Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • یومِ یکجہتی کشمیر ( ایک عہد، ایک صدا )،  کامران ہاشمی

    یومِ یکجہتی کشمیر ( ایک عہد، ایک صدا )، کامران ہاشمی

    5 فروری کا دن ہمیں یہ یاد اور احساس دلاتا ہے کہ کشمیر صرف ایک خطہ نہیں بلکہ ایک زندہ احساس، ایک مسلسل جدوجہد اور ایک حقیقت کا نام ہے۔ یہ دن ہمیں مظلوم کشمیری عوام کےساتھ کھڑے ہونے، ان کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے اور ان کی آواز کو دنیا تک پہنچانے کا دن ہے۔برف پوش پہاڑوں اور سرسبز وادیوں کی یہ سرزمین کئی دہائیوں سے ظلم، جبر اور ناانصافی کا سامنا کر رہی ہے۔ معصوم جانیں قربان ہوئیں، مائیں اجڑیں، مگر کشمیری عوام کے حوصلے نہ ٹوٹے۔ ان کی خاموشی میں صبر ہے اور ان کی نگاہوں میں آزادی کی روشن امید۔
    یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ پاکستان کا ہر دل کشمیر کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ ہم کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کرتے ہیں اورہراخلاقی،سفارتی اور انسانی فورم پر ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے انشاء اللہ۔ یہ یکجہتی وقتی طور پر نہیں، بلکہ یہ ایک پختہ عزم اور زندہ ضمیر کا اظہار ہے۔

    آج ہم یہ عہد دہراتے ہیں کہ حق کی یہ جدوجہد رائیگاں نہیں جائے گی، اور وہ دن ضرور آئے گا جب کشمیر کی وادیاں آزادی کی خوشبو سے مہک اٹھیں گی جس طرح جمیل الدین عالی نے نظم ” اے دیس کی ہواؤں ” میں یہ بات کہا ہے کہ تاریخ کہتا ہے کہ ایک دن آپ ضرور آزاد ہونگے ۔آخر میں بس یہی کہنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان مظلوم کشمیری عوام کو جلد انصاف، امن اور آزادی عطافرمائےآمین۔

  • یوم یکجہتی کشمیر.تحریر:   زونیشاء خاں

    یوم یکجہتی کشمیر.تحریر: زونیشاء خاں

    یاران جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت
    جنت کسی کافر کو ملی ہے نا ملے گی
    "کشمیر بنے گا پاکستان” یہ صرف ایک نعرہ ہی نہیں بلکہ ایک ذندہ و تلخ حقیقت ہے۔ کشمیر اور پاکستان کی تہذیب و تمدن، ثقافت اور تاریخ یکساں ہے۔ کشمیر کے ساتھ جو ہمارا رشتہ ہے وہ دینی و اسلامی رشتہ ہے۔ ہندوستان سے جب پاکستان علیحدہ ہوا تو کشمیر پاکستان کے حصے میں آیا تھا، لیکن بھارت کی ناانصافی سے یہ اب تک کیلئے نا حل ہونے والا تنازع بن چکا ہے، جسکی اندھیری رات ختم ہونے میں نہیں آرہی ہے۔

    وطن عزیز پاکستان میں ہر سال 5 فروری کو "یوم یکجہتی کشمیر” منایا جاتا ہے۔ اس دن حکومت اور عوام کشمیریوں سے اظہار یکجتی کا اعلان کرتی ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ اقوام متحدہ کے ایک گزشتہ اجلاس میں مظلوم کشمیریوں کی حمایت کر کے جو تاثر قائم کیا گیا تھا افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعد کے ایام میں اس کا اثر زائل ہو گیا۔

    کشمیر جنت نظیر کی سر زمینِ پر بھارت کی درندہ صفت فوجیں اتنی بڑی تعداد میں نہتے کشمیریوں کی نسل کشی پر مامور ہیں کہ اس کی مثال پوری دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ ان کی آبادیاں ویران،کھیت کھلیان اور باغات تباہی حال، بہن اور بیٹیوں کی عزتیں پامال اور پوری وادی جنت نظیر آج مقتل کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ اب تک بہت سی جانوں کے نذرانے پیش کیے جاچکے ہیں۔ کشمیر میں ہر طرف ظلم وزیادتی اور بربریت کا منظر ہے۔ آئے روز بھارت کی طرف سے حملے ہورہے ہیں جنکا حساب کوئی نہیں لینے والا ہے۔

    کشمیری عوام مختلف تنظیموں کے جھنڈ تلے مصروف جہاد ہے۔ وہاں کا بچہ بچہ اپنی آزادی کیلئے کھڑا نظر آرہا ہے۔ 5 فروری کو پورے پاکستان میں "یوم یکجہتی کشمیر” سرکاری طور پر منایا جاتا ہے۔ اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعارے لگائے جاتے ہیں۔ ان شاءاللہ کشمیر اللّٰہ رب العزت کے حکم سے ایک دن ضرور آزاد ہوگا۔ ظالم بھارتیوں نے اہل کشمیر پر زمین تنگ کر دی ہےمگر کشمیری عوام ان شاءاللہ آزادی کی تحریک کو کامیابی سی ہم کنار کر کے دم لیں گی۔

