Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • اچھا کھانا شوہر کے معدے سے ہوکر دل پر اثر کرتا ہے ،تحریر: فرزانہ شریف

    اچھا کھانا شوہر کے معدے سے ہوکر دل پر اثر کرتا ہے ،تحریر: فرزانہ شریف

    اگر لڑکیاں چاہتی ہیں سسرال میں بھی والدین کے گھر جیسی لاڈبھری اور شاہانہ ٹائپ ذندگی ملے انجوائے کرنے لے لیے تو وہ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ گھر کے کام کرنے میں بھی دلچسپی لینی شروع کردے جو لڑکیاں صرف پڑھائی میں ہی مگن رہتی ہیں اور کم عمری میں شادی ہوجاتی ہے پھر اگلے گھر وہ بہت خوار ہوتی ہیں اگر تو خوش قسمتی سے سسرال اچھا مل جائے تو پھر اس کی اس خامی کو بھی خوبی میں بدل دیا جاتا ہے اور اگر سسرال اتنا اچھا نہ مل سکے تو اس کی تعلیم بھی اس کے لیے طعنہ بن جاتی ہے انپڑھ جھٹانیاں بات بات پر طعنے دیتی ہیں کہ ہاں جی یہ پڑھی لکھی ہے لیکن ہے بےچجعی (پھوہڑ)تو لڑکی کی ساری خوداعتمادی ہوا ہوجاتی ہے اور وہ دل میں سوچتی ہے کاش میں سکول کالج نہ گی ہوتی ۔بلکہ گھر کے کام سیکھے ہوتے اور چلاکیاں سیکھی ہوتیں ۔کہ سامنے والا جھگڑ رہا ہوتا ہے اور ایک پڑھتی پڑھتی شادی کے بندھن میں بندھ جانے والی معصوم سی لڑکی کو پتہ ہی نہیں چلتا اسے آگے سے کیا جواب دینا ہے کیونکہ مائیں آپکی ہر قسم کی اچھی تربیت کرتی ہیں لڑنا جھگڑنا نہیں سکھاتی ۔۔اس لیے میری لڑکیوں سے ریکویسٹ ہے کہ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ گھر کے کام بھی سیکھیں ۔ خاص طور پر کھانا بنانے کی پریکٹس شروع کردیں تو اگلے گھر جاکر آپ سسرال والوں کے دلوں پر راج کرو گی کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ انسان کا دماغ اتنا میچور تو ہوجاتا ہے جہاں وہ فیشن کرنا سیکھ رہا ہوتا ہے وہی عقل اور چالاکیاں بھی انسان وقت کے ساتھ سیکھتا جاتا ہے کوشش کریں اپنی چالاکیاں مثبت کاموں میں صرف کریں۔
    آپ کتنے بھی چالاک ۔خوب صورت ۔خوب سیرت ہوں تعلیم یافتہ ہوں (میں لڑکیوں کی بات کررہی ہوں ) لیکن آپ کو اگر اچھا کھانا بنانا نہیں آتا تو آپکی ساری قابلیت کاغذ کےخوبصورت پھول سے ذیادہ نہیں ہوگی جو بظاہر تو خوبصورت لیکن اس میں وہ خوشبو تازگی نہیں ہوگی جو اصلی پھول میں ہوتی ہے
    ۔۔
    کھانے بنانے کے لیے آپکو کسی ورد کسی وظیفہ کی ضرورت نہیں بس کوشش کرنے کی ضرورت ہے جیسے ہمارے والدین ہماری شادی سے پہلے دیکھتے ہیں لڑکا کیا کام کرتا ہے کیسا اس کا رہیں سہن ہے کتنا کماتا ہے اسی طرح لڑکے والوں کا بھی حق بنتا ہے کہ لڑکی ایسی ملے جو اچھا کھانا بنا سکتی ہو گھر کو صاف ستھرا رکھ سکتی ہو اس کے ساتھ ساتھ گھر کا ماحول کیسے خوشگوار بنانا ہے اس بات کا اسے ادراک ہونا چاہئیے۔کہتے ہیں اپنے شوہر کے دل پر قبضہ کرنا ہوتو اس کا راستہ معدے سے ہوکر دل کی طرف جاتا ہے۔۔!!

    میں ہمیشہ اپنی ماں سے سنتی آئی ہوں کہ جس خاتون کے ہاتھ میں اللہ کا دیا خاص تحفہ ذائقہ ہوتا وہ اپنے شوہر کے دل پر راج تو کرتی ہی ہے اپنے سسرال والوں کے دلوں پر بھی راج کرتی ہے۔ہمیشہ اپنے ہاتھ صاف ستھرے اور بال لپیٹ کر کچن میں جائیں اور جب بھی کھانا بنانے لگیں” بسمہ اللہ "پڑھ کر شروع کریں اپنا دماغ حاضر رکھ کر اور ساتھ اللہ کا شکر ادا بھی کریں جس نے آپکو ان نعمتوں سے نوازا ۔جو خواتین کچن کا کام خود کرتی ہیں میں نے ان کی فیملی کو صحت مند اور ہشاش بشاش دیکھا کیونکہ جب آپ صاف ستھرے ہاتھوں سے کھانا بنائیں گی صاف ہاتھوں سےگوشت دھو کر بنائیں گی ۔صاف ہاتھوں سے گندھا آٹا اس سے پکی روٹی۔۔ آپ کے صاف ہاتھوں سے کاٹی گی سبزی پیاز۔آپ کی محنت سے پکا ہر قسم کا کھانا گوشت سبزی ۔جب ان کے معدوں میں جائے گا تو ان کے دل میں آپکی محبت عزت بڑھے گی آپکے خلوص عقیدت کی تپش ان کے دلوں میں اثر کرے گی کہ کتنی عقیدت محبت سے آپ اپنی فیملی کے لیےکھانا بناتی ہیں ۔گھر میں چاہے آپ نے ملازم ہی کیوں نہ رکھے ہوں (یورپ ممالک میں تو گھریلو ملازم کا تصور ہی نہیں پاکستان کی بات کررہی ہوں )تب بھی کچن کا کام کسی صورت ملازموں پر نہ چھوڑیں اپنی فیملی کے لیے خود وقت نکالیں چاہے آپ جاب ہی کیوں نہ کررہی ہوں ۔۔

    اگر آپ کچن میں چائے بنانے جاتی ہیں چائے کپ میں ڈال کر گیلی گیلی گرم گرم دیگچی اسی وقت واش کردیں بعد میں آپکو محنت سے صاف کرنے کی ضرورت نہیں پیش آئےگی اسی طرح کچن میں کھانا بناتے ہوئے ہر چیز ساتھ ساتھ سمیٹنے کی عادت ڈالیں آج کا کام کل پر نہ ڈالیں جیسے جیسے کھانا بنانے کے دوران برتن بنتے جاتے ہیں ساتھ ساتھ دھوتی جائیں ،(ہم نے تو کچن پیپر رکھا ہوتا ہے لیکن پاکستان میں سب لوگ افورڈ نہیں کرسکتے آپ گھر میں یوز ہوئی پرانی چادریں واش کرکے ان کے چھوٹے چھوٹے پیسیز کی شکل دے کر ایک بڑے شاپر میں ڈال کر کچن کے کسی دراز میں رکھ لیں )جب آپ کھانا بنارہی ہوتی ہیں تو ایک ڈسٹر یا سپونی۔یا پھر کوئی پرانے کپڑے کا پیس پاس ہی رکھیں جس سے کھانا بناتے وقت دیوار پر پڑنے والی چھینٹیں اسی وقت صاف کرتی جائیں ساتھ ساتھ چولہا بھی صاف کرتی رہیں کیونکہ اسی وقت گیلی اور گرم ہونے کی وجہ سے صاف کرنا آسان ہوتا ہے بعد میں آئل اور مصالحہ جات جم جانے کی وجہ سے اکثر داغ رہ جاتے ہیں،جو بعدمیں بہت محنت طلب اور وقت مانگتے ہیں ۔اسی لیے تو کہتے ہیں "وقت پر لگایا گیا ٹانکہ آپکو نو ٹانکوں سے بچاتا ہے ”
    کھانا بنانے کے بعد اچھی طرح سینک صاف کردیں شیلف وغیرہ بھی ساتھ ساتھ ہی صاف کرتی جائیں اور کچن کا فرش دھو کر ایگزاسٹ فین چلا دیں ۔کھانے کی مہک اور دھواں وغیرہ باہر نکل جائے گا پھر اپنی فیملی کو بہت محبت پیار سے اپنے ہاتھوں کا مزیدار کھانا پیش کریں اور ڈھیروں محبتیں پیار سمیٹیں ۔اپنی فیملی کا پیار محبت کسی بھی خاتون خانہ کے لیے بیش قیمت تحفہ ہوتا ہے
    اللہ تعالی آپ سب کے گھروں کو آباد رکھے شاد رکھے آپکو اپنی فیملی کے دل کی شہزادی اور آنکھوں کا تارا بنائے رکھے آمین

  • پاکستان اور اقوام عالم .تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    پاکستان اور اقوام عالم .تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    آجکل دو اصطلاحات بہت زیادہ استعمال ہو رہی ہیں۔
    1۔ پہلی Full spectrum deterrence
    2۔ دوسری Minimum level deterrence

    یہلے ہم Deterrence کو سمجھ لیں تو یہ دونوں اصطلاحات سمجھ آ جائیں گی۔ کسی کو خوف میں ڈال کر اس کو اس کے مقاصد سے باز رکھنے کے عمل کو Deterrence کہا جاتا ہے۔ عام طور پر یہ ایسے ہے کہ آپ اپنے ہتھیاروں کے بل پر خوف پیدا کرکے دشمن کو کسی جارحیت سے روکنے کو Deterrence کہیں گے۔
    ١٩٩٨ء سے پاکستان ایٹمی قوت کے طور دنیا کے نقشہ پر ابھرا۔ اگر آپ ٢٨ مئی ١٩٩٨ء سے فورا” پہلے کے زمانے میں بھارتی مشیروں، وزیروں اور میڈیا کی ہرزہ سرائیاں ملاحظہ فرمائیں تو قارئین بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ علاقہ میں اپنی برتری کے زعم میں مبتلاء ہو چکا تھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ کھلم کھلا جارحیت کے پیغامات دے رہا تھا۔دوسری جانب کشمیر میں اور مشرقی پنجاب میں بھارتی کاروائیاں عروج پر پہنچ گئیں۔ دنیا ابھی ورطہُ حیرت میں تھی کہ تمام عالمی قوتوں نے پاکستان پر دباؤ پڑھا دیا کہ ایٹمی دھماکے سے باز رہے۔
    ان حالات میں امریکہ تو بہت سی مراعات اور تب کے وزیراعظم (جن کیلئے ایک امریکی جریدہ میں خبر چھپی تھی کہ یہ سب کچھ بیچ سکتا ہے دولت کی خاطر) سے فون پر رابطے اور سفراء کے ذریعہ مختلف حیلہ و بہانوں سے دباؤ بڑھایا گیا۔
    اس وقت ایک پروگرام میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے بیان کے مطابق، تمام سیاسی، دانشوروں اور فوجی قیادت اس پر متفق تھی کہ فورا” دھماکے کرکے اس موقعہ سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اور انہی دھماکوں سے بھارتی جارحیت کو رد کیا جا سکتا ہے۔ اس پر بہت بار مشاورت بھی کی گئی لیکن وزیراعظم مُصر رہے کہ انتظار کیا جائے۔ یہ گرچہ الگ پورا باب ہے لیکن یہاں اختصار سے تذکرہ کر دیا تاکہ ذہنوں میں یادیں تازہ ہو جائیں۔ خیر کہ پاکستان نے بھی دھماکے ٢٨ مئی ١٩٩٨ء کو کرکے ایٹمی قوت کے طور پر اپنا لوہا منوایا۔ یہ ایٹمی ہتھیار پاکستان کی سالمیت کی ضمانت قرار پائے۔ ان دھماکوں کے ساتھ ہی اچانک تمام رویے جو بھارتی قیادت کی طرف سے دھمکیوں اور میڈیا کے نفرت انگیز رویوں سے سامنے آ رہے تھے، پیشاب کی جھاگ ثابت ہوئے۔ ہر طرف بشمول سوشل میڈیا، سب کو سانپ سونگھ گیا۔ پاکستان نے اپنی اس طاقت کو ظاہر کیا تھا جو ایک عرصہ سے تیار تو کر چکا تھا لیکن اپنے ہتھیاروں کو مناسب موقع کیلئے ذخیرہ کر رکھا تھا۔
    ان ہتھیاروں اور قوت کا مظاہرہ کر کے پاکستان دنیا میں تو الگ مقام حاصل کر چکا ہی تھا لیکن اسلامی دنیا کیلئے پہلا مسلم ملک تھا جو اب تک واحد ہے ایٹمی قوت کے ساتھ، لہذا مسلم امہ کیلئے خاص طور پر قائدانہ مقام حاصل کر لیا۔

