Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • ناو آر نیور،تحریر:مبشر حسن شاہ

    ناو آر نیور،تحریر:مبشر حسن شاہ

    کیا کل کے تخت نشیں آج کے مجرم ٹھہرنے والے ہیں؟
    تمہید باندھنا قلم کاری کی روایت ہے۔ اس سے انحراف کی صورت ایک ہی ہے، وہ ہے موضوع کی نوعیت اور اس کی مناسبت سے وقت کا تقاضا۔ آرٹیفیشکل انٹیلیجنس جب پاکستان میں متعارف ہوئی تو عام آدمی تک اس کا علم صرف اتنا تھا کہ اس سے میسج کریں تو خودکار جواب مل جاتا ہے۔ کچھ ماہ میں اس کی مدد سے تصاویر ایڈیٹ کی جانے لگیں۔ ماہ و سال نہیں اب ہفتوں سے بات دنوں پر آ گئی ہے اور عام آدمی کی رسائی تیزی سے اے آئی کے مزید فیچرز تک جا پہنچی ہے۔ پرامٹ کا لفظ کئی نیم خواندہ لوگ بھی استعمال کرتے ہیں، جو اے آئی کے درست استعمال کی بنیاد ہے۔ ویڈیو ایڈیٹنگ تو پہلے ہی کیپ کپ اور ٹک ٹاک کی بدولت ہر بندہ کرلیتا تھا۔ اے آئی کی کوڈنگ نے اسے نہ صرف آسان کیا بلکہ جو لوگ رہتے تھے ان کو بھی ویڈیو ایڈیٹر بنا دیا۔ فیک وائس، ڈیپ فیک ویڈیوز، اے آئی جنریٹیڈ پکچرز۔یہ الفاظ اب روزمرہ زبان کے عام الفاظ بن چکے ہیں۔ جب ہم اے آئی سے چیٹ کرکے چیزا لے رہے تھے اور حسب عادت گالیاں لکھ کر مذاق اڑا رہے تھے، عین اسی وقت ترقی یافتہ اقوام نے یہ بات جان لی کہ مستقبل میں علم کا مرکز کیا ہو گا۔ اس وقت چین اے آئی کو ہر سطح پر نصاب تعلیم میں شامل کر چکا ہے۔ دیگر بڑے ممالک میں بھی اس چیز کو سنجیدگی سے اپنایا جا رہا ہے۔ پی ایچ ڈی سکالرز اور ہائر ایجوکیشن کے حوالے سے تو اے آئی کافی عرصہ سے استعمال میں ہے (کچھ ترقی یافتہ ممالک میں) جبکہ ربوٹکس، مشین آپریٹنگ ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبوں میں اے آئی انقلاب مکمل طور پر ٹیک اوور کرنے سے چند مراحل دور ہے۔ دنیا مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے اخلاقی حدود اور قوانین بنا چکی ہے۔ اب اس بات پر غور جاری ہے کہ کیا انسان کی یہ ایجاد کسی مرحلہ پر انسان کے خلاف ہو سکتی؟ اس تمام پس منظر میں ہم کیا کر رہے ہیں؟ کہاں کھڑے ہیں؟ ہم مفت اے آئی کورسسز کے اشتہار لگا کر لوگوں کو اپنے اداروں کی طرف لاکر پھر کچھ عرصہ بعد مزید بہتر سکھانے کے لیے رقم کا تقاضا ۔ آن لائن ٹریڈنگ، امیزون ٹریڈنگ، فاریکس ٹریڈنگ ٹرک کی وہ ٹیل لائیٹس ہیں جن کے پیچھے ہر نوجوان گھر سے پیسے لے کر برباد کر رہا ہے۔ ہم چکن گیم کھیل کر جوئے سے کمائی کر رہے ہیں۔ ہم فری فائر اور پب جی، آن لائن لڈو ٹورنامنٹ میں ورلڈ چیمپئن شپ کھیل رہے ہیں۔ ہم اے آئی سے ویڈیوز بنا رہے، تصاویر بنا کر خوش ہو رہے ہیں۔ ہم لوگوں کو فخریہ بتا رہے کہ اے آئی کورس کیا ہوتا؟ میں سب جانتا، ایک پرامٹ درست دینا آتی ہو پھر تو سب کام مشین نے کرنا۔ بدقسمتی سے سب کانٹینینٹ کے اسلامک ورژن میں صوفی ازم اور توہم پرستی اتنی ہے کہ ہم کوئی بھی چیز جو سمجھ نہ آئے اسے کرامت قرار دے دیتے ہیں اور جو کام ہاتھ سے کرنا ہو وہ زبان سے کر لیتے ہیں۔ لہذا اے آئی کو ہم نے ڈیجیٹل ولی سمجھ کر پرامٹ کی بیعت کو کافی جانا ہے۔ اب یہ جوتا ہمارے ہی سر پر بجنے کو ہے۔ اس کے لیے ہفتے نہیں دن چاہیں۔ لیکن ہنوز ہم” ۔۔۔۔۔ کا دھوبی ہوں "کہہ کر بچنے کی امید میں ہیں۔ حالانکہ بچا وہ بھی نہیں تھا کیونکہ فرشتے بھی اے آئی ہی سمجھ لیں، ان کو جو پرامٹ اللہ نے دی ہے اس میں من ربک کا ایک ہی آپشن درست ہے، دھوبی والے جواب پر پرامٹ سیٹ ہے، گرز بلا توقف حرکت میں آتا ہے۔

    ویسے ٹاپک سے ہٹ کر دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں: فرشتے کو جو کہا جائے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امتی ہوں، یہ کلیم زیادہ بڑا اور مضبوط ہے یا ۔۔۔۔۔ کے دھوبی ہونے کا؟ یقیناً نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امتی ہونا بہت وزنی کلیم ہے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا، اے فاطمہ میری بیٹی! میرے مال میں سے جو لینا ہے لے لو، لیکن قیامت کے دن اگر اللہ نے پکڑ لیا تو میں کچھ نہ کر پاؤں گا۔ اے میرے چچا عباس! میرے مال سے جو لینا ہے لے لو لیکن قیامت کے دن میں کچھ کام نہ آؤں گا۔ اور ہم پھر کس حیثیت سے ایسے لطائف سن کر یقین کر لیتے کہ فلاں کا دھوبی، فلاں کا نوکر، اور بخشش؟ یہ تصوف کے ڈیپ فیک ہیومن انٹیلیجنس بیسڈ قصے ہیں۔

    واپس اے آئی پر۔ اگر ہم نے یہی حرکتیں جاری رکھیں تو چند ماہ میں ہمارا برٹش میڈ 1860 کا دم توڑتا نظام تعلیم مکمل طور پر فارغ ہو جانا ہے۔ جس نوعیت کا قابل شیر جوان مملکتِ خداداد میں 16 سال کی تعلیم، ماں کی دعا، باپ کی مار، اساتذہ کی محنت اور موصوف کی ذاتی کاوش سے کی گئی نقل مل کر پیدا کرتی ہے، وہ اے آئی کی کوڈنگ میں 16 دن لگنے اور بن جانا ہے۔ یعنی اس استعداد کی مشین جو ہر وہ بات جانتی ہو جو آپ کا ماسٹرز ڈگری ہولڈر جانتا ہے۔ اس وقت ضرورت نہیں بلکہ لازم ہے کہ ہم اپنا نظام تعلیم ازسرنو وضع کریں۔ اپنی ترجیحات کا تعین کریں۔ اس بات کو مدنظر رکھ کر کہ پیچیدہ ترین ریاضی و سائنس اب اے آئی کی مکمل دسترس میں ہے اور ہمیں اس چیز کو ماننا ہوگا کہ ہماری تمام تر سائنسی مضامین و ریاضی آنے والے دنوں میں اسی طالب علم یا پروفیشنل کو قریب پھٹکنے دیں گے جو اے آئی کا استعمال ایڈوانس لیول پر جانتا ہوگا۔ سوشل سائنسز میں البتہ انسانی عمل دخل زیادہ ہے اور رہے گا کیونکہ انسانی نفسیات و جذبات کی پیچیدہ راہیں اے آئی کے بس سے فی الحال باہر ہیں۔ لیکن اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ہمیں ابتدائی کلاسز سے اے آئی کورس میں شامل کرنا ہوگا اور اپنی تمام کلاسز میں اسے بطور مضمون پڑھانا بھی ہوگا۔ کیونکہ جس قدر تیزی سے اے آئی کا پھیلاؤ جاری ہے اس میں ہمارا نظام تعلیم مکمل فلاپ ہے۔