  • وادیِ لہو میں آزادی کا سورج: 5 فروری اور ہماری ذمہ داریاں،تحریر: فوزیہ شاہین

    وادیِ لہو میں آزادی کا سورج: 5 فروری اور ہماری ذمہ داریاں،تحریر: فوزیہ شاہین

    5 فروری کا دن محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں، بلکہ لہو سے لکھی گئی اس داستانِ عزیمت کی یاد دہانی ہے جو وادیِ کشمیر کے چناروں تلے برسوں سے رقم ہو رہی ہے۔ یہ دن ہمیں ان ماؤں کی ممتا، ان بہنوں کی ردائے عفت اور ان جوانوں کے جذبۂ شوق کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے آزادی کی شمع کو اپنے خون سے روشن کر رکھا ہے۔ بقول شاعر:

    ظلم رہے اور امن بھی ہو، کیا ممکن ہے تم ہی کہو
    موت بھی آئے اور کفن بھی ہو، کیا ممکن ہے تم ہی کہو

    تاریخ کے جھروکوں میں کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ بھرنے کے بجائے مزید گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ "مسئلہ کشمیر” برصغیر پاک و ہند کا وہ ادھورا ایجنڈا ہے جو آج بھی عالمی ضمیر کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ ہر سال جب 5 فروری کا سورج طلوع ہوتا ہے، تو یہ اپنے ساتھ ان ہزاروں شہداء کی خوشبو لے کر آتا ہے جنہوں نے غاصبانہ قبضے کے خلاف سینہ تان کر شہادت کا جام پیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عالمی برادری کی خاموشی اس لہو کا مداوا کر پائے گی؟

    کشمیر کی تحریکِ آزادی کسی ایک دن یا ایک واقعے کا نام نہیں، بلکہ یہ نسل در نسل منتقل ہونے والا وہ جذبہ ہے جسے جبر کی کوئی دیوار قید نہیں کر سکی۔ ان چار دہائیوں میں ہم نے دیکھا کہ کیسے ہزاروں مائیں اپنے جگر گوشوں کے جنازوں کو کندھا دیتی نظر آئیں۔ وہ مائیں جنہوں نے اپنے بیٹوں کو ماتھے پر بوسہ دے کر رخصت کیا، اس یقین کے ساتھ کہ ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔

    جس خاک کے خمیر میں ہو خوںِ شہدا
    اس ارضِ مقدس سے بغاوت نہیں ہوتی

    ایک ماں کے لیے جوان بیٹے کا داغ جھیلنا زندگی کی سب سے بڑی اذیت ہے، لیکن کشمیری ماؤں کا حوصلہ انسانی تاریخ کا ایک منفرد باب ہے۔ وہاں بہنوں نے اپنے بھائیوں کی کلائیوں پر راکھی کے بجائے آزادی کے عہد باندھے اور جب ان کے بھائی لہو میں لت پت واپس آئے تو انہوں نے بین کرنے کے بجائے "آزادی” کے نعرے بلند کیے۔ یہ وہ قربانی ہے جس کی مثال دنیا کی کسی اور تحریک میں نہیں ملتی۔

    کشمیر کے المیے کا سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو وہ درندگی ہے جو خواتین کے ساتھ روا رکھی گئی۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی رپورٹیں گواہ ہیں کہ غاصب افواج نے "عصمت دری” کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تاکہ کشمیریوں کے حوصلے پست کیے جا سکیں۔ ہزاروں لڑکیاں اور عورتیں جن کی چادریں تار تار کی گئیں، وہ آج بھی انصاف کی منتظر ہیں۔ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ ایک آزاد فضا میں سانس لینے کا خواب دیکھتی تھیں۔
    نفسیاتی طور پر جنسی تشدد کا شکار ہونے والی خواتین کے زخم کبھی نہیں بھرتے، لیکن کشمیری خواتین کی ہمت دیکھیں کہ اس ظلم کے باوجود ان کے قدموں میں لغزش نہیں آئی۔ وہ آج بھی سر اٹھا کر قابض فوج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی زمین کا حق مانگ رہی ہیں۔

    کچل کے پاؤں سے وہ وادیاں جو آئی ہے
    وہ فوج خون کی ندیاں بہا کے لائی ہے
    مگر یہ جبر کی دیوار ٹوٹ جائے گی
    سحر کی گود سے آزادی مسکرائے گی

    برصغیر کی تقسیم کے وقت سے شروع ہونے والا یہ مسئلہ آج کئی سال گزرنے کے باوجود وہیں کھڑا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں فائلوں میں دبی دھول چاٹ رہی ہیں۔ استصوابِ رائے کا وعدہ جو عالمی سطح پر کیا گیا تھا، وہ آج ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں معاشی مفادات کی خاطر انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں پر خاموش ہیں۔ کیا کشمیریوں کا خون اتنا سستا ہے کہ اسے عالمی منڈی میں تولا جائے؟ یہ دوہرا معیار ہی اس مسئلے کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
    کشمیر کے عوام آج بھی اس امید میں بیٹھے ہیں کہ ایک دن آزادی کا سورج ضرور طلوع ہوگا۔ وہ سورج جو ان کی وادیوں سے خوف کے سائے مٹا دے گا، جو ان کی ماؤں کے آنسو پونچھے گا اور جو ان کی آنے والی نسلوں کو امن کا گہوارہ دے گا۔ فیض احمد فیض کے الفاظ میں:

    ہم دیکھیں گے
    لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
    وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
    جو لوحِ ازل پہ لکھا ہے

    انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی قوم آزادی کا فیصلہ کر لیتی ہے، تو دنیا کا کوئی بھی جدید اسلحہ یا فوجی طاقت اسے غلام نہیں رکھ سکتی۔ بھارت نے 5 اگست 2019 کے اقدامات کے ذریعے کشمیر کی شناخت مٹانے کی کوشش کی، لیکن اس نے کشمیریوں کے اندر آزادی کی تڑپ کو مزید جلا بخشی۔
    پاکستان کے عوام اور حکومت کے لیے 5 فروری محض اظہارِ یکجہتی کا دن نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ تجدیدِ عہد کا دن ہے۔ ہمیں عالمی سطح پر کشمیر کا مقدمہ مزید موثر انداز میں لڑنا ہوگا۔ ہمیں ان مظلوموں کی آواز بننا ہوگا جن کی آواز کو کرفیو اور لاک ڈاؤن کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    اے ارضِ وطن! تو بھی ہے گواہ ہم بھی ہیں گواہ
    اس ظلم کی کالی رات میں ہر آہ ہے گواہ

    اے اللہ! تو ہی ہر مشکل کو آسان کرنے والا ہے۔ وادیِ کشمیر میں بہنے والے معصوموں کے خون کے صدقے، اس مٹی کو غاصبوں سے پاک فرما۔ ان ماؤں کے حوصلے بلند رکھ جن کے بیٹے لاپتہ ہیں یا خاکِ وطن کا رزق بن گئے۔ کشمیر کے اس دیرینہ مسئلے کو جلد از جلد انصاف کے مطابق حل فرما اور وہاں کے لوگوں کو وہ حقیقی آزادی نصیب فرما جس کے لیے انہوں نے اپنی نسلیں قربان کر دیں۔ آمین۔

  • یوم کشمیر،تحریر؛حمرہ اکرام

    یوم کشمیر،تحریر؛حمرہ اکرام

    ایک ایسا خوبصورت سرزمین جس سرزمین کو جنت کا ٹکڑا قرار دیا گیا ہے۔ اگر اس سرزمین میں کوئی کمی ہے تو وہ کمی سکون کی ہے وہ خوبصورت سرزمین کشمیریوں کے لیے جہنم بنا دیا گیا ہے لیکن وہاں کے بہادر لوگ اپنے جنت کو دوزخ میں بدلنے میں نہیں چھوڑتے وہ مسلسل اپنے آزادی کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ایک مدت سے وہ اس جدوجہد میں مبتلا ہے لیکن انہوں نے کبھی بھی سر جھکا کر غلامی کو تسلیم نہیں کیا ان کے آزادی کی خواہش کبھی نہیں مریں گی، کئی بار کشمیر کے لوگوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی ہے لیکن ہر بار وہ اپنے جدوجہد کی آواز سے ثابت کر دیتے ہیں کہ وہ بہادر مسلم تھے اور رہیں گے اور نسل در نسل ان کی بہادری کی داستانیں چلتی رہیں گی ان کے زخم ناقابل فراموش ہے۔اور ہم پاکستان کے لوگ چاہے وہ حکمران ہوں یا عوام ہو ہر پانچ فروری کو کشمیریوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم اپ کے ساتھ کھڑے ہیں بلکہ صرف ایک دن کے لیے ہم نے اپنے وجود کے ایک ٹکڑے کو فراموش کر دیا ہے ان کو نظر انداز کر دیا ہے اور ہمارے حوصلے دیکھیں ہمیں درد بھی محسوس نہیں ہو رہی بہت ہی افسوس کی بات ہے۔ آئے مل کر اپنے بہن بھائیوں کی مدد کریں ان کو بے گناہ اور اپنے ہی گھر کے اندر قتل کیا جاتا ہے اور ہم تماشائی اور بے بس بن کر کھڑے ہیں۔

  • صدائے کشمیر  ،تحریر: عاصمہ تبسم

    صدائے کشمیر ،تحریر: عاصمہ تبسم

    پانچ فروری کا دن پاکستان میں یومِ یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض تقویم کا ایک ورق نہیں بلکہ ایک عہد ہے، ایک وعدہ ہے کہ ہم کشمیری عوام کے دکھ درد میں شریک ہیں۔ وہ وادی جو کبھی اپنی دلکش فضاؤں، بہتے جھرنوں اور سبز پہاڑوں کے باعث جنتِ نظیر کہلاتی تھی، آج خون اور آنسوؤں کی کہانی سناتی ہے۔