    پالیسی:
    یہاں پاکستان نے واضح کیا کہ پاکستان کی پرامن پالیسی جاری رہے گی اور پاکستان ایک ذمہ دار قوم ہے جو اپنے اثاثوں کی ناصرف حفاظت کر سکتا ہے بلکہ اس قوت کو غیر ذمہ دارانہ طور پر استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ اس پالیسی کو عام زبان میں Minimum level Deterrence کہا جاتا ہے۔ اس پالیسی کا اعلان کرکے پاکستان نے بہت محتاط اور بینظیر کمانڈ سٹرکچر بنایا اور اپنے اہم اثاثوں کی محافظت اور اس کے استعمال کیلئے تمام ضروری اقدامات کئے۔ کچھ ہی عرصہ میں دنیا کو مطمئن کر دیا کہ پاکستان انتہائی ذمہ دار ملک ہے اور اس ملک کی قیادت کسی طور پر اپنی سالمیت پر سودا بازی کو قبول نہ کریگی۔
    بعد ازاں پاکستان بھارتی جارحیت کا منہ توڑنے کے بعد اپنی معیشت کی طرف متوجہ ہوا۔ ہر پاکستانی نے اس ضمن میں محنت کی اور پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط کرنے لگا۔ لیکن حکمرانوں نے قرضہ کی لعنت بھری دلدل میں پاکستان کو ڈبو کر تمام معیشت کو عالمی معاشی اداروں کی بھینٹ چڑھا دیا۔ عام عوام کو قرضوں سے خریدی ہوئی سستی روٹی دیکر خوش رکھا جبکہ دوسری طرف اپنے بینک بیلنس اور جائدادیں دنیا کے مختلف علاقوں میں پھیلاتے رہے۔ وہ تمام یورپی ممالک جو کالے دھن کو لعنت کہتے نہ تھکتے تھے، جانتے بوجھتے اپنی آنکھیں بند رکھے ہوئے تھے تاکہ پاکستان کو معاشی طور پر تباہ کیا جا سکے۔
    ١٩٩٨ء کے بعد اچانک آہستہ آہستہ پاک فوج کے خلاف ایک منظم مہم شروع کی گئی لیکن وہ اقتدار کی بساط لپیٹتے ہی ختم ہو گئی۔ مشرف دور میں ایسی تمام مہمات کسی مقام پر نظر نہ آتی تھیں۔

    مشرف دور کی واحد غلطی ق لیگ کیساتھ ملکر آمر سے سیاستدان بننے کی خواہش نے جنرل مشرف کو دوراہے پر لاکھڑا کیا اور این آر او کا فیصلہ ان کے اقتدار کے تابوت میں واحد کیل ثابت ہوا۔
    پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی حکومتوں نے مشرف دور کے اکٹھے ہوئے خزانوں کو جن کی مالیت تقریبا” ٦٥ ارب ڈالر سے زائد ذخیرہ کہا جاتا ہے، اپنے مفادات میں استعمال کیا۔ ١٠ سال کی قلیل مدت میں پاکستان کو عملا” معاشی طور پر ایک بار پھر عالمی اداروں کے مرہون منت بنا دیا گیا۔
    امریکی جارحیت افغانستان کے خلاف جاری رہی اور ساتھ ہی امریکہ پاکستان کو بلیک میل کرتا رہا، جبکہ امریکہ نے بھارت سے ہر سطح پر تعلقات کو استوار کیا اور معاشی و دفاعی معاہدے کئے لیکن ایسے نازک وقت میں اپنے پرانے دوست پاکستان کو یکسر نظرانداز ہی نہ کیا بلکہ بعض مقامات پر بھارت کی حمایت کرکے پاکستان کو زدوکوب کرنے کی بہیمانہ کوششیں ہوئیں۔
    پھر زمین و آسمان نے دیکھا کہ بھارت نے اپنے تمام ہتھیاروں سے لیس ہو کر پاکستان کو اندرونی و بیرونی خلفشار میں مبتلا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ لیکن پاکستان کے اداروں نے اپنی بہترین کاوشوں کے ذریعہ ایسی ہر کوشش کو بالآخر ناکام بنا دیا۔ اس تمام جنگی صورتحال میں پاکستان کو بہت خون کی قربانی پیش کرنا پڑی۔ لیکن آخر میں آزادی کا چراغ مزید تیز لو کیساتھ جلتا دکھائی دے رہا ہے۔
    اس وقت تک پاکستان نے پرامن ملک اور تمام عالمی قوتوں کیساتھ دوستانہ رویہ رکھا۔ محتاط پالیسی کو جاری رکھا گیا اور بعض اوقات ثبوت ملنے کے باوجود بھارت پر الزام تراشی سے اجتناب برتا تاکہ دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات کو معمول پر رکھنے کی بھرپور کوشش جاری رہے۔ لیکن بنیا کب انسانیت دکھا سکتا ہے؟ ایسی ہر کوشش کو پاکستان کی کمزوری سمجھ کر بنیے نے اپنی پاکستان مخالف کارروائیوں میں تیزی دکھاتا رہا۔
    یہ صورتحال پاکستان کیلئے ناقابل قبول تو رہی لیکن پاکستان نے کبھی اپنی پالیسی کو نہ بدلا۔ ٢٠٠١ء سے جنرل مشرف نے پہلی بار جارحانہ دفاع کی پالیسی کا اعلان کیا۔اس اعلان کیساتھ ہی پاکستان میں حالات پر سکون ہونا شروع ہو گئے، جبکہ بھارت کی طرف کشمیر میں اور مشرقی پنجاب میں منظم تحریکوں نے زور پکڑ لیا۔ جلد ہی بھارت نے بھی پاکستان میں دہشت گردی کی لہر پیدا کرنا شروع کی جس کیلئے ہمارے اندر موجود بےوقوف پاکستانی جنت کے شوقین پاکستانی طالبان کی صورت میں مارکیٹوں، اہم سرکاری عمارتوں اور مختلف سکولوں میں پھٹتے نظر آئے۔ لیکن امریکہ کی طرف سے پاکستان سے Do More کے مطالبہ نے پاکستان کو عجیب پریشانی سے دوچار کیا۔ امریکہ خود پاکستان میں آپریشن کا خواہاں تھا، لیکن مشرف حکومت سے کمال سمجھداری سے امریکی خواب چکنا چور کر دیا اور اپنا علاقہ ایسے تمام بیرون ملک سے آئے اور پاکستانی دہشتگردی میں ملوث افراد کا صفایا کرنا شروع کر دیا۔ پاک فوج کا کردار اس پورے آپریشن میں قابل ستائش اور قربانیوں کی لازوال داستان بن گیا۔

    جلد ہی سول حکومت پیپلزپارٹی کی قیادت میں سامنے آئی اور جنرل مشرف کو وہ NRO جو دیا تھا، ایک پچھتاوا بن کر رہ گیا۔ اب زرداری سٹریٹجی کی بات ہونے لگی۔ زرداری صاحب نے ایک طرف جنرل مشرف کو وردی اتار کر گھر کی راہ دکھائی تو دوسری طرف نواز لیگ کو کمال ہوشیاری سے اپنے ساتھ ملا کر "باریوں” پر راضی کر لیا۔ عام عوام کے سامنے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کرنے والے سیاستدانوں نے اندرون خانہ اپنے الو سیدھے کرنا شروع کر دئیے۔
    جلد ہی زرداری صاحب کی حکومت کے خاتمہ کے بعد نواز لیگ نے معاہدہ کے تحت حکومت بنائی اور دفاعی پالیسیاں سب کی سب جارحانہ کی بجائے کلی طور پر مدافعانہ بن کر رہ گئیں۔ یہی دور تھا جب بھارت نے ایک جانب کشمیر میں ہاتھ سے نکلتے حالات کو قابو کیا تو دوسری جانب مشرقی پنجاب کی بھی تمام مزاحمتی تنظیموں کی کمر کو توڑ ڈالا۔ اسی زمانے میں فوج کے خلاف عوام میں ابتری پھیلائی گئی اور بدنام کیا جانے لگا۔
    حالیہ افغانستان میں تبدیلیوں اور عالمی قوتوں کے ردعمل کو دیکھتے ہوئے، پاکستان نے بھی اپنی پالیسی کو عالمی قوتوں کی پالیسی، خاص طور پر بھارتی میڈیا اور بھارتی پالیسی کو مدنظر رکھ کر تبدیل کی۔ ہمیشہ امن کی بات کرنے والے ملک کو بزدل یا مجبور سمجھ کر پاکستان میں بدامنی اور عوام میں بےچینی کا سبب بننے والے بھارت اور چند اور پاکستان مخالف ممالک کی سرگرمیاں اس بات پر پاکستان کو مجبور کرتی ہیں کہ اپنی پالیسی کو یکسر بدلا جائے، لیکن پہلی بار پاکستان کے وزیراعظم نے "Absolutely Not” کا نعرہ لگایا جسے بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔
    یہ نعرہ ہی نہیں ہے بلکہ اقوام مغرب اس کو چیلنج کے طور پر ملاحظہ کر رہی ہیں۔وہ قوم جو ایک عرصہ تک ان کیلئے "شرفو” کی حیثیت رکھتی تھی، آج انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر چیلنج کر رہی ہے جو انکے لئے ناقابل قبول ہے۔ لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ "گھاس” کھا کر زندہ رہنا سیکھ لیا جائے، لیکن قومی وقار اور قومی سلامتی کیلئے سب ایک ہوکر کھڑے ہو جائیں۔ شعب ابی طالب (ع) میں تین سال یا اس سے کچھ زیادہ عرصہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی درختوں کے پتے، جڑیں اور کم پانی پر گزارا کیا تھا؟ کیوں؟ تاکہ امت مسلمہ کے افراد وقت پڑنے پر اپنے ایمان کو بیچنے پر مشکلات کو، مصیبتوں کو قبول کریں لیکن اپنے ایمان کو مت بیچیں۔
    اس نعرہ کا مطلب ہی اب یہ ہے کہ جیسا تعلق تم رکھو گے ویسا جواب یہاں سے ملے گا۔اب یہی پالیسی رہے گی۔ ارجنٹائن کو JF17 Thunder کو بیچنا پاکستان کی معیشیت کیلئے اہم ہے تو بھلا چند میچ پاکستان کی ترجیح نہیں ہو سکتے۔ آپ کو پاکستان نے کبھی مجبور نہ کیا کہ بھارت کو تو سرخ لسٹ سے نکال دیا تھا ایک عرصہ پہلے جبکہ وہاں کرونا کی تباہ کاریاں ثبوت کیساتھ ظاہر ہیں جبکہ پاکستان کو فقط بھارت کو راضی رکھنے کیلئے سرخ لسٹ میں رکھا گیا۔
    دوسری جانب FATF بھی قابل غور ہے۔ کشمیر میں بھارتی کردار، پاکستان میں بھارتی دہشتگردی کی کارروائیاں، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی سرحدوں پر کاروائیاں، ۔۔۔۔۔ کیا تمام دنیا اندھی ہے یا دیکھنا نہیں چاہتی؟

    فیصلہ آپ کیجئے۔

    پاکستان زندہ باد

    کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی،لاہور

  • خطے میں قیام امن کے لئے پاکستان کا مثالی کردار .تحریر: ثاقب معسود

    خطے میں قیام امن کے لئے پاکستان کا مثالی کردار .تحریر: ثاقب معسود

    امریکا میں 20 سال قبل پیش آنے والے نائن الیون واقعات کے بعد افغان جنگ میں پاکستان امریکی اتحادی بنا۔ اگرچہ پاکستان نے صرف لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے اور امریکا کے اتحادی افواج کے ساتھ انٹیلی جنس شیئر کرنے پر اتفاق کیا ، لیکن پاکستان نے اس سے کہیں زیادہ حصہ ڈالا۔ پاکستان نے خطے میں دہشت گردی کو شکست دینے کے وسیع تر عالمی مفاد میں اتحاد میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔افغان جنگ میں شمولیت کی پاکستان کو بھاری قیمت چکانی پڑی، پاکستان میں دہشت گردی کانہ ختم ہونے والاسلسلہ شروع ہوگیا، دہشت گردوں نے حکومتی رٹ کوچیلنج کردیا،ہرطرف بم دھماکے اورافراتفری کاماحول بنادیا گیا،جس پر قابو پانے کے لئے پاک فوج نے بڑے پیمانے پر فوجی اپریشن کرنے کے ساتھ اپنے معاشرے کو ڈی ریڈیکلائزیشن کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مدرسہ اصلاحات ، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں(فاٹا)کا انضمام ، کم ترقی یافتہ علاقوں کو قومی دھارے میں لانا ، تعلیمی اصلاحات ، غربت کے خاتمے کے پروگرام اور نیشنل ایکشن پلان جیسے آئینی اقدامات پاکستان میں دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی چند مثالیں ہیں۔ یہ واضح ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی شراکت بے مثال ہے اور عالمی برادری بالخصوص امریکہ کو اس کو تسلیم کرنا چاہیے اور خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہنا چاہئے لیکن اس کے برعکس پاکستان شکوک وشبہات اورڈبل گیم کے الزامات لگائے گئے۔

    پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اپنے پہلے فوجی آپریشن میں شمالی وزیرستان میں درہ اکاخیل کے ایک وزیر ذیلی قبیلے کے خلاف کارروائی کی جو جولائی 2003 میں امریکی فوجی کیمپ پر القاعدہ کے زیر قیادت حملے میں ملوث تھا۔ اکتوبر2003ء میں ٹی ٹی پی، القاعدہ عناصراوروزیرستان کے زلی خیل اور کری خیل قبیلوں نے ریاستی اداروں کیسامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیاجن کے خلاف پاک فوج نے اپریشن کرکے ان عناصرکا خاتمہ کیا۔ وانا آپریشن مارچ 2004 میں ہوا تھا جس کے نتیجے میں چیچنیا اور ازبکستان سے تعلق رکھنے والے 63 دہشت گرد واصل جہنم ہوئے تھے اس آپریشن کے دوران القاعدہ کے ہاتھوں پاک فوج کے 26 فوجی جوانوں نے مٹی کاقرض اداکرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں۔ اپریل 2004محسود قبیلوں کے خلاف شکائی میں آپریشن کیاگیا ۔ ستمبر 2005 اور 23 جنوری 2008 کو شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان میں بھی دہشت گرد عناصر کے خلاف آپریشن شروع ہوا۔

    آپریشن شیردل کا مقصد باجوڑ ایجنسی کوٹی ٹی پی کیدہشت گردوں کے کنٹرول سے بازیاب کرانا تھا اور یہ اپریشن اگست 2008 ء سے 2 فروری 2010 ء تک جاری رہا۔ جس کے نتیجے میں تحریک نفاذ شریعت محمدی(ٹی این ایس ایم)کے سربراہ صوفی محمد اور ٹی ٹی پی سوات کے ترجمان مسلم خان پکڑے گئے۔ یکم ستمبر 2009 ء آپریشن بیا در شروع ہواجس نے نیٹو سپلائی ٹرکوں پر دہشت گرد حملوں کو کم کیا۔ آپریشن راہ نجات 16 ستمبر 2009 کو ڈیرہ اسماعیل خان ، فرنٹیئر ریجن ٹانک اور ژوب سے 90 فیصد دہشت گرد عناصر کا صفایا کر دیاگیا۔ 2011 میں 144 آپریشن کیے گئے جس کے نتیجے میں1016 دہشت گردجہنم کاایندھن بنے۔ 2012 میں پاکستانی فوج نے شمالی وزیرستان میں امن قائم کیا۔ 2013 میں کراچی اور بلوچستان کو پاکستان رینجرز کی کارروائیوں کی وجہ سے دہشت گردوں سے نجات ملی۔ آپریشن ضرب عضب شمالی وزیرستان پر مرکوز تھا ، 28 دسمبر 2014 تک اس علاقے میں 2100 دہشت گرد مارے گئے۔ فاٹا کی خیبر ایجنسی میں خیبر 1 آپریشن ٹی ٹی پی اور اس کے ساتھی لشکر اسلام کے خلاف تھا۔ خیبر ٹو آپریشن مارچ 2015 میں وادی تیراہ کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے ارادے سے شروع کیا گیا تھا جو ٹی ٹی پی ، لشکر اسلام اور جماعت الاحرار کے محفوظ ٹھکانوں میں تبدیل ہوچکا تھا۔ 2015 میں نیشنل ایکشن پلان(این اے پی)کے تحت کراچی میں امن واپس لایاگیا۔ 2016 میں بلوچستان توجہ کا مرکز تھا، پاک فوج کے جوانوں اوردیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کالعدم تحریک طالبان سمیت دیگر شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کی۔ فروری 2017 میں ، آپریشن ردالفسادنے لاہور ، سیہون شریف ، خیبر پختونخواہ اور سابقہ فاٹا سے باقی دہشت گرد عناصر کا خاتمہ کیا۔ خیبر IV ، وسط جولائی 2017 نے خیبر ایجنسی کی وادی راجگال اور وادی شوال کودہشت گردوں سے صاف کرنے میں مدد کی۔ آپریشن ردالفسادسے ملک میں دہشت گردوں کاخاتمہ ہوا اورپاکستان میں امن کی فضاقائم ہوئی ۔ ابھی تک ملک دشمن عناصر کیخلاف ٹارگیٹیڈاپریشن کاسلسلہ جاری ہے،جہاں ہماری پاک فوج کے جری شیرجوان چھپے دشمنوں کوایک ایک کرکے واصل جہنم کرنے میں مصروف ہیں اوراپنی جانوں کے نذرانے بھی پاک وطن پرنچھاورکررہے ہیں۔اب وقت آگیا ہے کہ دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور نہ پاکستان بلکہ خطے کودہشت گردی کے ناسورسے پاک کردیاہے۔

    @isaqibmasood

  • طالبان اور مودی کی نئی سازشیں، تحریر: راؤ اویس مہتاب

    طالبان اور مودی کی نئی سازشیں، تحریر: راؤ اویس مہتاب

    افغانستان میں جنگ وجدل اور خانہ جنگی کیوں بھارت اور امریکہ کے مفاد میں ہیں۔ پاکستان برے طریقے سے پھنسا ہوا ہے اور امریکہ چاہتا ہے کہ طالبان کو پاکستان، چین، روس اور ایران کے خلاف استعمال کیا جائے۔ جبکہ مودی ا س سارتے کھیل میں سب سے گندا کرادار ادار کر رہا ہے اوراس کا مقصد صرف اور صرف پاکستان اور چین سے انتقام لینا ہے۔ اور افغانستان میں ایسے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے کہ لوگ سڑکوں پر آکر طالبان کے گریبان پکڑیں ، ایساوہ کیسے کرے گا اور وہ کیوں خطے کے امن کو برباد کرنا چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ کو بہت ہی دلچسپ معلومات فراہم کریں گے۔ آپ نے کوشش کرنی ہے کہ ویڈیو آخر تک ضرور دیکھیں۔ تاکہ آپ کو حالات کی سنگینی کا اندازہ ہو سکے۔

    افغانستان میں طالبان کی فتح کو لے کر پورے پاکستان میں جشن کی سی صورتحال تھی، وزیر اعظم سے لے کر مذہبی جماعتوں کے رہنماوں تک ہر طرف سے طالبان کے حق مین بیان آئے۔ ایسا لگا جیسے طالبان نہیں بلکہ پاکستان نے افغانستان میں اٹھائیس ممالک کی فوج اور بھارت کو امریکہ کی لازوال طاقت سمیت دفن کر دیا ہے۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرا پاکستان کے گرد دنیا نے گھیرا تنگ کر نا شروع کر دیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی غلامی کی زنجیریں توڑنے والا بیان ہند سے لے کر مغرب تک زبان زد عام ہے۔ اور اسے پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔اب دنیا یہ کہہ رہی ہے کہ پاکستان نے جو ہاتھی خریدا ہے اسے چارا کیسے ڈالے گا۔ ہاتھی خریدنا آسان لیکن پالنامشکل ہے۔ اور خاص طور پر اس وقت جب اس ہاتھی کے پیچھے پوری دنیا لگی ہوئی ہو۔ اور پاکستان کو اس کا مالک سمجھ کر سارا نزلہ بھی اسی پر گرایا جا رہا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اب Defensive دیکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف دنیا کا پریشر ہے تو دوسری طرف ہاتھی کے بدکنے کا ڈر۔ پاکستان کے وزیر خارجہ کہتے ہیں کہ طالبان کو دنیا سے کیے وعدے پورے کرنے پڑیں گے، اور پاکستان کو طالبان کی حکومت تسلیم کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔ اگر طالبان خود کو تسلیم کروانا چاہتے ہیں تو انہیں بین الاقوامی رائے اور اقدار کی جانب حساس ہونا ہوگا۔جبکہ امریکہ کے سیکرٹری آف اسٹیٹ کانگریس میں یہ بیان دے چکے ہیں کہ ہم نے پاکستان کو فوری طور پر طالبان کو تسلیم کرنے سے روک دیا ہے۔ امریکہ کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ وہ افغانستان میں خانہ جنگی چاہتا تھا جسے روس، چین اور پاکستان نے ایران کے ساتھ مل کر ناکام بنا دیا۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ بھارت ابھی بھی پاکستان سے اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لیے تلا بیٹھا ہے۔اگر طالبان دنیا کی بات نہیں مانتے اورInclusive govt کے سارتھ ساتھ عورتوں کے حقوق پر تعاون نہیں کرتے تو صورتحال بہت گھمبیر ہو جائے گی۔ امریکہ کی اس وقت ایک ہی پالیسی ہے اور وہ ہے کہ چین کا راستہ روکا جائے، چاہے انڈیا سے اتحاد ہو یا اسٹریلیا سے جوہری آبدوزوں کا معاہدہ امریکہ کا ایک ہی مقصد ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے چین کو اسے کے ہمسائے میں ہی مصروف رکھا جائے۔

    اس وقت جہاں چین کے خلاف امریکہ میں نفرت ہے وہیں پاکستان کے خلاف بھی غصہ دیکھائی دے رہا ہے اور پاکستان کو اس شکست کا ذمہ دار ٹھرایا جا رہا ہے۔
    پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، دنیا کی سپر پاور کس طرح یہ تسلیم کر سکتی ہے کہ وہ ایک عسکری گروپ کے ہاتھوں ذلیل ہو گی۔اور پاکستان کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ طالبان کو مجبور کیا جائے کہ وہ ازبک، تاجک اور ہزارہ کمیونٹی کو حکومت میں حصہ دیں۔ لیکن ایک سوچنے کی بات ہے کہ اگر ایک عسکری گروہ کو محفوظ پناہ گاہیں دی بھی گئی ہیں تو Thirld world country کے تکنیکی مشوروں کا امریکہ کی فوج اور انٹیلی جنس کے لیے کاونٹر کرنا کتنا مشکل تھا۔ جبکہ امریکہ دو ٹریلین ڈالر افغانستان میں خرچ کر چکا تھا۔ اس وقت افغانستان میں عدم استحکام کئی عالمی طاقتوں کے مفاد میں ہے۔ سردیاں آنے والی ہیں اور افغانستان میں 93% لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں تعمیراتی پراجیکٹس پر کام رکنے سے مزدور بے روز گار ہیں اور لوگ اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی دینے سے قاصر ہیں۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سردیوں سے پہلے خوراک کی امداد کی ضرورت ہے ، جسے تیزی سے حاصل کرنا ہو گا۔طالبان نے شاید ملک پر آہنی گرفت قائم کر لی ہے لیکن اس پیمانے پر بھوک مایوس کن غصے کو جنم دے سکتی ہے۔ اگر یہ سڑکوں پر پھیل گئی تو افغانستان کے نئے حکمرانوں کی طرف سے بربریت کی بدترین شکلیں بھی اس پر قابو پانے کے لیے کافی نہیں ہوں گی۔پناہ گزینوں کے ایک اور خروج کے حوالے سے پاکستان کو اس طرح کے کسی بھی دھچکے سے نمٹنے کے لیے چھوڑ دیا جائے گا۔ جسے پاکستان خستہ معاشی حالات میں کسی صورت بھی کنٹرول نہیں کر پائے گا۔وزیراعظم امریکی صدر اور سیکریٹری آف اسٹیٹ کو جاہل کہہ سکتے ہیں ، لیکن ابھی بھی پاکستان کو معیشت چلانے کے لیےآئی ایم ایف پر انحصار کرناہے امریکہ سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے۔ جبکہ ایف اے ٹی ایف کی تلوار الگ لٹک رہی ہے۔ایسے میں امریکہ چاہے گا کہ وہ کسی نہ کسی طرح سے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے چین کے ہمسائے میں پراکسی کے زریعے پاکستان، چین، روس اور ایران کو مصروف رکھے۔ جبکہ چین اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کے کسی بھی عمل سے بھارت کسی صورت نہیں چوکے گا۔ جبکہ طالبان نے اگر مطالبات نہ مانے تو چین جیسا دوست بھی اپنا نزلہ پاکستان پر گرانے کی کوشش کرے گا۔

