Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • افغانستان کو چھوڑنا غلطی ہے نتیجہ سنگین ہوگا جارج بش …تحریر عینی سحر

    افغانستان کو چھوڑنا غلطی ہے نتیجہ سنگین ہوگا جارج بش …تحریر عینی سحر

    امریکہ کے سابق صدر جارج بش نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کے انھیں بہت تشویش ہے امریکی اور نیٹو کی فوج کا افغانستان سے انخلا غلطی ہے اور اسکا نتیجہ ناقابل یقین حد تک برا ہوگا افغانستان کے لوگ وہاں کے بے رحم لوگوں کے ہاتھوں میں چھوڑ دئیے گۓ ہیں جو انھیں بے رحمی سے ذبح کرینگے انہوں نے کہا یہ سوچ کر انکا دل ٹوٹنا ہے جارج بش کا یہ بیان امرکی صدر جو بایڈن کے امریکی فوجوں نے افغانستان سے انخلا کے بیان
    کے ایک ہفتے کے بعد آیا جس میں انہوں نے فیصلے پر کڑی تنقید کی اور اسے واضح طور پر ایک غلطی قرار دیا_
    امرکی سابق صدر بش اس فیصلے کے بالکل حق میں نہیں اور سمجھتے ہیں کے اس فیصلے سے افغانستان کی خواتین کے حقوق کا استحصال ہوگا اور ان سے دوسرے درجے کے شہری کی حثیت جیسا سلوک ہوگا

    اس سے قبل مئی میں سابق صدر بش نے اپنے انٹرویو میں کہا تھا وو نہیں سمجھتے یہ درست فیصلہ ہےافغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا سے خطے میں خلا پیدا ہوگا جو کے بھرا نہ جاسکے گا یہ سب کرنا ضروری نہیں تھا امریکی چلے جائیں گے تو وہاں کے لوگ خواتین کو دوسرے درجے کے شہری سمجھیں گے اور ان سے ناروا سلوک کرینگے جو قربانیاں ہماری فوج اور انٹیلیجنس نے دی ہیں وہ سب بھلا دی جائیں گیں
    انہوں نے کہا یہ سب غیر ضروری تھا اب دعا یہ ہے کے یہ فیصلہ درست ثابت ہو

    صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے فوجی انخلا کی متوقع تاریخ جو کے ستمبر کی ہے اس سے قبل اکتیس اگست تک تمام امریکی فوجی واپس آچکے ہونگے

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی پریس سیکٹری جین میکاسی کا ہفتہ پہلے یہ بیان آیا کے یہ نہیں کہا جاسکتا کے ‘مشن اکامپلش ‘ کالمحہ آگیا ہو بیس سالہ کی اس جبگ کو عسکری لحاظ سے جیتا نہیں گیا جب جو بائیڈن سے پوچھا گیا کیا مشن اکامپلش ہوا انہوں نے کہا نہیں لیکن اتنا ہدف حاصل ہواکے انہوں نے القاعدہ کے مستقبل کے حملوں کو روک دیا اور اسامہ بن لادن کو ہلاک کر کے کسی حد تک کا مشن اکامپلش کیا

    جو بائیڈن نے کہا یہ افغانستان کے لوگوں کا حق ہے وہ جیسے چاہیں ویسے اپنا ملک چلائیں انکی حکومت کی ذمہ داری ہے کے خودمختاری کی حفاظت کریں انہوں نے کہا ہم افغان فوج کو فضائی ، اخلاقی اور انسانی بنیادوں پر خاص طور پر خواتین کے حقوق کیلئے مدد جاری رکھیں گے لیکن پھر انہوں نے اس حوالے سے کے وہ یہ سب کیسے کریں گے جب وہ وہاں ایک بھی امریکی فوجی چھوڑنا نہیں چاہتے تواس پر انہوں نے سوال پوچھاآخر ہم امریکہ کے اور کتنے بیٹے اور بیٹیوں کو خطرے میں ڈالیں گے ؟
    ان سے سوال پوچھا گیا کیا اب طالبان قبضہ نہیں کرینگے ؟ تو جو بائیڈن نے دو ٹوک کہا نہیں کیوں کے اب افغانستان محفوظ ہاتھوں میں ہے اب وہاں محض پچھتر ہزار طالبان کیخلاف تین لاکھ تربیت یافتہ مسلح افغان فوج ہے .
    انہوں نے اپنی دلیل دیتے ہوۓ کہا آخر کب تک آپ اپنی فوج کو وہاں رکھیں گے لیکن اب میں امریکہ کی ایک اور نسل وہاں جنگ میں نہیں جھونکوں گا

    یاد رہے افغانستان کی جنگ امریکہ کی سب سے لمبی جنگ رہی جسمیں چوبیس سو ہلاکتیں اور اکیس ہزار زخمی ہوۓ
    اس بیس سالہ قیام میں امریکہ نے افغانستان کی تین لاکھ فوج کو طالبان سے مقابلے کی تربیت دی لیکن اس ساری تربیت کے باوجود طالبان اب تک پچاس ڈسٹرکٹ پر قبضہ کر چکے ہیں

    یہی وہ نکتہ تھا جو پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں واضح کیا تھا کے کسی کیلئے بھی افغانستان میں جنگ جیتنا ممکن نہیں

  • علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یارب . تحریر: اقصیٰ یونس

    علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یارب . تحریر: اقصیٰ یونس

    Mعلم کی بدولت قوموں نے عروج پایا۔ علم نے آدمیت کو انسانیت کے رنگ میں ڈھالاورنہ آدمی کھانے پینے اور اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کو اپنا عروج سمجھتا تھا۔ زندگی گزارنے کا مقصد نفسانی خواہشات کی تکمیل کے سوا کچھ نہ تھا۔ انسان تہذیب وثقافت سے عاری تھا۔ نیکی اور بدی کی تمیز سے نابلد تھا۔ علم نے تہذیب سکھائی۔ اچھائی اور برائی کی تمیز سکھائی۔ علم کا مقصد سمجھ بوجھ اور فہم و فراست میں پاکی حاصل کرنا ہے۔

    کسی بھی ملک کی ترقی میں تعلیم کی اہمیت ناگزیر ہے۔ ہمیشہ وہی قومیں اپنا لوہا منوانے میں کامیاب ہوئی جن کا تعلیمی نظام بہترین تھا ۔ تعلیم کیُ اہمیت سے انکا نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کا تعلیمی نظام معیار کے لحاظ سے 94 نمبر پر ہے – اور تعلیمی بجٹ کے لحاظ سے 126 نمبر پہ ہے – اس بات سے پاکستان کے تعلیمی نظام کی خستہ حالی کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے-

    پاکستان میں تعلیم کی نگرانی وفاقی وزارت تعلیم اور صوبائی حکومتوں کے زیر نگرانی کی جاتی ہے جبکہ وفاقی حکومت زیادہ تر نصاب کی ترقی ، منظوری اور تحقیق و ترقی کی مالی اعانت میں معاونت کرتی ہے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 25-A ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ 5 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی معیار کی تعلیم فراہم کرے۔ "ریاست پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تمام بچوں کو اس طریقے سے مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے گی ”

    ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں 226903 سکول ،41018384 طلبہ 1535461 اساتذہ ہیں ۔ ان میں 180846 سرکاری ادارے جبکہ 80057 نجی ادارے شامل ہیں ۔ یعنی ہر 26 طلبہ کیلئے ایک استاد موجود ہے جبکہ پرائمری سکول میں حالات اس سے بھی زیادہ خستہ حال ہیں اور وہاں 31 طلبہ کیلئے فقط ایک استاد موجود ہے۔

    پنجاب میں اس وقت سکولوں میں تقریباً نوے ہزار آسامیاں خالی ٹیچرز کی بھرتی کی منتظر ہیں اور پنجاب میں بچوں کی
    تعلیمی استحصال روزانہ کی بنیاد پر ہو رہا ہے موجودہ حکومت اور وزیر تعلیم کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔

    سرکاری اداروں کی زبو حالی اور تباہی کی ایک الگ داستان ہے، ایسے ادارے جہاں سہوتوں کے فقدان کی لمبی قطار ہے اور ڈیجیٹل پاکستان کا راگ الاپنے والے کسی ایک سرکاری سکول کا نام بتا دیں جہاں ڈیجیٹل طریقے اپناتے ہوئے بچوں میں علم کی شمع جلائی جاتی ہو۔ حال ہی میں ایک سرکاری سکول کے طالب علم سے بات کرنے کا موقع ملا اور یہ جان کر دل ہی بج گیا کہ وہاں کے اساتذہ بچوں کو انکے نام لینے کی بجائے گدھے ، الو, کالے ، موٹے جیسے القابات سے پکارتے ہیں ۔صرف یہی نہیں کچھ استاد ایسے بھی ہیں جو بچوں کو ان القابات کی بجائے گالیاں دے کر پکارتے ہیں ۔

    آج بھی اسلام آباد کے اچھے سکولوں میں جہاں 15 سالوں کی ملازمت کے بعد پرائمری ٹیچر بھی 1 لاکھ روپیہ تنخواہ وصول کرتے ہیں،مگر جن نو نہالوں کو پرائمری کی سطح پر تخلیقی تعلیم دینی چاہئے،کتابوں اور بستوں سے 5 سے10 سال کے بچے جھکے کندھوں کے ساتھ خوف اور دہشت کی علامت بن کر سکول جاتے ہیں۔صبح ماں اور باپ کی ڈانٹ ڈپٹ ،سکول داخل ہوتے ہی سکول ٹیچر کی اونچی اور خوفناک آواز ان کے حوصلے اور سیکھنے کے عظم کو خاک میں ملا دیتے ہیں۔کم از کم پرائمری کے دوران بچوں کو تعلیم سے زیادہ تربیت کی ضرورت ہوتی ہے،مگر گھر اور درسگاہوں میں کہاں تربیت ہوتی ہے،وہاں آج بھی A-Apple اور B-Bat کے علاوہ کچھ نہیں رٹایا جاتا۔

