Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • قدرتی و تعمیراتی فن کا حسین امتزاج- پاکستان  تحریر: سید غازی علی زیدی

    قدرتی و تعمیراتی فن کا حسین امتزاج- پاکستان تحریر: سید غازی علی زیدی

    سرزمین پاکستان کو خالق کائنات نے بے انتہا خوبصورت نظاروں سے مزین کیا ہے۔ کہیں دیوسائی کا ٹھنڈا صحرا تو کہیں تھر کا ریگستان، کہیں کشمیر جنت نظیر تو کہیں حسن چترال کا اسیر، الحمدللہ دل کھول کر حسن عطا کیا گیا ہے اس ارض پاک کو۔
    چوٹیاں تیری ثریا سے ہیں سرگرم سخن
    تو زمیں پر اور پنہائے فلک تیرا وطن
    قدرتی صناعی سے بھرپور سبزہ زار چمن ہوں یا انسانی کاریگری کا شاہکار عظیم الشان تعمیراتی عمارتیں، پاکستان بلاشبہ دونوں میں بے مثال ہے۔ میلوں پھیلے صحرا، پراسرار وادیاں، خواب ناک جھیلیں، بل کھاتی ندیاں، فلک بوس پہاڑ، گھنے جنگلات، قدیم ترین چٹانیں، برف پوش چوٹیاں، نایاب چرند پرند، قیمتی جواہرات، رسیلے پھل، گنگناتی آبشاریں اور خطرناک ترین چشمے، تعمیراتی حسن کے نمونے، تاریخی کھنڈرات، نادر کاریگری کے شاہ پارے، مساجد و درگاہیں، ثقافت و اقدار کے امین فن تعمیر کے نادر نمونے، غرض پاکستان رنگ و نور اور حسن و جمال کا بہترین امتزاج ہے۔ تہذیب و ثقافت اپنی تمام تر رنگینیوں کے ساتھ جلوہ افروز ہے۔
    پاکستان قدیم ترین تہذیبوں کا گہوارہ – مہر گڑھ سے موہن جوداڑو تک، گندھارا سے ہڑپہ تک، مختلف ادوار تاریخی ورثہ کی صورت میں محفوظ ہیں۔ پاکستان کا تاریخی ورثہ ہماری صدیوں پرانی تہذیب کی نمائندگی کرتاہے۔
    ہر خطہ ارض اپنی مخصوص و منفرد روایات، تہذیب وثقافت کا حامل ہوتا ہے اور یہی طرزِ معاشرت نہ صرف قوموں کی تاریخ مرتب کرتی بلکہ معاشرتی رہن سہن کی بھی عکاسی کرتی۔ تہذیب و ثقافت کا تحفظ کئے بغیر کوئی ملک دنیا میں اپنی شناخت قائم نہیں رکھ سکتا۔ پاکستان کی خوش قسمتی کہ ہمارا ملک قدیم ترین تہذیبوں کا وارث ہے۔ یہاں کے طرز ثقافت میں مختلف رنگوں اور تہذیبوں کی واضح چھاپ ہے۔ مکلی کا قبرستان ہو یا جہلم کا قلعہ، بدھا کے نایاب مجسمے ہوں یا مغلوں کے نارد زیورات، شاہی قلعہ لاہور ہو یا نور محل بہاولپور، لارنس گارڈن ہو یا شالیمار باغ، ہر تہذیب، ہر دور کے حسین اثار اپنی الگ چھب کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔
    وہی قومیں تاریخ میں زندہ و جاوید رہتی ہیں جو اپنے تاریخی ورثے کی نہ صرف حفاظت کرتی ہیں بلکہ آئندہ نسلوں کیلئے اسے محفوظ بھی بناتی ہیں۔ تاریخ میں نہ صرف عجیب کشش ہوتی بلکہ بے شمار اسباق بھی پوشیدہ ہوتے۔ ایک علم کا گہرا سمندر ہوتا جسے تلاش کرنا ہوتا گہرائیوں کو ناپنا ہوتا تاکہ مستقبل کی منصوبہ بندی میں ان اسرار و رموز سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ اپنی تہذیب و ثقافت کو فراموش کرنے والے نہ گھر کے رہتے ہیں نہ گھاٹ کے۔ ماضی کی روایات ، اقدار میں سبق بھی ہوتا اور عبرت بھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنے ماضی سے دستبردار ہو جاتی ہیں ان کا مستقبل بھی ختم ہو جاتا۔ اس لئے ماضی کی اقدار کی حفاظت اور نسل نو کا ان سے تعارف مستقبل کو محفوظ و تابناک بنانے کیلئے از حد ضروری ہے۔ نہ صرف ہمارا قومی فریضہ ہے بلکہ آنے والی نسلوں کی امانت ہے جس سے ہم صرف نظر نہیں کر سکتے۔
    ہر روز نئے لوگ ، نئی رت ، نئے ساحل
    یہ زندگی نایافت جزیروں کا سفر ہے
    @once_says

  • تاریخ سے سبق کون سیکھے گا؟ .تحریر :علی رضاعلوی

    تاریخ سے سبق کون سیکھے گا؟ .تحریر :علی رضاعلوی

    غلطیوں کے انبارسب نے لگائے لیکن جوقوم اپنی غلطیوں سے سیکھ کرآگے بڑھ سکے باشعورکہلانے کی مستحق ٹھہرتی ہے،دوسری جنگ عظیم میں خوفناک تباہی کے بعد چاروں شانے چت ‘جرمنی اٹھا، دائیں بائیں دیکھا،کپڑے جھاڑے،اپنے زخموں پرنظرڈالی،انہیں سوہان روح سمجھنے کے بجائے سنگ میل بنایااورشاہراہ ترقی پرچل نکلا‘جاپان نے جیتی ہوئی جنگ ہیروشیما اورناگاساکی کی کوکھ میں راکھ بنتے دیکھی،پرل ہاربر کیابھولا پھول کھلنا بھول گئے،آج دنیابھر میں ایسی قابل رشک معاشی حیثیت کہ ہمیں ابھی ابھی کہاہے‘ چلوقرضے کے چنددن اور۔ایران‘انقلاب کے فوری بعدمسلط کردہ جنگ اورپابندیوں کے باوجوبہتری کی جانب گامزن، کئی دہائیوں پرمحیط سعودی،ایران مخاصمت کی آغوش سے بات چیت اورمحبت بھرے بیانات کی بازگشت شروع۔دنیا کسی ایک جگہ پرنہیں ٹھہرتی،سفربہرطورجاری رہتا ہے،بہتاپانی شفاف اوررکاہوا‘ کائی اورتعفن کودعوت دیتاہے، کہاگیاہے کہ کشمیرپرعقبی راستے کی سفارتکاری رنگ دکھاچکی،گلگت‘بلتستان کے دکھوں کے چند گنتی کے دن باقی رہ گئے،غلطیاں سیاستدانوں نے بھی کیں اورآمروں نے بھی۔ لیکن کوئی تاریخ کے جبرسے سیکھنا چاہے توطعن وتشنیع سے گریز ہی آخری چارہ کار،مگرادراک کون کرے ۔

    غلطیاں خارجی توکیاداخلی محاذوں پہ بھی کچھ کم نہیں ہوئیں،ابھی کل ہی کی توبات ہے جب لاہورکاوز یراعلی‘اسلام آباد کی وزیراعظم کامنہ تک دیکھنے کا روادارنہ تھا‘سندھ،بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی داستاں تونہ ہی چھیڑیئے،شاید یہی وجہ ہے کہ آصف زرداری نے پی ڈی ایم کے غبارے سے جب ہوا نکالی تواسے ماضی کے انتقام سے بھی تعبیرکیا گیا،بھلے ”شہیدہ“کا آخری فو ن ”بھائی“کوتھا۔

    پی ڈی ایم کی تشکیل چند ماہ پیشتر کی ہی توبات ہے‘قومی اتحاد،نیپ اورقوم پرستوں کی دیگرتحریکوں کے قیام اور شکست وریخت کی باتیں توقصہ پارینہ ٹھہریں،کل کی بات ہے جب ایفائے عہدکی تمنائیں جوان ہوئیں،قربتیں بڑھیں، ایک دوسرے پرسیاسی سبقت لے جانے کی کوششیں عیاں ہوئیں۔دائیں زانوں کے ساتھ ہمیشہ پاندان اورلبوں پہ شعروسیاست رکھنے والے نوابزادہ نصراللہ خان کی یادتازہ ہوگئی،ان کی مسندجلیلہ پرسابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹوکوشکست سے دوچارکرنے اور محرومی اقتدارسے منزل دارتک پہنچنے میں معاون بننے والے حضرت مولانامفتی محمود کے سپوت مولانافضل الرحمن براجمان ہوئے، قلوب واذہان میں اے آرڈی کی یاد تازہ ہوگئی،کچھ شہروں میں احتجاجی جلسوں کی گھن گرج عوام الناس کومتوجہ کرپائی یا نہیں‘بہرحال میڈیا کاپیٹ بھرنے میں بطریق احسن کامیاب ہوگئی،نتیجہ یہ نکلا کہ بائیس برس کی نوخیزجماعت پہلی باروفاق میں برسراقتدارآتے ہی تنقیدکی زدمیں آگئی،سات دہائیوں کے ذکر سے گریزاں ماضی کے حکمراں پوری گھن گرج کے ساتھ اڑھائی برسوں کا حساب مانگنے لگے،آپ توکہتے تھے اتنے درخت لگائیں گے کہاں لگے؟زرد ہواؤں کے تھپیڑے میں آئے پاکستان کوسرسبزکیوں نہیں بنایا؟روزگارپید ا کرنے کے مواقع کہاں ہوا ہوئے؟اورہاں وہ تہہ درتہہ،پہلوبہ پہلوگھروں کی آسودگی کے دکھائے گئے خواب؟سوالات کرنے والوں سے بھی کچھ سوال توبنتے تھے،پوچھا گیا،خارزارسیاست آپ کیلئے چمنستان دہرکیسے ثابت ہوا؟دس‘بیس،تیس برس قبل جب آپ نے وادی سیاست میں قدم رنجہ فرمایا تواثاثے تب کیا تھے اب کیا ہیں؟سوالات کا جواب دینے کی بجائے حساب مانگنا جرم ٹھہرا،جب کسی کتاب سے حساب کاجواب نہیں ملاتواحتساب کا قومی ادارہ گردن زدنی ٹھہرا، وہ بھی جنہوں نے گلی کوچوں سے سرحدوں تک نگہبانی کیلئے خون کے دریا عبورکئے،سوال جواب میں آوازیں بلند ہوتی گئیں،آستینیں تہہ ہوناشروع ہوگئیں،منہ سے نکلتی جھاگ چہرے چھونے لگی،پارلیمان میں ہاتھ گریبانوں تک جاپہنچے،ہوا کے دوش سے لوگوں نے یہ منظربھی دیکھا کہ جمہوریت کیلئے باعث فخرایوان پہلوانوں کے اکھاڑے میں تبدیل ہوتا چلا گیا،بات نعروں اورگریبانوں سے بڑھ کرجوتے مارنے اوربجٹ کے تخمینے ایک دوسرے پرپھینکنے تک جاپہنچی، مہنگائی،بے روزگاری او ر کورونا کی بدحالی کے ڈسے عوام کی بد دلی بڑھنے لگی،انہیں لگنے لگا کہ اگراڑھائی برسوں میں منزل نہیں ملی تو ان ستربرسوں سے بھی صرف نظرنہیں کیا جاسکتا جن کے میرکاررواں کبھی اسلام اورکبھی روٹی کپڑا اورمکاں کالولی پاپ دیتے رہے،ان کے اثاثے تو اربوں،کھربوں کی دہلیزعبورکرگئے لیکن غریب کی کٹیا کا دیابدستور مٹی کے تیل کامنتظررہا۔

