پر گہرے رنج و افسوس میں تھی لیکن ایدھی صاحب نے جب الیکشن لڑا تھا تو ضمانت ضبط ہوگئی تھی۔ ایسی کئی مثالیں ہمیں ہر ضلع کی سطح پر دیکھنے کو ملتی ہیں جو لوگ انتہائی شریف النفس , نیک و خدمت گزار ہوتے ہیں اُنکو ہم القابات سے تو بہت نوازتے ہیں لیکن جب اپنا نمائندہ منتخب کرنے کا وقت آئے تو ہائی کوالٹی رنگ باز کو اُسکے مقابلے میں منتخب کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ ذات برادری کا ہوتا ہے یا ہمارے باپ دادا نے اس پارٹی کو ووٹ دیا ہوتا ہے اور ہم بھی کفار مکہ کی طرح اسی پارٹی کے بت کو تا حیات پوجتے رہتے ہیں۔

    اسی طرح جب پاکستان تحریک انصاف نے 2013 میں الیکشن لڑا تو 60 فیصد ٹکٹ عام نوجوانوں کو دیئے اور ذیادہ تر لوگ اچھی شہرت کے حامل تھے لاہور کی مثال لے لیں علامہ اقبال کے پوتے بیرسٹر ولید اقبال کے مقابلے ہم نے گیس چور شیخ روحیل اصغر کو جتوا دیا۔ اسی طرح عوام نے دیگر حلقوں میں بھی روائیتی سیاسی گھرانوں کو نوجوانوں اور شریف النفس امیدواروں پر ترجیح دی۔ جنہیں ہم عرف عام میں الیکٹیبکز کہتے ہیں۔

    جب ملکی حالات کا رونا روتے ہوئے کوئی میرے سامنے کہتا ہے کہ ” ساڈا کی قصور اے” تو میں سوچتا ہوں کہ قصور تو ان چند عظیم لیڈران کا ہے جو اس مردہ ہجوم نما قوم کو جگانے کی کوشش کر رہے ہیں ہمیں شعور دینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہم نے اپنی روش نہیں چھوڑنی جزباتی تقریریں بھڑکاؤ نعرے ہم سے لگوا لیں وہ ہم بخوبی کر سکتے ہیں۔
    بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے ہونگے کہ مرحوم ڈاکٹر قدیر خان پر ایٹمی راز بیچنے یا افشاں کرنے کا الزام تھا کتنا سچ کتنا جھوٹ ہے وہ رہنے دیں لیکن یہ حقیقت آج سب پر آشکار ہو چکی ہے کہ ہمارے اولین دشمن ان کی جان کے در پے تھے اس لیے انہیں مشرف کے جانے کے کئی سال بعد بھی برائے نام آج تک گھر میں نظر بند رکھا گیا تاکہ ان کی حفاظت کی جاسکے اور انہیں ممکنہ خطرے سے بچایا جاسکے۔ لیکن آج تک ہم میں سے بیشتر یہی سمجھتے رہے کہ شائد ڈاکٹر صاحب کو ایٹم بم بنانے کی سزا دی گئی اس لیے قید کیا گیا۔ سب جانتے ہیں کہ پاکستان کا یہ ہتھیار پوری دنیا کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے اس لیے ہمارے دشمنوں نے ہر ممکن کوشش کرنی تھی کرنی ہے اور کرتے رہیں گے کہ کسی نا کسی طرح پاکستان سے یہ ہتھیار واپس لیے جائیں لیکن ریاستِ پاکستان نے نا صرف اپنے ہتھیاروں بلکہ اپنے سائنسدانوں کو بھی محفوظ رکھا۔
    برائے کرم جزبات سے نہیں حقائق سے سوچا کریں اور کم سے کم اپنے اندر اتنا شعور بیدار کریں کہ اپنے حکمران ذات برادری رنگ نسل یا سیاسی پارٹی پر نہیں بلکہ کارکردگی پر منتخب کر سکیں۔

    Twitter @zohaibofficialk

  • "عمران خان بمقابلہ مہنگائی” .تحریر:تحریر زوہیب خٹک

    "عمران خان بمقابلہ مہنگائی” .تحریر:تحریر زوہیب خٹک

    ہمیں یہ تو یاد ہے کہ نواز شریف کے دور میں چینی 65 روپے کلو تھی لیکن یہ بھول گئے کہ مشرف دور میں 27 روپے کلو تھی
    ہمیں یہ تو یاد ہے کہ ڈالر 130 روپے کا نواز شریف چھوڑ کر گیا تھا لیکن یہ یاد نہیں کہ مشرف تو ڈالر 60 روپے کا چھوڑ کر گیا تھا
    ہمیں یہ تو یاد ہے کہ ملک پر قرضہ ‏95 ارب ڈالر نواز شریف چھوڑ کر گیا تھا
    لیکن یہ یاد نہیں کہ مشرف 33 ارب ڈالر پر چھوڑ کر گیا تھا

    اگر نواز شریف دور میں ملک ترقی کررہا تھا تو چینی 65 سے کم کر کے جانا چاہئیے تھا
    اگر ملک ترقی کررہا تھا تو ڈالر 60 روپے سے کم کر کہ جاتا۔
    اگر ملک ترقی کر رہا تھا تو قرضہ 33 ارب ڈالر سے کم کر کے جاتا۔

    جیسے آج عمران خان نے ملک کے قرضوں میں کمی لانا شروع کی ہے۔ آپ عمران خان سے لاکھ اختلاف رکھیں لیکن آپ کو ماننا پڑے گا اس سے اچھا آپشن ہمارے پاس نہیں ہے۔ اور اگر آپکی چوائس وہی لوگ ہیں جنکی کارکردگی ہمارے سامنے ہیں جن کے جیسے غدار اور منافق کوئی نہیں تو آپ وراثتی ماحول کے ذہنی غلام ہیں۔

    ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں ایسے ایسے سیاستدان ہیں جن کے بال سفید ہوگئے سیاست کرتے جو واقعی قابل بھی ہیں اور ایماندار بھی ہونگے لیکن وہ بلاول اور مریم کے پیچھے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں کیونکہ سیاسی پارٹی ان کے باپ کی ہے اس لیے حکمرانی کا حق بھی انہی کا ہے پھر چاہے سیاست کی الف بے بھی معلوم نا ہو لیکن وراثت میں یہ ملک اور اس پر حکمرانی مل گئی پہلے ان کے آباؤ اجداد ہم پر حکمرانی کرتے رہے اب ان کی اولاد ہم پر حاکم بنیں گے ۔ آخر کیوں ۔؟