    علامہ اقبال مغربی نظامِ تعلیم سے بہت نالاں تھے کیونکہ مغربی نظام تعلیم مادیت پرستی، عقل پرستی اور بے دینی و الحاد کا سبق دیتی ہے۔ اسی نظام تعلیم کی حقیقت کو علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں اس انداز سے پیش کیاکہ:
    اور یہ اہل کلیسا کا نظامِ تعلیم
    ایک سازش

    <Writer Aqsa Younas


     Aqsa Younas

    Aqsa Younas is a Freelance Journalist Content Writer, Blogger/Columnist and Social Media Activist. He is associated with various leading digital media sites in Pakistan and writes columns on political, international as well as social issues. To find out more about her work on her Twitter account

      

     


    https://twitter.com/AqsaRana890

  • ہمیں افغانستان کی صورتحال پر نظر کیوں رکھنا پڑتی ہے؟ تحریر: ارشد محمود

    ہمیں افغانستان کی صورتحال پر نظر کیوں رکھنا پڑتی ہے؟ تحریر: ارشد محمود

    افغانستان جو آج کل اخبار کی زینت بنا ہوا ہے اور ہر گزرتے وقت کے ساتھ ایک علم کو اپنے ذرائع سے خبروں کی کھیپ پہنچتی رہتی ہے ۔ تو ایسے میں ہم بھی کان لگا کر ہمہ تن گوش ہوتے ہیں کہ دیکھیے کون سی خبر ہم تک کیسے پہنچتی ہے ۔افغانستان سے ہمارا رشتہ اتنا ہی قدیم ہے جتنے کہ ہم خود ۔ ایک تو افغانستان کی اکثریت آبادی مسلم ہے ، دوسرا ہماری ہمسائیگی میں واقع ہونے کی وجہ سے ہمیں اس کے معاملات پر نظر رکھنی پڑتی ہے، تیسرا عالمی طاقتوں کی گزرگاہ ماضی کی طرح آج بھی افغان زمین کو ہی سمجھا جاتا ہے اور چوتھا ہمارا ازلی دشمن بھارت امریکی آشیرباد سے افغانستان میں اپنے خونی پنجے مضبوط کیے بیٹھا ہے جس کی وجہ سے نہ چاہتے ہوے بھی ہمیں افغانستان کی بدلتی حالت پر نہ صرف نظر رکھنا پڑتی ہے بلکہ حالات کو اپنے لیے سازگار بنانے کی جدو جہد بھی کرنا ہوتی ہے۔ پاکستان بحیثیت ریاست کبھی بھی افغانستان میں جنگ نہیں چاہتا کیونکہ ادھر جنگ کا مطلب ہے کہ اس کی تپش پاکستان تک پہنچنا ۔ ماضی قریب و بعید میں بھی پاکستان نے افغانستان میں امن کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔ امریکا کو افغانستان سے نکالنے کا راستہ ملنا پاکستان کی ہی مرہون منت ہے ۔ بھارت نے جہاں افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے وہی پر اس نے افغانستان میں اپنی انٹیلی جنس ایجنسی کو ایسے استعمال کیا ہے کہ ایک طرف امریکیوں کی خبریں رکھی ہیں اور دوسری طرف پاکستان میں دخل اندازی کرکے پاکستان کے حالات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش بھی کرچکاہے۔

    کئی ایک افغانی اس گھناونے کام میں بھارت کے نہ صرف مددگار رہے ہیں بلکہ بھارتی پے رول پر کام بھی کرتے رہے ہیں۔ پاکستان نے امت واحدہ اور انسانیت کے نام پر لاکھوں بلکہ کروڑوں افغانیوں کو پناہ دی اور ان میں سے کچھ نے اپنا دین ، روایات اور اصول و ضوابط کو پس پشت ڈال کر بھارتی پروپیگنڈے سمیت خودکش دھماکوں اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں بھارت کا ساتھ دیا ہے ۔ آج کے اخبارات میں ایک خبر چھپی ہوئی ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ افغان ایجنسی بھی بھارتی ایجنسی کے ساتھ ملکر اپنے بڑے بھائی کے چھرا گھونپ رہی ہے ۔ اخبار کے مطابق طالبان کو افغان چیک پوسٹوں سے 3 ارب روپے کے قریب پاکستانی کرنسی ملی ہے ۔ یاد رہے کہ یہ چیک پوسٹیں پاکستانی سرحد پر افغان سیکیورٹی فورسز سے چھینی گئی تھیں۔ سوشل میڈیا پر بھی کچھ تصاویر موجود ہیں جن میں ایک شخص کو پاکستانی روپیوں کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ بتائی گئی معلومات کے مطابق یہ رقم افغان انٹیلی جنس ایجنسی این ڈی ایس کے کرنل کے کمپاونڈ سے ملی ہے۔ اس کمپاونڈ کے عقب میں ہی قندھار کا بھارتی قونصلیٹ تھا جو تازہ تازہ خالی ہوا تھا ۔ افغان سیکیورٹی فورسز یہ رقم سمگلروں سے بطور رشوت لیتی رہیں اور پھر یہ رقم پاکستان میں کالعدم دہشت گرد تنظیموں کو دی جاتیں جو پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں کرتی تھیں۔

    حالیہ خبر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماضی میں ہوے دہشت گردانہ واقعات میں افغانی انٹیلی جنس کا کردار کس قدر اہم رہا ہے ۔ پاکستان پر قبضے کے خواب دیکھنے والے امریکا و نیٹو افواج کے انخلا کے بعد اپنی زمین کا دفاع کرنے میں تو نا کام ہو چکے ہیں ۔ آئے روز طالبان کی طرف سے بتایا جا رہا ہے کہ وہ فلاں قصبے میں داخل ہوچکے ہیں اور اتنے افغان فوجیوں نے ہتھیار ڈال کر پناہ مانگی ہے ۔ ایسے میں پاکستان کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے کہ افغان سرحد کے قریب چند لوگ پاکستانی سرزمین میں رہتے ہوئے بھی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے سے باز نہیں آتے ۔ امید ہے کہ جہاں بھارت کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور افغان حکومت کو اپنی حکومت بچانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں وہیں پر ان بے وقوفوں کو بھی سمجھ آجائے گی کہ وہ کن ہاتھوں میں کھیلتے رہے ہیں۔ پاکستان آج بھی کوشش میں ہے کہ افغان عوام کا کم سے کم نقصان ہو کیوں کہ افغانی ہمارے بھائی ہیں اور ہم آج بھی انھیں امن و سکون سے دیکھنا چاہتے ہیں لیکن بھارت کی کوشش ہے کہ وہ افغانی خفیہ ایجنسی کے ذریعے نہ صرف افغانستان میں جما رہے بلکہ پاکستان میں بدامنی پھیلاے ۔ بھارت یاد رکھے کہ پاکستانی عوام نہ صرف جاگ رہی ہے بلکہ افغانستان میں ہورہے واقعات پر گہری نظر رکھے معاملات کو سمجھ بھی رہی ہے ۔ ایسے میں اگر بھارت باز نہیں آتا تو اسے نکیل ڈالنے میں کوئی تردد نہ ہوگا ۔

  • آزادی اظہار رائے. تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    آزادی اظہار رائے. تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو سوچنے، سمجھنے اور غور و فکر کی صلاحیت دی ہے۔ اور جب انسان غور و فکر کرتا ہے تو مختلف قسم کے خیالات جنم لیتے ہیں اور اُن خیالات کا اظہار بھی ایک فطری امر ہے۔ اس لیے اظہارِ رائے کی آزادی شاید انسان کا بنیادی حق ہے۔

    یہ ضروری نہیں کہ انسان اپنے خیالات کا اظہار صرف زبان کے ذریعے کرے، بلکہ انسان کا لباس، اُسکا رہن سہن کا طریقہ، اُسکا عمومی رویہ، معاشرتی برتاؤ اور احساس زمہ داری سب اظہار کرنے کے طریقے ہیں۔

    ہر انسان فطری طور پر آزاد نظریات کا حامل ہوتا ہے۔ کوئی بھی دوسرا شخص آپ پر اپنے خیالات اور نظریات تھوپ نہیں سکتا، اسی طرح ہم بھی کسی پر اپنے نظریات نہیں تھوپ سکتے۔ آزادی ایک فطری عمل ہے اور انسان کا بنیادی حق بھی۔

    لیکن آزادی کیسی بھی ہو اِسکی کچھ حدود ضرور ہوتی ہیں، مذہبی حدود، قومی حدود، معاشرتی حدود اور اخلاقی حدود وغیرہ۔ یہ سب حدود کسی بھی مہذب معاشرے میں امن و امان، انصاف اور خوشگوار ماحول کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔

    معاشرے کا ہر فرد چاہتا ہے کہ کوئی اُسکی زندگی یا آزادی میں عمل دخل نہ دے، لیکن جب کوئی اپنی حد سے تجاوز کرتا ہے تو دوسرے افراد بھی متاثر ہوتے ہیں اور کسی نہ کسی کو عمل دخل دینا پڑتا ہے، اس طرح معاشرے میں نہ صرف اختلافات جنم لیتے ہیں بلکہ اُن میں ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت بھی آتی ہے۔

    آج ہمارا معاشرہ جس اخلاقی زوال کا شکار ہے اسکی وجہ سے ہم نے اظہارِ رائے کے بنیادی حق کو بھی متنازعہ بنا دیا ہے۔ اسے منافقت کہیں یا دوغلا پن لیکن ہم لوگ اپنے لیے تو ہر طرح کی آزادی چاہتے ہیں لیکن دوسروں کی آزادی ہمیں قبول نہیں، ہم دوسروں پر تو تنقید کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں لیکن خود پر تنقید قبول نہیں، ہمیں اپنا جھوٹ تو قبول ہے لیکن کوئی اِسکی تصحیح کرے، یہ قبول نہیں۔