    غلطیاں ماضی میں کی گئیں تھیں،غلطیاں اب بھی جاری ہیں،سیاستدانوں نے بھی کیں،آمروں نے بھی۔سانپ گذرگئے‘لکیراب تک پٹ رہی ہے جانے کب تک پٹتی رہے گی،غلطیوں سے سبق نہ سیکھنے والوں کوتاریخ کبھی معاف نہیں کرتی‘اصل مسائل کا ادراک کسی کوتو کرنا پڑے گا،ملکی مسائل حل کرنے کیلئے تلخ یادوں کوچھوڑکرآگے بڑھنا ہو گا،بوڑھے قدرداں آسودہ خاک ہوئے ،جواں حکمرانوں کی ترجیحات مختلف۔اب رشتے عقائد نہیں،باہمی مفادات اورتجارت طے کرتی ہے،کہاں بھارت‘سعودی عرب چالیس ارب ڈالرکی صرف ایک شعبے‘پٹرولیم میں تجارت اورکہاں ہمارے چارارب ڈالرکی اونٹ میں زیرے کے برابرکی حیثیت،دیدہ ورکہتے ہیں بات مسلمان بھائی سے آگے نکل چکی ہے،کمیونسٹ چین،روس اورمسلمان پاکستان،ایران،ترکی اپنی اپنی راہ بھی نکالیں گے اورمل کربھی،انہیں ترجیحات میں قطراورمتحدہ عرب امارات کوبھی مت بھولئے، نصرت بھٹوکینسر، بے نظیربھٹو کان اور نوازشریف پلیٹ لیٹس کاعلاج کرانے گئے تھے، مریم کوبھی شاید خاموشی سے کہیں جاناپڑے‘رہے عمران خان تووہ بیرونی دنیا میں جھنڈے گاڑ چکے،بولے توٹرمپ اوران کی کابینہ پہ سکتہ چھا گیا‘بائیڈن سے بھی وہی نمٹیں گے، معیشت مستحکم ہوئی تواندرونی مسائل بھی حل ہوجائیں گے۔

    سینئرصحافی اورتجزیہ کارعلی رضاعلوی @alirazaalviJتقریبا اٹھائیس برس سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں،روزنامہ جنگ،روزنامہ نوائے وقت،روزنامہ ایکسپریس،روزنامہ دن سمیت متعد د قومی اخبارات میں کالم لکھتے رہے،آج کل baaghitv.com کیلئے لکھ رہے ہیں۔ان کا ٹوئٹرہینڈل @alirazaalviJ ہے جس پران سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ آج کل جی ٹی وی پر پروگرام ریڈ زون کی میزبانی کر رہے ہیں یہ پروگرام جمعه ، ہفتہ ، اتوار رات دس بجکر پانچ منٹ پر نشر ہوتا ہے

  • ایم ڈی کیٹ؛  ڈی چوک پر طلبہ سراپا احتجاج کیوں؟

    ایم ڈی کیٹ؛ ڈی چوک پر طلبہ سراپا احتجاج کیوں؟

    تجزیاتی رپورٹ: رضی طاہر

    ریاستیں، ادارے اور قومیں تبھی ترقی کی منازل طے کرتی ہیں جب جمود سے نکل کر ترقی کی منازل طے کریں، فرسودہ نظام کے بجائے دور جدید کے تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالیں، لیکن ان مراحل کو طے کرنے کے بھی کچھ اصول ہیں اگر ان اصولوں سے روگردانی کی جائے گی تو ترقی وبال بن جائے گی، میرٹ کا قتل عام ہوگا۔ ایم ڈی کیٹ کے حالیہ ٹیسٹ کی مثال بھی کچھ ایسی ہے، اٹھارہویں ترمیم کا گلا گھونٹتے ہوئے جب میڈیکل کے ٹیسٹ وفاق میں لیے گئے تو آن لائن ٹیسٹ کی ترقی کو طلباء کیلئے وبال بنادیا گیا اور میرٹ کے قتل عام کا جو فارمولا اپنایا گیا اس پر خود پی ایم سی بھی شرمندہ شرمندہ دکھائی دیتی ہے۔ پی ایم سی کی نااہلی اور ٹیسٹ میں بے ضابطگیوں کے خلاف اسلام آباد میں گزشتہ کئی روز سے طلباء سراپا احتجاج ہیں اور ان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ٹیسٹ ایک دن اور دوبارہ لیے جائیں، یوں تو طلباء کو کئی شکایات ہیں لیکن ہم چند شکایات کا چیدہ چیدہ ذکر کیے دیتے ہیں

    سب سے پہلے میرٹ کا قتل عام ایسے ہوئے کہ ٹیسٹ کو ایک دن لیے جانے کے بجائے ایک ماہ تک محیط کیا گیا، عام سمجھ میں آنیوالا اعتراض ہے کہ یکم اگست کو ٹیسٹ دینے والے طالب علم اور یکم ستمبر کو ٹیسٹ دینے والے طالب علم کو یکساں تیاری کا موقع نہ مل سکا، جبکہ دونوں کے پیپرز میں بھی فرق ہے، ایک بیج کیلئے ٹیسٹ آسان ہے تو دوسرے بیج کو مشکل ٹیسٹ کے مرحلے سے گزارہ گیا ہے، اور نااہلی کی انتہا یہ ہے کہ کئی ٹیسٹ پہلے ہی منظرعام پر آچکے ہیں جو کہ دھرنے کی قیادت کرنے والے چوہدری عرفان یوسف نے میڈیا کو دکھائے بھی ہیں، دوسرا اعتراض یہ ہے کہ انٹرنیٹ کے مسائل رہے اور انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ سوال کو دوبارہ درست کرنے کی کوششیں بھی ناکام گئیں، اب اس حقیقت سے منہ کیسے چھپایا جائے کہ انٹرنیٹ پورے پاکستان میں ایک جیسا میسر نہیں ہے، شمالی پنجاب میں اگر چار جی دوڑ رہا ہوتا ہے تو شمالی علاقہ جات میں ٹو جی کی بھی رسائی بمشکل ہوجاتی ہے، اسلام آباد کے ہی ایک حصے میں انٹرنیٹ کی سپیڈ دوسرے حصے سے زیادہ اور کم ہوتی ہے

    انٹرنیٹ کے مسئلے کو ایک طرف رکھیں تو دوسرا مسئلہ سوال کی درستگی نہ ہونے کا ہے، طالب علم جب اپنا جواب ٹھیک کردیتا ہے لیکن سافٹ وئیر کا کمال دیکھیں وہ اسے ٹھیک نہیں کرتا، کیونکہ اس کی ضد ہے کہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو فیل کیا جائے، تیسرا بڑا اعتراض نصاب کے باہر سے سوالات کا ہے، وہ سوالات ایڈ کیے گئے ہیں جو طالب علم کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھے اور نہ ہی نصاب میں شامل ہیں، ایم ڈی کیٹ کے ٹیسٹ میں اعتراضات کی بھرمار ہے، اس کیلئے طلبا ء سراپا احتجاج ہیں اور احتجاج میں کوئی عام نہیں ہے اس کے روح رواں طلباء حقوق کیلئے جدوجہد کی تاریخ رکھنے والے چوہدری عرفان یوسف ہیں، عرفان یوسف اور تحریک منہاج القرآن کا طلبہ ونگ مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ دھرنے کی قیادت کررہا ہے

    یہ وہی ڈی چوک ہے جہاں پر چار حلقوں میں ہونے والی دھاندلی کے خلاف کچھ سال قبل عمران خان صاحب اور ماڈل ٹاؤن سانحہ کو لے کر جناب ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب سراپااحتجاج تھے اور دھرنا مہینوں طول پکڑ گیا اب دولاکھ طلباء کے ساتھ ہونیوالی دھاندلی کے خلاف میڈیکل کے طلباء سراپا احتجاج ہیں، حکومت کو چاہیے کہ ان کے مطالبات پر غور کرے اور اعتراضات کی تحقیق کیلئے کمیٹی تشکیل دی جائے اور امتحانات کے رزلٹس کو کمیٹی کی حتمی سفارشات تک روکا جائے، ضروری ہے کہ اس کمیٹی میں احتجاجی طلباء کے بھی نمائندگان شامل ہوں، میں احتجاج کرکے اپنا حق لینے والے طلباء کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہوں یقینا انہوں نے جدوجہد کی مثال قائم کی ہے۔