    1947 کے خزاں میں جب بھارتی افواج نے جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کیا، تو اس دن سے کشمیری عوام کی زندگی ایک مسلسل کرب میں ڈھل گئی۔ حقِ خودارادیت کی وہ روشنی جو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں میں جھلکتی تھی، آج تک ان کی دہلیز تک نہیں پہنچی۔ سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزر گیا، لیکن کشمیری عوام کی آنکھوں میں آزادی کا خواب اب بھی زندہ ہے۔

    بھارت کے ظلم و جبر کی داستان اتنی طویل ہے کہ ہر صفحہ خون سے لکھا گیا ہے۔ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، خواتین کی عصمت دری، نوجوانوں کی آنکھوں کو پیلٹ گنز سے چھین لینا، یہ سب روزمرہ کے معمولات بن چکے ہیں۔ اظہارِ رائے پر ایسی پابندیاں ہیں کہ زبان کھولنے کی سزا قید و بند ہے، اور قلم اٹھانے کی جرات کرنے والوں کے لیے اظہار پر قدغن کی دیواریں کھڑی ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A کو ختم کر کے بھارتی حکومت نے کشمیری عوام کی شناخت اور آبادیاتی ڈھانچے کو مسخ کرنے کی سازش کی۔ لیکن اس سب کے باوجود ہزاروں کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے یہ ثابت کر چکے ہیں کہ ظلم کے سامنے جھکنا ان کے خون میں نہیں۔

    یومِ یکجہتی کشمیر ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں واضح ہیں، لیکن عالمی طاقتیں خاموشی کی چادر اوڑھے بیٹھی ہیں۔ کشمیری عوام کی قربانیاں دنیا کے ضمیر پر دستک دیتی ہیں، مگر افسوس کہ یہ دستک اکثر ان سُن کانوں تک نہیں پہنچتی۔

    یہ دن ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم صرف نعروں اور جلسوں تک محدود ہیں یا واقعی کشمیری عوام کے لیے عملی اقدامات کرنے کو تیار ہیں؟ ہماری ذمہ داری ہے کہ سفارتی، سیاسی اور اخلاقی سطح پر ان کی حمایت جاری رکھیں۔ ہمیں ان کی جدوجہد کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا ہے، تاکہ ظلم کی سیاہ رات میں امید کی کرن روشن ہو سکے۔

    جیسا کہ ایک اور صدا بلند ہوتی ہے:

    اندھیروں میں بھی جلتی ہے امید کی شمع
    کشمیر کی جدوجہد ہے تاریخ کی نعمت

    کشمیر کی جدوجہد آزادی ایک ایسی شمع ہے جو ظلم کی آندھیوں کے باوجود بجھنے سے انکار کرتی ہے۔ یومِ یکجہتی کشمیر محض ایک دن نہیں بلکہ ایک عہد ہے کہ ہم کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے، جب تک کہ آزادی کی صبح ان کی دھرتی پر طلوع نہ ہو جائے۔

  • کشمیر پاکستان کا مقدر،تحریر:  دعا سرفراز

    کشمیر پاکستان کا مقدر،تحریر: دعا سرفراز

    کشمیر ایک حسین وادی ہی نہیں بلکہ ایک زندہ تاریخ، ایک جلتا ہوا سوال اور ایک عظیم قربانیوں کی داستان ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جس کے پہاڑ، وادیاں، دریا اور فضائیں بھی آزادی کا نغمہ گنگناتی ہیں۔ کشمیر پاکستان کا مقدر ہے، کیونکہ یہ رشتہ محض جغرافیے کا نہیں بلکہ ایمان، تہذیب، ثقافت اور قربانیوں سے بندھا ہوا ہے۔ تقسیمِ ہند کے وقت کشمیر کی مسلم اکثریت نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی خواہش کا اظہار کیا، مگر بدقسمتی سے یہ خواب آج تک شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا۔ کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے ظلم، جبر اور ناانصافی کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن ان کے حوصلے آج بھی بلند ہیں۔ ان کے دلوں میں آزادی کی شمع روشن ہے اور زبان پر صرف ایک ہی صدا ہے: "ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے۔” کشمیر کی وادیاں شہیدوں کے لہو سے رنگین ہیں۔ ماں نے اپنے لعل قربان کیے، بہنوں نے اپنے بھائی کھوئے اور بچوں نے اپنے باپ کی شفقت سے محرومی سہی، مگر کسی نے بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا قبول نہ کیا۔ یہ قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ کشمیری عوام کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ کشمیر کاز کو عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے۔ ہر فورم پر کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی گئی ہے۔ پاکستانی قوم کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ان کی جدوجہد کو اپنی جدوجہد سمجھتی ہے۔

    کشمیر پاکستان کا مقدر اس لیے بھی ہے کہ یہ رشتہ قدرتی، نظریاتی اور تاریخی بنیادوں پر قائم ہے۔ یہ محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ ایک سچ ہے جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ وہ دن ضرور آئے گا جب کشمیر کی وادیوں میں سبز ہلالی پرچم لہرائے گا اور کشمیری عوام آزادی کی فضا میں سانس لیں گے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم کشمیریوں کی قربانیوں کو یاد رکھیں، ان کے لیے آواز بلند کریں اور ہر ممکن حد تک ان کا ساتھ دیں۔ کیونکہ کشمیر صرف ایک خطہ نہیں، یہ ہماری پہچان، ہماری غیرت اور ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ کشمیر تھا، کشمیر ہے اور کشمیر ہمیشہ پاکستان کا مقدر رہے گا۔