    لباس انسان کی سوچ اور نظریات کی عقاسی کرتا ہے، اور ہر انسان اپنی پسند کے مطابق لباس کا انتخاب کرتا ہے۔ کوئی کسی کو اپنی مرضی کا لباس پہننے پر مجبور نہیں کر سکتا نہ ہی کسی کو اپنی مرضی کا لباس پہننے سے روک سکتا ہے۔ البتہ مذہب اور معاشرہ لباس کے انتخاب کے لیے کچھ حدود ضرور متعین کرتا ہے جو کہ انسانوں کی ہی فلاح کے لیے ہیں۔

    کُچھ عرصے سے لبرلز کے ایک گروپ کی جانب سے وزیرِ اعظم عمران خان کی اہلیہ کو اُن کے پردے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، لیکن جب عمران خان نے ایک انٹرویو میں فحش اور نا مناسب لباس اور اسکے معاشرے پر ہونے والے اثرات کی بات کی تو ان لوگوں نے سب سے زیادہ شور بھی مچایا۔

    یہ منافقت ہی تو ہے کہ آپ خود تو مذہب یا معاشرے کی حدود کو پامال کرتے ہوئے اپنی سوچ کے مطابق لباس کا انتخاب کرنے کو اپنا حق سمجھیں اور پہنیں، لیکن کوئی دوسرا اگر مذہب کی حدود میں رہتے ہوئے کوئی لباس منتخب کرے تو آپ اُسکا مذاق اڑائیں اور تنقید کریں۔

    آزادی اظہار رائے یہ تو نہیں کہتی کہ آپ خود تو دوسروں کے پہناوے پر تنقید کرنا اپنا حق سمجھیں لیکن اگر کوئی دوسرا آپ کے پہناوے پر بات کرے تو کہہ دیں کہ کسی کو آپ کے لباس کے متعلق بات کرنے کا کوئی حق نہیں۔

    کچھ روز قبل ایک خاتون وکیل اور فیمینسٹ نے ایک خاتون جرنلسٹ پر دوغلے پن کا الزام لگایا، اس الزام کی وجہ یہ تھی کہ خاتون صحافی نے ہم ٹی وی کے ایک پروگرام میں بطور مہمان شرکت کی تھی جس کی میزبانی ایک مشہور زمانہ سنگر کر رہے تھے۔

    اُس سنگر پر کُچھ عرصہ قبل ایک خاتون اداکارہ کی طرف سے ہراسمنٹ کا الزام لگایا گیا تھا، جو کہ بعد میں ثابت نہ کیا جا سکا۔

    لیکن حال ہی میں وہی فیمینسٹ بطور وکیل، ایک خاتون صحافی کے ایک یو ٹیوبر پر کیے گئے ہراسمنٹ کیس میں اُس یو ٹیوبر کی طرف سے کیس لڑ رہی ہیں۔ خاتون وکیل کے موکل نے ایک خاتون صحافی کو ہراس کرنے کے ساتھ گھٹیا قسم کے الزام بھی لگائے تھے۔

    یہ اخلاقی منافقت کی ایک اور مثال ہے۔ ایک طرف آپ کسی پر اس بات کی وجہ سے تنقید کریں کہ اس نے ایک ایسے شو میں شرکت کی جہاں ایک ملزم میزبانی کر رہا تھا، دوسری طرف آپ اُس شخص کی وکالت کریں جس پر خاتون کی ہراسمنٹ کرنے کا کیس چل رہا ہے، اور تیسری طرف آپ خواتین کی ہراسمنٹ کے خلاف آواز اٹھانے کا ڈھونگ کریں۔
    (یاد رہے پہلے بھی اسلام آباد کی ایک عدالت نے جھوٹے الزامات لگانے کے ایک کیس میں اُس یو ٹیوبر کو 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔)

    لبرلز کا ایک گروپ، جو بات تو خواتین کے حقوق کی کرتا ہے لیکن حمایت صرف اُن کی کرتا ہے جن کے خیالات انکے نظریات کے مطابق ہوں، جن کے خیالات انکے نظریے سے مطابقت نہیں رکھتے اُن پر صرف تنقید کی جاتی ہے۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ بات کرنے کی آزادی صرف انکو ہے، کسی دوسرے کو کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ اِنکے خیالات سے اختلاف کرے۔ ان کے کسی ساتھی سے اگر کوئی بدتمیزی یا اختلاف کرے تو یہ لوگ آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں، لیکن اگر انکا ساتھی کسی کے ساتھ بدتمیزی بھی کرے تو وہ قصور وار نہیں سمجھا جاتا۔

    اس سب کے علاوہ آجکل ہماری صحافت کے حالات بھی کچھ نازک ہی ہیں۔ ایک طرف سکرین پر بیٹھ کر نہ صرف حکومت اور فوج پر بلکہ ریاست پر بھی تنقید کی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف آزادی اظہارِ رائے پر پابندیوں کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔

    صحافی حضرات ذرائع کے نام پر بغیر تصدیق کے خبریں شیئر کرتے ہیں، اور اگر کوئی ادارہ ذرائع کا پوچھ لے تو دھمکیاں دینا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر کسی خبر کی تردید کر دی جائے تو انکی صحافت کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے، اور یہ تصیح کرنے والوں پر ہراسمنٹ کا الزام لگا دیتے ہیں۔

    اگر کسی صحافی کی گاڑی کا ٹائر بھی پنکچر ہو جائے تو الزام فوج یا اداروں پر لگا دیا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایک ایکٹوسٹ شمالی علاقوں میں سیر کرنے گیا، کچھ صحافیوں نے رابطہ نہ ہونے پر الزام لگا دیا کہ اُسے ایجنسیوں نے اٹھا لیا ہے، لیکن اُس ایکٹوسٹ کی واپسی کے بعد حقیقت سامنے آنے پر کسی نے معذرت تک نہ کی۔
    حال ہی میں ایک یوٹیوبر کی کچھ لوگوں نے پٹائی کی لیکن موصوف نے بیان دیا کہ اسے آئی ایس آئی نے مارا ہے اور مزید کہا کہ مارنے والوں نے مار پیٹ کرنے سے پہلے اپنا تعلق خفیہ ایجنسی سے بتایا تھا۔
    اس واقعہ پر فوج پر خوب تنقید کی گئی، لیکن اس شخص کے قریبی دوست نے اپنی سٹوری میں کہا کہ یہ حملہ ایک دوسرے صحافی نے کروایا ہے۔
    اس طرح ہمارے ایک اور پیارے صحافی جن پر کچھ سال قبل حملہ ہوا تھا، ہمیشہ اُس حملے کا الزام فوج پر لگاتے آئے ہیں، حال ہی میں یہ عقدہ کھلا کہ اُن صحافی صاحب کو بہت پہلے ہی اصل مجرم کا بتا دیا گیا تھا جس کو وہ نہ صرف ہمیشہ چھپاتے رہے بلکہ الزام خفیہ اداروں پر لگاتے رہے۔ لیکن پھر بھی ہمارا شکوہ یہی ہے کہ ہمیں کام کرنے کی آزادی نہیں دی جا رہی۔

    حال ہی میں میڈیا پر ایک شور بھرپا ہوا کہ پاکستان امریکہ کو فوجی اڈے دے رہا ہے۔ جس کی حکومت کی طرف سے تردید کی گئی۔ ایک انٹرویو میں جب عمران خان سے یہی سوال پوچھا گیا تو انہوں نے واضح الفاظ میں بتایا کہ پاکستان امریکہ کو اپنی سرزمین استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔ اس تردید کے بعد جن لوگوں نے فوجی اڈے دینے کی بات پر واویلہ کیا تھا، وہ اب اس بات پر واویلہ کر رہے ہیں کہ جب امریکہ نے پاکستان سے فوجی اڈے مانگے ہی نہیں تو حکومت انکار کس کو اور کیوں کر رہی ہے۔

    یہ بھی ایک منافقت ہے کہ ہم صحافی حکومت یا اداروں پر تنقید کرنا اور گالیاں دینا تو اپنا حق سمجھتے ہیں، لیکن اگر کوئی ہم پر تنقید کرے تو اس پر ٹرول کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔

    کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے جہاں اظہار رائے کی آزادی کا دفاع کیا وہاں یہ بھی کہا کہ یہ کسی حدود کے بغیر نہیں ہونی چاہیے اور اس سے مخصوص برادریوں کی جب دل چاہے اور بلاوجہ دل آزاری نہیں ہونی چاہیے۔

    آزادی اظہار رائے کسی حدود کے بغیر نہیں ہوسکتی، ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر ہمیں بولنے کا حق ہے تو دوسروں کو بھی بولنے کا حق ہے، اور ہم اظہارِ رائے کی ایسی آزادی کے متحمل نہیں ہو سکتے جس سے ہمارے وطن کی سالمیت اور معاشرتی اقدار متاثر ہوتی ہو۔