  • تیسری جنگِ عظیم،تحریر: زوہیب خٹک

    تیسری جنگِ عظیم،تحریر: زوہیب خٹک

    اس وقت دُنیا تقریباً دو گروپس میں تقسیم ہو چُکی ہے
    گروپ 1 میں چین روس پاکستان اور ان کے اتحادی جبکہ گروپ 2 میں امریکہ اسرائیل اور ان کے اتحادی ہیں۔ امریکہ نے چین کو ساؤتھ چائنہ سی میں گھیرنے کے لیے تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔
    اور ساؤتھ چائنہ سی کے اردگرد موجود تمام ممالک (جاپان, فلپائن, تائیوان, ہانگ کانگ, ساؤتھ کوریا, ویت نام, ملائیشیاء, انڈونیشیاء, برونائی, اور آسٹریلیا ) کو چائنہ کے خلاف اُکسانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔اور یہاں اپنے ڈیسٹرائیرز اور ایئر کرافٹ کیریئر لے کر آگیا ہے۔اور بھارت کو کہا ہے کہ اپنی نیوی کے ذریعے آبنائے ملاکا کو چین کے بحری جہازوں کے لیے بند کردے۔ یاد رہے آبنائے ملاکا کے ذریعے چائنہ کی زیادہ تر تجارت ہوتی ہے اور چین کا 80% تیل اسی راستے سے گُزرتا ہے,اگر یہ راستہ بند ہوتا ہے تو بدلے میں چین کے پاس صرف گوادر بچتا ہے اپنی تجارت کے لیے۔جو کہ "پاکستان” کے لیے بہت ہی خوش آئند بات ہے

    جواب میں چین نے بھی پالیسی بنا لی ہے اگر بھارت آبنائے ملاکا بند کرنے کی کوشش کرتا ہے تو چین بھی بھارتی ریاست سکم پر قبضہ کر کے سلی گُڑی کوری ڈورجو کہ بھارت کی سات ریاستوں(آسام, ناگالینڈ ,اروناچل پردیش, میگہالیہ, میزورام ,منی پور , تری پور) کو باقی بھارت سے ملاتا ہے, اس پر قبضہ کرکے ان سب کو بھارت سے علیدہ کردے گا۔اور بھارت بھی یہ بات اچھی طرح جانتا ہے, اس لیے کافی حد تک خاموش ہے۔ اب بھارت نے تبت کارڈ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ اور دلائی لامہ کو پوری دنیا میں لیکر جائے گا۔ا ور اقوام متحدہ سمیت ہر جگہ پشت پناہی کرے گا۔ نتیجے میں چین نے بھی کشمیر کارڈ کھیلنے کا فیصلہ کر لیا ہے

    اور ہر صورت کشمیر کی آزادی کے لیے کام کرے گا اور یہ بات بھی "پاکستان” کے لیے ہی خوش آئند ہے۔دوسری طرف چین ایران کو بھی بھارت کی گود سے نکال لایا۔اور اب ایران بھی کُھل کر بھارت کے خلاف میدان میں آرہا ہے۔ اب صرف عرب ممالک کا فیصلہ باقی ہے۔ چین نے سعودی عرب اور باقی ممالک کو تیل کی تجارت ڈالر میں کرنے کی بجائے اپنی اپنی کرنسیوں میں کرنے کی آفر کی ہے یہ امریکی ڈالر کو بدترین دھچکا ہوگا۔

    امریکہ کا بھی عرب ممالک پر بھرپور دباؤ ہے اگر سعودی عرب چین کے بلاک میں آنے کی بجائےامریکہ دباؤ پر گُھٹنے ٹیک دیتا ہے تو چین سعودی عرب کی بجائے ایران اور روس سے تیل خریدنا شروع کردے گا۔چین سعودی عرب سے 40 ارب ڈالرز کا تیل خریدتا ہے۔ اور ایران پہلے ہی چین کو آدھی قیمت پر تیل دینے کی آفر کر چُکا ہے۔ عرب ممالک پر بہت ہی کڑا وقت ہے لیکن امریکہ اپنے دشمنوں سے زیادہ اپنے دوستوں کو ڈستا ہے۔ اور چین اپنے دوستوں کو ساتھ لیکر چلتا ہے۔ باقی فیصلہ محمد بن سلمان کے صوابدید ہے۔

    اسرائیل کی کوشش ہے کہ خود جنگ میں نہ کودےاور امریکہ ,بھارت اور اتحادیوں کے ذریعے چائنہ کو شکست دے۔ بالکل وہی پالیسی جو پہلی جنگِ عظیم میں امریکہ کی تھی جب روس برطانیہ اور فرانس بمقابلہ جرمنی آسٹریا ہنگری اور سلطنتِ عثمانیہ تھے اور امریکہ پہلے 3 سال تک دونوں کو اسلحہ اور خوراک فروخت کر کے خوب پیسے کماتا رہا اور آخری سال جب روس انقلاب کے بعد جنگ سے باہر ہوا اور دونوں فریقین بہت زیادہ کمزور ہو چُکے تھے تو اعلانِ جنگ کر دیا اور اسی طرح جنگ جیت گیا۔

    اب اسرائیل کی بھی وہی پالیسی ہے جب امریکہ بھارت , چین روس اور پاکستان آپس میں لڑ کر بے حد کمزور ہو چُکے ہونگے تو اُس وقت جنگ میں شامل ہو گا اور بغیر زیادہ محنت کہ جنگ جیت کر سُپر پاور کی سیٹ پر بیٹھ جائے امریکہ بھی یہ بات اچھی طرح جانتا ہے اس لیے وہ خود جنگ میں نہیں کودنا چاہتا بلکہ بھارت اور دوسرے ممالک کا کندھا استعمال کر کے جنگ جیتنا چاہتا ہے لیکن اسرائیل یہ ہونے نہیں دے گا۔

    یہودیوں کی خفیہ تنظیمیں پہلے ہی رپورٹ دے چُکیں,اور کہہ چُکیں کہ چائنہ امریکہ کو شکست دے گااور اسرائیل چائنہ کو شکست دے کر دُنیا کا تاج اپنے سر سجائے گا ان صورتوں میں پاکستان کے لیے بھی بہت کڑے امتحانات ہیں۔ ملکی حالات کے پیشِ نظر پاک فوج اور ریاستی اداروں کی بھرپور کوشش ہے کہ فلحال اس جنگ کو تھوڑا دور دھکیلا جائے تاکہ ملک کے حالات تھوڑے قابو میں آسکیں۔ دشمنان اسلام تو پاکستان کو جتنی جلدی ممکن ہو اس جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں تاکہ اسلامی دُنیا کی واحد ڈھال اسلامی دُنیا کے واحد حصار پاکستان کو توڑا جائے۔ اگر آج پاکستان مضبوط اور ایٹمی طاقت نہ ہوتا تو شاید ہی کوئی اسلامی ملک اس وقت دُنیا کی نقشے پر موجود ہوتا۔ پاکستانی قوم کو چاہیے کہ اپنی ریاست اور فوج پر بھروسہ رکھیں اور ہر صورت ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔۔

    Twitter @zohaibofficialk

  • ہوا کا رخ دیکھ کر خاموش ہوں ،تحریر:صوفیہ صدیقی

    ہوا کا رخ دیکھ کر خاموش ہوں ،تحریر:صوفیہ صدیقی

    15 اگست2021 سے صرف میرے لیے بلکہ بہت سے پاکستانیوں کے لیے اہم تھا اس لیے کیونکہ اس سے ایک دن قبل ہم نے اپنی آزادی کا جشن بہت دھوم دھام سے منایا تھا ۔ کہنے کو یہ دن اکھنڈ بھارت کا یوم آزادی ہے یعنی بھارتی عوام اپنے ملک کابرطانوی راج سے آزادی پر جشن مناتی ہے۔
    تو گویا یہ دن جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ابھی ہمارا 14اگست خمار ٹھیک سے اترا نہیں تھا کہ افغانستان میں ایک نئی تبدیلی آگئی تھی۔ میں افغانستان میں ہونے والی کسی بھی صورت حال سے غافل نہیں تھی۔ اخبارات ٹیلی ویژن سوشل میڈیا سب کچھ ” شبیر” کی طرح دیکھ رہی تھیں۔ یہاں تک کہ افغانستان کے مختلف شہروں میں بسنے والے میر دوست اور صحافی ساتھی، جن سے میں گاہے بگاہے رابطے میں بھی تھیں۔لیکن خاموش تھی کیونکہ منتظر تھی کہ دیکھوں اب اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟
    یہاں تو لمحہ بہ لمحہ صورتحال بدل رہی تھی۔ اونٹ کی کروٹ تو ابھی بھی سمجھ سے باہر ہیں لیکن مجھ سمیت دنیا نے بہت سے "کھلے راز” عیاں ہوتے دیکھیں۔
    وہ باتیں اور تحریریں جن کو جھوٹ ثابت کرنے میں تیس سال گزر گئے ان پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہو گئی۔ آپ اسے پڑوسی دشمنوں کی کامیاب جال سازی کہیں یا بے وقوفی۔۔۔ ہم ظاہر ہو چکے تھے، ہماری سوچ سب نے دیکھ لی تھی۔ ہم چودہ اگست کے بعد پندرہ اگست منا رہے تھے۔ کھلے عام۔

    اگر آپ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ میں حکومت پر تنقید کرنے لگی ہوں یا اپنے اداروں کے بارے میں کچھ لکھنے لگی ہوں تو آپ غلط ہیں۔

    بقول قتیل شفائی

    ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﻏﻠﻂ ﻓﮩﻤﯽ ﺍﮔﺮ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ
    ﮐﺴﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺲ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮐﺲ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ

    ﺳﺒﮭﯽ ﺭﺳﺘﻮﮞ ﭘﮧ ﺗﮭﮯ ﺷﻌﻠﮧ ﻓﺸﺎﮞ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﮯ ﺳﻮﺭﺝ
    ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺍﻥ ﮔﯿﺴﻮﺅﮞ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ

    ﺳﺠﺎ ﮐﺮ ﺁﺋﯿﮟ ﺟﺐ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﭼﺸﻤﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﭘﺮ
    ﻧﻈﺮ ﮨﻢ ﻣﻔﻠﺴﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﺐ ﮐﮩﺎﮞ ﺍﺱ ﺑﺎﻡ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ

    ﻗﺘﯿﻞؔ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺑﻦ ﺟﺎﺅ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ
    ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﺍِﻟﮩﺎﻡ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ۔

    پہلا مصرا ہمارے احباب اور بہادر امریکہ کے نام کیوں کہ افغانستان میں رچائی جانے والی جنگ کا وہ سب سے بڑا زمہ دار اور دنیا کہ امن کا ٹھیکہ دار بنتا ہے۔ اتحادیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ دیکھنا بھی چاہیے کیوں کہ "جس کا پیسہ جاتا ہے اس کا ایمان جاتا ہے”.
    مانا کہ عالمی طاقتوں کے لیے معنی نہیں رکھتا۔ وہ کبھی بھی غریب فقیر صفت لوگوں کو دہشت گرد بنا کر وہاں جنگیں نافذ کر سکتی ہیں کیونکہ انھوں نے جتانا ہوتا ہے کہ وہ عالمی طاقت ہیں ۔

    ان باتوں سے ہٹ کے مطلب کی بات پہ آتی ہوں۔ یہ میری غلطی ہے کہ میں کمیونیکیشن یا ابلاغ کو سمجھتی ہوں اتنا نہیں سمجھنا چاہیئے تھا۔ access of anything is bad. یعنی زیادہ جاننا کوئی فن نہیں ۔

    نہ افغانستان کے لوگ ہمارے دشمن نہ حکومت۔ پھر بھی ہمیں طالبان کے بہت سے جانباز سوشل میڈیا پہ نظر آئے۔ جو جا بجا بھارت کی کٹ لگانے اور طالبان کو آسمان پر چڑھانے میں مصروف دیکھے ۔ بہت سے پاکستانی اپنا آزادی پلس منانے میں اتنا آگے چلے گئے کہ انھیں تہذیب کے دائرہ بھول گئے۔
    کئیوں کو یہ یاد نہ رہا کہ ہماری افغانستان میں کوئی سرمایہ کاری ہے بھی کہ نہیں ۔۔
    میرے پیارے سوشل میڈیا کے سپاہیوں، تاریخ کا حصہ بننے کے لیے صرف دوسروں کی توہین نہیں کی جاتی، محنت بھی درکار ہے۔ طالبان بنا لڑے کابل پر آ گئے یہ افغانستان کے لوگوں کے لیے اچھی بات ہے۔ مگر ان کا آنا کوئی اتنی بھی اچھی بات نہیں۔
    اب تو حد کی آخری حد آگئی ہے شاید، کیونکہ طالبان کی اس آمد کو مولانا اسرار کے غزوہ ہند کے سپاہی بنا ڈالا گیا ہے۔ وہ سپاہی جو دجال کے خروج کا مقابلہ کریں گے۔
    خدا کا نام لو صاحب! ہم جو خاموش ہیں تو رہنے دیں اور یہ بھی سمجھے کہ ہوا کا رخ ایک جیسا نہیں رہتا۔ یہ بدلے گا کبھی نہ کبھی۔ تب تک کیوں نہ اپنی اصلاح کے لیے علم کا دامن پکڑے۔ ہدایت مانگے اور اس کی جد وجہد کریں اور یاد رکھیں کہ اقرا سے شروع ہو نے والے قرآن میں قلم کی قسم بھی ہے۔ جو ہم سب کو پڑھنے لکھنے کے بعد تحقیقات کی دعوت دیتی ہے۔
    خاموشی کی ایک بڑی وجہ ان فتووں سے اجتناب بھی ہے جو کسی پر محب وطن نہ ہونے یا مذہب سے دوری پر ہو سکتا ہے۔ اور یقینا یہ صرف میرے ساتھ نہیں بلکہ بہت سے مسلمان پاکستانیوں کے ساتھ ہو رہا یے ۔ پاکستان کو اسلام کا قلعہ ضرور سمجھیں لیکن طالبان کا اس قلعے سے بلاوجہ کا تعلق تو نہ بنائے کہ عام پاکستانی مسلمان گمراہ ہو جائے۔

  • طلاق: فیشن یا مجبوری تحریر:سید غازی علی زیدی

    طلاق: فیشن یا مجبوری تحریر:سید غازی علی زیدی

     معاشرے میں طلاق کی بڑھتی شرح کا ذمہ دار کون؟

     آئےروز یہ بات سننے میں آتی کہ پڑھی لکھی خواتین میں طلاق کا تناسب اسلئے زیادہ کیونکہ ان میں صبر وبرداشت کی کمی ہوتی اور وہ اپنی تعلیم اور ملازمت کی اکڑ میں شوہروں کی محتاج ہو کر رہنا پسند نہیں کرتی ہیں۔ لیکن کیا یہ واقعی حقیقت ہے؟ یا پھر ہمارے پدرشاہی معاشرہ نے ہمیشہ کی طرح مردوں کا جرم چھپانے کیلئے عورت کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

     آج کل کے زیادہ تر شوہر بیوی تو خوبصورت، اعلیٰ تعلیم یافتہ، ملازمت پیشہ چاہتے لیکن سلوک نوکرانی سے بھی بدتر کرتے۔ ایسی مثالی بیوی ہوجو سارا دن چپ چاپ سسرال والوں کی خدمت کرے، بچے پالے، شوہر کی مار پیٹ و گالیاں برداشت کرے اور دنیا کے سامنے اپنے شوہر کو آئیڈیل شوہر کے روپ میں بھی پیش کرے۔ اور اگر زیادہ نافرمانی کرے تو تیل چھڑک کر جھلسا دی جائے اور بعد میں چولہا پھٹنے کا بہانہ بنا کر دنیا کے سامنے خودکو بے قصور ثابت کر دیں۔ ہمارے معاشرے میں بیٹی کو یہ کہہ کر رخصت کیا جاتا کہ اب ڈولی نکلی تو جنازہ ہی واپس آئے وگرنہ نہیں۔ اگر بدقسمتی سے شوہر یا سسرال خراب نکل آئے تو پہلے تو بیٹی کو مجبور کیا جاتا کہ وہ سمجھوتہ کرے کبھی بچوں کے نام پر، کبھی والدین کی عزت کے نام پر تو کبھی سماج کےخوف سے۔ لیکن اگر کوئی چارہ نہ باقی رہے اور نوبت طلاق تک آجائے تو والدین ایسے برتاؤ کرتے جیسے مر ہی گئے ہوں۔ بیٹی جو پہلے سے ہی ذہنی دباؤ اور جسمانی تشدد کا شکار ہوتی نہ چاہتے ہوئے بھی خود کو مجرم سمجھنے لگتی۔ ایسے والدین کو نبی کریم ﷺ کا ارشاد پاک یاد رکھنا چاہیے کہ "میں تم کو یہ نہ بتادوں کہ افضل صدقہ کیا ہے؟ اس بیٹی پر صدقہ کرنا ہے جو تمہاری طرف مطلقہ یا بیوہ ہونے کے سبب واپس لوٹ آئی اور تمہارے سوا کوئی اس کا نہ ہو۔” (ابن ماجہ) رہی سہی کسر عزیز رشتہ دار ہمسایے پوری کر دیتے کہ یقیناً لڑکی میں کوئی خامی ہوگی جو شوہر نے طلاق دی۔ کبھی چال چلن پر انگلی اٹھائی جاتی تو کبھی تنک مزاجی کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا۔ اور آخر میں یہ کہہ کر زخموں پر نمک چھڑکا جاتا کہ ہماری بیٹیاں بھی تو ہیں اسی کو بسنے کا سلیقہ نہ تھا. شوہر کا نکما پن، متشدد مزاج، آوارگی، دوسری عورتوں سے ناجائز تعلقات غرض ہر بات کو سرے سے ہی نظر انداز کر دیا جاتا۔ طلاق یافتہ لڑکی کی زندگی تو جو جہنم بنتی سو بنتی لیکن اگر کوئی شوہر کےمظالم سے تنگ آ کر خلع کا فیصلہ کر لے تو اس کو سیدھا سیدھا خودسری و آزاد خیالی کا سرٹیفیکیٹ تھما دیا جاتا۔ خاندانی نام نہاد عزت خاک میں مل جاتی کیونکہ کورٹ کچہری کے چکر لگانے پڑتے اور اگر شوہر کمین فطرت ہو تو بدچلنی بھی ثابت کر دی جاتی۔ ان سب سے بچنے کیلئے آج بھی والدین بیٹی کو ہر قیمت پر اس کے گھر بسانا چاہتے پھر چاہے وہ اور اس کے بچے سسک سسک کر باقی ماندہ زندگی گزاریں، میکے والے خرچہ بھی اٹھائیں اور لڑکی خود بھی کولہو کا بیل بنے۔ یہ ہمارے معاشرے کی اس عورت کی ہلکی سی جھلک ہے جس کی ازدواجی زندگی مشکلات کا شکار ہوتی ہے۔ شوہر تو کیونکہ مجازی خدا ہوتا اسلیے اس سے تو غلطی ہو ہی نہیں سکتی ہاں بیوی کی معمولی غلطی پر وہ ضرور اسے دھنک کر بھی رکھ سکتا اور اسکے سر پر سوکن بھی لا سکتا۔

     لیکن سوال یہ ہے کہ کیوں اس دور جدید میں بھی ایسی مظلوم عورت کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں۔ ہمارا معاشرہ جہاں مذہبی ٹھیکیدار ہوں یا فیمینزم کے علمبردار، پڑھے لکھے پروفیشنل ہوں یا ان پڑھ مزدور طبقہ، امیر ترین ہوں یا متوسط گھرانے، عملی طور پر عورت کیساتھ سلوک میں سب یکساں ہیں۔

