Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • خواتین افسران میں کرپشن کا رجحان،تحریر:ملک سلمان

    خواتین افسران میں کرپشن کا رجحان،تحریر:ملک سلمان

    خواتین افسران میں مالی کرپشن کا ریٹ اور رجحان مرد افسران سے کہیں زیادہ ہے۔ خواتین افسران کی معزز شہریوں کے ساتھ بدتمیزی اور تحقیر آمیز رویہ تو عمومی ہے جبکہ اپنے ماتحت افسران اور سٹاف کے ساتھ بھی انتہائی ہتک آمیز سلوک کی ان گنت مثالیں اور داستانیں ہیں۔خواتین افسران کے بارے عمومی رائے ہے کہ یہ مسائل کا حل کرنے کے بجائے "ٹربل میکرز” کا رول ادا کرتی ہیں ۔خواتین افسران کی بڑی تعداد کمائی والی سیٹوں پر منشی بن کر پیسے اکٹھی کرتی ہیں اور آگے تک پہنچاتی بھی ہیں۔خواتین افسران کی اکثریت آج بھی سرکاری نوکری کو عزت اور رزق حلال کا زریعہ بنائے ہوئے ہیں۔

    خواتین افسران میں سے کم از 30سے 35فیصد کرپشن کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں جبکہ بڑے خواب اور وقت سے پہلے سب کچھ پالینے کی خواہشات کی تکمیل کیلئے 3سے4فیصد کی بہت محدود تعداد بیوروکریٹک پارٹی گروپ جوائن کرچکی ہیں۔
    بہت سی جگہوں پر دیکھا گیا کہ خواتین افسران اگر اے سی، اے ڈی سی آر یا ڈی سی ہیں تو انکا ہیڈ کلرک ”سیٹ“ چلا رہا ہوتا ہے۔ایک خاتون افسر نے اپنے بیج میٹ سے جلدی کام کرنے کے پیسے مانگ لیے اور ساتھ احسان بھی جتلایا کہ یہ کام اتنے کا تھا تمہیں ڈسکاؤنٹ دے رہی ہوں۔ اسی طرح ایک اتھارٹی کی سربراہ خاتون افسر نے ایک کام کے چالیس لاکھ مانگے تو متعلقہ سپیشل سیکرٹری تک شکایت پہنچی تو انہوں نے فون پر بہت ججھکتے ہوئے بات کی میڈم شائد آپ کے بیحاف پر کسی نے فلاں بندے سے پیسے مانگے ہیں تو مذکورہ خاتون نے جھٹ سے جواب دیا کہ سر آپ سے اوپر افسر تک بھی جاتے ہیں آپ”چل“ کریں۔بہت سی خواتین افسران کے کاروباری شوہر اپنی بیویوں کے سرکاری دفاتر میں کرسی رکھے کے بیٹھے ہوتے ہیں۔

    دبنگ افسر:
    ان کے بارے مشہور کردیا جاتا ہے کہ بہت دبنگ افسر ہے کسی کی بات نہیں سنتی، ایسی افسران اپنے افسر کیڈر پر بھی اعتبار نہیں کرتی کہ حصہ مانگ لے گا ان کا سارا لین دین مخصوص چھوٹا ملازم کرتا ہے۔ ایسی خواتین افسران نے مالی کرپشن جی بھر کر کرنی ہوتی ہے حتیٰ کہ جوکام مرد افسر سے تعلق واسطے یا ڈسکاؤنٹ کے ساتھ کروایا جاسکتا ہے وہی کام خاتون افسر "فکس ریٹ“پر کرتی ہیں۔ ایسے افسران کسی اتھارٹی یا محکمے میں گئیں تو اسکی کھال تک اتار کر بیچنے کی حد تک جاتی ہیں جبکہ تحصیل اور ضلعی سربراہ کی طور پر بڑے کاروباری مراکز اور ہاؤسنگ سوسائیٹیز سے لیکر گھریلو زمین کے تنازع کو بھی کمائی کا زریعہ بنا لیتی ہیں۔

    گرل فرینڈ کلچر:
    خوش آئند بات یہ ہے کہ خواتین افسران میں سے بامشکل 3سے4فیصد خواتین نے اس راستے کو اپنایا ہے۔لیکن خطرناک بات یہ ہے پارٹی گروپ والی افسران کی دن دوگنی رات چوگنی ترقی کی سپیڈ باقیوں کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ اس سے بڑھ کر تشویش والی بات یہ ہے کہ ایسی خواتین افسران اہم سیٹوں پر آنے کیلئے ناصرف خود پارٹی گروپ جوائن کرتی ہیں بلکہ دیگر خواتین افسران کو گروپ جوائن کروانے کیلئے بھی آفرز کرتی ہیں، بڑے افسران کی پارٹی میں "پارٹی آؤٹ فٹ” زیب تن کیے مرکز نگاہ ہوتی ہیں اور جام بنانے اور پلانے کا ہنر آزماتی ہیں اور اہم افسران کی گرل فرینڈ بن جاتی ہیں۔ تگڑی سیاسی شخصیت اور بڑے افسر کی گرل فرینڈ بنی افسران اپنے محکمے کی چودھرانی بن جاتی ہے اور جونئیرز کو ذاتی ملازم کی طرح اور سنئیرز کو فار گرانٹڈ لیتی ہیں، اسی طرح بڑے افسر تک رشوت اور گھپلوں کی رقم کا حصہ پہنچانے والی خواتین افسران بھی دھرلے سے ایڈیشنل چارج بھی اپنے پاس رکھتی ہیں۔

    فرسٹ جنریشن افسر خواتین میں سے اکثریت خود کو ماورائی مخلوق، جبکہ ماتحت عملے اور معزز شہریوں سے بدتمیزی اور کرپشن کی کمائی کو اپنا حق سمجھتی ہیں۔ فرسٹ جنریشن افسر خواتین میں سے جو میرٹ پر کام کرتی ہیں اور کسی بھی پارٹی یا کنسپٹ کلئیر کرپٹ گروپ سے تعلق نہیں رکھتیں انہیں کھڈے لائن ٹائپ پوسٹنگ ہی دی جاتی ہے۔جب سنئیر افسران کو ”فیس سیونگ“ کیلئے کوئی ایماندار افسر چاہئے ہو تو ایسی خواتین کی اچھی پوسٹنگ کی صورت لاٹری لگ جاتی ہے۔
    ایک خاتون آفیسر نے اپنے غم کا اظہار اس شعر کے ساتھ کیا کہ
    اب تو گھرا کے کہتے ہیں مرجائیں گے
    مر کر بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

    دنیا جہاں سے الگ ہوکر دن رات محنت کرکے مقابلے کا امتحان پاس کیا، سی ایس ایس کر کے بھی کبھی اچھی پوسٹنگ اس نہیں مل سکی کہ نہ تو وہ افسران کی ساقی و نائکہ بن سکتی ہے اور نہ ہی منشی بن کر رشوت بازاری اور سرکاری فنڈز میں گھپلے کرسکتی ہے۔ یہ ساری باتیں وہی ہیں جو بیوروکریسی کے افسران کی زبان زدعام ہیں جبکہ جو باتیں جن القابات اور طریقوں سے خواتین افسران دوسری خواتین کے بارے بتاتی ہیں وہ لکھنے سے قاصر ہوں۔

    بیوروکریٹک یا آفیسر بیک گراؤنڈ کی حامل خواتین کی اکثریت کو اپنے مضبوط بیک گراؤنڈ کی وجہ سے کسی بھی کرپٹ گروپ کا حصہ بنے بغیر ہی پوسٹنگ مل جاتی ہے۔ سرکاری بیک گراؤنڈ کی حامل خواتین افسران میں زیادہ تر تمیزدار اور رکھ رکھاؤ والی ہوتی ہیں جبکہ چند اسی بیک گراؤنڈ کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے”غندہ ازم“ کو اپنا استحقاق سمجھتی ہیں۔ مرد افسران کی بدتمیزی کا جہاں اختتام ہوتا ہے ان تگڑے بیک گراؤنڈ والی خواتین کی جہالت اور بدتمیزی کا نقطہ آغاز، ایسی باس خواتین کے رویے سے مرد و زن کوئی بھی محفوظ نہیں، چند ماہ قبل ایسی ہی بدتمیز باس کی وجہ سے ایک آفیسر ہارٹ اٹیک کرواکر ”پی آئی سی“ پہنچ گئے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین افسران کیلئے مستقل بنیادوں پر کپیسٹی بلڈنگ، پبلک ریلیشنز اور نفسیاتی امور کی ٹریننگ کا اہتمام کیا جائے۔ خواتین افسران کو چاہئے کہ اس مشرقی معاشرے میں خواتین کو جس قدر احترام دیاجاتا ہے اس کا تھوڑا سا مان بھی رکھ لیں نا کہ ہر برائی کا دفاع ”خاتون کارڈ“ کی مظلومیت سے کریں۔

