Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • پیٹرول بم: جب حکمرانی کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جائے،تحریر:  میجر (ر) ہارون رشید

    پیٹرول بم: جب حکمرانی کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جائے،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    از میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و اسٹریٹیجک تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدیدیت میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں

    پاکستان ایک بار پھر اُس صورتحال کا سامنا کر رہا ہے جسے عوام عام طور پر “پیٹرول بم” کہتے ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ تقریباً 55 روپے فی لیٹر اضافے نے گھریلو صارفین، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری طبقے کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، جو پہلے ہی مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
    ایسے وقت میں جب عوام کسی ریلیف کی توقع کر رہے تھے، اس فیصلے نے لاکھوں خاندانوں پر معاشی دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ پاکستان میں روزانہ تیل کی کھپت تقریباً 4 لاکھ 80 ہزار بیرل ہے، جو تقریباً 7 کروڑ 80 لاکھ لیٹر یومیہ بنتی ہے۔
    دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک کے پاس تقریباً 28 دن کا اسٹریٹیجک ذخیرہ موجود ہے، جو تقریباً 1 کروڑ 34 لاکھ 40 ہزار بیرل یعنی تقریباً 2 ارب 15 کروڑ لیٹر پیٹرولیم مصنوعات پر مشتمل ہے۔
    جب اچانک 55 روپے فی لیٹر قیمت بڑھا دی جاتی ہے تو وہ ذخائر جو پہلے کم عالمی قیمتوں پر خریدے گئے تھے، فوری طور پر کاغذی طور پر بے پناہ قدر حاصل کر لیتے ہیں۔ سادہ حساب کے مطابق یہ پہلے سے موجود ذخیرے پر تقریباً 118 ارب روپے کی اضافی مالیت پیدا کر دیتا ہے۔

    عام شہری کے ذہن میں اس وقت سب سے اہم سوال یہی ہے: اس غیر متوقع فائدے کا اصل فائدہ کس کو پہنچتا ہے؟

    ایک ایسا نظام جو غیر منصفانہ دکھائی دیتا ہے،اصولی طور پر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین حکومت، اوگرا (آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی) اور نجی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے فریم ورک کے تحت کیا جاتا ہے۔ سرکاری وضاحت عموماً عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ، کرنسی کی قدر میں کمی اور مالی دباؤ کے گرد گھومتی ہے۔
    تاہم عوامی تاثر یہ بنتا جا رہا ہے کہ یہ نظام زیادہ تر آئل کمپنیوں، بڑے ڈسٹری بیوٹرز اور ان عناصر کو فائدہ پہنچاتا ہے جو قیمتوں میں اضافے سے پہلے ایندھن ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب قیمتیں اچانک بڑھتی ہیں تو ان کے پاس موجود ذخیرہ راتوں رات قیمتی ہو جاتا ہے اور انہیں بغیر کسی اضافی معاشی سرگرمی کے بھاری منافع حاصل ہو جاتا ہے۔دوسری طرف عام شہری، جس کے پاس نہ ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی پالیسی پر اثر انداز ہونے کی طاقت، صرف زیادہ قیمت ادا کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔

    انسانی قیمت

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا۔ پاکستان کے نازک معاشی ڈھانچے میں پیٹرول اور ڈیزل ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور بجلی کی پیداوار کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ایک قیمت بڑھنے سے ایک سلسلہ وار ردِعمل پیدا ہوتا ہے:
    ٹرانسپورٹ کے کرائے فوراً بڑھ جاتے ہیں
    اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں کیونکہ نقل و حمل مہنگی ہو جاتی ہے
    جہاں فرنس آئل یا ڈیزل استعمال ہوتا ہے وہاں بجلی کی پیداوار کی لاگت بڑھ جاتی ہے
    کاروباروں کے آپریشنل اخراجات میں اضافہ ہو جاتا ہے
    آخرکار مہنگائی کی رفتار مزید تیز ہو جاتی ہے۔
    ایک ایسے معاشرے میں جہاں لوگ پہلے ہی مہنگی بجلی، بڑھتے ہوئے گیس کے بل، بھاری ٹیکسوں اور جمود کا شکار اجرتوں سے نبرد آزما ہیں، اس کے اثرات انتہائی سنگین ہوتے ہیں۔ پاکستان کے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور اور تنخواہ دار طبقہ ان جھٹکوں کو برداشت کرنے کی بہت کم صلاحیت رکھتا ہے۔ بہت سے خاندانوں کے لیے بنیادی ضروریات زندگی بھی ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہیں۔

    ساختی مسئلہ
    پاکستان کی معیشت پہلے ہی بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر اور بیرونی قرضوں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔ مقامی صنعت کو پہلے ہی مہنگی توانائی، پالیسیوں کے عدم استحکام اور سستے قرضوں تک محدود رسائی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
    ایسے ماحول میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کاروبار کرنے کی لاگت کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔ صنعت کی مسابقت کم ہو جاتی ہے، برآمدات متاثر ہوتی ہیں اور سرمایہ کاری کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔ معاشی ترقی کو فروغ دینے کے بجائے ایسی پالیسیاں ملک کو معاشی جمود کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔

    انصاف کا سوال

    عام شہریوں کے لیے شاید سب سے تکلیف دہ سوال انصاف کا ہے۔
    جب عوام بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کا بوجھ اٹھا رہے ہوتے ہیں تو اسی وقت حکومت کے بہت سے عہدیداروں اور بیوروکریسی کے مختلف طبقات کو مفت یا بھاری سبسڈی والا پیٹرول، بجلی اور دیگر سہولیات بطور سرکاری مراعات ملتی رہتی ہیں۔
    یہ حکمرانی کے ایک بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے:
    کیا معاشی فیصلے کرنے والے خود ان فیصلوں کے اثرات سے محفوظ رہیں؟
    کسی بھی فعال جمہوریت میں معاشی مشکلات کا بوجھ پورے معاشرے کو، خاص طور پر اقتدار میں موجود افراد کو، مشترکہ طور پر برداشت کرنا چاہیے۔ جب پالیسی ساز خود اپنے فیصلوں کے اثرات سے محفوظ رہتے ہیں تو عوام کا اعتماد بتدریج ختم ہونے لگتا ہے۔
    قانونی اور حکمرانی کا پہلو
    پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے نظام میں شفافیت اور جوابدہی انتہائی ضروری ہے۔ حکومت کو واضح طور پر بتانا چاہیے:
    قیمتوں میں اضافے کا اصل فارمولہ کیا ہے
    آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا کردار اور منافع کی شرح کیا ہے
    ہر لیٹر پیٹرول میں شامل ٹیکسوں کی مقدار کتنی ہے
    قومی اسٹریٹیجک ذخائر کو کس طرح منظم کیا جا رہا ہے
    پارلیمانی نگرانی اور آزادانہ آڈٹ اس بات کو یقینی بنائیں کہ عوامی وسائل بالواسطہ طور پر نجی مفادات کو فائدہ نہ پہنچا رہے ہوں۔
    شفافیت کے بغیر ریگولیٹرز، آئل کمپنیوں اور بااثر حلقوں کے درمیان گٹھ جوڑ کے شبہات مزید مضبوط ہوتے جائیں گے۔

