Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • تشکیلِ فکر کا بحران،تحریر: اقصیٰ جبار

    تشکیلِ فکر کا بحران،تحریر: اقصیٰ جبار

    انسان کی اصل پہچان اس کی سوچ سے بنتی ہے۔
    نہ عمر اس کا تعارف ہے، نہ لباس، نہ ڈگری اور نہ ہی ظاہری کامیابیاں۔ اصل پہچان وہ زاویۂ نظر ہے جس سے وہ زندگی، انسان اور مسائل کو دیکھتا ہے۔ یہ زاویہ یکایک پیدا نہیں ہوتا بلکہ آہستہ آہستہ تشکیل پاتا ہے، اور اس کی بنیاد عموماً نوجوانی میں رکھی جاتی ہے۔ اگر یہی بنیاد کمزور ہو تو بعد کی ساری عمارت بھی غیر متوازن ہو جاتی ہے۔
    آج ہم جس عہد میں جی رہے ہیں، اس کا سب سے بڑا بحران نہ تو معاشی ہے، نہ سیاسی اور نہ ہی محض اخلاقی۔ یہ بحران دراصل فکری ہے۔ ہم ایک ایسے زمانے میں سانس لے رہے ہیں جہاں جاننے کے ذرائع بے شمار ہیں، معلومات ہر لمحہ ہماری دسترس میں ہے، مگر اس کے باوجود سوچنے، ٹھہرنے اور غور کرنے کے مواقع مسلسل کم ہوتے جا رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسان کو سب کچھ سکھایا جا رہا ہے، سوائے سوچنے کے۔

    تشکیلِ فکر کوئی فوری عمل نہیں۔ یہ نہ کسی نصاب کے ایک باب سے مکمل ہوتی ہے اور نہ کسی تقریر کے اختتام پر۔ یہ مطالعے، مشاہدے، سوال، تنقیدی نظر اور مسلسل غور و فکر کے امتزاج سے وجود میں آتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا موجودہ تعلیمی اور سماجی نظام انسان کو معلومات تو فراہم کرتا ہے، مگر فکر پیدا نہیں کرتا۔ ہم پڑھتے ہیں مگر سمجھنے کے لیے نہیں، بلکہ آگے بڑھنے کے لیے۔ ہم سیکھتے ہیں مگر جانچنے کے لیے نہیں، بلکہ دہرانے کے لیے۔

    اسی مرحلے پر انسانی ذہن ایک خطرناک عادت اختیار کر لیتا ہے۔ وہ سوچنے کے بجائے ردِعمل دینا سیکھ لیتا ہے۔ نتیجتاً آج کا انسان، خاص طور پر نوجوان ذہن، رائے تو رکھتا ہے مگر بنیاد کے بغیر۔ وہ فیصلے تو کرتا ہے مگر سوال کے بغیر۔ یہ فکری سطحیت محض اتفاق نہیں بلکہ ایک تربیت یافتہ رویہ ہے۔ ہمیں شروع سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ جلدی بولو، واضح مؤقف رکھو اور کسی قسم کے ابہام کو کمزوری نہ بننے دو، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ فکر کی اصل بنیاد ابہام ہی سے جنم لیتی ہے۔ سوچ وہیں پروان چڑھتی ہے جہاں انسان کو مکمل یقین حاصل نہ ہو۔

    یہاں ادب کا کردار غیر معمولی ہو جاتا ہے۔ ادب انسان کو ٹھہراؤ عطا کرتا ہے۔ وہ ذہن کو یہ سکھاتا ہے کہ ہر سوال کا فوری جواب ضروری نہیں اور ہر مسئلے کا حل ایک جملے میں ممکن نہیں۔ ادب ذہن کو وسعت دیتا ہے، برداشت سکھاتا ہے اور مختلف زاویوں سے سوچنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ مگر جب ادب کو محض نصابی ضرورت بنا دیا جائے یا صرف ذوقی مشغلہ سمجھ لیا جائے تو وہ اپنی فکری تاثیر کھو دیتا ہے۔

    آج کا انسانی ذہن رفتار کا اسیر بن چکا ہے۔ وہ گہرائی کے بجائے خلاصہ چاہتا ہے، فلسفے کے بجائے اقتباس اور استدلال کے بجائے نعرہ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے فیصلے تیز تو ہوتے ہیں، مگر پختہ نہیں۔ ہم جلد مان لیتے ہیں اور جلد رد بھی کر دیتے ہیں، بغیر یہ جانے کہ ہم نے جو قبول کیا یا جسے مسترد کیا، اس کی فکری بنیاد کیا تھی۔
    تشکیلِ فکر کا بحران دراصل اسی عدم توازن کا نام ہے۔ یعنی ذہن میں مواد تو بہت ہو، مگر ترتیب نہ ہو۔ الفاظ ہوں، مگر مفہوم نہ ہو۔ علم ہو، مگر حکمت نہ ہو۔ یہ بحران فرد کی ذات سے شروع ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ پورے سماج میں سرایت کر جاتا ہے۔ جب ذہن تربیت یافتہ نہ ہو تو اختلاف بدتمیزی بن جاتا ہے، تنقید نفرت میں بدل جاتی ہے اور مکالمہ شور کا روپ دھار لیتا ہے۔
    ہم اختلاف اس لیے برداشت نہیں کر پاتے کہ ہم نے سوچ کو وسعت دینا نہیں سیکھا۔ ہم سوال سے اس لیے گھبراتے ہیں کہ ہمیں سوال کرنا سکھایا ہی نہیں گیا۔ حالانکہ سوال ذہن کی زندگی کی علامت ہوتا ہے۔ جو ذہن سوال کرنا چھوڑ دے، وہ یا تو مطمئن نہیں بلکہ مقلد بن جاتا ہے۔

    یہاں ادب ایک مرتبہ پھر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ادب انسان کو دوسرا زاویہ دکھاتا ہے۔ وہ اسے اپنے سچ کے ساتھ دوسروں کے سچ کو بھی سننے کی تربیت دیتا ہے۔ تشکیلِ فکر کا مطلب کسی خاص نظریے کو اپنانا نہیں بلکہ ذہن کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ نظریات کو پرکھ سکے، تول سکے اور پھر شعوری طور پر کسی نتیجے تک پہنچے۔آج ہمیں ایسے انسان درکار ہیں جو صرف بولنا نہ جانتے ہوں بلکہ سوچنا بھی جانتے ہوں۔ جو اختلاف کریں تو فہم کے ساتھ، اور مانیں یا رد کریں تو دلیل کے ساتھ۔ یہ صلاحیتیں اچانک پیدا نہیں ہوتیں۔ یہ مطالعے، ادب سے رشتے، سوال سے دوستی اور خاموش غور و فکر کے نتیجے میں جنم لیتی ہیں۔

    اگر نوجوانی میں ذہن کی تشکیل نہ ہو تو انسان عمر بھر دوسروں کی سوچ کا بوجھ اٹھاتا رہتا ہے۔ وہ خود فیصلے کرنے کے بجائے مستعار خیالات پر زندگی گزارتا ہے۔ اور یہی اصل غلامی ہے۔ یہ غلامی زبان کی نہیں بلکہ ذہن کی ہوتی ہے۔تشکیلِ فکر کا بحران درحقیقت انسان کے آزاد ہونے کا بحران ہے۔ آزاد بولنے کا نہیں، آزاد سوچنے کا۔ اگر ہم نے اپنے ذہن کو سوچنے کی تربیت نہ دی تو باقی ساری ترقی محض ظاہری ہوگی۔ کیونکہ قومیں عمارتوں سے نہیں، ذہنوں سے بنتی ہیں۔ اور ذہن تب بنتا ہے، جب اسے سوچنے دیا جائے