    سب سے پہلے یہ کوشش کی جائے گی کہ پاکستان اور طالبان کے درمیاں دراڑ ڈالی جائے۔ پاکستان کو اتنا تنگ کیا جائے کہ دونوں میں حالات کشیدہ ہو جائیں۔
    افغانستان ہمیشہ سے ہی جنگیIdeology کاBreading ground رہا ہے۔ افغانستان میں بہت سے ایسے گروپ ہیں جو طالبان کی آئیڈیالوجی کے خلاف ہیں، اور وہ بیرونی مدد حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ اس وقت افغانستان میں عورتوں کی صورت میں Active civil society اور Frustrated urban middle class
    موجود ہے۔ ایسے میں طالبان کے خلاف کوئی بھی سیاسی یا پرتشدد موومنٹ چل سکتی ہے۔ جبکہ Punjsher resistance اس کے علاوہ ہے۔اس وقت طالبان کے پاس
    القائدہ ٹی ٹی پی. داعش اسلامک مومنٹ آف ازبکستان سمیت کئی ایسے ہتھیار ہیں جسے وہ اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔ امریکہ اور بھارت چاہیں گے کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان اور چین کی طالبان سے لڑائی کروا کر پورے خطے میں پراکسی شروع کروا دی جائے۔اس سے طالبان کو بیرونی امداد کا لالچ دیا جائے گا۔پاکستان پر تحریک طالبان سے یلغار کروائی جائے گی، داعش خراسان سے ایران پر جبکہ ازبکستان موومنٹ سے چین اور سینٹرل ایشین ممالک سمیت روس کو مشکل میں ڈال دیا جائے گا اور امریکہ اور بھارت دور بیٹھ کر تماشہ دیکھیں گے اور ان کے دشمن ممالک اپنے ہمسائے میں ہی مشکل میں پھنس جائیں گے۔قطر نے طالبان کی سیاسی لیڈر شپ سے اچھے تعلقات بنا لیے ہیں جبکہ سعودی عرب اور عرب امارات کے طالبان کی ملٹری لیڈر شپ سے پرانے تعلقات ہیں۔اس وقت سعودی عرب اور گلف ممالک جہاں امریکہ کے اتحادی ہیں وہیں بھارت کے ساتھ بھی Streategicتعلقات بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے میں کوئی بھی غلط قدم پاکستان کے لیے مصیبت کھڑی کر سکتا ہے، جبکہ چین کی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ اور سی پیک کا مستقبل بھی خطے میں امن سے وابسطہ ہے۔ اب ایسے میں جب کہ ساری دنیا کو پتا ہے کہ ڈپلومیسی کا اس میں اہم کردار ہے، حکومت اسے عوامی نعروں کے لیے استعمال کر رہی ہے، حکومت اسےAbsolutely notاور قومی وقار سے جوڑ رہی ہے۔ جبکہ درحقیقت یہ سب کچھ Public consumption کے لیے ہے ایک طرف آپ دنیا سے اپنی معیشت چلانے کے لیے بھیک مانگ رہے ہیں، دوسری طرف آپ سر عام انہیں
    Ignorant اور ان کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں۔ کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی چوک چوراہوں پر ترتیب نہیں دیتی اس حوالے سے پاکستان کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہو گا۔ ایک طرف طالبان آپ کے کہنے پر Inclusive govtنہیں بنا رہے، دوسرے طرف آپ مغرب کو بیانات دے کر ناراض کر رہے ہیں۔ یہی نہیں آپ کے وزیر خارجہ ایسے وقت میں جب آپ قومی وقار کی بات کر رہے ہیں دنیا کو بتا رہے ہیں کہ طالبان کو تسلیم کرنے کی کوئی جلدی نہیں تو آپ چاہتے کیا ہیں۔ آپ کس کے ساتھ ہیں۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا۔

    دوسری طرف مودی امریکہ کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے ، اس نے SCO میٹنگ میں طالبان کی نہ صرف قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا بلکہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا اختیار اقوام متحدہ کو مشترکہ طور پر دینے کی بات کی۔ مودی اافغانستان میں ٹانگ اڑا کر امریکہ کے لیے ٹائم حاصل کر رہا ہے تاکہ امریکہ کوئی ایسی اسٹریٹیجی بنائے جس سے امریکہ روس، چین کو افغانستان میں مشکلات سے دوچار کرنے کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی عدم استحکام کا نشانہ بنائے اور امریکہ کے اتحادی بھارت کو پاکستان پر ہاتھ صاف کرنے کا موقع مل جائے۔امریکہ اس وقت طالبان کے فنڈ فریز کر کے، آئی ایم ایف اور اقوام متحدہ کے ذریعے طالبان کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ امریکہ کے بغیر کچھ بھی نہیں۔ اگر وہ امریکہ کی مرضی سے کام نہیں کریں گے تو ان کا کوئی مستقبل نہیں اور امریکہ ان کی افغانستان میں زندگی کو جہنم بنا دے گا افغانستان کے لوگ غربت اور بھوک سے تنگ آکر ان کی بوٹیاں نوچیں گے اور یہ عدم استحکام پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔عمران خان نے RTکو انٹرویو میں کہا تھا کہمیرے خیال میں صرف ایک ہی آپشن ہے کہ طالبان کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کی مدد کی جائے، تاکہ وہ اپنے وعدو‏ں پر قائم رہیں۔ مشرکہ حکومت کے ساتھ ساتھ عورتوں کو حقوق بھی دیں۔تمام طالبان کو Amnesty دی جائے، یہ حکمت عملی کام کرے گی اور چالیس سال میں پہلی دفعہ افغانستان میں امن قائم ہو گا۔ لیکن مودی کا طالبان کا نام سنتے ہی دماغ بند ہو جاتا ہے وہ انہیں چین اور پاکستان کا ساتھی سمجھتا ہے۔ اس لیے وہ افغانستان میں امریکہ کو دوبارہ لانا چاہتا ہے تا کہ چین اور پاکستان کو کاونٹر کیا جا سکے۔وقت کم اور مقابلہ سخت ہے، دیکھیں افغانستان میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

  • عزت نفس کا مقدمہ.     تحریر:صائمہ مشتاق

    عزت نفس کا مقدمہ. تحریر:صائمہ مشتاق

    ملک پاکستان کی فلاحی ساکھ اقوام عالم میں مثالی ہے۔یہاں انسانی خدمت پر معمور شخضیات نے نہ صرف عالم کو متحیر کیا بلکہ اُن کے دستیاب وسائل بھی اُن پر حیرت زدہ ہوئے۔اُن کے پاس زادِ راہ صرف سچا اور خالص انسانی خدمت کا جذبہ تھا۔گلی محلے کے نامعلوم افرادمینارِ فلاح بنے۔جذبے کی سچائی اور خدمت کے تسلسل نے انہیں فلاحی یونیورسٹی بنا دیا۔ اقوام عالم متوجہ ہوئیں اور انہیں عالمی اعزازات سے فخر مند کیا اُن کی خدمات کی تصدیق کی۔پاکستان کے امامِِ فلاح کے ابتدائی فلاحی دور کو پڑھا جائے تو انسانی بے توقیری اور الزامات کی عجب داستانیں فلاحی منظر نامے میں بکھری پڑی ہیں۔فلاح کا راستہ چننے اور انسانیت کی خدمت کے لیئے اپنے آپ کو وقف کرنے والوں کی زندگیوں کا مطالعہ کیا جائے یا اُن کی خدمات کا احاطہ کیا جائے تو اُن کے آغاز سفر میں لا حق مسائل کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اُن کو پیش آنے والی مشکلات کا ادراک ہو سکتا ہے۔اُن پر لگائے جانے والے الزامات حاسدوں کے حملے قیاس آرائیاں کرپشن کی متحیر کرتی کہانیاں منفی پراپوگنڈہ جیسے تکلیف دہ رویوں کے درمیان اُنہوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔خبر نہیں کہ ایسا ماحول اور ایسے رویے اُن کو اذیت دیتے تھے یا نہیں۔وہ مایوسی کا شکار ہوئے یا نہیں۔اُن کے قدم ڈگمگائے یا نہیں۔وہ اپنے مقصد سے پیچھے ہٹے یا نہیں۔ لیکن اُن کی کامیابیاں کہہ رہی ہیں کہ کسی بھی منزل پر پہنچنے کے لئے وسائل کی عدم دستیابی راہ میں حائل مسائل اور غیر متوقع مشکلات تو منزل تک پہنچنے کے سنگ میل ہوا کرتے ہیں۔جنہیں کامیابی کی منزل کے مسافروں کو یقیناًسامنا کرنا پڑتا ہے۔مسائل و مشکلات میں سے راستہ بناتے ہوئے اپنے سفر کے تسلسل کو جاری رکھنا ہوتا ہے۔ وہ غلطیوں اور خامیوں کو ماننے اور اُن سے سیکھنے والے ہوتے ہیں۔ستائش سے بے نیاز ہوکر کسی اجر کی توقع کے بغیر لمبا عرصہ گمنامی اور بے توقیری کے دائرے میں رہتے ہوئے محو سفر رہتے ہیں

    کسی بھی انسان کو رویے مزاج اور مشکلات متاثر اوردکھی ضرورکر تی ہیں لیکن شاید وہ انہیں مشن کی تکمیل خدمت کی منزل کے حصول کے ٹولز بنا لیتے ہیں۔ شاید وہ مشکلات مسائل اور وسائل سے زیادہ اپنے مشن کو بڑا سمجھنے والے ہوتے ہیں۔وسائل کی عدم دستیابی کو اپنے سفر کو روکنے کا جواز نہیں بناتے۔وہ تو بے نامی کو ناموری دینے والے ہوتے ہیں۔ایک وقت آتا ہے جب وہ مشرق سے طلوع ہونے والے سورج کی طرح اپنی روشنی بکھیرنا شروع کرتے ہیں تو وہ انسانیت کی خدمت سے پہچانے جانے لگتے ہیں پھر انکی خدمت کا تسلسل انہیں گمنامی کی سیاہ رات سے پہچان کے آسمان کا روشن ستارہ بنا دیتا ہے۔خدمت کے وکٹری سٹینڈپر کھڑے یہ سارے فخراور تمام اعزازا ت حاصل کرنے والوں کا مشاہدہ کیا جائے تو مجھے خالی چراغوں سے آغاز سفر کرنے والوں کے ساتھ وہ لاتعداد گمنا م مالیاتی فلاح کرنے والے بلند قامت نظر آتے ہیں جنہوں نے فلاحی چراغوں میں مالیاتی تیل ڈال کر چراغوں کو نہ صرف روشنی عطا کی بلکہ اس روشنی کے تسلسل کوقا ئم رکھنے میں بھی معاون و مددگار رہے۔اس سلسلے میں اورسیز پاکستانیوں کا بھی تاریخ ساز مثالی اور متاثر کن ریکارڈ ہے۔انہی کے تعاون سے فلاح کے دیئے روشن ہیں۔یہی لوگ فلاحی دنیا کے برجِ ِفلاح ہیں۔انہی کے دم سے پاکستان کو دنیا بھر میں چیرٹی کو فنڈنگ کرنے والے ملک کا اعزاز حاصل ہوا۔پاکستان نے صحت،تعلیم اور دیگر فلاحی شعبوں میں دنیا کو متوجہ کیا۔فلاح کو کامیابی کا راستہ دینے سسکتی اور وسائل سے محروم طبقات کی خدمت دراصل مالیاتی خدمت سے جڑی ہوئی ہے۔مستقبل کے فلاحی پراجیکٹ کی پلانگ کرنے والے بھی اِسی طبقہ کے تعاون کے یقین پر ہی اپنے پراجیکٹ ڈیزائین کرتے ہیں۔پاکستان کی فلاحی اور عطیات دینے والی تاریخ مسلسل لکھی جا رہی ہے اس میں بڑ ی قد آور فلاحی شخصیات،ادارے اور عطیات دینے والوں کے کردار کی درجہ بندی ہو رہی ہے۔پاکستان میں روشنی بکھیرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنے والوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ہو سکتا ہے کہ بعض فلاحی منصوبے شخصی کمزوریوں اور خامیوں سے یا کسی فلاحی ادارے کی انتظامی غلطیوں سے پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکے ہوں لیکن کوئی فلاحی منصوبہ اس وجہ سے نہیں رُکا کہ اُسے مالی معاونت حاصل نہیں ہو سکی۔پاکستان میں عام ڈونر کے علاوہ کارپوریٹ ڈونرز کا فلاحی سیکٹر میں بھر پور کردار ادا کر رہا ہے۔فلاحی شعبہ اب کراوڈ فنڈ ریزنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ آئی ٹی اوردیگر ٹیکنالوجیز فلاحی مشکلات کو آسان بنا رہی ہیں۔زکاۃ اور صدقات میں مذہبی وابستگی والے افراد شاید آگے ہوں لیکن میرا ذاتی مشاہدہ ہے ہو سکتا ہے صیح نہ ہو۔ جو لوگ اپنے آپ کو کسی وجہ سے خطا کارمان کر اور اپنی غلطیوں کا ادراک کرتے ہوئے اپنے خالق و مالک سے معافی کی طلب میں انسانی فلاح کے لئے مالی معاونت کفارے کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اُس کو راضی کرنے کی جستجو رکھتے ہیں۔اُن کے پاس نیکیوں کا تکبر تو نہیں ہوتالیکن معافی مانگنے اور اللہ کو راضی کرنے کی آپشن ہر وقت موجود رہتی ہے۔اللہ کی مخلوق کو وسیلہ بنا کر اُسے راضی کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔اُس کی دکھی اور مسائل زدہ مخلوق جب اپنے خالق کو دعا کی مس کال بھیجتی ہے تو مالک کسی کے دل میں مدد کا خیال ڈال کر مس کال کرنے والے پر کرم فرماتاہے۔وۂ شخص کس قدر ا فضل و معتبر ہوگا جس کے ذمے فطرت ڈیوٹی لگاتی ہے کہ میرے فلاں بندے کی دعا کی مس کال آئی ہے اس کے پاس پہنچو۔