  • کراچی کی بجلی آ نہیں رہی بجلی جا رہی ہے . تحریر:عقیل احمد راجپوت

    کراچی کی بجلی آ نہیں رہی بجلی جا رہی ہے . تحریر:عقیل احمد راجپوت

    کراچی شہر میں الیکٹریسٹی ایک معمہ بن گئی ہے کراچی والوں کے لئے روز بدلتے ہوئے تجزیات کا تھوڑا سا احوال سننے کی ہمت کریں
    پہلے لائٹ گئی تو ایمرجنسی نکالوں کی سدا لگائی جاتی تھی پھر حالات بدلے ایمرجنسی کی جگہ یو پی ایس نے لے لیں لیکن بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے حالات اپڈیٹ ہونے کے بجائے مزید بدصورت ہوتے گئے اس کے بعد کراچی کے گھروں میں جگہ بنائی جنریٹرز نے جو اپنی سریلی آواز سے پورے محلوں کو راگ بھیروی سناتے سناتے بیچ بیچ میں پٹاخوں کی آواز نکال کر شادی اور شب رات کی بھی یاد دلوایا کرتے تھے زندگی چلتی رہی بجلی گھٹتی رہی اور پھر دور آیا ہو پی ایس سے انویسٹرز کا ڈرائی بیٹریوں نے گھر کو رونقیں بخشی اور گھر میں نئی وائرنگ کے زریعے پنکھے اور ایل ای ڈی بلب الگ سے لگوائے گئے جو لائٹ آنے پر جی بلکل درست سنا لائٹ آنے پر بند کئے جاتے ہیں مگر بجلی تقسیم کرنے والے اب بھی پرانے انجنوں کو رپئیر کرکے کراچی کا جوس نکال رہے ہیں اور کراچی ہے کے اس کا جوس ختم ہی نہیں ہوتا تاکہ جوس نکالنے والوں سے اس کی جان چھوٹ جائے اب ہے 2020 فاسٹ ہوتی اس ڈیجیٹل دنیا میں جدت اور تیزی اس قدر بھڑ چکی ہے کے اب آیا ہے دور سولر انرجی کا جو بلکل فری تو ہے مگر اس کو بنانے کے آلات بہت مہنگے ہونے کی وجہ سے ہر ایک کی دسترس میں نہیں

    کراچی کی آبادکاری اور مردم شماری کو دیکھا جائے تو اس میں مرغی اور گائے کے برابر فرق ہے یہ اس لئے لکھا ہے کہ قربانی کا مہینہ ہے آپ تمام مسلمانوں کو عید الضحیٰ اور حج کی پیشگی مبارکباد پیش کرتا ہوں اچھا تو کراچی پر پھر سے آجائیں بہت بڑا ظلم ہے کہ کراچی کی ابادی کو 1.5 کروڑ دکھایا گیا جو کسی بھی طرح 3.0کروڑ سے کم نہیں مگر چلیں کراچی کا ایک عام سا شہری اپنی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پریشانیوں کا حل ڈھونڈا گیا مگر اس شہر کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کو اپنے جنریشن گیپ اور سازوں سامان میں اپگریڈ کرنے کی عقل کیوں نہیں آئی کراچی کی بیشتر سوسائٹی اور فلیٹس کراچی شہر کے بجلی تقسیم کار ادارے کے عین سسٹم میں ہونے کے باوجود سیلف پیمنٹ پر اپنی پی ایم ٹی پرچیز کرکے لگانے پر مجبور ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں کراچی میں آباد علاقوں کا سسٹم ڈالنا بجلی تقسیم کرنے والے ادارے کے معاہدے میں لکھا گیا ہے مگر پھر بھی اپنی بجلی اس ادارے سے خریدنے پر مجبور ہیں کراچی کے لوگ مرتے ہیں بل بھرتے ہیں مگر پتہ نہیں کونسی آسمانی بجلی گرنے کے انتظار میں ہیں کہ وہ گرے تو یہ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں اب سوچ رہے ہونگے کہ میں نے اس بجلی تقسیم کرنے والے ادارے کا نام کیوں نہیں لیا اس تحریر میں تو وجہ یہ ہے کہ یہ اداراہ اپنے ساتھ کراچی لگانے کا مستحق ہی نہیں اس لئے میں کراچی کے شہری ہونے کے ناطے اس کو کراچی کا ادارہ مانتا ہی نہیں یہ ایک بھتہ خوروں کا گروپ ہے جو کراچی سے غیر قانونی بھتہ وصول کررہا ہے اور اس کو روکنے کے لئے کوئی وفاقی اور صوبائی حکومت تیار نہیں ہم کراچی والوں کی نظر اب چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور جیف جسٹس آف پاکستان پر لگیں ہیں شائد ان کو کراچی کی عوام پر مسلط اس بھتہ خوری سے نجات دلانے کی خاطر کوئی اقدام ہوسکے تو ہو ورنہ کراچی والوں کی پانی سیوریج ٹرانسپورٹ روڈ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اور دیگر اور ضرورت زندگی کی چیزوں کا کس کو خیال ہے جو کراچی میں گرمی میں اس بجلی کی 10سے 12 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کے نام پر بھتے سے ہوگا

  • ٹک ٹاک سنیپ چیٹ اور نوجوان نسل .تحریر: ڈاکٹر نبیل چوہدری

    ٹک ٹاک سنیپ چیٹ اور نوجوان نسل .تحریر: ڈاکٹر نبیل چوہدری

    ٹک ٹاک سنیپ چیٹ ایک ایپ ہے، جو آج کل پاکستانی نوجوانوں اور بچوں میں بہت مقبول ہورہی۔ بچے اس کو مفت ڈاؤن لوڈ کرتے اور اس کے بعد ان کی مرضی ہے کہ وہ جو چاہیے اس میں کریں، گانے پر لب ہلائیں یا رقص کریں یا کسی ڈائیلاگ کو بول کر اپنی ویڈیو زریکارڈ کریں یا کسی کی ویڈیو پر جوابی ویڈیو بنائیں۔ دوسری طرف ان بچوں کے والدین کو پتا بھی نہیں ہوتا کہ ان کے بچے کس خرافات میں پڑھ چکے۔ آج کل کے ماں باپ بچوں کی ضد کے آگے ہار جاتے، انہیں موبائل خرید دیتے ہیں، ٹیب، لیپ ٹاپ و دیگر الیکٹرانک گیجٹس بچوں کے پاس موجود ہیں اور ان کے گھروں میں 24 گھنٹے انٹر نیٹ چل رہا ہوتا ہے۔ بچے اپنے کمروں میں کیا کررہے؟ ان کے اکثروالدین کو معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ اکثر بچوں کے ماں باپ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ وغیرہ استعمال نہیں کرتے اس بات کا فائدہ بچے اٹھاتے اور وہ اپنی من مانی کرنا شروع کردیتے اور ان چیزوں کی طرف چلے جاتے، جو آگے چل کر ان کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتی۔

    ان ایپس پر بچے بچیاں تیار ہوکر کسی گانے پر رقص کرتے اس کو اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر پوسٹ کرتے ، تو اس پر ایسے ایسے کمنٹس آتے کہ اگر بچوں کے والدین اس کو پڑھ لیں تو ان کو پھر کبھی موبائل استعمال نہ کرنے دیں۔ ٹک ٹاک پر کوئی بچوں کے حسن کو سراہتا، تو کوئی ان کو اپنا فون نمبر دے رہا ہوتا، کوئی ان کو اپنے ساتھ گھومنے پھرنے کی پیشکش کررہا ہوتا۔ یوں ان ایپس پر بچے اجنبیوں کے ساتھ رابطے میں آجاتے۔ پہلے تو سب اچھا اچھا رہتا ہے، کیونکہ یہ اجنبی بچوں کو پیسے اور تحفے دیگراپنے قریب لے آتے، بعد میں یہ جرائم پیشہ افراد، بچوں کو پھانس لیتے اوران کو بلیک میل کرتے۔ ان کی ویڈیوز تصاویر بنا کر پیسوں کی ڈیمانڈ کرتے۔ یوں بچے اپنے ہی گھر میں چوریاں کرنے پر مجبور ہوجاتے۔ کچھ کیسز میں بچے جنسی تشدد کاشکار بھی ہوجاتے اور بات خود کشی تک پہنچ جاتی۔ اس حوالے سے جب تک ماں باپ کی آنکھیں کھلتی، تب تک ان کے بچے کی زندگی تباہ ہوچکی ہوتی ہے۔

    میں قدامت پسند نہیں، آرٹ و کلچر کو پسند کرتا ہوں، لیکن آپ سے سوال کہ کیا آپ پسند کریں گے کہ کوئی بھی معصوم بچہ اور بچی سڑک پر رقص کرے اور لوگ اس پر ذومعنی جملے کسیں؟ اس کو مختلف نا زیبا پیشکشیں کریں؟ ہرگز نہیں، کسی کی بھی خواہش نہیں ہو سکتی کہ اس کا بچہ پڑھنے لکھنے کے بعد اپنے لئے کسی ایسے نامناسب شعبے کا انتخاب کرے، اگر بچہ آرٹ و کلچر، رقص یا شوبز میں بھی آنا چاہتا ہوتو بالغ ہونے کے بعد آئے۔ اس سے پہلے والدین اس کو تعلیم پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے کہتے۔ اب، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کم عمر بچے بچیوں کی بہت بڑی تعداد ان ایپس پر موجود ہے، جو اپنی معصومیت یا شوبز کی چکا چوند سے متاثر ہوکر یہاں آتے اور جب وہ اپنی ویڈیوز اپ لوڈ کرتے ہیں تو وہ پبلک کے ہاتھ لگ جاتی ہیں۔ اب، یہ ان کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ ان کی ویڈیوز کا استعمال کس طرح سے کرتے۔ معصوم بچے بچیوں کی ویڈیوز مختلف فورمز پر فحش کیپشنز کے ساتھ پھیلا دی جاتی، ان کو گالیاں دی جاتی ہیں، ان کی کردار کشی کی جاتی۔ یوں بہت سے بچے سوشل میڈیا پر منفی مہم کا نشانہ بن جاتے

    فالورز کی تعداد بڑھانے کی خواھش، ہیرویا ہیروین بننے کی چاھت، بچوں کے مستقبل کو تباہ کردیتی۔ وہ سارا دن فون استعمال کرتے رہتے اور نہ کھاتے پیتے، نہ آرام کرتے اور نہ ہی اپنی پڑھائی پر بھرپور توجہ دیتے۔ والدین شروع میں اس ایپ کے نقصانات سمجھ نھیں پاتے، لیکن جب ان کے بچوں کی ویڈیوز منفی انداز میں پھیل کر فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر ہر شخص کے پاس پہنچ جاتی، تو ان کو اندازہ ہوتا کہ ان کابچہ کتنی بڑی مصیبت میں پھنس چکا