  • نئے ایپسٹین دستاویزات اور غلافِ کعبہ کا سوال: مقدس علامات، تحویلِ امانت، اور تشویشناک تاثرات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    نئے ایپسٹین دستاویزات اور غلافِ کعبہ کا سوال: مقدس علامات، تحویلِ امانت، اور تشویشناک تاثرات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    میجر (ر) ہارون رشید
    دفاعی و تزویراتی تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، بازدارانہ حکمتِ عملی اور دفاعی جدید کاری میں مہارت رکھتے ہیں،اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک ایمینیٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں

    جیفری ایپسٹین سے منسلک حال ہی میں جاری ہونے والے دستاویزات میں ایسی خط و کتابت سامنے آئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غلافِ کعبہ (کسوہ)—جو مکہ مکرمہ میں خانۂ کعبہ کو ڈھانپنے والا مقدس کپڑا ہے—کے تین ٹکڑے بالواسطہ ذرائع کے ذریعے اس تک منتقل کیے گئے۔ اس انکشاف نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے سنگین اخلاقی اور تحویلی (custodial) سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    دستاویزات کے مطابق، اس منتقلی میں مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والی کاروباری خاتون عزیزہ الاحمدی کا کردار شامل تھا، جو دیگر واسطہ کاروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی تھیں۔ ترسیلات کو بین الاقوامی طور پر منتقل کیا گیا اور کسٹمز دستاویزات میں انہیں غیر مذہبی اشیاء کے طور پر ظاہر کیا گیا۔ تاہم، یہ دستاویزات یہ واضح نہیں کرتیں کہ ان مقدس اشیاء کی حوالگی کی اجازت کس نے دی یا انہیں کسی ایسے نجی فرد کو کیوں بھیجا گیا جس کی کوئی معروف مذہبی یا ادارہ جاتی حیثیت نہیں تھی۔

    غلافِ کعبہ کی اہمیت کیوں ہے
    غلافِ کعبہ کوئی عام یادگاری شے نہیں۔ مسلمانوں کے لیے یہ اسلام کے مقدس ترین مقام کی علامت ہے۔ طواف کے دوران لاکھوں عقیدت مند خانۂ کعبہ کو چھوتے ہیں، دعائیں مانگتے ہیں، آنسو بہاتے ہیں اور اپنی امیدیں اللہ کے حضور رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے غلافِ کعبہ کے کسی بھی حصے کی ترسیل یا تقسیم کے لیے سخت اخلاقی اور تحویلی ضوابط کی توقع کی جاتی ہے۔دستاویزات میں بیان کیا گیا ہے کہ ان ٹکڑوں میں ایسا کپڑا بھی شامل تھا جو حج یا عمرہ کے موسموں میں استعمال ہوا تھا—اگر یہ دعویٰ درست ہے تو یہ تشویش مزید بڑھا دیتا ہے کہ ایسی مقدس علامات کو ان کے درست تحفظ اور نگرانی سے کیسے ہٹایا گیا۔

    اسلام، جادو، اور مسلمانوں کی تشویش کی بنیاد
    اسلام سحر (جادو)، توہمات اور باطنی یا شیطانی اعمال کی واضح اور قطعی طور پر نفی کرتا ہے۔
    قرآن و سنت مومنین کو ہدایت دیتے ہیں کہ وہ حفاظت اور مدد صرف اللہ سے طلب کریں اور کسی بھی ایسی قوت کے تصور کو رد کریں جو اللہ کے سوا خود مختار ہو۔ اس تناظر میں، اسلام کسی بھی شے—بشمول غلافِ کعبہ—کو ذاتی یا خود مختار ماورائی طاقت کا حامل نہیں مانتا۔تاہم، تاریخی اور ثقافتی طور پر یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سے مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ دشمن عناصر کبھی کبھار روحانی، نفسیاتی یا علامتی نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، اگرچہ ایسی کوششیں اللہ کے حکم کے بغیر کوئی حقیقی اثر نہیں رکھتیں۔ یہ تصور—چاہے کوئی اسے تسلیم کرے یا نہ کرے—اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ مقدس اسلامی علامات کا اخلاقی طور پر گرے ہوئے افراد کے ساتھ جڑ جانا شدید جذباتی اور دینی اضطراب کیوں پیدا کرتا ہے۔

    قرآنِ مجید جھوٹی قوتوں اور گمراہی کے خلاف خبردار کرتا ہے
    کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو چھوڑ دیتے ہو؟
    اللہ کو، جو تمہارا رب ہے اور تمہارے باپ دادا کا رب ہے
    (سورۃ الصافات 37:125–126)
    اہلِ ایمان کے لیے یہ آیات اس حقیقت کو مضبوط کرتی ہیں کہ فساد، فریب اور اخلاقی زوال بالآخر تباہی ہی پر منتج ہوتے ہیں، چاہے ان کے لیے کوئی بھی طریقہ اختیار کیا جائے۔

    اصل سوال
    جاری کردہ دستاویزات میں ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جو یہ ثابت کرے کہ غلافِ کعبہ کے ان ٹکڑوں کو کسی رسم، جادو یا باطنی عمل کے لیے استعمال کیا گیا۔البتہ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ مقدس اسلامی اشیاء ایک ایسے فرد تک پہنچیں جس کی زندگی استحصال، بدعنوانی اور اخلاقی انہدام کی علامت تھی—اور یہی حقیقت بذاتِ خود گہری جانچ کا تقاضا کرتی ہے۔لہٰذا اصل مسئلہ کسی ماورائی نیت پر قیاس آرائی نہیں، بلکہ احتساب ہے:
    ان مقدس اشیاء کو کس نے جاری کیا؟
    کس اختیار کے تحت؟
    اور تحویلی و حفاظتی نظام کیسے ناکام ہوا؟
    مسلمانوں کے لیے یہ واقعہ ایک یاد دہانی ہے کہ مقدس علامات کو کبھی تجارتی شے نہیں بننا چاہیے، نہ ہی ان کا غلط استعمال یا اخلاقی تناظر سے اخراج ہونا چاہیے—خواہ انہیں طلب کرنے والا کوئی بھی ہو۔

  • پاکستان آرمی میں YJ-17 ہائپرسونک میزائلوں کی شمولیت، صلاحیت، ساکھ اور تزویراتی اثرات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    پاکستان آرمی میں YJ-17 ہائپرسونک میزائلوں کی شمولیت، صلاحیت، ساکھ اور تزویراتی اثرات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    میجر (ر) ہارون رشید،دفاعی و تزویراتی تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدید کاری میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک ایمینیٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں

    حالیہ دفاعی رپورٹس اور معتبر اوپن سورس مباحث سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان آرمی نے YJ-17 ہائپرسونک اسٹرائیک سسٹم کے تقریباً 300 یونٹس اپنے تزویراتی ذخیرے میں شامل کر لیے ہیں۔اطلاعات کے مطابق اس نظام کی ٹرمینل رفتار میک 5 سے میک 8 کے درمیان ہے جبکہ اس کی آپریشنل رینج تقریباً 800 کلومیٹر بتائی جاتی ہے، جو اسے واضح طور پر نئی نسل کے ہائپرسونک ہتھیاروں کے زمرے میں رکھتی ہے۔
    یہ شمولیت مبینہ طور پر ایک سابقہ میزائل ٹیسٹ کے بعد عمل میں آئی، جس کے دوران لینٹیکیولر (عدسی نما) بادل کی تشکیل دیکھی گئی—یہ ایک ایسا مظہر ہے جو عموماً ہائی انرجی ہائپرسونک پرواز سے منسلک ہوتا ہے۔ دفاعی تجزیہ کار اب اس ٹیسٹ کو وسیع پیمانے پر YJ-17 نظام سے جوڑ رہے ہیں۔

    اتنی ہی اہم بات یہ ہے کہ اس خریداری کو ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی (ToT) معاہدے کے تحت حتمی شکل دیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جس سے مستقبل میں پاکستان کے اندر مقامی سطح پر پیداوار یا اسمبلنگ کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ اگرچہ آئی ایس پی آر یا وزارتِ دفاع کی جانب سے تاحال باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم مختلف دفاعی حلقوں میں رپورٹنگ کا تسلسل اس پیش رفت کو قابلِ اعتبار بناتا ہے، اگرچہ تکنیکی تفصیلات جان بوجھ کر محدود رکھی گئی ہیں۔

