13نومبر کا دن تھا ، باپ دو دن سے بیٹی کے نمبر پر کال کر رہا تھا جو چار سال پہلے ڈسکہ کے نواحی گاؤں بیاہی گئی تھی ۔ مگر نمبر دو روز سے بند تھا ، وہ گھبرا کر بیٹی کے سسرال چلا آیا اور پوچھا زارا کہاں ہے ؟ فون کیوں بند ہے اس کا ، جبکہ زارا کا دو سال کا بیٹا گھر میں موجود تھا ، ساس اور نندوں نے بتایا دو دن پہلے رات کو کسی آشنا کے ساتھ بھاگ گئی ، موبائل بھی ساتھ لے گئی ۔ ہم تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے ، خاموشی سے تلاش کررہے ہیں ۔۔۔
باپ کو یقین نہ آیا ، چار سال پہلے اس نے بہت چاؤ سے اس کا رشتہ اس کی خالہ صغری کے بیٹے قدیر سے کیا ، اور وہ دونوں بہت خوش تھے ، ہاں سگی خالہ اس سے اکثر نالاں رہتی تھی مگر وہ پھر بھی بیٹی کو نباہ اور صبر کی تلقین کرتا رہا ۔ اس نے تلاش گمشدگی کے لیے پولیس کی مدد لی ، پولیس نے سسرالیوں کے بیان لیے ، زارا کی ساس اور نندوں کو شامل تفتیش کیا گیا ، ہر ایک کے بیان میں تضاد موجود تھا ، جس پر پولیس نے ان کو گرفتار کر لیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ زارا بھاگی نہیں بلکہ 11 نومبر کی رات انہوں اس کو مار کر پھینک دیا تھا۔ اور اس کے شوہر کو بھی یہی بتایا کہ وہ کسی سے رابطے میں تھی اور گھر سے نکل گئی ، جبکہ زارا سات ماہ کی حاملہ تھی ، اس کے ساتھ ننھی جان بھی ماری گئی ۔
جھگڑا کیا تھا؟ وہی ساس بہو کی ازلی چپقلش اور نند بھابی کا بیر ۔۔۔ زارا کی پانچ نندیں تھیں اور قدیر ان کا اکلوتا بھائی ۔۔ اور انہوں نے خود زارا کا رشتہ مانگا اور اپنے ہاتھوں سے رخصت کرکے گھر لائیں ۔ جھگڑا پیسے کا اور محبت کی تقسیم کا تھا ، ان کا خیال تھا ان کا بیٹا سارا خرچ بہو کے ہاتھ پر رکھتا ہے جبکہ وہ الگ سے ماں کو پیسے بھیجتا تھا ، مگر ان کی خواہش تھی کہ سب کچھ ماں بہنوں کو دینا چاہیے ،اور وہ خود زارا کو ماہانہ خرچ کے طور پر دیں ، انہی جھگڑوں سے تنگ آ کر قدیر اسے پچھلے سال اٹلی بھی لے گیا اور حالات بہتر ہونے پر خود کچھ ماہ پہلے سسرال چھوڑ گیا ۔ اس بار ساس اور نندوں نے سوچا کہ زارا کو واپس ہی نہ جانے دیا جائے اور قدیر کی ساری کمائی اور توجہ ہمیں ملے ، پلان کے تحت لاہور سے کسی کو بلایا ، فجر سے کچھ دیر پہلے سوئی ہوئی زارا کے منہ پر تکیہ رکھ کر سانس بند کی اور موت کے حوالے کردیا ۔۔۔ اب مسئلہ لاش کا تھا کہ وہ کہاں کریں ۔۔ اور شناخت کیسے چھپائیں تو سر کو دھڑ سے الگ کرکے چولہے پر جلایا گیا تاکہ نین نقش مسخ ہوجائیں ، پھر جسم کاٹ کر دو الگ الگ بوریوں میں ڈالا ، ایک بوری نہر میں اور ایک دور جھاڑیوں میں پھینک دی ۔ پولیس نے ان کی نشان دہی پر مختلف جگہوں سے جسم کی باقیات برآمد کر لیں ۔
لوگ کہتے ہیں رشتہ اپنوں میں کریں ۔۔ اپنا مارے گا بھی تو چھاؤں میں ڈالے گا۔۔ یہاں تو چھاؤں میں بھی نہیں ڈالا گیا ۔۔۔ اور پھر اپنا ہو ۔۔ تو مارے ہی کیوں ؟؟
تیری میری کی ہوندی اے
دھی تے جھلیا دھی ہوندی اے
Author: باغی بلاگز
-

دھی تے جھلیا دھی ہوندی اے .تحریر:آصفہ عنبرین قاضی
-

حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کے بینرتلے ”مایا“ پر گفتگو کا اہتمام،تحریر:گلناز کوثر
حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کے بینرتلے ”مایا“ پر گفتگو کا اہتمام کیا گیا، میرے لیے یہ شام بلاشبہ کئی شاموں پر بھاری تھی جسے میں نے بڑی احتیاط سے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا ، خلیق الرحمن اور ارشد معراج جیسے دوستوں کا ساتھ قسمت کی مہربانی ہے.