    میرا یا آپ کا بچہ کیوں حاکم نہیں بن سکتا آخر یہ بادشاہت ہے یا جمہوریت ۔ اگر جمہوریت ہے تو کیسی جمہوریت جہاں نسل در نسل غلام نسل در نسل حکمران چلے آرہے ہیں۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے کارکنان آخر کیوں نہیں سوچتے کہ یہ دو خاندان پاکستان کی تباہی کا باعث ہیں یہ مہنگائی غربت بے روزگاری اداروں کی بد حالی سب انہیں کی میراث ہے جو آج ہم بھگت رہے ہیں آخر آپ کو کیوں لگتا ہے کہ عمران خان کے پاس کوئی ایسی جادو کی چھڑی ہے جو چار دہائیوں کی تباہی کو چند سالوں میں ہی ٹھیک کر دے گی یعنی ملک تباہ کرنے میں بھی کم سے کم چالیس سال لگے ہیں راتوں رات تباہ نہیں ہوا اور آپ چاہتے ہیں ٹھیک فوراً کر دیا جائے ۔؟

    ایسا ممکن ہی نہیں ہمیں ٹیکسز مہنگائی غربت کی چکی میں پسنا پڑے گا اب یہ تکلیفیں اٹھانا پڑیں گی اس کے علاؤہ کوئی دوسرا چارہ ہی نہیں۔ آئینے کے دو رخ ہوتے ہیں مگر بدقسمتی سے عقل و فہم سے عاری اندھے گونگے بہرے لوگ دیکھنے سننے اور سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہیں۔ عمران خان نا بھی رہا تو اس کو کون سا فرق پڑے گا وہ تو وزیراعظم بننے سے پہلے بھی شہرت و عزت کہ زندگی وہ گزار چکا ہے بعد میں بھی گزار لے گا فرق پڑے گا مجھے اور آپ کو جو آج ہم عمران خان کو کوس رہے ہیں کل جب پھر سے ہم پر ڈاکو خاندان راج کر رہے ہونگے تو ہم اس وقت کو یاد کر کہ دہایاں دے رہے ہونگے لیکن پھر وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔

    خدارا ہوش کے ناخن لیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے ۔۔

    Twitter @zohaibofficialk

  • سودی نظام اور ہماری معیشت (Part 2)۔۔۔ تحریر : اقصی یونس

    سودی نظام اور ہماری معیشت (Part 2)۔۔۔ تحریر : اقصی یونس

    جیسے جیسے ڈالر کی اڑان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے قرضوں کا حجم بھی ویسے ویسے بڑھتا جا رہا ہے ۔ جس کو کم کرنے کیلئے حکمران مزید قرضے لینے پہ مجبور ہیں ۔ اور ماہر معشیات کے مطابق پاکستان کی معشیت اب اس مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں اب قرضوں کی ادائیگی بھی مزید قرض لے کر ہوگی۔ اور ان قرضوں سے اب ایکسپورٹ میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوگا ۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو آئندہ چند برسوں میں قرضے کی قسطیں ہمارے مجموعی بجٹ سے بھی بڑہ جائیں گی ۔ صرف یہی نہیں مصیبت برائے مصیبت ان قرضوں کے ساتھ بڑھنے والا سود بھی ہے ۔

    مارچ 2019ء میں ہمارے بیرونی قرضے تقریباً 105 ارب ڈالر تک تھے جس میں 11.3 ارب ڈالر پیرس کلب، 27 ارب ڈالر دوست ممالک اور دیگر ڈونرز، 5.7 ارب ڈالر آئی ایم ایف اور 12 ارب ڈالر کے بین الاقوامی یورو اور سکوک بانڈز شامل ہیں۔ ہمارا آدھا سے زیادہ ریونیو قرضوں اور سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے جس کی وجہ سے تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور سماجی شعبوں کے ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات پورے کرنے کیلئے فنڈز دستیاب نہیں۔ ملکی قرضوں کے باعث 2011ء میں ہر پاکستانی 46 ہزار روپے، 2013ء میں 61 ہزار روپے اور آج 1 لاکھ 81ہزار روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔ لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ معیشت کا احیا تو کجا‘ الٹا ہماری آزادی اور بقا خطرے میں ہے۔ دراصل یہ اقتصادی دانشور ایک سازش کے تحت ہمیں سمجھانے پاکستان آتے ہیں اور ہر بار ہمیں ایٹمی پروگرام، کشمیر اور دفاعی بجٹ میں کمی کرنے کی تلقین کرکے قرضوں کا سلسلہ دوبارہ چالو کرا دیتے ہیں۔ میرے خیال سے اقتصادی اور سیاسی تنہائی پاکستان کے حق میں خوش بختی کا ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ میرے یقین کے پیچھے ٹھوس دلائل ہیں

    اگر ہم سود کو ہی نہ چھوڑیں گے تو ہم براہ راست اللہ سے جنگ کرنے میں شامل ہیں ۔ عالمگیر سودی نظام کی جڑیں ہمارے اندر تک پیوست ہوگئی ہیں ۔ ہم اس سودی نظام کی گرفت سے آزاد نہ ہو گے تو اللہ کی مدد بھی ہمیں کبھی حاصل نہ ہوگی ۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ نے شعیب ابی طالب میں رہ کر اقتصادی مقا طعے کا سامنا کیا ۔ اور چند سالوں بعد جنگ احزاب میں دشمنانِ اسلام کی متحدہ قوت کو پسپا کر دیا۔ تو یہ کہنا تو سراسر زیادتی ہوگی کہ ہم اس نظام کو کم از کم پاکستان سے ختم نہیں کر سکتے۔

    پہلی بات تو یہ کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور ایک زرعی ملک بھی ۔ اول تو اسے سیاسی طور پہ تنہا رکھنا ممکن ہی نہیں ۔ لیکن پھر بھی اگر ایسا کچھ ہوتا بھی ہے عین ممکن ہے تو تیل کی دولت سے مالا مال ملک ہمارا قرض اتارنے میں ہماری مدد ضرور کریں گے اگر وہ ممالک مغربی افواج پہ اربوں ڈالر خرچ کر سکتے ہیں تو ہماری مدد کیوں نہیں کریں گے ۔ دوسری بات پاکستان میں قیادت کا بحران اسی وجہ سے پیدا ہوا کہ ہم غیر ملکی طاقتوں کی جکڑ میں ہیں ۔ اور عالمی طاقتوں نے اپنے ایجینٹ اور کرائے کے لیڈر ہم پہ مسلط کر رکھے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ 73 سال کے اس طویل عرصے میں کوئی ایسا رہنما پیدا نہ ہو سکا ۔ جو حقیقی معنوں میں لیڈر کہلانے کے لائق ہو ۔ پاکستان کی تنہائی عوامی مزاحمت کی رہنمائی کرنے والی حقیقی قیادت کو ابھارے گی