    YJ-17 کو گیم چینجر بنانے والے عوامل
    YJ-17 کو ہائپرسونک گلائیڈ وہیکل (HGV) کے تصور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جو اسے ٹرمینل مرحلے میں حرکی (maneuvering) صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ روایتی بیلسٹک میزائلوں کے برعکس، اس کی یہ پرواز موجودہ فضائی اور میزائل دفاعی نظاموں کے لیے کھوج، ٹریکنگ اور روک تھام کو نہایت مشکل بنا دیتی ہے۔
    عملی طور پر اس کا مطلب ہے کم ردِعمل کا وقت، غیر متوقع پروازی راستے، اور زیادہ بقا پذیری—حتیٰ کہ جدید اور تہہ دار میزائل شیلڈز کے خلاف بھی۔

    بھارت،پاکستان تناظر میں تزویراتی اہمیت
    بھارت،پاکستان کے مخصوص تزویراتی ماحول میں، YJ-17 کی مبینہ شمولیت سنگین ڈیٹرنس اثرات رکھتی ہے۔بھارت نے بیلسٹک میزائل ڈیفنس (BMD)، طویل فاصلے تک درست نشانہ بنانے والے نظام، اور کولڈ اسٹارٹ جیسے تیز رفتار موبلائزیشن نظریات میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔YJ-17 جیسے ہائپرسونک نظام خاص طور پر انہی برتریوں کو غیر مؤثر بنانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں، کیونکہ یہ فیصلہ سازی کے وقت کو محدود کر دیتے ہیں اور روایتی میزائل دفاعی ڈھانچوں کو بائی پاس کر جاتے ہیں۔
    پاکستان کے لیے YJ-17 تین بنیادی تزویراتی مقاصد پورے کرتا دکھائی دیتا ہے:
    اول، روایتی ڈیٹرنس کے توازن کی بحالی۔
    ہائپرسونک اسٹرائیک صلاحیت پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد روایتی کاؤنٹر فورس آپشن فراہم کرتی ہے، جس سے کسی بحران میں ابتدائی جوہری اشارہ دینے پر انحصار کم ہو جاتا ہے۔
    دوم، میزائل دفاعی اعتماد کو کمزور کرنا۔
    جب بھارت کو ایسے ہائپرسونک، متحرک ہتھیاروں کا سامنا ہو جنہیں روکنا انتہائی مشکل ہو، تو اس کے BMD عزائم متاثر ہوتے ہیں، یوں غیریقینی کے ذریعے ڈیٹرنس کا استحکام مضبوط ہوتا ہے۔

    سوم، تصادم میں کنٹرول کا اشارہ۔
    YJ-17 پاکستان کو جوہری حد سے نیچے ایک مؤثر اور درست اسٹرائیک ٹول فراہم کرتا ہے، جس سے کنٹرول شدہ عسکری ردِعمل کی گنجائش بڑھتی ہے اور بحران میں استحکام آتا ہے۔
    اس نظام کی مبینہ رینج پاکستان کو سرحد سے کہیں آگے واقع اہم فوجی، لاجسٹک اور بحری اہداف کو نشانے پر رکھنے کی صلاحیت دیتی ہے، وہ بھی اس طرح کہ تزویراتی سرخ لکیریں عبور نہ ہوں۔

    صنعتی اور طویل المدتی اثرات
    اگر ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی معاہدے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس کے تزویراتی اثرات محض تعداد تک محدود نہیں رہیں گے۔ مقامی پیداوار پاکستان کے دفاعی صنعتی ڈھانچے میں ایک معیاری تبدیلی کی علامت ہوگی، جس سے درآمدات پر انحصار کم اور مستقبل میں اپ گریڈ، مختلف ورژنز اور نظریاتی انضمام ممکن ہو سکے گا۔
    یہ پیش رفت میزائل، ڈرون اور راکٹ نظاموں میں خود انحصاری کے پاکستان کے وسیع تر رجحان سے ہم آہنگ ہے، بالخصوص آرمی راکٹ فورس کمانڈ کے ارتقائی فریم ورک کے تحت۔

    اگرچہ باضابطہ تصدیق ابھی باقی ہے، تاہم 300 YJ-17 ہائپرسونک میزائلوں کی مبینہ شمولیت اور اس کے ساتھ ToT انتظامات،پاکستان کی عسکری تاریخ میں روایتی صلاحیت کی سب سے اہم اپ گریڈیشنز میں سے ایک ہو سکتی ہے۔بھارت،پاکستان تناظر میں، YJ-17 ڈیٹرنس، استحکام اور تصادم کنٹرول کو مضبوط بناتا ہے اور اس اصول کو تقویت دیتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں تزویراتی توازن کی بنیاد عددی برتری نہیں بلکہ تکنیکی ہم پلہ پن ہے۔

  • جونیئر افسر، سینئرماتحت ،میرٹ کہاں گیا ؟وفاداری قابلیت ٹھہری۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    جونیئر افسر، سینئرماتحت ،میرٹ کہاں گیا ؟وفاداری قابلیت ٹھہری۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    میرا افسر ،تیرا افسر،ہرادارے میں ذاتی مفادات کو تقرری کی بنیاد بنادیا گیا
    ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے سیاسی مداخلت بند کرنا ہوگی،میرٹ ناگزیر
    ترقی یافتہ دنیا میں نظام شخصیات کے گرد نہیں ،قوانین اور اصولوں کے تحت چلتا ہے
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    میرٹ کے بغیر نظام، نظام کے بغیر ریاست،پاکستان میں ریاستی اداروں کی کمزوری، انتظامی انتشار اور عوامی بداعتمادی کی ایک بڑی وجہ میرٹ کی مسلسل پامالی ہے،بیوروکریسی ہو یا پولیس، سول انتظامیہ ہو یا دیگر ریاستی ادارے،تقریباً ہر جگہ تقرریوں اور تبادلوں میں اصولوں کے بجائے پسند و ناپسند، سیاسی وابستگی اور ذاتی تعلقات کو فوقیت دی جا رہی ہے،یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج پاکستان میں نہ سینئر افسر کے تجربے اور سروس ریکارڈ کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے اور نہ ہی جونیئر افسر کی پیشہ ورانہ اہلیت کو، جب ایک سینئر افسر کو نظرانداز کر کے اس کے ماتحت کو محض من پسند بنیادوں پر اس کے اوپر تعینات کیا جاتا ہے تو اس کا نقصان صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ پورے ادارے کو پہنچتا ہے، ایسے فیصلے ادارہ جاتی نظم و ضبط کو مجروح کرتے ہیں اور میرٹ کی بنیاد کو کمزور نہیں بلکہ عملاً ختم کر دیتے ہیں،دنیا کی مہذب اور ترقی یافتہ ریاستوں میں ادارے افراد سے بالاتر ہوتے ہیں، وہاں نظام شخصیات کے گرد نہیں بلکہ قوانین اور اصولوں کے تحت چلتا ہے، افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں ’’یہ میرا افسر‘‘ اور ’’وہ تیرا افسر‘‘ کی سوچ نے ریاستی اداروں کو ذاتی مفادات کا میدان بنا دیا ہے، نتیجتاً پولیس غیر مؤثر، بیوروکریسی دباؤ کا شکار اور عوام انصاف سے مایوس دکھائی دیتے ہیں،اس صورتحال کو جمہوریت کا نام دینا خود جمہوریت کے ساتھ ناانصافی ہے، جمہوریت کا بنیادی تقاضا اداروں کی خودمختاری، شفافیت اور میرٹ کی بالادستی ہے، اگر فیصلے بند کمروں میں ہوں، وفاداری کو قابلیت پر ترجیح دی جائے اور قانون کو پسِ پشت ڈال دیا جائے تو یہ طرزِ حکمرانی جمہوریت نہیں بلکہ جمہوریت کے نام پر ایک بدنما دھبہ ہے،پاکستان کو درپیش انتظامی اور حکومتی بحرانوں کا حل مزید دعوئوں یا بیانات میں نہیں بلکہ عملی اصلاحات میں مضمر ہے، جب تک اقربا پروری کو ریاستی سطح پر مسترد نہیں کیا جاتا، جب تک سیاسی مداخلت سے پاک اور آئین و قانون کے مطابق نظام نافذ نہیں ہوتا، اور جب تک میرٹ کو واقعی قومی پالیسی کا درجہ نہیں دیا جاتا،تب تک ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا،اب وقت آ گیا ہے کہ ذاتی مفادات اور گروہی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ریاست کو ایک منظم نظام کے تحت چلایا جائے، میرٹ کے بغیر ادارے نہیں چلتے، اداروں کے بغیر ریاست نہیں بنتی، اور ریاست کے بغیر قومیں ترقی نہیں کرتیں