”حلقہ اربابِ ذوق اسلام آباد کا گزشتہ اجلاس 8 نومبر 2024 کو کانفرنس ہال اکادمی ادبیات پاکستان میں منعقد ہوا ۔ اس اجلاس میں برطانیہ سے تشریف لائیں منفرد لب و لہجہ کی شاعرہ محترمہ گلناز کوثر کے نظمیہ مجموعہ "مایا” کا تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ کیا گیا۔ اس خصوصی اجلاس کی صدارت ممتاز شاعر و دانشور پروفیسر ڈاکٹر احسان اکبر نے کی۔ مہمانِ خصوصی ڈاکٹر وحید احمد بوجہ ناسازی طبیعت تشریف نہ لا سکے۔ سٹیج پر موجود دیگر مہمانِ خاص میں جناب محمد حمید شاہد، جناب ڈاکٹر ثاقب ندیم، جناب ڈاکٹر صلاح الدین درویش اور جناب ڈاکٹر ارشد معراج شامل تھے۔ نظامت کے فرائض سیکرٹری حلقہ جناب ڈاکٹر خلیق الرحمٰن نے سرانجام دیے۔ انہوں نے محترمہ پروین طاہر کا مضمون پڑھ کر سنایا جو بوجوہ تشریف نہ پاسکیں۔ اس کے بعد جن معروف علمی و ادبی شخصیات نے مایا کے حوالے سے تجزیاتی گفتگو کی ان میں جناب منیر فیاض، محترمہ ڈاکٹر فاخرہ نورین، جناب ڈاکٹر ارشد معراج، جناب ڈاکٹر صلاح الدین درویش، جناب ڈاکٹر ثاقب ندیم، جناب محمد حمید شاہد اور جناب پروفیسر ڈاکٹر احسان اکبر شامل تھے۔ اس موقع پر محترمہ گلناز کوثر صاحبہ کو علمی ادبی شخصیات نے پاکستان آمد پر خوش آمدید بھی کہا اور انہیں گلدستے اور اپنے تازہ مجموعہ کلام پیش کیے۔ تقریب بہت بھرپور اور شاندار رہی۔ تقریب میں جڑواں شہروں کے علاوہ مختلف شہروں اور بیرون ملک مقیم مقیم اہم علمی و ادبی شخصیات نے شرکت کی۔
اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین
یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک
اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان
اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان
اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو
اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام
اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز
مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات
ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

-

دبستان بولان کا ماہانہ مشاعرہ
پچھلے مہینے دبستان بولان اپنے سہ روزہ کل پاکستان ادبی میلے سے بہ حسن خوبی سبکدوش ہو کر نومبر سے پھر اپنے ماہانہ مشاعروں کا حسب معمول آغاز کر دیا ہے۔
اب کے دس نومبر کو ایک محفل مشاعرہ منعقد ہوا جس میں ایک طویل غیر حاضری کے بعد سرجن ڈاکٹر اعظم بنگلزئی نے بھی شرکت کی جس کی عدم موجودگی کو دبستان بولان مسلسل محسوس کر رہا تھا اس غیر حاضری کی وجہ ان کی بیرون کوئٹہ منصبی ذمہ داریاں ہیں گویا وہ اس وقت شہر بدری کے عرصے میں زندگی گزار رہے ہیں بقول محسن بھوپالی:
تادیر ہم بہ دیدۂ تر دیکھتے رہے
یادیں تھیں جس میں دفن وہ گھر دیکھتے رہے
ان کے علاوہ فارسی اور اردو کے معروف بزرگ شاعر سید جواد موسوی بھی کافی مدت کے بعد تشریف لائے تھے گویا مشاعرہ گاہ ایک ملاقات گاہ میں تبدل ہوا بقول امیر مینائی:
امیر جمع ہیں احباب درد_دل کہہ لے
پھر التفاتِ دلِ دوستاں رہے نہ رہے
بہر حال مشاعرے کا آغاز تلاوت آیات پاک سے ہوا جس کی سعادت جناب قاری صادق علی نے حاصل کی جن کی دل موہ لینے والی تلاوت نے ایک وجدانی کیفیت پیدا کردی پھر انہوں نوجوانوں سے خطاب کے عنوان سے ایک خوبصورت فارسی نظم بہت خوبصورتی ترنم سے پیش کی آپ بھی بڑی مدت کے بعد رونق محفل بنے۔
مشاعرہ کی صدارت سید جود موسوی نے کی جبکہ مہمان خاص سرجن ذاکر اعظم بنگلزئی تھے۔ نظامت کے فرائض حسب معمول دبستان کے اسٹیج سکریٹری پروفیسر اکبر ساسولی نے انجام دئیے۔ان کے علاوہ پروفیسر صدف چنگیزی، جناب شفقت عاصمی، جناب جرات علی رضی اور جناب عرفان عابد شریک مشاعرہ تھے۔اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین
یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک
اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان
اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان
اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو
اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام
اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز
مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات
ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

-

اپووا کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ اور ننھا لکھاری علی حیدر بھنڈر،تحریر:سجاد علی بھنڈر
میں سرپرست اعلیٰ زبیر احمد انصاری ۔ ایم ایم علی بانی و چیئرمین اپووا ۔ صدر حافظ زاہد محمود اور آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے دیگر عہدیداران کا دل سے مشکور ہوں کہ انھوں نے میرا ایک دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر کروایا ۔اپووا کے پلیٹ فارم پر محترم زبیر احمد انصاری اور ایم ایم علی صاحب کی گراں قدر خدمات لائق تحسین ہیں ۔میں ایک ادنیٰ سا گمنام کالم نگار ہوں اور ایک عرصے سے فیس بک پر اپووا میں شامل سینئر لکھاریوں کی تحاریر پڑھ رہا تھا اور سوچتا تھا کہ کاش میں بھی کبھی ان کی صف میں شامل ہو پاؤں گا کہ نہیں !پھر ایک دن اچانک اپووا کے فیس بُک پیج پر مجھے میرے ہی نام کا پوسٹر نظر آیا ۔
اللّٰہ اکبر
میری خوشی کی تو کوئی انتہا ہی نہیں تھی میں نے ایم ایم علی بھائی کو میسنجر پر سلام پیش کیا اور انھوں نے اپنا نمبر سینڈ کر دیا ۔اور یوں پہلی بار میرا رابطہ میرے محسن کے ساتھ ہوا ۔میں دل سے شکر گزار ہوں اور ایم ایم علی صاحب کے لیے ہمیشہ دعا گو ہوں سر اللّٰہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ شاد و آباد رکھے اور مزید عزت و تکریم سے نوازے ۔