    اب سوال یہ نہیں کہ اے آئی آرہی ہے یا نہیں ؟ سوال یہ ہے کہ ہم اپنے نظام تعلیم کو کب اس کے برابر چلائیں گے؟ اس کے لیے سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ ہم نصاب سے وہ ساری زنگ آلود پرتیں ہٹائیں جو 1860 کے برطانوی ڈھانچے سے چمٹی ہوئی ہیں۔ ہمیں متن، رٹہ اور غیر ضروری رٹے ہوئے سوالات نہیں چاہیے؛ ہمیں وہ بچے چاہیے جو اے آئی سے صحیح سوال پوچھنا جانتے ہوں۔ جو اسے بطور ٹول استعمال کرنا سیکھیں، نہ کہ اس سے ڈر کر بھاگیں یا صرف تصویریں بنا کر خوش ہوں۔

    ہمیں ہر سطح پر اے آئی لٹریسی (AI Literacy) کو بنیادی مضمون بنانا ہوگا۔ پرائمری میں بچوں کو کمپیوٹیشنل سوچ اور روبوٹکس کی بنیاد دی جائے۔ مڈل اور ہائی اسکول میں اے آئی کے استعمال، غلطیوں اور خطرات کو سمجھایا جائے۔ کالج اور یونیورسٹی میں عملی تربیت، ڈیٹا اینالسس، پرامٹ انجینئرنگ، تحقیق، اور اے آئی ڈویلپمنٹ کے عملی کورسز شامل کیے جائیں۔استاد کی ٹریننگ سب سے اہم مرحلہ ہے۔ جس استاد کو خود اے آئی کا استعمال نہیں آتا وہ اگلی نسل کو کیا سکھائے گا؟ استاد کو اس سطح پر لانا ہوگا کہ وہ خود اے آئی سے بہتر مواد، مشقیں، اور ٹیسٹ تیار کر سکے اور طلبہ کو وہ صلاحیتیں سکھائے جو مشین نہیں سکھا سکتی۔ تنقیدی سوچ، اخلاقیات، فیصلہ سازی، اور انسانی اقدار۔آخر میں، ہمیں سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اے آئی لیبز قائم کرنا ہوں گی. جہاں بچے صرف پڑھیں نہیں بلکہ بنا سکیں، تجربہ کر سکیں، ناکامی سے سیکھ سکیں، اور خود کو مستقبل کے لیے تیار کر سکیں۔ اگر ہم نے آج یہ بنیاد رکھ دی تو آنے والا دور ہمارے ہاتھ میں ہوگا۔ اگر نہ رکھا تو تاریخ ہمیں ایک بار پھر پیچھے چھوڑ دے گی، اور ہم اس انقلاب کے تماشائی بن کر رہ جائیں گے، شریک نہیں۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔
    مبشر حسن شاہ

  • عورت کمزور نہیں،تحریر:نور فاطمہ

    عورت کمزور نہیں،تحریر:نور فاطمہ

    معاشرہ کسی بھی دور میں دو طبقات کی بنیاد پر تولا جاتا ہے،اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے، اور اپنی عورتوں کے حال کے حوالے سے۔ جس معاشرے میں عورت خوف کے سائے میں زندگی گزارے، وہاں ترقی کے خواب کاغذوں میں تو بنتے ہیں، مگر حقیقت میں کبھی جڑ نہیں پکڑتے۔عورت کمزور نہیں ہوتی؛ یہ حقیقت ہماری تاریخ، ثقافت اور روزمرہ زندگی کے ہر باب میں لکھی ہوئی ہے۔ البتہ یہ بھی سچ ہے کہ وہ اکثر خاموش رہ جاتی ہےاور یہی خاموشی سب سے بڑا المیہ ہے۔عورت کی چپ اکثر وہ احتجاج ہے جسے سننے کے لیے ہمارے پاس نہ وقت ہوتا ہے، نہ توجہ، اور نہ ارادہ۔ وہ اپنے دکھ کے ساتھ جیتی ہے، اپنے زخم چھپاتی ہے، اور ایک ایسے نظام کا حصہ بن کر رہتی ہے جو اسے بولنے بھی نہیں دیتا، اور چپ رہنے پر بھی قصوروار ٹھہراتا ہے۔

    ہم نے صدیوں سے یہ تاثر پالا ہوا ہے کہ تشدد کا مطلب صرف جسم پر نشان چھوڑ دینا ہے۔ مگر وہ تشدد جو نظر نہیں آتا، زیادہ گہرا، زیادہ مستقل اور زیادہ تباہ کن ہوتا ہے۔تلخ الفاظ، طنزیہ جملے، بے توقیری کے طعنے، یہ سب دل پر ایسے نقش چھوڑتے ہیں جنہیں کوئی مرہم نہیں بھر سکتا۔کسی عورت کو اس کے خواب پورے کرنے سے روک دینا، اس کے فیصلے بے حیثیت سمجھنا، اس کی آزادی کو مشروط کر دینا،یہ تشدد کی وہ صورتیں ہیں جنہیں ہمارا معاشرہ معمول سمجھ کر قبول کیے بیٹھا ہے۔اور شاید سب سے خطرناک تشدد وہ ہے جس میں عورت کو خاموش رہنا سکھا دیا جاتا ہے۔ وہ اپنے خوف کو تقدیر سمجھنے لگتی ہے، اور اپنے دکھ کو زندگی کا لازمی حصہ۔ اس خاموشی کی قیمت صرف وہ نہیں چکاتی، بلکہ پورا سماج چکاتا ہے،پست ذہنیت، عدم تحفظ اور بے حسی کی صورت میں۔

    یہ حقیقت باربار دہرائی جانی چاہیے کہ عورت کی عزت کسی کردار، کسی رشتے یا کسی ذمہ داری کی مرہونِ منت نہیں۔ وہ احترام کی حقدار ہے کیونکہ وہ ایک مکمل انسان ہے۔ہماری تہذیب، ہمارا مذہب اور ہماری معاشرتی اقدار سب اس امر پر متفق ہیں کہ عورت کا وقار اس کے وجود سے وابستہ ہے،نہ کہ اس کردار سے جو اسے معاشرہ دیتا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی عورت کے اس حق کو پہچانتے بھی ہیں یا صرف کتابوں اور تقریروں میں اس کا ذکر کر کے خود کو مطمئن کر لیتے ہیں؟معاشرے کو بدلنے کا آغاز گھر سے کریں،اصلاح کی راہ کسی بڑے نعرے سے نہیں، چھوٹے رویّوں سے شروع ہوتی ہے۔ ایک باپ اپنی بیٹی کو اعتماد دے، ایک شوہر اپنی بیوی کی رائے کو اہمیت دے، ایک بھائی اپنی بہن کے خوابوں کا احترام کرے،یہی وہ چھوٹے قدم ہیں جو ایک بڑے معاشرتی انقلاب کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔

    یہ سوچ بدلنا ہوگی کہ عورت کی آواز بلند ہونا بغاوت ہے؛حقیقت یہ ہے کہ عورت کی آواز دبانا ظلم ہے۔عورت کے لیے محفوظ ماحول مہیا کرنا ہوگا، نہ صرف گھر میں بلکہ معاشرے کے ہر دائرے میں۔اسے تعلیم، رائے اور فیصلے کا حق دینا ہوگا۔اس کے جذبات کو کمزوری نہیں، اس کی طاقت سمجھنا ہوگا۔اور سب سے بڑھ کر ہمیں اس کی خاموشی کو پہچاننا ہوگا، کیونکہ اکثر وہیں سب سے بڑی کہانی چھپی ہوتی ہے۔