    آگے کا راستہ

    پاکستان اس وقت ایک اہم معاشی موڑ پر کھڑا ہے۔ ملک ایسی پالیسیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا جو عدم مساوات کو بڑھائیں اور عوامی اعتماد کو کمزور کریں۔
    حقیقی اصلاحات میں شامل ہونا چاہیے:
    ایندھن کی قیمتوں کے تعین کا شفاف نظام
    ریاستی ڈھانچے میں غیر ضروری مراعات کا خاتمہ
    کم آمدنی والے طبقات کے لیے ہدفی ریلیف
    توانائی کے شعبے میں تنوع اور کارکردگی میں طویل مدتی سرمایہ کاری
    سب سے بڑھ کر حکمرانی کو قلیل مدتی مالیاتی چالوں کے بجائے عوامی فلاح کو ترجیح دینی چاہیے۔
    پاکستان کے عوام نے دہائیوں کی معاشی مشکلات کے باوجود غیر معمولی صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔ مگر اس استقامت کو لامحدود برداشت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
    کوئی بھی قوم اس وقت ترقی نہیں کر سکتی جب اس کے شہری یہ محسوس کریں کہ نظام ان کے لیے نہیں بلکہ ان کے خلاف کام کر رہا ہے۔

    اس لیے اصل سوال اب بھی یہی ہے
    کون آگے بڑھے گا، ان بگاڑوں کو درست کرے گا اور پاکستان کی معاشی پالیسیوں کو انصاف، شفافیت اور قومی مفاد کی راہ پر ڈالے گا؟

  • ایران تاریخ کے سبق اور آج کا فیصلہ. تجزیہ : شہزاد قریشی

    ایران تاریخ کے سبق اور آج کا فیصلہ. تجزیہ : شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ حالات میں ایران ایک مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے۔ جنگی دباؤ اور داخلی چیلنجز کے باعث ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایران کو اپنے مستقبل کے بارے میں ایک واضح اور حقیقت پسندانہ فیصلہ کرنا ہوگا۔ عالمی طاقتیں بھی اپنے اپنے انداز میں اس صورتحال کو دیکھ رہی ہیں؛ امریکہ طاقت کے ذریعے اثر و رسوخ رکھتا ہے، اسرائیل جارحانہ حکمت عملی اپناتا ہے، جبکہ روس اور چین زیادہ تر موقع کے مطابق اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
    ایسے حالات میں ایران کو اپنی تاریخ سے سبق لینا چاہیے۔ ایران پہلے ہی عراق کے ساتھ آٹھ سالہ طویل جنگ لڑ چکا ہے جس میں بے شمار انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور معیشت کو شدید نقصان پہنچا، مگر اس جنگ سے کوئی فیصلہ کن فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ یہ تجربہ واضح کرتا ہے کہ طویل جنگیں اکثر قوموں کو کمزور ہی کرتی ہیں۔
    آج ایران کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ جذباتی ردعمل کے بجائے دور اندیشی سے پالیسی بنائے۔ داخلی استحکام، معاشی مضبوطی اور متوازن سفارت کاری ہی وہ راستہ ہے جو ایران کو مزید بحرانوں سے بچا سکتا ہے۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ طاقت صرف جنگ سے نہیں بلکہ دانشمندانہ فیصلوں سے بھی حاصل کی جاتی ہے۔

  • مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر شدید سیاسی اور عسکری کشیدگی کے دور سے گزر رہا ہے۔ ایران، اسرائیل اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف اس خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عالمی سیاست کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان کے آرمی چیف Syed Asim Munir کا Saudi Arabia کا دورہ عالمی اور علاقائی حلقوں میں خاصی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ یہ دورہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے ایک اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض سفارتی یا اقتصادی نوعیت کے نہیں بلکہ تاریخی، مذہبی اور دفاعی بنیادوں پر بھی قائم ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے دونوں ممالک دفاعی تعاون کے مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی مشرقِ وسطیٰ میں کوئی بڑا بحران پیدا ہوتا ہے تو پاکستان کی طرف دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج کو مسلم دنیا کی مضبوط اور منظم افواج میں شمار کیا جاتا ہے، اور اسی وجہ سے خطے کے کئی ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کو اہمیت دیتے ہیں۔

    حالیہ کشیدہ حالات میں آرمی چیف کا سعودی عرب کا دورہ اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ پاکستان خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کو بہت سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔ جنگی ماحول، فضائی راستوں کی مشکلات اور غیر یقینی صورتحال کے باوجود اس سطح کا دورہ ایک مضبوط سفارتی اور عسکری پیغام سمجھا جاتا ہے۔ اس سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ پاکستان اپنے قریبی اتحادی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

    بین الاقوامی مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت ایک نازک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک طرف سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ دوست اور اہم اقتصادی شراکت دار ہے جبکہ دوسری طرف Iran پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ سرحدی، تجارتی اور سفارتی تعلقات بھی اہم ہیں۔ اسی لیے پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ خطے کے مسائل کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے نہ کہ جنگ کے ذریعے۔

    اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کا کردار صرف دفاعی تعاون تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ مسلم دنیا میں ایک ممکنہ سفارتی پل کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان کئی علاقائی تنازعات میں ثالثی کی کوششیں کرتا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں بھی پاکستان کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ وہ اپنے متوازن تعلقات اور سفارتی تجربے کو استعمال کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مثبت کردار ادا کرے۔

    یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کا براہِ راست اثر عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر پڑتا ہے۔ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو اس کے اثرات جنوبی ایشیا سمیت پوری دنیا تک پہنچ سکتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان جیسے ذمہ دار ملک کا فعال اور متوازن کردار نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

    مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک آزمائش بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ اگر پاکستان دانشمندانہ سفارت کاری، متوازن پالیسی اور علاقائی رابطوں کو مؤثر انداز میں استعمال کرے تو وہ نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کر سکتا ہے بلکہ مسلم دنیا میں ایک ذمہ دار اور مؤثر قوت کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو مستقبل کی عالمی سیاست میں ایک اہم اور باوقار مقام دلا سکتا ہے۔

  • سلواڈور آلندے کا زوال: پاکستان جیسے ممالک کے لیے تاریخ کی ایک تنبیہ،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    سلواڈور آلندے کا زوال: پاکستان جیسے ممالک کے لیے تاریخ کی ایک تنبیہ،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    تحریر: میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و تزویراتی امور کے تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا میں عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدیدکاری میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں۔