    ان ایپلیکیشنز پر ایک اور طبقہ بھی پایا جاتا، جو اپنے نمبرز ویڈیوز ساتھ پوسٹ کرتا۔ پہلے یہ کام رات کے اندھیروں میں ہوتا۔ اب، کھلے عام گاہک ٹک ٹاک کے ذریعے سے ان لوگوں تک پہنچ جاتے لڑکے لڑکیاں جان بوجھ کر اپنے جسموں کی نمائش کرتے، تاکہ پیسے کماسکیں۔ یہ ایک بہت گھٹیا عمل جس سے فحاشی و عریانی مزید پھیل رہی اس کے ساتھ ساتھ یہ ویڈیوز دوسری سوشل میڈیا ایپلیکیشن پر پہنچتی اور یہ یوں یہ برائی مزید پھیلتی۔ ہمیں اس برائی کو روکنا ہوگا، لیکن یہ دیکھا گیاہے کہ بہت سے متنازع کرداروں کی رسائی تو طاقت کے ایوانوں تک ہے۔ اس میں دو ٹک ٹاکرز نے مبینہ طور پر معروف افراد کو بدنام کیا۔

    یاد رکھیں فحش گوئی ذومعنی جملے جسم کی نمائش آرٹ اور کلچر میں نہیں آتا۔ ہمیں اس وقت ڈراما سیریلز؛ ایلفا براوو چارلی، سنہرے دن، دھواں، خدا زمین سے گیا نہیں ہے، عہد وفا اور فصلِ جاں سے آگے جیسے معلوماتی و تفریحی ڈراموں کی ضرورت ہے۔ جو کچھ ٹک ٹاک پر ہورہا ہے، وہ فن و ثقافت اور تفریح کے زمرے میں نہیں آتا۔ اس آرٹیکل کے لیے جب میں نے ٹک ٹاک سنیپ چیٹ پر ریسرچ کی تو سر شرم سے جھک گیا کہ ہماری نوجوان نسل چھوٹے کپڑوں ذومعنی گفتگو اور ہیجان آمیز گانوں پر رقص کررہی یہ نئی نسل اسلامی تعلیمات اور نظریہ ٔپاکستان سے بہت دور جاچکی ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ ہمیں نئی نسل کو پاکستان کی ثقافت اور مذہب کے حوالے سے آگہی دینا ہوگی۔

    بچوں اور نئی نسل کیلئے ڈرامے اور فلمیں بنائی جائیں۔ ان کیلئے یوٹیوب، انسٹاگرام، ٹویٹر فیس بک پر تہذیب و اصلاح پر مبنی ڈاکیومینٹریز ویڈیوز نشر کی جائیں اور یہ کام وزراتِ اطلاعات و نشریات، پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان بخوبی کرسکتے ہیں اور امید ھے فواد چوھدری اس پر عمل ضرور با ضرور کرینگے ان ایپلیکیشنز کو بین کرنا مسئلے کا حل نھیں انکو ریگولیٹ کرنا ان میں جو خرافات ھیں انکو دور کرنا ضروری ھی نھیں مجبوری بن چکا

  • افغانستان اور عالمی طاقتیں . تحریر : ارشد محمود

    افغانستان اور عالمی طاقتیں . تحریر : ارشد محمود

    اگر میں کہوں کہ افغانستان عالمی طاقتوں کا قبرستان ہے تو بے جا نہ ہوگا ۔ روس اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ حملہ آور ہوا اور سر دھڑ کی بازی لگا کر بھی کامیاب ہونے میں ناکام رہا ہے ۔ امریکا آیا اور پوری دنیا کی ٹیکنالوجی کے ساتھ افغانیوں پر بم گرائے ۔ مختلف حیلوں بہانوں ، دھمکیوں اور لالچ سے دنیا کے تقریباً سبھی ممالک کو ساتھ ملا کر طالبان کو الگ کردیا ۔ امریکا مکمل ناکام نہیں ہوا تو کام یاب نہیں ہوپایا ۔ ان بیس سالوں میں جہاں افغانیوں کو لاتعداد نقصان ہوا ہے وہی پر امریکا کا اس قدر نقصان ہوچکا ہے کہ اس نے بھاگنے میں ہی عافیت سمجھی ہے ۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لمبے لمبے دور چلتے رہے اور بخیر و عافیت نکلنے کے راستے امریکا تلاش کرتا رہا ۔
    ایسے میں بھارت بھی اپنے مذموم مقاصد کو لے کر امریکا کے ساتھ آکھڑا ہوا اور پاکستان کے خلاف افغانی زمین کو استعمال کرتا رہا ۔ اربوں روپیہ افغانی زمین پر بھارت سرکار نے لگایا اور اپنے قدم جمانے لگا ۔ بھارت کے خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ امریکا کو اس طرح سے بھاگنا پڑے گا ۔ امریکا کے انخلا کے بعد بھارت جیسے ممالک افغانستان میں ٹک نہیں سکتے ۔ طالبان جس تیزی سے افغانستان کی زمین پر قابض ہورہے ہیں یہ ظاہر کرتا ہے کہ جلد وہ کابل پر بھی قابض ہوں گے۔ کابل پر قابض ہونے کا مطلب پورے افغانستان پر قابض ہونا ہے ۔ ہر ایسے عنصر پر طالبان کی نظر ہوگی اور ان کے نشانے پر ہوگا جو گھناونے عزائم لے کر افغانستان کی سر زمین پر حملہ آور ہوا تھا ۔ بھارت بھی اپنا بوریا بستر سمیٹ کر بھاگ رہا ہے لیکن اس بھاگنے کے ساتھ ساتھ وہ سازشوں میں بھی مصروف عمل ہے اور ڈبل گیم کھیل کر افغان انتظامیہ کو مزید مشکلات میں مبتلا کررہا ہے ۔

    اس وقت افغانستان میں بھارت کی حالت یہ ہے کہ قندھار سے اس کا تمام سفارتی عملہ اور را کے تمام ایجنٹ فرار ہوچکے ہیں اور قندھار میں واقع قونصل خانہ بند کردیا گیا ہے ۔ بھارت قندھار سے اپنے عملے کے نکالے جانے کی تصدیق تو کررہا ہے لیکن قونصل خانہ بند کرنے کی تردید کی گئی ہے ۔ اگر افغانستان میں بھارتی قونصل خانہ بند ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ بھارت افغانستان کے معاملات سے مکمل طور پر باہر ہوگا ۔ اسی لیے بھارت ڈبل گیم کھیل کر طالبان اور افغان حکومت کو باہمی لڑوانے کے چکروں میں ہے ۔

    عالمی طاقتیں جو افغان امن عمل میں براہ راست شامل ہیں وہ بھی بھارت کے عزائم سے بخوبی واقف ہیں اور فی الوقت دیکھ رہے کہ بھارت کیا کررہا ہے ۔ بھارت کو یہ بھی معلوم ہے کہ اگر اس کی موجودہ گیم ناکام ہوتی ہے تو طالبان کا اگلا ہدف کشمیر ہوگا اور بھارت کے وہ علاقے ہوں گے جن پر بھارت نے قبضہ کیا ہوا ہے ۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ طالبان نے اگر بھارتی چالوں سے تنگ آکر امریکا سے کیا گیا معاہدہ توڑ دیا تو امریکا بھارت سے سختی سے نمٹنے پر مجبور ہوگا کیوں کہ امریکا کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ وہ اپنے فوجیوں کو مزید مروائے۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کو کردار ادا کرنا ہوگا کیوں کہ اگر افغان امن عمل خراب ہوتا ہے تو اس کی تپش صرف پاکستان اور افغانستان تک نہیں رہ گی بلکہ اس بار اس کی تپش کے ساتھ اس کے شعلے واشگٹن، لندن اور پیرس سمیت دیگر مغربی ممالک کے بڑے شہروں تک پہنچیں گے ۔

  • جہیز ، عدالت کا نیا حکم اور ہمارا معاشرہ .تحریر:عینی سحر

    جہیز ، عدالت کا نیا حکم اور ہمارا معاشرہ .تحریر:عینی سحر

    بچپن سے سنتے چلے آرہے ہیں جہیز ایک لعنت ہے لیکن اس لعنت سے چھٹکارا کسی بھی دور میں نہیں پایا جاسکا _ معاشرے میں جڑ پکڑ جانے والے اس رواج میں طبقہ ہاۓ زندگی کے ہر طبقے کو جکڑ رکھا ہے _ خواہ امیر لوگوں کا طبقہ ہو متوسط یا غریب ہر کوئی اپنی حیثت سے اس رواج کو زندہ رکھے ہوئے ہے _ امیروں کو شادی کے موقع پر جہیز کی صورت میں اپنی دولت کی نمائش کرنے اور دوسروں پر دولت کے بل بوتے پر دھاک بٹھانے کا ایک موقع مل جاتا ہے جس میں وہ کروڑوں کے گھر سے لیکر گاڑیوں سونے چاندی کے جہیز کے تحائف سے خوب نمائش کر پاتے ہیں _ عام طور پر ہمارے معاشرے میں اس نمائش کا اثر یہ ہوتا ہے کے اکثر لوگ مرعوب ہو جاتے ہیں اور یہ خواہش رکھتے ہیں کے خود بھی کچھ ایسا کرسکیں _