  • پاکستان کو داخلی استحکام اور سیاسی ہم اہنگی کی اشد ضرورت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کو داخلی استحکام اور سیاسی ہم اہنگی کی اشد ضرورت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان اس وقت نہایت نازک جغرافیائی اور سیاسی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف مشرقی سرحد پر بھارت کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے تو دوسری طرف افغانستان کے ساتھ تعلقات میں تناؤ پیدا ہو چکا ہے۔ کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی اور سرحدی جھڑپوں نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کو مجروح کیا ہے۔ ان حالات میں پاکستان کو داخلی استحکام اور سیاسی ہم اہنگی کی اشد ضرورت ہے مگر بدقسمتی سے اندرونی سیاسی منظر نامہ کسی اور سمت میں جا رہا ہے۔ ایسے موقع پر جب قومی سلامتی اور خطے کی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے ملکی سیاسی جماعتوں کی تمام توجہ کشمیر میں حکومت کی تبدیلی یا اقتدار کے کھیل پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ پارلیمانی چالوں اور سیاسی جوڑ توڑ کے اس دور میں یہ احساس کم ہی نظر آتا ہے کہ ملک بیرونی دباؤ اور اندرونی کمزوریوں کے درمیان پھنس چکا ہے۔ یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ پاکستان اس وقت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں معمولی سیاسی غلطی بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ سیاسی قیادتوں کو اس موقع پر صبر و تحمل اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرنا ہوگا قومی مفاد کو جماعتی مفاد پر ترجیح دینا ہی اصل قیادت کی پہچان ہوتی ہے۔

    اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام سیاسی قوتیں باہمی اختلافات کو وقتی طور پر ایک طرف رکھ کر ملک کی مجموعی سلامتی، معیشت اور سفارتی محاذ پر یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ دنیا بھر میں جب بھی ریاستیں داخلی خلفشار میں الجھتی ہیں تو بیرونی قوتیں اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی قیادتیں قومی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کریں سفارتی سطح پر مضبوط موقف اختیار کریں اور عوام کو یہ اعتماد دلائیں کہ ملک کی بقاء اور استحکام سب سے مقدم ہے۔ اقتدار کی سیاست ہمیشہ کے لیے نہیں مگر قومی مفاد ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ اگر سیاسی قوتوں نے حالات کی سنگینی کو نہ سمجھا تو تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ یاد رکھیے تقسیم اندرونی ہو تو دشمن کو کسی بڑی محنت کی ضرورت نہیں رہتی اس وقت پاکستان ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے۔ ان تمام حالات کے پیش نظر ملک کے اندرونی سیاسی ماحول کا عدم استحکام نہ صرف قومی یکجہتی کو متاثر کر رہا ہے بلکہ دشمن قوتوں کو فائدہ اٹھانے کا موقع بھی فراہم کر رہا ہے۔ سیاسی چال بازیوں اور اقتدار کی جنگ کو کچھ عرصے کے لیے موخر کرکے قومی سلامتی اور استحکام پر توجہ دی جائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں بحران کے وقت متحد رہتی ہیں تو ہر مشکل پر قابو پا لیتی ہیں۔

  • کشمیر کی وزارت عظمیٰ،عہدہ نہیں بلکہ قومی ذمہ داری ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    کشمیر کی وزارت عظمیٰ،عہدہ نہیں بلکہ قومی ذمہ داری ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آزاد کشمیر اس وقت سیاسی بے یقینی اور عوامی اضطراب کے ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں وہاں بدامنی، احتجاج اور عوامی بے چینی میں اضافہ اس امر کا تقاضا کر رہا ہے کہ پاکستان کی حکومت اور متعلقہ سیاسی جماعتیں ہوش مندی کا مظاہرہ کریں۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ کشمیر محض ایک خطہ نہیں بلکہ پاکستان کے قومی مفاد اور سفارتی وقار سے جڑا ہوا ایک حساس مسئلہ ہے۔ ایسے میں وہاں کی قیادت کا انتخاب کسی سیاسی مصلحت یا ذاتی وفاداری کی بنیاد پر نہیں بلکہ کردار، اہلیت اور عوامی اعتماد کے معیار پر ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے ہمارے سیاسی کلچر میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ عہدوں کی تقسیم میرٹ کی بجائے سیاسی قربت اور مفاد پرستی کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ اگر یہی رویہ آزاد کشمیر میں بھی دہرایا گیا اور کسی بد کردار یا کرپٹ فرد کو وزیراعظم کے عہدے پر بٹھایا گیا تو اس کے نتائج خطرے ناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ عوامی اعتماد مزید مجروح ہوگا انتظامی نظام کمزور پڑے گا۔ آزاد کشمیر کو اس وقت ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو دیانت دار، بصیرت اور خدمت کے جذبے سے سرشار ہو جو محض اقتدار کی کرسی کی خواہش نہ رکھتا ہو بلکہ عوامی نمائندگی کے اصل جذبے کے تحت اپنی ذمہ داری نبھائے۔

    کشمیر کے عوام باشعور ہیں وہ اپنے مستقبل کے فیصلوں میں شفافیت اور انصاف چاہتے ہیں پاکستان کی سیاسی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آزاد کشمیر کی صورتحال محض ایک صوبائی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ یہ قومی سلامتی اور بین الاقوامی وقار سے جڑا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ وہاں ایک باکردار، قابل اعتماد اور دیانت دار قیادت سامنے لائی جائے ورنہ بداعتمادی اور انتشار کی لہر ایک بڑے سیاسی بحران میں بدل سکتی ہے۔ آزاد کشمیر کی وزارت عظمی کا عہدہ کوئی عام سیاسی کرسی نہیں بلکہ یہ قومی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کے ارباب اختیار سوچیں کشمیر کے عوام کسی سیاسی جماعت کے سیاسی تجربات کے میدان نہیں وہ ایک باوقار قوم ہے جنہوں نے ہمیشہ پاکستان کے پرچم کے سائے میں اپنی وفاداری نبھائی۔ اگر کسی کرپٹ، بدکردار یا نااہل شخص کو وزیراعظم بنا دیا گیا تو یہ محض ایک تقرری نہیں ہوگی بلکہ کشمیر کے عوام پر قاری ضرب ہوگی۔

  • اسرائیل امریکہ کو کیسے کنٹرول کرتا ہے؟تحریر: علی ابن ِسلامت

    اسرائیل امریکہ کو کیسے کنٹرول کرتا ہے؟تحریر: علی ابن ِسلامت

    کہا جاتا ہے کہ امریکہ اسرائیل کی ہر بات ماننے کیلئےمجبور ہے ، کیوں اور کیسے امریکہ اسرائیل کی یرغمالی میں آجاتا ہے؟آئیے جانتے ہیں آج یو ایس کا پارلیمنٹ، کارٹونز، فلمیں ، تعلیمی ادارے آج سب جیوش اور اسرائیل کے کنٹرول میں ہیں ،یو ایس کی ٹاپ یونیورسٹیز کے بیس فیصد پروفیسرز، ٹاپ کی چالیس فیصد فرم اور انڈسٹری کے ملازمین، انسٹھ فیصد مصنف اور ڈائریکٹر، پچاس فیصد دانشور جیوش ہیں۔