  • زن چه نیست ۔۔۔؟تحریر: پارس کیانی

    زن چه نیست ۔۔۔؟تحریر: پارس کیانی

    انسانی تہذیب کی پوری داستان میں اگر کسی ایک ہستی کو مرکزیت حاصل ہے تو وہ عورت ہے۔ کائنات کا سماجی توازن عورت کے بغیر نامکمل ہے۔ انسانیت کی بنیاد، تعلقات کا رچاؤ، محبت کی نزاکت، خاندان کی تشکیل، سب عورت کے وجود سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے کردار میں کبھی ماں ہے، کبھی بہن ہے، کبھی دوست، کبھی ساتھی، اور کبھی ایک ایسے جذبے کی علامت جس سے زندگی کو معنی ملتے ہیں۔

    عورت کی عظمت کسی ایک مذہب، قوم یا تہذیب تک محدود نہیں۔ قدیم مصر سے لے کر جدید دنیا تک، ہر دور نے اسے کسی نہ کسی صورت میں مرکزی مقام دیا۔ ہندو مت میں لکشمی اور سرسوتی کو علم اور خوش حالی کی علامت سمجھا گیا۔ یونانی روایات میں دیوی ایتھینا دانائی و حکمت کا استعارہ رہی۔ بدھ مت، عیسائیت اور یہودیت سب کی کہانیوں میں خواتین شفقت، قوت اور استقامت کی علامت ہیں۔ یہ حقیقت انسانیت کے اجتماعی شعور میں گندھی ہوئی ہے کہ عورت دنیا کی سماجی تعمیر میں بنیادی اکائی ہے۔

    سماجیات کے مطابق معاشرے کی تشکیل کا پہلا ادارہ خاندان ہوتا ہے اور خاندان کی اساس عورت ہے۔ زبان، رویّے، اقدار، روایات اور احساسات،all transmission،عورت کے ذریعے نسل در نسل آگے بڑھتے ہیں۔ وہ نرمی بھی ہے اور استقامت بھی۔ اپنے وجود سے ماحول میں توازن پیدا کرتی ہے، افراد کو جذباتی ہم آہنگی دیتی ہے اور معاشرے میں رشتوں کے مابین ربط قائم رکھتی ہے۔دنیا کی تاریخ میں ایسی بے شمار خواتین ملتی ہیں جنہوں نے تہذیبوں کے رخ بدل دیے۔ قدیم مصر کی حکمران حتشپسوت، چین کی وو زیٹیان، برطانیہ کی ملکہ الزبتھ اوّل، یونان کی فلسفی ہائپیشیا، فرانس کی جوآن آف آرک، ہندوستان کی رانی لکشمی بائی، مغل دور کی مشہور فرمانروا رضیہ سلطانہ، اوّلین طبی محقق الفیہ بنتِ موسیٰ، اور برصغیر کی بہادر عورت دادی جانکی جیسے نام اس بات کی دلیل ہیں کہ عورت تاریخ کے دھارے میں کسی موڑ پر پیچھے نہیں رہی۔ جدید دور میں انجیلا میرکل، کملا ہیرس، کرسٹینا فرنانڈز، اور بینظیر بھٹو کی قیادت اس سلسلے کی تسلسل ہے۔

    سائنس اور علم میں بھی عورت نے وہ نقش چھوڑے جو کبھی مٹ نہیں سکتے۔ میری کیوری نے ریڈیو ایکٹیویٹی کی دریافت سے جدید سائنس کا دروازہ کھولا۔ ایڈا لوویلیس نے کمپیوٹر پروگرامنگ کے تصورات دیے۔ جوسیلین بیل برنیل نے نیوٹرون ستاروں کی دریافت کی۔ دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی کی بنیاد فاطمہ الفہری نے رکھی۔ ادب میں ورجینیا وولف، ٹونی موریسن، قرۃالعین حیدر اور عصمت چغتائی نے انسانی نفسیات اور سماج کو نئے زاویے دیے۔
    عورت کی سماجی و انسانی خدمات بھی کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ مدر ٹریسا کی انسانیت نوازی، وانگاری ماتھائی کی ماحولیاتی جدوجہد، روزا پارکس کی نسلی امتیاز کے خلاف مزاحمت، ملالہ یوسفزئی کی تعلیم کے لیے آواز، ہیرئیٹ ٹبمین کی غلامی کے خلاف لڑائی—یہ سب اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ عورت ہر زمانے میں تبدیلی کی سب سے مضبوط قوت رہی ہے۔ برطانیہ کی لیڈی ڈیانا نے فلاحی خدمات اور عالمی انسانیت کے لیے وہ نقوش چھوڑے جو دلوں پر آج بھی نقش ہیں۔