     زبانی کلامی اعلی ترین مذہبی و سماجی اقدار کا حامل معاشرہ، عملی طور پر طلاق کا حقیقی تصور اور اسکی مذہبی و سماجی اہمیت سمجھنے سے تاحال قاصر ہے۔ ہم جانتے بوجھتے اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے کہ طلاق ناپسندیدہ ترین لیکن جائز عمل ہے۔ جس کو مکمل رد نہیں کیا جاسکتا۔ طلاق کو شجر ممنوعہ سمجھنے والے کیا اس حقیقت سے واقف ہیں کہ نبی پاک ﷺ کی دو صاحب زادیاں جو ابو لہب کے بیٹوں کے نکاح میں تھیں انہیں رخصتی سے پہلے ہی طلاق دے دی گئی تھی اور بعد میں یہ دونوں صاحب زادیاں یکے بعد دیگرے حضرت عثمانؓ کےنکاح میں آئیں۔ اگر طلاق یافتہ ہونے کا مطلب داغ لگنا ہوتا تو کیا آنحضرت ﷺ کی بیٹیوں پر یہ داغ کبھی نعوذ باللہ لگتا؟

     کیا طلاق یافتہ عورت کو حقارت کی نظر سے دیکھنے والے یہ جانتے ہیں کہ حضرت محمد مصطفی ﷺکی دو ازواج مطہرات مطلقہ تھیں۔ جن میں سے حضرت زینب بنت جحشؓ نےحضرت زیدؓ سے خود خلع لی تھی۔ کیا ہماری جرآت کہ ہم امہات المومنین کی کردار کشی کرسکیں یا یہ کہہ سکیں کہ وہ گھر بسانا نہیں جانتی تھیں؟ عورت کو اللّٰہ تعالیٰ نے مکمل انسان بنایا ہے حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا

     "عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو تم نے ان کو اللہ کی امانت کے طور پر حاصل کیا ہے”

     زندگی اللّٰہ تعالیٰ کی امانت ہے اسے ناقدر شناس کے ہاتھوں تباہ کرکے کوئی ثواب نہیں ملے گا۔ جو عورتیں بچوں کی خاطر گھٹ گھٹ کر سمجھوتہ کرتیں، شوہر کی ماریں کھاتیں انکےبچے گھریلو متشدد ماحول کی وجہ سے نفسیاتی مریض بن جاتے اور بالآخر اپنی ماؤں کو ہی مورد الزام ٹھہراتے۔ ذندگی، رزق اور قسمت اللّٰہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ان چیزوں کا مالک شوہر یا معاشرے کو سمجھنا نہ صرف جہالت بلکہ شرک ہے۔ ایک عورت انہی باتوں پر بلیک میل ہوتی اور اپنا نقصان کر بیٹھتی۔ یاد رکھیے اللّٰہ تعالیٰ ظالم نہیں نہ طلاق کوئی حرام یا پلید فعل ہے اگر ایسا ہوتا تو کبھی بھی قرآن کی پوری ایک سورت طلاق کے نام سے نہ ہوتی جس میں تمام احکامات پوری وضاحت کیساتھ بیان کیے گئے ہیں۔ عورت کی شادی کا یہ مطلب نہیں کہ اسے بلی چڑھا دیا جائے اور وہ تاعمر اذیتیں سہتی رہے۔ اسلام عورت کو طلاق، خلع، علیحدگی کی صورت میں مکمل اختیارات دیتا ہے جن میں نان نفقہ سے لیکر بچوں کی سرپرستی تک تمام احکامات واضح ہیں۔ خوش قسمتی سے پاکستانی قانون بھی اس معاملے میں شرعی قوانین کے مطابق فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا۔ لیکن اس کیلئے اصل ہمت عورت کو کرنی ہو گی کہ اس نے ذہنی و جسمانی تشدد سہہ کر جینا یا باعزت و باوقار طریقے سے زندگی گزارنی!

    "جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اللہ اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے” (سورۃ الطلاق:03)

     لیکن یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ بیشک میاں بیوی میں علیحدگی پر شیطان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا؛

     "جو عورت سخت مجبوری کے بغیر خود طلاق طلب کرے، اُس پر جنت کی خوشبو حرام ہے”(ابو داؤد) اسلام ایک آفاقی مذہب ہے جو ہر دور، ہر انسان اور ہر طبقہ فکر کیلئے مکمل ضابطہ حیات پیش کرتا ہے۔ بحیثیت مجموعی ہمارے معاشرے میں اسلامی تعلیمات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اور یقیناً اسلام میں ہر فرد کے ہر حیثیت میں جامع ترین حقوق و فرائض متعین ہیں جن پر عمل کرکے ہی ایک بہترین عائلی زندگی اور مثالی معاشرہ کی بنیاد ڈالی جا سکتی

    "Syed Ghazi Ali Zaidi ”

  • ماں کی تربیت – تعمیر شخصیت. تحریر: سید غازی علی زیدی

    ماں کی تربیت – تعمیر شخصیت. تحریر: سید غازی علی زیدی

    سیرت فرزندہا از امہات
    جوہر صدق و صفا از امہات
    (فرزندوں کی سیرت اور روش زندگی ما ؤں سے ورثے میں ملتی ہے۔صدق و خلوص کا جوہر ماؤں سے ملتا ہے۔ علامہ اقبال)

    ماں ایسا لفظ جو ہر زبان میں خوبصورت اور سکون و شفقت کا احساس دل میں جگاتا ہے۔ بچےکی پہلی درسگاہ ماں کی آغوش۔
    دور جدید کی چائلڈ سائیکالوجی ہو یا زمانہ قدیم کے اقوال زریں، ماڈرن تحقیقی مقالات ہوں یا مذہبی صحیفے، یورپین "ارلی چائلڈ ہوڈ ڈویلپمنٹ” کی بات ہو یا مشرقی تہذیب میں بچوں کی نشوونما، ماں کا کردار ہر حال میں اولین حیثیت رکھتا ہے۔ جدیدیت و مادیت پرستی کی آڑ میں بچوں کی پرورش و تربیت میں ماں کے کردار میں کمی کرنا یا اسے متبادل طریقے اپناکر کم کرنے کی کوشش کرنا نہ صرف ماں و بچے کیساتھ زیادتی ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ کا بنیادی سبب بھی ہے۔

    "تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں بہترین قوم دوں گا” نپولین بوناپارٹ
    تمام جدید سائنس و نفسیات اس بات پر متفق ہے کہ کسی بھی بچے کی زندگی کے پہلے پانچ سال انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے جس میں بچے کی نہ صرف بنیادی جسمانی نشوونما ہوتی بلکہ ذہنی، نفسیاتی و شعوری نشوونما بھی تشکیل پاتی۔ اس عمر میں بچے کو سب سے زیادہ توجہ، محبت اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی اگر کوئی کمی رہ جائے تو وہ مناسب سدباب نہ کرنے کی صورت میں تاعمر کیلئے روگ بن سکتی۔

    لیکن ہماری سماجی بدقسمتی کہیں یا ماڈرن و لبرل نظر آنے کی احمقانہ خواہش کہ ہم بغیر سوچے سمجھے اپنی نسلوں کو بگاڑ رہے اور ہمیں اس خسارے کا احساس تک نہیں۔ وہ ماں جس کی بدولت پورا معاشرہ تشکیل پاتا وہ جدیدیت و لبرل ازم کی رو میں بہہ کر اپنا اصل مقصد فراموش کر بیٹھی ہے۔ ذریعہ معاش و پیشہ ورانہ زندگی کیلئے تگ ودو کرتی مائیں اپنی اولاد یعنی اصل سرمایہ حیات کو جانے انجانے میں بے توجہی کی نذر کر رہی ہیں جبکہ گھریلو خواتین کا مرکز ارتکاز بھی اب اولاد کی پرورش سے ہٹ کر سماجی روابط اور سوشل و الیکٹرانک میڈیا تک محدود ہو گیا ہے۔ اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ آج کل کی ماؤں میں اپنی اولاد کیلئے محبت و شفقت میں کمی آئی ہے۔ نہیں، ہرگز نہیں بس اب ترجیحات بدل گئی ہیں۔ان کے لیے بچے کے برانڈڈ کپڑے، امپورٹڈ کھلونےو مشینری، مہنگی تعلیم کا حصول زیادہ اہم ہے۔ مائیں ہلکان ہو جاتی ہیں کہ بچے مقابلے میں کسی دوسرے بچے سے پیچھے نہ رہ جائیں لیکن صد افسوس یہ مسابقت و مقابلہ بازی صرف اور صرف مادیت پرستی تک محدود ہے۔ آکسفورڈ و کیمبرج کی کتابیں تو فراہم کردیتی ہیں اور پڑھا بھی دیتی لیکن بنیادی اخلاقی اقدار سکھانے کا وقت نہیں۔ فروزن اور فاسٹ فوڈ تو کھلا دیں گی لیکن کھانے کے آداب نہیں سکھا سکتی کہ کون اپنے مصروف لائف سٹائل سے وقت نکال کر اس جھنجھٹ میں پڑے۔ بچے تھکے ہارے سکول سے آتے اور کھانا لیکر ٹی وی یا وڈیو گیم کے سامنے بیٹھ جاتے۔ نہ پتا کیا کھا رہے نہ پتا کیسے کھا رہے۔

    لیکن اس ساری صورتحال میں صرف ورکنگ وومن کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا بلکہ گھریلو خاتون خانہ بھی برابر کی شریک کار ہے۔
    کیا آج سے تیس سال یا بیس سال پہلے ورکنگ وومن نہیں تھیں؟
    بالکل ہوتی تھیں اور ان کے بچے زیادہ منظم اور تمیزدار ہوتے تھے کیونکہ ان کی زندگی ایک مخصوص نظم و ضبط کے مطابق بسر ہوتی تھی۔ جبکہ گھریلو خواتین کا کیونکہ مکمل دھیان بچوں کی پرورش پر ہوتا تھا اسلئے بچوں کی ابتدائی تعلیم کا آغاز گھر سے ہی ہوجاتا تھا۔ ہر دو قسم کی مائیں اپنی اولاد کیلئے ہمہ وقت موجود ہوتی تھیں۔ بچوں کی بھی بہترین و اولین دوست و رہنما ان کی ماں ہوتی تھی۔ ہر تکلیف، پریشانی، مسئلہ ماں کو بتانا لازمی ہوتا تھا۔اولاد جوان ہونے کے بعد بھی ماں کی نہ اہمیت کم ہوتی تھی نہ مقام میں کوئی فرق آتا تھا۔ لیکن کیا آج کل بھی ایسا ہے؟