    آپ نے کبھی محسوس کیا کہ جن چیزوں کیلئے امریکہ دوسرے ملکوں کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے،انہی چیزوں کیلئے اسرائیل امریکہ کو مذاکرات کے ذریعے مجبور کر کے اپنا کام کروا لیتا ہے، بیشک موجودہ ایران اسرائیل جنگ ہو یا یمن سعود ی جنگ میں امریکہ کے ذریعے اسرائیل کا تسلط، شام ہو یا عراق، مصر ہو یا یمن، لبنان ہو یا فلسطین ۔۔۔ کسی بھی جگہ اسرائیل امریکہ کی پناہ میں نہیں آیا ، بلکہ امریکہ کو ہر جنگ شروع کروانے کیلئے اسرائیل کی ضرورت پیش آتی رہی، آج جب ٹرمپ آیا تو جنگیں بند کروانے کا سہرا اپنے نام کر رہا ہے۔

    یو ایس نے سعودی عرب سے یمن وار میں یہ کہہ کر سپورٹ واپس لے لی تھی کہ اس وار میں لاکھوں لوگ مارے جا رہے رہیں،لیکن یہاں پر اگر نقطہ دیکھا جائے تو پوری دنیا کے پریشر کے باوجود امریکہ جنگ بندی معاہدے پر ابھی تک عمل نہیں کروا سکا۔ جبکہ ٹرمپ کو ایک روز خود اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ کھڑے ہو کر کہنا پڑا تھا کہ امریکہ غزہ کا کنٹرول سنبھالے گا، اسکی وجہ یہ نہیں تھی کہ امریکہ اسرائیل کو استعمال کر رہا تھا بلکہ یہاں واضح نظر آیا کہ اسرائیل امریکہ کو استعمال کر چکا تھا ۔صدر ٹرمپ آج کہہ رہے ہیں کہ میں جنگیں بند کروا چکا ہوں اور دنیا میں امن میرے دور میں آئے گا، جبکہ جوبائیڈن نے کہا تھا کہ غزہ فلسطین کا واقعہ کوئی جینو سائیڈ (نسل کشی ) نہیں ہے۔

    اسرائیل کیسے امریکہ کو کنٹرول کرتا ہے یہ چیز قابل توجہ اور سمجھنے والی ہے، ایک اسرائیلی این جی او ہے جس کا مالک (STEVE J. ROSEN سٹیو ۔ جے ۔ روزن ہے) سٹیو ۔ جے۔ روزن نے کہا تھا کہ میں اگر خالی رومال بھی دوں تو امریکی ستر ایم پی ایز چوبیس گھنٹے سے پہلے مجھے دستخط کر کے دے دیں گے ، یہ بات ایک اسرائیلی این جی او کا چیف کہہ رہا تھا ۔

    اسرائیل کا امریکہ میں اس قدر ہولڈ ہے کہ اسرائیل این جی او ز امریکہ میں اسرائیل مخالف رکن ہو امریکہ میں ہی الیکشن ہروا دیتے ہیں اور سب سے اہم بات کہ اس بات کو وہ ٹویٹر جیسے پلیٹ فارم پر بتا بھی دیتے ہیں اور امریکہ نیتن یاہو کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ، وجہ یہ ہے کہ اسرائیل نے بڑی اچھی حکتِ عملی کے ساتھ اپنی لابی ڈپلو میسی بنا کر رکھی ہوئی ہے،اسرائیل نے امریکہ کی یونیورسٹی سے لیکر میڈیا تک اور انڈسٹری سے لیکر یوایس گورنمنٹ تک اپنا ایسا پروپیگنڈا کرنے والا دماغ بٹھا کر رکھا ہوا ہے۔ مشہور کارٹون سپر بُک دیکھیں تو اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اسرائیل اور یہودی تاریخ بہت اعلیٰ ہے، سپر بک کارٹون سیریز کا ایپی سوڈ چوبیس دیکھیں تو اس میں بتایا گیا ہے کہ یروشلم میں آغاز سے ہی جیوش رہا کرتے تھے جن پر بہت زیادہ ظلم ہوا ، تو اس لیے اس سیریز کا مین کیرکٹر گریٹ وال آف چائنا جیسی دیوار بنانے کا آغاز کرتا ہے جو دیوار یہودویوں کی حفاظت کرے گی۔دوسری ایک مشہور سیریز (The prince of egypt)ہے۔ دی پرنس آف اجپت سیریز میں بتایا گیا ہے کہ مصر کا راجا جیوش کو بچاتا ہے، اور پھر اس سیریز میں مین کردار آ کر مصر میں یہودیوں کو دوبارہ رہنے کی اجازت دلواتا ہے، یہ سب کارٹونز میں امریکہ میں دکھایا جا ہے ، یعنی اسرائیل اور یہودیوں نے شروع سے ہی امریکن کے دماغوں میں نرم رویہ اسرائیل کو لیکر دکھایا تاکہ کل کو کوئی مسئلہ بھی در پیش آجائے تو امریکن کو یہی لگے کہ اسرائیل اور یہودی بہت اچھے ہیں اور امریکنز کی ہمدردی ہمیشہ اسرائیل کے ساتھ ہو گی۔

    امریکہ کی یونیورسٹیوں کے سلیبس میں اسرائیل کا بیانیہ اور اینگل دکھایا جاتا ہے، ہر کوئی امریکن یا امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والا ہے وہ اسرائیل یا یہودیوں کو ہر معاملے میں ہمدردی کی نگاہ سے دیکھتا ہے، پبلیکشن ہاؤسز جیوش کی ہسٹری، یروشل کی ہسٹری، جیوش کے پراسیکیوشن کی کہانیاں ریگولرلی پبلش کرتے رہتے ہیں، اور رپورٹ کیمطابق اس سب پروپیگنڈا کے پیچھے جو آرگنائزیشن ملوث ہے اس کا نام (institute of curriculm services) ہے۔

    اسی طرح فلم انڈسٹری پر، ہالی ووڈ اس وقت اربوں بلین ڈالرز کی انڈسٹری ہے جہاں فنڈنگ کا اہم کردار ہوتا ہے، ہالی ووڈ فلمیں تو پوری دنیا میں دیکھی جاتی ہیں اگر اس میں فنڈنگ کے ذریعے پروپیگنڈا کر لیا تو ایک سوپچانوے مما لک میں آپ کا بیانیہ پہنچ جائے گا، انیس سو ساٹھ میں ایک فلم آئی جس کا نام تھا ایکسوڈس(۔Exodus)تھا ۔ اس فلم میں ورلڈ وار ٹو کے بعد جیوش مہاجرین کی فلسطین پہنچنے کی کوشش کو دکھایا گیا ہے، یہ فلم اسرائیل کے جنم کی کہانی کو بھی بیان کرتی ہے، پھر دو ہزار پانچ میں ایک فلم آئی جس کا نام Munichتھا۔۔ اس فلم میں ایک کہانی بتائی گئی جب انیس سو بہتر میں میونک اولمپکس کیلئے اسرائیل کے آٹھ کھلاڑی گئے تھے جن کو ایک فسطین کے جہادی گروپ نے مار دیا تھا ، اس فلم میں بتایا گیا کہ کیسے اسرائیل پھر اس دہشت گرد گروپ سے اپنا بدلہ لیتا ہے، کیونکہ اس فلم میں اسرائیل فلسطین اور جیوش مخالف ہر شخص کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔میڈیا میں بھی اسرائیل کا اچھا خاصا کنٹرول ہے، غزہ اسرائیل وار میں بھی اموات کی تعداد کم بتائی جاتی رہی، ا مریکہ کے بڑے سے بڑے نیوز اخبارات کے جو ٹاپ لکھاڑی ہیں ان میں اکسٹھ پرو اسرائیلی ہیں،ٹاپ تھری نیوز کمپنیز کے مالک جیوش ہیں، یہ تاریخی حوالوں سے کوئی انکار نہیں کر سکتا جس سے امریکہ اور اسرائیل دہائیوں سے مستفید ہو رہے ہیں۔