    وہ عورت جو کبھی جھولا جھلاتی ہے، کبھی کتاب تھامتی ہے، کبھی نظریہ وجود بخشتی ہے، کبھی تلوار بلند کرتی ہے، کبھی قلم اٹھاتی ہے، اور کبھی ایک گھرانے میں محبت کی بنیاد رکھتی ہے،وہی عورت اصل میں دنیا کی تشکیل کرنے والی ہستی ہے۔ اگر مرد تعمیر ہے تو عورت تزئین، مرد بنیاد ہے تو عورت عمارت، مرد سمت ہے تو عورت معنی۔

    دنیا کی ہر تہذیب اور ہر دور ایک ہی حقیقت دہراتا ہے کہ عورت محض جنس نہیں، انسانیت کا سب سے اہم محور ہے۔اور کائنات عورت کے وجود کے بغیر ہمیشہ ادھوری رہے گی۔

  • "حصول کشمیر کی تمنا” تحریر: عائشہ اسحاق

    "حصول کشمیر کی تمنا” تحریر: عائشہ اسحاق

    گزشتہ کئی دہائیوں سے5 فروری کو یوم کشمیر تعلیمی اداروں میں تقاریر ، سیمینارز ، ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پرجوش بیانات ، ہوا میں اڑتے غبار ے، ہاتھوں پلے کارڈز اٹھا کر منایا جاتا ہے اور امید کی جاتی ہے کہ” کشمیر بنے گا پاکستان ” اور اسکے ساتھ یہ بھی کہ اقوام متحدہ ،دیگر سلامتی کونسلز اس معاملہ کو ختم کر وا سکتے ہیں جبکہ

    تاریخ کے باب کھول کر دیکھ لیں تمام عظیم تر فتوحات اہل ایمان کو تلوار کے زور پر حاصل ہوئیں۔ نہ کہ غبارے اڑا کر یا کفار کی کمیٹیوں سے امیدیں وابستہ کر کے یہہی وجہ ہے کہ آج کئی برس بیت گئے مگر سر زمین کشمیر کا ایک انچ بھی فتح نہیں ہو سکا۔ ہمارے کشمیری بہن بھائیوں پر کافروں کے ظلم وبربریت کا سلسلہ آج بھی جاری ہے جو ناقابل بیان ہے ۔

  • عزم قربانی اور امید کا دن،تحریر:آمنہ خواجہ

    عزم قربانی اور امید کا دن،تحریر:آمنہ خواجہ

    ہر سال 5 فروری پاکستان سمیت دنیا بھر میں یومِ یکجہتیٔ کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں بلکہ کشمیری عوام کے ساتھ اخلاقی انسانی اور تاریخی یکجہتی کے عہد کی تجدید ہے۔ اس دن پاکستانی قوم ایک آواز بن کر یہ پیغام دیتی ہے کہ کشمیر کے عوام اپنے حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں تنہا نہیں۔
    کشمیر ایک خوبصورت وادی ہی نہیں، بلکہ قربانیوں صبر اور استقامت کی علامت ہے۔ دہائیوں سے کشمیری عوام ظلم جبر اور ناانصافی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کی روزمرہ زندگی خوف پابندیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں میں جکڑی ہوئی ہے مگر اس کے باوجود ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ ماں کی گود اجڑتی ہے بہن کی آنکھ اشکبار ہوتی ہے مگر آزادی کی خواہش زندہ رہتی ہے۔

    یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ انسانی حقوق کا سنگین مسئلہ ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں آج بھی کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی گواہ ہیں جن پر عملدرآمد عالمی ضمیر کی ذمہ داری ہے۔ بدقسمتی سے عالمی برادری کی خاموشی کشمیری عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
    پاکستان نے ہمیشہ سفارتی اخلاقی اور سیاسی سطح پر کشمیریوں کی حمایت کی ہے۔ 5 فروری کو ملک بھر میں ریلیاں سیمینارز دعائیہ اجتماعات اور انسانی زنجیریں بنا کر یہ واضح پیغام دیا جاتا ہے کہ کشمیر پاکستان کے دل کی دھڑکن ہے۔ تعلیمی اداروں میں تقاریب کے ذریعے نئی نسل کو کشمیر کی تاریخ جدوجہد اور قربانیوں سے آگاہ کیا جاتا ہے۔

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم محض جذباتی نعروں تک محدود نہ رہیں بلکہ مسئلہ کشمیر کو مؤثر سفارت کاری، میڈیا اور عالمی فورمز پر بھرپور انداز میں اجاگر کریں۔ قلم زبان اور دلیل کو اپنا ہتھیار بناتے ہوئے مظلوم کشمیریوں کی آواز دنیا تک پہنچائیں۔آخر میں یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں امید دلاتا ہے کہ اندھیری رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو سحر ضرور آتی ہے۔ وہ دن بھی آئے گا جب کشمیر میں آزادی کی صبح طلوع ہوگی اذیتوں کا خاتمہ ہوگا اور وادی ایک بار پھر امن و خوشحالی کا گہوارہ بنے گی۔ہم کشمیریوں کے ساتھ تھے، ہیں اور رہیں گے۔