اب باری تھی تربیتی ورکشاپ میں جانے کی ۔ الحمدللہ علی حیدر بھنڈر میرا اکلوتا نور چشم ہے اور میں اپنی ساری زندگی کی دینی و دنیاوی جمع پونجی خرچ کر کے اسے ایک پہچان دینا چاہتا ہوں اور شہرت اور مقبولیت کے اعلیٰ مقام پر دیکھنا چاہتا ہوں ۔علم و ادب اور تہذیب و تمدن ہمیشہ میرے پسندیدہ مشاغل میں سر فہرست رہے ہیں ۔ لہذا میں علی حیدر بھنڈر میں بھی وہی گن بھرنا چاہتا ہوں ۔اسی لیے میں نے ایم ایم علی صاحب سے گزارش کی کہ مجھے علی حیدر کو ساتھ لانے کی اجازت دیں جس پر انھوں نے بخوشی اظہار مسرت فرمایا ۔دراصل میں علی حیدر کو کامیاب لوگوں کی کامیابی کی داستانیں ان کی اپنی زبانی سنوانا چاہتا تھا تاکہ علی حیدر کے دل میں بھی ادب سے محبت کا پودا پروان چڑھ سکے ۔لہذا ہم ایک پھولوں کا خوبصورت گلدستہ لے کر بروقت پر منزل مقصود ہیریٹیج ہوٹل جا پہنچے ۔ایم ایم علی بھائی نے کھلے بازو ہمارا استقبال کیا اور علی حیدر کے سر پر دست شفقت پھیرا ۔بس پھر ہم بھی تقریب کا حصہ بن گئے ۔ تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے آغاز ہوا اور پھر ایک ایک کرکے مقررین نے حاضرین محفل سے خطاب فرمایا ۔اپووا تربیتی ورکشاپ میں شامل سینئر صحافیوں ۔ ادیبوں ۔ شعراء کرام اور ڈراما نگاروں کے خصوصی لیکچرز پیش کیے گئے جس کی چند جھلکیاں آپ کی بصارتوں کی نذر۔
قلم کاروں ‘ لکھاریوں‘صحافیوں ‘ادیبوں اور شاعروں کی نمائندہ جماعت آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن(اپووا)کے زیر اہتمام نوآموز لکھاریوں اور شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات کیلئے تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا جس میں ملک کے نامور لکھاریوں ، صحافیوں ۔ ادیبوں ۔ شاعروں ۔ ادارکاروں اور ڈاکٹرز سمیت دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوئے۔سینئر صحافی و کالم نگار ارشاد عارف ۔معروف اینکر پرسن ریحام خان ۔ لیجنڈ اداکارہ عذرا آفتاب اور میگھا جی ۔ لیجنڈ اداکار غلام محی الدین ۔ بہترین مصنف و ادکار افتخار حسین افی ۔ موٹیویشنل سپیکر اختر عباس ۔ معروف مزاح نگار گل نوخیز اختر ۔ سینئر صحافی عنبرین فاطمہ ۔ معروف شاعر و استاد پروفیسر ناصر بشیر ۔ نامور ادیب ڈاکٹر ہارون الرشید ۔ افسانہ نگار طارق بلوچ صحرائی ۔ معروف نعت خواں الحاج اختر حسین قریشی ۔ نوجوان نسل کے معروف شاعر اتباف ابرک ۔ رپورٹر جیو نیوز دعا مرزا ۔ تجزیہ نگار نوید چوہدری ۔ معروف شاعر میجر ریٹائرڈ شہزاد نیر ۔ معروف شاعرہ مہوش لاشاری ۔ میگزین ایڈیٹر ندیم نذر ۔ عقیل انجم اعوان ۔ ریاض احمد احسان اور ندیم اختر سمیت دیگر نے شرکت کی اور نئے لکھنے والوں کو اپنی تحاریر کو جاذب اور خوبصورت بنانے کے لئے مختلف تجاویز دیں ۔ مقررین کا کہنا تھا کہ صرف لکھنا کوئی معنی نہیں رکھتا بلکہ اچھا اور بہترین لکھنا ہی آپ کو بے مثال بناتا ہے ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ پڑھیں اور پڑھتے رہیں کیونکہ اچھا لکھاری ہوتا ہی وہی ہے جو اچھا پڑھنے والا ہو ۔ خواتین مقررین کا کہنا تھا کہ خواتین اب ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ ہیں بلکہ بعض جگہوں پر مردوں سے بھی ایک قدم آگے ہیں اور یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے ۔ صحافت میں بھی خواتین کو آگے آنا چاہیے ۔
تقریب میں ملک بھر سے آئے ہوئے لکھاریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور ہال اپنے وسیع ہونے کے باوجود تنگی داماں کا منظر پیش کرتا رہا ۔ دورانِ تقریب اپنے شعبے میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے والوں کو ایوارڈ ۔ میڈل اور تعریفی اسناد سے نوازا گیا ۔ اس ورکشاپ کی ایک بڑی خوبصورتی یہ تھی کہ اس میں ’’میڈیکل کیمپ‘‘ بھی لگایا گیا تھا اور ڈاکٹرز کا ایک پورا پینل وہاں فری چیک اپ کرنے کے لیے ورکشاپ کے اختتام تک موجود رہا اور شرکاء اپنے طبعی مسائل اُن کے ساتھ ڈسکس کرتے رہے ۔ آخر میں اپووا انتظامیہ نے یہ عہد کیا کہ ان شاء اللہ آئندہ بھی ایسے کامیاب پروگرام کرواتے رہیں گے اور تنظیم کا گراف انشاءاللہ العزیز مزید اوپر جائے گا ۔تقریب کے اختتام پر شرکاء کے لیے پرتکلف ظہرانہ کا اہتمام کیا گیا تھا ۔دھند اور سموگ کی وجہ سے موسم کی خرابی کے باوجود دور دراز سے آنے والے شرکاء کا اپووا کے عہدیداران کی جانب سے خصوصی شکریہ ادا کیا گیا,اور یوں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ اختتام پذیر ہوئی ۔اب واپس آتے ہیں علی حیدر بھنڈر صاحب کی جانب ۔علی حیدر کی خواہش تھی کہ اس کے بابا جان بھی اسٹیج پر جائیں اور خطاب کریں ۔شیلڈز اور ایوارڈ کی تقسیم ہوئی ۔ میڈلز اور اسناد بھی تقسیم کئے گئے ۔علی حیدر یہی سوچتا رہا کہ اس کے بابا جان کے حصے میں بھی کچھ نہ کچھ تو ضرور آئے گا ۔یہی وجہ تھی کہ علی حیدر 2 بار شیلڈز والی ٹیبل پر گیا اور ایک ایک نام پڑھ کر اپنے بابا جان کا نام تلاشتہ رہا ۔علی حیدر پھر بھی پر امید تھا کہ شاید اس کی تلاش میں کوئی کمی رہ گئی ہوگی اور بابا جان کا نام اسے نظر ہی نہیں آیا ہو گا وہ تقریب کے آخری لمحات تک پر امید تھا ۔کیونکہ اس کے بابا جان اس کے لیے سب سے اچھے ہیں ۔ وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ جس مقام پر آج اپنے بابا جان کے ساتھ آیا ہے اس کے بابا جان عمر میں چاہے بڑے تھے لیکن علم و ہنر اور تجربے کے لحاظ سے سب سے جونیئر تھے ۔بحرحال ایم ایم علی صاحب کی شفقت سے ملنے والے خوبصورت لفافہ میری لاج رکھ گیا اور اس میں سے ایک تعریفی سند بھی مل گئی لہذا میں نے اس سند پر ننھے لکھاری علی حیدر بھنڈر کا نام لکھا اور افتخار افی صاحب سے گزارش کی کہ ہمارے ساتھ ایک تصویر بنوا لیں ۔ افتخار افی صاحب نے ہمارا مان بڑھایا اور ایک یادگار تصویر بنوا کر شفقت فرمائی ۔
شکریہ سر سلامت رہئے ۔سیالکوٹ سے آئیں فاکہہ قمر آپی نے بھی علی حیدر کے ساتھ یادگار تصویر بنوائی جو انشاء اللّٰہ اسے مستقل میں اعزاز محسوس ہو گا ۔ریاض احمد احسان صاحب نے علی حیدر کی آٹو گراف ڈائری پر سب سے پہلا آٹو گراف دیا اور خوب محبت کا اظہار کیا ۔ثناء آغا خان میری پیاری سی چھوٹی بہن نے بھی علی حیدر کو آٹو گراف دیا اور ڈائری میں نصیحت رقم کی کہ علی حیدر والدین بہت قیمتی ہیں ان سے محبت کرو اور ہمیشہ خوش رہو ۔مشہور شاعرہ مہوش لاشاری صاحبہ نے بے خیالی میں لی گئی علی کی تصویر اسٹیج پر ان کے ساتھ دیکھ کر شکوہ لکھا کہ انھیں متوجہ کیوں نہیں کیا گیا ۔ورنہ میں خود علی حیدر کے ساتھ ایک یادگار تصویر بنواتی ۔یہ واقعی ان کا بڑاپن ہے ۔ اللّٰہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے آپی انشاء اللّٰہ میری پوری کوشش ہے کہ بہت جلد علی حیدر شاعروں اور ادیبوں کی فہرست میں شامل ہو جائے ۔