    11 ستمبر 1973 کو چلی میں جمہوریت جیٹ طیاروں کی گرج اور ٹینکوں کی دھمک تلے دم توڑ گئی۔اس صبح چلی کے صدارتی محل لا مونیدا پیلس کو اسی ملک کی فضائیہ نے بمباری کا نشانہ بنایا۔ اس محل کے اندر ایک ایسا شخص موجود تھا جس نے عوام سے حاصل کردہ اپنے مینڈیٹ کو چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔
    صدر سلواڈور آلندے
    چند ہی گھنٹوں میں جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والا یہ رہنما ہلاک ہو گیا اور لاطینی امریکہ کی ایک نہایت سفاک فوجی آمریت نے جنم لیا۔
    پچاس برس سے زیادہ گزرنے کے باوجود آلندے کا زوال اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح بیرونی مداخلت، معاشی دباؤ اور خفیہ انٹیلی جنس کارروائیاں کسی ملک کے جمہوری تجربے کو تباہ کر سکتی
    ہیں۔

    پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس کے اسباق آج بھی دردناک حد تک اہم ہیں۔
    طاقتور مفادات کو چیلنج کرنے والی حکومت

    جب سلواڈور آلندے 1970 میں صدر منتخب ہوئے تو یہ ایک تاریخی لمحہ تھا۔ وہ مغربی نصف کرے میں جمہوری انتخابات کے ذریعے اقتدار میں آنے والے پہلے مارکسی رہنما بنے۔ان کے پروگرام میں زرعی اصلاحات، سماجی فلاح اور اسٹریٹجک صنعتوں کو قومی تحویل میں لینا شامل تھا—خصوصاً چلی کے وسیع تانبے کے ذخائر۔
    لیکن ان پالیسیوں نے چلی کے اندر اور باہر موجود طاقتور مفادات کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ اہم صنعتوں کو قومیانے سے غیر ملکی کمپنیوں کے مفادات متاثر ہوئے، جن میں امریکی ملٹی نیشنل کمپنی انٹرنیشنل ٹیلی فون اینڈ ٹیلی گراف (ITT) بھی شامل تھی۔
    سرد جنگ کے عروج کے زمانے میں واشنگٹن نے لاطینی امریکہ میں ایک سوشلسٹ حکومت کے ابھرنے کو شدید شک کی نگاہ سے دیکھا۔

    بعد میں منظرِ عام پر آنے والے خفیہ ریکارڈز سے تصدیق ہوئی کہ سی آئی اے کو یہ ذمہ داری دی گئی تھی کہ چلی کو سوویت بلاک کا ایک اور نظریاتی اتحادی بننے سے روکا جائے۔

    خفیہ کارروائیوں کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کیے گئے۔ بعد کی تحقیقات کے مطابق تقریباً 80 لاکھ ڈالر اپوزیشن گروپوں، میڈیا مہمات، سیاسی اشتعال انگیزی اور معاشی بدحالی پیدا کرنے کے لیے خرچ کیے گئے تاکہ آلندے کی حکومت کو کمزور کیا جا سکے۔

    حکمتِ عملی واضح تھی: ایسی شدید عدم استحکام پیدا کیا جائے کہ یا تو حکومت خود ہی گر جائے یا فوج مداخلت پر مجبور ہو جائے۔

    جس دن بم برسے

    1973 تک چلی شدید سیاسی تقسیم کا شکار ہو چکا تھا۔ معاشی بحران، ہڑتالیں، احتجاج اور سیاسی محاذ آرائی ملک کو تباہی کے دہانے تک لے آئی تھیں۔
    11 ستمبر کی صبح چلی کی مسلح افواج نے، جنرل آگستو پینوشے کی قیادت میں، ایک مربوط بغاوت شروع کر دی۔
    سینتیاگو کے آسمان پر جنگی طیارے گرج رہے تھے۔ ٹینکوں نے صدارتی محل کو گھیر لیا۔
    لا مونیدا کے اندر آلندے نے بار بار دی جانے والی استعفیٰ کی پیشکشوں کو مسترد کر دیا۔
    اس کے بجائے انہوں نے قوم سے اپنا آخری ریڈیو خطاب کیا—ایک ایسا خطاب جس میں عزم، مزاحمت اور وقار جھلک رہا تھا۔
    انہوں نے اعلان کیا کہ تاریخ ان لوگوں کا فیصلہ کرے گی جنہوں نے جمہوریت سے غداری کی۔
    ان کے سیکیورٹی اہلکاروں اور سیاسی ساتھیوں میں سے کئی نے محل کے اندر ان کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے آخری لمحے تک مزاحمت کی۔
    جب بالآخر محل پر قبضہ کر لیا گیا تو آلندے ہلاک ہو چکے تھے۔ بعد کی تحقیقات کے مطابق انہوں نے ہتھیار ڈالنے کے بجائے خودکشی کو ترجیح دی۔

    ان کی میت کو خاموشی سے دفن کر دیا گیا، اور کئی برسوں تک ان کی موت کی تفصیلات بھی راز میں ڈوبی رہیں۔

    خوف میں ڈوبا ہوا ایک ملک
    اس فوجی بغاوت نے صرف حکومت تبدیل نہیں کی بلکہ چلی کو خوف کی ریاست میں تبدیل کر دیا۔

    جنرل آگستو پینوشے کی آمریت کے دوران ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا، قتل کر دیا گیا یا وہ لاپتہ ہو گئے۔

    سیاسی قیدیوں کو اسٹیڈیمز، فوجی بیرکوں اور خفیہ حراستی مراکز میں رکھا گیا۔ بہت سے متاثرین کو مبینہ طور پر ہیلی کاپٹروں سے سمندر یا دور دراز پہاڑوں میں پھینک دیا جاتا تھا تاکہ ان کی ہلاکت کا کوئی ثبوت باقی نہ رہے۔

    اس دور کی سب سے دل دہلا دینے والی کہانیوں میں سے ایک چلی کے محبوب گلوکار اور کارکن وِکٹر خارا کی ہے۔

    بغاوت کے بعد انہیں گرفتار کر کے ایک حراستی مرکز لے جایا گیا جہاں فوجیوں نے ان پر شدید تشدد کیا۔ ان کے ہاتھ—جو ایک موسیقار کی شناخت تھے—جان بوجھ کر توڑ دیے گئے۔
    چند ہی دیر بعد انہیں قتل کر دیا گیا۔ بعد میں ان کی لاش درجنوں گولیوں کے زخموں کے ساتھ ملی—یہ ہر اس شخص کے لیے خوفناک پیغام تھا جو نئی حکومت کی مخالفت کرنے کی ہمت کرتا۔
    تقریباً تین دہائیوں تک چلی جبر کے سائے میں زندہ رہا۔ ہزاروں خاندان اپنے لاپتہ عزیزوں کی تلاش میں زندگی گزارنے پر مجبور رہے۔

    ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ شخص جس نے چلی پر مطلق العنان حکمرانی کی، آخرکار عالمی انصاف کے کٹہرے میں کھڑا ہونے کے قریب پہنچ گیا۔

    اقتدار چھوڑنے کے برسوں بعد آگستو پینوشے کو 1998 میں لندن میں گرفتار کر لیا گیا، جب اسپین کی عدالتوں نے ان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے تحت وارنٹ جاری کیا۔
    اگرچہ وہ صحت کے مسائل کا جواز پیش کرتے ہوئے واپس چلی آ گئے اور 2006 میں بغیر کسی حتمی سزا کے وفات پا گئے، لیکن ان کی میراث ہمیشہ تشدد گاہوں، جبری گمشدگیوں اور سیاسی جبر سے جڑی رہے گی۔

    تاریخ نے ان کا فیصلہ عدالتوں سے کہیں زیادہ سختی سے کیا۔

    تاریخ کی تنبیہ

    سلواڈور آلندے کا زوال محض لاطینی امریکہ کی ایک تاریخی داستان نہیں ہے۔ یہ اس بات کی طاقتور یاد دہانی ہے کہ جب داخلی تقسیم بیرونی جغرافیائی سیاسی مفادات سے ٹکرا جائے تو کمزور ریاستیں کتنی غیر محفوظ ہو جاتی ہیں۔

    سرد جنگ کے دوران دنیا کی خفیہ ایجنسیاں—چاہے سی آئی اے ہوں یا کے جی بی—اسٹریٹجک مفادات کے حصول کے لیے کئی ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کرتی رہیں۔
    حکومتیں غیر مستحکم کی گئیں۔ معیشتوں کو دباؤ میں لایا گیا۔ سیاسی تحریکوں کو یا تو پیدا کیا گیا یا تباہ کر دیا گیا۔

    پاکستان جیسے ممالک کے لیے سبق واضح ہے۔
    قومی خودمختاری صرف فوجی طاقت سے محفوظ نہیں ہوتی۔ اس کے لیے مضبوط ادارے، سیاسی بلوغت، قومی اتحاد اور ایسا معاشرہ درکار ہوتا ہے جو بیرونی چالوں اور سازشوں کو پہچاننے اور ان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
    جب اندرونی تقسیم گہری ہو جائے اور ادارے کمزور پڑ جائیں تو بیرونی قوتوں کو کسی ملک کی سمت متعین کرنے کے مواقع مل جاتے ہیں۔

    آخری سبق
    لا مونیدا پر بمباری کے پچاس سال بعد بھی وہ منظر—جب سلواڈور آلندے اپنے محل کے اندر کھڑے تھے اور اوپر جنگی طیارے چکر لگا رہے تھے—جدید تاریخ میں سیاسی مزاحمت کی سب سے طاقتور علامتوں میں سے ایک ہے۔
    ان کی حکومت ایک ہی دن میں گر گئی۔
    مگر چلی کے معاشرے پر پڑنے والے زخم نسلوں تک باقی رہے۔
    آج کے ہنگامہ خیز سیاسی دور سے گزرنے والی قوموں کے لیے چلی کے اس المیے کا پیغام بالکل واضح ہے۔
    جو قوم اندر سے تقسیم ہو جائے، وہ صرف داخلی زوال ہی نہیں بلکہ پردے کے پیچھے سے واقعات کا رخ موڑنے والی طاقتوں کے لیے بھی آسان شکار بن جاتی ہے۔

  • قابل افسران کو میدان میں لانے کی ضرورت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قابل افسران کو میدان میں لانے کی ضرورت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اکثر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پاکستان کے تمام ادارے کرپشن اور نااہلی کا شکار ہیں، لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔ یہ بات درست نہیں کہ ہر سرکاری افسر یا ہر ادارہ بدعنوان ہے۔ پاکستان کی پولیس، سول بیوروکریسی اور دیگر ریاستی اداروں میں آج بھی ایسے بے شمار افسران موجود ہیں جو ایمانداری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور قانون کی حکمرانی پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے فرائض کو صرف نوکری نہیں بلکہ ایک ذمہ داری سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔
    بدقسمتی سے ہمارے نظام کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ایسے قابل اور باصلاحیت افسران کو اکثر وہ جگہ نہیں دی جاتی جہاں ان کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔ بہت سے ایسے افسران جو فیلڈ میں جا کر بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں، عوام کے مسائل حل کر سکتے ہیں اور ریاست کی رٹ مضبوط کر سکتے ہیں، انہیں دفتروں میں محدود کر دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کی صلاحیتیں کاغذی کارروائیوں تک محدود ہو جاتی ہیں جبکہ میدانِ عمل میں وہ نتائج سامنے نہیں آتے جو آ سکتے تھے۔

    پنجاب کی مثال لی جائے تو یہاں پولیس اور سول انتظامیہ میں ایسے کئی افسران موجود ہیں جو نہ صرف دیانتدار ہیں بلکہ جدید سوچ بھی رکھتے ہیں۔ ان کے پاس مسائل کے حل کے لیے منصوبے اور نئی سوچ موجود ہے۔ لیکن اگر ایسے لوگوں کو عملی میدان میں اختیار اور موقع نہ دیا جائے تو ان کی صلاحیتیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اچھے منصوبے صرف کاغذوں یا چند دفاتر تک محدود رہ جاتے ہیں۔

    ریاست کے ذمہ داران کو اس حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ کسی بھی نظام کی بہتری کے لیے صرف قوانین یا اعلانات کافی نہیں ہوتے، بلکہ درست لوگوں کو درست جگہ پر تعینات کرنا سب سے اہم ہوتا ہے۔ اگر قابل، ایماندار اور باصلاحیت افسران کو فیلڈ میں ذمہ داریاں دی جائیں اور ان پر اعتماد کیا جائے تو نہ صرف اداروں کی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے بلکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔

    یہ بھی ضروری ہے کہ ہم بحیثیت قوم عمومی مایوسی اور منفی سوچ سے باہر نکلیں۔ اگر چند افراد کی وجہ سے پورے نظام کو بدنام کر دیا جائے تو اس سے ان ایماندار لوگوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے جو خاموشی سے اپنا کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں ان اچھے افسران کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور نظام کو اس انداز میں ترتیب دینا چاہیے کہ قابلیت اور دیانتداری کو آگے آنے کا موقع ملے۔

    مختصر یہ کہ پاکستان میں صلاحیتوں کی کمی نہیں ہے۔ ہمارے اداروں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انہیں صحیح مواقع، اختیارات اور میدان دیا جائے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ریاستی نظام کو مزید مضبوط بنا سکیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو اداروں کی بہتری اور ملک کی ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