    بیشک نہیں۔ معذرت و افسوس کیساتھ آج کل کے بچوں کا اولین رہنما ٹی وی اور بہترین دوست موبائل ہے۔ اخلاق باختہ مواد، بیہودہ زبان اور ہندی میں ڈب کیے گئےکارٹون ان کی تربیت کررہے اور معصوم بچوں کو پیارو محبت کے نام پر جنس زدہ کررہے۔ وہ والدین جو بچوں کو مکمل طور پرملازمین کے حوالے کر جاتے جو ان معصوموں کو ذہنی و جسمانی طورپر پامال کرتے ان کے کچے ذہنوں کو جنسی طور پر آلودہ کرتے اور پھر ہم حیران ہوتے جب ایک دس سال کا بچہ چار سال کی بچی کا ریپ کر دیتا۔ جب ایک چھ سال کا بچہ سکول کی اسمبلی میں نیکر اتار کر ننگا ہوجاتا یا بارہ سال کی بچی محبت کے نام پر حاملہ ہو جاتی۔

    یہ سب نہ توافسانوی قصے ہیں نہ ہی کسی ایک طبقے کی کہانی۔ بلکہ غریب ترین طبقے سے لیکر امیر ترین طبقے تک کے سچے واقعات ہیں جن کی تعداد ہر روز خطرناک طور پر بڑھ رہی اور ہم صرف ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرارہے۔ ماڈرن اور مذہبی اقدار و تعلیمات کی جنگ میں ہم ان بچوں کو بھول گئے ہیں جو ہمارا مستقبل ہیں۔
    ماڈرن ماؤں کو احساس دلاؤ تو عورت مارچ والے شاہراؤں پر بینرز لیکر آجاتے اور قدامت پسند خواتین کو اصلاح کا کہو تو مذہبی ٹھیکیدار سڑکیں بلاک کردیتے۔ ہر دو اپنی اپنی جگہ بالکل ٹھیک لیکن پھر بھی بچے بگڑتے جارہے۔ یہ بگاڑ اب واضح ہو کر ایک بھیانک مستقبل کی نشاندہی کر رہا لیکن کوئی نہ سمجھنے کو تیار ہے نہ ذمہ داری لینے کو الٹا نشاندہی کرنے والے کو ہی لعن طعن کیا جاتا۔
    کیا یہ کھلی حقیقت نہیں کہ پہلے بچوں کو سونے سے پہلے آیت الکرسی پڑھائی جاتی تھی اور اب سٹوری بکس یا نرسری رائمز؟ سات سال کے بچے کو فجر کیلئے اٹھایا جاتا تھا لیکن اب بچے کی نیند خراب ہوگی یہ کہہ کر بڑے بچوں تک کو فجر کا نہیں پتا۔
    کیا یہ ہمارا المیہ نہیں؟پھر ہمیں ریاست مدینہ بھی چاہیے۔ کیا یہ بھی حکمرانوں کے کرنے کا کام ہے؟

    ماں کی تربیت کا مقابلہ دنیا کا مہنگے سے مہنگا تعلیمی ادارہ نہیں کر سکتا۔ ماڈرن ترین ماؤں کو یہ حدیث تو ازبر ہے کہ "ماں کے قدموں تلے جنت ہے” لیکن ماں کی کونسی ذمہ داریاں ہیں جن کو پورا کرنے پر جنت کی بشارت ہے اس سے انجان ہیں۔ ماں کا کام اولاد کو پیدا کر کے پھینک دینا نہیں بلکہ اس کی تربیت کرنا ہے۔اولاد کو خوراک فراہم کرنا ماں کا کام نہیں بلکہ اسلام میں ایک ماں اپنے شوہر سے اپنے ہی بچے کو دودھ پلانے کا معاوضہ لینے میں بھی حق بجانب ہے۔ لیکن تربیت کرنا ماں کا اولین فرض ہے جس کیلئے وہ اللّٰہ تعالیٰ کو جوابدہ ہے۔

    ’’تم میں سے ہر کوئی نگران ہے اور اپنی رعایا اور ماتحتوں کے بارے میں تم سے جواب طلبی کی جائے گی‘‘۔ (صحیح بخاری)
    بچوں کا ذہن تو کورا کاغذ ہوتا ہے جس پر مستقبل کی بنیاد ہوتی۔ پھر چاہے اسے بہترین تربیت سے رنگیں و خوشنما بنا دیں یا ناقص و بدتر تربیت سے سیاہ کردیں۔ فیصلہ ماؤں کے ہاتھ میں ہے!
    خشت اول جوں نہد معمار کج
    تاثریا می نہد دیوار کج
    (اگر معمار پہلی اینٹ غلط اور ٹیڑھی رکھ دے تو دیوار کو بلندی تک ٹیڑھا ہونے سے کیسے روکا جا سکے گا)

    @once_says

  • توکل علی اللہ .تحریر: راحیلہ امجد

    توکل علی اللہ .تحریر: راحیلہ امجد

    توکل کا مفہوم ہے کہ انسان خود کو عاجز و مجبور اور اللّٰہ تعالیٰ کو تمام جہانوں کا پروردگار و مالک تسلیم کرتے ہوئے اس ذات واحد پر بھروسہ و یقین کر لے کہ جو کچھ ہوگا باری تعالیٰ کے حکم اور منشاء سے ہوگا۔ جب دل میں یہ یقین پختہ ہو جائے تو انسان کا ایمان کامل ہو جاتا ہے۔ انسان تکبر ، غرور اور دنیا کی عارضی شان و شوکت سے کنارہ کشی اختیار کرکے اللّٰہ کی حاکمیت کے سامنے سر تسلیم خم کر لیتا ہے۔ اپنی عقل ، فہم و فراست اور تدابیر کے بجائے اللّٰہ تعالیٰ کی رضا پر صابر و شاکر بن کر زندگی بسر کر سکتا ہے۔
    تاہم اللّٰہ تعالیٰ نے جہاں توکل علی اللہ کا حکم دیا ہے وہاں انسان کو عقل جیسی نعمت سے نواز کر دیگر مخلوقات سے افضل کر دیا ہے۔ مختلف امور میں رب العالمین نے انسان کو عقل کے استعمال کا حکم دیتے ہوئے کچھ اختیارات تفویض کیے ہیں۔ جس طرح عقل اور فہم و فراست کے باعث ہی انسان کو عبادات اور نیکیوں کا حکم دیا ہے اور اس بنیاد پر ہی آخرت میں انسان کے لیے جزا و سزا کا تعین بھی کیا جائے گا۔

    اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو رزق کے معاملے میں اپنی ذات لا شریک پر توکل کرنے اور آخرت کے متعلق فکر و کوشش کرنے کا حکم دیا ہے۔ اپنی دیگر بے شمار صفات کے ساتھ ساتھ اللّٰہ تعالیٰ تمام جہانوں کی مخلوقات کا رازق بھی ہے اس نے انسانوں کو رزق کی فراہمی بھی اپنے ذمے لے رکھی ہے۔ اس لیے انسان کو صرف کوشش کا حکم دیا گیا ہے۔ اور اپنی آخرت سنوارنے کے لیے سوچ و فکر عطا کی گئی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہم آخرت کی فکر سے بڑھ کر رزق اور دنیاوی دولت و مال کی فکر میں مبتلا ہیں۔

    دنیا و آخرت کی بھلائیاں حاصل کرنے کے لیے توکل پہلی اور لازمی شرط ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ تمام مخلوقات کی پکار سننے والا ہے جو توکل اور بھروسے سے مانگے اسے مومن اور کافر کی تفریق کے بغیر عطا فرماتا ہے۔ انسان جب خود کو کمزور و ناتواں اور مجبور و بے بس سمجھ کر یہ سوچ بختہ کرکے اللّٰہ تعالیٰ سے مانگے کہ میرا اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کوئی سہارا نہیں ہے کوئی مشکل کشا و حاجت روا نہیں ہے، رب کے علاؤہ کوئی عطا کرنے والا نہیں ہے، میرا رب عطا کرنے والا اور عیبوں پر پردے ڈالنے والا ہے تو اللّٰہ تعالیٰ اپنے ہر بندے کے ہاتھ خالی نہیں لوٹاتا لیکن مضبوط بھروسے اور توکل کی ضرورت ہے کہ ذات باری تعالٰی کے در سے ہی حاجت پوری اور اس بارگاہِ الٰہی سے فیض یاب ہوں گا۔

    جس انسان نے اللّٰہ پر توکل اور بھروسہ پختہ کر لیا اس کا ایمان کامل ہوگیا اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔ اللّٰہ تعالیٰ اپنی رضا ، خوشنودی اور توکل کی دولت سے مالا مال فرمائے آمین

  • مشکل ہے ناممکن نہیں، تحریر:سفینہ خان

    مشکل ہے ناممکن نہیں، تحریر:سفینہ خان

    امریکہ کا افغانستان سے انخلا کے بعد اشرف غنی کی حکومت کا خاتمہ اور طالبان کا بغیر کسی خون خرابے اور بنا کوئی گولی چلائے اپنی حکومت قائم کر لینا جہاں پوری پوری دنیا کے لئے حیران کن تھا۔ وہاں بھارت کی بدترین اور ناقابل یقین شکست بھی ہے۔