ماشاءاللہ علی حیدر بھنڈر پلے گروپ سے ہر سال مسلسل فرسٹ پوزیشن کی شیلڈ حاصل کرتا آ رہا ہے ۔اور الحمدللہ اس کے بابا جان نے بھی ہر شعبے میں ہمیشہ نمایاں کامیابی حاصل کی ہے اور صحافی ہونے کے ناطے کسی بھی صحافی کا ڈپٹی کمشنر لاہور سے آن ریکارڈ شیلڈ حاصل کرنا بھی ایک منفرد روایت ہے ۔میں دل کی گہرائیوں سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ زبیر احمد انصاری ۔ بانی و چیئرمین ایم ایم علی ۔ صدر حافظ زاہد محمود اور جن بہن بھائیوں کے نام مجھے یاد نہیں ان سب کا شکر گزار ہوں ۔اللّٰہ تعالیٰ آپ سب کو ہمیشہ شاد و آباد اور مزید کامیابیوں سے سرفراز فرمائے ۔
آمین ثم آمین یا رب العالمیناپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین
یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک
اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان
اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان
اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو
اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام
اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز
مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات
ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد
-

سبز خط اور شرمیلا لکھاری ،تحریر:مجیداحمد جائی
سجادجہانیہ کے بقول ادب اطفال کے ذیل میں دبستان ِملتان کا جائزہ لیا جائے تو یہاں علی عمران ممتاز اپنے نام کی طرح ایک منفرد اور ممتاز حیثیت کے حامل نظر آتے ہیں ۔ادب اطفال کو ذریعہ ِاظہار بنا کر انھوں نے ملکی سطح پر شہرت اور شناخت پائی ہے ۔علی عمران ممتاز ادب اِطفال پر تیرہ کتب اب تک تصنیف کر چکے ہیں جن میں سے دو کو صدارتی ایوارڈ سے نوازاجاچکا ہے ۔یہ امر دبستان ِملتان کے لیے نہایت خوش کن اور قابل ِفخر و اعزاز ہے ۔
”سبزخط“علی عمران ممتاز کی بچوں اور ٹین ایجرز کے لیے لکھی گئی کہانیوں پر مشتمل کتاب ہے ۔یہ پڑھنے میں کہانیاں ہیں ۔سمجھنے میں راہی کوراستادکھاتی ہیں ۔نصیحتیں کرتی یہ کہانیاں ہمیں سیرت طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سنت وحدیث پر عمل پیرا ہونے کا درس دیتی ہیں ۔بچوں اور بڑوں کو کہانی کے انداز میں درس دینا بہترین حکمت عملی ہے ۔ہر کہانی کا انداز الگ ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بچے کہانی میں مکمل طور پر دل چسپی لیتے ہیں اور متاثر ہوتے ہیں ۔
علی عمران ممتاز ”پہلی بات“میں قلم فرسائی کرتے ہوئے کہتے ہیں ”میری کوشش رہی ہے کہ تعلیمات نبوی کی روشنی میں بچوں کو روشن راہ دکھا سکوں اور بچوں کو بتا سکوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ،اللہ کے محبوب اور آخری نبی ہیں ۔آپ کے بعد نہ کوئی نبی ہے اور نہ ہی آئے گا۔آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ کی حیات ِمبارکہ بچوں ہی نہیں بڑوں کی عملی زندگی کے لیے بہترین نمونہ ہے ۔”سبزخط“کتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔
اختر عباس،علی عمران ممتاز کے بارے میں لکھتے ہیں ”اللہ جی انسانوں کی بھیڑ میں کم کم لوگوں کو ممتاز کرتے ہیں ۔ہم نے البتہ اپنی آنکھوں سے ملتان کے ایک نوعمر لڑکے کو اللہ جی کی رحمت کے سائے میں آتے اور پھر دھیرے دھیرے علی عمران ممتاز بنتے اور لکھنے والوں میں ممتاز ہوتے ہوئے دیکھا ہے ۔اب اس کی پہچان محنت کش قاری و لکھاری کی نہیں ہے بلکہ اس کا تخلیقی کام اپنی خوب صورتی ،وسعت اور مقدار میں بھی نظر آتا ہے ۔اب وہ دو رسائل کے مدیر اعلیٰ ہونے کی کامیابی سے آسودہ ہے ۔کتنی ہی کتابیں اس کے قلم سے لکھی اور ترتیب پاگئی ہیں ۔”سبز خط“کی کہانیاں اس کے اعزازت میں اضافے کا باعث بننے والی ہیں ۔
ریاض عادل لکھتے ہیں ”سبز خط“علی عمران ممتاز کی بچوں کے لیے کہانیوں کی نئی کتاب ہے جسے ہم سیرت کہانی یا حدیث کہانی کے زمرے میں رکھ سکتے ہیں ۔علی عمران ممتاز نے تعلیمات ِنبوی کی روشنی میں ،بچوں کو کہانیوں کی صورت میں ،سماجی بُرائیوں سے دور اور محفوظ رہنے کی تعلیم دی ہے ۔علی عمران ممتاز کی کہانیاں بچوں کو یہ باور کرانے کی ایک بھر پور کوشش ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ ہمارے لیے ایک مکمل نمونئہ حیات ہے ۔سماجی بگاڑسے بچنے کی واحد صورت یہی کہ بچوں کو جو ہمارا مستقبل ہیں ،سیرت طبیہ کے مختلف پہلوﺅں سے روشناس کروایا جائے۔علی عمران ممتازکی شخصیت اپنے اندر نام کی طرح تمام تر خوبیاں رکھتی ہے ۔خود میں بھی دو دہائیوں سے علی عمران ممتاز کو پڑھ اور دیکھ رہا ہوں ،مل رہا ہوں ،سمجھ رہاہوں۔کئی سفرایک ساتھ ہوئے ۔محفلیں سجیں،طبیعت کا شرمیلا یہ نوجوان اپنے اندر بے پناہ خوبیاں رکھتا ہے ۔اندازدھیما،گفتار سے گھبرانے والا ،قلم فرسائی کا شاہ سوار،لبوں پر مسکراہٹ رکھنے والا مردِقلندر ہے ۔ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنے والا ،اللہ سے محبت کرنے والا اور اسی ذات کریمی کا ذکر کرنے والا ہے ۔اس کی کامیابی و شہرت کی یہی وجہ ہے ۔اسی کے نام سے یہ مقام پاتا ہے اور نوازا گیا ہے ۔اس کی زندگی کے کئی پہلوہیں اور ہر پہلو اپنے اندر ایک جہاں رکھتا ہے ۔