    دوسری بات جب بھی کسی شخص کو یا کسی ریاست کو تنہا کیا جاتا ہے تو وہ اپنے وسائل اور صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے اپنا لوہا ضرور منواتے ہیں ۔ دنیا میں وہ تمام ممالک جنہیں دیفالٹ قرار دے کر انہیں سیاسی طور پہ تنہا کیا گیا وہ اپنے قدموں پہ کھڑے ہوگئے ۔اس کی ایک زندہ مثال چین ہے جو پاکستان کے بعد وجود میں آیا ۔ لیکن آج اسکی معشیت سے لے کر سیاسی حالت سب ہی قابل رشک ہیں ۔ ایران عراق لیبیا اور سوڈان کو تنہا کیا گیا لیکن وہ سب ایک مضبوط بن کر ابھرے ۔

    ….continue

  • سودی نظام اور ہماری معیشت ( حصہ اول )۔۔۔ تحریر : اقصی یونس

    وہ شخص کندھے جھکائے آنکھوں میں ندامت کے آنسو لئے زمیں میں نظریں گاڑھے بیٹھا تھا ۔ اور اسے لگ رہا تھا کہ شاید کبھی یہ نظریں اٹھ نہ پائیں گی ۔ کیونکہ اس نے اللہ سے جنگ کی تھی ۔ اس نے اپنی زندگی کے قیمتی سال ، اپنی صلاحیتیں ، اپنی توانائی ایک ایسے مغربی نظام پہ خرچ کی تھی ۔ جسکی اسکے مذہب میں کوئی جگہ نہ تھی مگر اسے واپسی کا کوئی راستہ بھی نظر نہ آ رہا تھا ۔ اور مسلسل اس کی زبان پہ یہی الفاظ تھے ۔ کہ میں نے سود والا رزق چن کر اللہ کی حد توڑ دی ۔ وہ رو رہا تھا وہ اعتراف جو اسکا ضمیر کئی سال سے کر رہا تھا آج پہلی بار وہ یہ اعتراف کسی انسان کے سامنے دہرا رہا تھا۔ اور اسے محسوس ہورہا تھا کہ یہ اعتراف اسے اندر ہی اندر کوڑے مار مار کر شاید نگل جائے گا ۔ یہ ضمیر کا کوڑا ہر اس شخص کو ضرور ایک دن لگتا ہے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ سود کے کاروبار سے منسک ہے۔

    مغربی مالیاتی نظام یہودیوں نے قائم کیا ۔ اور مالیاتی نظام نے دنیا کی معشیت کو آکٹوپس کی طرح جکڑ لیا ہے ۔ اب اگر کوئی اس جکڑ سے نکلنا بھی چاہے تو یہ کام اتنا آسان نہیں۔ کیونکہ دنیا میں مغربی مالیاتی نظام کے بانی یہودی ہیں ۔ اور وہ اس نظام کو موثر اور کامیاب بنانے میں قابل رشک حد تک کامیاب ہیں ۔ یہ وہی سود ہے جو بنی اسرائیل کے زوال اور ذلت کا سبب بنا ۔ لیکن وہی یہود آج بھی اس سے نہ صرف چپکے بیٹھے ہیں بلکہ اسے مسلمانوں کے اندر تک اس طرح پھیلا چکے ہیں ۔ کہ اب یہ سودی نظام ہمارے خون میں ویسے ہی دوڑ رہا ہے جیسے غذا ۔ اور یہ سود اب مسلمانوں کے خمیرمیں اتنا رچ بس گیا ہے ۔ کہ امت مسلمہ اس کو صحیح اور جائز قرار دینے کیلئے دلائل پیش کرتی ہے ۔ اور یہ وہ اُمّتِ محمدی تھی جن کے لیے قبلہ بدلا گیا تھا اور جنہیں بنی اسرائیل سے امامت لے کر دی گئی تھی۔

    بظاہر ہم ایک آزاد ریاست ہیں ۔ مگر جن ممالک سے ہم قرضے لے رہے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مقروض ممالک کو قرضے دے کر اپنی مرضی کی پالیسیاں بنائی جا سکتی ہیں جن سے غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوگا ۔ جن کا تما م تر منافع قرضے دینے والوں کو پہنچے گا ۔گزشتہ 73 برس میں لیا گیا کھربوں ڈالرز کا قرضہ کہاں جاتا رہا یہ بات ہمارے علم میں نہیں ۔ نواز شریف کے دور حکومت میں عوام کے لئے منجمند گیارہ ارب ڈالر کا کچھ پتا نہ چل سکا ۔ موجودہ حکومت کے احتساب کے وعوؤں کے بعد اب ہر عمل ہی مشکوک ٹھہرا ۔

    موجودہ حکومت بھی اداروں سے زیادہ غیر ملکی قوتوں کے دباؤ کا شکار نظر آتی ہے ۔ اگر حالات یونہی رہے تو ممکن ہے کہ احتساب کا پورا نظام اپنے اختتام کو پہنچے ۔ یہ قرضے جو بظاہر عوام کی فلاح و بہبود کیلئے لئے گئے ۔ یہی قرضے اب عوام کے گلے کا پھندہ بن چکے ۔ اب انہی قرضوں کا سود سمیت واپسی کا مطالبہ کیا جارہا ہے بلکہ پورے کے پورے نظام کو وہ لوگ ان قرضوں کے عوض خریدنا چاہتے ہیں ۔ گیس بجلی اور آٹے کے نرخ آئی ایم ایف طے کر رہی ہے ۔ آئی ایم ایف کے حکم کے مطابق غریبوں پہ مہنگائی کا ایسا بوجھ ڈالا جا رہا ہے کہ انکے لئے زندگی جیسی نعمت کو تنگ کر دیا گیا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ کرنسی کی قیمت سے لے کر ذرائع اور وسائل کی تقسیم تک اور پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھنے والی ایٹمی صلاحیت پہ بھی آئی ایم ایف اپنی نظریں گاڑھے بیٹھا ہے ۔