    طالبان نے جہاں افغانستان میں امریکی قیادت میں قائم نیٹو افواج کے خلاف 20 سالہ جنگ جیت لی ہے۔ وہاں دوسری طرف افغانستان سے بھارت نے نا صرف اپنا اثر ور سوخ کا خاتمہ کیا ہے بلکہ دہلی نے ایک ہی جھٹکے میں اپنی مضبوط گرفت بھی کھو دی ہے۔جہاں بھارت کو افغانستان میں بہت بڑی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ وہاں پاکستان نے بھارت کے نکل جانے کے بعد اپنی دو بڑی مشرقی اور مغربی سرحدوں کو محفوظ بنا کر بہت بڑی تاریخی کامیابی سے بھی ہمکنار ہوا ہے۔سونے پر سہاگہ پاکستان کے آئی ایس آئی کے چیف فیض حمید کا کابل پہنچنا اور صحافیوں سے بات چیت کے دوران ہاتھ میں پکڑا چائے کا کپ پوری دنیا کے میڈیا پر متوجہ کا باعث بن گیا۔ گویا ان کے ہاتھ میں پکڑا چائے کا کپ بھارتیوں کے زخموں پر نمک چھڑک گیا ۔ بھارتی ایسے تھڑپے جیسے چائے کا کپ نا ہو گیا بمب کا گولہ ہو گیا۔

    افغانستان میں پھنسے فوجیوں کا افغانستان سے بحفاظت انخلا اور ان کی پاکستان میں قیام اور پھر سی آئی اے کے چیف کا پاکستان جانا اور پاکستان کے آرمی چیف جرنل قمر باجوہ سمیت آئی ایس آئی کے چیف فیاض حمید سے مولقات کے دوران ان کے تعاون اور پاکستان کے کردار کی تعریف بحرحال بھارت کے لئے ایک اور شدید ترین صدمہ ہے۔بھارت کے ہاتھ سے صرف افغانستان پر قبضے اور ایشا ممالک پر تھانیدار بن کر بیٹھنے کا خواب ہی چکنا چور نہی ہوا ۔ بلکہ بھارت کی کھربوں کی افغانستان میں انویسٹمنٹ بھی ڈوب گئی ہے۔بھارت کی شکست اور بےبسی کا اندازہ اپ بھارتی میڈیا اور ان کے ریٹائرڈ جرنلز کی چیخ و پکار سے بخوبی لگا سکتے ہیں ۔بھارتی میڈیا کے جذباتی نیشنلسٹ طبقہ تو اتنا اگ بگولہ ہوا بیٹھا ہے ۔کہ کبھی وہ پنجشیر سے متعلق ویڈیو گیمز کے کلپ لگا کرجھوٹی اور من گھڑت کہانیاں پھیلاتا ہے اور دوسری طرف کابل سرینا ہوٹل میں قائم تصوراتی فیفتھ فلور میں ٹھہرے پاکستان کے آئی یس آئی کے جوانوں کے بارے میں پھیلایا جھوٹ بھی سینہ تان کے پوری دنیا کو ثابت کرنا چاہتا ہے کہ سب کچھ پاکستان ہی کروا رہا ہے۔

    بھارت اس وقت زخمی سانپ بنا بیٹھا ہے۔ وہ پاکستان پر بے درپے وار کر کے افغانستان میں اپنی شکست کا بدلہ لینا چاہتا ہے۔پاکستان میں پچھلے ہفتے نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کا اچانک سیکورٹی ایشوز اور دہشتگردی کے خطرے کے ڈر سے کر کرکٹ سیریز کھیلے بغیر ہی چلے گئے۔ اور آج انگلینڈ اور ویلز کے کرکٹ بورڈ نے بھی دورہ پاکستان منسوخ کر دیا۔ جو کہ بلاشبہ پاکستان کے لئے ایک دھچکہ ہے ۔ پاکستان کرکٹ شائقین کے لئے یہ ضرور بری خبر ہے لیکن اتنی بھی بری خبر نہی کہ اسے خوشی میں نا بدلہ جا سکے۔ اگر ابھی بھی پاکستان کی حکومت اور ریاستی ادارے چاہیں ۔تو انٹرنیشنل ٹیموں کو نا سہی انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو پاکستان بلا کر کرکٹ کے میدان سجا کر پوری دنیا کو پیغام دیا جا سکتا ہے کہ پاکستان نا صرف سب کے لئے محفوظ ہے ۔ بلکہ کسی ٹیم کے آنے یا نا آنے سے کھیل رک نہی جایا کرتے۔

    بھارت اب آرام سے نہی بیٹھے گا۔ وہ پاکستان کو ہر طرح سے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا ۔ اور اس کے لئے پاکستان اور ان کے ان کے ریاستی اداروں کو دشمن کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے تیار رہنا ہو گا ۔کیونکہ جس فیفتھ جنریشن وار کا ذکر ہمارے سابقہ ڈی جی آئی ایس پی آر جرنل غفور کیا کرتے تھے ۔ شائد اب اس وار کی سمجھ ہمارے پاکستانی نوجوانوں کو بھی آنے لگی ہے۔ کہ اب جنگیں صرف گولی ، بندوق سے ہی نہی ٹیکنالوجی کی ذریعے بھی لڑی جائے گی ۔جس میں سب سے زیادہ سامنا فیک نیوز پھیلا کر پاکستان کی ریاست اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کرنا شامل ہے۔امریکہ کا پاکستان پر غصہ سمجھ میں آتا ہے ۔امریکی صدر جوبائیڈن کا اپنی ناکامی کا ذمےدار پاکستان کو ٹھہرانا ان کے مفاد میں ہے ۔ کہ وہ کیسے دنیا کو اور اپنی عوام کو کہہ دیں ۔کہ ہم واحد دنیا کی سپر پاور طالبان سے ہار گئے۔اگر ہم اس ساری صورتحال پر فوکس کریں اور ابھی کے حالات کو آنے والے دنوں میں بیگر پیکچر کے طور پر دیکھیں تو شائد ہم سب کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

    امریکہ کے پلان اے کے مطابق ان کے اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد بھارت کو افغانستان میں سب کچھ کنڑول کرنا تھا۔ جو کہ اب اس طرح تو ممکن نہیں رہا ہے۔آیندہ آنے والے دنوں میں امریکہ ، بھارت ، آسڑیلیا اور جاپان سیکورٹی ڈائیلاگ پر اجلاس کرنے جا رہے ہیں ۔ اس اجلاس میں فوکس تو ضرور چین ہو گا ۔ لیکن نشانہ پاکستان ضرور ہو سکتا ہے۔اور اس بات پر سوچ بچاو کیا جائے گا کہ چین کو آگے کیسے کنڑول کیا جا سکتا ہے۔ پھر چاہے امریکی ٹیکنالوجی کو پہلی بار آسڑیلیا منتقل کرنا ہو ۔ ایجنڈا چین اور اس خطے کا کنڑول حاصل کرنا ہی ہو گا ۔وزیر اعظم عمران خان جو ہمشہ سے ہی طالبان کے حامی رہے ہیں۔مجھے ایسے لگتا ہے وہ اس ساری سیچویشن کو اپنے حق میں استعمال کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ جہاں پوری دنیا پاکستان اور پاکستان کے دفاعی اور ریاستی اداروں کو سراہا رہی ہے ۔ان کی مدد کے لئے شکریہ کے پیغامات بھیج رہی ہے ۔جہاں پاکستان اور پاکستان کی آرمی کے موثر کردار نے پوری دنیا کو اپنی اہمیت کا احساس دلوایا ہے ۔وہاں امریکہ میں موجود قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کی ناکام پالیسی بھی کھل کر سامنے آئی ہے ۔ کہ وہ اتنی بڑی کامیابی کو پاکستان کی وفاقی حکومت اور وزیراعظم عمران خان اپنے حق میں استعمال کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے۔قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کے طالبان سے متعلق کنفیوز بیانات ویٹ اینڈ واچ کی پالیسی اور دو ٹوک موقف نا لے پانے کی پالیسی نے بحرحال وفاقی حکومت کو نقصان ہی پہنچایا ہے۔معید یوسف کی ناکام سفارتکاری کی اس سے بڑی مثال کیا ہو گی ۔کہ پاکستان کے مثبت کردار کے باوجود امریکی صدر جوبائیڈن سے ایک فون کال نا کروا سکے۔ پاکستان کی وفاقی حکومت کو جلد اور موثر اقدامات کرنے ہوں گے۔

    وزیراعظم عمران خان کو جہاں سٹرونگ لابنگ کی ضرورت ہے وہاں فرنٹ فوٹ پر آ کے کھیلنے کی ضرورت ہے۔ یہ وقت وضاحتیں دینے کا نہی ہے ۔ پاکستان کی اہمیت اپنی مثبت اور عملی پالیسی کے ساتھ دنیا کو کچھ کر دکھانے کی ضرورت ہے ۔ایک عرصہ دراز کے بعد پاکستان کی اس خطے میں بہت ہی سٹرونگ پوزیشن بنی ہے ۔ اس کو ہمارے ریاستی اداروں کی محنت کہہ لیں یا اللہ کا کرم لیکن جو پاکستان چاہتا تھا ویسا ہی ہوا ہے۔پوری دنیا جانتی ہے اگر سلک روٹ پراجیکٹ مکمل ہو گیا تو پاکستان کی کیا اہمیت ہو جائے گی۔ یہ وہ پراجیکٹ ہے جو پاکستان کی ہی نہی ہماری آنے والی نسلوں کی تقدیر بدل کے رکھ دے گا ۔ طالبان کا سی پیک پر چین اور پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی بحرحال پاکستان کے لئے نیک شگون ہی ہے۔پاکستان کو اپنی کامیابیوں کو نا صرف بچا کے رکھنا ہے بلکہ اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں پر توجہ دیتے ہوئے بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور اس خطے کے لئے مثبت عملی اقدامات سے دنیا کو ثابت کرنا ہے۔تاکہ ہمارے ملک کے وزیراعظم کو کسی کے فون کا انتظار نا کرنا پڑے بلکہ دنیا ہمیں چل کر ہمارے پاس انا پڑے۔ مشکل ہے ناممکن نہیں

  • اسٹیبلمشنٹ کی سازش ،تحریر:  زوہیب خٹک

    اسٹیبلمشنٹ کی سازش ،تحریر: زوہیب خٹک

    ایوب، ضیا اور مشرف، تینوں ڈکٹیٹرز گزرے ہیں اور مجموعی طور پر 30 سال تک برسراقتدار رہے۔ لیکن فوج کا سسٹم ایسا ہے کہ ان کی اولاد میں سے کوئی جنرل تو دور، بریگیڈئیر بھی نہ بن سکا ۔ ضیا کے بیٹے نے کچھ عرصہ سیاست میں حصہ لیا لیکن پھر وہ بھی کھڈے لائین لگ گیا۔