  • خالی ہاتھوں کی دعا،تحریر: آمنہ خواجہ

    خالی ہاتھوں کی دعا،تحریر: آمنہ خواجہ

    وہ دونوں ہاتھ پھیلائے کھڑا تھا
    ایک ہاتھ میں لرزتی ہوئی دعا
    اور دوسرے میں عمر بھر کی تھکن۔
    سفید داڑھی میں الجھی ہوئی سسکیاں جھریوں میں قید برسوں کے دکھ اور آنکھوں پر رکھا ہوا ہاتھ جیسے دنیا کی روشنی سے نہیں، اپنی قسمت کی سختی سے آنکھیں چرا رہا ہو۔
    یہ وہ ہاتھ تھے جنہوں نے کبھی کسی کے سامنے نہیں پھیلے تھے مگر آج رب کے حضور خالی تھے۔
    اس نے پوری زندگی محنت کی۔
    دھوپ میں جلتا رہا سردیوں میں ٹھٹھرتا رہا۔
    اولاد کے خوابوں کو اپنے خوابوں پر ترجیح دی۔
    ماں باپ کے لیے سہارا بنا بچوں کے لیے سایہ۔
    مگر جب وہ خود سہارا مانگنے کے قابل ہوا، تو سب مصروف نکلے۔
    آج اس کے پاس نہ شکوہ تھا، نہ شکایت۔
    بس ایک سوال تھا جو آنسوؤں میں ڈوبا ہوا تھا:
    “یا اللہ میں نے کسی کا حق نہیں مارا، پھر یہ تنہائی کیوں؟”
    ہوا نے اس کی کانپتی انگلیوں کو چھوا۔
    لب ہلے، آواز نہ نکلی۔
    صرف آنکھوں سے وہ آنسو گرے جو لفظوں سے زیادہ سچے تھے۔
    شاید یہ دعا کسی اخبار کے صفحے پر خبر نہ بنے
    مگر عرش تک ضرور پہنچی ہو گی۔
    کیونکہ جب انسان سب دروازے کھٹکھٹا کر تھک جائے،
    تب جو آخری دستک ہوتی ہے
    وہ سیدھی خدا کے دل پر پڑتی ہے۔
    اور خدا
    خالی ہاتھوں کو کبھی خالی نہیں لوٹاتا

  • کیا مرنا ضروری ہے؟تحریر:ملک سلمان

    کیا مرنا ضروری ہے؟تحریر:ملک سلمان

    بھاٹی گیٹ حادثہ والی جگہ پر سڑک تنگ کر کے، پیدل گزرگاہ ختم کرکے غیرقانونی پارکنگ چلائی جارہی تھی۔ ایسی ہی سینکڑوں غیر قانونی پارکنگ لاہور سمیت دیگر شہروں کی ہر سڑک پر قائم ہیں۔ انتظامیہ کی رشوت ستانی کی وجہ سے تمام اہم شاہراؤں پر کار شورومز اور ورکشاپ سڑکوں پر قائم ہیں، تجاوزات کے خاتمے کو صرف جعلی فوٹو سیشن تک محدود کردیا گیا ہے۔

    شدید دھند کے دنوں میں گھروں کے باہر اور بازاروں میں بنائے گئے غیر قانونی ریمپ، گھروں کے باہر سڑک پر رکھے گئے پتھر، اضافی گرین بیلٹ اور غیر قانونی گارڈ رومز سے ٹکرا کر سینکڑوں حادثات ہوئے لیکن ان تجاوزات کے خلاف کوئی ایکشن نہیں کیونکہ صرف زخمی ہونا کافی نہیں تھا، حکمرانوں تک آواز پہنچانے کیلئے مرنا ضروری ہے۔واسا، ایل ڈی اے، پی ایچ اے اور میونسپل کارپوریشن کے افسران کی اربوں روپے کے بجٹ میں ڈاکہ ذنی کے راستے تلاش کرنے کے علاوہ دوسری سوچ ہی نہیں۔واسا، پی ایچ اے اور ڈی سیز نے چائنہ کی رنگ برنگی بتیوں کے ساتھ ایک ویڈیو بنا کر چیف منسٹر کو ٹیگ کر کے شاباش بھی لے لینی ہوتی ہے اور کروڑوں روپے کی گیم بھی ڈال لینی ہوتی ہے جبکہ اسی جگہ سمیت باقی سارا شہر اور ضلع کھنڈر بنا ہوتا ہے۔سرکاری میلوں، سیمینارز اور جشن بہاراں جیسی سرگرمیاں کمائی کا اہم زریعہ ہیں۔

    شعبہ صحت کا بیڑا غرق ہوچکا ہے لوگ مر رہے ہیں اور افسران جیبیں بھر رہے ہیں۔سرکاری طور پر تقسیم کیے گئے مفت ہیلمٹ اور موٹر بائک راڈز کے بل دیکھ کر آپ چکرا جائیں گے کہ ہزار فیصد ایکسٹرا ریٹ لگائے جاتے ہیں اور اگر تعداد ایک لاکھ بتائی جاتی ہے تو حقیقت میں بیس ہزار تقسیم کی جاتی ہے۔ضلعی انتظامیہ نے بیس ہزار والی ریڑھی ساٹھ کی اور ساٹھ ہزار والی ایک لاکھ ساٹھ میں تیار کروا کر ریڑھی بازاروں کے نام پر خوب کمائی کی، پھر وہی ریڑھی دینے کیلئے بھی بیس سے تیس ہزار کی دھیاڑی لگائی گئی۔ پھر انہی ریڑھیوں سے روزانہ بھتہ بھی لیا جاتا ہے۔ سرکاری ریڑھی بازار کے بالکل سامنے سڑک پر پرائیویٹ ریڑھیوں اور ٹھیلوں کو بھی رشوت کے عوض دکانداری کی اجازت ہے۔ یعنی سرکاری ملازمین کی ساری توجہ فراڈ سکیموں اور پیسہ بنانے پر ہوتی ہے عوام مرتی ہے تو مرجائے انکی دھیاری لگنی چاہئے۔

    انکروچمنٹ کے خاتمے کی بجائے تجاوزات کی سرپرستی کی جارہی ہے۔ تجاوزات مافیہ سرعام کہتا ہے کہ ہم مفت میں نہیں بیٹھے ضلعی انتظامیہ، ایل ڈی اے، ایم سی ایل، ٹریفک پولیس اور PERA کو ”پروٹیکشن منی“ دیتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر لاقانونیت اور شرمناک بات کیا ہوسکتی ہے کہ جس فورس کو قانون کی عملداری کیلئے بنایا جاتاہے وہ خود قانون شکنی کی ساری حدیں پار کر رہی ہوتی ہے۔ گھر کے باہر زیادہ سے زیادہ 2 فٹ تک گرین بیلٹ ہوتا ہے لیکن لاہور سمیت تمام شہروں میں پانچ سے پندرہ فٹ تک گرین بیلٹ، پارکنگ اور گارڈ روم کی نام پر جگہ پر قبضہ کیا گیا ہے۔ گارڈ روم والی بدمعاشی سرکاری کن ٹٹوں نے کی ہوئی ہے۔ ہر سرکاری افسر گھر کے باہر سڑک پر گارڈ روم بنانا، بدمعاشی دکھانا اپنا استحقاق سمجھتا ہے۔ بہت سارے افسران نے جی او آر کی تصاویر اور ویڈیوز بھیجی ہیں کہ انکے ساتھی افسران کس طرح بدمعاشی کرکے راستہ بند کردیتے ہیں اور گلی پر قبضہ کرکے پختہ تعمیرات کی ہوئی ہیں۔ جو اپنے گھر سرکاری کالونی سے تجاوزات ختم نہیں کروا سکتے وہ باہر کیا کریں گے۔