    صرف یہی نہیں ان قرضوں کو جواز بنا کر ہماری شاہ رگ کشمیر تک کے معاملے میں ہمیں پسپائی پہ مجبور کیا جا رہا ہے ۔ اور ہر معاملے میں یہ قرضے جن سے میٹرو اور اورنجن لائن کا تحفہ تو عوام کو مل گیا مگر ہمارے ہاتھ باندھ دئیے گئے ۔ اور انہی قرضوں کو آئی ایم ایف اب ایک ہتھیار کے طور پہ استعمال کر رہا ہے ۔ جبکہ یہاں بھی کچھ اقتصادی دانشوروں کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے قرضے دینے سے انکار کیا تو ہمیں ڈیفالٹ قرار دے کر دنیا میں تنہا کر دیا جائے گا، برآمدات نہیں ہوں گی، ایل سی (Letter of credit) نہیں کھلے گا۔ یہ دانشور بھی مغرب کی پیداوار ہیں ۔ لیکن میرے نزدیک یہ مفروضہ ہی غلط ہے۔ جب ہم اپنے ہمسائے ممالک پہ غور کریں جن میں چین ، اففانستان ایران اور دیگر اسلامی ممالک شامل ہیں ۔ برامدات اور تجارت کا سلسلہ ان ممالک سے جاری رکھا جا سکتا ہے جن پر کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔ اس طرح ایک تجارتی بلاک وجود میں آ سکتا ہے۔ ہمارا سب سے زیادہ خرچ تیل پر ہوتا ہے جس کے بدلے ہم تیل پیدا کرنے والے ممالک کو چاول، گندم اور کپاس برآمد کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف لاطینی امریکا کے سولہ ملک خود کو ڈیفالٹ قرار دے چکے ہیں جس کے بعد ان کی معیشت میں بہتری کے آثار پیدا ہوئے۔ جہاں تک تنہائی کا معاملہ ہے تو چین اور روس نے سیاسی طور پر تنہا ہو کر ہی ترقی کی۔ ہمارے اقتصادی ماہرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہماری معیشت سنبھل رہی ہے، میری نظر میں یہ سفید جھوٹ ہے۔ عوام معاشی بدحالی اور بیروزگاری کے ہاتھوں خودکشی کر رہے ہیں، مہنگائی ناقابل برداشت ہو چکی ہے، بجلی، پٹرول اور گیس کی قیمتیں بار بار بڑھائی جا رہی ہیں، یہ کیسی معاشی ترقی ہے؟اور ہمارے وزیراعظم کام سے زیادہ دکھاوے پہ زور دے رہے ہیں جس کی منہ بولتی مثال تبدیلی سرکار کے تین سال مکمل ہونے پہ کی جانے والی تقریب تھی

    جاری……..

  • احیائے اُردو، تحریر:سید غازی علی زیدی

    بعد نفرت پھر محبت کو زباں درکار ہے
    پھر عزیز جاں وہی اردو زباں ہونے لگی

    ٹویٹر نے اردو زبان پر وہ احسان کیا ہے جو ہماری تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ وہ اردو زبان جس کا نام ونشان پاکستان سےمٹتا جا رہا تھا اچانک سے ایسی چمک دمک کیساتھ شہرت کی بلندیوں کو چھو رہی کہ مثال نہیں ملتی۔ ٹویٹر نے تو خاک سے اٹھا کر سونا کیا ہیرا کردیا۔ سکول و کالج کا سب سے زیادہ مظلوم ترین مضمون اس وقت سب سے زیادہ مانگ میں ہے۔ وہ لوگ جن کی رہی سہی کسر رومن اردو اور میسج ٹائپنگ نے بگاڑ دی تھی۔ وہ راتوں رات اردو دان بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جو ایک جملہ درست نہیں لکھ سکتے تھے وہ پورے پورے مضمون لکھ رہے۔ جنہوں نے کبھی فیس بک کے علاوہ کوئی کتاب نہیں کھولی تھی وہ ذوق و شوق سے اردو ادب پڑھ رہے اور تبصرے بھی کر رہے۔
    کہتے ہیں جو کچھ بھی ہوتا قدرت کی طرف سے اچھے کیلئے ہوتا۔ قلمکار کی ناچیز رائے میں یہ اللّٰہ تعالیٰ کیطرف سے اشارہ ہے کہ مستقبل اردو زبان کا ہے۔ بیشک ابھی الفاظ و افکار مستعار لئے گئے ہیں، کاپی پیسٹ کی بھی بھرمار ہے لیکن یہیں سےاردو زبان وبیان کا از سر نو احیاء ہوگا۔ کتب بینی دوبارہ عام ہوگی۔ پر تاثیر و پردرد الفاظ کا جب ذخیرہ عام ہوگاتو یہی الفاظ ذہنی سوچ و فکر کو بھی بدلیں گے ان شاءاللہ۔
    ہر نیا رجحان نئی ترجیحات طے کرتا۔ گو کہ تخلیق کا عمل سہل نہیں قلمکار کوئ بھی شاہکار تخلیق کرنے کے دوران ایک مخصوص ذہنی عمل سے گزرتا ہے کسی کرب کو سہتاہے کوئ محرک اسے لکھنے پرمجبور کرتا ہے تب ہی بہترین تخلیق جنم لیتی ہے
    یہاں تک بہترین مزاح بھی نمناک ہوسکتاہے۔ فی الحال یہ بات تازہ بہ تازہ لکھاریوں کو سمجھ نہیں آئے گی لیکن کل کو انہی میں سے کوئی اشفاق احمد کوئی بانو قدسیہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شاندار ادب تخلیق کرے گا۔ کاپی پیسٹ کرنے والے کل کو اپنے مخصوص انداز تحریر کےمالک ہونگے۔ ان کی تحریریں میں قلمکار کی ذات بھی جھلکے گی اور دلی جذبات بھی عیاں ہوں گے۔
    مانا کہ لکھنا ایک مشکل امر ہے لیکن شوق و جذبہ ہو تو ناقابلِ تسخیر چوٹیاں تک سر ہوجاتی یہ تو پھر قلم کے قدم بہ قدم دوستانہ سفر ہے۔ بس یہ عہد کرلیں کہ بلیو ٹک کی شرط ہو نہ ہو ہمیں لکھتے رہنا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ کل کو ہم بہترین قلمکار نہ بن سکیں۔
    صفحہ کاغذ پہ جب موتی لٹاتا ہے قلم
    ندرتِ افکار کے جوہر دکھاتا ہے قلم

