Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • اک ادبی محفل کا حال ،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    اک ادبی محفل کا حال ،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    آٹھ فروری کو پنجاب یونیورسٹی ایگزیکٹو کلب میں ایک ایک باوقار نشست منعقد کی گئی جس کا اہتمام یاسر پبلیکیشنز کی بانی اور اونر با صلاحیت فاطمہ شیروانی نے کیا یہ تقریب، ، فریم سے باہر ،، کی مصنفہ دعا عظیمی کو رائٹر گلڈ انعام ملنے کی خوشی میں اور یاسر پبلیکیشنز سے شائع ہونے والی معروف ادیب سلمان باسط صاحب کی کتب کی تقریب پذیرائی کے سلسلے میں تھی جو بہت مقبول ہوئیں، تقریب کی صدارت سلمہ اعوان صاحبہ نے کی مہمانان خصوصی میں سلمان باسط صاحب ، غلام حسین ساجد صاحب اور سعید اختر ملک صاحب تھے ان سب نے کتابوں پر بہت اچھی گفتگو کی خاص طور پر تقریب میں شامل سینر ادیب حسین مجروح صاحب نے بہت سیر حاصل تبصرہ کیا اور بہت موثر اور مدلل گفتگو کی انہوں نے سلمان باسط صاحب کی کتاب، ، خاکی خاکے،، دعا عظیمی کی کتاب ،، فریم سے باہر، ، اور سعید اختر ملک صاحب کی کتاب، ، سوچ دلاان ،، پر بہت عمدہ اور باریک بینی سے اظہار خیال کیا ،

    سلمان باسط صاحب نے اپنی کتاب ،، خاکی خاکے ،، سے ایک خاکہ پڑھ کر سنایا جس سے محفل زعفران زار بن گئی ، تقریب کے شرکاء کو بھی گفتگو کا موقع دیا گیا اور آخر میں سلمہ اعوان صاحبہ نے صدارتی خطبہ دیا یہ تقریب بہت شاندار رہی فاطمہ شیروانی نے بہت عمدہ ڈنر کا انتظام کیا تھا بہت لذیذ کھانا تھا آخر میں کیک بھی کاٹا گیا اور شرکاء کو کتب کا تحفہ بھی دیا گیا، موسم بہت خوشگوار تھا یونیورسٹی ایگزیکٹو کلب کا جگمگاتا خوبصورت ہال ، خوبصورت پینٹنگز اور فرنیچر سے مزین کوریڈور ، اور پھر لش گرین لان رات کی خنکی اور فسوں سے بہت اچھا لگ رہا تھا شرکاء میں حسین مجروح
    اشفاق احمد ورک
    غلام حسین ساجد
    سلمان باسط
    محمود ظفر ہاشمی
    قرة العین شعیب
    روزینہ زرش بٹ
    مریم چویدری
    ڈاکٹر عظمی
    ثروت جہاں
    زرقا فاطمہ
    عطرت بتول
    دعا عظیمی
    سلمی اعوان
    فاطمہ شیروانی اور
    رقیہ اکبر چوہدری شامل تھیں

    دعا عظیمی اور فاطمہ شیروانی کو مبارکباد، اللہ تعالٰی لکھنے والوں کے قلم کو ہمیشہ رواں رکھے ، فاطمہ شیروانی ہمارے ملک کی مایہ ناز پبلشر کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے آمین
    lahore

  • ہاتھوں میں دعا آنکھوں میں عمر بھر کا بوجھ،تحریر: آمنہ خواجہ

    ہاتھوں میں دعا آنکھوں میں عمر بھر کا بوجھ،تحریر: آمنہ خواجہ

    یہ تصویر کسی ایک انسان کی نہیں ایک پوری نسل کی کہانی سناتی ہے۔ جھکی ہوئی پیشانی آنکھوں پر رکھا ہوا ہاتھ اور سامنے پھیلی ہوئی ہتھیلیاں جیسے زندگی نے بہت کچھ کہہ دیا ہو اور اب الفاظ ختم ہو گئے ہوں۔
    یہ وہ ہاتھ ہیں جنہوں نے کبھی بچوں کو تھام کر چلنا سکھایا کبھی مزدوری کی سختی جھیلی کبھی خالی جیب کے ساتھ بھی گھر کی دہلیز پر مسکراہٹ رکھ دی۔ مگر آج یہی ہاتھ سوال بن گئے ہیں۔ سوال لوگوں سے نہیں وقت سے تقدیر سے، اور شاید اپنے ہی دل سے۔
    چہرے کی جھریاں صرف عمر کی نشانیاں نہیں ہوتیں یہ ان راتوں کا حساب بھی ہوتی ہیں جو فکر میں کٹ گئیں ان دنوں کی گنتی بھی جن میں اپنی خواہشیں بچوں کی ضرورتوں پر قربان ہو گئیں یہ آنکھیں اگر بند ہیں تو نیند کے لیے نہیں شاید اس لیے کہ آنسو اب دکھائے نہیں جاتے۔