    سب سے بدترین تجاوزات لاہور میں ہیں جہاں سڑکوں پر گاڑی چلانا جبکہ بازاروں میں پیدل چلنا بھی محال ہے۔ خود سے تجاوزات کا خاتمہ تو درکنار متعدد بار شکایات کے باوجود کاروائی نہیں کی جا رہی۔ صوبائی دارالحکومت کو رول ماڈل ہونا چاہئے لیکن لاہور کی خوبصورتی کو تجاوزات مافیا کی سرپرستی کرنے والے سرکاری افسران نے بدصورتی میں بدل دیا ہے۔ لاہور کی مختلف مارکیٹوں اور شاہراؤں پر عارضی تعمیرات اور تجاوزات قائم کروا کر ماہانہ پانچ سو کروڑ سے زائد صرف تجاوزات کی آمدنی ہے۔ اسی طرح دیگر اضلاع میں بھی تجاوزات ماہانہ کروڑوں کی انڈسٹری ہے۔لاہور سمیت پنجاب بھر میں گاڑیوں کے شورومز، رپئیرنگ ورکشاپ اور ریسٹورنٹ مافیا نے ”پروٹیکشن منی“ دے کر سڑکوں پر قبضہ کررکھا ہے۔ سرکاری اور پرائیویٹ چکڑ چوہدریوں نے جنگلے اور گیٹ لگا کر گلیاں بند کی ہوئی ہیں۔ گھروں کے باہر سڑک کی زمین پر قبضہ کرکے بنائی گئی گرین بیلٹ اور گارڈ روم کے نام پر 10فٹ تک قبضہ عام روٹین ہے۔سرکاری گاڑیوں کی اکثریت بنا نمبر پلیٹ ہے یا نمبر کے آگے راڈ لگا کر چھپایا ہوتا ہے ، عام پبلک کا آن لائن چالان اور ان سرکاری بدمعاشوں کو کھلی چھٹی کیوں ؟رکشوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو دو ہزار روزانہ پر بلا نمبر پلیٹ چلانے کی اجازت ہے کیوں کہ مجموعی طور پر یہ رقم 60 کروڑ روزانہ سے زائد ہے۔عام شہریوں کو ان قانون شکن اور بدمعاش سرکاری و پرائیویٹ مافیا سے انصاف اور حق لینے کیلئے مرنا ضروری ہے کیا ؟

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • غیر ضروری اور لاحاصل مباحث فکری زوال کا سبب،تجزیہ:شہزاد قریشی

    غیر ضروری اور لاحاصل مباحث فکری زوال کا سبب،تجزیہ:شہزاد قریشی

    یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ ایک طرف دنیا تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہی ہے اور دوسری طرف ہم آج بھی الیکٹرانک میڈیا، اخبارات اور سوشل میڈیا پر غیر ضروری اور لاحاصل مباحث میں الجھے ہوئے ہیں۔ ایک ایسی رسم، جسے کبھی بسنت اور کبھی روایت کا نام دے دیا جاتا ہے، اس پر گھنٹوں کی بحث قوم کی ترجیحات پر سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس نوعیت کے مباحث پہلے بھی ہمارے فکری زوال کا سبب بنے،کبھی “کوا حلال ہے یا حرام” جیسے موضوعات نے ذہنوں کو الجھائے رکھا، اور آج وہی روش نئے عنوانات کے ساتھ دہرائی جا رہی ہے۔

    اصل سوال یہ نہیں کہ کون سا شوق درست ہے یا غلط، اصل سوال یہ ہے کہ قومیں کیسے ترقی کرتی ہیں؟ کیا دنیا پتنگیں اڑا کر آگے بڑھی ہے، یا تعلیم، تحقیق، صنعت اور مضبوط معیشت کے ذریعے؟ افسوس اس بات کا ہے کہ جس ملک میں آج بھی عوام بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ، مہنگائی، بے روزگاری، کمزور تعلیمی نظام اور ناقص صحت کی سہولیات جیسے بنیادی مسائل کا سامنا کر رہے ہوں، وہاں قومی مکالمہ اصل مسائل کے بجائے غیر سنجیدہ موضوعات کے گرد گھوم رہا ہو۔

    میڈیا کا کردار قوم کی رہنمائی اور شعور کی بیداری ہے، مگر جب توجہ اصل مسائل سے ہٹ جائے تو عوامی سوچ بھی منتشر ہو جاتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ وقت اور توجہ قیمتی قومی سرمایہ ہیں۔ اگر یہ سرمایہ غیر ضروری بحثوں میں ضائع ہوتا رہا تو نقصان صرف آج کا نہیں، آنے والی نسلوں کا بھی ہوگا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سنجیدگی کے ساتھ اپنے حقیقی مسائل پر توجہ دیں، درست ترجیحات طے کریں اور قومی بیانیے کو ترقی، اصلاحات اور عوامی فلاح کی سمت موڑیں۔ بصورت دیگر افسوس کے سوا ہمارے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچے گا۔

  • جھیلِ طبریہ: ایمان، تاریخ، سلامتی اور آخری زمانے کی پیش گوئی کا مقدس سنگم،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    جھیلِ طبریہ: ایمان، تاریخ، سلامتی اور آخری زمانے کی پیش گوئی کا مقدس سنگم،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    دفاعی و اسٹریٹجک تجزیہ کار، جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس اسٹریٹجی اور دفاعی جدیدکاری کے ماہر، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک ایمینیٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن

    تعارف
    جھیلِ طبریہ—جسے بحرِ طبریہ، سی آف گلیل یا کنیرت بھی کہا جاتا ہے—شمالی فلسطین/اسرائیل میں واقع ایک میٹھے پانی کی جھیل ہے جو یہودیت، عیسائیت اور اسلام تینوں میں غیر معمولی مذہبی اہمیت رکھتی ہے۔ روحانی علامت سے بڑھ کر، آج یہ جھیل مذہب، قومی آبی سلامتی اور علاقائی استحکام کے نازک امتزاج پر واقع ہے، جس کے باعث یہ مشرقِ وسطیٰ کے سب سے زیادہ زیرِ نگرانی آبی ذخائر میں شمار ہوتی ہے۔

    یہودی مذہبی اہمیت
    یہودیت میں جھیلِ طبریہ یہودی تاریخ اور علمی روایت سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔
    جھیل کے مغربی کنارے واقع شہر طبریہ، دوسرے ہیکل کی تباہی کے بعد یہودی تعلیم و فقہ کا ایک مرکزی مرکز بن گیا۔
    متعدد جلیل القدر یہودی علماء اور بزرگ اس کے اطرافی علاقوں میں مدفون ہیں۔
    تاریخی طور پر یہ جھیل ایک اہم میٹھے پانی کا ذریعہ رہی ہے، جس نے شمالی فلسطین میں زراعت اور آبادیوں کو سہارا دیا۔
    یہودی روایت میں جھیلِ طبریہ وراثت، تسلسل اور بقا کی علامت ہے۔