    دوسری جانب امیروں میں یہ دوڑ زور پکڑتی ہے اگر فلاں اتنا کرسکتا ہے تو میں اس سے بھی بڑھ کر دکھاؤں گا _ یہی دکھانے کی دوڑ معاشرے میں موجود متوسط اور غریب طبقے کو پیچھے چھوڑتے ہوۓ مزید بے بس بناتی ہے _ جہیز کا بوجھ ہر شخص نہیں اٹھا پاتا اور کچھ لوگ دوسروں کی دیکھا دیکھی جب بیٹے کا رشتہ طے کرتے ہیں تو ہونے والی بہو کے گھرانےسے بھی ایسی ہی توقع رکھتے ہیں _ کچھ لگی لپٹی باتوں سے اظہار کر دیتے ہیں تو کچھ کھل کر مطالبے کرتے ہیں اس احساس کے بغیر کے لڑکی کے والدین خواہ ان مطالبوں کو پورا کرسکیں یا نہیں

    جہیز کے اسی زور پکڑتے مطالبوں نے بہت سی جوان بچیوں کی شادیوں کو تاخیر میں ڈال رکھا ہے _ لڑکی کے والدین کیلئے محض جہیز کا بندوبست کرنا ہی نہیں شادی کا کھانے اور ہونے والی رسموں کا بھی خرچ اٹھانا ہوتا ہے جو کے مہنگائی کے اس دور میں کافی دشوار ہے _

    اتنی جدوجہد اور محنت کے بعد بھی جب غریب آدمی بیٹی کی شادی کا فریضہ ادا کر دیتا ہے تو پھر بھی اسکی بیٹی کو سسرال میں کم جہیز لانے کے طعنے اور کوسنے سننا پڑتے ہیں _ یہ ہمارا معاشرتی المیہ ہے _ کیوں کے کچھ لوگوں کی لالچی ذہنیت کسی کی بیٹی کی زندگی اجیرن بنا سکتی ہے _

    اگر جہیز دیکر بھی والدین اپنی بیٹیوں کی خوشیوں کی ضمانت حاصل کر سکیں تو بھی کافی ہوتا لیکن اسکے باوجود جہیز کے نامہ پر والدین کو لوٹنے کا سلسلہ جاری ہے _ افسوسناک پہلو یہ ہے کے کئی خواتین کی شادی کے بعد علیحدگی اور طلاق کے بعد انکے جہیز پر سسرال کا قبضہ رہتا ہے_ جو کے حقیقت میں ان خواتین کا حق ہے جو انھیں واپس دے دیا جانا چاہئیے _

    ایسی صورتحال میں چند خواتین نے عدالت سے مدد کیلئے رجوع کیا جب انھیں طلاق دے دی گئی تو جہیز واپس نہیں کیا جارہا _ مختلف مقدمات میں جہیز میں خریدے جانے والے سامان کی رسیدیں بھی عدالت میں پیش کی گئیں لیکن سسرال والے ان چیزوں کی موجودگی سے انکاری رہے اور نہ ہی انکو واپس کرنے کو تیار تھے _

    ٹوٹتے گھر کی بربادی ہی کافی نہ ہو بلکے اوپر سے دیا جانے والا جہیز بھی سسرال والے اینٹھ لیں تو یہ مظلوم پر مزید ظلم ہے _

    ایسے میں کئی مقدمات میں یہ شکایت عدالت تک پہنچائی گئی کے عدالتی حکم کے باوجود جہیز کا کافی سامان واپس نہیں کیا گیا _ مشکل یہ ہے کے جہیز کے اس سامان کو دیا جانا ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے _

    ایسے بڑھتے ہوۓ واقعات نے عدالت کو اس مسلے کے حل کرنے کیلئے اقدام کرنے پر مجبور کردیا ہے _ لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کو اب حکم دیا ہے کے وہ نکاح ناموں میں اضافی خانوں کا اندراج کرے جہاں جہیز کی تفصیل درج کی جاسکے _ ایسے میں ہر چیز نکاح نامے میں لکھ دی جاۓ کے جہیز کے نام پر کیا دیا گیا_ نکاح ایک باہمی معاہدہ ہے اور اس پر جہیز کی تفصیل کا اندراج خواتین کو مستقبل میں تحفظ دے گا کے خدا نخواستہ اگر

    انکی شادی ناکام ہوتی ہے تو انکو دئیے جانے والے جہیز کا اندراج اس بات کو یقینی بناۓ گا کے سسرال کو وہ درج اشیاء واپس دینا ہونگیں _ لہٰذا یہ سب تحریری شکل میں محفوظ ہوگا _ ایسی صورت میں سسرال والے انکار یا جہیز کی واپسی میں حیل وحجت نہیں کرسکیں گے

    لاہور عدالت کے اس فیصلے سے نجی مقدمات کو تیزی سے نبھٹانے اور حقدار کو اسکا حق واپس دلانے میں مدد ملے گی _

    ہم میں سے ہر ایک کو جہیز کی اس لعنت کو ختم کرنے میں کردار ادا کرنا چاہئیے تاکے جہیز کے نام پر جوان لڑکیاں شادی کے انتظار میں بوڑھی نہ ہوں اور بیٹیوں کے والدین پر کسی قسم کا بوجھ نہ ڈالا جاۓ _

    ہمارے سامنے نبی پاک ﷺ کی ہے جنہوں نے اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہہ کو چند ایک ضروری استعمال کی چیزوں کے سوا دنیاوی سامان نہ دیا بلکے اپنی بیٹی کو بہترین تربیت علم اور اخلاق سے مزین کیا _ یہی وہ بہترین تحفہ ہے جو والدین اپنی اولاد کو دے سکتے ہیں _

    بیٹیوں کی دی جانے والے تعلیم ، ہنر ، تربیت اور اخلاق ہی وہ دولت ہے جو تمام عمر انکے ساتھ رہے گی جبکے جہیز کے نام پر ملنے والا مال و اسباب ناپائیدار ہے جو ہمیشہ ساتھ نہیں رہ سکتا _

  • عام سی دنیا اور خصوصی بچے . تحریر:ڈاکٹر نبیل چوہدری

    عام سی دنیا اور خصوصی بچے . تحریر:ڈاکٹر نبیل چوہدری

    ان کے گھر بچے کی پیدائش ہوئی، بہت پیارا صحت مند بیٹا۔اس کا نام ذیشان رکھا گیا، لیکن چند ہی دن بعد ایسا محسوس ہوا کہ بچے کے جسم کا ایک حصہ دوسرے حصے سے چھوٹا اوروہ صحیح طرح حرکت نہیں کر رہا جب اس کو ہسپتال لے گئے تو پتہ چلا کہ بچہ Cerebral Palsy کا شکار ہے۔مدیحہ اور حیات حیران کہ بظاہر بالکل ٹھیک نظر آنے والا بچہ اس بیماری کا شکار کیسے ہوا؟ یہ بیماری میں بچوں کے دماغ کی نشوونما سے روکتی، جس سے اعصاب پر فرق پڑتا ہے بچے چل نہیں سکتے بول نہیں سکتے اور کچھ کیسز میں بات کرنے اورچیزیں سمجھنے سے قاصر ہوتے، یعنی دماغیجسمانی بیماری دونوں ایک ساتھ حملہ کرتی۔ کچھ کیسز میں بچوں کو دورے پڑتے جوکہ بچے کو دماغی اعصابی طور پر مزید کمزور کرتے۔
    یہ خبر ان دونوں کے لیے بہت تکلیف دہ تھی۔ اتنے چھوٹے سے بچے کے ٹیسٹ، اتنی دوائیاں اور ان کا بچہ روتا بھی نہیں تھا کیونکہ بیماری کی وجہ سے اس کے پاس بولنے کی طاقت بھی نھیں تھی۔ جیسے جیسے ذیشان بڑا ہونے لگا تو اس کی معذوری سب کے سامنے آگئی، نا چل سکتا، نا بول سکتا اور چیزیں پکڑ نہیں سکتا ۔ یہاں سے کڑا امتحان شروع ہوا۔ لوگوں نے ان کو طعنے دینا شروع کردیے کہ یہ بچہ ایسا کیوں، تم دونوں نے ضرور کوئی گناہ کیا، لگتا کسی کی بددعا لگ گئی۔ ان کے اپنے خاندان میں گود بھرائی کی تقریب تھی، مدیحہ کو اس لیے رسم نہیں کرنے دی گئی کہ کہیں ان کے جیسا بچہ نا پیدا ہوجائے۔ وہ ساری تقریب میں مجرم کی طرح کھڑی رہی۔ سب اس کو مشکوک نظروں سے دیکھتے تھے۔ لوگ اس کو طعنے دیتے، اس کو کہتے، اور بچے پیدا نہ کرنا تم میں کوئی نقص ہے، جبکہ ایسا نہیں تھا، مدیحہ اور حیات اچھے انسان تھے۔