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں

  • نام نہاد ڈپریشن  : تحریر۔ عائشہ اسحاق

    نام نہاد ڈپریشن : تحریر۔ عائشہ اسحاق

    گزشتہ سالوں میں کتنے ہی سول سروس کے آفیسر اس نام نہاد ڈپریشن کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ۔
    عام عوام کی یہ غلط فہمی ہے کہ ہر خودکشی کرنے والا ظالم اور حرام خوری کی وجہ سے ڈپریشن میں مبتلا ہو گا جبکہ اکثر اوقات حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے ۔
    کون نہیں جانتا کہ ملک عظیم پر اشرافیہ کا ایک ٹولہ قابض ہے ۔
    سیاست سے بیورو کریسی تک ہر جگہ انہی کا قبضہ ہے ۔ یہ ٹولہ عوام کے سامنے جو مرضی نورا کشتی کر لیں لیکن حقیقت میں تو یہ ایک کلٹ کا ہی حصہ ہیں جن کے مفادات مشترک ہیں تو ایسے میں آگر کوئی بھی قسمت سے اس ایلیٹ کلب میں اپنی محنت کے بل بوتے پر چلا بھی جائے تو اس کے لیے دو ہی راستے ہیں پہلا کہ ان کے ساتھ مل جائے اور فائدے میں رہے دوسرا اگر ایمانداری کے اصولوں پر چلے تو پھر ڈپریشن کے لیے تیار رہے اب یہ اشرافیہ کا کلٹ اس آفیسر کو زچ کرنے کے لیے ہر حربہ اپنائے گا اس کی پرموشن روک دی جائے گی اسے محکمے میں سائیڈ لائن کر دیا جائے گا ۔۔

    آگر یہ خودکشی کرنے والے آفیسرز ڈپریشن میں اس وجہ سے تھے جیسا عام عوام کی رائے بتاتی ہے مطلب عوامی حقوق کی پامالیاں اور مالی بے ضابطگی ۔۔تو پھر یہ بڑے بڑے مگر مچھ جو ملک لوٹ کھا گئے … یہ ڈپریشن میں جا کر خود کشی کیوں نہیں کرتے ؟..
    آخر ہر بار کم رینک کا آفسر ہی اوپر والوں کے دباؤ کی وجہ سے خودکشی کیوں کرتے ہیں ؟…
    آخر حکومت پر قابض مافیا ان سے ایسا کونسا مطالبہ کرتا ہے جسے کرنے کی بجائے یہ لوگ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں ؟..
    کوئی خود کشی کرنے والا افسر انتہائی غریب گھرانے سے آ کر آفسر بنا تو کسی کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے کیا انسان خود اندر سے اتنا کمزور ہو سکتا ہے کہ ان حالات کے باوجود اپنی جان لے لے؟…

  • اسٹرٹیجک پارٹنر یا اسٹرٹیجی ،افغانستان حریف حلیف کی کشمکش میں کیوں؟تحریر: علی ابن ِسلامت

    اسٹرٹیجک پارٹنر یا اسٹرٹیجی ،افغانستان حریف حلیف کی کشمکش میں کیوں؟تحریر: علی ابن ِسلامت

    ماضی میں کہا جاتا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کی صرف سرحدیں ہی نہیں بلکہ دل بھی ملتے ہیں لیکن اب اثر زائل ہو چکا ہے، اس اثر کے خاتمے کے اسباب افغان حکومت کی غلط پالیسیوں کے ساتھ کچھ سیاسی طاقتوں کے نا توازن تعلقات تھے۔ افغانستان کی جغرافیائی تاریخ بہت پرانی ہے لیکن اس کی موجودہ سرحدیں تنازعات میں گھری ہوئی ہیں، میں اس بات سے قرینہ قیاس کرتا ہوں کہ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ اسٹریٹیجک تعلقات بہتر کرنا بھی غلطی ہو گی۔

    دنیا گواہ ہے کہ جب جب افغانستان کے ساتھ جس نے وفا کی وہ مارا گیا۔دی وال سٹریٹ جرنل کے جرنلسٹ سون اینجل راسموسن نےسال 2024 میں ایک کتاب لکھی جس کا عنوان Twenty Years: Hope, War and the Betryal of an Afghan Generation تھا۔ یہ کتاب خصوصی طور پر افغانیوں کی بے وفائی اور عالمی برادی کے کردار پر لکھی گئی۔ اس کتاب میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والے سیاسی تنازعات اور الزامات پر بھی بحث کی گئی ہے،کتاب میں جہاں افغان خطے میں بسنے والے لوگوں کی بے وفائی پر تبصرہ ہے وہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ افغانستان اور پاکستان میں ہونے والے مخصوص واقعات وجہ موضوع ہیں نہ کہ پوری افغان نسل یا پٹھان قوم کو الزامات کا نشانہ بنانا مقصود ہے۔ آن دی ادر سائیڈ، یہ بات سچ ہے کہ افغانی حکمرانوں نے کبھی اپنے لوگوں سے بھی وفا نہیں کی۔قطع نظر کہ ماضی میں پاکستان کی سیاسی قیادت کی وجہ سے بھی معاملات میں جھول تھے ۔

    افغانستان کی موجودہ شکل کا قیام 1747 میں احمد شاہ درانی نے کیا تھا جس کا رقبہ 6 لاکھ 52 ہزار 864کلومیٹر ہے۔ویسے تو افغانستان کی تاریخ آریانہ سے شروع ہوئی تھی جو آج کے افغانستان ، خراسان پر مشتمل تھی اسی وجہ سے افغانستان کی سرحدیں مختلف ادوار میں تبدیل ہوتی رہیں۔آج افغانستان کی موجودہ سرحدیں 6 ممالک سے ملتی ہیں واضح رہے کہ افغانستان کسی بھی ملک میں طالبان کو نہیں بھیج سکتا اور نہ ہی کوئی ملک افغانستان کو مداخلت کی اجازت دیتا ہے مگر حیران کن طور پر پاکستان نے افغانی مہاجرین کا 40 سال بوجھ برداشت کیا جس کا ثمر یہ ملا کہ آج ہم دہشت گردی کے چنگل سے نہیں نکل پا رہے،پاکستان پچھلے چند سالوں میں دہشت گردی کی وجہ سے 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کر چکا ہے،آج اکتوبر 2025 تک اسی ہزار سے زائد لوگوں کی قربانیاں دے چکا ہے لیکن آج بھی افغان طالبان کی نظر میں پاکستان بُرا ہے ۔ پاکستان اپنے بڑے بھائی کو ہمیشہ گلے لگا کر دشمن کی سازشوں سے بچاتا رہا ۔

    پاکستان کے ساتھ جو افغان سرحد ملتی ہے اس کو ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے جس کی لمبائی 2670 کلومیٹر ہے ،دوسرے نمبر پر تاجکستان کی سرحد افغانستان کے ساتھ 1206 کلومیٹر ہے جبکہ ایران 936،ترکمانستان 744اور چین کی سرحد 76 کلومیٹر ہے ۔ چھ ممالک میں سے افغانستان کا بس کسی ملک میں نہیں چلتا مگر پاکستا ن کی سرحد بھی پار کرتے ہیں اور گالی بھی دیتے ہیں، تمام احسانات کے باوجود جو پاکستان نے آج تک نہیں جتلائے افغانستان سابقہ حریف انڈیا کو موجودہ دوست بنا چکا ہے ،لگتا یوں ہے کہ افغانستان کے ساتھ اسٹریٹیجک تعلق قائم کرنا اپنے ساتھ دشمنی کرنےکے مترادف ہے۔پچھلے ہفتہ طالبان کے وزیر خارجہ امیر متقی نے ایک ہفتہ انڈیا کے دورہ پر تھے جس کا واضح ثبوت ہے کہ افغانستان اپنی پالیسی بدل چکا ہے۔ افغانستان کی اپنی تاریخ جہاں بہت پرانی ہے وہاں افغانی طالبان آج بھی ازلوں سے چلتی دشمنی کی تاریخ کو مسخ نہیں کرنا چاہتے اور بار بار ہار جاتے ہیں۔ گوریلا وار کے ماہر پاکستان کو گرانے کو سوچتے ہوئے خود گر جاتے ہیں ، شاید کچھ لوگ سوچیں کے افغانستان نے امریکہ جیسی سپر پاور کو شکست دی ، واضح رہے کہ امریکہ کو شکست دلانے میں صرف افغانستان کا ہی کردار نہیں تھا۔افغانستان کے چونتیس صوبے ہیں لیکن کوئی بھی صوبہ ایسا نہیں جہاں جہاد کے نام پر مجاہدین کی ریل بیل نہیں تھی، آج جب افغانستان میں طالبان کی حکومت کو چار برس گزر چکے ہیں کسی ملک نے باقاعدہ طور پر افغان طالبان کو تسلیم نہیں کیا۔ کنارہ کشی کے باوجود پاکستان ہمیشہ بازو بنا ، بارِ دیگراں تعلقات خراب ہوئے لیکن معاملات کو سلجھانے کی کوشش کی گئی ، آج حقانی گروپ اور قندھاری گروپ میں آپسی لرائیاں جاری ہیں جس کا فائدہ دشمن اٹھانے کی لاکھ کوشش کر رہا ہے۔یہ آج کی بات نہیں 1994 سے بھارت افغانستا ن کو ایک پراکسی کے طور پر دیکھ رہا رتھا جس کے ذریعے اپنی پراکسیوں کو مضبوط کرنے کی کوشش میں مصروف تھا۔ اگر یہی صورتحال افغان طالبان کی رہی تو نہ صر ف افغان خطہ بلکہ ملحقہ خطوں کی بقاء کا مسئلہ بنے گا ، اور تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان دوست وفا میں کبھی پیچھے نہیں رہا۔