    اندازہ لگانا مشکل ہے کہ اس کے کتنے گناہ معاف ہوتے ہوں گے، کتنے درجات بلند ہوتے ہوں گے اور وہ مالک و خالق اُس سے کتنی جلدی راضی ہو جاتا ہوگا۔فطرت کے خود کار نظام نے خالق کی خلق کردہ کائناتوں کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ایک دفعہ ایک صحافی جوکہ دل کے عارضے میں مبتلا تھا ایمرجنسی کی حالت میں علاج کے لئے مالی مشکلات کی پوسٹ لگائی جس پر میں نے بھی مقامی سیاست دانوں کو متوجہ کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر پوسٹ شیئر کی کچھ ہی دیر بعد بہت سارے احباب رابطے میں آگئے۔ایک نیک دل اورسیز پاکستانی نے رابطے میں آکر میرا اکاونٹ نمبر مانگا تو میں نے کہا کہ ضرورت مند کو رقم پہنچے میں دیر نہ ہو جائے اس لئے مریض کا اکاونٹ نمبر لے کر بھیجتا ہوں۔ اُس انسان دوست نے انتہائی مستعدی سے معقول رقم مریض کے اکاونٹ میں ٹرانسفر کر دی۔چکوال، لاوہ اور تلہ گنگ کے اورسیز پاکستانیوں نے بھی خوب حق ادا کیا لیکن ضرورت مند کی ضرورت پوری ہو گئی تھی باقی احباب کا شکریہ ادا کیا۔ذاتی دُکھی اسٹوری کو پبلک کرتے ہوئے مجھے بڑاعجیب لگ رہا ہے لیکن مجبوری ہے کہ یہی دُ کھی اسٹوری پراجیکٹ کی بنیادبن رہی ہے۔1995 سے دونوں آنکھیں کالے موتیے سے متاثر ہیں کچھ عرصہ کے بعدنظر کی عینک تجویز ہوگئی پھر ایک آنکھ کی نظر بالکل ختم ہوگئی۔ڈاکٹر سے آنکھ تبدیل کرنے کے متعلق مشورہ کیا تو ڈاکٹر نے کہا کہ سسٹم ہی ختم ہو گیا ہے اس لئے اب آنکھ تبدیل نہیں ہو سکتی کچھ عرصہ بعد دوسری آنکھ میں کالا موتیا ہونے کی وجہ سے اپریشن ہوا اور اب اس پر ہی زندگی کا انحصار ہے۔کافی عرصہ سے معمول کی مصروفیات میں تبدیلی آگئی ہے میں ڈرائیونگ نہیں کر سکتا، رات کو روشنی پھیل جاتی ہے سا منے سے آنے والی ٹریفک کے فاصلے کا صحیح اندازہ نہیں ہوتا۔پیدل چلنے سے دائیں آنکھ میں نظر نہ ہونے کی وجہ سے دائیں طرف نظر نہیں آتا تو عموما ًکسی پیدل چلنے والے سے ٹکر لگ جاتی ہے کئی دفعہ موٹر سائیکلوں سے ٹکرا چکا ہوں اس لئے گھر تک ہی محدود رہتاہوں۔نہ جانے کب زندگی سفید چھڑی کی محتاج ہو جائے،پھر کسی اور کی آنکھوں سے راستہ دیکھنا پڑے۔کئی سالوں سے یکسانیت اور بے مقصد زندگی گزارتے گزارتے ایک دن میرے ذہن میں خیال آیا کہ جو بھی مہلت میسر ہے کیوں نہ اُ سے بامقصد بنایا جائے اور کوئی ایسا کام کیا جائے جو انسانی بھلائی کے لئے ہو تو میرے ذہن میں آنکھوں کے فری ہسپتال بنانے کا خیال آیا یہ جو خیال ہو تا ہے اُسے بھی یقیناً کوئی بھیجتا ہے۔میں نے کئی ماہ اس پر غور کیا اور بالاخر میر ے انفرادی فیصلے کو میرے دل اور دماغ نے قبول کرلیا۔انسان کی زندگی خوابوں سے جڑی ہوتی ہے اور ان خوابوں کی تعبیر کا حصول ہی در حقیقت اس کے سینے میں موجود دل کی دھڑکنوں کوقائم رکھتا ہے۔جب تک خواہش ہوتی ہے انسان اس خواہش کے حصول کے لئے خود کو متحرک رکھتا ہے اور جب خواہشیں ختم ہو جاتی ہیں تو جسم زند ہ رہتا ہے لیکن زندگی دم توڑجاتی ہے۔خواہش کا موجود رہنا زندگی کی علامت ہوتی ہے۔خواہش امید سے جڑی ہوتی ہے اور امید یقین قائم رکھتی ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ خواہشوں کا رنگ بدلتا رہتا ہے۔کبھی کوئی اہرا م ِمصر بنانے کی خواہش کرتا ہے اور کبھی کوئی تاج محل تعمیر کرنے کا سوچتا ہے۔کوئی یونیورسٹی بنانے کا ارادہ رکھتاہے۔خواہش ہی ہولی فیملی،گلاب دیوی ہسپتال بنواتی ہے۔خواہشیں روپ بدل لیتی ہیں صدقہ جاریہ کی خواہش۔

    دکھی انسانیت کے لئے آسانیاں بانٹنے کی خواہش۔ایمان سلامتی کی خواہش۔آنکھوں کے خواب تعبیر مانگتے ہیں۔آنکھوں میں خوابوں کی ہریالی نہ ہو تو زندگی صحراکی ریت ہو جاتی ہے۔دل اجڑ جاتے ہیں اور پھر دماغ سوچنے سے انکاری ہو جاتے ہیں۔خواہشیں،آرزوئیں اور تمنائیں زندگی کو حرارت بخشتی ہیں ان کا قابل عمل ہونے یا نہ ہونے سے کوئی رشتہ نہیں ہوتا۔خواہشوں اور خوابوں کے رک جانے سے نہ صرف زندگی رکتی ہے بلکہ کائنات تھم جاتی ہے۔25بیڈ کے آنکھوں کے جدید چیرٹی ہسپتال پراجیکٹ کے ابتدائی مرحلے میں 15 سے20 کنال زمین کا عطیہ، دوسرے فیز میں ہسپتال کی بلڈنگ کی تعمیر اورا ٓخری فیز میں مشینری، آلا ت کی ضرورت ہوگی۔سمیڈا کی2016 کی فزیبیلٹی 23 کروڑ روپے کی تھی جس میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔اس پراجیکٹ سے سالانہ 27300 مریض مستفید ہوسکتے ہیں۔160 سے 200 افراد کو ملازمت کے مواقع میسر آسکتے ہیں۔کسی عوامی بھلائی کے نیک مقصد منصوبے کے لئے کسی سے مالی معاونت کے حصول میں کوئی شرمندگی محسوس نہیں کی جاتی اور نہ ہی کرنی چاہئے۔لیکن میرے ساتھ ایک المیہ ہے کہ میں اپنے دیئے ہوئے پیسے بھی نہیں مانگ سکتا۔اسی کمزوری کی وجہ سے ایک سال سے اس منصوبے کی امانت دل اور دماغ میں چھپائے پھرتا ہوں۔فیس بک پر میری فرینڈ لسٹ میں چکوال سے غفران عمر جو فیس بک پر پوسٹ کے ذریعے مالی امداد حاصل کرکے مستحقین کے گھروں تک پہنچا رہے ہیں۔اب تک بقول اُن کے وۂ کروڑوں روپے کی امداد تقسیم کر چکے ہیں ایک دن انہوں نے پوسٹ لگائی کہ فلاحی کام کرنے والوں کو عزت نفس کا صدقہ کرنا پڑتا ہے۔ مجھے ان کی پوسٹ سے حوصلہ ملا اور میں اس حوصلے کے یقین پر عملی مرحلے کی طرف بڑھنے لگا ہوں۔مجھے اس بات کا ادراک ہے کہ تصوراتی پراجیکٹ قابل عمل نہیں ہوتے شروع شروع میں ناممکن ہوتے ہیں لیکن ہو جانے کے یقنِ کامل،جہد مسلسل اور مخلص ٹیم سے قابل عمل ہو جاتے ہیں۔صاحبو!مجھے صرف یقین ہی نہیں کامل یقین ہے کہ جس کاساری کائنات پہ تسلط ہے،جو سارے نظام پرمحیط ہے ا ور جس سے سبب اسباب مانگتے پھرتے ہیں کیوں نہ کامیابی کی،برکت کی، وسائل کی د عا مانگ لی جائے، وۂ عطا کرنے والا ہے مانگنے سے راضی ہو جا تا ہے۔آپ احباب بھی کامیابی کی دعا کا صدقہ ضرور کریں۔اندھیرے کو روشنی میں بدلنے کے لئے مجھے آپ کا ساتھ چاہیے ہوگا اور تسلسل کے ساتھ چاہیے ہوگا۔ اندھیرے کی لڑائی میں فتح مندی کا گُر امجد اسلام امجد نے بتا دیا ہے۔
    اندھیرے سے لڑائی کا یہی احسن طریقہ ہے۔۔۔تمھاری دسترس میں جو دیا ہو وۂ جلا دو

  • آپ  نے  گھبرانا  نہیں، تحریر: راؤ اویس مہتاب

    آپ نے گھبرانا نہیں، تحریر: راؤ اویس مہتاب

    امریکہ پاکستان سے سخت ناراض ہے، اور پاکستان سے اپنے تعلقات کے حوالے سے از سر نو جائزہ لے رہا ہے۔امریکہ کی ناراضگی پاکستان کو کتنی مہنگی پڑے گی۔ اس پر روشنی ڈالنے سے پہلے میں آپ کو ایک بات کہنا چاہوں گا کہ سب سے پہلے تو آپ نے گھبرانا نہیں۔ پاکستان کے سامنے دو آپشن تھے ایک پاکستان کی تباہی اور اس کے ٹکڑے اور دوسرا اپنے مفادات کا تحفظ۔۔ لیکن اس سے پہلے میں چاہوں گا کہ Antony blinkinنے گانگریس کے سامنے وہی کچھ کہا جو آپ کو بتایا جا رہا ہے یا صرف گفتگو میں سے ایک فقرہ لے کر پیش کیا جا رہا ہے۔اس کے بعد میں آپ اصل حقائق سے آگاہ کروں گا کہ پاکستان نے جس راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا اس کے نقصان کے ازالے کا پہلے ہی بندوبست کیا ہو گا۔Antony blinkinجو امریکہ کے سیکرٹری آف اسٹیٹ ہیں نے کانگریس کی ایک کمیٹی کے سامنے پانچ گھنٹے تک تند و تیز سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ آنے والے چند روز یا ہفتوں میں پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لے گا۔ اور نئے تعلقات کے تعین کے لیے امریکہ پاکستان کا افغانستان میں گزشتہ بیس سال کا کردار دیکھے گا جبکہ یہ بھی اندازہ لگایا جائے گا کہ پاکستان افغانستان میں وہ کردار ادا کرتا ہے جو ہم اس سے مستقبل میں چاہتے ہیں۔جب ٹونی بلنکن سے پوچھا گیا کہ کیا اسے پتا تھا کہ اشرف غنی بھاگنے کی تیاری کر رہا ہے تو ٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ چودہ اگست کی رات کو اس کی اشرف غنی سے بات ہوئی تھی اور اس نے کہا تھا کہ Fight to the death
    اس لیے امریکہ کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ بھاگنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اور وہ پندرہ اگست کو بھاگ گیا اور امریکہ کے افغانستان کے انخلا سے دو ہفتے پہلے ہی طالبان نے کابل پر قبضہ کر لیا۔کانگرس مینBill Keatingنے کہا کہ پاکستان نے دو ہزار دس میں طالبان کوبنایا، انہیں نام دیا اور انہیں ری گروپ ہونے میں مدد دی۔ حقانی گروپ جو امریکیوں کی موت کا ذمہ دار ہے اس سے اس کے گہرے تعلقات ہیں جبکہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے طالبان کی فتح کوCelebrate
    کیا اور کہا کہbreaking the shackles of slaveryجبکہ کانگریس مینScott Perryکا کہنا تھا کہ پاکستان نے امریکی Tax payer کے پیسے سے طالبان کو مدد دی، امریکہ کو پاکستان کو مزید رقم نہیں دینی چاہیے اور اس کا Non-Natto ally status کینسل کرنا چاہیے۔