  • محمد مصدق کی برطرفی تیل، طاقت اور 1953 کی بغاوت،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    محمد مصدق کی برطرفی تیل، طاقت اور 1953 کی بغاوت،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    (پاکستانیوں کے لیے ایک چشم کشا حقیقت)

    میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و اسٹریٹیجک تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس اسٹریٹیجی اور دفاعی جدیدیت پر تخصص رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں

    اگست 1953 میں محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹنا سرد جنگ کے دور کی سب سے اہم خفیہ مداخلتوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اس واقعے نے ایران کی سیاسی سمت کو بدل دیا، محمد رضا شاہ پہلوی کے تحت بادشاہت کو مضبوط کیا اور مغرب کے ساتھ ایران کے تعلقات میں عدم اعتماد کی ایسی میراث چھوڑ دی جو آج تک محسوس کی جاتی ہے۔

    مصدق کا عروج: قوم پرستی اور تیل کی خودمختاری
    1940 کی دہائی کے آخر اور 1950 کی دہائی کے آغاز میں ایران کی تیل کی صنعت پر عملاً برطانیہ کے زیرِ کنٹرول اینگلو ایرانی آئل کمپنی (AIOC) کا قبضہ تھا، جسے بعد میں بی پی (BP) کا نام دیا گیا۔1951 سے پہلے ایران کے تیل کی پیداوار اور منافع کا تقریباً 85 فیصد حصہ برطانوی مفادات کے قبضے میں تھا، جبکہ ایران کو اس آمدنی کا نسبتاً بہت کم حصہ ملتا تھا۔

    یہ عدم توازن ایرانی قوم پرستوں کے لیے ایک بڑا نعرہ بن گیا۔
    محمد مصدق، جو ایک بااثر اور کرشماتی سیاسی رہنما تھے اور جنہیں پارلیمنٹ کی مضبوط حمایت حاصل تھی، اقتصادی خودمختاری اور قومی وقار کی تحریک کی علامت بن کر سامنے آئے۔1951 میں وزیرِ اعظم بننے کے بعد انہوں نے ایران کی تیل کی صنعت کو قومی تحویل میں لے لیا۔ اس اقدام نے ایرانی عوام میں زبردست جوش پیدا کیا لیکن برطانیہ کو شدید غصہ دلایا۔

    برطانوی حکومت نے اس کے جواب میں ایران پر اقتصادی پابندیاں لگائیں، ایرانی تیل کا عالمی بائیکاٹ کروایا اور بین الاقوامی عدالتوں میں قانونی جنگ شروع کر دی۔ان دباؤ کے باعث ایران کی معیشت متاثر ہونے لگی، مگر مصدق اپنے ملک میں غیر ملکی تسلط کے خلاف مزاحمت کی علامت کے طور پر مقبول رہے۔

    سرد جنگ کے حساب کتاب اور مغربی خدشات
    ابتدائی طور پر برطانیہ نے مصدق کو سفارتی اور معاشی دباؤ کے ذریعے ہٹانے کی کوشش کی، لیکن جب یہ کوششیں ناکام ہوئیں تو لندن نے واشنگٹن سے مدد طلب کی۔اس وقت سرد جنگ اپنے عروج پر تھی اور سوویت یونین کے پھیلاؤ کا خوف مغربی دنیا کو مسلسل پریشان رکھتا تھا۔ اس تناظر میں ایران ایک انتہائی اہم اسٹریٹیجک ملک سمجھا جاتا تھا۔اگرچہ مصدق کمیونسٹ نہیں تھے، مگر مغربی پالیسی سازوں کو خدشہ تھا کہ سیاسی عدم استحکام سے ایران کی کمیونسٹ تودہ پارٹی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔یہ خدشات، تیل کے مفادات اور جغرافیائی سیاسی حساب کتاب نے مل کر ایک خفیہ مداخلت کی بنیاد رکھ دی۔

    آپریشن ایجیکسOperationAjax
    (سی آئی اے اور ایم آئی سکس کی بغاوت)
    اگست 1953 میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور برطانیہ کی ایم آئی سکس نے ایک مشترکہ خفیہ آپریشن شروع کیا۔ اسے تاریخ میں 1953 کا ایرانی فوجی انقلاب یا آپریشن ایجیکس کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس منصوبے کا مقصد مصدق کو اقتدار سے ہٹانا اور شاہ ایران کی طاقت کو دوبارہ بحال کرنا تھا۔
    اس منصوبے کے اہم عناصر یہ تھے:
    ہنگامہ آرائی پیدا کرنے کے لیے سڑکوں پر احتجاج اور مظاہرے منظم کرنا
    سیاستدانوں، صحافیوں اور فوجی افسران کو رشوت دینا
    پروپیگنڈا کے ذریعے مصدق کو غیر مستحکم اور کمیونسٹ نواز ظاہر کرنا
    ایرانی فوج کے بعض حصوں کے ساتھ مل کر اہم سرکاری مقامات پر قبضہ کرنا
    ابتدائی کوشش ناکام ہو گئی کیونکہ مصدق کو سازش کی خبر ہو گئی اور شاہ کو عارضی طور پر ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔

    تاہم 19 اگست 1953 کو مظاہروں اور فوجی کارروائیوں کی ایک دوسری منظم لہر کامیاب ہو گئی۔ شاہ کے وفادار ٹینکوں اور مسلح دستوں نے مصدق کی رہائش گاہ کو گھیر لیا۔ شدید جھڑپوں کے بعد ان کی حکومت گر گئی۔
    شاہ ایران فاتحانہ انداز میں تہران واپس آئے اور ان کی حکمرانی اب بڑی حد تک امریکی حمایت سے جڑی ہوئی تھی۔

    مصدق کا انجام
    محمد مصدق کو گرفتار کر لیا گیا، ان پر غداری کا مقدمہ چلایا گیا اور انہیں تین سال قیدِ تنہائی کی سزا سنائی گئی۔
    رہائی کے بعد انہیں ان کے آبائی گاؤں میں سخت نظر بندی میں رکھا گیا، جہاں وہ سیاسی طور پر مکمل طور پر الگ تھلگ رہے اور 1967 میں ان کا انتقال ہو گیا۔

    وہ دوبارہ کبھی عوامی عہدے پر واپس نہیں آئے، لیکن ایرانی عوام کی یادداشت میں وہ ایک قومی ہیرو بن گئے—خودمختاری اور غیر ملکی مداخلت کے خلاف مزاحمت کی علامت۔
    اسٹریٹیجک نتائج
    اس بغاوت کے گہرے اثرات مرتب ہوئے:

    بادشاہت کا استحکام:
    شاہ کی حکومت مزید آمرانہ ہوتی گئی اور اس نے مغربی حمایت اور خفیہ سکیورٹی اداروں پر انحصار بڑھا دیا۔