    آج افغانستان میں بہت سے لسانی گروہ اپنی قوم کی شناخت کی کوشش میں مصروف ہیں لیکن افغان طالبان کی غلط پالیسیاں نہ صرف قوم کی شناخت بلکہ خطے کی شناخت کی دشمن بنی ہوئی ہیں۔1979 سے افغانستا ن میں مردم شماری نہیں کی گئی، 2008 میں مردم شماری کی کوشش بھی ناکام ہو گئی، 2013 میں اعداوشمار تو جمع کیے گے لیکن کامیابی نہ مل سکی کیونکہ طالبان پاکستان کے ساتھ پنجہ آزمائی کی سازشوں میں مصروف تھے۔
    آج افغانستان کی آبادی تقریباً 4 کروڑ سے زائد ہے جن میں 42 فیصد سے زائد پشتون اور دوسرا بڑا گروہ تاجک ہے ، نقطہ یہ ہے کہ اتنے بڑے اسلحہ ڈپو اور وسائل کے ساتھ طالبان اپنی قوم کی بہتری کا سوچ سکتے ہیں مگر وہ غیر قانونی جنگ کو جہاد سمجھتے ہیں ۔ میں یہاں ذکر کرنا مناسب سمجھوں گا کہ اگر افغانستان کی خواتین کو حقوق ملیں، بندوقیں بیچ کر اپنے بچوں کے ہاتھ میں کتا بیں تھما دی جائیں تو نہ صرف ایک بلکہ دو خطوں کی عوام کئی یورپی ممالک سے مضبوط اور لٹریسی ریٹ کا عالمی سطح پر تذکرہ کیا جائے گا ۔ لیکن میں پھر کہوں گا یہ سب تب ممکن ہو گا جب اپنوں کو مارنے سے نکل کر گلے لگانے کا سلسلہ شروع ہو گا۔انیس اکتوبر کو پاک افغان جنگ بندی کے ساتھ کامیاب مذاکرات کی وجہ سے ایک نئی امید کا پہلو نکلا ،لہذا اُمید ہے کہ دشمن کے آنچل میں پہنچنے کے بعد یہ اُمیدیں دم نہیں توڑیں گی بلکہ طالبان آبیاری کے لیے نئی اور بہتر اسٹر ٹیجی کا سوچیں گے۔

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں

  • تبصرہ کتب،20 احادیث فار کڈز

    تبصرہ کتب،20 احادیث فار کڈز

    قوموں کی تعمیر صرف عمارتوں اور صنعتوں سے نہیں ہوتی بلکہ کردار اور ایمان سے ہوتی ہے۔ کردار کی تعمیر وہی قوم کر سکتی ہے جو اپنی نئی نسل کو اپنے دینی و اخلاقی سرمایے سے روشناس کرائے۔ اور ہمارے لیے سب سے بڑا سرمایہ قرآن و سنت ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    "میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں، اگر انہیں تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے؛ اللہ کی کتاب اور میری سنت۔”یہ فرمان آج بھی اتنا ہی زندہ ہے جتنا ساڑھے چودہ سو برس پہلے تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اپنی نئی نسل کے ذہنوں میں قرآن و سنت کی روشنی اتارنے کا وہ حق ادا کیا ہے جو ہونا چاہیے؟ افسوس کہ آج ہمارے بچوں کی لائبریریاں رنگ برنگی کہانیوں اور مغربی کرداروں سے بھری پڑی ہیں مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث، ان کے پیغام اور ان کی سنت کے حوالے سے مواد نہایت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔یہی وہ خلا ہے جسے دارالسلام انٹرنیشنل نے اپنی خوبصورت کاوش 20 احادیث فار کڈز (انگلش) سے پر کرنے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے۔ یہ کتاب بچوں کے معصوم ذہن کو سامنے رکھ کر مرتب کی گئی ہے۔ بیس صحیح احادیث کا انتخاب، ان کا نہایت سادہ ترجمہ اور عام فہم تشریح، اور ساتھ ہی دلچسپ مشقیں یہ سب کچھ مل کر کتاب کو ایک ایسی تحریر بنا دیتے ہیں جو صرف پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ دل میں اترنے کے لیے ہے۔یہ کتب خانوں کی سجی سجائی الماریوں کے لیے نہیں بلکہ گھروں کے ڈرائنگ روم، کلاس روم کی میز اور ہر اس جگہ کے لیے ہے جہاں بچوں کے ذہن پروان چڑھ رہے ہیں۔ کیونکہ بچے ہی تو ہمارے کل کا سرمایہ ہیں۔ اگر ان کے دل میں ابھی سے سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور احادیث کی روشنی ڈال دی جائے تو آنے والی نسلیں یقیناً گمراہی کے اندھیروں سے بچ جائیں گی۔کتاب کی ایک اور بڑی خوبی اس کی طباعت ہے۔ چہار رنگوں کے ساتھ آرٹ پیپر پر چھپی ہوئی یہ کتاب بچے کے ذوق کو اپیل کرتی ہے۔ رنگوں کی یہ دلکشی اس کے پیغام کو اور زیادہ جاذبِ نظر بنا دیتی ہے۔ سادہ سا مواد اگر خوبصورت انداز میں پیش کیا جائے تو وہ ذہن پر کئی گنا زیادہ اثر ڈال دیتا ہے، اور یہی خصوصیت اس کتاب کو بھی امتیازی حیثیت دیتی ہے۔قیمت کے اعتبار سے بھی کتاب ہر والدین کی دسترس میں ہے۔ محض 450 روپے میں یہ قیمتی تحفہ لاہور کے معروف ادارے دارالسلام انٹرنیشنل سے دستیاب ہے۔ ایک ایسی سرمایہ کاری جو ہر مسلمان گھرانے کو کرنی چاہیے، کیونکہ اس کا منافع دنیاوی دولت نہیں بلکہ بچوں کے دلوں میں ایمان کی روشنی ہے۔یہ کتاب صرف ایک اشاعتی منصوبہ نہیں بلکہ ایک تحریک ہے۔ یہ والدین کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ہاتھ میں محض کھلونے نہ دیں، بلکہ سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو سے آراستہ وہ تحفہ دیں جو انہیں زندگی بھر روشنی عطا کرے۔ یہ اساتذہ کو بھی پیغام دیتی ہے کہ وہ نصاب کے بوجھ سے نکل کر بچوں کے لیے وہ علمی غذا فراہم کریں جو ان کے کردار کو سنوارے۔حقیقت یہ ہے کہ 20 احادیث فار کڈز ہماری نئی نسل کے لیے ایک چراغ ہے۔ ایک ایسا چراغ جو گھروں کی دیواروں سے زیادہ دلوں کو روشن کرتا ہے۔ یہ کتاب صرف خریدنے کے لیے نہیں بلکہ اپنانے کے لیے ہے، اور ہر اس والدین پر قرض ہے جو اپنی اولاد کو ایمان کی امانت دینا چاہتا ہے۔یہ کتاب دارالسلام انٹرنیشنل 36لوئر مال نزد سیکرٹریٹ لاہور پر دستیاب ہے