    اس گفتگو میں امریکہ میں بھارت کے سفیرTaranjit Singh Sandhuکی بڑے پیمانے پر امریکی کانگریس مین سے ملاقاتوں کا ذکر بھی آیا۔ اور ایک ریپلکن کانگریس مین
    Mark Greenکا کہنا تھا کہ کیونکہ Isi نے طالبان اور حقانی گروہ کی مدد کی ہے اس لیے امریکہ کو بھارت سے مضبوط تعلقات کے بارے میں سوچنا چاہیے۔
    امریکی کانگریس کے ان ارکان کی گفتگو سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت نے امریکیوں کو اپنا موقف پہنچانے میں کتنی محنت کی ہے ، اور پاکستان کتنے گانگریس مین سے ملا۔کیا امریکہ میں پاکستان کے سفیر نے وہاں پاکستان کے امیج اور مجبوریوں کے حوالے سے کچھ نہیں کرنا تھا۔ انہیں افغانستان میں بھارت کے کالے کرتوتوں سے اآگاہ کرنا کس کی ذمہ داری تھی۔ بہر حال آپ نے گھبرانا نہیں۔۔ کیوں میں آپ کو آگے چل کے بتاتا ہوں۔امریکہ پاکستان سے کیا چاہتا ہے وہ بھی ٹونی بلنکن نے اس سوال جواب کے سیشن میں بتا دیا ہے۔امریکہ نے پاکستان کو کہہ دیا ہے کہ طالبان کو تسلیم کرنے کی کوشش ہرگز مت کرے۔دنیا کے زیادہ تر ممالک کے ساتھ Line up
    کرے، اور طالبان کو فورس کرے کہ وہ افغان عوام کے Basic rightsکا خیال رکھے، عورتوں اور بچوں کے حقوق کو شامل کرے، Humanitarian aid کی اجازت دے اور حکومت میں تمام حلقوں کو شامل کرے۔

    ایک گانگرس ممبر نے کہا کے ہمیں اکثر بتایا جاتا ہے کہ پاکستا ن کے ساتھ امریکہ کے تعلقات Complicated ہیں لیکن یہ اکثرDuplicitiousہوتے ہیں جس پر ٹونی بلنکن نے کہا کہ میں اس سے اتفاق کرتا ہوں جو کانگریس مین نے پاکستان کے گزشتہ بیس سال یا اس سے بھی پہلے کے کرادار پر تبصرہ کیا ہے۔ٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پالیسیاں کئی جگہ پر امریکہ کے مفادات کے خلاف ہیں اور کئی جگہ پر امریکہ کے مفادات کے مطابق ہیں۔یہ پاکستان ہی ہے جو مسلسل افغانستان کے مستقبل پر Bets لگا رہا ہے، یہی طالبان کے ممبر اور حقانی گروپ کی دیکھ بھا ل کر رہا ہے، یہ پاکستان ہی ہے جو مختلف مقامات پر امریکہ کی مدد اور دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں Involveرہا ہے۔ پاکستان کا افغانستان میں کردار زیادہ تر بھارت کے خلاف خدشات کی صورت میں ترتیب پاتا ہے۔ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ تمام ممالک بشمول پاکستان، انٹر نیشنل کمیونٹی کی طالبان سے امیدوں پر پورا اترنے کے لیے اپنا اچھا کردار ادا کرے۔اور ہم اسے پاکستان کے ساتھ مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے دیکھ رہے ہیں۔بھارت، امریکہ اور دیگر ممالک نے کہا ہے کہ طالبان کو دنیا تسلیم کر سکتی ہے اورمالی مدد بھی کر سکتی ہے اگر وہ اس بات کی گارنٹی دیں کہ وہ اپنے شہریو ں کو Basic right دیں، جس میں خاتون،بچے اور اقلیتیں شامل ہیں۔ٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ ان مقاصد کے حصول کے لیے انٹرنیشنل کمیونٹی سے بڑے پیمانے پر Line up کرے، اور ان کی امیدوں کو پورا کرے۔ یہ تو وہ باتیں تھی جو امریکی کہہ رہے ہیں لیکن پاکستان کا موقف کون پہنچائے گا۔ کیا 2004تک پاکستان کی مدد سے امریکہ نے طالبان کی کمر نہیں توڑ دی تھی۔ افغانستان مِن الیکشن کے بعد جمہوری حکومت قائم ہو چکی تھی۔اس وقت طالبان کا کہیں نام و نشان بھی نظر نہیں آرہا تھا پھرامریکہ نے دوہزار پانچ میں بھارت کے ساتھ سول نیوکلیر ڈیل کا فریم ورک سائن کیا، جب پاکستان نے یہ مطالبہ کیا تو پاکستان کو کہا گیا کہ وہ اس ڈیل کے لیے قابل اعتبار نہیں ہے۔ اپنے ہزاروں لوگ مروا کر، افغانستان میں اپنے مفادات کی قربانی دے کر بھی اگر پاکستان امریکہ کی دوستی کے معیار پر پورا نہیں اترتا تو پھر پاکستان کے پاس امریکہ کی مزید باتیں ماننے کا کیا مقصد رہ جاتا ہے۔ یہی نہیں امریکہ بھارت کو دوبارہ افغانستان لایا، جس کی پاکستان نے جڑین اکھاڑ دی تھی۔ پھر اس بھارت نے افغانستان میں آکر پاکستان کو دہشت گردی کی آگ میں جھونک دیا۔ امریکہ کی افغانستان میں بنائی ہوئی حکومت صبح شام پاکستان کے خلاف زہر اگلتی تھی، بھارت نے پاکستان کی سرحد کے قریب افغان شہروں میں درجنوں کونسلیٹ کھولے ہوئے تھے جو Raw کے ایجنٹوں سے بھرے پڑے تھے۔ بھارت کے66ٹریننگ سینٹر حال ہی میں بند ہوئے ہیں، بھارتی کونسلیٹوں سے اربوں روپے پاکستانی کرنسی کی صورت میں ملے ہیں۔ اسے روکنا کس کی ذمہ داری تھی۔

    امریکہ نے Counter terrorism کے نام پر ہر رات افغانوں کی چادر اور چار دیورای کا تقدس پامال کیا اور افغانوں کے دل میں طالبان کے لیے ہمدردی پیدا کی ۔ کیا یہ پاکستان کا قصور ہے۔کیا پاکستان طاقت ہونے کے باوجود اتنا بے بس ہو جاتا کہ اپنے آپ کو جہنم کی آگ میں دھکیل دیتا۔بھارت پاکستان کے ٹکڑے کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے۔ پشتونستان کا مسئلہ کھڑا کر رہا ہے، بلوچستان میں علیحدگی کی تحریکیں چلوا رہا ہے۔ تو پاکستان ہاتھ پر ہاتھ دھر کے امریکہ بہادر کی جی حضوری میں کھڑا رہتا۔ یہ امریکہ کا وطیرہ رہا ہے کہ وہ ماضی میں بھی روس کو ہرا کر ایک دم سے نکل گیا تھا اور پاکستان میں کلاشنکوف کلچر پھیل گیا تھا۔ پھر الٹا پاکستان پر پابندیاں لگا دی گئی۔ یہ ہر ملک کا حق ہے کہ وہ اپنے مفادات کا تحفظ کرے، جب روس کے خلاف جہاد تھا تو اس وقت پاکستان اور امریکہ کے مفادات ایک تھے تو دنیا نے رزلٹ دیکھ لیا۔ پاکستان کو زبردستی اس جنگ میں گھسیٹا گیا، پاکستان بلیک واٹر اہلکاروں کی جنت بن گیا۔امریکہ اپنے اٹھارہ بلین ڈالر کو رو رہا ہے کیا پاکستان ان پیسوں کے لیے پاکستان کے ٹکڑے کروا لیتا۔ پاکستان کا نفراسٹرکچر تباہ ہو گیا، پاکستان کی معشیت تباہ کر دی گئی، ایک سو پچاس بلین ڈالر کا پاکستان کو نقصان ہوا اور اسی ہزار لاشیں پاکستانیوں نے اٹھائی۔ کیا اٹھارہ بلین ڈالر اس کی قیمت چکا سکتا تھا۔ اس جنگ میں پاکستان نے اپنے جرنیل تک دہشت گردی میں کھودیے، اس کے بعد بھی کیا پاکستان کے پاس کوئی اور آپشن بچا تھا۔پاکستان کے امریکہ کو چھوڑ کر اپنے مفادات کے تحفط کی کئی وجوہات ہیں‏۔ امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کو دھوکہ دیا ہے۔ مشرقی پاکستان میں بھارت سے جنگ کے دوران امریکی مدد کبھی نہ پہنچی۔ پاکستان کو روس کے خلاف جہاد میں استعمال کر کے نہ صرف امریکہ یہاں سے چپ کر کے نکل گیا بلکہ پاکستان کو الٹا پابندیوں کا نشانہ بنایا۔ اور پھر جب دوہزار ایک میں واپس آیا تو بات کو سمجھنے کی بجائے دھمکیاں دی کہ۔ You r with us or against us. پاکستان کو پتا تھا کہ دوبارہ امریکہ اپنا مطلب نکال کر یہاں سے نکل جائے گا اور پھر وہی ہوا چین کے خلاف امریکہ نے بھارت سے نا صرف ہاتھ ملا لیا بلکہ بھارت کو پاکستان پر سرجیکل سٹرائیک کرنے کی اجازت بھی دے دی۔امریکہ اس خطے میں بھارت کو اپنا اتحادی بنا کر چین کے خلاف استعمال کر رہا ہے ایسی صورت میں ایک میان میں دو تلواریں کسی صورت نہیں رہ سکتی۔ امریکہ نے افغان سر زمین افغان طالبان کے لیے تو تنگ کر دی لیکن پاکستانی طالبان کے لیے وہ Safe heaven
    بن گیا۔ پاکستان بڑے عرصے سے شور مچا رہا ہے کہ امریکہ اپنی زلت آمیز شکست کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کرے گا۔ کیا عراق، شام اور دنیا بھر میں امریکی شکست کا ذمہ دار بھی پاکستان ہے۔ میرا امریکہ کو مشورہ ہے کہ پاکستان پر الزام لگانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لے۔ امریکہ پاکستان کی مدد کے بغیر افغان سر زمین پر قدم بھی نہیں رکھ سکتا تھا۔ جب پاکستان نے طالبان کی مدد ختم کی تو ان کا بھی وہی حال ہوا تھا جو افغان حکومت کا امریکہ کی مدد کے بغیر ہوا ہے۔ سوچنے کی بات ہے۔

    لیکن جیسے میں نے آپ کو شروع میں کہا تھا کہ آپ نے گھبرانا نہیں، افغانستان میں طالبان اس وقت مغرب کے لیے وہ کڑوا گھونٹ بن چکے ہیں جسے وہ نہ نگل سکتے ہیں اور نہ اگل سکتے ہیں۔ اگر مغرب طالبان اور پاکستان پر پابندیاں لگائے گا تو انہیں تحفظ فراہم کرنا، اور افغانستان کو دہشت گردوں کی جنت بننے سے روکنا ہمارے بس میں نہیں رہے گا۔ ابھی کئی مہینے تک تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیےاپنے شہریوں کی افغانستان سے evacuationکے لیے بہت اہم ہے، اس کے بعد دشت گردی کے خلاف آپریشن بھی پاکستان کی مدد کے بغیر ممکن نہیں اور طالبان کواس بات پر راضی کرنا کہInclusive govtبنائیں شائد پاکستان کے علاوہ اور کوئی نہ کر سکے تو اس لیے ابھی پاکستان دنیا کے لیے بہت اہم ہے اور ایک نیوکلیئر اسٹیٹ کو دنیا اس طرح تنہا نہیں چھوڑ سکتی۔ اس لیے امریکہ دھمکیاں دے گا لیکن اتنا ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے جتنا ہم ڈر رہے ہیں۔