    مغرب مخالف جذبات:
    غیر ملکی مداخلت کے تاثر نے ایرانی معاشرے میں شدید مغرب مخالف جذبات کو جنم دیا، جو بعد میں 1979 کے ایرانی انقلاب کی ایک اہم وجہ بنے۔

    سرد جنگ کی مثال
    آپریشن ایجیکس بعد میں دنیا کے دیگر حصوں میں خفیہ طور پر حکومتیں تبدیل کرنے کے لیے ایک ماڈل بن گیا۔
    کئی مورخین کے مطابق 1953 کی بغاوت یہ ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح اقتصادی مفادات، جغرافیائی سیاست اور خفیہ کارروائیاں مل کر کسی ملک کی تقدیر بدل سکتی ہیں۔

    نتیجہ
    محمد مصدق کی کہانی صرف تیل کی نہیں بلکہ خودمختاری، طاقت کی سیاست اور غیر ملکی مداخلت کے دیرپا اثرات کی کہانی ہے۔1953 میں ان کی برطرفی نے ایران کی سیاسی تاریخ کا رخ بدل دیا اور مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست میں ایک اہم باب بن گئی۔

    سات دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اس بغاوت کا سایہ آج بھی علاقائی اتحادوں، اسٹریٹیجک عدم اعتماد اور خفیہ طور پر حکومتیں تبدیل کرنے کے اخلاقی و سیاسی مباحث میں نمایاں طور پر موجود ہے۔

  • "آپریشن غضب للحق” ، سرحد پار گونجتی شاہینوں کی پرواز اور فیصلہ کن پیغام،تحریر:جان محمد رمضان

    "آپریشن غضب للحق” ، سرحد پار گونجتی شاہینوں کی پرواز اور فیصلہ کن پیغام،تحریر:جان محمد رمضان

    ایک بار پھر عسکری تاریخ اہم باب کی شاہد بنی جب "آپریشن غضب للحق” کے عنوان سے پاک فضائیہ کے شاہینوں نے افغانستان کی فضاؤں میں برق رفتار کارروائیاں انجام دیں۔ یہ محض ایک عسکری پیش قدمی نہیں بلکہ قومی سلامتی کے باب میں ایک دوٹوک اعلان تھا کہ پاکستان اپنی سرحدوں اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کرے گا۔

    ذرائع کے مطابق کارروائیوں کا مرکز تاریخی شہر قندھار تھا، جہاں اہم عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ 205 البدر اسپیشل فورسز ہیڈکوارٹر اور پولیس ہیڈکوارٹر کو تباہ کیا گیا، جب کہ متعدد کالعدم تنظیموں سے وابستہ شدت پسند مارے گئے۔ ان کارروائیوں میں ان عناصر کو نشانہ بنایا گیا جو القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان سے منسلک تھے۔ بعض تنصیبات کو شدت پسندوں کے لیے پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا تاکہ انہیں ممکنہ فضائی حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ فضائی کارروائیوں کے بعد پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف "فیصلہ کن کارروائی” جاری رہے گی۔ یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ ریاست اپنی خودمختاری، سرحدی وقار اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔ عسکری ماہرین کے نزدیک یہ کارروائیاں نہ صرف دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں بلکہ ایک سفارتی اشارہ بھی ہیں کہ خطے میں امن کا قیام اسی وقت ممکن ہے جب سرحد پار موجود شدت پسند ڈھانچوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔

    یہ تمام تر پیش رفت خطے میں طاقت کے توازن اور امن کی کوششوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ پاکستان کا مؤقف یہ رہا ہے کہ اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، اور وہ توقع رکھتا ہے کہ ہمسایہ ممالک بھی اسی اصول کی پاسداری کریں۔”آپریشن غضب للحق” اسی اصول کا عملی اظہار قرار دیا جا رہا ہے، ایک ایسا اعلان جو بتاتا ہے کہ شاہین جب پرواز کرتے ہیں تو وہ محض فضا نہیں چیرتے، بلکہ قومی عزم کی لکیر بھی کھینچ دیتے ہیں۔

    برِصغیر کی تاریخ میں بعض لمحے ایسے ہوتے ہیں جو محض واقعات نہیں بلکہ قومی غیرت اور خودمختاری کی علامت بن جاتے ہیں۔ "آپریشن غضب للحق” بھی ایسا ہی ایک باب ہے جس میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے افغانستان کی فضاؤں میں برق رفتاری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اہم اہداف کو نشانہ بنایا۔اس موقع پر پوری قوم اپنی مسلح افواج، بالخصوص پاک فوج اور پاک فضائیہ کے شاہینوں کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ یہ وہ سپوت ہیں جو سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ ان کی شبانہ روز محنت، پیشہ ورانہ مہارت اور غیر متزلزل عزم اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی دفاعی دیوار ناقابلِ تسخیر ہے۔پاک فوج کے جوان برف پوش چوٹیوں سے لے کر تپتے ریگزاروں تک وطن کی حرمت کے نگہبان ہیں۔ ان کی قربانیاں ہماری آزادی کی ضمانت اور ہماری آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی بنیاد ہیں۔ قوم کو ان پر فخر ہے، اور یہ اعتماد ہے کہ وہ ہر چیلنج کا مردانہ وار مقابلہ کرتے رہیں گے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں جاری رہیں گی اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ پیغام واضح ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں، خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔”آپریشن غضب للحق” صرف ایک عسکری کارروائی نہیں، بلکہ عزم و استقلال کی علامت ہے ، ایک ایسا اعلان کہ جب وطن کی حرمت کا سوال ہو تو شاہینوں کی پروازیں تاریخ کا رخ موڑ دیتی ہیں، اور قوم اپنے محافظوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے۔

  • دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے،لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے،لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہر طرف گولیوں کی ترتراہٹ،خوف کی فضاء،دنیا میں امن کب ہوگا؟
    طاقتوراندھے،کمزور دہائیوں تک محدود،بارود برسانے والوں کاہاتھ کون روکےگا؟
    انسان نے چاند اور جدید ٹیکنالوجی دیکھ لی ،نفرت اور آگ کا دریا عبورنہ کرسکا ،کیوں؟
    زمین اللہ کی ملکیت،تنازعات کا حل مذاکرات،پھر جنگ کیسی،ذمہ داری کون لےگا
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    لکھیں تو کیا لکھیں؟ جب فضا ءمیں بارود کی بو ہو، معصوم جانیں مٹی تلے دب رہی ہوں اور دنیا بھر میں عام آدمی خوف کے سائے میں جی رہا ہو تو الفاظ بھی شرمندہ ہو جاتے ہیں، آج ہر طرف جنگی ماحول نے دلوں کو بوجھل کر دیا ہے، سوال یہ نہیں کہ جنگ کہاں ہو رہی ہے، سوال یہ ہے کہ امن کہاں ہے؟دنیا میں اقوامِ متحدہ، سلامتی کونسل اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے ادارے موجود ہیں، قراردادیں بھی منظور ہوتی ہیں، بیانات بھی جاری ہوتے ہیں، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں ، گولیاں رکتی نہیں، بم گرتے رہتے ہیں اور عام آدمی سسکتا رہتا ہے،مسئلہ اداروں کی موجودگی کا نہیں، ان کے مؤثر اور غیر جانبدار کردار کا ہے،جب عالمی فیصلے طاقتور ممالک کے مفادات کے تابع ہو جائیں تو انصاف کمزور پڑ جاتا ہے اور انسانی حقوق محض کاغذی الفاظ بن کر رہ جاتے ہیں،ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی ادارے صرف مذمت تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کریں، بڑی طاقتیں اپنی انا اور مفادات سے بالاتر ہو کر جنگ بندی کو یقینی بنائیں، اسلحے کی دوڑ کو روکا جائے اور تنازعات کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جائے،