    اخبار کے صفحے پر چھپنے والی یہ تصویر ہمیں جھنجھوڑتی ہے۔ یہ یاد دلاتی ہے کہ ہمارے اردگرد کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو مانگتے نہیں بس خاموشی سے دعا کے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں۔ جن کا دکھ شور نہیں کرتا مگر دل ہلا دیتا ہے۔
    یہ تصویر ہم سب سے ایک سوال پوچھتی ہے:
    کیا ہم نے ان ہاتھوں کو وقت پر تھاما؟
    یا پھر ہم بھی گزر گئے یہ کہہ کر کہ یہ تو کسی اور کی ذمہ داری ہے؟
    شاید انسان کی اصل پہچان یہی ہے کہ وہ جھکے ہوئے سروں کو سہارا دے اور ان خاموش دعاؤں کا جواب بن جائے جو لفظوں کے بغیر بھی آسمان تک پہنچ جاتی ہیں۔

  • لاہور میں بسنت: تہوار، تضاد اور تلخ سوالات،تحریر:شہزاد قریشی

    لاہور میں بسنت: تہوار، تضاد اور تلخ سوالات،تحریر:شہزاد قریشی

    پچیس برس بعد لاہور میں بسنت منانے کی اجازت دیے جانے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اس ایک شہر میں بسنت کے نام پر کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ بسنت نہ کوئی اسلامی تہوار ہے اور نہ ہی کوئی قومی روایت،یہ محض ایک کھیل تماشہ ہے، جسے دنیاوی تفریح کہا جا سکتا ہے۔ مگر سوال یہ نہیں کہ بسنت کھیل ہے یا تہوار؛ اصل سوال وہ تضاد ہے جو اس فیصلے نے بے نقاب کر دیا ہے۔

    پاکستان کے بارے میں برسوں سے کہا جا رہا ہے کہ یہ ایک غریب ملک ہے۔ یہی بیانیہ عالمی مالیاتی اداروں، ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور خود ہمارے سیاسی و میڈیا حلقوں میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔ لیکن جب صرف لاہور جیسے ایک شہر میں کروڑوں روپے پتنگ بازی پر اڑا دیے جائیں، تو ایک فطری سوال جنم لیتا ہے اگر یہاں پیسہ ہے، تو پھر غربت کہاں ہے؟ اور اگر غربت ہے، تو یہ پیسہ کہاں سے آ رہا ہے؟یہ تضاد پاکستان کے اس سرکاری بیانیے کو کمزور کرتا ہے جس کی بنیاد پر ہم عالمی اداروں کے سامنے مالی مدد کے لیے ہاتھ پھیلاتے ہیں۔ عالمی سطح پر یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ شاید مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، بلکہ ترجیحات کی خرابی ہے۔

    دوسری طرف، بسنت کے آغاز کے ساتھ ہی ایک قیمتی جان ضائع ہو چکی ہے اور متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ بسنت کے ساتھ کیمیائی ڈور، چھتوں سے گرنے کے واقعات اور ہنگامہ آرائی جڑی رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک دن کی تفریح کے بدلے ہمیں کیا ملا؟ ایک لاش؟ چند زخمی؟ اور ایک بار پھر وہی پرانا المیہ؟ریاست کی ذمہ داری صرف اجازت دینا نہیں، بلکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ بھی ہے۔ اگر کسی سرگرمی کے نتیجے میں انسانی جانیں ضائع ہوں، تو پھر اس سرگرمی کے جواز پر سنجیدگی سے غور لازم ہو جاتا ہے۔

    بسنت سے نہ معیشت کو دیرپا فائدہ پہنچتا ہے، نہ غربت کم ہوتی ہے، نہ ہی قومی وقار میں اضافہ ہوتا ہے۔ البتہ اس سے یہ پیغام ضرور جاتا ہے کہ ہم بطور قوم ترجیحات طے کرنے میں ناکام ہیں،جہاں تعلیم، صحت اور روزگار کے بجائے وقتی تماشوں کو فوقیت دی جاتی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جشن منانے اور قومی ذمہ داری میں فرق سیکھیں۔ خوشی منانا جرم نہیں، مگر خوشی کی قیمت اگر انسانی جان ہو اور قومی بیانیہ کمزور پڑ جائے، تو یہ خوشی نہیں، غفلت بن جاتی ہے۔

  • کشمیر کے ساتھ بیوفائی کرنے والوں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی،تابش قیوم

    کشمیر کے ساتھ بیوفائی کرنے والوں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی،تابش قیوم

    مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم نے کہا ہے کہ کشمیر کے ساتھ بیوفائی کرنے والوں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی، کشمیر پاکستان کی شہہ رگ تھی ،ہے اور رہے گی، کشمیر پر ریاست بیرونی دباؤ میں آنے کی بجائے اصولی مؤقف اختیار کرے، کشمیریوں کی جدوجہد آزادی رائیگاں نہیں جائے گی

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر بانی صدر اپووا ایم ایم علی، سینئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان سمیت دیگر موجود تھے،تابش قیوم کا کہناتھا کہ کشمیر کی وادیوں میں آزادی کے لیے نوجوانوں نے قربانیاں دیں آج انکو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے، حالات جو بھی ہوں لیکن کشمیر کے ساتھ بیوفائی کی گئی، شہدا کی تحریریں پڑھ کر یقین ہوتا ہے کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ،کشمیرایک فلیش پوائنٹ ہے،ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست اپنی پالیسیوں کی اصلاح کرے، بیرونی دباؤ، غلط فہمیاں ختم کرے، آزادی کشمیر کی جدوجہد کی حمایت کرنے والوں پر پابندیاں لگا کر تحریک کشمیر کو کمزور کیا گیا،مقبوضہ کشمیر میں سیدہ آسیہ اندرابی ایک خاتون ہونے کے باوجود ڈٹ کر کھڑی ہیں،اور ہم یہ سمجھتے رہے کہ کشمیر کا نام لیں گے تو قرضہ نہیں ملے گا،اب حالات دیکھ لیں دشمن کشمیر تک نہیں رکا،بلوچستان خیبر پختونخوا میں موجود ہے،دشمن نے کشمیر تو دور آپ کے وجود کو بھی تسلیم نہیں کیا،پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا بہانہ بنا کر بھارت نے پاکستان کی مسجدوں پر حملے کئے تو مسلح افواج نے بنیان مرصوص شروع کیا ،پھر دشمن کی حیثیت دیکھ لی ،پاکستان کے مقابلے میں بھارت کی فوج کچھ بھی نہیں،ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیر کے حوالہ سے عالمی سطح پر حکومت کام کرے، بیرون ممالک میں کشمیر ڈیسک بنائے جائیں، تعلیمی اداروں میں تحریک بنا کر کشمیر پر قوم کو متحد کیا جائے.

  • بلوچستان میں پاکستان کا تیز رفتار انسدادِ دہشت گردی ردِعمل، تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    بلوچستان میں پاکستان کا تیز رفتار انسدادِ دہشت گردی ردِعمل، تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    کیا ہوا — اور یہ کیوں اہم ہے
    حالیہ دنوں میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) نے ایک غیر معمولی اور پرخطر قدم اٹھایا: بلوچستان کے 12 سے 16 شہروں اور قصبوں میں بیک وقت مربوط حملوں کی کوشش۔ مقصد واضح تھا—بدامنی پھیلانا، اپنی طاقت کا تاثر دینا، اور بھرتی کے بیانیے کو دوبارہ زندہ کرنا۔
    لیکن اس کے برعکس جو ہوا، وہ حالیہ برسوں میں پاکستان کے تیز ترین اور فیصلہ کن انسدادِ دہشت گردی اقدامات میں سے ایک تھا۔
    48 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں، پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے:
    تقریباً 200 دہشت گردوں کو ہلاک کیا
    بڑی تعداد میں کارندوں کو گرفتار کیا
    دوبارہ منظم ہونے یا فرار کو روکنے کے لیے ہاٹ پرسوٹ آپریشنز شروع کیے
    عالمی انسدادِ دہشت گردی کے تناظر میں یہ ردِعمل اس لیے نمایاں ہے کہ یہاں صرف اعداد نہیں، بلکہ رفتار، ہم آہنگی اور نظامی خلل کی گہرائی اہم ہے۔

    آپریشنل پھیلاؤ (نقشہ جاتی وضاحت)
    اگرچہ اصل نقشہ تزویراتی تفصیل دکھاتا، مگر آپریشنل دائرہ یوں سمجھا جا سکتا ہے:
    حملہ اور ردِعمل کے علاقوں میں شامل تھے:
    شمالی بلوچستان کے اضلاع
    وسطی نقل و حمل اور مواصلاتی راہداریوں
    جنوبی ساحلی اور اطرافی علاقے
    یہ وسیع جغرافیائی پھیلاؤ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ:
    بی ایل اے نے صوبے بھر میں بیک وقت دباؤ ڈالنے کی کوشش کی
    پاکستان نے انفرادی ردِعمل کے بجائے صوبہ گیر انٹیلی جنس ایکٹیویشن کے ساتھ جواب دیا
    انسدادِ دہشت گردی کی اصطلاح میں یہ صوبائی سطح پر کمانڈ سنکرونائزیشن کی مثال ہے—ایک ایسی صلاحیت جس کے حصول میں کئی ریاستیں ناکام رہتی ہیں۔