    عورت کمزور نہیں، مگر وہ تھک جاتی ہے۔اس کی برداشت لامحدود ضرور ہے، مگر اس کی خاموشی صدیوں کی روایت نہیں ہونی چاہیے۔وقت آ گیا ہے کہ ہم اس کے اندر چھپی اس اذیت، اس بے بسی، اور اس خاموش احتجاج کو سنیں۔معاشرہ تب تک متوازن نہیں ہو سکتا جب تک عورت اپنی زندگی وقار، آزادی اور تحفظ کے ساتھ نہ گزار سکے۔
    ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اسے چپ کروانے والے معاشرے میں رہنا چاہتے ہیں،یا ایسا سماج چاہتے ہیں جہاں عورت کی آواز کو دبایا نہیں جاتا، سنا جاتا ہے۔

  • بیوروکریسی کا احتساب ناگزیر ،تحریر:ملک سلمان

    بیوروکریسی کا احتساب ناگزیر ،تحریر:ملک سلمان

    عجیب فلمی منظر نامہ ہے کہ چیف سیکرٹری پنجاب زاہد زمان کے دور میں چند ”بلیو آئیڈ“ ایک سے بڑھ کر ایک اہم سیٹ پرنوازے جاتے ہیں تو دیگر ایک ہی سیٹ پر کھڈے لائن ہیں تو کچھ ناکردہ گناہوں کی سزا پر او ایس ڈی”گل سڑ“رہے ہیں۔پک اینڈ چوز کی وجہ سے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی ایم ایس سمیت کوئی بھی مطمئن نہیں ہے سوائے ان کے جن کو آؤٹ دی وے جا کر نواز ا گیا۔ میڈم وزیراعلیٰ محکمہ تعلیم سمیت چند محکموں میں جو ظلم، لاقانونیت اور من مرضی کا گندہ کھیل ہورہا ہے اس کی تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اور نیب کی خدمات لی جائیں۔ کرپٹ افسران نے ستھرا پنجاب جیسے فلیگ شپ پروگرام کو مال لوٹنے کا زریعہ بنایا ہوا ہے.

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بیوروکریسی میں سیاسی مداخلت کے خاتمے کے مشن امپاسل کو پاسیبل کر دکھایا لیکن چیف سیکرٹری میرٹ کے”سپنوں“ کی دنیا دکھا کر ”پک اینڈ چوز“ کر رہے ہیں۔ آئی جی پنجاب عثمان انور 43کامن کے تین افسران کو ڈی پی او لگاچکے ہیں، عثمان انور نے ایک طرف 35کامن کا ڈی پی او لگایا ہے تو دوسری طرف 43کامن،سنئیر اور جونئیرز کا کمبینیشن دانشمندانہ فیصلہ ہے، لیکن 43کامن والوں کو چھوٹے اضلاع میں موقع دینا چاہئے تھا۔ یہی اصول ہوتا ہے کہ اہم اضلاع میں گریڈ 19کے سنئیر جبکہ چھوٹے اضلاع میں گریڈ 18کے جونئیر افسران کو ڈی سی اور ڈی پی او لگایا جاتا ہے۔

    پی ایم ایس 5کا پہلا ڈپٹی کمشنر 2022میں لگا تھا اس کے بعد زاہد زمان نے پی ایم ایس 5کیلئے ڈی سی شپ شجر ممنوع قرار دے دی۔انصاف کا ترازو اس بات کا متقاضی ہے کہ پی ایم ایس 5 اور پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس 43،44کامن کے افسران کو چھوٹے اضلاع میں کمانڈ کا موقع دینا چاہئے۔ بیوروکریٹک گتھی الجھانے کی مہارت میں معراج حاصل کرنے والے چیف سیکرٹری نے ایک طرف ڈپٹی کمشنرز کیلئے خود ساختہ میرٹ اور بیرئیر لگادیے ہیں کہ42کامن تک ڈی سی لگائے جائیں گے جبکہ سجی دکھا کر کھبی مارنا کے مترادف گریڈ بیس لیول کی اربوں کھربوں روپے والی، CEO IDAP, CEO PECTAA ، پراجیکٹ ڈائریکٹر ورلڈ بینک سمیت اہم سیٹوں اور اٹھارٹیز پر 42,43,44کامن کے کنسیپٹ کلئیر بچوں کو لگادیا ہے۔ اسی طرح چند گریڈ 19 والوں کو گریڈ 21 کی سیٹوں پر آل ان آل بنا دیا گیا۔

    تیرا کھانواں تیرے گیت گانواں کے مصداق یہ جونئیر افسران سنئیر سیٹوں پر صاحب کا ہر حکم بجا لاتے ہیں۔
    بیوروکریسی میں گریڈ18والے کو 20 کی سیٹ پر نوازنے کا اگر عدلیہ سے موازنہ کیا جائے تو ایسے ہی ہے کہ کسی سول جج کو سنئیر سول جج بھی نہیں ڈائریکٹ ایڈیشنل سیشن جج لگا دیا جائے۔ اگر آرمی سے موازنہ کیا جائے تو ایسا ہی ہے جیسے کسی میجر کو یونٹ یا ونگ بھی نہیں سیدھا برگیڈ کمانڈر لگا دیں۔ لیکن آرمی کی پوری تاریخ میں آپ کو ایسی ایک مثال بھی نہیں ملتی کہ جہاں کسی کو خلاف میرٹ تقرری دی گئی ہو۔ آرمی کے عزت و وقار اور دنیا بھر میں نمبر ون فوج ہونے کی ایک ہی وجہ ہے کہ وہاں میرٹ ہے۔ ہر کسی کو معلوم ہے کہ اسے وہی پوسٹنگ ملے گی جس کا وہ اہل ہے۔

    اس وقت پنجاب میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی ایم ایس کے گریڈ 18سے گریڈ 21تک کے 66افسران OSD ہیں۔سنئیر سیٹوں پر جونئیر افسران تعینات ہیں۔ اپنے جونئیر کے ماتحت پوسٹنگ ملنے کی وجہ سے افسران شدید پریشان ہیں اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔ key Posting والے احساس برتری کی وجہ سے اور OSD رہنے والے احساس کمتری میں مبتلا ہو کر دونوں نفسیاتی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔ خلاف میرٹ ٹرانسفر پوسٹنگ اور تعیناتیوں نے افسران کے درمیان نفرت کی ایسی لکیر کھینچی کہ بیچ میٹ ہی بیچ میٹ کا دشمن بنا ہوا ہے اور ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ سرکاری ملازمین کی دنیا بہت چھوٹی ہے،خاص طور پر بیچ میٹس کو ایک دوسرے کے انڈرٹریننگ دور کے حالات، غربت اور لاچاری کا بہت اچھے سے معلوم ہوتا ہے۔