  • دو نومبر :مینار پاکستان کی  طرف سے دعوت نامہ،تحریر:ریاض احمد احسان

    دو نومبر :مینار پاکستان کی طرف سے دعوت نامہ،تحریر:ریاض احمد احسان

    دو نومبر وہ دن جب مینارِ پاکستان پھر سے اپنی تاریخ کی روح سے ہمکلام ہونے والا ہے
    یہ وہ مینار ہے جو فقط پتھروں کا مجموعہ نہیں بلکہ قوم کے عزم، ایمان اور نظریے کا مجسم اظہار ہے اس کے سائے میں وہ تعبیریں سانس لیتی ہیں جو اقبالؒ اور قائداعظمؒ نے دیکھیں مینارِ پاکستان آج پھر اپنی فصیلوں سے ایک صدا بلند کر رہا ہےکہ اے اہلِ وطن! میں تمہیں دعوت دے رہا ہوں اپنے عہد کی تجدید کے لیے، اپنے نظریے کی حفاظت کے لیے، اپنی وحدت کے استحکام کے لیے،اپنی ریاست کی تعمیر کے لیے،اپنی معیشت کی مضبوطی کے لیےدو نومبر کو مینارِ پاکستان کی فضائیں پھر سے زندہ ہوں گی یہاں ایک قوم اپنے شعور کے ساتھ جمع ہوگی،ایک نظریہ اپنے اظہار کے ساتھ نمایاں ہوگا اور ایک ملت اپنی نئی سمت کے تعین کے لیے صف بستہ ہوگی۔پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیرِ اہتمام ہونے والا یہ تاریخی ورکرز کنونشن فقط ایک سیاسی اجتماع نہیں یہ دلوں کی بیداری، جذبوں کی تجدید،عزمِ تازہ سے جسم باندھ لینے کا اعلان اور روحِ پاکستان کے احیاء کا لمحہ ہے۔یہ وہ وقت ہے جب اہلِ سیاست و ریاست، علماء و مشائخ، اہلِ قلم و دانش، تاجر و صنعتکار، قانون دان و صحافی سب ایک عزم کے ساتھ مینارِ پاکستان کے دامن میں جمع ہوں گے تاکہ وطن کی تقدیر کے نئے باب کو رقم کیا جا سکے-مینارِپاکستانآج در در محبت و خلوص بھری دعوت لے کر دستک دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ میں وہ مینار ہوں جس کے سائے تلے تمہارے بزرگوں نے ایک نقشہ کھینچا تھا ایسا نقشہ جس کے رنگ نظریے،سوچ،ایمان، قربانی اور استقلال سے بھرے ہوئے تھے انہی فصیلوں کے نیچے وہ قرارداد پڑھی گئی تھی جو غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کا اعلان بن گئی۔ آج وقت ہے کہ ہم اس عہد کو پھر سے زندہ کریں، اس مینار کو پھر سے آباد کریں اس قرارداد کو اپنی رگوں میں دوڑتا ہوا محسوس کریں .

    آج مشرقی و مغربی سرحدوں پر تنی ہوئی بندوقیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ وطن کی آزادی صرف ایک نعمت نہیں ایک ذمہ داری بھی ہے۔دشمن ہماری وحدت کے در و دیوار پر وار کرتا ہے تو ہمیں اپنی صفوں کو اتنا مضبوط کر دینا ہے کہ کوئی بھی دراڑ نہ ڈال سکے یہ کنونشن ان غازیوں اور شہداء کے نام ہے جنہوں نے پاکستان کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیں جن کے خون سے یہ سبزہلالی پرچم باوقار ہے جن کے لہو نے زمینِ وطن کو مقدس بنایا۔ہم ان کے وارث ہیں اور یہ وراثت ہمارے ایمان، ہماری سیاست، اور ہماری قومیت کی اساس ہے۔

    آج وطن کے اندرونی حالات بھی ہمیں پکار رہے ہیں۔ سیاسی انتشار نے سوچ کو منتشر کر دیا ہے، فرقہ واریت نے دلوں میں فاصلے پیدا کر دیے ہیں اور ذاتی مفادات نے قومی مفاد کو پسِ پشت ڈال دیا ہے لیکن مینارِ پاکستان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومیں فرقوں سے نہیں، نظریے سے بنتی ہیں۔ وہ نظریہ جس نے ہمیں ایک ملت بنایا تھا آج پھر ہماری رہنمائی کا طلبگار ہے۔ آئیں،اس نظریے کو زندہ کریں۔ اپنے اندر سے تعصب کے بت پاش پاش کریں،بڑھتی ہوئی عدم برداشت کو ختم کریں اور پاکستان کو اس کے اصل مقصد سے ہم آہنگ کریں-اسلامیت، انسانیت اور پاکستانیت کے ملاپ سے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جو امن، عدل اور محبت کی خوشبو سے خود بھی مہکے اور اسی مہک کا پرچار بھی کرے

    یہ اجتماع اُن کارکنوں کے نام بھی ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں قوم و ملت کے لیے وقف کر دیں جو گلی گلی، بستی بستی پاکستان کے نام پر روشنی پھیلاتے رہے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ ان محنت کشوں، غازیوں، اور نظریاتی سپاہیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے خدمت کو شعار بنایا۔ دو نومبر ان سب کے عزم و ایثار کا دن ہے، ان کی قربانیوں کے اعتراف کا دن ہے، ان کے خوابوں کی تعبیر کا دن ہے۔