  • اسلام اور انسان .تحریر:صائمہ رحمان

    اسلام اور انسان .تحریر:صائمہ رحمان

    اسلام انسان دوستی اور عظمت ِ انسانیت کا درس دیتا ہے اسلام ہمیں نفرت اور قتل و غارت نہیں بلکے امن، سلامتی اور محبت کا درس دیتا ہے۔ اسلام انسانیت کی کامیابی کا ضامن ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا، اسے غیرمعمولی ظاہری اور معنوی خوبیوں سے آراستہ کیا اسلام ایک دینِ کامل اور مکمل دستورِحیات ہے، اسلام میں انسانی زندگی سے متعلق تعلیمات وہدایات موجود ہیں اسلام نے انسانی تاریخ میں غیرمعمولی انقلاب برپا کیا، اسلامی تاریخ اس کی گواہ ہے۔ تمام انسان ،خواہ وہ دنیا کے کسی بھی گوشے میں رہتے ہوں، کسی بھی مذہب کو ماننے والے ہوں مگر سب اللہ کے بندے ہیں
    اللہ کے رسول نے تمام انسانیت کو مخاطب کرتے ہوئے ارشادفرمایا:
    ’’اے لوگو!بلاشبہ تمہارارب ایک ہے اورتم سب کا باپ بھی ایک ہے،جان لوکہ کسی عربی کوکسی عجمی پراورنہ ہی کسی عجمی کوکسی عربی پر،نہ کسی گورے کوکسی کالے پر اورنہ کسی کالے کو کسی گورے پرکوئی فضیلت اوربرتری حاصل ہے ،سوائے تقویٰ کے۔ ‘‘
    سب انسان ایک مٹی سے بنے ہیں ہم انسانوں میں فرق ہم دنیا والوں نے بیدا کررکھا ہے حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں ،کسی بھی گورے کو کالے پر کالے کو گورے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ،غریب کو امیر یا امیر کو غریب پر ،کسی رنگ ،نسل ،قوم،علاقے کی وجہ سے کوئی فوقیت نہیں ۔سب انسان برابر ہیں اللہ کی نظر میں برابر ہیں ۔ذات قبیلے رنگ روپ نسل سب کوایک دوسرے کی پہچان کو بنائے گیا ہے ابتر بتر کے لئے نہیں بنایا گیا ۔

    اسلام انسان کو کچھ حقوق بھی دیے ہیں اسلام ہر انسان کو زندہ رہنے کا حق دیتا ہے اسلام بلاتفریق ِ رنگ و نسل و مسلک و مذہب، ہر شخص کو زندہ رہنے کا حق دیتا ہے۔ انسانی جان کے احترام کو اسلام نے فرض قرار دیا ہے ہر انسان کو جینے کا حق ہے اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ معاشرے میں ہر شخص کی جان، مال اور آبرو کا تحفظ ہر انسان کا حق ہے بلاتفریق بنیادی حق ہے۔ اسلام نے عزتِ نفس کو بھی اہمیت دی ہے اور ایسی گفتگو کو بھی منا کیا گیا ہے جس سے کسی کی بے عزتی کا پہلو نکلتا ہو۔ اسلامیہ تعلیم بھی دیتا ہے کہ عورت بہرحال محترم ہے، خواہ وہ اپنی قوم کی ہو، یا دشمن قوم کی ہماری ہم مذہب ہو یا کسی غیرمذہب سے تعلق رکھتی ہو، یا لامذہب ہو۔عورت کی عصمت کے احترام کا یہ تصور اسلام کے سوا کہیں نہیں پایا جاتا۔ بدقسمتی سے معاشرے نے عزت کا پیمانہ معاشی حیثیت کو بنا رکھا ہے اسلام ہمیں شخصی ومذہبی آزادی کا حق بھی دیتا ہے دین اسلام میں زبردستی کا پہلو موجود نہیں ہے

    اسلام احترامِ انسانیت اور امن و سلامتی کا علم بردار ہے۔انسان دوستی اور احترام انسانیت دین اسلام کا امتیاز اور بنیادی شعار ہے ،جس کے بغیر احترام انسانیت اور امن و سلامتی کا تصور بھی محال ہے۔ فتنا فساد تب ہوتا ہے جب انسان جب اپنی اس حیثیت کو بھول جاتا ہے یااحساس برتری میں مبتلا ہوجاتا ہے تو فتنہ وفسادپر آمادہ ہوجاتا ہے۔ پھرحسد، تکبر، غیبت ، چوری ،چغلی، قتل و غارتگری، بدکاری و بداخلاقی جیسی بیماریوں کا شکار ہونے لگتا ہے۔اس صورت میں ایسے لوگوں کی اصلاح و تربیت کی ضرورت ہوتی ہے آج انسان اپنی عظمت کھو چکا ہے ، غلط جگہ پر اپنی عزت کو تلاش کر رہا ہے، دنیا کے عارضی عیش وآرام کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا ہے جسیے ساری عمر اس دنیا میں رہنا ہے آج کا انسان یہ بھول چکا ہے ایک دن اللہ کے سامنے پیش بھی ہونا ہے اور ہر چیز کا جواب دینا ہے اس کو بس دنیا کے کاموں سے مطلب رہے گیا ہے ۔ پوری طرح اپنی ذاتی خواہشِ نفس کا غلام بن چکا ہے انسانی جان کا کوئی احترام باقی نہیں رہ گیا اپنے مطلب کے لئے کچھ مقصد کے خاطر یک دوسرے کی جانوں کے در پر ہے۔انسان کے وہ سارے اخلاقی اقدار کھو چکا ہے۔ فضیلت انسان کی تخلیق اس کائنا ت میں جتنی بھی اشیاء اللہ رب العزت نے پیدا کیں ’کُنْ‘’فَیَکُوْنُ‘ کے پس منظر میں نظر آتیں ہیں جبکہ حضرت انسان کو اللہ رب العزت نے اپنے ہاتھ سے تخلیق کیا جیسا کہ قرآن مجید اور احادیث اس بات پر دلالت کرتیں ہیں ، اللہ رب العزت کا اپنے ہاتھوں کسی کا تخلیق کرنا اس کی اہمیت اور انفرادیت کو واضح کرتاہے کائنات کو تخلیق کرنے کے مفہوم پر نظر ڈالی جائے تو تسخیرِ کائنات کا مقصد ایک یہ کہ کائنات کی ہر چیز انسان کی خادم ہے اور انسان مخدوم ہے، زمین، سمندر،پانی، ہوائیں،پہاڑ، چاند،سورج، ستارے یہی موٹی موٹی اشیاء کائنات گنی جاسکتی ہیں۔ ان کے انسان کا خادم ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ اگر ان میں سے ایک چیز بھی نہ ہو تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا مگر انسان کے بغیر ان چیزوں کا کچھ نہیں بگڑتا۔

    اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ زمین میں جتنی بھی اشیاء موجود ہیں۔ خواہ وہ جمادات ہوں، نباتات ہوں یا حیوانات ہو ں، اللہ نے انسان کو اتنی عقل عطا فرمادی ہے کہ وہ ان میں سے جس کو چاہے استعمال کر چکا ہےاور اس سے حسب ضرورت فائدہ اٹھا سکتاہے۔ رہیں وہ چیزیں جن کا تعلق زمین سے نہیں مثلاً : سورج، چاند ،ستارے وغیرہ تو ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے قوانین بنادیئے ہیں اور انسان کو ایسے نظم وضبط سے جکڑ رکھا ہے کہ انسان ان سے فائدے اٹھا سکتاہے اور اپنے معمولات زندگی اور کاروبار وغیرہ ٹھیک طرح سے سرانجام دے سکتاہے۔

    email saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6

  • بے روزگاری اور جرائم کی شرح میں اضافہ .تحریر:صائمہ رحمان

    بے روزگاری اور جرائم کی شرح میں اضافہ .تحریر:صائمہ رحمان

    ورلڈ بنک کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت کے تین سالوں میں بےروزگاری میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ جرائم کی شرح میں کافی حد تک کمی کی سکتی ہے مگر افسوس کی بات یہ کہ دن بدن بے روزگاری کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے۔ روزگاری ایک عالمی مسئلہ ہے امریکہ برطانیہ فرانس اور جرمنی جیسے ترقی یافتہ ممالک میں اور ترقی یافتہ ممالک
    میں بھی بیروزگاری پائی جاتی ہےہمارا پاکستان بھی اس مجبوری کی زد میں ہےمعاشرے میں بے روزگاری ایک سماجی برائی تصور کی جاتی ہے جس سے خطرناک حالات جنم لیتے ہیں اس سے فاقہ طاری ہونا ، بیماری پھیلتی ہے
    پاکستان کے نوجوان طبقے کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے ہمارے وطن ِمیں بے روزگاری کا دور دورا ہے۔ حالات اس قدر خراب ہوچکے ہیں کہ اب لوگ زندگی سے تنگ اور خاندان کے بوجھ سے تنگ آ کر خودکشی جیسے سنگین اقدامات پر اتر آئے ہیں۔جس کی وجہ سے جرائم میں بھی تیزی سے اچھے پڑھے لکھے نوجوان ایسے جرائم میں ملوس ہو جاتے ہیں جو معاشرے کے لئے ایک بد نما داغ بن جاتے ہیں جرائم کی شرح دیکھی جائے تو پڑھے لکھے نوجوان کا تناسب نظر آئے گا یا وہ جن کو نوکریاں نہیں ملتی بوجھ بھی آج کل جس طرف دیکھا جائے بےروزگاری کا رونا رویا جارہا ہے حالات کی ستم ظریفی دیکھئی جائے تو کئی نوجوان نامور تعلیمی اداروں سے پڑھ کر اچھی ڈگری لے کر بھی جام کی تلاش میں دربرد کی ٹھوکرے کھاتے ہوئے نظر آتے ہیں چہرے پر بے یقینی اور ناکامی کا لیبل سجائے باہر آتے ہیں۔ اور نوکری کی تلاش میں رہتے ہیں کچھ نوجوان تو اپنی ڈگری سے نچلی سطح پر جام کرتے نظر آتے ہیں کچھ نوجوان دل برداشتہ ہو کر ایسے کام کرنےپر مجبور ہو جاتے ہیں جو ان کے خاندان کے لئے شرمندگی کا باعث بنتا ہے۔

    کچھ نوجوانوں کے روزگار نا ملنے کی وجہ سے اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے رہیتے ہیں اور پھر کسی چھوٹے موٹے کاروبار یا درمیانے درجے کی ملازمت کو اپنی توہین سمجھنے لگتے ہیں۔ خواہ مخواہ اپنے معیار کو اونچا کرکے کئی ایسے موقعے نوکریوں کو بھی ضائع کردیتے ہیں یہ کہے کر یہ ہمارے معیار کی نہیں ہے”بہت اچھے“ کی تلاش میں” کچھ اچھے“ سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں مایوس نوجوان زندگی کی کئی دور میں پیچھے رہے جاتے ہیں روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کو یقینی بنایا جائے اور بے روزگاری ختم کرنے لئے مواقع پیدا کیے جائیں۔ بے روزگاری کے باعث غربت جنم لیتی ہے اور بے روزگاری کے ساتھ ساتھ غربت کی وجہ سے پاکستان میں غربت کی شرح میں اضافہ ہوجاتا ہےبے روزگارسے انسان کو شرافت اور ایمانداری کی توقع کرنا ناممکن ہوجاتا ہے وہ اپنے بیوی بچوں کے لیے دو وقت کا کھانا اور بیماری میں دوائی میسر نہیں کرسکتا تو اس سے اچھے اور برے کی تمیز کھو دیتا ہے اور ہر وہ کام کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے جس کا نتیجہ بیانک ہوتا ہے غربت اور بے روزگاری ایک ریاست کی سب بڑی کمزوری اور نا اہلی سمجھی جاتی ہے جو ملک نوجوانوں کو روزگار نہیں دے سکتا تو پھر اور کیا کرے گا یہی حال ہمارے ملک کا ہے بس وعدے کئے جاتے ہیں روزگار نہیں۔ بیروزگاری اچانک ہی نہیں امڈ آتی۔ اس کے پیچھے بہت سی وجوہات اور عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ یہ وجوہات ایسی ہوتی ہیں کہ انہیں انفرادی طور پر دور کرنا مشکل ہوتا ہے بلکہ صرف حکومت ہی ہےجو نوجوانوں کو ایسے عوامل پیدا کرے جس سے وہ کام پر لگ سکے سرکاری سطح پر ایسے عناصر کی روک تھام کے لیے اقدامات کر سکتی ہے

    نوجوانوں کو چاہئیے کہ یہ صبر کا دامن تھامے رکھے اور اللّٰہ تعالٰپر یقین رکھتے ہو ئے یہ سوچے کہ رزق کا دروازہ اللہ ضرور انشاءاللہ کھولے گا۔ ہمارا ملک تبی ترقی کر سکتا ہے جب زیادہ زیادہ نوجوانوں کو روزگار ملے گا اور وہ اچھا کام کر کے اس ملک کی خدمت کر سکے گئے ہم بس دعا کر سکتے ہیں ہمارے ملک سے ایک بار بے زورگاری کا خاتمہ ہوجائے پھر ہی غربت میں کمی ممکن ہے پھر کوئی انسان بھوک کی وجہ سے اپنے بچوں سمیت خود کشیاں نہ کرے ۔
    email saima.arynews@gmail.com

  • مقام نسواں- شمع محفل یا چراغِ خانہ تحریر: سید غازی علی زیدی

    مقام نسواں- شمع محفل یا چراغِ خانہ تحریر: سید غازی علی زیدی


    شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشت خاک اس کی
    کہ ہر شرف ہے اسی درج کا در مکنوں