اس کا قلم محترک اور جوان ہے ۔اسلوب ِنگارش سادہ اور رواں ہے ۔زبان آسان اور عام فہم ہے ۔یہ دلوں میں اُتر جانے کا ہنر جانتا ہے ۔یہی چیز اس کی تحریروں میں جھلکتی ہے ۔چاہے کہانی ہو یا افسانہ ،ناول ہو ناولٹ۔ملنسار اور ہنس مکھ نوجوان (جوشاید اب نہیں )ہر دل میں اپنی جگہ بنانے کا ہنر جانتا ہے ۔اسی کے قلم سے موتی بن کر نکلنے والے لفظ”سبز خط“کی صورت ہمارے سامنے ہیں۔”سبز خط“مجھے دو بار پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے ۔اس کا پروف بھی کیا ہے ۔اس کتاب میں کل چودہ (14) کہانیاں ہیں ۔ہر کہانی اپنے الگ اسلوب سے متاثر کرتی ہے ۔”سبزخط“سر ورق کہانی ہے ۔اس تخیلاتی کہانی نے رونگٹے کھڑے کر دئیے ہیں ۔ایک یتیم بچی جو قبرستان میں اپنی بڑی بہن کے ساتھ جھونپڑی میں رہتی ہے ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھتی ہے اور اپنا حال ِ دل بیان کرتی ہے اور مدد کے لیے بلوادیتی ہے ۔خط پر واپسی کا پتا لکھنا بھول جاتی ہے ۔جب ڈاکیا وہ منفرد خط دیکھتا ہے تو گھر بیوی سے ذکر کرتا ہے ۔ان کی اولاد نہیں ہوتی ۔ڈاکیا اس بچی سے ملنا چاہتا ہے لیکن خط سے معلومات نہیں ملتی ۔اسی کش مکش میں دوسرا خط بھی مل جاتا ہے ۔جس پر واپسی کا پتا درج ہوتا ہے ۔ڈاکیا کی مشکل آسان ہو جاتی ہے اور وہ اس بچی تک پہنچ جاتے ہیں ۔آگے کیا ہوتا ہے یہ کہانی پڑھ لیجیے ۔میری طرح آپ بھی نم دیدہ ہو جائیں گے ۔
”سبزخط“کی چند منفرد کہانیوں کے عنوان دیکھیے ”جنت کی مٹی “۔”میں کون ہوں “،یہ انعام تمھارا ہے “نیا گھر “اور”بارہ سو ساٹھ روپے “وغیرہ ۔معروف بچوں کے لکھاری ریاض عادل ،مزاح نگار حافظ محمد مظفر محسن اور نامورکالم و کہانی کار سجاد جہانیہ نے قلم فرسائی کرکے لکھاری اور اس کے فن پر سیرحاصل گفت گو کی ہے ۔
”سبز خط“کا انتساب ان بچوں کے نام کیا گیا ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک کو اپنے لیے مشعل ِراہ مانتے ہیں اور آپ کی سنت و احادیث مبارکہ پر عمل کرتے ہیں ۔کرن کرن روشنی پبلشرز نے فروری 2014ءمیں شائع کی ہے ۔سرورق معظم حسن واصفی نے تخلیق کیا ہے ۔کتاب کی قیمت سات سو روپے ہے اور کرن کرن روشنی پبلشرز سے رابطہ کرکے منگوائی جا سکتی ہے ۔سجادجہانیہ کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے میں بھی پُر اُمید ہوں کہ خالق ارض و سماعلی عمران ممتاز کو اس میدان میں استقامت و کامیابی سے ہم کنار کرتا ہے اور کرتا رہے گا ۔ان شاءاللہ ۔اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین
یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک
اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان
اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان
اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو
اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام
اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز
مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات
ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد
-

خواب جو بکھر گئے ذرا سی لاپرواہی سے.تحریر: فیضان شیخ
زندگی کی دوڑ میں ہم اکثر اپنے خوابوں کی روشنی میں آگے بڑھتے ہیں۔ ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا کہ کب وہ خواب ہمارے ہاتھوں سے پھسل جاتے ہیں اور حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آج چکوال میں ہونے والے افسوسناک حادثے نے ہمیں پھر سے جھنجھوڑ دیا۔ ایک باراتیوں کی بس، جو استور سے خوشیوں کے لمحات کو لیے راولپنڈی کی طرف جا رہی تھی، تھلیچی پل کے قریب اپنے سفر کی آخری منزل پر پہنچ گئی۔ تیز موڑ کاٹتے ہوئے بس گہری کھائی میں جاگری اور دریا کے بہاؤ میں گم ہوگئی۔ اس حادثے میں ایک ہی خاندان کے کئی افراد زندگی سے محروم ہوگئے، اور کچھ لاپتہ ہیں جن کی تلاش اب بھی جاری ہے۔
ریسکیو ٹیمیں پوری کوششوں سے جائے حادثہ پر کام کر رہی ہیں۔ اب تک کچھ نعشیں برآمد ہو چکی ہیں، مگر کئی لوگ ابھی تک لاپتہ ہیں، اور ان کے خاندان ان کی واپسی کی امید لیے بیٹھے ہیں۔ یہ حادثہ ہمارے دلوں میں سوالات پیدا کرتا ہے کہ آیا یہ سانحے ہم روک سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنے پیاروں کی زندگیوں کی حفاظت کر سکتے ہیں؟ اور اس کا جواب ہمیں "ہاں” کی صورت میں ملتا ہے، اگر ہم سب سڑکوں پر احتیاط کے اصول اپنانے کا عہد کریں۔
یہی اصول ہمیں بار بار روڈ سیفٹی کی اہمیت اور اس کے اصولوں کی پابندی کی ضرورت کا احساس دلاتے ہیں۔ جب ہم سڑکوں پر نکلتے ہیں، تو ہم صرف اپنی زندگی نہیں بلکہ اپنے اردگرد کے لوگوں کی زندگیاں بھی اپنے ہاتھوں میں لے کر چلتے ہیں۔ روڈ سیفٹی کے اصول، جیسے کہ رفتار کی پابندی، ڈرائیونگ کے دوران مکمل توجہ اور طویل سفر میں وقتاً فوقتاً آرام کرنا، ہمارے اور دوسروں کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
اس شعور کو پھیلانے اور معاشرے میں روڈ سیفٹی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ٹی این این ڈیجیٹل کے سرپرست اعلیٰ، شیخ ناصر محمود، کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کو روڈ سیفٹی کے پیغام کو عام کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔ انہوں نے عوام میں یہ شعور پیدا کیا کہ گاڑی چلانا محض رفتار کا کھیل نہیں بلکہ ذمہ داری کا تقاضا ہے۔ انہوں نے نہ صرف تربیتی پروگرامز کا انعقاد کیا بلکہ لوگوں کو یہ سکھایا کہ احتیاط سے کی گئی ڈرائیونگ حادثات کو روکنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
شیخ ناصر محمود کی خدمات اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ کس طرح ایک فرد کی کوششیں معاشرے میں بڑی تبدیلی لا سکتی ہیں۔ ان کی کاوشوں کی بدولت بے شمار لوگوں نے روڈ سیفٹی کے اصول اپنائے، اور ان کی تربیت سے کئی حادثات کو روکا جا چکا ہے۔ ان کی کوششیں ہمیں یہ یقین دلاتی ہیں کہ اگر ہم سب روڈ سیفٹی کے اصولوں کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں تو ہم اپنے پیاروں کو حادثات سے بچا سکتے ہیں اور خوشیوں کے خواب بکھرنے سے روک سکتے ہیں۔