    ”گینگ آف سیون” کے بیوروکریٹک مارشل نے جہاں حکومت سے عوام کا اعتماد خراب کیا وہیں سینکڑوں افسران بھی شدید تحفظات کا شکار ہیں۔ "گینگ اف سیون” کا کمال ہے کہ وہ افسران جو اخلاقی اور مالی لحاظ سے بدنام زمانہ کرپٹ ترین ہیں، بزدار اور پرویز الٰہی دور کے بڑے بینیفشریز تھے انکو اہم ترین سیٹوں پر لگایا ہوا ہے۔
    عوامی اعتماد اور کرپشن کے خاتمے کیلئے چند افسران کو پنجاب سے نکالنے اور بیوروکریسی کی ری شفلنگ ناگزیر ہے۔ بیرونی فنڈنگ والی تمام سیٹوں کا آڈٹ کروایا جائے کیونکہ زبان زد عام ہے کہ وہاں حصے بانٹے جاتے ہیں۔ دسمبر 2022سے سیکرٹری فنانس کی سیٹ پر آل ان آل مجاہد شیر دل پنجاب کی ٹرانسفر پوسٹنگ کا اہم ترین ستون ہیں۔زبان زد عام ہی نہیں گزشتہ تین سال کی ٹرانسفر پوسٹنگ دیکھ لیں اہم ترین سیٹوں پر آنے اور جانے کیلئے فنانس ڈیپارٹمنٹ اور سیکرٹری فنانس ”راستہ“ ہیں۔سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سے گزارش ہے افسران کی روٹیشن پالیسی پر بھی عمل درآمد کروایا جائے بہت سے لاڈلے برسوں سے پنجاب چھوڑنے کو تیار نہیں تو لاتعداد سندھ کی کنسیپٹ کلئیر نوکری اور چاکری میں مصروف ہیں چند جبری بلوچستان کاٹ رہے ہیں۔

  • جرمِ ضِعفی کی سزا، مرگِ مفادات،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    جرمِ ضِعفی کی سزا، مرگِ مفادات،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    تعلیم کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ملکی افرادی قوت کو ان کی صلاحیت و قابلیت کے مطابق روزگار کے امواقع پیدا کرنا بھی ریاست کے اہم فرائض میں شامل ہے۔ مگر یہاں نظام تعلیم اور تعلیمی معیار کی حالتِ زار جہاں تنزل کا شکار ہے۔ وہاں پڑھے لکھے بیروزگار کو زندہ درگور کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہہں رکھی گئی۔ اول تو اداروں کی ضرورت کے مطابق گورنمنٹ بھرتیاں کی ہی نہیں جا رہیں۔ اور جن بھرتیوں کے لیئے اشتہار جاری کیا جاتا ہے۔ ان پر عقل سے بالاتر عجیب و غریب قسم کے قوائد و ضوابط لاگو کر دیئے جاتے ہیں۔ یہ المیہ بلخصوص پنجاب میں زیادہ مسلط ہے۔

    عام سرکاری بھرتیوں کے لئیے بھی تجربہ رکھا جا رہا ہے۔ ایک بیروزگار جس کے لئیے اپنی تعلیم کے مطابق نوکری حاصل کرنا ہی مشکل ہو چکا ہے۔ وہ نوکری کے حصول کے لئیے تجربی کہاں سے لائے۔؟ صورتحال یہ ہے ۔ کہ ماسوائے پنجاب کے باقی تمام صوبوں میں نوکری کے لئیے عمر کی حد 38 تا 40 سال ہے۔ مگر پنجاب میں عمر کی رعایت وہی پرانی لاگو ہے۔ جبکہ سرکاری اداروں میں خالی آسامیوں کو پر کرنے کے لئیے بھرتیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پڑھے لکھے بیروزگار ان بھرتیوں کے لئیے اپلائی کے انتظار میں اوور ایج ہو کر سرکاری نوکری کی دوڑ سے ہی باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس سے کیا جائے۔ کہ سال 2019ء کے بعد سے تاحال ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں جنرل ایجوکیٹرز کی اسامیوں پہ بھرتی نہیں کی گئی۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پنجاب کے سرکاری سکولوں میں مستقل اساتذہ جن میں سینئر اساتذہ اور ہیڈ ماسٹرز وغیرہ کی قریبا 65٪ آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ یعنی قریبا 100،000 سیٹیں بھرتی کی منتظر ہیں۔ ہائی اور ہائر سیکنڈری سکولوں میں سبجیکٹ اسپیشلسٹ کی تقریباً 79٪ یعنی 4,404 سیٹیں خالی ہیں۔ جبکہ پنجاب کے پبلک کالجوں میں مختلف گریڈ کے اساتذہ کی 6،876 آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے 825 پبلک کالجوں میں صرف لیکچروں کی ہی تقریباً 1993 آسامیاں مطلوب ہیں۔
    ایک طرف بیروزگاری حد سے تجاویز کر رہی ہے۔ اور دوسری صرف ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ جو کسی بھی قوم کا بنیادی تربیتی شعبہ ہے۔ اسے "ڈھنگ ٹپاؤ” سیکم کا نشانہ بنا دیا گیا ہے۔ اعلی ڈگری کی حامل افرادی قوت دستیاب ہونے کے باوجود ان خالی آسامیوں میں سے کچھ پہ کبھی CTI’s اور کبھی STI’s کے نام پہ پڑھے لکھے بیروزگاروں کے ہاتھ میں دیہاڑی دار بننے کا کشکول تھما دیا گیا ہے۔

    نظامِ ٹھیکیداری کے تحت دیئے جانے سے تعلیمی ادارے مزید بدحالی کا شکار ہیں۔ جہاں پڑھے لکھے بیروزگاروں کا صرف استحصال کیا جا رہا ہے۔ STI’s اور CTI’s کی تقرری کے لئیے میرٹ کے نام پہ اکیڈمک مارکس کا عقل سے بالاتر قانون نافذ ہے۔ انٹرویو کے محض پانچ نمبر رکھے گئے ہیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے۔ کہ امیدوار کے علم و قابلیت کو چیک نہیں کیا جاتا۔ صرف ڈگری کے نمبر دے کر میرٹ بنا دیا جاتا ہے۔ اب جبکہ PPSC نے بھی اکیڈمک مارکس کا اصول ختم کر دیا ہے۔ تو STI’s اور CTI’s کی تقرری میں اس غیر منصفانہ اصول کو کیوں مدنظر رکھا جا رہا ہے۔

    پنجاب میں مستقل بھرتی تو ویسے ہی ختم کر دی گئی ہے۔ اور اب محدود مدت کے لئیے دیہاڑی دار بننے کے لئیے بھی رجسٹریشن فیس بھرنے کا نیا قانون جاری کر دیا گیا ہے۔ حالیہ سکول ٹیچر انٹرنیز کے لئیے جیسے ہی آن لائن اپلائی کی تاریخ قریب آئی۔ امیدواران کو ایک سکول میں ایک سیٹ پہ اپلائی کے لئیے ایک ہزار روپے رجسٹریشن فیس کی ادائیگی واجب قرار دے دی گئی۔ چونکہ STI’s کی بھرتی امیدوار کی اپنی یونین کونسل کی حد تک ہے۔ اس طرح اگر ایک امیدوار اپنی یونین کونسل میں موجود دو سکولوں میں دو آسامیوں کے لئیے درخواست دیتا ہے۔ تو اسے دو ہزار روپے اور اگر چار آسامیوں کے لئیے درخواست دے۔ تو چار ہزار روپے رجسٹریشن فیس کی مد میں ادا کرنے ہوں گے۔ اور پنجاب کے وزیر ء تعلیم رانا سکندر حیات نے اس کی وجہ یہ بتائی۔ کہ دیہاڑی در درخواست گزر پچھلی بار بھی زیادہ تھے ۔ اس لئیے یہ فیس رکھی گئی ہے۔