    میڈیا بھی اپنی ذمہ داری سمجھے اور جنگ کو سنسنی خیزی کے بجائے انسانی المیے کے طور پر پیش کرے، سب سے بڑھ کر یہ کہ عوام اجتماعی آواز کو اتنا مضبوط بنائیں کہ حکمرانوں کو امن کا راستہ اختیار کرنا پڑے،یہ زمین خدا کی امانت ہے، اسے نفرت اور آگ کا میدان بنانا انسانیت کے خلاف جرم ہے، اگر طاقت انصاف کے تابع ہو جائے تو جنگیں رک سکتی ہیں، اگر قیادت میں اخلاص آ جائے تو خون بہنا بند ہو سکتا ہے،ورنہ تاریخ یہ لکھے گی کہ انسان چاند پر پہنچ گیا، سمندروں کی گہرائیاں ناپ لیں، ٹیکنالوجی کی بلندیاں چھو لیں، مگر اپنی ہی زمین پر امن قائم نہ کر سکا اور اپنے ہی جیسے انسان کو تحفظ نہ دے سکا،بقول شاعر، دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے،لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

  • علمبردارِ فکرِ حسینؑ، سید علی حسینی خامنہ ایؒ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    علمبردارِ فکرِ حسینؑ، سید علی حسینی خامنہ ایؒ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    فرمانِ امامِ عالی مقام سیدنا حسینؑ ابن علی علیہ السلام ہے؛
    ”مجھ (حسینؑ) جیسا کسی (یزید) جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔“

    سیاہ عمامہ اور ہاتھ میں عقیق پہنے ، باوقار مسکراہٹ، پُرنور روحانی باریش چہرے اور دور اندیشی و فکری شعور سے روشن آنکھوں والے مشفق رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی حسینیؒ خامنہ ای شہید وہ حق پرست شخصیت تھے جنہوں نے اول دن سے راہِ حق کے امامؑ کے اس قولِ مبارک کو اپنے لئیے مشعلِ راہ بنائے رکھا اور شہادت تک اسی راہ پر ثابت‌ قدم رہے۔ آپ مفسرِ قرآن، مفکرِ اسلام اور کئی کتب کے مؤلف تھے۔ "علمبردارِ فکرِ حسینی ہونا آپ کا وصف تھا۔

    ملتِ اسلامیہ کی ہر دل عزیز شخصیت اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ایؒ 19 اپریل 1939ء کو ایک علمی و دینی سادات گھرانے میں ایرانی شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ آپ کا سلسلۂ نسب جناب سیدنا امام حسین علیہ السلام سے جا ملتا ہے۔ سید علی خامنہ ایؒ نے قم اور نجف سے علمی و دینی تربیت پائی۔ اور 1963ء اسلامی انقلاب میں بھرپور شرکت کی ۔ آپ کو آیت اللہ خمینی کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔

    اسلامی انقلاب سے قبل آپ مشہد مقدس کے مؤثر ترین علمائے دین میں شمار ہوتے تھے۔ ایران کے رہبرِ اعلی منتخب ہونے سے قبل آپ مجلس شورائے اسلامی کے رکن بھی رہے۔ اور اکتوبر 1981ء سے 1989ء تک دو بار ایرانی صدر منتخب ہوئے۔ 1989ء میں امام خمینی کی رحلت کے بعد آپ ایرانی سپریم لیڈر منتخب ہوئے۔ اور 36 سال 6 ماہ ایران کے رہبرِ معظم رہے۔ آپ کو ریاستی پالیسی میں اہم و فیصلہ کن کردار حاصل تھا۔ آپ کسی بھی حکومتی معاملے کو ویٹو کرنے اور ملٹری و عدلیہ اعلیٰ حکام کی تقرری میں اہم مشاورت دینے کا اختیار رکھتے تھے۔ آپ 4 دہائیوں تک یہود و نصارٰی کے لئیے آہنی دیوار بنے رہے۔ 28 فروری 2026ء کو دو سو امریکی طیاروں نے سید علی خامنہ ای کے آفس پہ حملہ کر کے آپ کو اپنے بیٹے، بہو، بیٹی ، داماد ، نواسی اور اہم اعلی ملٹری حکام اور ساتھیوں کے ہمراہ شہید کر دیا۔ اور مسلم امہ ایک دلیر رہنما اور عالمِ دین سے محروم ہو گئی ۔ آہ! مولا علیؑ کا شیر چلا گیا۔

    اک وہ شخصیت جن سے ملنے کی، میرے دل نے ہمیشہ ارادہ و امید رکھی۔ جن کی حق گوئی ہمیشہ محترم رہی ، جن کے عمل و استقامت میں خونِ سادات کا جلال دکھائی دیتا، جن کی جرات نےعلمِ جہاد کو سربلند رکھا ، جہنوں نے ثابت کیا۔ کہ زندگی کسی مقصد کے لئیے جہدوجہد کا نام ہے۔ اور موت اس مقصد کو سیراب کر دینے کی منزل، وہ شیر تھا امت کا شیر ۔۔۔ایسے شیر کی موت کبھی بھی عام ہو ہی نہیں سکتی۔ جسے شہادت بھی سلامی دینے آتی ہے۔ مجھے تو عرصہ دراز پہلے ہی ان کی بایو گرافی پڑھنے کے بعد معلوم ہو چکا تھا۔ کہ ان کا شمار شہداء میں ہو گا۔ عام موت تو ان کو چھو بھی نہیں سکتی۔

    مشرقِ وسطیٰ میں دہشت گرد غیر قانونی ریاست اسرائیل کی طرف سے ایک طویل سے جاری جارحیت کے خلاف سید علی حسینی خامنہ ایؒ مردِ آہن ثابت ہوتے رہے۔ دہشت گرد صہیونی و امریکی مسلم دشمن پروپیگنڈے کی راہ میں سید کو مقاومت و مزاحمت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے۔ کہ آپ کی شخصیت سرحدوں سے بالاتر ہو کر پوری مسلم دنیا بالخصوص فلسطین میں انتہائی محترم سمجھی جاتی تھی۔