    عورت ہمیشہ سے مظلوم، تحقیر و تذلیل کا شکار، نہ کوئی عزت نہ کوئی مقام۔ یہود و نصاری ہوں یا رومی و شامی، مصری ہوں یا ہندی، عرب کے صحرا سے یورپ کے درباروں تک ہر جگہ عورت کی حیثیت ایک لونڈی سے زیادہ نہ تھی۔ کبھی جانوروں کے مول اس سے زیادہ لگتے تو کبھی اچھوت سمجھی جاتی، کبھی شیطانی روح کہلاتی تو کبھی ستی کردی جاتی۔ غرض آمد اسلام سے پہلے عورت کے سرے سے جینے پر ہی قدغن تھی۔ کہیں پیدائش کیساتھ ہی زندہ رہنے کا حق چھین لیا جاتا تو کہیں شمع محفل بنا کر مردوں کی نشاطِ طبع کا سامان کیا جاتا، کہیں مال وراثت کی صورت بٹتی تو کہیں سربازار لٹتی، کہیں گروی رکھوا کر پامال کی جاتی تو کہیں جوے میں ہار دی جاتی، غرض دنیا کی سب سے حقیر ترین شے عورت تھی۔

    مرد کا راج
    سر کا تاج
    سہما وجود
    رسموں کی قیود
    ظلم و ستم مقدر
    جیون فقط صبر
    کچلی ہوئی ذات
    ہر حال میں مات
    لیکن پھر رحمت للعالمین ﷺ کی آمد نے سسکتی، بلکتی عورت کی زندگی کو منور کر دیا۔ وہ کرلاتی مخلوق جو سانس بھی اپنی مرضی سے نہیں لے سکتی تھی اس کو وہ وقار و سربلندی بخشی جو اس کا جائز حق تھا۔ پیروں کی جوتی سمجھی جانے والی کے پاؤں تلے جنت رکھ دی۔ بیٹی کو نحوست کی جگہ رحمت بنا دیا، ذلت سمجھنے والوں کیلئے بہن باعث تکریم بنا دی گئی اور آدھا ایمان ہی بیوی سے مکمل کروادیا گیا۔شمع محفل کو گھر کی زینت بنا کرعورت کے ہر رشتے کو افتخار بخشا گیا۔ قرآن پاک کی پوری ایک سورت کا نام النساء رکھ کر تاقیامت خواتین کے مرتبے کا تعین کر دیا گیا۔ وراثت سے لیکر معاشرت تک کے تمام حقوق و فرائض متعین کردیے گئے۔ اور زمانہ جاہلیت کی تمام ظالمانہ رسوم و رواج کا مکمل خاتمہ کر کے اسے عظمت کا نمونہ بنادیا گیا۔
    اسلام نے فرعون کی بیوی کا درجہ جنت کی سردار کا کر دیا۔ حضرت مریم ؑ کی پاکدامنی پر پوری سورت اتاری گئی۔ قرآن مجید میں حضرت زینب ؓ کے خلع کے حق کو تسلیم کرکے نبی ﷺ سے نکاح کا شرف بخشا گیا، حضرت عائشہ ؓ کی برأت کیلئے آیات کا نزول ہوا اور تاقیامت عورت کی عصمت و عفت پربہتان طرازی کرنے والوں کیلئے قانون بنا دیا گیا۔ مرد کو عورت کا ولی مقرر کر کے عورت کو ہر طرح کی معاشی زمہ داری سے بری الذمہ قرار دے دیا۔
    یہ اسلام ہی تھا جس نے عورت کو ایک کمتر مخلوق کے درجے سے نکال کر بطور انسان مردکے برابر رتبہ دیا۔
    لیکن صد افسوس کہ آج کا ترقی پسند مرد خواہ مشرقی ہو یا مغرب کا پروردہ، جو خود کو تہذیب یافتہ و انسانی حقوق کا علمبردار سمجھتا، خواتین کو ان کا جائز حق دینے سے خائف ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کہیں عورت تیزاب گردی کا شکار ہے تو کہیں بدترین گھریلو تشدد کا، ماڈرن ازم کے باوجود آج بھی بیٹی کی پیدائش پر ناگواری ظاہر کی جاتی اور بیوی کو پیر کی جوتی سمجھا جاتا۔ پوری دنیا میں خطرناک حد تک بڑھتے عصمت فروشی، آبرو ریزی، جنسی ہراسگی اور صنفی امتیازی سلوک کے واقعات اس بات کی نشاندھی کرتے ہیں کہ جدیدیت کے نام پر عورت کا استحصال کیا جارہا۔ ستم ظریفی یہ کہ اکثر خواتین کے حقوق کے چمپئن ہی ان گھناؤنے جرائم میں ملوث ہوتے۔ چوراہوں پر عورت مارچ کے بینر اٹھائے یہ مرد حضرات گھر کی چار دیواری میں بیوی کو معمولی بات پر دھنک کر رکھ دیتے۔ بڑی بڑی این جی اوز عورت کے حقوق کی بحالی کیلئے فنڈز تو حاصل کرلیتی ہیں لیکن اپنی خواتین ورکرز کو جائز تنخواہیں تک نہیں دیتی۔ تیزاب گردی پر فلم بنا کر آسکر ایوارڈ لینے والی خاتون نے خود سب سے زیادہ متاثرہ عورت کا استحصال کیا۔ لیکن اگر کوئی ان امور پر آواز اٹھائے تو اس پر بنیاد پرستی اور پدرسری کا الزام لگادیا جاتا۔
    آزادی نسواں اور فیمینزم کا راگ الاپتے یہ لوگ صرف مغربی تعصب کی تقلید میں اسلام کو عورت کی ترقی کا دشمن سمجھتے۔ ان کا ہر ہر نعرہ اسلام کیخلاف ہوتا۔ حالانکہ اگر یہ صحیح معنوں میں اسلام سے واقف ہوتے تو جان لیتے کہ اسلام خواتین کے حقوق کا سب سے بڑا داعی ہے۔ پردے کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دینے والے نہیں جانتے کہ پردہ عورت کی عزت کا محافظ اور وقار کا باعث ہے۔ اسلامی تعلیمات کیخلاف دشنام طرازی کرتے یہ لوگ بھول جاتے کہ ترویج اسلام میں خواتین کا نمایاں کردار رہا ہے۔
    حضرت خدیجہ ؓکی اخلاقی و مالی مدد نے اسلام کوابتدائی مشکل ترین دنوں میں سہارا دیا۔ ان کا درجہ اتنا بلند کہ خود باری تعالیٰ نے حضرت جبرائیل کے زریعے سلام کہلوایا۔ غزوات میں مسلم خواتین کی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ تلوار بازی سے مرہم پٹی تک ہر مرحلے میں مردوں کے قدم بقدم رہیں۔ حق گوئی و بیباکی، جرآت و شجاعت، ذہانت و فراست ازدواج مطہرات و صحابیات کی نمایاں ترین خصوصیات تھیں۔ ایک بیٹی کو اللّٰہ نے وہ مرتبہ دیا کہ نبی پاک ﷺ کی تاقیامت مبارک ترین نسل حضرت فاطمتہ الزہرا ؓ کی بابرکت آغوش کی بدولت ہے۔ یزید کے دربار میں حضرت زینب ؓ کی للکار جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کی بہترین مثال ہے۔ سائنس، طب، فقہ، ادب، تاریخ، اقتصادیات غرض کونسا ایسا شعبہ زندگی ہے جس میں ہمیں ماہر ترین مسلم خواتین نہیں ملتی ہیں۔ ہم مسلمانوں کی ستم ظریفی کہ ہم نے اعلیٰ ترین اخلاقی اقدار کی حامل مسلم خواتین کو چھوڑ کر دو ٹکے کی اخلاق باختہ ماڈلز کو آئیڈیل بنا لیا ہے۔ ہندوؤں سے متاثرہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کو کم عقل اور صرف گھریلو کام کاج تک محدود سمجھا جانے لگا۔ نتیجتاً ہمارے اسلاف کے شاندار کارنامے سیرت کی کتابوں تک محدود ہو گئے۔ مزید برآں جو پردہ عورت کی عصمت کا محافظ تھا اسے عورت کی ترقی کا سب سے بڑا دشمن بنا کر پیش کیا گیا۔ پروپیگنڈہ کی ایسی ہوا چلی کہ اچھے خاصے سمجھدار لوگ اس کے دام میں آ گئے۔ یہاں تک کہ اسلام کی اصل روح اور تعلیمات سے واقف اور اس پر عمل کرنے والے آٹے میں نمک کے برابر رہ گئے ہیں۔
    ابھی بھی وقت ہے خدارا سنبھل جائیں۔ خدا سے بڑا نہ کوئی خیرخواہ ہوسکتا نہ معلم۔ شیطان انسان کا ازلی دشمن ہونے کے ناطے ہمیشہ گمراہی کے گھنگور اندھیروں کیطرف ہی لے جائے گا جس کا انجام دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی۔ شیطان کے چیلے مسحور کن نعروں اور رنگین نظاروں کی مدد سے سبز باغ دکھا کر بے حیائی کی راہ پر گامزن کررہے اور ہماری خواتین بلا سوچ سمجھ کے اپنی جنت چھوڑ کر بازار کی زینت بن رہی ہیں۔ جائز مطالبات اور حرام کاری کے فروغ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ خدارا ان دونوں کو آپس میں نہ ملائیں ورنہ عورت کی مظلومیت کی داستانیں تو ختم نہ ہوں گی لیکن بے حیائی و فحاشی میں ضرور اضافہ ہوگا جس کا انجام بلآخر معاشرے کی بربادی ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کا ارشاد پاک ہم سب کیلئے مشعل راہ بھی ہے اور تنبیہ بھی؛
    ”تم میں کامل ترین مومن وہ ہے جو اخلاق میں سب سے زیادہ اچھا ہے ، اور تم میں سب سے بہتر ہے وہ ہے جو اپنی عورتوں کے حق میں سب سے بہتر ہے ۔”
    کیا اس کے بعد بھی کوئی کہہ سکتا کہ اسلام خواتین کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ نہیں ہے؟
    ‎@once_says

  • واٹس ایپ صارفین کے لئے بڑی خوشخبری

    واٹس ایپ صارفین کے لئے بڑی خوشخبری

    واٹس ایپ صارفین کے لئے بڑی خوشخبری
    سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور اپلیکیشنز ہر چند ماہ بعد صارفین کی سہولت کے پیش نظر تبدیلیاں کرتی رہتی ہیں، اس مقصد کے لئے وہ مختلف قسم کے سرویز کراتی ہیں اور اپنے یوزر / صارفین سے آراء طلب کرتی ہیں کہ وہ کس قسم کے اپشن میں مزید بہتری چاہتے ہیں.

    سماجی رابطوں کی اپلیکیشن ‘واٹس ایپ’ کی نئی آنے والے اپ ڈیٹ میں کچھ نئی تبدیلیوں کا امکان متوقع ہے جن میں سب سے بڑی تبدیلی، واٹس ایپ پہ ساتھی سے اپنا last seen چھپانا ہے، جبکہ وہ اپکی contact list میں بھی موجود ہو. واٹس ایپ کی موجودہ اپ ڈیٹ تک ایسا کوئی فیچر یا آپشن متعارف نہیں کرایا گیا تھا کہ آپ ایسے شخص سے اپنا last seen چھپا سکتے ہوں جو آپ کی contact list میں موجود ہو. آپ کو ایسا کرنے کے لئے یا تو اس کا نمبر ڈیلیٹ کرنا پڑتا تھا یا پھر دوسرا آپشن بلاک کی صورت میں دستیاب تھا. مگر اب آپ اپنے موبائل میں محفوظ کردہ نمبرز سے بھی اپنا last seen چھپا سکتے ہیں.

    واٹس ایپ کا یہ فیچر کافی لوگوں کے لئے مددگار ثابت ہو سکتا ہے. بالخصوص ان لوگوں کے لئے جن کو بہت سارے لوگوں کے نمبر اپنے پاس save محفوظ رکھنے ہوتے ہیں.
    رپورٹ: مدثر حسین
    @mudassiradlaka

    خواتین کو ہراساں کرنے کی ویڈیوز وائرل،بزدار سرکار کا بڑا حکم

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی، 40 ملزمان کی عدالت پیشی

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی،71 سالہ بزرگ بھی گرفتار

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی، ایک اور ملزم کی ضمانت،شناخت پریڈ کب ہو گی؟

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی کیس ، پولیس نے سب کی دوڑیں لگوا دیں

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی، ملزم کی درخواست ضمانت پر عدالت نے سنایا فیصلہ

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی، عائشہ اکرم نے کتنے ملزمان کی شناخت کر لی؟

    مینار پاکستان، دست درازی،عائشہ اکرم نے کن ملزمان کی شناخت کی، نام سامنے آ گئے

    کس نے بلایا، کس نے چھیڑا، کس نے نازیبا حرکات کیں، سب سامنے آ گئے