  • ثقافتی ٹھیکیدار اور اعتبار ساجد کی جلی ہوئی شام.تحریر:رقیہ غزل

    ثقافتی ٹھیکیدار اور اعتبار ساجد کی جلی ہوئی شام.تحریر:رقیہ غزل

    اردو ادب کی تاریخ گواہ ہے کہ سچا فنکار ہمیشہ مصلحتوں سے ماورا رہا ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمارا نظامِ ہائے ادب مصلحتوں، گروہ بندیوں اور مخصوص لابیوں کے گرد گھوم رہا ہے۔ آج میں اس شاعر کا ذکر کر رہی ہوں جس کی آواز نے دہائیوں تک اردو زبان کو زندگی دی، جس کے مصرعوں نے لاکھوں ٹوٹے ہوئے دلوں کو سہارا دیا، اور جس کی ایک غزل ’’مجھے کوئی شام ادھار دو‘‘ عالمی سطح پر اردو کی شناخت بن گئی۔ اعتبار ساجد وہ نام ہے جو عوامی مقبولیت کے ہمالیہ پر تو براجمان رہا، مگر ہمارے سرکاری ایوانوں اور خود ساختہ’’ثقافتی ٹھیکیداروں‘‘ کی نظر میں ہمیشہ اجنبی ہی رہا۔ اعتبار ساجد کی زندگی کا آخری باب کسی المیے سے کم نہیں ہے۔ وہ شخص جس نے اپنی شاعری کے ذریعے ایک دنیا کو خواب دکھائے، اپنی زندگی کے آخری ایام میں اپنے ہی نام کی ایک ’’شام‘‘ کا منتظر رہا۔ یہ تماشہ بھی دیکھیے کہ جس شاعر کے مجموعہ کلام نے شہرت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے، اسے اپنے اعترافِ فن کے لیے ایک چھوٹی سی نجی ادبی تنظیم کا سہارا لینا پڑا۔ طے پایا کہ ان کے اعزاز میں ایک شام منائی جائے گی، مگر قسمت کی ستم ظریفی کہ وہ شام چار بار منسوخ ہوئی۔ کبھی انتظامی مسائل آڑے آئے تو کبھی کچھ اور، اور جب آخری بار تاریخ طے ہوئی تو اپنی صحت نے جواب دے دیا۔ وہ ’’ادھار کی شام‘‘ جس کا خواب انہوں نے اپنی جوانی میں دیکھا تھا، ان کے بڑھاپے کی حسرت بن کر ان کے ساتھ ہی قبر میں اتر گئی۔ اعتبار ساجد کوئی شام اپنے محبوب سے نہیں بلکہ اس معاشرے سے مانگ رہے تھے کہ میرے فن کی قدر کرو، مگر انھین جیتے جی وہ مقام نہ دیاگیا جس کے وہ حقدار تھے۔

    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ الحمرا آرٹس کونسل، اکادمی ادبیات اور مقتدرہ قومی زبان جیسے ادارے کس لیے بنے تھے؟ کیا ان کا کام صرف ان مخصوص پانچ دس لوگوں کی خدمت کرنا ہے جو ہر حکومت میں ’’سیٹ‘‘ ہو جاتے ہیں؟ یہ وہ ثقافتی ٹھیکیدار ہیں جن کا اپنا کوئی ادبی قد کاٹھ نہیں،لیکن یہ سرکاری فنڈز پر اس طرح قابض ہیں جیسے یہ ان کے آباؤ اجداد کی جاگیر ہو۔ یہ ٹھیکیدار طے کرتے ہیں کہ بجٹ کہاں خرچ ہوگا، کسے ایوارڈ ملے گا اور کس کا نام دیوار سے لگایا جائے گا۔ اعتبار ساجد جیسے خود دار شعراء ان ٹھیکیداروں کی چوکھٹ پر سجدہ ریز نہیں ہوتے، اسی لیے انہیں وہ مقام نہیں دیا جاتا جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔ سرکاری خزانے سے جو لاکھوں روپے ادیبوں کی فلاح و بہبود کے نام پر نکلتے ہیں، وہ ان مخصوص لابیوں کے ظہرانوں، بیرونِ ملک دوروں اور خود نمائی کی تقاریب کی نذر ہو جاتے ہیں۔ اعتبار ساجد کی وفات کے محض چار دن بعد جو کچھ الحمرا میں ہوا، وہ ہمارے معاشرے کی اخلاقی پستی کا اشتہار ہے۔ ابھی شاعر کی میت کی خوشبو بھی فضا سے رخصت نہیں ہوئی تھی، ابھی ان کے مداح سوگوار تھے، مگر الحمرا کے ان ٹھیکیداروں نے دس بارہ افراد کے اسی مخصوص ٹولے کے ساتھ ’’جشنِ لاہور‘‘ سجا لیا۔ یہ کس قسم کا جشن تھا؟ کیا یہ جشن اس بات کا تھا کہ ایک حق گو شاعر خاموش ہو گیایا یہ جشن اس بجٹ کا تھا جو اب اعتبار ساجد کی ’’شام‘‘ کے بجائے ان کی اپنی تشہیر پر خرچ ہونا تھا؟ یہ وہ بے حسی ہے جس نے اردو ادب کو بنجر کر دیا ہے۔آج صرف اعتبار ساجد ہی نہیں، بلکہ ظفر اقبال، باقی احمد پوری ، حسن عسکری،اعجاز کنور راجہ ،اقبال راہی ،کرامت بخاری اورلطیف ساحل جیسے بہت سے حقیقی اور قد آور شعراء بھی اسی نظام کی بے حسی کا شکار ہیں۔ یہ سب کسی تعارف کے محتاج نہیں، اردو ادب کے وہ استاد شاعر ہیں جنہوں نے دہائیوں تک اردو ادب کی وہ حقیقی اور بے لوث خدمت کی ہے جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ ان کا فن اپنی جگہ ایک مکمل دبستان ہے، جہاں انہوں نے نہ صرف اردو سخن کو نئے آہنگ سے روشناس کرایا بلکہ نئے لکھنے والوں کی فکری آبیاری بھی کی۔ مگر المیہ دیکھیے کہ جنہوں نے اپنی پوری زندگی قلم کی حرمت پر قربان کر دی، سرکاری ایوانوں کی توجہ کے منتظر ہیں۔ کیا ریاست کا یہ فرض نہیں تھا کہ وہ ان جینوئن تخلیق کاروں کے اعزاز میں سرکاری محفلیں سجاتی؟ یہ قد آور علمی و تنقیدی شخصیات، جن کا کام عالمی معیار کا ہے وہ ان سرکاری گلیاروں میں نظر نہیں آتے کیوں گوشہ نشینی میں اپنی زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں؟

    یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اردو ادب کی جڑوں کو اپنے خون سے سینچا ہے، لیکن یہ آج بھی اپنے نام کی’’سرکاری شاموں‘‘ کے منتظر ہیں، جبکہ اسٹیجوں پر اکثریتی وہ لوگ براجمان ہیں جن کا فن سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور وفاقی وزیرِ ثقافت کو اس ادبی مافیا اور ان ثقافتی ٹھیکیداروں کا سخت نوٹس لینا چاہیے۔ الحمرا ہو یا اکادمی ادبیات، ان کے دفاتر میں فائلیں تو بہت ہلتی ہیں مگر ان فائلوں میں جینوئن ادیب کا نام جان بوجھ کر کہیں گم کر دیا جاتا ہے۔ یہ پیسہ ان ادیبوں کا ہے جو سفید پوشی اور مفلسی میں بھی قلم کی لاج رکھتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان اداروں کا مکمل آڈٹ کیا جائے اور دیکھا جائے کہ پچھلے کئی سالوں سے وہی مخصوص چہرے ہی کیوں ہر سرکاری تقریب میں نظر آتے ہیں اور کیوں جینوئن شعراء کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ایک خود مختار اور غیر جانبدار کمیٹی بنائے جو ان مستحق اور قد آور شعراء کی فہرست مرتب کرے جنہیں ان کی زندگی میں سرکاری سرپرستی اور اعتراف کی ضرورت ہے۔ ہم کب تک اپنے ان بیش قیمت اثاثوں کو گمنامی اور حسرتوں کی نذر کرتے رہیں گے؟

    اعتبار ساجد کی ادھوری شام دراصل اس نظام کی منافقت کا نوحہ ہے۔ اعتبار ساجد مرحوم تو اپنی ’’ادھوری شام‘‘ کا قرض اس مٹی پر چھوڑ گئے، مگر پیچھے رہ جانے والے اساتذہ آج بھی ہماری بے حسی کا منہ چڑا رہے ہیں۔ یہ جو ثقافتی ٹھیکیدار آج کل چہرے پر جھوٹی ہمدردی سجائے پھر رہے ہیں، یہ دراصل اس نظام کے گدھ ہیں جو کسی فنکار کے مرنے کا انتظار کرتے ہیں تاکہ اس کے نام پر بجٹ بٹور سکیں۔ اعتبار ساجد کی وفات محض ایک انسان کا انتقال نہیں، بلکہ ایک عہد کا نوحہ اور ہمارے مردہ ضمیر کا اشتہار ہے۔ اگر آج بھی ہم نے ان ادبی لٹیروں کے ہاتھ نہ روکے تو یاد رکھیے کہ آنے والا وقت ہمیں معاف نہیں کرے گا۔ اعتبار ساجد کی جلی ہوئی شام ہمارے ماتھے پر وہ کلنک کا ٹیکہ ہے جسے تاریخ کبھی نہیں دھو سکے گی۔ وہ شام جو ادھار مانگی گئی تھی، وہ ہم پر قرض ہے، اور یہ قرض تب ہی اترے گا جب ہم اپنے جیتے جاگتے فنکاروں کو وہ عزت دیں گے جو ان کا حق ہے، نہ کہ ان کی لاشوں پر جشن منائیں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان سرکاری ایوانوں میں بیٹھے شعبدہ بازوں کا حساب کیا جائے، ورنہ اردو ادب کی یہ شام ہمیشہ کے لیے اندھیروں کی نذر ہو جائے گی۔