    سابق آئی ایس آئی چیف اور افغان جہاد کے دور کا سب سے طاقتور جنرل اختر عبدالرحمان کے صاحبزادے ہمایوں اختر اور ہارون اختر نے ن لیگ اور ق لیگ کے پلیٹ فارم سے سیاست کی، آج کل یہ دونوں بھائی بھی کھڈے لائین لگے ہیں۔

    راحیل شریف، پرویز کیانی، وحید کاکڑ، جہانگیر کرامت، اسلم بیگ، یحی خان، جنرل موسی ۔ ۔ ۔ ۔ اتنے بڑے بڑے جرنیل لیکن ان کی اولاد فوج کے سسٹم کے آگے بے بس نظر آئی اور اپنے باپ کے نام کا فائدہ نہ اٹھا سکی۔

    کچھ یہی حال عدلیہ کا بھی ہے۔ اعلی عدالتوں کے جج اپنے بچوں کو وکیل بنوا لیں تو بڑی بات ہے، ملکی تاریخ میں شاید ہی کسی چیف جسٹس کا بیٹا چیف جسٹس بن سکا ہو۔ اسی طرح بیوروکریسی میں بھی دیکھ لیں، طاقتور ترین سیکریٹریز کی اولاد بزنس یا پرائیویٹ سیکٹر میں جاب کرتی ہیں، شاذ و نادر ہی اپنے باپ کی طرح اعلی سرکاری عہدے پر آسکے۔

    اس کے برعکس آپ سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کو دیکھ لیں۔ ایک دفعہ باپ سیاست میں آگیا تو پھر اس کا بھائی، بیٹا، بیٹی، بیوی، بہن، داماد، بہنوئی۔ ۔ ۔ ۔ اور اس کے بعد اگلی نسل تک سیاست پر اپنا حق سمجھتے ہوئے دھڑلے سے اقتدار میں اپنا حصہ مانگتی ہے۔

    بھٹو اور شریف خاندان کی مثال آپ کے سامنے ہے۔ نوازشریف کے اس وقت کم از کم 22 رشتے دار پنجاب اور مرکز میں وزارتوں یا اعلی سرکاری عہدوں پر فائز ہیں۔

    فضل الرحمان کا بھائی،بیٹا،بہن، وغیرہ بھی سیاست میں آچکے ہیں۔

    چوہدری برادران، لغاری، مزاری، چٹھے، قریشی، پگاڑا، جتوئی، اچکزئی، اسفندیارولی، الغرض ملک کے چاروں صوبوں کے بڑے بڑے سیاستدانوں کو دیکھ لیں، اپنے ساتھ ساتھ اپنے خاندان کے افراد کو بھی سیاست میں اور اقتدار میں شریک رکھتے ہیں۔
    پرویز خٹک بھی اپنی بیٹیوں اور داماد کو سیاست میں لا کر اعلی عہدے دلوا چکا۔
    ان سیاستدانوں کی اہلیت کیا ہے؟ سوائے اس کے کہ یہ اپنے علاقے کے بڑے زمیندار اور جاگیردار ہیں، بدمعاش اور قاتل ہیں، رسہ گیر اور اٹھائی گیرے ہیں، دھوکے باز اور قبضہ گروپ ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے علاوہ ان کی کوالیفیکیشن کیا ہے؟ کس بنیاد پر یہ اپنے بھائیوں اور بچوں کو اپنے ساتھ سیاست میں لے آتے ہیں اور یوں ملک ان تین درجن خاندانوں کے زیر کنٹرول آجاتا ہے۔

    عوام تو جاہل ہیں، جن کی سوچنے سمجھنے کی حس ہی ختم ہوچکی، کبھی پڑھی لکھی بیوروکریسی یا ملٹری کے آفیسرز سے پوچھ کر دیکھیں کہ ان کے دل پر کیا بیتتی ہوگی جب انہیں کسی بدمعاش سیاستدان اور اس کی اولاد کو اس وجہ سے سلام کرنا پڑتا ہے کہ وہ بزورطاقت اپنے حلقے سے ووٹ لے کر رکن اسمبلی منتخب ہوگیا اور پھر وزیر شذیر بھی منتخب ہوگیا۔

    اسٹیبلشمنٹ کا نام لے کر آپ اپنا رونا جتنا مرضی رو لیں لیکن کم از کم آرمی، عدلیہ اور سول بیوروکریسی میں اقربا پروری تو نہیں، جرنیل کا بیٹا جرنیل نہیں بنتا، جج کا بیٹا جج نہیں لگتا اور محکمہ سیکرٹری کا بیٹا ڈی جی نہیں لگتا۔

    یہ کارنامے صرف ہماری ‘ جمہوریت ‘ میں ہی ممکن ہیں اور ایسا کرنے والے سیاستدان جب اپنے آپ کو جمہوریت پسند کہہ کر سارا ملبہ اسٹیبلشمنٹ پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں

    اور
    ذمہ دار فوج ہے !!!❗

    ذوالفقار بھٹو کو ایوب خان نے وزیرخارجہ بنایا۔لیکن ایوب خان کے بعد اسی بھٹو کو عوام نے 2 بار پاکستان کا سربراہ مملکت بنایا۔ اسکی بیٹی اور داماد کو تین بار پاکستان کی سربراہی سونپی۔ جس کے بدلے میں انہوں نے نہ صرف پاکستان کو دولخت کر دیا بلکہ پاکستان پر بیرونی قرضے چڑھانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی معیشت کا وہ بیڑا غرق کیا کہ دوبارہ نہیں اٹھ سکی۔

    اسکی ذمہ دار پاک فوج ہے؟

    نواز شریف کو جنرل ضیاءالحق نے صوبائی وزیرخزانہ بنایا۔ لیکن عوام نے اس کو تین بارپاکستان کا وزیراعظم بنایا اور 6 بار پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا سربراہ۔ اسکا نتیجہ پاکستان پر ریکارڈ ساز قرضوں، قومی اداروں کی مکمل تباہی، اونے پونے فروخت اور کشمیر سمیت خارجہ محاذ پر تباہ کن پالیسی کی صورت میں نکلا۔۔

    اسکی ذمہ داری پاک فوج پر ہے؟

    پاکستان میں 8 لاکھ پولیس، کم از کم 2 لاکھ ججز، وکیل اور ان کے معاؤنین ہیں۔ اربوں روپے کا بجٹ رکھنے والی والی ایف آئی اے اور نیب نامی ادارے ان کے علاوہ ہیں۔ لیکن کرپشن کرنے والوں کو سزائیں نہ ملنے کی ذمہ دار پاک فوج ہے؟کل 50 ارب ڈالرز کے قومی بجٹ میں سے 7 ارب ڈالرز پاک فوج کو ملتے ہیں باقی 43 ارب ڈالر کا بجٹ پارلیمنٹ کے پاس جاتا ہے۔ لیکن پاکستان کی معاشی بدحالی کی ذمہ دار پاک فوج ہے؟

    پاک فوج نے دہشت گردی کی سہولت کار پکڑ کرشہادتوں کے ساتھ عدالتوں کے حوالے کیے۔ جہاں سے ان کو رہائیاں مل گئیں اور باہر آتے ہیں عوام نے ان کو سونے کے تاج پہنا دئیے۔ اور جمھوریت نے انھیں سچے ایمان دار سیاست دان ہونے کے سرٹیفکیٹ دیے۔

    لیکن ذمہ دار پاک فوج ہے ؟

    پاکستان کی کل آبادی تقریباً 20 کروڑ ہے جن میں سے 6 لاکھ فوج ہے۔ پاک فوج بیک وقت دہشگردوں اورغیر ملکی ایجنسیوں کے خلاف دنیا کی سب سے بڑی پراکسی جنگ کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ۔ پاکستان میں تمام قدرتی آفات کے موقعے پرسارے چھوٹے بڑے ریلیف آپریشنز کر رہی ہے۔سی پیک کو پایہ تکمیل تک پہچانے کے لیے دن رات مصروف ہے۔ چین، روس اور اب خلیج ( اسلامی اتحاد ) کے محاذ پر انڈیا اور امریکہ کی خارجہ پالیسی کا مقابلہ کر رہی ہے۔ کلبھوشن جیسے کتنے انڈین ایجنٹ بے نکاب کیے جس پر ان کے سہولت کارجمھوروں کو سانپ سونگھ گیا۔دہشت گردی سے متاثرہ لاکھوں آئی ڈی پیز کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔ سول عدالتوں سے ملنے والے دہشت گردی کے کیسز سن رہی ہے۔ پولیو کے قطرے پلا رہی ہے۔ مردم شماری کر رہی ہے۔ ہتہ کہ چھوٹو گینگ کو پکڑنے کے لیے بھی فوج کو بلایا جائے۔

    پاک فوج اس وقت دنیا مین سب سے زیادہ جانیں دینے والی فوج بن چکی ہے جس میں آفسیرز کی شہادتوں کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور کوئی ایسا دن نہیں گزرتا جو پاک فوج کی شہادت سے خالی گیا ہو۔

    لیکن پاکستان میں ہر خرابی کی ذمہ دار پاک فوج ہے۔ یہ باقی 19 کروڑ 93 لاکھ کیا کر رہے ہیں؟ کیا ان سب پرکوئی فرض اور ذمہ داری عائد نہیں ہوتی ؟

    خدارا فوج کو بدنام کرنے والے مکروہ لوگوں کا ساتھ نہ دیں اور اپنا فرض ادا کریں ۔ الیکشن میں اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں ۔ نہ کہ ان کرپٹ اور بے ضمیر، چوروں ڈاکوؤں کو لا کر اپنا مستقبل ان ملک دشمنوں کے ہاتھوں میں دیں ۔

    تحریر زوہیب خٹک

    Twitter @zohaibofficialk