    یہ کیسا ظلم ہے۔ کہ پی۔پی۔ایس۔سی اور ایف۔ پی۔ ایس۔سی میں مستقل نوکریوں کے لئیے بھی رجسٹریشن فیس چھ سو روپے ہے۔ جبکہ یہاں صرف ایک یونین کونسل کے چند سکولوں میں محدود مدت کے لئیے دیہاڑی دار کا محض امیدوار بننے کے لئیے بھی ایک ہزار روپے ادا کرنے ہوں گے۔ کیا اربابِ اختیار کو اس چیز کا علم ہے۔ کہ اس جان لیوا منہگائی کے دور میں ایک بیروزگار عارضی تقرری کی صرف امید کے لئیے اتنے پیسے کہاں سے ادا کرے گا!! وزیر تعلیم کو چھ لاکھ درخواستیں تو معلوم ہیں۔ مگر ان درخواستوں کے پیچھے موجود ان بیروزگاروں کی ضرورت و بے بسی نہیں جان سکے۔ اگر بیروزگاری حد سے تجاویز کر رہی ہے۔ تو ریاست کو روزگار کے امواقع پیدا کرنے چاہئیں، نہ کہ بیروزگاروں کو ہی ختم کر دیا جائے۔
    کئی سالوں کی محنت کے بعد ڈگریاں ہاتھوں میں لئیے نوکری کی تلاش میں بھٹکتے نوجوانوں کی حالتِ زار قابل رحم ہے۔ اس طرح کے غیر منطقی و غیر منصفانہ اصول و ضوابط بنا کر ان کی محنت اور امیدوں کو برباد نہ کیا جائے۔ بلکہ روزگار کی فراہمی کو آسان بنایا جائے۔
    ؂
    نہ آئے موت خدایا تباہ حالی میں
    یہ نام ہو گا غمِ روزگار سہہ نہ سکا

  • طاہرہ ردا کے پہلے شعری مجموعے” تیرے نام کے سارے شعر” کی شاندار تقریب رونمائی

    طاہرہ ردا کے پہلے شعری مجموعے” تیرے نام کے سارے شعر” کی شاندار تقریب رونمائی

    عالمی دبستان ادب شکاگو اور شکاگوشناسی فورم کے تحت شکاگو کی معروف شاعرہ، اینکر اور سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ طاہرہ ردا کے شعری مجموعے "تیرے نام کے سارے شعر "کی تقریب رونمائی ہوئی۔

    تقریب رونمائی اردو ادب کے عالمی شہرت یافتہ شاعر عباس تابش” سفیرِ عشق” کے ہاتھوں ہوئی۔ اس تقریب رونمائی میں امریکہ کی مختلف ریاستوں سے شعراء اور ادیبوں نے اور شکاگو لینڈ کے دوستوں اور ریاست الیناۓ کے مختلف شہروں سے کافی تعداد میں شائقین ادب اور طاہرہ ردا کے دوستوں اور شعرا نے شرکت کی۔ طاہرہ ردا کی فیملی نے بھرپور شرکت کی ۔ تقریب کے میزبان پروفیسر مسرور قریشی نے تمام شرکاء کی آمد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور طاہرہ ردا کے شعری سفر پر ایک سیر حاصل مضمون پڑھا۔ پروفیسر مسرور قریشی نے بیرون ریاست الیناۓ سے آنے والے شعراء و ادیبوں کا بھرپور شکریہ کرتے ہوئے کہا کہ اردو کی محبت میں آپ کی آمد پر ہم سب اپ کے ممنون ہیں۔ پروگرام میں ڈاکٹر سعید پاشا اوہایو، مونا شہاب میری لینڈ، عتیق حیدر اوہانیو، اکرام بسرہ آئیوا، خرم سہیل اوہانیو، ڈاکٹر قطب الدین ابو شجاع انڈیانا سے تشریف لائے۔

    کتاب کی طباعت عباس تابش کے ادارے عشق آباد سے ہوئی۔ انہوں نے طاہرہ کے شعری مجموعے کی طباعت کے مراخل بتاتے ہوئے طاہرہ ردا کے شعری کلام کے محاسن پر گفتگو کرتے ہوئے ان کے شعروں پر داد دی۔ ڈاکٹر توفیق انصاری احمد نے طاہرہ کے شعری کلام کو سراہا۔ پروفیسر مسرور قریشی نے طاہرہ ردا کو شکاگو میں نئی کتاب کی مبارکباد دیتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہا۔ پروفیسر مسرور قریشی نے عباس تابش کو "سفیر عشق” کا خطاب دیا کہ وہ اردو کے عشق میں ملکوں ملکوں سفر کر کے نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ طاہرہ ردا کی کتاب شخصیت اور کمیونٹی میں فال رول ادا کرنے پر مونا شہاب، اکرام بسرہ، ڈاکٹر سعید پاشا، عابد رشید، امین حیدر، ڈاکٹر افضال الرحمن افسر، ریاض نیازی، شگفتہ حسین، حمیرہ عقیل، ڈاکٹر زاہد ملک نے خطاب کیا محمد مجید اللہ خان صدر وبانی عالمی مرکزی ادبیات اردو کی جانب سے عباس تابش اور طاہر ردا کو نشان سپاس پیش کیا گیا۔ پروفیسر مسرور قریشی نے طاہرہ ردا کو انکے اشعارپر مشتمل ان کی تصویرکے ساتھ ایک شاندار پورٹریٹ پیش کیا۔ کتاب کے ٹائٹل کے ساتھ کیک کاٹا گیا شرکاء کی جانب سے طاہرہ ردا کو ایک درجن سے زائد پھولوں کے گلدستے اور تحائف پیش کیے گئے۔

    شرکاء کی تواضع کے لیے ظہرانے کا اہتمام تھا۔ پروگرام میں چائے اور دیگر لوازمات موجود تھے شرکا کے مطابق شکاگو لینڈ میں یہ ایک بھرپور ادبی تقریب تھی۔ جن پر منتظمین کو مبارکباد دی گئی۔ پروگرام میں مظہر عالم نے جزوی طور پر پاور پوائنٹ پریزنٹیشن پیش کی ،تقریب کے انتظامات مظہر عالم، اشرف خان، منظر عالم ،محمد حسین، محمد مجید اللہ خان ،شاہد خان اور دیگر ساتھیوں نے سنبھالے ہوئے تھے۔ تقریب میں مہمانِ خصوصی صحافی فرحت خان اورشاہ رخ ویڈیو فوٹوگرافی کر رہے تھے جبکہ پاکستان کے ممتاز ٹی وی چینل 92 کے نمائندہ امریکہ انصاری رضوی ویڈیو بنا رہے تھے اور خصوصی طور پر رپورٹ بنا رہے تھے۔شرکاء کے مطابق شکاگو لینڈ میں یہ ایک شاندار ویادگار تقریب تھی۔
    رپورٹ.ثوبیہ راجپوت

  • دبئی ایئر شو کے دوران بھارتی طیارہ گر کر تباہ

    دبئی ایئر شو کے دوران بھارتی طیارہ گر کر تباہ

    دبئی میں جاری ائیر شو میں بھارتی طیارہ تباہ ہو گیا

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی طیارہ دبئی ائیر شو میں مظاہرے کے دوران گرا،بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی فضائیہ کا تیجاس طیارہ دبئی ائیر شو کے دوران گرا، بھارتی لڑاکا طیارہ مقامی وقت کے مطابق 2 بج کر 10منٹ پر گرا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق گرنے والے طیارے کے پائلٹس کے بارے میں معلومات لی جا رہی ہیں اور یہ پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث گرا یا پھر پائلٹ کی ناتجرکاری کی وجہ سے گرا۔

    خیال رہے کہ تیجس کو ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ہال) نے تیار کیا تھا، بھارت کے اپنے ملک میں تیار کردہ اس طیارے کی صلاحیتوں پر پہلے ہی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں،علم میں رہے کہ تیجس کو 4.5 جنریشن کا طیارہ قرار دیا جاتا ہے، جو جنریشن کے اعتبار سے رافیل کے ہم پلہ ہے۔