    وہ اعداد جنہوں نے منظرنامہ بدل دیا
    بی ایل اے کی قوت بمقابلہ نقصانات
    زمرہ
    اندازاً تعداد
    بی ایل اے کے کل جنگجو
    ~1,500
    ہلاک کیے گئے دہشت گرد
    ~200
    ہلاک شدہ فیصد
    ~13%
    وقت
    < 48 گھنٹے سادہ الفاظ میں: دو دن میں کسی مسلح تنظیم کے دس فیصد سے زائد افرادی قوت کا خاتمہ تباہ کن ہوتا ہے۔ زیادہ تر عسکریت پسند گروہ محدود نقصانات برداشت کر لیتے ہیں، مگر وہ آسانی سے بحال نہیں ہو پاتے جب: اچانک افرادی قوت میں کمی ہو تربیت یافتہ جنگجو ضائع ہو جائیں ٹھکانوں اور سہولت کاروں کا انکشاف ہو جائے عالمی سی ٹی تجزیہ کار اسے بڑی کامیابی کیوں سمجھتے ہیں
    بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی جائزے صرف “کتنے مارے گئے” پر نہیں رکتے؛ وہ دیکھتے ہیں کہ کون سے نظام ٹوٹے۔
    اس آپریشن نے متاثر کیا:
    کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورکس
    شہری سلیپر سیلز
    اضلاع کے درمیان نقل و حرکت کی راہداریاں
    بھرتی کی رفتار اور تاثر
    دنیا کے کئی محاذوں—ساحل (Sahel) سے مشرقِ وسطیٰ تک—میں اسی نوعیت کی کمی حاصل کرنے میں مہینے لگتے ہیں، اکثر بیرونی مدد کے ساتھ۔
    پاکستان نے یہ کارنامہ مقامی صلاحیت کے ذریعے اور انتہائی تیزی سے انجام دیا۔
    اصل نقصان: نفسیاتی دھچکا اور بھرتی کا انہدام
    دہشت گرد تنظیموں کے لیے تاثر، اسلحے جتنا ہی اہم ہوتا ہے۔
    بی ایل اے کے اہداف تھے:
    اپنی رسائی دکھانا
    اپنی اہمیت جتانا
    نئے بھرتی حاصل کرنا
    نتیجہ مگر الٹ نکلا:
    فوری نشاندہی
    فوری غیر مؤثر بنانا
    محفوظ آپریٹنگ اسپیس کا خاتمہ
    ممکنہ بھرتی کے لیے پیغام سخت اور واضح ہے: “تم زیادہ دیر نہیں ٹکو گے۔”
    یہ خوف آئندہ بھرتی کے خلاف ایک طاقتور رکاوٹ بنتا ہے۔

    تزویراتی پیغام*Strategic Message

    بلوچستان سے آگے تک
    یہ آپریشن کئی سطحی پیغامات دیتا ہے:
    عسکریت پسندوں کے لیے: بڑے پیمانے کی ہم آہنگی تیز رفتار تباہی کو دعوت دیتی ہے
    سرپرستوں اور سہولت کاروں کے لیے: پراکسی تشدد سے دباؤ یا فائدہ حاصل نہیں ہوگا
    عالمی برادری کے لیے: پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی صلاحیت ایک فاسٹ ری ایکشن، انٹیلی جنس غالب ماڈل میں ڈھل چکی ہے
    یہ پاکستان کے اس مؤقف کو بھی مضبوط کرتا ہے کہ بلوچستان میں عدم استحکام بیرونی عناصر کے ذریعے بھڑکایا جاتا ہے، مگر اندرونِ ملک اسے عزم کے ساتھ ناکام بنایا جاتا ہے۔

    خلاصہ

    محض تاکنیکی کامیابی سے بڑھ کر
    بی ایل اے کے مربوط حملوں پر پاکستان کا ردِعمل صرف کامیاب نہیں تھا—یہ تزویراتی طور پر سبق آموز بھی تھا۔
    48 گھنٹوں سے کم وقت میں کسی دہشت گرد تنظیم کے تقریباً 13 فیصد کا خاتمہ:
    آپریشنل رفتار توڑ دیتا ہے
    حوصلہ پست کر دیتا ہے
    بھرتی کے بیانیوں کو کمزور کر دیتا ہے
    وسیع اور پیچیدہ جغرافیے میں ریاستی رِٹ کو مضبوط کرتا ہے
    جیسے جیسے ہاٹ پرسوٹ آپریشنز جاری ہیں، بی ایل اے کو صرف نقصانات نہیں بلکہ وجودی ساکھ کے بحران کا سامنا ہے۔ پاکستان کے لیے، یہ کارروائی ایک پُراعتماد اور جدید انسدادِ دہشت گردی مؤقف کی عکاس ہے جسے دنیا اب نظرانداز نہیں کر سکتی۔

    میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و تزویراتی تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس اسٹریٹیجی اور دفاعی جدید کاری میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینیٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں

  • عالمی منڈی میں آلو کی برآمدات اور کسانوں کے مسائل ،تحریر :کامران اشرف

    عالمی منڈی میں آلو کی برآمدات اور کسانوں کے مسائل ،تحریر :کامران اشرف

    پنجاب کے زرعی شعبے کے لیے حالیہ دنوں میں بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب، محترمہ مریم نواز شریف کی قیادت میں کی جانے والی زرعی اصلاحات نے آلو کے کاشتکاروں کے لیے نہ صرف امید کی کرن روشن کی بلکہ ان کی محنت کو منافع بخش بنانے کا عملی راستہ بھی کھولا ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں آلو کی پیداوار میں 25 فیصد اضافہ اور 12 ملین میٹرک ٹن کی تاریخی پیداوار نے پنجاب کو آلو کی عالمی منڈی میں ایک اہم کھلاڑی بنانے کی بنیاد رکھی ہے۔

    آلو کی بمپر فصل، اگرچہ کاشتکاروں کے لیے خوشی کی خبر ہے، مگر اس کے ساتھ ایک بڑا چیلنج بھی جڑا ہوا ہے: پیداوار کے ضائع ہونے کا خطرہ۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان سے آلو کی برآمد کی اجازت طلب کی۔ مریم نواز شریف نے واضح کیا کہ وہ اپنے کسانوں کو مڈل مین یا مارکیٹ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گی اور انہیں مناسب معاوضہ دلانے کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر نئی برآمدی منڈیوں تک رسائی کے عملی اقدامات کر رہی ہیں۔

    پنجاب حکومت کی کوششیں صرف پیداوار بڑھانے تک محدود نہیں رہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر برآمدات کے لیے قازقستان سمیت دیگر بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے اقدامات بھی جاری ہیں۔ مریم نواز شریف کے مطابق، قازقستان پہلا قدم ہے اور اس کے بعد مزید بین الاقوامی زرعی منڈیوں تک رسائی حاصل کی جائے گی تاکہ آلو کی ریکارڈ پیداوار کو کوڑیوں کے بھاؤ نہ بیچا جائے۔

    کسانوں کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ فصل کی منڈیوں تک آسان رسائی ہے۔ زمین کی تیاری، فصل کی اگائی، دیکھ بھال، کھاد اسپرے اور پانی کی فراہمی جیسے اقدامات میں محنت کے باوجود، کئی بار کسان منافع نہ کما پاتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے اس سلسلے میں عملی اقدامات کیے ہیں تاکہ آلو کی پیداوار نہ صرف ملک میں بلکہ عالمی منڈی میں بھی مناسب قیمت اور استحکام کے ساتھ فروخت ہو۔

    اس تمام عمل کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ پنجاب کے کسان اپنی محنت کا پوری قیمت حاصل کریں اور ان کی فصلیں ضائع نہ ہوں۔ آلو کی بمپر پیداوار اب کسان کے لیے پریشانی نہیں بلکہ خوشحالی اور معاشی استحکام کا پیغام لائے گی۔ پنجاب کی حکومت کی یہ حکمت عملی نہ صرف زرعی شعبے میں انقلاب لانے کی طرف ایک مضبوط قدم ہے بلکہ پاکستان کے زرعی برآمدات کے فروغ اور عالمی منڈی میں مقام بنانے کے لیے بھی اہم ہے۔

    مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب کی زرعی اصلاحات نے آلو کی پیداوار کو ریکارڈ سطح تک پہنچا دیا ہے اور عالمی منڈی میں برآمدات کی راہیں کھول دی ہیں۔ یہ اقدامات کسانوں کے مالی استحکام، پیداوار کی حفاظت اور ملک کی معیشت میں زبردست بہتری کا سبب بن سکتے ہیں۔ آلو کی بمپر فصل اب صرف ایک زرعی کامیابی نہیں بلکہ پنجاب کے کسانوں کے لیے خوشحالی کا حقیقی پیغام ہے۔

  • کشمیر، حریت اور یومِ یکجہتی،تحریر: انمول اعوان

    کشمیر، حریت اور یومِ یکجہتی،تحریر: انمول اعوان

    کشمیر دنیا کا ایک خوبصورت خطہ ہونے کے ساتھ ساتھ جدوجہد، قربانی اور حریت کی علامت بھی ہے۔ قدرت نے کشمیر کو بے مثال حسن سے نوازا ہے، مگر بدقسمتی سے یہ جنت نظیر وادی کئی دہائیوں سے ظلم و جبر کا شکار ہے۔ کشمیری عوام نے ہمیشہ آزادی اور اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ اُن کی جدوجہد اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ آزادی انسان کا بنیادی حق ہے، جسے طاقت کے زور پر ہمیشہ کے لیے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

    یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہر سال پانچ فروری کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کرنا اور دنیا کو یہ پیغام دینا ہوتا ہے کہ پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیری عوام آج بھی اپنے حقِ خودارادیت کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں اور بے شمار قربانیاں دے رہے ہیں۔ اُن کی یہ قربانیاں تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔

    کشمیر کے عوام نے ظلم، جبر اور پابندیوں کے باوجود کبھی اپنی آزادی کی خواہش کو ختم نہیں ہونے دیا۔ اُن کے حوصلے، صبر اور استقامت پوری دنیا کے لیے مثال ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ ظلم چاہے جتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو، سچ اور حق کی طاقت ہمیشہ غالب آتی ہے۔ کشمیری عوام کی جدوجہد اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ آزادی کے لیے دی جانے والی قربانیاں رائیگاں نہیں جاتیں۔

    یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں صرف کشمیری عوام کی حمایت کا درس ہی نہیں دیتا بلکہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہمیں مظلوموں کی آواز بننا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم عالمی سطح پر کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کریں اور کشمیری عوام کے حق کے لیے آواز بلند کریں۔ ایک قوم کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اخلاقی، سفارتی اور انسانی بنیادوں پر کھڑے رہیں۔

    آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کشمیر کی جدوجہد آزادی، حوصلے اور قربانی کی لازوال داستان ہے۔ یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں اتحاد، بھائی چارے اور حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا درس دیتا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام اپنی آزادی حاصل کریں گے اور امن و سکون کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں گے۔

  • یومِ یکجہتی کشمیر ( ایک عہد، ایک صدا )،  کامران ہاشمی

    یومِ یکجہتی کشمیر ( ایک عہد، ایک صدا )، کامران ہاشمی

    5 فروری کا دن ہمیں یہ یاد اور احساس دلاتا ہے کہ کشمیر صرف ایک خطہ نہیں بلکہ ایک زندہ احساس، ایک مسلسل جدوجہد اور ایک حقیقت کا نام ہے۔ یہ دن ہمیں مظلوم کشمیری عوام کےساتھ کھڑے ہونے، ان کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے اور ان کی آواز کو دنیا تک پہنچانے کا دن ہے۔برف پوش پہاڑوں اور سرسبز وادیوں کی یہ سرزمین کئی دہائیوں سے ظلم، جبر اور ناانصافی کا سامنا کر رہی ہے۔ معصوم جانیں قربان ہوئیں، مائیں اجڑیں، مگر کشمیری عوام کے حوصلے نہ ٹوٹے۔ ان کی خاموشی میں صبر ہے اور ان کی نگاہوں میں آزادی کی روشن امید۔
    یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ پاکستان کا ہر دل کشمیر کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ ہم کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کرتے ہیں اورہراخلاقی،سفارتی اور انسانی فورم پر ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے انشاء اللہ۔ یہ یکجہتی وقتی طور پر نہیں، بلکہ یہ ایک پختہ عزم اور زندہ ضمیر کا اظہار ہے۔

    آج ہم یہ عہد دہراتے ہیں کہ حق کی یہ جدوجہد رائیگاں نہیں جائے گی، اور وہ دن ضرور آئے گا جب کشمیر کی وادیاں آزادی کی خوشبو سے مہک اٹھیں گی جس طرح جمیل الدین عالی نے نظم ” اے دیس کی ہواؤں ” میں یہ بات کہا ہے کہ تاریخ کہتا ہے کہ ایک دن آپ ضرور آزاد ہونگے ۔آخر میں بس یہی کہنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان مظلوم کشمیری عوام کو جلد انصاف، امن اور آزادی عطافرمائےآمین۔

  • یوم یکجہتی کشمیر.تحریر:   زونیشاء خاں

    یوم یکجہتی کشمیر.تحریر: زونیشاء خاں

    یاران جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت
    جنت کسی کافر کو ملی ہے نا ملے گی
    "کشمیر بنے گا پاکستان” یہ صرف ایک نعرہ ہی نہیں بلکہ ایک ذندہ و تلخ حقیقت ہے۔ کشمیر اور پاکستان کی تہذیب و تمدن، ثقافت اور تاریخ یکساں ہے۔ کشمیر کے ساتھ جو ہمارا رشتہ ہے وہ دینی و اسلامی رشتہ ہے۔ ہندوستان سے جب پاکستان علیحدہ ہوا تو کشمیر پاکستان کے حصے میں آیا تھا، لیکن بھارت کی ناانصافی سے یہ اب تک کیلئے نا حل ہونے والا تنازع بن چکا ہے، جسکی اندھیری رات ختم ہونے میں نہیں آرہی ہے۔