    عیسائی مذہبی اہمیت
    عیسائیوں کے نزدیک بحرِ طبریہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ اور تبلیغی مشن سے وابستہ مقدس ترین مقامات میں شامل ہے:
    حضرت عیسیٰؑ نے اس کے کناروں پر واقع بستیوں—کفرناحوم، بیت صیدا اور مگدلہ—میں وسیع پیمانے پر تبلیغ کی۔
    اس جھیل سے منسوب کئی عظیم معجزات بیان کیے جاتے ہیں:
    پانی پر چلنا
    طوفان کو پرسکون کرنا
    مچھلیوں کا معجزاتی شکار
    حواریوں کی دعوت
    یہ علاقہ حضرت عیسیٰؑ کی عوامی دعوت کا مرکز سمجھا جاتا ہے، اسی لیے جھیلِ طبریہ آج بھی دنیا بھر کے عیسائیوں کے لیے ایک بڑا زیارتی مقام ہے۔

    اسلامی نقطۂ نظر اور نبوی اہمیت
    اسلام میں جھیلِ طبریہ—جسے صحیح احادیث میں بحیرۂ طبریہ کہا گیا ہے—قیامت سے پہلے کے حالات (علاماتِ قیامت) میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے اور دجال کے ظہور سے براہِ راست منسلک ہے۔
    صحیح حدیث کا حوالہ
    حضرت فاطمہ بنت قیسؓ سے مروی ایک معروف روایت، جو صحیح مسلم میں مذکور ہے، میں حضرت تمیم داریؓ کا ایک جزیرے پر ایک زنجیروں میں جکڑے ہوئے شخص سے سامنا بیان کیا گیا، جسے بعد ازاں نبی اکرم ﷺ نے دجال قرار دیا۔
    صحیح مسلم، حدیث 2942
    دجال کے سوالات میں ایک سوال یہ تھا:
    کیا بحیرۂ طبریہ میں پانی موجود ہے؟
    جب بتایا گیا کہ ابھی پانی موجود ہے تو اس نے کہا:
    “قریب ہے کہ یہ خشک ہو جائے گا۔”
    نبی کریم ﷺ نے اس واقعے کی تصدیق فرمائی، یوں بحیرۂ طبریہ کا خشک ہو جانا دجال کے ظہور سے قبل کی بڑی علامات میں شامل قرار پایا۔
    علمائے اسلام اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عارضی کمی یا موسمی اتار چڑھاؤ اس پیش گوئی کے مصداق نہیں؛ بلکہ اس سے مراد جھیل کا مکمل طور پر خشک ہو جانا ہے۔
    دجال کی جسمانی علامات (جیسا کہ صحیح احادیث میں بیان ہوا)
    نبی اکرم ﷺ نے امت کو فتنۂ دجال سے بچانے کے لیے اس کی واضح نشانیاں بیان فرمائیں:
    دجال کانا ہوگا
    اس کی دائیں آنکھ اندھی ہوگی، جسے یوں بیان کیا گیا:
    “گویا ابھرا ہوا انگور” (صحیح بخاری 3438؛ صحیح مسلم 2933)
    اس کی پیشانی پر لفظ “کافر” (كافر) لکھا ہوگا، جسے ہر مومن پڑھ سکے گا
    وہ جھوٹا دعویٰٔ الوہیت کرے گا اور فریب پر مبنی کرتب دکھائے گا
    اس کا فتنہ انسانیت کے لیے سب سے بڑا امتحان ہوگا۔

    جدید اسٹریٹجک اور سلامتی کا پہلو
    موجودہ دور میں جھیلِ طبریہ قومی سلامتی اور اسٹریٹجک اہمیت بھی اختیار کر چکی ہے:
    اسرائیل قومی آبی نظم و نسق اور ماحولیاتی توازن کے باعث جھیلِ طبریہ کی سطحِ آب کی مسلسل نگرانی کرتا ہے۔
    جھیل کے گرد بعض علاقوں میں رسائی محدود ہے، اور اطراف کے کچھ حصوں کو وقتاً فوقتاً حساس یا عسکری کنٹرولڈ زون قرار دیا جاتا رہا ہے۔
    شہری نقل و حرکت، ماہی گیری اور تعمیراتی سرگرمیاں، خصوصاً اسٹریٹجک تنصیبات کے قریب، سخت ضوابط کے تحت ہیں۔
    گزشتہ دہائیوں میں پانی کی سطح میں کمی نے اس جھیل کو محض مذہبی مقام سے بڑھا کر ایک اسٹریٹجک اثاثہ بنا دیا ہے، جس پر ریاستی ادارے کڑی نظر رکھتے ہیں۔
    یہ نگرانی نہ صرف ماحولیاتی خدشات کی عکاس ہے بلکہ پانی کی قلت کے شکار خطے میں میٹھے پانی کی جغرافیائی سیاست کی حساسیت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔

    اسلامی عقیدے میں حضرت عیسیٰؑ کا کردار
    اسلامی عقیدے کے مطابق دجال کے ظہور کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق کے قریب نزول فرمائیں گے اور بالآخر دجال کو قتل کریں گے، جس کے نتیجے میں عدل، حق اور اخلاقی نظام بحال ہوگا—اس سے قبل کہ انسانی تاریخ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو۔

    خلاصہ
    جھیلِ طبریہ ایمان، نبوت اور سلامتی کے ایک منفرد سنگم کی حیثیت رکھتی ہے۔
    یہودیوں کے لیے یہ علمی وراثت کی علامت ہے؛ عیسائیوں کے لیے حضرت عیسیٰؑ کی دعوت کی زندہ سرزمین؛ اور مسلمانوں کے لیے انسانیت کے آخری امتحانات سے جڑی ایک واضح نبوی نشانی۔
    جدید دور میں اس کی سخت نگرانی اور محدود حیثیت اس حقیقت کو مزید اجاگر کرتی ہے کہ جھیلِ طبریہ محض ایک مذہبی یادگار نہیں—بلکہ ایک اسٹریٹجک، علامتی اور نبوی مرکز ہے، جس کی اہمیت زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہے۔

  • انجمن ترویجِ زبان و ادب کا پہلا یوم تاسیس،تحریر:یاسمین اختر طوبیٰ

    انجمن ترویجِ زبان و ادب کا پہلا یوم تاسیس،تحریر:یاسمین اختر طوبیٰ

    ادب کی تاریخ میں بعض لمحات محض تاریخ کے اوراق تک محدود نہیں رہتے بلکہ روایت، شناخت اور فکری تسلسل کی علامت بن جاتے ہیں۔ انجمن ترویجِ زبان و ادب کے قیام کو مکمل ہونے والا پہلا برس بھی ایسا ہی ایک یادگار اور بامعنی لمحہ تھا، جسے انجمن کے اراکین نے محبت، وقار اور اعلیٰ ادبی شعور کے ساتھ منایا۔ اولین یومِ تاسیس کی یہ تقریب دراصل لفظ، احساس اور رفاقت کا جشن تھی، جہاں قلم نے دلوں سے مکالمہ کیا اور ادب نے روحوں کو یکجا کر دیا۔

    تقریب کا آغاز شکرگزاری، دعا اور اس پختہ عزم کے ساتھ ہوا کہ انجمن ترویجِ زبان و ادب اردو زبان و ادب کے فروغ کا وہ چراغ ہے جو اخلاص، محنت اور فکری دیانت سے روشن کیا گیا ہے۔ اسی روحانی فضا میں محمد اویس کی دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور کرتی حمد و نعت پیش کی گئی، جس نے انجمن کو روحانی و نورانی حرارت سے سرور بخشا۔ ان کی مترنم آواز، خلوصِ عقیدت اور اثرانگیز انداز نے حاضرین کے دلوں کو ذکرِ الٰہی سے گرمایا اور محفل کو روحانی سکون سے ہمکنار کیا۔

    اس موقع پر انجمن کی بانی و سرپرست پارس کیانی کو پُرخلوص خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جن کے فکری وژن، گہرے ادبی شعور اور سنجیدہ رہنمائی نے اس خواب کو عملی صورت عطا کی۔ ان کا قلم اور ان کی قیادت انجمن کی فکری بنیاد اور سمت کا تعین کرتے ہیں۔منتظم اعلیٰ سلیم خان اور بانی و سرپرست پارس کیانی نے تقریب میں موقع کی مناسبت سے روح کی غذایت کا اہتمام خوبصورت گیتوں کے انتخاب کی صورت میں کیا اور ثابت کیا کہ ایسے برمحل انتخاب محفل کو توازن، لطافت اور داخلی سکون عطا کرتے ہیں۔