    بیٹے کی بیماری اور لوگوں کی نفرت نے مدیحہ کو ذہنی مریض بنا دیا، وہ ہر وقت روتی رہتی، تاہم اس کے شوہر نے اس کا بہت ساتھ دیا، وہ بچے کا بھی خیال کرتا اور اس کا بھی دھیان کرتا۔ پھر ایک ماہر نفسیات سے ملنے کے بعد اس کی زندگی میں تبدیلی آئی۔ اُس نے دونوں میاں بیوی کا سمجھایا کہ دماغی اور جسمانی معذوری کے پیچھے طبی وجوہات ہوتی ہیں، یہ کسی بددعا یا جادو ٹونے کا نتیجہ نہیں۔ یہ قسمت میں لکھا تھا کہ آپ دونوں نے دنیا میں جنت کمانی تھی۔ ایک خصوصی بچے کی خدمت اور اس سے پیار کرکے آپ کو جو روحانی سکون ملے گا وہ شاید کسی اور چیز سے میسر نہ آئے۔ نابینا پن، قوت گویائی قوت سماعت سے محروم تو عام انسان بھی ہوسکتا ہے، کچھ حادثات میں انسانوں کا ذہنی توازن بگڑ جاتا ہے اسی صورت میں علاج اور تھراپی سے کوشش کی جاتی ہے کہ انسان کو اس قابل کیا جائے کہ وہ روزمرہ زندگی میں اپنا تھوڑا حصہ ڈال سکے۔ ماہر نفسیات نے ان دونوں کو سنٹر برائے خصوصی اطفال میں بھیج دیا، یہ سرکاری ادارہ تھا، سہولیات تو کم تھیں، لیکن سٹاف بہت اچھا تھا، انہوں نے ذیشان کو مختلف ورزشیں کروائ، فزیو تھراپی کروائی، اس کے لیے خصوصی جوتے بنوائے گئے۔ تھراپی، علاج اور اساتذہ کی وجہ سے ذیشان میں تبدیلی آئی۔ پہلے جو شان ہر وقت بستر پر رہتا تھا، اس نے چیزیں پکڑنا شروع کردیں اور چلنے کی کوشش کرنے لگا۔ دو سال میں شان بیٹھنے اور ہاتھ سے چیزیں کھانے کے قابل ہوگیا۔ مدیحہ اور حیات دونوں مل کر ذیشان کا کام کرتے، تاہم وہ دیکھتے کہ خصوصی بچوں کے لیے نہ ہی پارکس میں جھولے اور نہ ہی ان کیلئے کھلونے بازار میں ملتے ۔ وہ اکثر یہ ناانصافی دیکھ کر اداس ہوجاتے۔ ذیشان کو اپنے سکول میں بہت سے دوست مل گئے، کوئی بول نہیں سکتا تھا، کوئی چل نہیں سکتا تھا، کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا، لیکن سب بہت پیارے۔ یہ بچے تو دنیا کی ہر چیز سے زیادہ معصوم تھے، ایک دوسرے سے کوئی نفرت نہیں تھی، وہاں سب کی مل کی سالگرہیں منائی جاتی۔ بہت سے خاندان ان خصوصی بچوں کی بدولت قریب آگئے۔ حیات کی ٹرانسفر ہوگی، جب دوسرے شہر میں آکرانہوں نے شان کو خصوصی بچوں کے سکول میں داخل کروایا تو وہ یہ سن کر حیران رہ گئے کہ فیس پچاس ہزار روپے ماہانہ تھی، یہ سکول صرف خصوصی بچوں کے والدین کو لوٹنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ ایسے سکول شاید پورے ملک میں بہت جگہ ہوں، لیکن حکومت کی دلچسپی نہیں، شاید خصوصی بچے ان کی ترجیح نہیں۔ مدیحہ نے ذیشان کی ہوم سکولنگ شروع کروادی اور ساتھ ہی ڈاکٹر سے سپیچ تھراپی اور ایکسر سا ئز بھی۔ وقت گزرتا گیا آج شان آٹھ سال کا ہے، وہ خود چل سکتا ہے، اپنے ہاتھ سے کھانا کھاسکتا ہے اور تھوڑا تھوڑا بول لیتا ہے۔ بہت اچھی تصویریں بناتا ہے، سب کہتے ہیں یہ بڑا ہوکر آرٹسٹ بنے گا۔ وہ خصوصی بچوں کیلئے قائم سرکاری سکول میں جاتا ہے، اس کی والدہ خود اس کو لے کر جاتی ہیں، تھراپی، کونسلنگ اور علاج نے اس کو پہلے سے بہت فعال کردیا ہے۔ طبی بنیادوں پر وہ مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہوسکتا، لیکن وہ اب کسی پر بوجھ نہیں ہے۔

    خصوصی ضروریات کی چار اقسام ہیں، وہ جن کو جسمانی مسائل ہوں، جنہیں نشوونما میں مسائل کا سامنا ہو، جن کو جذباتی رویے اور دماغ کے مسائل ہوں اور جس میں کمزوری شامل ہے۔ بچوں میں یہ بیماریاں عام ہیں :Down syndrome، Autism، ADHD، Bipolar disorder، Dystrophy، Epilepsy، Dyslexia، Visually impaired and Blindness۔ ان سے مکمل صحت یاب تو نہیں ہوسکتے، لیکن تھراپی اور ادویات سے جزوی فعال کیا جاسکتا ہے۔ خصوصی بچے اللہ کی نعمت ہیں، جن سے شفقت اور خدمت کرکے ہم جنت کماسکتے ہیں۔ جب بھی کسی خصوصی بچے کو دیکھیں، اس کے والدین سے غیر ضروری سوال نہ کریں۔ والدین کی اجازت سے اس بچے کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھ دیں اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کے والدین کو استقامت دے اور وہ اسی طرح اپنے بچے کا خیال کرتے رہیں۔ خصوصی بچے عذاب نہیں جنت کے پھول ہیں، انہیں پاگل مت کہیں، ان کے والدین کے ساتھ بدتمیزی نہ کریں، ان کو تکلیف نہ دیں۔

  • میں قربانی کیوں کروں؟ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    میں قربانی کیوں کروں؟ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    ذی الحج کا چاند نظر آتے ہی جہاں لوگ سنت ابراہیمی کو ادا کرنے کے لیے قُربانی کی تیاریوں کا آغاز کر دیتے ہیں وہیں کچھ مذہب بیزار قسم کے لوگ اس فریضے سے اپنی بیزاری کا اظہار بھی کرتے ہیں، یہ انسانیت کے نام نہاد علمبردار انتہائی جذباتی انداز میں پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ حج و قربانی پر اربوں روپے ضائع کرنے کی بجائے غریبوں کی مدد کی جائے۔

    یہ نام نہاد سکالرز سوشل میڈیا پر طرح طرح کی تاویلیں پیش کرتے ہیں جن میں سے چند ایک آپکی خدمت میں حاضر ہیں۔
    ایک بھائی صاحب کی پوسٹ دیکھی، جس میں وہ فرما رہے تھے کہ اس بار وہ قربانی نہیں کریں گے بلکہ اُنہی پیسوں سے اُنہوں نے ایک واٹر کولر لگوا دیا ہے۔

    کوئی یہ رونا رو رہا تھا کہ غریب ہمسائے کی لڑکی کی شادی کے لئے مدد نہ دینے والے حاجی صاحب دو لاکھ کا بکرا لے آئے ہیں۔ اور ساتھ یہ عزم بھی کیا کہ وہ حاجی صاحب کی طرح قُربانی نہیں کریں گے بلکہ کسی غریب لڑکی کی شادی کروائیں گے۔

    ایک اور صاحب نے لکھا کہ اس بار وہ عید پر قربانی نہیں کریں گے، کیوں کہ انہیں جانور ذبح ہوتے دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے، مزید کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اتنی خوبصورت تخلیق کو کیوں مارا جاتا ہے۔

    ایک بھائی نے لکھا کہ مجھے کافر کہہ لو لیکن مجھے یہ نہیں پسند کہ 72 گھنٹوں میں کئی لاکھ پیارے پیارے اور معصوم جانوروں کا سرِ عام اتنے بڑے پیمانے پر قتلِ عام ہو۔ لیکن ساتھ اس بات پر بھی افسردہ تھے کہ اب کُچھ دن کے لیے انہیں سبزیوں پر گزارہ کرنا پڑے گا۔

    ایک مشہور شخصیت نے پوسٹ کی کہ لوگوں کو عید الاضحی پر لاکھوں جانوروں کو قربان / ذبح کرنے کی بجائے اپنے آئی فون توڑ (قربان کر) دینے چاہیے۔ مزید یہ بھی کہا کہ یہ افسوس ناک ہے کہ ہر سال کروڑوں جانوروں کو قربانی کے نام پر ذبح کر دیا جاتا ہے اور وہ بھی بچوں کے سامنے۔

    جانوروں کے حقوق کی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ اُسے عید الاضحی پر کروڑوں جانوروں کے قتلِ عام پر تشویش ہے، قُربانی کے نام پر بڑے پیمانے پر جانوروں کی نسل کشی کی جاتی ہے، اس سے بہت سارے مسائل پیدا ہوتے ہیں، جانوروں کی باقیات سے نہ صرف ماحول آلودہ ہوتا ہے بلکہ قربانی کے دوران پانی کے استعمال سے پانی بھی ضائع ہوتا ہے۔

    ایک شخص نے لکھا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ ایسے لوگ مسلمانوں کے لیڈر بن چُکے ہیں جو قُربانی کی حمایت کرتے ہیں۔ لوگوں کو چاہیے کہ بجائے قربانی کرنے کے وہی رقم کسی غریب کو عطیہ کر دیں، اور ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ہمیں انسانیت کے نام پر پُر امن رہنا چاہئے، اور قربانی کے نام پر نمود و نمائش کی بجائے دوسروں کی مدد کرنی چاہیے۔

    بدقسمتی سے یہ چند بیان کیے گئے نظریات کچھ نام نہاد دیسی لبرل مسلمانوں کے ہیں۔ ایک طرف تو یہ لوگ آزادئ اظہار رائے کا پرچار کرتے ہیں لیکن دوسری طرف یہ دوسروں کے عقائد پر تنقید کرتے ہیں۔ اگر کوئی قربانی نہیں کرنا چاہتا تو نہ کرے لیکن اُسے دین کا مذاق بنانے یا اپنے عقائد اور مذہب پر عمل کرنے کی وجہ سے دوسروں پر تنقید کا کوئی حق نہیں۔

    سوال یہ ہے کہ انسانیت کے ان ہمدردوں کو غریبوں کی مدد کے لئے صرف حج و قربانی ہی کیوں نظر آتی ہے؟

    اپنی بڑی بڑی گاڑیاں، 24 گھنٹے اے سی چلتے کمرے، محل جیسے پرتعیش گھر، ہر رات آباد ہوتے مہنگے ترین ہوٹل، ہزاروں روپوں کا میک اپ، لاکھوں i جیولری اور کاسمیٹیکس، لاکھوں کی مالیت کے موبائل فون کیوں نظر نہیں آتے؟ ان نام نہاد لوگوں کے لیے یہ سب جائز ہے، لیکن سال بھر میں ایک بار قربانی کرنا غلط؟