    @once_says

  • انجمن تاجران فتح جنگ کا اساتذہ کو خراج تحسین پیش کرنے کا بہترین انداز

    انجمن تاجران فتح جنگ کا اساتذہ کو خراج تحسین پیش کرنے کا بہترین انداز

    فتح جنگ (خصوصی رپورٹ) اساتذہ قوم کے محسن ہوتے ہیں اور جو قوم اپنے محسنوں کو یاد رکھتی ہے وہی ترقی کی منازل طے کرتی ہے، قومیں اپنے اسلاف،اساتذہ اور علماء ومشائخ کی ہی مرعون منت ہیں جو انہیں نظریات سے جوڑے رکھنے کے ساتھ ساتھ علم و آگہی اور تربیت کی منازل طے کرواتے ہیں۔ اسلام آباد سے 30کلومیٹر کے فاصلے پر واقع قصبہ فتح جنگ میں تاجروں نے پاکستان بھر کی عوام کیلئے مثال قائم کردی، اساتذہ کے عالمی دن کے موقع پر فتح جنگ کے تاجروں نے اساتذہ کرام کو20سے50فیصد تک ڈسکاؤنٹ دیا، جس کیلئے شہر بھر میں بینرآویزاں تھے۔ایسی مثال پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ملی۔

    اساتذہ کیلئے سلام اساتذہ مہم کے چیف آرگنائزر رضی طاہر نے کہا کہ ہم نے اپنے اساتذہ کو تکریم دینے کیلئے یہ چھوٹی سی کوشش کی ہے تاکہ اساتذہ کی عزت بحال ہوسکے، ہمارے معاشرے میں اساتذہ کے ساتھ کیا جانیوالا سلوک درست نہیں ہے یہی ہمارے زوال کی وجہ ہے۔

    انجمن تاجران فتح جنگ کے سیکرٹری اطلاعات تعبیر شاہ نقوی نے بتایا کہ یہ کئی دکانوں پر اساتذہ کرام کیلئے یہ آفر سال بھر کیلئے رہی گی جس میں کلاتھ، کپڑوں اور شوز کی دکانیں بھی شامل ہیں۔

    اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر وقاص اعظم کا کہنا تھا کہ اساتذہ کی وجہ سے ہمیں مقام ملتا ہے اور ہم انہیں فراموش کردیتے ہیں، ہم سب کو اپنے عظیم اساتذہ کو ہمیشہ اور ہر حال میں یاد رکھنا چاہیے۔ پرائس کنٹرول کمیٹی کے ممبران ملک حسیب رضا اور حاجی ملک تاج، سماجی رہنما غلام یٰسین اطہر، ملک رفاقت اعوان، ذیشان عزیز خان اور تحریک انصاف کے ضلعی رہنما سردار افتخار خاری خان نے اس مہم کی کامیابی کیلئے بھرپور کاوشیں کیں۔

  • خوش اخلاقی خوف الہی کی دلیل ،تحریر:صائمہ رحمان

    خوش اخلاقی خوف الہی کی دلیل ،تحریر:صائمہ رحمان

    خوش اخلاقی خوف الہی کی دلیل ،تحریر:صائمہ رحمان

    انسان کی کامیابی کا راز خوش اخلاقی میں چھاپا ہوا ہے ۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس سے انسان دوسروں کے دل جیت سکتا ہیں ۔ لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کر سکتا ہے خوش اخلاقی ایک سرمایہ ہے خوش اخلاقی اچھے برتاو کا نام ہے بد اخلاقی انسان کے دلوں میں صرف نفرت پیداکرتی ہے ہم میں سے ہر شخص یہی چاہتا ہے کہ اسن کے ساتھ عزت اور اخلاق سے بات کی جائیں یقین جانیئے اچھے اخلاق سے آپ لوگوں کے دلوں میں گھر کر سکتے ہیں۔
    جس طرح بغیر خوشبو اور رنگ کے کوئی پھول پھول کہلانےکا مستحق نہیں اس ہی طرح انسانیت اور خوش اخلاقی کے بغیر کوئی انسان انسان کہلانے کا حق نہیں رکھتا۔ ایک خوش اخلاق شخص میں عاجزی اورانکساری کی صفت موجود ہوتی ہے خوش اخلاقی بہت بڑی خوبی ہے۔ خوش اخلاقی عظمت اور اشرفت کی دلیل ہےانسانیت کی بیناد اخلاق پر قائم ہےاخلاق انسانی سیرت وکردار پر مبنی رویے کا نام ہے اچھے اخلاق کا خلاصہ ہے کہ انسانیت کو تکلیف نہ دینا ہے خوش اخلاقی وقت کی ایک اہم ضرورت ہے خقش اخلاقی ایمان کامل کی علامت بھی ہےایک حدیث نبوی ؐ کے مطابق مومنوں میں سب سے کامل ایمان والا شخص وہ ہے جو اچھے اخلاق کا مالک ہو اور سب سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ بہترین ہو۔
    اعلیٰ اخلاق یہ ہے کہ آدمی دوسرے کے رویے کی پرواء کیے اخلاق دیکھے بغیر اپنا رویہ اور اخلاق متعین کرےحضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ حضور اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا :جس کے اخلا ق اچھے ہوں وہ کامل ترین ایمان والا ہے اور تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنی عورتوں کے حق میں بہترین ہو۔)

    اسلام میں اخلاقیات کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ ایمان و عقائد کی درستی کے بعد نیک اعمال و افعال کرتے ہوئے جب تک ایک مسلمان حُسنِ اخلاق جیسی صفت سے ہمکنار نہ ہوجائے اس کی زندگی دوسروں کے لیے نمونۂ عمل نہیں بن سکتی ۔
    اخلاقی اصول ایسے رویہ کی جانب راہنمائی کرتے ہیں جس سے خوشی ملتی ہے دل سکون میں ہوتا ہے اخلاق ضبط نفس پیدا کرتا ہے برائی کا جواب اچھائی میں دینا افضل اخلاق ہے اچھے اخلاق والے کامل مومن ہیں۔اچھے اخلاق دل جیتنے کا زبردست نسخہ ہےمسلمان کے اچھے اخلاق کی برکت سے غیر مسلموں کو دولتِ ایمان نصیب ہوتی ہےاچھے اخلاق کی بدولت دین کا کام خوب ترقی کرتا ہےاچھے اخلاق کی سے دشمن بھی دوست بن جاتے ہیں اچھے اخلاق کی برکت سے انفرادی کوشش میں مشکلات پیش نہیں آتیں۔
    اللہ پاک ہمیں بھی اچھے اعلی اخلاق کی لازوال دولت سے مالا مال فرمائے اور بد اخلاقی سے ہمیں دور کرے