    آئیں، ہم سب مینارِ پاکستان کی سمت چلیں کہ یہ عزت و عظمت والا مینار ہمیں بلا رہا ہے
    اور یہ کہہ رہا ہے کہ اپنے دلوں کو نظریے کی روشنی سے منور کرو، اپنی صفوں کو وحدت کے رشتے سے جوڑو، اپنی زبانوں کو نفرت کے نہیں محبت کے کلمات سے آراستہ کرو۔ یہ ملک تمہاری امانت ہے، اسے وفا سے سنبھالو
    دو نومبر کو مینارِ پاکستان اپنے بازو پھیلائے اعلان کر رہا ہوگا
    یہ وہ دن ہوگا جب پاکستان اپنی تاریخ کے اوراق سے مدد لیتے ہوئے نیا عہد لکھے گا۔
    یہ وہ لمحہ ہوگا جب ہم اپنے شہداء کے خون سے وفا کا عہد نبھائیں گے
    اور جب ساری قوم ایک آواز میں کہے گی
    ہم پاکستان کے ہیں، پاکستان ہمارا ہے
    ہم اس کے دفاع، وحدت اور وقار کے محافظ ہیں۔
    اے اہلِ پاکستان
    دو نومبر کو مینارِ پاکستان آپ کو بُلا رہا ہے
    کیا تم اس پکار پر لبیک کہنے کو تیار ہو؟
    اے اوورسیز پاکستانیو! تم جو دیارِ غیر میں بھی وطن کی مٹی کی خوشبو میں سانس لیتے ہو کیا تم اس صدا پر لبیک کہو گے؟
    اے اہلِ صحافت! تم جو قلم کو امانت اور سچائی کو عبادت سمجھتے ہو کیا تم اس آواز میں اپنی آواز ملاؤ گے؟
    اے صنعت و تجارت کے امین لوگو! تم وہ ہو جن کے کارخانے اور دکانیں وطن کی معیشت کی دھڑکن ہیں کیا تم مینارِ پاکستان کی اس پکار پر سینہ تان کر کہو گے
    لبیک، ہم حاضر ہیں
    کالجز اور یونیورسٹیوں کے طلباء
    یہ وقت کتابوں کے حرفوں سے نکل کر تاریخ کے صفحوں پر عمل لکھنے کا ہے
    اٹھو کہ مینارِ پاکستان تمہیں اپنے پرچم اور اپنے نظریے کی گواہی دینے کے لیے بلا رہا ہے
    اے علماء و مشائخ! تم جو منبر و محراب کے وارث ہو تمہاری زبانوں سے نکلنے والا ایک ایک لفظ قوم کی سمت بدل سکتا ہے کیا تم بھی مینارِ پاکستان کے سائے میں امت کی وحدت کا علم بلند کرو گے؟
    اے بار و بینچ کے نگہبانو تم تو وہ ہو
    جن کے فیصلے تاریخ کے دھارے موڑ سکتے ہیں کیا تم اس وطن کے دستور اس کے وقار اور اس کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ بن کر مینارِ پاکستان کی پکار کا جواب دو گے؟
    اے سُرخ سیبوں کی سرزمین یعنی کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دینے والے غیرت مندو کیا تم محسنِ شہ رگِ پاکستان کی ہدایت پر مینارِ پاکستان پہنچو گے؟
    اے اہلِ ایمان! اے اہلِ غیرت
    مینارِ پاکستان تمہیں پکار رہا ہے
    وہ مینار جس کی اینٹ اینٹ میں قومی وحدت کی خوشبو ہے، جس کے سایے تلے قراردادِ آزادی نے انگڑائی لی تھی آج پھر اپنے فرزندوں کو وارم اپ ہونے کی صدا دے رہا ہے
    اے عزت والو!
    اٹھو! کہ یہ مٹی تمہاری غیرت کا قرض مانگتی ہے
    اٹھو! کہ تاریخ پھر تمہارے نقشِ قدم کی گواہ بننا چاہتی ہے
    مینارِ پاکستان کا وسیع و عریض اور سرسبز و شاداب میدان تمہیں بلا رہا ہے
    کہ آؤ اور اس دھرتی کے نام پر پھر سے نعرۂ تکبیر بلند کرو
    اے وطن کے سپاہیو! اے علم و قلم کے امین لوگو
    یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں یہ وقت للکارنے کا ہے
    یہ وقت ہے کہ تمہارے لبوں سے “اللہ اکبر” کی گونج فضا میں گھل جائے
    اور مینارِ پاکستان کی چوٹی پر وہی روشنی اتر آئے
    جو کبھی 1940 کے دنوں میں دلوں سے اٹھی تھی اور تاریخ بن گئی تھی
    اے غیرت والو
    اب تمہاری باری ہے
    کہ تم بھی اپنی صفوں کو یکجا کرو، اپنے عزم کو پختہ کرو
    اور دنیا کو دکھا دو کہ یہ قوم ابھی زندہ ہے
    یہ قوم ابھی جھکی نہیں، یہ قوم ابھی مٹی نہیں
    اے جوانو
    مینارِ پاکستان تمہیں بلاتا ہے
    کہو لبیک اس پکار پر
    اور تاریخ کے نئے باب میں اپنا نام سنہری حروف سے لکھ دو
    اٹھو کہ قوم تمہاری راہ تک رہی ہے
    اٹھو کہ وطن تمہارے قدموں کی چاپ سننا چاہتا ہے
    لبیک کہو… کہ یہی لمحہ ہے، یہی عہد ہے، یہی وطن کی پکار ہےیہی مینارِ پاکستان کی پرخلوص دعوت ہے،یاد رہے کہ مینارِ پاکستان میں ہوں،مینارِ پاکستان آپ ہیں اور مینارِ پاکستان
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ ہے
    کیا تم لبیک کہتے ہو؟
    ریاض احمد احسان

  • بھٹو خاندان کی تاریخ میں نصرت بھٹو کا کردار ، ایک روشن چراغ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بھٹو خاندان کی تاریخ میں نصرت بھٹو کا کردار ، ایک روشن چراغ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    تاریخ کے صفحات میں کچھ نام ایسے رقم ہوتے ہیں جو محض افراد نہیں رہتے وہ استقامت قربانی اور حوصلے کے استعارے بن جاتے ہیں۔ بیگم نصرت بھٹو مرحومہ انہی میں سے ایک تھیں وہ عورت جس نے اپنی انکھوں کے سامنے اپنے شوہر کو تختہ دار تک جاتے دیکھا بیٹے کو لہو میں لت پت پایا۔ بیٹیوں کو جدوجہد کی بھٹی میں جلتے دیکھا مگر وہ ایک لمحے کے لیے کمزور نہ پڑیں۔ ان کا نام نصرت بھٹو تھا لیکن نصرت پاکستان بن گئیں۔ جب ظلم اپنی انتہا کو چھو رہا تھا جب ہر دروازے پر آہنی زنجیریں اور دیواروں پر سناٹے تھے تب وہ ایک ماں نہیں ایک تحریک بن گئیں۔ مارشل لاء کے اندھیرے دور میں جب بھٹو کا نام لینا جرم تھا تب نصرت بھٹو نے اس نام کو اپنے دل پر کندہ کر لیا۔ وہ جیلیں دیکھتی رہیں ان کی آنکھوں میں آنسو ضرور آئے مگر ان آنکھوں میں اور آنسوؤں میں شکست نہیں تھی عزم کا عکاس تھا۔ نصرت بھٹو نے نہ صرف اپنی فیملی بلکہ پوری قوم کے حوصلے کو سہارا دیا۔ میر مرتضٰی بھٹو کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا بینظیر بھٹو کو بار بار قید و جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا۔ نصرت بھٹو ان سب دکھوں کو دبا کر قوم کو کہتی رہیں یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی سیاسی جدوجہد کا اصل زیور صبر ہے انتقام نہیں۔ نصرت بھٹو نے اپنے خاندان کو نہیں ایک نظریے کو زندہ رکھا وہ بھٹو خاندان کی وہ چٹان تھیں جن کے سائے میں تاریخ نے کئی طوفان دیکھے مگر ان کے ایمان کا چراغ کبھی بجھا نہیں۔

    بھٹو خاندان کی اگر تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہر صفحے پر نصرت بھٹو کی خاموش آنکھیں نظر آتی ہیں جن میں آنسو نہیں روشنی ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جس نے بینظیر بھٹو کو جمہوریت کی علامت بنایا اور پیپلز پارٹی کو قربانی اور جدوجہد کا نشان۔ ملکی سیاسی تاریخ میں نصرت بھٹو کا نام ایک مجاہدہ اور ایک عہد کی علامت کے طور پر ہمیشہ روشن رہے گا۔ دوسری جانب خاتون بیگم کلثوم نواز مرحومہ تھیں جس نے اپنے خاوند نواز شریف کی رہائی کے لیے جدوجہد کی۔ اسلام آباد آبپارہ سے لاہور تک سفر میں ان کے ساتھ گاڑی میں خواجہ سعد رفیق، راولپنڈی کی ایک خاتون طاہرہ اورنگزیب تھیں بڑے بڑے نام نہاد ن لیگی رہنماؤں نے کلثوم نواز مرحومہ کو اکیلا چھوڑ دیا۔ مسلم لیگ ن کے انتہائی اہم عہدے پر فائز ایک شخص نے آبپارہ میں خود گرفتاری دے دی تاکہ بیگم کلثوم نواز کے ساتھ سفر نہ کرنا پڑے۔ نواز شریف سمیت اعلٰی قیادت جیلوں میں بند تھی بیگم کلثوم نواز کے ساتھ جو کچھ ہوا ایک عالم گواہ ہے۔ نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے جدوجہد کو جاری رکھا جیلیں بھی کاٹیں اور اپنے اوپر بنائے گئے مقدمات کا سامنا کیا اور اپنی جماعت کو زندہ رکھا۔ ماضی قریب کے اکابرین نے جمہوریت، آزادی اظہار اور حقوق انسانی کے لیے جدوجہد کی۔ بیگم نصرت بھٹو جیسے اور بیگم کلثوم نواز جیسے درخشاں ستاروں سے ہمارا دامن بھرا ہوا ہے خالی نہیں۔