  • پاکستان ایک مرتبہ پھر عالمی گفتگو کا مرکز ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان ایک مرتبہ پھر عالمی گفتگو کا مرکز ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    گزشتہ کچھ عرصے سے عالمی سطح پر پاکستان کا نام غیر معمولی طور پر موضوع گفتگو بنا ہوا ہے۔ امریکہ ہو یا یورپی یونین دونوں خطوں کی پالیسی ساز ادارے اور ذرائع ابلاغ پاکستان سے متعلق مختلف حوالوں سے دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ تذکرہ محض اتفاق نہیں بلکہ متعدد عوامل کا نتیجہ ہے جنہوں نے پاکستان کو خطے کی اہم ریاست کے طور پر دوبارہ ابھارا ہے۔ عالمی طاقتوں کی توجہ بنیادی طور پر جنوبی ایشیا کی بدلتی صورتحال ہے۔ چین اور بھارت کے درمیان مسابقت اور افغانستان کی غیر یقینی پر مرکوز رہی ہے۔ اس تناظر میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جس کے کردار کو نظر انداز کرنا آج کسی بھی بڑی طاقت کے لیے ممکن نہیں رہا۔ پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں بھی حالیہ برسوں میں نسبتا فعال نظر آئی ہیں۔ اقوام متحدہ اور مختلف یورپی فورمز پر کشمیر، اسلام فوبیا، فلسطین اور موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم موضوعات پر پاکستان نے جس انداز میں اپنا موقف پیش کیا اسے مختلف سطحوں پر پذیرائی بھی ملی۔ یورپ اور امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی کا کردار بھی قابل ذکر ہے بیرون ملک کامیاب پاکستانی نہ صرف اپنے ملک کی نرم تصویر پیش کر رہے ہیں بلکہ کئی حلقوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں جو پاکستان کے مثبت تاثر کا ذریعہ بنتا ہے۔ تاہم عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت کا سب سے نمایاں پہلو سیکیورٹی اور دفاع کے شعبے سے جڑا ہوا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف طویل اور مشکل جنگ خطے کے حالات اور افغانستان کے تناظر میں پاکستان کے کردار کو عالمی طاقتیں خصوصی اہمیت دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل کے بیانات، پالیسی، نقطہ نظر اور بیرونی دورے عالمی توجہ کا مرکز رہتے ہیں۔ دفاعی تعاون، انٹیلیجنس روابط اور خطے میں توازن رکھنے کے اقدامات وہ عوامل ہیں جنہیں عالمی سطح پر نہایت سنجیدگی سے دیکھا جاتا ہے۔ پاک افغان سرحدی صورتحال، بھارت کے ساتھ کشیدگی، چین کے ساتھ اسٹریجک شراکت داری اور نیوکلیئر سکیورٹی جیسے معاملات میں پاکستان کا کردار بنیادی نوعیت رکھتا ہے۔

    عالمی برادری یہ جانتی ہے کہ خطے کے سلامتی کا کوئی بھی خاکہ پاکستان کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ یہ تمام عوامل یہ واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کا عالمی تذکرہ کسی ایک شعبے، ادارے یا شخصیت کا مرہون منت نہیں بلکہ ایک بڑے مجموعی کردار کا نتیجہ ہے۔ سفارتی سرگرمیاں، علاقائی صورتحال، سیکیورٹی چیلنجز اور عسکری قیادت سب نے مل کر پاکستان کو ایک مرتبہ پھر عالمی گفتگو کا مرکز بنا دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بڑھتی بین الاقوامی دلچسپی کو دانشمندی کے ساتھ پاکستان کے مفاد میں استعمال کیا جائے اور ایسے فیصلے کیے جائیں جو ملک کو پائیدار استحکام اور مضبوط سفارتی مقام دے سکیں۔

  • عورت اور حسد ،تحریر:نور فاطمہ

    عورت اور حسد ،تحریر:نور فاطمہ

    زندگی کی راہوں میں ہر عورت کبھی نہ کبھی ایسی کیفیت سے گزرتی ہے جب اسے لگتا ہے کہ شاید دوسروں کے پاس زیادہ خوشیاں، زیادہ سہولتیں یا زیادہ کامیابیاں ہیں۔ چاہے وہ گھر کی ساس بہو کا ماحول ہو، بہنوں کے درمیان مقابلہ ہو، یا آج کے دور میں سوشل میڈیا کا دباؤ،ہر جگہ ایک بےچینی سی جنم لیتی ہے جسے ہم “حسد” کہتے ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ حسد دل کو جلاتا ہے، مگر کسی کو فائدہ نہیں پہنچاتا۔ نہ اسے نعمتیں واپس ملتی ہیں، نہ سکون، نہ عزت، بلکہ الٹا انسان اپنی اصل صلاحیتوں سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔

    حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، خود کو کم تر محسوس کرنا،جب ہم خود کو دوسروں کے مقابلے میں کمزور یا ناکام سمجھنے لگتے ہیں تو دل میں ایک تشویش جنم لیتی ہے اور پھر حسد اس کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔آج ہر کوئی اپنی بہترین تصویر دکھا رہا ہے۔ فیس بک اور انسٹاگرام پر دوسری عورتوں کی خوبصورت تصویریں، کامیابیاں اور خوشگوار زندگیاں دیکھ کر اکثر خواتین خود کو کمتر سمجھنے لگتی ہیں۔دیکھو فلاں کی بیٹی کتنی کامیاب ہے، تم بھی کچھ کرو،اس قسم کے جملے عورت کے دل میں دوسروں کے خلاف بےچینی پیدا کرتے ہیں۔جب انسان اپنی موجود نعمتوں پر توجہ نہیں دیتا، تو دوسروں کی نعمتیں بڑی اور اپنی بہت چھوٹی لگنے لگتی ہیں۔بظاہر تو حسد دوسرے کے بارے میں ہوتا ہے، لیکن اصل نقصان حسد کرنے والے کو پہنچتا ہے، ذہنی سکون ختم ہو جاتا ہے،حسود شخص کبھی خوش نہیں رہتا، اسے ہمیشہ لگتا ہے کہ دنیا اس سے آگے بڑھ رہی ہے۔ عبادت اور دعا کا مزہ ختم ہوجاتا ہے کیونکہ دل میں نفرت اور بےچینی ہو تو اللہ کی قربت محسوس نہیں ہوتی۔ رشتے خراب ہونے لگتے ہیں،حسد آہستہ آہستہ رویے کو سخت بنا دیتا ہے، باتوں میں تلخی آجاتی ہے، اور یوں پیار بھرے رشتے متاثر ہوتے ہیں۔جو لوگ حسد میں مبتلا رہتے ہیں، ان کے ہاتھ کی برکت کھینچ لی جاتی ہے۔ جو کچھ اللہ نے دیا ہوتا ہے، وہ بھی بےسکونی میں ضائع ہونے لگتا ہے۔

    انسان چاہے کتنی بھی کوشش کر لے، کامیابی تبھی ملتی ہے جب اللہ چاہے۔اس دنیا میں کوئی کم محنت کرکے بھی زیادہ پا لیتا ہے،کوئی بہت کوشش کے باوجود تھوڑا حاصل کرتا ہے،کوئی دیر سے کامیاب ہوتا ہے،اور کسی کو بہت جلد عزت مل جاتی ہے۔یہ سب اللہ کی تقسیم ہے۔لہٰذا حسد کرنے کے بجائے قسمت لکھنے والے پر بھروسہ کرنا ضروری ہے۔

    عورت کے لیے بہترین راستہ، مقابلہ دوسروں سے نہیں، اپنے آپ سے ہونا چاہئے، اپنی نعمتوں پر غور کریں،ہر عورت کے پاس وہ کچھ ہوتا ہے جو کسی اور کے پاس نہیں۔ کبھی صرف بیٹھ کر اپنی نعمتوں کی فہرست بنائیں۔ اپنے مقصد پر توجہ دیں،دوسروں کے کام چھوڑیں، اپنی زندگی کے مقصد کو بہتر بنانے پر فوکس کریں۔ دعا اور شکر کرنا اپنا معمول بنائیں،جو چیز شکر سے بڑھتی ہے، وہ حسد سے ختم ہو جاتی ہے۔ دوسروں کے لیے بھلائی چاہیں،جو لوگ دوسروں کے لیے خیر چاہتے ہیں، اللہ ان کی قسمت سے بھلائیاں بڑھا دیتا ہے۔