    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6

  • پاکستان کی سکیورٹی صورتحال .تحریر: انیحہ انعم چوہدری

    پاکستان کی سکیورٹی صورتحال .تحریر: انیحہ انعم چوہدری

    افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد جنوبی ایشیاء کی سکیورٹی صورتحال یکسر مختلف ہوگئی ہے۔ امریکہ کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد چین نے اپنے پنجے افغانستان میں جمانا شروع کر دیے ہیں اور اس کا ثبوت چائنا کی حکومت کے طالبان کی قیادت کے ساتھ بیچنگ میں کیے گئے مذاکرات ہیں۔ اسی مذاکرات کی خبروں کے نتیجے میں امریکہ نے چین کے خلاف ایک بلاک بنانے کا فیصلہ کیا جس کا اہم رکن بھارت ہوگا۔ بھارت چونکہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خلاف ہے اور پنجشیر میں احمد مسعود کی خفیہ طور پر مدد بھی کرتا رہا ہے اور لداخ کے بارڈر پر چین اور بھارت کی فوجیں کافی بار ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراتی رہی ہیں تو ان سب چیزوں کو دیکھنے کے بعد امریکہ نے بھارت کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

    افغانستان کی صورتحال کے پیش نظر پاکستان کے سرحدی علاقوں اور خصوصاً بلوچستان میں امن وامان کو تباہ کرنے کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ گوادر میں ایف سی اہلکاروں پر جان لیوا حملے ہوں یا پھر کوئٹہ کا سریاب روڈ ہو، ہر طرف دشمن عناصر پاکستان کو ناتلافی نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں گوادر میں قائد اعظم محمد علی جناح کے بنائے گئے مجسمے کو ایک خودکش دھماکے کی صورت میں تباہ کر دیا گیا، جس کے بعد پاکستانی قوم کے دل میں کافی غم و غصہ دیکھنے کو ملا۔ اس حملے سے دشمن نے پاکستانی قوم کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ ہم کبھی بھی اور کسی وقت بھی بلوچستان کے حالات کو خراب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی حملے کے فوراً بعد اگلے دن دہشتگردوں کی طرف سے ایک دفعہ پھر ایف سی سکیورٹی اہلکاروں کے اوپر حملہ کیا گیا اور اس خودکش حملے کے نتیجے میں متعدد ایف سی جوان اس مٹی کی حفاظت کی خاطر اپنی جان قربان کر گئے۔ ایف سی سکیورٹی فورسز بلوچستان میں چائنیز حکام کی سکیورٹی پر مامور ہونے کے علاوہ صوبہ بلوچستان کی سرحدوں کی حفاظت پر بھی مامور ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کو تقویت دینے کے لیے بھارت اور ایران اپنے ناپاک عزائم کو استعمال کرتے ہوئے بلوچستان کے حالات کو خراب کرنے کے در پر ہیں۔ حالیہ دنوں میں ان تمام دہشتگردانہ واقعات کے پیچھے اگر ہم ایران کے سازشی نظریات کو پرکھیں تو بہت بڑی زیادتی ہوگی۔ ایران ہی وہ ملک ہے جو انڈیا کو پاکستان کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے اپنی سر زمین مہیا کرتا ہے۔ کلبھوشن یادیو کا کیس ہو یا دہشتگردوں کی نقل و حمل کا مسئلہ ہو، ایران نے ہمیشہ بھارت کو ایک پل کا سہارا دیا ہے۔

    حالیہ دنوں میں جو سکیورٹی فورسز پر حملے کیے گئے ہیں ان میں سے متعدد حملہ آور ایران کے رستے سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔ چند مہینے پہلے پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے کوئٹہ میں متعدد سکولوں کو سیل کیا اور وہاں پر پڑھایا جانے والا لٹریچر اپنے قبضے میں لیا، وہ سکول پاکستان مخالف کاروائیوں کو فروغ دینے کے لیے بنائے گئے تھے اور ان کو تمام فنڈنگ ایران سے مل رہی تھی۔

    پاکستان کو افغانستان کے ساتھ ساتھ ایران کی سرحد کو بھی محفوظ بنانے کی کوشش کرنی چاہئیے تاکہ دشمن کا وار ہر طرف سے ناکام ہو اور بلوچستان میں ترقی ہوتی ہوئی نظر آئے اور سی پیک کے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا جا سکے۔ پاکستان زندہ باد!

    @anihachaudhry

  • فیشن پرستی کا روگ ،تحریر:سید غازی علی زیدی

    فیشن پرستی کا روگ ،تحریر:سید غازی علی زیدی

    تنگ جینز، چھوٹی قمیض، بکھرے بال، ایک ہاتھ میں سگریٹ دوسرے میں سمارٹ فون ، منہ میں گٹکا یا پان، اور ہونٹوں پر گندی گالی، یہ ہے آج کا عام پاکستانی نوجوان۔ جس کے پاس تعلیم بھی ہے اور شاید کسی حد تک ہنر بھی مگر کردار و اخلاق کا بری طرح سے فقدان ہے۔
    وہ نوجوان جو بیش قیمت اثاثہ ہوتے، جن پر ملک کے مستقبل کی اساس ہوتی، وہ بری طرح سے بگڑتے جارہے ہیں۔ فیشن پرستی کا وبال ہماری اقدار کو گھن کی طرح کھا رہا لیکن والدین، اساتذہ اور ارباب اختیار خاموشی سے تماشائی بنے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ، ہنرمند مگر عمدہ اخلاق و کردار کے حامل نوجوان ہی کسی بھی ملک کا سرمایہ افتخار سمجھے جاتے ہیں۔ نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت پرملک کی ترقی و تنزلی منحصر ہوتی مگر بدقسمتی سے پاکستانی نوجوان نسل بری طرح سے بے راہ روی کا شکار ہورہی۔ مشرقی اقدار جن پرکبھی ہم نازاں تھے یورپ کی اندھی تقلید میں کھو چکی ہیں۔ اور رہی بات اسلام کی تو وہ بس سوشل میڈیا کی پوسٹس یا اسلامیات کے پیپر تک محدود ہو کر رہ گیا ہے عملی زندگی میں کہیں نام و نشان نہیں رہا۔ المیہ یہ ہے کہ نہ خوف خدا رہا ہے نہ شریعت کا کوئی لحاظ۔ بس ایک بھیڑ چال کی کیفیت ہے جس میں ہر کوئی بگٹٹ بھاگے چلا جا رہا۔
    وہ حیا جو کل تلک تھی مشرقی چہرے کا نور
    لے اُڑی اس نکہتِ گل کا یہ تہذیب فرنگ