آج کے حادثے کو ہمیں ایک یاد دہانی کے طور پر لینا چاہیے کہ زندگی کا ہر لمحہ نازک ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور روڈ سیفٹی کے اصولوں کو معمولی نہ سمجھیں۔ شیخ ناصر محمود جیسے لوگوں کی کاوشوں کو سراہنا اور ان کے پیغام کو عام کرنا ہمارا فرض ہے۔ اگر ہم نے آج یہ عہد کر لیا کہ ہم سڑکوں پر احتیاط اور ذمہ داری سے سفر کریں گے، تو شاید ہم کل کئی زندگیاں محفوظ کر سکیں اور کئی خاندانوں کے خواب بکھرنے سے بچا سکیں۔
-

اپووا کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ کا مختصر احوال،تحریر۔مدیحہ کنول
آل پاکستان رائٹرز ویلفئیر ایسوسی ایشن کی اٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ لاہور کے مقامی ہوٹل میں نو نومبر 2024 کو منعقد ہوئی۔ ورکشاپ میں پورے ملک سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مردوخواتین نے بھرپور شرکت کی۔لوگ دور دراز سے اپنے پسندیدہ شعراء، ادباء، اینکر پرسنز اور ادب کی دیگر اصناف سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے لیکچرز سننے کے لیے آئے۔ دنیائے ادب کی نامور شخصیات نے تقریب میں تشریف لا کر اس خوبصورت محفل کو چار چاند لگا دئیے۔نظامت کے فرائض راقم نے سر انجام دئیے۔تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔محترم حافظ محمد زاہد نے تلاوت قرآن پاک کی سعادت حاصل کی۔صدارتی ایوارڈ یافتہ نعت خواں الحاج اختر حسین قریشی نے نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھ کر سماں باندھ دیا۔9 نومبر شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کے دن کی مناسبت سے کلام اقبال پیش کیا گیا۔ڈاکٹر کوثر اقبال صاحبہ نے ترنم سے کلام اقبال پیش کیا اور داد پائی۔
آل پاکستان رائٹرز ویلفئیر ایسوسی ایشن کی صدر پنجاب محترمہ ریحانہ عثمانی نے اپووا کا تعارف،اغراض ومقاصد،سالانہ تربیتی ورکشاپس،لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ، اپووا کتاب ایوارڈ،سیمینارز اور تقریبات، تفریحی دورے،اپووا پبلیکیشن ،اپووا ڈائجسٹ،اپوواویب سائٹ، اپوواموبائل ایپلیکیشن،اپووا فیملی اور اپووا فنڈ کے بارے میں معلومات فراہم کیں اورحاضرین محفل کی معلومات میں اضافہ کیا۔
پروگرام کا اگلا مرحلہ اپووا کامیابی کی کہانیاں ان ممبرزکے لیے تھا جو ادب کےمختلف شعبہ جات میں کام کر رہے تھے اپووا میں شمولیت نے ان کی مقبولیت میں اضافہ کیااور جواپووا میں بطور ممبر شامل ہوے، اپنی پہچان بنائی اور اب ادب کے مختلف شعبوں میں کامیابی سے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس مرحلے کی صدارت اپووا کی خواتین ونگ کی صدر محترمہ ثمینہ طاہر بٹ نے کی۔سب سے پہلے اپووا کے بانی ایم ایم علی نے اپووا بنانے کا مقصد اور اس کے اغراض و مقاصد بیان کیے اس کے بعدثمینہ طاہر بٹ،ریحانہ عثمانی،سفیان علی فاروقی،سحرش خان،مہوش لاشاری،نبیلہ اکبراور مدیحہ کنول نے اپنی کامیابی کی کہانی شئیر کی۔
اپووا سر پرست اعلی جناب زبیر احمد انصاری صاحب
لاہور پریس کلب کے صدر جناب ارشد انصاری صاحب
سینئر صحافی و کالم نگار جناب ارشاد عارف صاحب
فلاحی شخصیت سیدہ بلقیس اصغر صاحبہ
معروف اینکر پرسن ریحام خان صاحبہ
لیجنڈ اداکارہ عذرا آفتاب صاحبہ
اداکارہ اور گلوکارہ میگھا جی
اینکر پرسن ثنا آغا خان
لیجنڈ اداکار غلام محی الدین صاحب
بہترین مصنف و ادکار افتخار حسین افی صاحب
موٹیویشنل سپیکر اختر عباس صاحب
معروف مزاح نگار گل نوخیز اختر صاحب
سینئر صحافی عنبرین فاطمہ صاحبہ
معروف شاعر و استاد پروفیسرناصر بشیر صاحب
نامور ادیب ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم صاحب
افسانہ نگار طارق بلوچ صحرائی صاحب
معروف نعت خواں الحاج اختر حسین قریشی صاحب
نوجوان نسل کے معروف شاعرمحترم اتباف ابرک صاحب
رپورٹر جیو نیوز دعا مرزاصاحبہ
سینئر تجزیہ نگار نوید چوہدری صاحب
معروف شاعر میجر ریٹائرڈ شہزاد نیئر صاحب
میگزین ایڈیٹرجناب ندیم نظر صاحب
شاعر آغر ندیم سحرصاحب
رائٹر،ایڈیٹرندیم اختر صاحب
مصنف عقیل انجم اعوان
ادبی شخصیت ریاض احمدحسان صاحب
سمیت کئی بڑے نام اسٹیج پر جلوہ افروز رہے۔
تمام محترم مہمانان گرامی نے باری باری ڈائس پر آکر اپنے نادر خیالات کا اظہار کیا۔ نئے لکھنے والوں کو اپنی تحاریر کو جاذب اور خوبصورت بنانے کے لئے مختلف تجاویز دیں۔مقررین کا کہنا تھا کہ اچھا لکھاری وہی ہوتا ہے جو اچھا قاری ہو ۔ اورا س کے لیے ضروری ہے کہ آپ پڑھیں اور پڑھتے رہیں۔ معاشرے کی ترقی و ترویج کے لیے قلم کے ذریعے جو کردار ادا کر سکیں ضرور کریں ۔مزید برآں کہ آپ اپنا کام کرتے رہیں کبھی نہ کبھی آپ کو اس کام کا صلہ ضرور ملتا ہے ۔ لوگ وہی دیکھتے ہیں جو وہ دیکھنا چاہتے ہیں لیکن آپ اپنے قلم سے وہ سب دکھا سکتے ہیں جو حقیقت سے قریب تر ہے ۔معاشرے کی موجودہ ابتد حالت اور امت مسلمہ کو درپیش مسائل بھی موضوع سخن رہے۔خواتین مقررین کا کہنا تھا کہ خواتین اب ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ ہیں بلکہ بعض جگہوں پر مردوں سے بھی آگے ہیں اور یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے۔صحافت میں بھی خواتین کو آگے آنا چاہیے۔ عورتوں کے لیے ایک ایسا ماحول پیدا کریں جہاں وہ کسی بھی خوف سے آزاد ہو کر ذہنی یکسوئی کے ساتھ اپنے قلم اور عمل سے خود کو منوا سکیں اور معاشرے پر مثبت طریقے سے اثر انداز ہو سکیں ۔مقررین نے سرپرست اپووا زبیر احمد انصاری،بانی اپووا ایم ایم علی،صدر حافظ محمد زاہد،سمیت دیگر عہدیدران کو ان کاوشوں ہر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان سب کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
اپووا نے اس ورکشاپ پر بھی فلسطینی بہن بھائیوں سے اظہاریکجہتی کے لے ہال میں فلسطینی پرچم آویزاں کیے۔اس کے علاوہ شرکاء کو فلسطین سے اظہار یک جہتی کے لیے بیجز بھی دئیے گئے ۔اس بار اپووا کی طرف سے میڈیکل کیمپ کا انعقاد بھی کیا گیا تھا ۔جہاں موجود ٹیم نے لوگوں کو مفت طبی مشورے فراہم کیے ۔خراب موسمی حالات کے باعث موٹروے کی بندش کی وجہ سے مختلف شہروں سے آنے والے مہمانوں کو سفری مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا ۔ان سفری مشکلات کے باوجود ملک کے کونے کونے سے شرکاء نے ورکشاپ میں شرکت کی۔ہم آپکی آمد کے تہہ دل سے مشکور ہیں ۔