    قربانی ایک اہم مالی عبادت اور شعائر اسلام میں سے ہے۔ اس عمل کو بڑی فضیلت اور اہمیت حاصل ہےبارگاہ الہی میں قربانی پیش کرنے کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے چلا آ رہا ہے۔

    سورت الحج آیت نمبر 34 میں اللّٰہ نے فرمایا ہے کہ (ترجمہ !) "اور ہم نے ہر اُمت کیلئے قربانی اس غرض کیلئے مقرر کی ہے کہ وہ مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللّٰہ نے اُنہیں عطا فرمائے ہیں”۔

    قربانی کی ایک عظیم الشان صورت اللّٰہ تعالی نے امت محمدیہ ﷺ کو عیدالاضحٰی کی قربانی کی صورت میں عطا فرمائی ہے جو کہ حضرت سیدنا ابراھیم علیہ السلام کی قربانی کی یادگار ہے، عید الاضحی پر ایک خاص جانور کو اللّٰہ تعالیٰ کی رضا اور تقرب کی نیت سے سے ذبح کیا جاتا ہے۔

    دین درحقیقت اتباع کا نام ہے اور اصل مقصد اللّٰہ تعالی کے حکم کی بجا آوری ہے، قرآن مجید میں سورت الحج کی آیت نمبر 37 میں بیان کیا گیا ہے کہ ترجمہ ! "اللّٰہ کو ہرگز نہ اُن کے گوشت پہنچیں گے اور نہ ان کے خون اور لیکن اُسے تمہاری طرف سے تقوی پہنچے گا۔اسی لئے اس نے اُنہیں تمہارے لئے مسخر کر دیا،تاکہ تم اُس پر اللّٰہ کی بڑائی بیان کرو ،کہ اُس نےتمہیں ہدایت دی اور نیکی کرنے والے کو خوشخبری سنا دیجیئے”۔

    سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کو وسعت ہو (صاحب نصاب ہو) اس کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔ (سنن ابن ماجہ )

    جو لوگ مالی وسعت یعنی قربانی کی استطاعت رکھتے ہوئے بھی قربانی ادا نہیں کرتے وہ آنکھیں کھولیں!اور اپنے ایمان کی خیر منائیں، عیدگاہیں اور مساجد اللّٰہ تعالی کی محبوب جگہیں ہیں، جہاں جمع ہونے والوں پر بارگاہ الہی سے رحمت کی برستی ہے، یہاں کی حاضری سے کسی بدنصیب کو ہی روکا جا سکتا ہے۔

    سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو بڑے موٹے تازے سینگوں والے سیاہ و سفید رنگت والے دو خصی مینڈے خریدتے، اُن میں سے ایک اپنے اُن امتیوں کیطرف سے قربان کرتے جنھوں نے اللّٰہ کی توحید اور آپ کی تبلیغ کی گواہی دی،اور دوسرا اپنی اور اپنے اہل وعیال کیطرف سے قربان کرتے ۔

    ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قربانی کیا کرو اور خوش دلی سے کیا کرو کیوں کہ جب مسلمان اپنی قربانی کا رُخ قبلے کی طرف کرتا ہے تو اس کا خون،گوبر اور اُون قیامت کے دن میزان میں نیکیوں کی صورت میں حاضر کیے جائیں گے۔

    حضرت زید بن ارقمؓ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ! یہ قربانی کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ تمہارے باپ حضرت سیدنا ابراھیم علیہ السلام کی سنت ہے۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! اس میں ہمارا کیا فائدہ ہے ؟آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا (تمہارا فائدہ یہ ہے کہ تمہارے قربانی کے جانور کے)ہر بال کےبدلےمیں ایک نیکی ملے گی ۔ صحابہؓ نے پھر عرض کیا یارسول اللہﷺ !(جن جانوروں کے بدن پر اُون ہے اُس) اُون کا کیا حکم ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اُون کے ہر بال کے عوض میں بھی نیکی ملے گی۔

    ہماری بد قسمتی ہے کہ یہاں ہر دوسرا بندہ دین اور مذہبی معاملات پر بغیر کسی تحقیق رائے دینا اپنا حق سمجھتا ہے۔ آج پاکستانی معاشرے کو ایسے خود کو عقل کل سمجھنے والے نام نہاد سکالرز کا سامنا ہے جو مغربی سوچ سے اس قدر متاثر ہو چکے ہیں کہ یہ ہر چیز کو سیکولرازم کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ انہیں مذہب سے متعلق سب کچھ ہی برا لگتا ہے، انکا حجاب میں دم گھٹتا ہے، ہر داڑھی والا دہشت گرد نظر آتا ہے، مدارس تمام مسائل کی جڑ لگتے ہیں اور قربانی کے وقت انہیں غریب غربا یاد آ جاتے ہیں۔

    ہر سال شادیوں کے نام پر لاکھوں کا خرچہ کرتے وقت ان لوگوں کو غریب کی بیٹی یاد نہیں آتی۔ لاکھوں روپے مالیت کے موبائیل سے غریبوں سے ہمدردی کا ڈھنڈورا پیٹتے انہیں واٹر کولر لگوانا اچھا نہیں لگتا۔ ان کے میک اپ، پرفیوم اور کاسمیٹکس کے لاکھوں کے خرچے سے کئی گھروں کے چولہے جل سکتے ہیں، لیکن اس وقت غریب کا احساس ضروری نہیں ہوتا۔

    عید پر انہیں غریب کی بیٹی کی شادی کی فکر ضرور ستاتی ہے لیکن سارا سال اِن کے بوتیک سے کوئی غریب اپنی بیٹی کی شادی کا جوڑا نہیں خرید سکتا۔ عید پر جانوروں کے ذبح ہونے پر انہیں ظلم ضرور یاد آتا ہے لیکن سارا سال جب یہ گوشت کھاتے ہیں اُس وقت یہ ظلم نہیں ہوتا۔ انہیں قربانی کے وقت پانی کا استعمال ضیاع لگتا ہے لیکن سال بھر اِنکے سوئمنگ پولز میں پانی کا استعمال نظر نہیں آتا، اور انکی مہنگی گاڑیاں ہوا سے دھوئی جاتی ہیں۔

    یہ لوگ فضول خرچی روکنے کے لئے سمارٹ فونز کی خریدو وفروخت پر پابندی کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟ بیوٹی پارلرز اور لاکھوں کا ایک ایک جوڑا فروخت کرنیوالے بوتیکوں پر اخراجات کی بجائے غریب بچیوں کے گھر بسانے کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟ پارٹیوں پر لاکھوں خرچ کرنے کی بجائے غریبوں کی مدد کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟

    قربانی کو متنازعہ بنانے والے یہ سیکولر زکوۃ کی ادائیگی کیوں نہیں شروع کرتے؟ دراصل مسئلہ غریبوں کی حمایت کا نہیں ہے، بلکہ ان کو تکلیف صرف سنت نبویﷺ پر عمل کی ہے۔ یہ لوگ سنت نبویﷺ کو بزور طاقت تو نہیں روک سکتے اور نہ ہی براہ راست تنقید کر سکتے ہیں اس لیے یہ لوگ ایک جذباتی ماحول بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بیچارے مغرب کی تقلید میں ان سے بھی بڑھ کر روشن خیال بننے کی کوشش کرتے ہیں۔

    عیدِ قربان نہ صرف ایک مذہبی تہوار ہے بلکہ ایک بڑی معاشی اور فلاحی سرگرمی کا دن بھی ہے۔ عید الاضحٰی کے لیے قربانی کے جانوروں کو بڑے پیمانے پر ملک کے دیہی علاقوں سے ملک کے دیگر بڑے شہروں میں لایا جاتا ہے اور بڑے پیمانے پر قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ اس طرح اربوں روپے کا سرمایہ شہروں سے دیہی اور زرعی معاشرے میں منتقل ہوجاتا ہے۔

    ہر سال عید الاضحیٰ پر 200 سے 300 ارب روپے تک کی رقم ہر شہری علاقوں سے دیہی علاقوں کی طرف منتقل ہوتی ہے۔ قربانی کی وجہ سے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں عارضی نوکریاں پیدا ہوتی ہیں۔ جانوروں کو منڈیوں اور گھروں میں پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹ کے استعمال سے لے کر انہیں چارے کی فراہمی اور قصابوں تک، لاکھوں لوگ اس معاشی سرگرمی کا حصہ بنتے ہیں۔

    مُلک میں چمڑے کی کل ضروریات کا تقریباً 40 فیصد قربانی کے تین دنوں میں پورا ہو جاتا ہے۔عیدِ قرباں پر بیرون ممالک سے آنے والی ترسیلاتِ زر میں بھی اضافہ ہوتا ہے کیونکہ امریکہ اور یورپ سمیت مشرق وسطیٰ میں رہائش پذیر پاکستانی اپنی قربانی کی رقومات پاکستان بھیجتے ہیں تاکہ قربانی کا فائدہ ملک کے پسماندہ طبقات کو ہو۔

    دیکھا جائے تو قربانی دراصل غریبوں کے لئے ہی روزگار پیدا کرتی ہے، بُہت سے لوگ جو گوشت افورڈ نہیں کر سکتے اُنہیں ہر سال عید الاضحی پر کھانے کے لیے گوشت ضرور ملتا ہے، قُربانی کی کھالوں سے ایسے فلاحی ادارے چلتے ہیں جو غریبوں کے بچوں کو پڑھاتے ہیں یا پھر ہسپتالوں میں غریبوں کا مفت علاج کرواتے ہیں۔

    دعا ہے کہ اللہ تعالی مسلمانانِ عالم کو سنت ابراھیمی ( علیہ السلام) اور سنت رسولﷺ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور قربانی کے مبارک عمل کو بارگاہ جلیلہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے۔