    آجکل کے زیادہ تر نوجوان لڑکے یا تو سارا دن پب جی کھیل رہے یا ٹک ٹاک پر ویڈیو بنا رہے۔ چرس، ہیروئن اور پورن فلموں کے نشے میں ڈوبے اور اگر امتحان پاس کرنا ہو تو آئس کا نشہ کر کے وقتی طور پر دماغ روشن کر لیتے چاہے بعد میں پوری زندگی تاریکی میں ڈوب جائے۔
    اور رہی لڑکیاں تو ان کا حال اس سے بھی زیادہ خراب ہے۔ ہر بدلتا فیشن اپنانا ان کا فرض عظیم ہے چاہے وہ اسلامی و اخلاقی اقدار کے منافی ہی کیوں نہ ہو۔ فیشن کی دوڑ اور نمایاں و برتر نظر آنے کے چکر میں نت نئے برانڈز کی چاندی ہے۔ بات زیب و زینت سے بڑھ کر نمود و نمائش سے بھی آگے نکل چکی ہے۔ رہی سہی کسر ماڈلز و اداکاراؤں کے طرز زندگی کی نقالی نے پوری کر دی ہے۔

    “اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو! ہم نے تمہارے لیے لباس نازل کیاہے جو تمہارے جسم کے ان حصوں کو چھپا سکے جن کا کھولنا برا ہے، اور خوشنمائی کا ذریعہ بھی ہے۔ اور تقویٰ کا لباس سب سے بہتر ہے۔ یہ سب اللہ کی نشانیوں کا حصہ ہے، جن کا مقصد یہ ہے کہ لوگ سبق حاصل کرسکیں۔ “
    قرآن مجید کے اس واضح حکم کے باوجود ہم بغیر کسی پچھتاوے کے نفس کے اسیر بنے ہیں۔ فیشن پرستی میں اس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں کہ فیشن اور فحاشی کا فرق مٹ گیا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو والدین اور بزرگوں کی صحبت اب آؤٹ ڈیٹڈ لگتی ہے۔ مخلوط محافل، فاسٹ فوڈ اور بیہودہ لباس کو جدت پسندی اور فیشن کے نام پر اپنایا جارہا۔فیشن پرستی اور مغرب کی اندھی تقلید ہمارے معاشرے کی جڑوں کو روزبروز کھوکھلا کر رہی اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ عریانی کو فروغ دیتے فیشن کی نہ تو مذہب اجازت دیتا نہ ہماری مشرقی اقدار۔
    نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی
    یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

    فیشن کچھ حدود و قیود میں کرنا قطعاً معیوب نہیں ہے۔ مگر فیشن پرستی کی آڑ میں اسلامی تعلیمات و تہذیب کو پس پشت ڈال کر اندھا دھند تقلید ہمارے نوجوانوں میں بری طرح بگاڑ کا سبب بن رہی اور ہمارے معاشرے کا اب یہ حال ہوچکا ہے کہ
    “کوا چلا ہنس کی چال، اپنی چال بھی بھول گیا”

    @once_says

  • اہل فتح جنگ نے تاریخ رقم کردی، سلام اساتذہ کانفرنس وتقریب تقسیم ایوارڈز کا اہتمام

    اہل فتح جنگ نے تاریخ رقم کردی، سلام اساتذہ کانفرنس وتقریب تقسیم ایوارڈز کا اہتمام

    فتح جنگ (نمائندہ باغی ٹی وی) فتح جنگ میں پہلی دفعہ سلام اساتذہ کرام کانفرنس و تقریب تقسیم ایوارڈز کا انعقاد، سینکڑوں اساتذہ کرام کی شرکت، تعلیمی میدان میں کارہائے نمایاں سرانجام دینی والی23شخصیات کو محسن فتح جنگ ایوارڈ سے نوازا گیا، 17سال کے بہترین اساتذہ،4بہترین پرنسپل قرار، جبکہ6ریٹائرڈ اساتذہ کو حسن کارکردگی کی شیلڈ دی گئی، اساتذہ کرام کی خوشی دیدنی، ایوارڈ لینے والوں نے سکول کے زمانے کی یادیں تازہ کیں، جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے، تفصیلات کے مطابق وائس آف پاکستان فورم کے زیر اہتمام اے ای اوز یونین، انجمن تاجران، ٹیم سردار محمد علی خان، انجمن بہبود مریضاں اور سماجی بہبود کونسل کے تعاون سے فتح جنگ میں یوم اساتذہ کے موقع پر تاریخی سلام اساتذہ کااہتمام کیا گیا، جس کی صدارت فتح جنگ کے سینئر استاد محترم ملک نورزمان نے کی،اساتذہ کرام کی کثیر تعداد پنڈال میں موجود تھی،ملک نورزمان، حاجی بدرالزمان مرحوم،چوہدری قطب الدین، ملک سرفراز،حافظ محمد قاسم مرحوم، اقبال خان مقصود مرحوم، قاضی محمد عارف، قاضی خضرالزمان ضیاء، مظفر حسین ظفر مرحوم،محمد یونس راحت، پروفیسرلعل حسین، پروفیسر محمد اسلم، حاجی عبدالرؤف، محمد توفیق، ملک فیروز خان، ابوعبیدشاہ، سردار امتیاز، محمد ریاض، مظہر حسین شاہ،میڈم حفیظ، میڈم بلقیس،عبدالمالک، حاجی محمد عارف، میڈم محبوب کو محسن فتح جنگ ایوارڈ دیا گیا، جبکہ ڈاکٹر قاضی طارق محمود، سید تنویر حسین شاہ، عبدالخالق، زبیدہ بیگم، سجاد احمد خان کو حسن کارکردگی کا ایوارڈ دیا گیا، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول نمبر2کی پرنسپل محترمہ نادیہ، گورنمنٹ بوائز ہائی سکول نمبر2کے پرنسپل محمد مسکین، گورنمنٹ ہائی سکول حطار کے پرنسپل ڈاکٹر مبشر جاویداور گورنمنٹ بوائز ہائی سکول قطبال کے پرنسپل حسام الدین کوسال2021کے بہترین رئیس المدرسہ کا ایوارڈ دیا گیا، جبکہ حاضر سروس اساتذہ میں سے شفقت محمود گلی جاگیر، عامر حسین گلیال، قدیر اختر فتح جنگ، عبدالقادرکوٹ فتح خان، اشفاق حسین جھنگ، بشارت علی باہتر، فیصل حیات کلیار، صائمہ بی بی منگیال، لبنیٰ کوثر فتح جنگ، عابدہ کلثوم باہتر، نازش بی بی قطبال، آمنہ خدمت علی گلیال، سادیہ بتول لاسہ،شکیلہ نثارملال، عظمت شہزادی گلی جاگیر، صدف صدیق کوٹ فتح خان،عالیہ بی بی جھنگ کو سال کے بہترین ٹیچر ہونے کا ایوارڈ ملا۔