    حسد کی جگہ محبت لے آئے تو زندگی بدل جاتی ہے،اگر عورت اپنے دل سے حسد نکال دے توچہرے پر سکون اتر آتا ہے، رشتوں میں محبت بڑھ جاتی ہے،اللہ کی مدد شاملِ حال ہوجاتی ہے،گھر میں خوشیاں بڑھتی ہیں کیونکہ اللہ پاک دلوں کو پسند کرتا ہے۔ بلندیاں حسد سے نہیں، صبر، محنت اور دعا سے ملتی ہیں،دنیا کی ہر کامیابی کا اصل ذریعہ اللہ کی ذات ہے،انسان صرف کوشش کرتا ہے، دروازے اللہ کھولتا ہے لہٰذا حسد چھوڑ دیں، اللہ پر بھروسہ کریں، اپنی محنت جاری رکھیں اور یقین رکھیں کہ جو آپ کا نصیب ہے، وہ کوئی نہیں چھین سکتا۔

  • پاکستانی صحافت  میں جرات اور شناخت ، تحریر:محمد ندیم بھٹی

    پاکستانی صحافت میں جرات اور شناخت ، تحریر:محمد ندیم بھٹی

    پاکستانی میڈیا کے سفر پر نظر ڈالیں تو یہ صرف چینلز کے اضافے اور اسکرینوں کی چمک دمک تک محدود نہیں بلکہ یہ ارتقائی عمل کئی نظریاتی لڑائیوں، ریاستی و سیاسی دباؤ، معاشی چیلنجز اور پیشہ ورانہ اصولوں کی بقا کی جدوجہد سے عبارت ھے۔ ایسے ماحول میں وہ صحافی اور اینکر زیادہ اہمیت اختیار کر جاتے ہیں جو محض ٹی وی کی روایتی سرگرمی تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنے کردار، طرزِ فکر، تحقیق، سوال کی نوعیت اور عوامی اثر کے اعتبار سے ایک الگ شناخت قائم کریں۔ مبشر لقمان کا نام اسی زمرے میں آتا ھے جہاں شخصیت نسبتاً متنازع سہی مگر پیشہ ورانہ اثر انگیزی اپنی جگہ واضح، معروضی اور ناقابل انکار دکھائی دیتی ھے۔ اسی تناظر میں انہیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کے لیے نامزد کیا جانا ایک علامتی اور معنوی فیصلہ ھے جس کے اثرات صرف شخصی اعتراف تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ میڈیا کے اندر جرأت انگیزی کی اقدار کے لیے ایک ریفرنس پوائنٹ کے طور پر بھی تسلیم کیے جائیں گے۔

    پاکستان میں صحافتی پیشہ ہمیشہ طاقت، دباؤ، وقعت، سازش، اور انسدادِ آزادی کے باہمی تصادم کا مرکز رہا ھے۔ یہاں وہ صحافی زیادہ کامیاب سمجھے جاتے ہیں جو گفت و شنید میں مہارت، حکمت عملی، نرم لفاظی اور ادارہ جاتی مفادات کے توازن کو برقرار رکھتے ہیں، مگر کچھ صحافی اس روایتی لائن سے ہٹ کر سخت سوالات اور ہدفی تحقیق کے ذریعے خود کو اسٹیٹس کے مقابل رکھتے ہیں۔ مبشر لقمان اسی اسلوب کے نمائندہ صحافی ہیں جنہوں نے میڈیا کی پوزیشننگ کی بجائے اپنی شناخت کو ترجیح دی۔ یہ طرز عمل ان کے لیے پیشہ ورانہ سطح پر ریپیوٹ، اثر اور شناخت کا سبب بنا مگر ساتھ ہی تنقید، تنازع اور مزاحمت کا محرک بھی رہا۔ یہی وہ تقابلی تناظر ہے جو انہیں دیگر روایتی اینکرز سے ممتاز کرتا ہے۔

    پاکستان میں انویسٹی گیٹو صحافت کی حیثیت بیشتر اوقات سیاسی نتیجہ خیزی کے بغیر صرف تفریحی جھٹکے کی صورت میں سامنے آتی ھے، مگر مبشر لقمان نے اپنی نشریاتی حکمت عملی میں تحقیق، نکات کی تسلسل، فیکٹ بیس رپورٹنگ اور اسٹیٹ پرفارمنس کے سوالات کو مرکزی حیثیت دی۔ ان کا مقصد صرف خبریں پہنچانا نہیں بلکہ سوال کے نتائج کو اداروں، پالیسی سازوں اور طاقت کے مراکز پر اثر انداز کرنا تھا۔ یہی نقطہ انہیں قابلِ اعتراض بھی بناتا ھے اور قابلِ توجہ بھی۔

    یہ بھی قابل ذکر ھے کہ انہوں نے ڈیجیٹل جرنلزم کی پاکستان میں اہمیت کو کافی پہلے پہچان لیا تھا۔ جب زیادہ تر صحافی ٹیلی ویژن کی ریٹنگ کو اپنی واحد ترجیح سمجھ رھے تھے، مبشر لقمان نے ناظرین کو حقیقت پسندانہ مواد کی فراہمی کا آغاز کیا۔ اس عمل نے انہیں محض ایک ٹی وی اینکر سے ڈیجیٹل میڈیا پالیسی انفلوئنسر میں تبدیل کر دیا۔ یہ تبدیلی مستقبل کے میڈیا میں ترقی کا وہ رخ دکھاتی ھے جہاں کنٹرولڈ ایڈیٹوریل بورڈ کی بجائے پبلک ڈائریکٹ رسپانس میڈیا فیصلہ کن مقام رکھتا ھے۔

    صحافی کی زندگی صرف سچ بولنے یا حقیقت دکھانے سے پیچیدہ نہیں بنتی بلکہ اصل پیچیدگی اس بات میں ھے کہ سچائی کے نشر کیے جانے کے بعد اس کے اثرات کیسے مرتب ہوتے ہیں۔ مبشر لقمان نے جہاں سوالات اٹھائے وہاں انہیں اس بات کا علم تھا کہ نتائج صرف عوامی بحث پر نہیں رکیں گے بلکہ طاقت کے مراکز تک بھی جائیں گے۔ یہی پیشہ ورانہ حاضر دماغی انہیں نظریاتی صحافت کے خانے میں بھی اہم بناتی ھے۔
    میرے مطابق ان کا انداز زیادہ صریح، تلخ اور براہ راست ھے جس کی وجہ سے بعض اوقات تاثر حقیقت پر غالب محسوس ہوتا ھے، مگر اصل بحث یہ ھے کہ سوال کس بنیاد اور شواہد پر رکھا گیا ھے۔ بین الاقوامی سطح پر ٹرائل اینڈ انویسٹی گیٹو جرنلزم کے درمیان فرق سمجھنا ضروری ھے۔ پاکستان میں میڈیا ریٹنگ سسٹم آج بھی زیادہ تر ہائی ڈرامہ مواد کو ترجیح دیتا ھے جبکہ مبشر لقمان کا پاور پالیٹکس انکویری ماڈل الگ نوعیت رکھتا ھے۔

    صحافت کی عالمی تاریخ میں ایسے کردار کم نہیں جنہوں نے سوال کی حرارت کو پیشہ ورانہ معیار بنایا۔ امریکی صحافی باب ووڈورڈ اور کارل برنسٹین نے واٹر گیٹ اسکینڈل کے ذریعے انویسٹی گیٹو جرنلزم کو نئی پہچان دی اور وسطِ مشرق کے طاقت اور انسانی حقوق کے تضادات پر سوال اٹھائے، جبکہ جولیان اسانج اور ایڈورڈ سنوڈن نے ملٹی نیشنل سسٹمز میں چھپے ڈیٹا اور انٹیلی جنس پالیسیوں کو منظر عام پر لایا۔ ڈیوڈ فراسٹ نے نکسن انٹرویوز کے ذریعے مکالمے کو احتساب کا فن ثابت کیا۔ یہ تمام مثالیں یہ بتاتی ہیں کہ انویسٹی گیٹو صحافت کسی ایک ملک کی روایت نہیں بلکہ عالمی فکری مہم کا حصہ ھے۔ اسی تناظر میں مبشر لقمان کی صحافت کا اسلوب مقامی میڈیا کے روایتی انداز سے کچھ مختلف دکھائی دیتا ھے، جہاں سوال کی جسارت اور جواب کی سماجی قیمت ایک ہی سطح پر رکھی گئی ھے۔