  • گلی گلی نگر نگر  ، دو نومبر! دو نومبر،تحریر : ریاض احمد احسان

    گلی گلی نگر نگر ، دو نومبر! دو نومبر،تحریر : ریاض احمد احسان

    مینارِ پاکستان،بادشاہی مسجد اور اسکی مضافاتی فضاؤں میں ولولوں اور جذبوں کا طوفان ہے،زمین کے ذرے ذرے میں ایک نیا عزم جاگ رہاہے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا ورکرز کنونشن قریب ہے وہ لمحہ جس کی دھڑکن ملت کے سینے میں تیزی سے دھڑک رہی ہے، وہ دن جب لاہور کے مینار سے پھر نعرۂ تکبیر کی صدائیں ایک نئی توانائی کے ساتھ بلند ہوں گی

    اہلِ ایمان جانتے ہیں کہ یہ وہی مینار ہے جس نے غلامی کے اندھیروں میں امید کا چراغ جلایا تھا،جس کے سائے تلے قوم نے اپنے وجود اور مستقبل کا اعلان کیا تھا آج پھر وہی مینار پکار رہا ہے آج پھر وہی فضا گواہ بننے والی ہے کہ اس قوم کا ضمیر جاگ چکا ہے،اس کے نوجوان بیدار ہو چکے ہیں اور اس کے کارکن میدان میں اتر چکے ہیں اس وقت ملک کا کوئی گوشہ،کوئی کونا ایسا نہیں جہاں اس پیغام کی گونج نہ پہنچی ہو۔

    بلوچستان کے ریگزاروں سے لے کر وادیٔ سوات کے نیلگوں چشموں تک، سندھ کے صحراؤں سے پنجاب کے زرخیز کھیتوں تک، کشمیر کے برف پوش پہاڑوں سے کراچی کے ساحلوں تک ایک ہی ولولہ ہے، ایک ہی جذبہ ہےایک ہی خواب ہے، ایک ہی پکار ہے اور ایک ہی دعوت ہے کہ دو نومبر کو مینارِ پاکستان کے سائے تلے قوم اپنی وحدت کا مظاہرہ کرے گی، اپنے ایمان کی تجدید کرے گی، اپنے عہدکو نبھانے کے لیے عزمِ تازہ سے جسم باندھے گی کہ آج اساتذہ اپنے شاگردوں کو جوشِ ملی کا سبق دے رہے ہیں،علماء و مشائخ محراب و منبر سے ملت کو اتحاد کی دعوت دے رہے ہیں۔تاجر اپنے دکانوں پر، مزدور اپنے کارخانوں میں، کسان اپنے کھیتوں میں، طلباء اپنے ہاسٹلز میں اور وکلاء اپنے بار رومز میں سب ایک ہی آواز میں لبیک مینارِ پاکستان ،لبیک مرکزی مسلم لیگ کہتے ہوئے اعلان کر رہے ہیں کہ فاتح قوم اور متحد قوم کا حقیقی چہرہ اور تعارف پاکستان مرکزی مسلم لیگ ہی ہے

    اوورسیز پاکستانی بھی جذبات کے دریا بن گئے ہیں
    لندن کی سڑکوں سے، نیویارک کے ایونیو سے، دبئی کے بازاروں سے، جدہ و مدینہ کی مقدس فضاؤں سے وہ سب ایک ہی نعرہ دہرا رہے ہیں کہہم ارضِ پاک کے ساتھ ہیں، ہم نظریۂ پاکستان کے محافظ ہیں

    وہ جو دیارِ غیر میں ہیں ان کے دل آج بھی اسی خاک سے بندھے ہیں جسے علامہ اقبال نے “ارضِ پاک” کہا تھا، جس کے لیے قائدِ اعظم نے اپنی جوانی، اپنی صحت، اپنی زندگی نثار کر دی تھی

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے قائدین سے کارکنان تک دن رات سرگرم عمل ہیں،کہیں بینر لگ رہے ہیں، کہیں وال چاکنگ ہو رہی ہے، کہیں گلیوں میں ترانے گونج رہے ہیں،کہیں تربیتی نشستیں ہو رہی ہیں،کہیں دعوتی دسترخوان سجائے جا رہے ہیںآئی ٹی اسپیشلسٹ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے آسانیاں اور آسودگیاں بانٹتے دکھائی دے رہے ہیں،گرافکس والے اپنا ہنر آزما رہے ہیں،شعبہ خدمتِ خلق مکمل فعال،متحرک اور توانا ہے
    شعبہ میڈیکل مکمل فعال ہے ،ورکرز کنونشن کی حفاظت پر مامور لوگ سربسجدہ ہو کر اللہ رب العزت کی مدد مانگ رہے ہیں ،جماعتی ترجمان مین اسٹریم میڈیا سے ڈیجیٹل میڈیا تک کی موثر اور جامع رہنمائی کر رہے ہیں،عدالتوں کے وکلاء عدل کے ایوانوں سے نکل کر پیغامِ وحدت عام کر رہے ہیں۔تاجر و صنعتکار اپنی مجلسوں میں وطن کی تعمیر کا عہد دہرا رہے ہیں۔اساتذہ اپنے شاگردوں میں اُمید کے چراغ جلا رہے ہیں۔اور کسان وہی مٹی کے بیٹے اپنے کھیتوں میں پسینہ بہاتے ہوئے کہہ رہے ہیں..ہم نے زمین سے سونا اگایا، اب ہم قوم کے دلوں میں اُمید اگائیں گے اور اپنے پانیوں پر پہرہ دیں گے..ان کے چہرے دھوپ سے تمتمائے ہوئے ہیں لیکن ان آنکھوں میں روشنی ہے، ایمان کی روشنی، وطن کی محبت کی روشنی۔

    یہ صرف ایک ورکر کنونشن نہیں یہ قوم،ملک اور سلطنت کی روح کا احیاء ہے۔
    یہ مینارِ پاکستان کے عہد کی تجدید ہے، یہ قراردادِ لاہور کے وعدے کی تکمیل ہے۔
    یہ وہ دن ہے جب قوم اپنے خالق کے حضور سرِ نیاز جھکائے گی، اپنے وطن سے وفا کا عہد دہرائے گی
    اور کہے گی
    ہم نظریۂ پاکستان کے سپاہی ہیں، ہم اتحاد، ایمان اور نظم کے پرچم دار ہیں
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے ہمیشہ اسی بیانیے کا اظہار کیا ہے کہ قومیں نعرے یا دعوے سے نہیں۔کردار سے بنتی ہیں
    اور کردار اسی وقت جنم لیتا ہے جب دلوں میں ایک مقصد، ایک درد اور ایک سوز بیدار ہو۔
    دو نومبر کا دن وہی سوز جگانے والا دن ہے۔
    دو نومبر کا سورج گواہ ہوگا
    کہ یہ قوم بکھری نہیں، متحد ہے
    مایوس نہیں، پرعزم ہے
    خاموش نہیں، بول رہی ہے
    اور اس کی زبان پر ایک ہی پیغام ہے
    ایمان، اتحاد، نظم
    یہی ہماری پہچان ہے

    اے فرزندانِ پاکستان!دو نومبر کا یہ ورکرز کنونشن آپ کو اکٹھا کر رہا ہے
    اپنے خالق کے نام پر، اپنے شہیدوں کے لہو پر، اپنے قائد کے خواب پر
    محسنِ شہ رگ پاکستان کی ہدایت پر
    آؤ دو نومبر کو مینارِ پاکستان کی آغوش میں وعدہ کریں
    کہ ہم اس ملک کو جہالت سے علم کی طرف
    نفرت سے محبت کی طرف
    انتشار سے استحکام کی طرف
    مایوسی سے عزم و یقیں کی طرف
    خدمتِ ذات سے خدمتِ انسانیت کی طرف
    بے راہ روی سے ذمہ داری کی طرف
    تخریب سے تعمیر کی طرف
    بے روزگاری سے روزگار کی طرف
    بے ہنری سے ہنر کی طرف
    اور بدامنی سے امن کی طرف
    لے کر جائیں گے
    یہی ہے اصل انقلاب — یہی ہے اصل پاکستان
    اور یہی ہے
    گلی گلی نگر نگر _،،،دو نومبر!دونومبر
    کا ایک مقصد اور نامکمل پیغام کہ ابھی بہت سی باتیں،حکمت عملیاں ،منصوبے اور سرپرائز باقی ہیں