    منتظمِ اعلیٰ سلیم خان کی خدمات کو بھی خصوصی طور پر سراہا گیا، جن کی بے لوث قیادت، ادب نوازی، انسان دوستی اور مسلسل عملی تعاون نے انجمن کو استحکام بخشا۔ وہ محض نظم و نسق کے نگران نہیں بلکہ محبتوں کے سفیر اور ادب کے سچے خادم ہیں۔ انہوں نے بھی روح کو سرشار کرنے والے گیتوں کے انتخاب سے انجمن کی خوبصورتی میں اضافہ کیا۔

    تقریب میں سابق منتظمِ ثانی احمد منیب کا تذکرہ نہایت عقیدت اور احترام سے کیا گیا، جو اپنی نجی مصروفیات کے باعث اس وقت انجمن سے رخصت پر ہیں۔ ان کی خوش اخلاقی، علمی ذوق اور ادبی وابستگی کو انجمن کی تاریخ کا قیمتی حوالہ قرار دیا گیا۔انتظامی ٹیم میں منتظمہ عمارہ کنول چوہدری، منتظم خان عبداللہ ایلیاء اور منتظمہ یاسمین اختر طوبیٰ کی منظم، مخلص اور فعال خدمات کو انجمن کے تسلسل اور استحکام کی ضمانت قرار دیا گیا۔ ان کی انتھک محنت نے انجمن کو ایک مربوط، شائستہ اور باوقار ادبی پلیٹ فارم بنایا۔فعال اراکینِ انجمن کی خدمات تقریب کا روشن اور قابلِ فخر باب رہیں۔ ڈاکٹر ارشاد خان کو قادرالکلام شاعر و نثر نگار کی حیثیت سے فکری گہرائی اور ادبی وقار کی علامت قرار دیا گیا۔ خواجہ ثقلین سمیط کی بذلہ سنجی، شعری مہارت اور لفظوں کے برمحل استعمال نے محفل کو تازگی اور توانائی بخشی۔ رانا طارق بلال کے روزانہ سلامتی اور خیرسگالی پر مبنی پیغامات کو روحانی خوشبو سے تعبیر کیا گیا۔ عبدالرحمان واصف کے کلام میں سچائی اور اثر پذیری کو نمایاں طور پر سراہا گیا، جبکہ سید عارف لکھنوی کی حمد، نعت اور منقبت کو عقیدت اور فن کا حسین امتزاج قرار دیا گیا۔

    ڈاکٹر شگفتہ کی غزل گوئی کو نسائی حساسیت اور شعری لطافت کی نمائندہ کہا گیا۔ پروفیسر محمد صدیق بزمی کی علمی بصیرت، ادبی وقار اور وقیع انتخاب کو انجمن کا قیمتی علمی سرمایہ قرار دیا گیا۔ ثاقب قریشی، چٹکلوں کے بادشاہ، نے اپنی بذلہ سنجی سے محفل میں مسکراہٹیں بکھیر دیں۔ ملک عدیل عاصم کی ادبی خدمات، محمد ساجد کی سنجیدہ اور معیاری ادبی ترسیلات، محمد عتیق الرحمن کی علمی جستجو اور فضل کریم کے قرآن و سنت پر مبنی اصلاحی و فکری پیغامات کو بھی بھرپور انداز میں سراہا گیا۔

    تقریب کا ایک نہایت قابلِ تحسین اور حوصلہ افزا پہلو انجمن کی جانب سے بہترین کارکردگی کے حامل اراکین کو اسنادِ اعزاز جاری کرنے کی روایت کا آغاز تھا۔ اس اقدام کو اراکین کی حوصلہ افزائی، ادبی خدمات کے اعتراف اور مثبت مسابقت کے فروغ کی عمدہ مثال قرار دیا گیا۔اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ انجمن ترویجِ زبان و ادب آئندہ بھی شائستگی، برداشت، اخلاص اور فکری دیانت کے ساتھ اردو زبان و ادب کی خدمت کرتی رہے گی۔ دعا کی گئی کہ یہ ادبی قافلہ یوں ہی علم، محبت اور خیر بانٹتا رہے اور آنے والے برس اس کی تاریخ میں مزید روشن اور یادگار ابواب کا اضافہ کریں۔آمین ثم آمین یا رب العالمین

  • گل پلازہ ۔۔۔زندہ انسانوں کا مدفن ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    گل پلازہ ۔۔۔زندہ انسانوں کا مدفن ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    نام تو اس کا’’ گل پلازہ ‘‘ تھایعنی پھول پلازہ ۔ ’’ گل ‘‘ ۔۔۔۔مطلب پھول جو دیکھنے میں بھی خوشنما ہوتا ہے لوگوں کے لئے خوشیاں بانٹتا اور خوشبو بکھیرتا ہے لیکن کراچی کا ’’ گل پلازہ ‘‘ لوگوں کے لیے موت کا کنواں اور دہکتا ہوا الاؤ بن گیا۔ ایسا الاؤ جس نے پھول نہیں، جس نے چشم زدن میں 80زندہ انسان جلائے۔گل پلازہ لوگوں کیلئے ایسا الاؤ بن گیا جس نے خوشبو نہیں، راکھ بکھیری۔ جس نے زندگی نہیں، موت بانٹی ۔ کراچی کے اس بدقسمت پلازے میں لگنے اور بھڑکنے والی آگ کوئی اچانک حادثہ نہ تھی، یہ برسوں سے سلگتی ریاستی بے حسی تھی جو اُس دن شعلوں کی صورت پھٹ پڑی۔ یہ آگ لکڑی، کپڑے یا کیمیکل سے نہیں لگی ۔ یہ آگ غفلت، لالچ، رشوت ، مجرمانہ خاموشی اور بدانتظامی سے لگی ہے ۔اب تک 80سے زائد زندگیاں اس الاؤ میں جل کر راکھ چکی ہیں۔لیکن اصل سانحہ اعداد و شمار نہیں بلکہ اصل سانحہ وہ 30 لاشوں کی باقیات ہیں جو ایک ہی دکان سے ملیں،وہ جلی ہوئی ہڈیاں، وہ ٹوٹے ہوئے دانت، وہ راکھ میں دبے سوختہ جسم جو اپنی شناخت اور پہچان تک کھو چکے ہیں ۔۔۔جن کا ڈی این اے تک بھی ممکن نہیں۔

    سوچئے! جب اپنے بیٹے کی راہ تکتی ماں کو لاش نہیں صرف راکھ ملے ، جب باپ کو قبر نہیں صرف ایک تھیلی دی جائے۔ جب ورثا سے کہا جائے کہ شناخت ممکن نہیں تو اس ماں کے درد اور انتظار کیا کا نام کیا رکھا جائے؟ یہ کیسا نظام ہے ، جہاں انسان جل کر راکھ ہو جائے مگر فائلیں زندہ رہیں؟ چیخیں جو فائلوں میں دب گئیں ، آگ کے شعلوں میں گھرے وہ معصوم بچے، جو آخری لمحے میں ماں کو پکار رہے تھے، وہ بزرگ جو چل نہیں سکتے تھے، وہ محنت کش جو رزق کی تلاش میں آئے تھے، وہ خواتین جو زندگی کی امید لے کر گھروں سے نکلی تھیں۔۔۔۔سب کی چیخیں نظام کی بہری دیواروں سے ٹکرا کر واپس لوٹ آئیں۔ کوئی ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ، کوئی فائر الارم نہیں ، کوئی اسپرنکلر نہیں ، کوئی راستہ نہیں ، بس شعلے تھے ۔۔۔۔۔۔اور موت کے بھیانک قہقہے تھے ۔