    جب پاکستانی میڈیا کا مرکز محض ٹی وی ریٹنگ سسٹم تک محدود تھا، تب مبشر لقمان نے ڈیجیٹل میڈیا کو مستقبل کا فیصلہ کن میدان سمجھا۔ ان کا ایک ڈیجیٹل پبلک ڈائریکٹ میڈیا ماڈل ھے جو عالمی پلیٹ فارمز جیسے VICE، AJ+, BBC Trending، Vox سے ہم آہنگ نظر آتا ھے۔ اس ماڈل میں صحافی کا واسطہ ریٹنگ ڈیسک سے نہیں بلکہ براہ راست عوامی ردِ عمل سے ھوتا ھے، جو عالمی سطح پر ریسپانس جرنلزم کہلاتا ہے۔ اس طرح کا ماڈل صحافی کو محض خبریں پہنچانے والا نہیں بلکہ میڈیا آرکیٹیکٹ بناتا ھے، اور یہی تبدیلی مبشر لقمان کی ٹائم لائن میں واضح ھے۔

    تاریخ بتاتی ھے کہ طاقت کو سوال کبھی پسند نہیں آتا، چاہے دنیا کا کوئی بھی خطہ ہو۔ امریکی صحافیوں کو پینٹاگون لیکس پر عدالتوں کا سامنا کرنا پڑا، برطانوی رپورٹرز کو رازداری قوانین نے ٹکرایا، عرب صحافیوں کو انسانی حقوق کے لیے اپنی جان کی قیمت چکانی پڑی، یورپی رپورٹرز کو کارپوریٹ لابیز کا سامنا کرنا پڑا، اور پاکستانی صحافیوں کو پالیسی، دباؤ اور پراکسی بیانیے کے ساتھ ہموار ھونا پڑا۔ یہ وہ عالمی حقیقت ہے جو مبشر لقمان کے پیشہ ورانہ سفر کے تناظر میں بھی نظر آتی ھے، جہاں سوال کا وزن جواب کی قیمت سے زیادہ بھاری رہتا ھے۔

    پاکستانی میڈیا کا مستقبل کیمرہ کی بے ساختگی یا الفاظ کی چمک میں نہیں بلکہ تحقیق کی تہ داری، سوال کے منطقی زاویے، فیکٹ بیسڈ رپورٹنگ اور ڈیجیٹل انٹرایکٹیو جرنلزم میں ھے۔ جو صحافی مواد کو مشاہداتی سچائی کے ساتھ جوڑیں گے وہ آنے والے عالمی میڈیا ماڈلز میں جگہ بنائیں گے۔مبشر لقمان کی نامزدگی پر رائے مختلف ہو سکتی ھے مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انہوں نے پاکستانی صحافت میں سوال کی قیمت، ڈیجیٹل ڈائریکشن اور انویسٹی گیٹو ڈائنامکس کو ایک تاریخی کیس اسٹڈی کی صورت دے دی ھے۔ اعتراف ہمیشہ تالیاں نہیں بلکہ وقت اور اثرات دیتے ہیں، اور یہی اصل Lifetime Achievement ھے۔

  • پاکستان کا اصل مسئلہ قیادت کا بحران،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کا اصل مسئلہ قیادت کا بحران،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز میں ایک بار پھر سیاسی شور، جلسوں اور ممکنہ نئی تحریک کی باز گشت گونج رہی ہے۔ مگر اس شور میں ایک عجیب سی خاموشی بھی سنائی دیتی ہے ایک ایسی خاموشی جو سیاسی کمزوری، قیادت کے بحران اور عوامی بے اعتمادی کی کہانی سناتی ہے۔ سوال یہ ہے آج کی تحریکیں ماند کیوں پڑ گئی ہیں؟ اور وہ کون سی کڑیاں ٹوٹ چکی ہیں جن سے کبھی سیاسی تحریکیں طاقت حاصل کرتی تھیں؟ سچ یہی ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ قیادت کا بحران ہے وہ عظیم، قدآور، نظریاتی رہنما اب ناپید ہیں جن کی زبان میں اثر تھا، جن کے قدموں میں عوام کی طاقت تھی اور جن کے فیصلے ذاتی نہیں بلکہ قومی مفاد کی علامت ہوتے تھے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قوم ایک مقصد پر اگھٹی ہوئی اس کی قیادت کسی نہ کسی مضبوط شخصیت کے ہاتھ میں تھی۔ ایوب کے خلاف تحریک بھٹو کا عوامی ابھار ہو، ایم آر ڈی کی جدوجہد ہو یا 2007 کی وکلاء تحریک ہر دور میں ایسی شخصیات موجود تھیں جن کا قد، ویژن اور اثر موجودہ سیاست میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ نوابزادہ نصراللہ مرحوم، خان ولی خان مرحوم، قاضی حسین احمد مرحوم، غوث بخش بزنجو، عطا اللہ مینگل، مفتی محمود اور دوسرے کئی سیاستدان یہ سب وہ نام تھے جن کے ہوتے سیاسی تحریکیں صرف شور نہیں ہوتیں ایک سمت رکھتی تھیں۔ ایک حدف ہوتا تھا، سب سے بڑھ کر ایک قیادت ہوتی تھی، آج کا منظر نامہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ تحریکیں موجود ہیں، نعروں کی گونج ہے، پریس کانفرنسیں ہیں، سوشل میڈیا کا شور ہے، مگر قائد نہیں۔ ماضی کے رہنما نظریات رکھتے تھے آج کی سیاست شخصیات اور ٹرینڈز پر کھڑی ہے اِدھر ایک بیان، اُدھر ایک بیان، اِدھر ایک کلپ، بس یہی سیاست رہ گئی ہے۔

    سیاسی جماعتوں میں اندرونی انتخابات کا نہ ہونا، خاندانوں اور محدود حلقوں کا قبضہ، رہنما سازی کے عمل کو بالکل مفلوج کر چکا ہے۔ دوسری جانب جب جمہوری سلسلہ بار بار ٹوٹے تو سیاسی قیادت درخت کی طرح جڑیں کبھی مضبوط نہیں بنا سکتی۔ جب سیاست اصول سے ہٹ کر مفاد، لوٹے بازی اور وزارتوں کے گرد گھومنے لگے تو عوامی لیڈر کم اور سیاسی دکاندار زیادہ پیدا ہوتے ہیں۔ قیادت وہ ہوتی ہے جو گلی، محلوں، یونین کونسلوں اور عوامی جدوجہد سے ابھرے، نہ کہ جھوٹے فالورز سے۔ آج کی سیاسی تحریکیں شور تو بہت کرتی ہیں مگر روح سے خالی ہیں، وجہ ایک ہی ہے قیادت کا بحران۔ وطن عزیز اس وقت ایک ابھرتے ہوئے سیاسی خلاء کے بیچ کھڑا ہے ایسا خلاء جسے پر کرنے کے لیے نئے قدرآور رہنماؤں، نئی سیاسی سوچ اور عوامی اعتماد کی ضرورت ہے۔ جب تک ایسی قیادت سامنے نہیں آتی وطن عزیز میں کوئی نئی تحریک کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی صرف آوازیں رہیں گی اثر نہیں ہوگا۔ قوموں کی تقدیر یاد رکھیے جلوسوں سے نہیں بدلتی، نظریاتی قیادت اور مضبوط سیاسی روایت سے بدلتی ہے، وطن عزیز اسی قیادت کا منتظر ہے۔