دوران تقریب ایورڈز،میڈلز،اور سرٹیفکیٹس کی تقسیم کا سلسلہ بھی جاری رہا ۔ میدان ادب میں مختلف شعبہ جات میں کارکردگی دکھانے والے شرکاء کو سراہا جاتا رہا اور ان خوبصورت لمحات کو کیمروں میں مقید کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہا ۔ تقریب میں اپووا میگزین کے ممبران کو ان کے پریس کارڈز بھی جاری کئے گئے اور ایک سال سے میگزین میں اچھی کارکردگی دکھانے پر میڈلز دئیے گئے ۔واضح رہے کہ اپووا میگزین آن لائن ماہانہ شمارہ ہے اور اس وقت بہت سے مفید سلسلوں کو لے کر چل رہا ہے۔ تقریب کے اختتام پر قرعہ اندازی کی گئی اور گفٹ ہیمپرز اور کیش پرائز بھی تقسیم کیے گئے۔خوبصورت تقریب کے اختتام پر شرکاء کے لئے پرتکلف بوفے لنچ کا اہتمام بھی کیا گیا تھا،جس میں چکن قورمہ، نان، بریانی،رائتہ سلاد،کولڈ ڈنکس،قلفہ،اور چائے شامل تھی۔شرکاء لنچ سے لطف اندوز ہوے اور اپنی اپنی منزل کی جانب چل دئیے۔
ایک خوبصورت تقریب دل ودماغ پر انمٹ نقوش اور خوبصورت یادوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی جو مدتوں یاد رکھی جاۓ ۔ انشاءاللہ
اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین
یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک
اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان
اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان
اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو
اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام
اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز
مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات
ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد


-

دنیا کی نظریں ٹرمپ پر،کیا جنگ بندیاں ہو پائیں گی؟ تجزیہ:شہزاد قریشی
آنے والے چند مہینوں میں عالمی دنیا کو امریکی صدر ٹرمپ اور اُن کی انتظامیہ کی پالیسی کا علم ہو گا کہ وہ دنیا اور بالخصوص یورپی ممالک کے لئے کیا پالیسی دیتے ہیں ،صدارتی اُمیدوار ٹرمپ کے بیانات اور امریکی صدر ٹرمپ کا کیا موقف ہوگا؟ عالمی دنیا اپنی گھڑی کی طرف دیکھ رہی ہے ۔ یہ ٹرمپ کی طاقت کاعکس ہے یا اس ملک امریکہ کی طاقت کا شاید دونوں کی طاقت کا ۔ دنیا وائٹ ہائوس کے نئے مکین کی طرف دیکھ رہی ہے کہ نیا مکین اُن کے لئے کیسا رہے گا؟انتخابی مہم کے دوران قاتلانہ حملے میں بچ گیا ،رقص کیا ،سرخ ٹائی سے خون صاف کیا اور انتخابی مہم جاری رکھی اور امریکی عوام نے بھاری اکثریت سے کامیاب کروایا۔ ٹرمپ دنیا کے معاشی سلامتی اور دیگر مسائل بحرانوں کو حل کرنے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے لئے سب سے بڑا مسئلہ روس یو کرین جنگ جبکہ اسرائیل، فلسطین ، ایران اور لبنان جنگ کا ہے۔ غزہ خون کی ایک جھیل میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ غزہ ملبے لاشوں اور بے گھر لوگوں سے بھرا ہے ۔ کیا وائٹ ہائوس میں داخل ہونے والا نیا مکین مشرق وسطٰی میں جاری قتل عام کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے ؟ مشرق وسطیٰ سمیت دنیا میں جہاں جہاں بھی جنگ ہے یا جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں جنگ بندی تک پہنچنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔
دنیا میں جہاں جہاں جنگ ہے ایک مضبوط امریکی کردار کی ضرورت ہے۔ ان تمام بڑی بڑی مشکلات کو اگر مد نظر رکھا جائے توکیا امریکی صدر ٹرمپ اور اُن کی انتظامیہ کو پاکستان کی کسی سیاسی جماعت یا کسی فرد واحد کی فکر لاحق ہو سکتی ہے ؟ہمارے سیاستدانوں ، مشیروں ، بیورو کریسی ، بیورو کریٹ کی عوام دوستی اور تباہ کاریوں سے کون واقف نہیں امریکہ اور مغربی ممالک کے ساتھ برابری کی سطح پر بات کرنا ایک خواب بن چکا ہے۔ سفارتی سطح پر دنیا کو باور کرانے کی ضرورت ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان جو دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہا ہے اس کا براہ راست تعلق خطہ اور عالمی سیاست کے استحکام کے ساتھ جڑا ہے۔ پاک فوج اور جملہ اداروں نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے قربانیاں دی اور دے رہی ہیں جبکہ عوام نے بھی قربانیاں دی ہیں.
-

یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک
9نومبر یوم اقبال 2024 کو لاہور کے پاک ہیری ٹیج ہوٹل میں اپووا کی ایک شاندار تقریب منعقد کی گئی جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ان کی شاندار خدمات پر ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا گیا۔ اس تقریب کا مقصد ان افراد کی کوششوں کو سراہنا تھا جو اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
تقریب میں مجھے بھی کئی خاص اعزاز ات حاصل ہوئے، جہاں مجھے میری ادبی خدمات پر ایوارڈ، سرٹیفیکیٹ، میڈل اور اپووا میگزین کی جانب سے خصوصی افسانہ انچارج کے کارڈسے نوازا گیا۔ اس لمحے نے میری محنت کی قدر و قیمت کو اور زیادہ بڑھا دیا، اور میں نے اس اعزاز ات کو اپنے تمام اپووا کے ساتھیوں اور اس شعبے میں کام کرنے والے تمام افراد کی محنت کا نتیجہ سمجھتی ہوں۔
اس تقریب کی کامیابی میں مختلف پہلوؤں کا کردار تھا۔ سب سے پہلے، تقریب کے نظم و ضبط نے اس کو بے حد کامیاب بنایا۔ تقریب کا آغاز مقررہ وقت پر ہوا، اور ہر سرگرمی اور سیشن کا وقت بالکل درست تھا۔ کسی بھی قسم کی خلفشار یا تاخیر نہیں ہوئی، جس سے مہمانوں اور شرکاء کو ایک پُر سکون اور مرتب ماحول میں شرکت کا موقع ملا۔
دوسرا اہم پہلو شخصیات کا تھا، کیونکہ اس تقریب میں شرکت کرنے والے افراد ایم ایم علی صاحب ، محمد خافظ صاحب ، سفیان علی فاروقی صاحب اور اپووا کے سر پرست زبیر احمد انصاری صاحب کی جانب سے مدعو کئے گئے مہمانان نہ صرف اپنے اپنے شعبے میں ماہر تھے بلکہ ان کی شخصیت بھی شاندار تھی۔ تقریب میں شرکت کرنے والے مختلف ماہرین اور کامیاب شخصیات سے مل کر بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ ان افراد کی باتوں میں ایک خاص جذبہ اور لگن تھی، جو اس تقریب کو اور بھی متاثر کن بنا رہا تھا۔