    یہ بات کسی سے چھپی نہیں کہ امریکہ ہمیشہ سے صیہونی دہشت گردی کا سہولت کار رہا ہے۔ 2015ء سے ایٹمی ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر امریکہ ایران سے کشیدگی کو بڑھاوا دیتا آیا ہے۔ اور اب ایرانی رجیم کو بدلنے کے نام پہ ایران پہ جارحیت کی انتہاء ڈھا دی گئی۔ امریکی و اسرائیلی مشترکہ مشن ایپک فیوری کا نام سے دہشت گردی و جارحیت کا آغاز کیا گیا۔ جس میں ایران کے 24 صوبوں میں اہم وزارتوں ، تنصیبات، اسپتالوں ، سکولوں اور آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔ صرف میناب میں ہی لڑکیوں کے ایک سکول پہ حملے میں 148 سے زائد بچیاں شہید ہو گئیں۔ ان معصوم بچیوں کی شہادت پہ مجھے ملالہ یوسفزئی یاد ائی۔ ان معصوموں میں زندگی چھیننے والے نام نہاد "مہذبوں” کو کوئی ایک بھی ملالہ نظر نہ آئی ۔۔۔

    سوال یہ ہے۔ کہ جب ایک ملک ایٹمی ٹیکنالوجی رکھتا ہے۔ تو کوئی دوسرا ملک وہ ٹیکنالوجی کیوں نہیں رکھ سکتا۔ ؟ صرف اس لئیے کہ ایسا ہونے سے جارحیت کے دلدادہ ممالک کی راہ میں رکاوٹ آ جائے گی۔ دنیا کا کونسا مہذب اصول اسے درست مانتا ہے۔ کہ ایک ملک کا سربراہ میڈیا پہ آ کر دوسرے آزاد ملک کی رجیم ختم کرنے کا دعویٰ کرے۔ اور باقاعدہ اپنی فورسز بھیج کر اس ملک کے سربراہ کا قتل کروا دے۔

    آج ایک اہم اور نڈر مسلم رہنما و عالم دین کے ناحق قتل پہ ہر باضمیر سراپا احتجاج اور غم و غصہ میں مبتلا ہے۔ وہیں برادران یوسفؑ کی طرح کئی خلیجی ممالک بھی سہولت کار ہیں ۔ جنہوں نے اپنی سرزمین امریکی اڈوں کے لئیے فراہم کی ہوئی ہے۔ ایران نے جب جوابی کارروائی میں ان اڈوں کو نشانہ بنایا۔ تو خبر بنا دی گئی کہ ایران نے عرب ممالک پہ حملہ کیا ہے۔ عقل کے اندھوں کو یہ نہیں معلوم کہ ایران، عرب ممالک پہ نہیں۔ بلکہ ان ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے ۔ سوال تو یہ بھی ہے۔ کہ ان عرب ممالک نے اسلام دشمن کفار کو بیسز کے لئیے جگہ کیوں فراہم کی ہے ؟؟؟ منافقت کون کر رہا ہے۔
    گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے!!

    کچھ زندہ رہ کے بھی مردہ ہی رہتے ہیں۔ اور کچھ مر کے بھی سوچ و فکر اور دلوں میں ہمیشہ کے لئیے بس کے امر ہو جاتے ہیں۔ ایک درویش صفت انسان جن کی آخری دعا ہی یہ تھی۔”یا اللہ ہمیں شہیدوں کے ساتھ ملا دے”, جو اکیلے نہ صرف ایران بلکہ پوری مسلم امہ کے لئیے لڑتے رہے، اپنے ساتھیوں کے لاشے اٹھاتے رہے، جنازے پڑھاتے رہے، یتیموں کے سر پہ دستِ شفقت رکھتے رہے، مگر تنہا ڈٹے رہے۔۔۔ آج ہر مسلک و مکتبِ فکر سے آزاد ہو کر ہر آنکھ ایک عظیم مسلم رہنما کے ناحق قتل پہ اشک بار ہے۔ آغا خامنہ ایؒ کو ان جرات ، مقاومت اور حق پرستی کے نظریے کے سبب آج تاریخ اپنے سینے میں تمغے کے طور پہ سجا رہی ہے۔ یہی وہ عزت ہے۔ جو میرا رب اپنے محبوب بندوں جو صرف اس کی رضا کے طالب ہوں، کو عنایت فرماتا ہے۔

    محترم سید علی حسینی خامنہ ایؒ شہید نے اپنے سید و مومن ہونے کا حق ادا کر دیا۔ آپ نے ثابت کر دیا۔ کہ حق کے متوالے باطل و طاغوتی طاقتوں سے ڈرا نہیں کرتے۔ بلکہ ان سے نبرد آزما ہو جاتے ہیں۔ آپ کے نظریات و فکر اور مقاومت ہمیشہ زندہ رہے گی۔
    اللہ پاک آپ کے درجات بلند فرمائیں۔ اور آپ کے مشن کو کامیابی عطا فرمائیں ۔
    آمین
    ؂
    ہم کو حسینؑ ایسا بہادر بنا گئے
    سر کٹ گئے یزید کی بیعت مگر نہ کی

  • پاکستان صہیونی طاقتوں کا اگلا ہدف،تحریر:میجر (ر) ہارون رشید

    پاکستان صہیونی طاقتوں کا اگلا ہدف،تحریر:میجر (ر) ہارون رشید

    توجہ برائے اراکین

    پاکستان اپنی تاریخ کے نہایت نازک مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں شدید مالی، سیاسی اور تزویراتی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ میری محتاط رائے میں آئندہ دو سے تین سال ہمارے وطن کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔
    اس اہم موقع پر ہمیں فوری قومی مفاہمت کی ضرورت ہے — سیاسی، مذہبی اور مسلکی اختلافات سے بالاتر ہو کر۔ ہمارے اختلافات ہمیں مزید کمزور کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہمیں ایک اصول پر متحد ہونا ہوگا: سب سے پہلے پاکستان۔
    Iran میں کسی بھی قسم کی عدم استحکام — خواہ نظام کی تبدیلی ہو یا خانہ جنگی — پورے خطے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ United States اور Israel کی بدلتی ہوئی جغرافیائی و تزویراتی حکمتِ عملی ہمارے گرد غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا رہی ہے۔
    اس بابرکت ماہِ رمضان میں تمام اراکین سے عاجزانہ گزارش ہے کہ پاکستان کی سلامتی، اتحاد، خوشحالی اور استحکام کے لیے خصوصی دعائیں کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے وطن کو اندرونی انتشار اور بیرونی سازشوں سے محفوظ رکھے اور ہمیں بصیرت، قوت اور اتفاق عطا فرمائے۔
    خلوص کے ساتھ،