    استقبالیہ گفتگو میں چیف آرگنائزر رضی طاہر نے کہا کہ میں آج کا دن اپنے عظیم داد ا جان حاجی بدرالزمان کے نام کرتا ہوں جنہوں نے ساری زندگی علم کی شمعیں روشن کیں، اساتذہ ہمارے محسن و رہبر ہیں جن کی وجہ سے ہمیں دنیا میں مقام ملا، سردار خاری خان نے کہا کہ یہ ہمارے لئے اعزاز ہے کہ ہم اساتذہ کرام کی محفل کے میزبان ہیں، انہی اساتذہ کے دم قدم سے ہمارے گلشن میں بہار ہے

    فتح جنگ کی تاریخی درسگاہ گورنمنٹ ہائی سکول نمبر1میں 22سال بطور ہیڈماسٹر رہنے والے مایہ ناز استاد ملک نورالزمان نے سلام اساتذہ کرام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کرام علم کے ساتھ ساتھ تربیت پر زور دیں، نئی نسل کو تربیت کی ضرورت ہے، تدریس کو اپنا فریضہ سمجھیں اور اس شعبے سے وابستہ افراد اپنے آپ کو چند گھنٹے کا ملازم نہ سمجھیں بلکہ اپنی ذمہ داریوں کا کماحقہ ادراک کریں، انہوں نے کہ آج کی تقریب اساتذہ کرام کے نام کرنے والے مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے مستحق لوگوں کو ایوارڈ سے نوازا، یہ سب عظیم لوگ ہیں،علم کے راہی اپنے اساتذہ کا احترام کریں،لوگ چلے جاتیں ہیں یادیں قائم رہ جاتی ہیں، انہوں نے جذباتی لہجے میں کہا کہ ہم بھی گھڑی بھر کے مہمان ہیں اور جانے والوں میں سے ہیں، نجانے پھر ہوں گے یا نہیں، بس اتنا یاد رکھنا کہ علم کے ہتھیار سے کبھی دور نہ جانا، سینئرماہر تعلیم یونس راحت نے خطاب میں کہا کہ اس دور میں جب اساتذہ کرام کا احترام کم ہوتا جارہا ہے، اساتذہ کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ایسی تقاریب کا ہونا بہت ضروری ہے۔

    ڈاکٹر یٰسین اطہر نے کہا کہ آج کا دن اس حوالے سے اہم ہے کہ تین نسلوں کے اساتذہ ہمارے درمیان موجود ہیں،ڈپٹی ڈی ای اوشمیم اختر نے کہا اہل فتح جنگ نے اساتذہ کرام کو خراج تحسین پیش کرکے زندہ دلی کا ثبوت دیا، ڈپٹی ڈی او او سدرہ بتول نے کہا کہ آج کا دن تاریخی ہے کہ ہم اپنے اساتذہ کو تکریم دے رہے ہیں، اس موقع پر سردار افتخار احمد خان ممبر صوبائی اسمبلی، عابد داؤد چیئرمین بلدیہ، بلال عباس وائس چیئرمین بلدیہ،علامہ بلال حیدر حسان، لیاقت خان باجوڑی، حاجی عدیل افضل خان،ذیشان عزیز خان، فیصل صدیق، ملک رفاقت اعوان، حاجی ملک محمد تاج، تعبیر شاہ نقوی، ظفر اعوان، خالد اعوان سمیت شہر کی نامور سماجی و مذہبی قیادت موجود تھی۔

    دوسری جانب عالمی یوم اساتذہ کے موقع پر فتح جنگ کے تاجروں نے تاریخ رقم کردی، سلام اساتذہ مہم کے تحت اساتذہ اکرام کو شہر بھر کی دکانوں میں خصوصی ڈسکاؤنٹ دیا گیا، کئی دکانداروں نے اساتذہ کو سال بھر کیلئے 25فیصد ڈسکاؤنٹ دینے کا اعلان کیا، تفصیلات کے مطابق فتح جنگ کے تاجروں نے زندہ دلی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے اپنے اساتذہ کرام کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے بازار میں سلام اساتذہ، خصوصی ڈسکاؤنٹ کا اعلان کیا، سلام اساتذہ مہم کے تحت بازاروں میں جابجا ڈسکاؤنٹ کے بینرز دیکھنے کو ملے، سوشل میڈیا کے ذریعے بھی تاجروں نے اس دن کو اساتذہ کے نام کرنے کیلئے اپنی آفرز پیش کیں، کچھ ٹریلونگ ایجنسیوں اور دکانداروں نے سال بھر کیلئے ڈسکاونٹ دیا،سلام اساتذہ مہم کے چیف آرگنائزر رضی طاہر، انچارج سردارافتخار خاری خان، انجمن تاجران کے سیکرٹری اطلاعات سید تعبیرشاہ نقوی، سماجی بہبود کونسل کے صدر غلام یٰسین اطہر، اے ای اوز یونین کے سینئر نائب صدر وقاص اعظم، ممبر پرائس کنٹرول کمیٹی حسیب رضا، انجمن بہبود مریضاں کے صدر ملک رفاقت اعوان، پرنسپل ہائی سکول نمبر2محمدمسکین،ذیشان عزیز خان و دیگر نے سلام اساتذہ مہم میں بھرپور حصہ لینے پر تاجروں کا شکریہ ادا کیا۔