    وطن عزیز پاکستان میں ہر سال 5 فروری کو "یوم یکجہتی کشمیر” منایا جاتا ہے۔ اس دن حکومت اور عوام کشمیریوں سے اظہار یکجتی کا اعلان کرتی ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ اقوام متحدہ کے ایک گزشتہ اجلاس میں مظلوم کشمیریوں کی حمایت کر کے جو تاثر قائم کیا گیا تھا افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعد کے ایام میں اس کا اثر زائل ہو گیا۔

    کشمیر جنت نظیر کی سر زمینِ پر بھارت کی درندہ صفت فوجیں اتنی بڑی تعداد میں نہتے کشمیریوں کی نسل کشی پر مامور ہیں کہ اس کی مثال پوری دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ ان کی آبادیاں ویران،کھیت کھلیان اور باغات تباہی حال، بہن اور بیٹیوں کی عزتیں پامال اور پوری وادی جنت نظیر آج مقتل کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ اب تک بہت سی جانوں کے نذرانے پیش کیے جاچکے ہیں۔ کشمیر میں ہر طرف ظلم وزیادتی اور بربریت کا منظر ہے۔ آئے روز بھارت کی طرف سے حملے ہورہے ہیں جنکا حساب کوئی نہیں لینے والا ہے۔

    کشمیری عوام مختلف تنظیموں کے جھنڈ تلے مصروف جہاد ہے۔ وہاں کا بچہ بچہ اپنی آزادی کیلئے کھڑا نظر آرہا ہے۔ 5 فروری کو پورے پاکستان میں "یوم یکجہتی کشمیر” سرکاری طور پر منایا جاتا ہے۔ اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعارے لگائے جاتے ہیں۔ ان شاءاللہ کشمیر اللّٰہ رب العزت کے حکم سے ایک دن ضرور آزاد ہوگا۔ ظالم بھارتیوں نے اہل کشمیر پر زمین تنگ کر دی ہےمگر کشمیری عوام ان شاءاللہ آزادی کی تحریک کو کامیابی سی ہم کنار کر کے دم لیں گی۔

  • وادیِ لہو میں آزادی کا سورج: 5 فروری اور ہماری ذمہ داریاں،تحریر: فوزیہ شاہین

    وادیِ لہو میں آزادی کا سورج: 5 فروری اور ہماری ذمہ داریاں،تحریر: فوزیہ شاہین

    5 فروری کا دن محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں، بلکہ لہو سے لکھی گئی اس داستانِ عزیمت کی یاد دہانی ہے جو وادیِ کشمیر کے چناروں تلے برسوں سے رقم ہو رہی ہے۔ یہ دن ہمیں ان ماؤں کی ممتا، ان بہنوں کی ردائے عفت اور ان جوانوں کے جذبۂ شوق کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے آزادی کی شمع کو اپنے خون سے روشن کر رکھا ہے۔ بقول شاعر:

    ظلم رہے اور امن بھی ہو، کیا ممکن ہے تم ہی کہو
    موت بھی آئے اور کفن بھی ہو، کیا ممکن ہے تم ہی کہو

    تاریخ کے جھروکوں میں کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ بھرنے کے بجائے مزید گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ "مسئلہ کشمیر” برصغیر پاک و ہند کا وہ ادھورا ایجنڈا ہے جو آج بھی عالمی ضمیر کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ ہر سال جب 5 فروری کا سورج طلوع ہوتا ہے، تو یہ اپنے ساتھ ان ہزاروں شہداء کی خوشبو لے کر آتا ہے جنہوں نے غاصبانہ قبضے کے خلاف سینہ تان کر شہادت کا جام پیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عالمی برادری کی خاموشی اس لہو کا مداوا کر پائے گی؟

    کشمیر کی تحریکِ آزادی کسی ایک دن یا ایک واقعے کا نام نہیں، بلکہ یہ نسل در نسل منتقل ہونے والا وہ جذبہ ہے جسے جبر کی کوئی دیوار قید نہیں کر سکی۔ ان چار دہائیوں میں ہم نے دیکھا کہ کیسے ہزاروں مائیں اپنے جگر گوشوں کے جنازوں کو کندھا دیتی نظر آئیں۔ وہ مائیں جنہوں نے اپنے بیٹوں کو ماتھے پر بوسہ دے کر رخصت کیا، اس یقین کے ساتھ کہ ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔

    جس خاک کے خمیر میں ہو خوںِ شہدا
    اس ارضِ مقدس سے بغاوت نہیں ہوتی

    ایک ماں کے لیے جوان بیٹے کا داغ جھیلنا زندگی کی سب سے بڑی اذیت ہے، لیکن کشمیری ماؤں کا حوصلہ انسانی تاریخ کا ایک منفرد باب ہے۔ وہاں بہنوں نے اپنے بھائیوں کی کلائیوں پر راکھی کے بجائے آزادی کے عہد باندھے اور جب ان کے بھائی لہو میں لت پت واپس آئے تو انہوں نے بین کرنے کے بجائے "آزادی” کے نعرے بلند کیے۔ یہ وہ قربانی ہے جس کی مثال دنیا کی کسی اور تحریک میں نہیں ملتی۔

    کشمیر کے المیے کا سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو وہ درندگی ہے جو خواتین کے ساتھ روا رکھی گئی۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی رپورٹیں گواہ ہیں کہ غاصب افواج نے "عصمت دری” کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تاکہ کشمیریوں کے حوصلے پست کیے جا سکیں۔ ہزاروں لڑکیاں اور عورتیں جن کی چادریں تار تار کی گئیں، وہ آج بھی انصاف کی منتظر ہیں۔ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ ایک آزاد فضا میں سانس لینے کا خواب دیکھتی تھیں۔
    نفسیاتی طور پر جنسی تشدد کا شکار ہونے والی خواتین کے زخم کبھی نہیں بھرتے، لیکن کشمیری خواتین کی ہمت دیکھیں کہ اس ظلم کے باوجود ان کے قدموں میں لغزش نہیں آئی۔ وہ آج بھی سر اٹھا کر قابض فوج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی زمین کا حق مانگ رہی ہیں۔

    کچل کے پاؤں سے وہ وادیاں جو آئی ہے
    وہ فوج خون کی ندیاں بہا کے لائی ہے
    مگر یہ جبر کی دیوار ٹوٹ جائے گی
    سحر کی گود سے آزادی مسکرائے گی

    برصغیر کی تقسیم کے وقت سے شروع ہونے والا یہ مسئلہ آج کئی سال گزرنے کے باوجود وہیں کھڑا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں فائلوں میں دبی دھول چاٹ رہی ہیں۔ استصوابِ رائے کا وعدہ جو عالمی سطح پر کیا گیا تھا، وہ آج ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں معاشی مفادات کی خاطر انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں پر خاموش ہیں۔ کیا کشمیریوں کا خون اتنا سستا ہے کہ اسے عالمی منڈی میں تولا جائے؟ یہ دوہرا معیار ہی اس مسئلے کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
    کشمیر کے عوام آج بھی اس امید میں بیٹھے ہیں کہ ایک دن آزادی کا سورج ضرور طلوع ہوگا۔ وہ سورج جو ان کی وادیوں سے خوف کے سائے مٹا دے گا، جو ان کی ماؤں کے آنسو پونچھے گا اور جو ان کی آنے والی نسلوں کو امن کا گہوارہ دے گا۔ فیض احمد فیض کے الفاظ میں:

    ہم دیکھیں گے
    لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
    وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
    جو لوحِ ازل پہ لکھا ہے

    انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی قوم آزادی کا فیصلہ کر لیتی ہے، تو دنیا کا کوئی بھی جدید اسلحہ یا فوجی طاقت اسے غلام نہیں رکھ سکتی۔ بھارت نے 5 اگست 2019 کے اقدامات کے ذریعے کشمیر کی شناخت مٹانے کی کوشش کی، لیکن اس نے کشمیریوں کے اندر آزادی کی تڑپ کو مزید جلا بخشی۔
    پاکستان کے عوام اور حکومت کے لیے 5 فروری محض اظہارِ یکجہتی کا دن نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ تجدیدِ عہد کا دن ہے۔ ہمیں عالمی سطح پر کشمیر کا مقدمہ مزید موثر انداز میں لڑنا ہوگا۔ ہمیں ان مظلوموں کی آواز بننا ہوگا جن کی آواز کو کرفیو اور لاک ڈاؤن کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    اے ارضِ وطن! تو بھی ہے گواہ ہم بھی ہیں گواہ
    اس ظلم کی کالی رات میں ہر آہ ہے گواہ

    اے اللہ! تو ہی ہر مشکل کو آسان کرنے والا ہے۔ وادیِ کشمیر میں بہنے والے معصوموں کے خون کے صدقے، اس مٹی کو غاصبوں سے پاک فرما۔ ان ماؤں کے حوصلے بلند رکھ جن کے بیٹے لاپتہ ہیں یا خاکِ وطن کا رزق بن گئے۔ کشمیر کے اس دیرینہ مسئلے کو جلد از جلد انصاف کے مطابق حل فرما اور وہاں کے لوگوں کو وہ حقیقی آزادی نصیب فرما جس کے لیے انہوں نے اپنی نسلیں قربان کر دیں۔ آمین۔