شہزاد نیر صاحب اور افتحار عارف صاحب کی شاعری نے خوب سماں باندھا اور تقریب کو چار چاند لگا دئیے پھر اس کے بعد مزید مزہ تب آیا جب قرعہ اندازی میں میری مما کا نام نکل آیا جس پر میں بہت خوش ہوئی ،اسی دوران سب لکھاری نادعلی کے ساتھ تصویریں بھی بناتے رہے ان کی محبتوں کی مقرض ہوں اور انکل افتحار اور اتباف ابرک کے ساتھ تو نادعلی نے دوستی بھی کر لی ،آخری لیکن بہت اہم بات تقریب میں کھانے کے انتظام کی تھی۔ اپو وا کی جانب سے پاک ہیری ٹیج ہوٹل نے اس سلسلے میں بہترین انتظامات کیے تھے۔ کھانا نہ صرف لذیذ تھا بلکہ اس کی پیشکش اور تنوع بھی بہت شاندار تھا۔ ہر ایک کھانے کی قسم نے اپنے ذائقے اور معیار سے مہمانوں کو محظوظ کیا، اور اس نے پورے تجربے کو مزید دلکش اور یادگار بنا دیا۔
یہ تقریب دوسری تقریبات کی طرح صرف ایک رسمی ایوارڈ تقریب نہیں تھی بلکہ ایک خوبصورت تجربہ تھا جس میں ہر عنصر نے اپنی جگہ پر شاندار کام کیا، اور میں ان سب چیزوں کی شکر گزار ہوں جو مجھے اس یادگار موقع پر حاصل ہوئیں۔
اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان
اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان
اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو
اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام
اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز
مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات
ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

-

اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان
لاہور کے ڈیوس روڈ پر پاک ہیری ٹیج ہوٹل میں منعقدہ آل پاکستان رائٹرزویلفئر ایسوسی ایشن کی تربیتی ورکشاپ میں شرکت کے لئے دن ساڑھے گیارہ بجے شہر کی آلود ترین سموگ کو چیرتے ہوئے ہم مقامی ہوٹل پہنچے تقریب کا آغاز ہوچکا تھا ہم بھی اپنی نشست تک پہنچ چکے تھے ،مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا ادبی دنیاکے چند بڑے نام بھی اس پیاری محفل کا حصہ بنے مختلف موضوعات پراہل علم اپنے علم وادب کےموتی بکھیرتے رہے چونکہ منعقدہ تربیتی ورکشاپ کا مقصد ہی نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی تربیت شامل ہے تو ظاہر ہے علم وادب کے باذوق ترین حاضرین وہی علم کی شمع روشن کرنے والے اور اپنے قیمتی خیالات لوگوں تک پہچانے والے ہی ہال میں موجود تھے، سٹیج سے دور آخری نشستوں کے بیچ میں ہم بھی ان لوگوں میں شامل تھے اور دل ہی دل میں اپنے آپ کو ایک بڑا لکھاری سمجھ رہے تھے لیکن ہمیں اپنی خبر ہے کہ ہم لکھنے میں اتنے ماہر نہیں ہیں کہ اپنے آپ کوبڑا لکھاری کہہ سکیں لیکن خیر تقریب کو لگے چارچاندسے ہم ضرور مستفید ہوتے رہے.
خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی ہماری عورتوں میں علم وادب کا شوق قدرے زیادہ پایا جاتا ہے جس پر ہم جتنا فخر کرسکیں کم ہے ہماری یہی مائیں بہنیں بیٹیاں یقیننا علم وادب کے میدان میں نئے لوگ لارہی ہیں جو خوش آئند ہے اور ادبی دنیا کی رونقیں آباد ہیں انشااللہ یہ آباد رہیں گی ہماری خواتین سے زیادہ جان پہچان نہیں تھی ثوبیہ نیازی کی شاعری اور ان کے کالم ہم بہت محبت سے پڑھتے ہیں ثوبیہ بھی محفل میں تشریف فرما تھیں لیکن ان سے ملاقات نہ ہوسکی دیگر خواتین شعرا کالم نگار افسانہ نگار ڈرامہ نگار اور اینکرز بھی موجود تھیں اور سٹیج پر اپنے علمی وادبی تجربات سے ہمیں آگہی دیتی رہیں .
منعقدہ تربیتی ورکشاپ کے منتظم جناب ایم ایم علی اورحافظ زاہد محمود تھے جو بھاگ دوڑ میں تھے ان سے راہ چلتے ہوئے ملاقاتیں ہوتی رہیں خوبصورت محفل سجانے پر ہم انہیں زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور دل سے مبارکباد پیش کرتے ہیں معروف قلم کار ادیب کالم نگار اردشاد احمد عارف سے ملاقات ہوئی ہم نے ان کو بھی بتلایا کہ ہم بھی اسی میدان کے کھلاڑی ہیں اگرچہ اناڑی ہیں لیکن آپ جیسے سنیئر سے سیکھ رہے ہیں ڈرامہ نگار کالم نویس مصنف افتخار احمد عثمانی المعروف افتخار احمد افی سے خوشگوار ملاقات بھی ہمارے دن بھر کی مصروفیت میں شامل رہی مبشرلقمان صاحب بیماری کی وجہ سے تشریف نہ لاسکے تقریب میں ان کا آڈیو پیغام ممتاز اعوان صاحب لے آئے تھے جو محفل شرکا کو سنایا گیا ممتاز دن بھر ہمارے ساتھ رہے اور نئے لوگوں سے تعارف ہوتا رہا روزنامہ مشرق کے میگزین ایڈیٹر جناب ندیم نذر سے اپنا تعارف کروانا ضروری سمجھا اور انہیں بتایا کہ ہم بھی لکھتے ہیں ندیم نذر خوبصورت شخصیت کے باذوق انسان ہیں معروف شاعر ناصربشیر صاحب سے گپ شپ ہوئی گل نوخیزاختر سے مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا اور اپنے دوست معروف سرائیکی شاعر نغمہ نگار افضل عاجز کی غیر موجودگی کے ذکر پر کچھ دیر کے لئے ہم اداس ہوئے کیونکہ افضل عاجز تقریب میں ہمارے درمیان نہیں تھے اپوا کے زیر اہتمام یہ تقریب ہرسال منعقد کی جاتی ہے یہ آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ تھی اس سے قبل بھی ہم ان خوبصورت لوگوں کی محفل میں شامل ہوتے رہے ہیں 9 نومبرکو اس دلچسپ تقریب میں شرکت گویا ہماری خوش قسمتی تھی
دعا ہے کہ اپوا کے منتظمین اسی شوق لگن اور محنت سے اس ورکشاپ کا سالانہ اہتمام جاری رکھیں اور ہرسال ایک نئی جدوجہد اور پوری توانائی کے ساتھ متواتر یہ سلسلہ جاری وساری رہے تاکہ نئے لوگوں کو حوصلہ ملے وہ آگے آئیں اور علم وادب کی دنیا کو یونہی آباد رکھ سکیں
اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان
اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو
اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام
اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز
مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات
ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