    بلاشبہ یہ ایک درد ناک سانحہ اور المیہ ہے جس پر اب طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں ۔ کوئی کہہ رہا ہے آگ شارٹ سرکٹ سے لگی اور کوئی کہہ رہا ہے کہ آگ اچانک لگ گئی ۔ کوئی کچھ کچھ کہہ رہا ہے اور کوئی کچھ ۔ یہ تمام قیاس آرائیاں درحقیقت قاتل کو بچانے کی کوشش ہے۔ یہ آگ کسی دکان دار نے نہیں لگائی ، یہ آگ کسی مزدور نے نہیں لگائی ، یہ آگ کسی شارٹ سرکٹ سے نہیں لگی ، یہ آگ اچانک نہیں بڑھکی یہ آگ ان بچوں نے بھی نہیں لگائی جو اس میں زندہ جل گئے بلکہ یہ آگ اُس نظام نے لگائی ہے ،جو پلازے بنانے کی اجازت تو دیتا ہے ، مگر انسان بچانے کی ذمہ داری نہیں لیتا۔ یہ آگ اس نظام نے لگائی ہے جو پلازے بنانے کی اجازت کو دیتا ہے لیکن پلازے کے مالکان کو سیفٹی فائر سسٹم کی تنصیب اور ہنگائی راستے بنانے کے احکامات جاری نہیں کرتا ۔

    ہم سمجھتے ہیں سانحہ گل پلازہ۔۔۔۔۔ حادثہ نہیں بلکہ اجتماعی قتل عام ہے ، یہ حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت کا نوحہ ہے۔ وہ مرد و خواتین جو صبح گھروں سے نکلے کہ شام کو بچوں کے لیے روٹی لائیں گے وہ شام کو خود کفن بن گئے۔ زندگی بھر کی وہ جمع پونجی جو دکانوں میں لگی تھی خود بھی جل گئی اور اپنے مالکوں کو بھی جلا گئی ۔ آج ان گھروں میں نہ ہنسی ہے ، نہ چراغ اور نہ امید ہے ۔۔۔۔۔۔صرف بین ہیں ، آہیں ہیں اور سناٹا ہے ۔
    گل پلازہ میں جلنے والوں میں کئی ایسے تھے جو آگ سے نہیں مرے بلکہ دم گھٹنے سے مرے ہیں ۔وہ لوگ جو سیڑھیوں کی طرف دوڑے مگر راستے بند تھے ، جو کھڑکیوں کی طرف لپکے مگر سلاخیں نصب تھیں، جو چھت کی طرف بھاگے مگر دروازہ مقفل تھا وہ سب آگ سے پہلے مایوسی میں مر گئے۔

    یہ کیسی عمارت تھی جس میں داخلہ تو آسان تھا مگر نکلنے کا راستہ نہیں تھا ؟ کراچی جو کہ پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے معاشی شہ رگ ہے لیکن یہ ایک ایسا شہر ہے جہاں بازار بنتے ہیںمگر زندگی کے لیے نہیں بلکہ موت کے لیے؟ آگ میں گھرے اور شعلوں میں لپٹے لوگوں نے یقینا باہر نکلنے کی ہر ممکن کوشش کی ہوگی ۔ انھوں نے مدد کیلئے اپنے پیاروں کوفون بھی کئے ہوں گے ۔ وہ آخری فون کالز جو کبھی نہیں ملیں ۔ اس سانحے میں کچھ موبائل فون جلے ہوئے ملے کچھ بجتے رہے مگر اٹھانے والا کوئی نہیں تھا۔ کسی نے آخری لمحے ماں کو فون کیاہو گا کہ امی یہاں آگ لگ گئی ہے ! کسی نے دم آخریں بیوی کو پیغام بھیجا ہو گا کہ بچوں کا خیال رکھنا ۔ یہ وہ پیغامات ہیں جو موبائل میں محفوظ رہ گئے لیکن پیغام بھیجنے والے راکھ ہو گئے۔ کفن بھی پورا نہیں، قبر بھی ادھوری ہے یہ کیسا المیہ ہے کہ کچھ لاشوں کے لیے پورا کفن بھی میسر نہیں۔کہیں ہڈیوں کو کپڑے میں لپیٹا گیاکہیں راکھ کو ڈبوں میں رکھا گیااور ورثا سے کہا گیا یہی ہے جو بچ سکا ہے۔
    سوچیے!
    جس جسم نے عمر بھر مشقت کی جس ہاتھ نے بچوں کو پالا ، جس پیشانی نے سجدے کیے وہ اب چند ہڈیوں میں سمٹ گیااور ریاست کے ضمیر پر راکھ کی تہہ بن کر سوالیہ نشان بن گیا ۔

    اب تو تحقیقات نے بھی نظام کو بے نقاب کر دیا ہے ۔ سانحے کے بعد تحقیقات ہوئیں تو سچ اور زیادہ بھیانک نکلا۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے کمشنر کراچی کو سات فائلیں پیش کیں تین فائلیں گل پلازہ کے زیر التواء عدالتی مقدمات کی باقی فائلیں خلافِ ضابطہ تعمیرات کی جو اپنے دامن میں دولت کی ہوس کی کئی المناک اور شرمناک داستان لیے ہوئے ہے ۔ یعنی یہ پلازہ غیر قانونی تھا، متنازع تھا اور خطرناک تھا ۔ پھر بھی آباد رہا ، کاروبار ہوتا رہا اور آخرکار یہ پلازہ کتنے ہی زندہ انسانوں کا مقتل اور مدفن بن گیا ۔پلازے کی فائر سیفٹی آڈٹ رپورٹ تو ریاست کے منہ پر طمانچہ ہے صرف 5 فیصد حصے میں فائر سیفٹی سسٹم۔ ہنگامی اخراج کے راستے ناپید اور آگ بجھانے کے آلات غائب !

    تو سوال یہ ہے کہ ۔۔۔۔اس مجرمانہ غفلت کا ذمہ دار کون ۔۔۔۔۔؟ سانحے کا سب سے لرزا دینے والا پہلو یہ ہے کہ کئی لاشوں کی شناخت ممکن نہیں۔ ڈی این اے نہ ہونے کی وجہ سے باقیات ورثا کے حوالے کرنا بھی ایک کرب ناک مرحلہ بن چکا ہے۔ وہ ماں جو ہر روز دروازے پر بیٹھتی ہے وہ بیوی جو ہر فون کال پر چونک اٹھتی ہے وہ بچہ جو پوچھتا ہے ابو کب آئیں گے؟

    ان سب کو کون جواب دے گا؟ آگ میں جل کر شہید ہونے والوں کے ورثا کا ایک ہی مطالبہ اور قوم کا بھی مطالبہ اور قوم کے ضمیر کی آواز بھی ہے کہ اگر آج بھی ہم نے سبق نہ سیکھا تو کل کوئی اور پلازہ، کوئی اور بازار، کوئی اور خاندان ہماری غفلت کی قیمت چکائے گا۔ یہ صرف کراچی کا مسئلہ نہیں یہ پورے پاکستان کا المیہ ہے۔ہر شہر میں ایسے ہی جلتے ہوئے اور بارود کے ڈھیر پر کھڑے کمرشل اور رہائشی پلازے خاموشی سے ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔

    سانحہ گل پلازہ میں ہمارے لیے سبق ہے کہ آئندہ کے لیے کمرشل اور رہائشی پلازوں کی تعمیر میں تمام تر حفاظتی اقدامات کئے جائیں ۔ اب صرف آنسو کافی نہیں، صرف بیانات کافی نہیںبلکہ فوری طور پر ملک گیر فائر سیفٹی ایمرجنسی، تمام کمرشل و رہائشی عمارتوں کافوری اور شفاف آڈٹ یقینی بنایا جائے ۔ بغیر سیفٹی عمارت بند کی جائیں ۔ اس لئے کہ سیفٹی کے بغیر پلازہ براہِ راست قتل گاہ ہے ۔ لہذا یسے تمام پلازے فوری سیل کیے جائیں اور ان کے مالکان کے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے ۔