Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • غربت کی ماری عوام ، الیکشن کا ماحول؟ تجزیہ ، شہزاد قریشی

    غربت کی ماری عوام ، الیکشن کا ماحول؟ تجزیہ ، شہزاد قریشی

    وقت کی پابندی اس وقت پورے ملک میں کوئی اور انتظامی ادارہ ، بیورو کریٹ ، بیورو کریسی کے افسران ، ضلعی انتطامی کے محکمے ،پنجاب اور دیگر صوگوں میں تعینات اعلٰی افران کریں یا نہ کریں بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ مقررہ وقت پر کی جاتی ہے ۔ اربوں ڈالرز کے ہم مقروض ہیں ہمارے انتظامی افسران کا ٹھاٹھ باٹ دیکھنے والا ہے۔

    بدعنوانیوں کی کہانیاں انہی افسران کے دفاتر سے شروع ہوتی ہیں اور بدکردار سیاستدانوں کے محلوں تک پہنچتی ہیں۔ معاشرے کے ناسور کرپٹ ترین افسران بعض اوقات کرپشن کی تحقیقات کرتے نظر آتے ہیں۔ معاشی تاریکیوں کے بسرے نے پورے ملک کی عوام کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔غربت کے مارے عوام ہوش وحواس کھو بیٹھے ہیں۔ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے ۔ کون سی سیاست کیسی سیاست کون سی جمہوریت کیسی جمہوریت کون سا آئین ،کیسا آئین ۔ جو آئین موجود ہے سیاستدانوں نے اس آئین میں ایسے ایسے سوراخ کردئیے خدا کی پناہ ۔ جمہوریت کی شکل کو بگاڑ دیا ہے ۔ جمہور مسائل میں پھنسی ہے ۔ الیکشن قریب ہے۔ الیکشن کا اگر ماحول نہیں بن رہا تو سینہ کوبی کی ضرورت نہیں ۔ جن عوام نے ماحول بنانا تھا وہ دال روٹی کو ترس رہے ،بجلی گیس کے بلوں کو دیکھ کر خوفزدہ ہو رہے ۔ گھروں کا سامان فروخت کرکے بل ادا کررہے ہیں۔ سیاسی جماعتیں انتخابات کا اصرار تو کرتی ہیں معیشت کی بحالی کیسے ہو گی کیسے کریں گے کوئی سیاسی جماعت تادم تحریر عوام کو نہیں بتا سکی۔

    آج پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایک انتہائی اہم سیاسی رہنما نے بتایا کہ میاں محمد نواز شریف جلد ہی عوام کے سامنے اپنا منشور رکھیں گے جس مین سب سے اہم ملکی معیشت کی بحالی اور عوام کی بنیادی ضروریات زندگی شامل ہوں گی۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں ضرور وزارت اعظمیٰ کی دوڑ میں شامل ہوں مگر پاکستان کو ترقی یافتہ صف ممالک میں کھڑا کرنا بھی آپ کی ذمہ داری میں شامل ہونا چاہیئے ۔ مہنگائی ،بے روزگاری اپنے عروج کی طرف گامزن ہے لوگوں کی قوت خرید ختم ہو چکی ہے ۔ یاد رکھیئے چین۔ امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کے اپنے مفادات ہیں ہمیں اپنے ملک اور اپنی عوام کے مفادات سامنے رکھ کر سیاسی ڈگڈگی بجانا ہوگی۔ اپنے ملکی وسائل پر توجہد ینے کی ضرورت ہے ۔ برادریوں اور اپنے مفادات کی بنیاد پر ووٹ دینے والے عوام قوم کی امانت سمجھ کر ووٹ دیں قومی مفادات کو سامنے رکھ کر ووٹ دیں الیکشن ایک موقع ہے اپنی غلطیوں کا محاسبہ کریں۔(تجزیہ شہزادقریشی)

  • تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    نام کتاب : بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا
    مصنف : العربی بن رزوق
    صفحات : 382فور کلر آرٹ پیپر
    قیمت :2625روپے
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034
    پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین اسے یہودی عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں اس کے مقابلے میں مسلمان والدین اپنے بچوں کی تربیت اس احساس فرض کی وجہ سے کرتے ہیں کہ نئی نسل کی تربیت کا معاملہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک اس قدر اہم ہے کہ یہ فرض ادا کرنے والا شخص اپنے رب کے ہاں کبھی نہ ختم ہونے والے اجر و انعام پاتا ہے نئی نسل کی تربیت کے لیے ضروری ہے کہ بچوں کے اخلاق و کردار سنوارنے کے لیے ان میں دینی تعلیمات سے لگاؤ پیدا کیا جائے اس مقصد کے لیے بچوں کی ابتدا عمر ہی سے اچھی تربیت کی کوشش ضروری ہے کیونکہ عام اصول یہی ہے کہ بلند و بالا پکی عمارت بنانے کے لیے سب سے پہلے بنیادوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اسی احساس کے پیش نظر دارسلام نے بچوں کے لیے ابتدائی عمر ہی سے دینی و اخلاقی لٹریچر کی تیاری کا بھیڑا اٹھایا ہے اس سلسلے کے پہلے مرحلے میں اردو اور انگریزی زبان میں تو بات اشاعت کے بین ال بین الاقوامی معیار کے مطابق مختلف عمر کے بچوں کے لیے دلچسپ بامقصد اور دیدہ زیب لٹریچر تیار کیا جاتا ہے اسلامی تعلیمات پر مبنی دل نشین کہانیوں کی کتابوں کی تیاری کے ساتھ ساتھ نصابی اور دیگر مفید و معین کتب کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے اس مقصد کے لیے بچوں کی ذہنی و نفسیاتی کیفیات کا ادراک رکھنے والے دینی سوچ کے حامل ماہرین تعلیم کی خدمات حاصل کی گئی ہیں بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا اسی سلسلے کی نہایت اہم پیشکش ہے جسے ادارے کو پہلے انگریزی میں اور بات اذاں اردو میں تیار کرنے کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے اس میں حروف تہجی کے اعتبار سے بنیادی دینی تعلیمات اور اصطلاحات کو بچوں کی ذہنی سطح کے مطابق نہایت اسان اور عام فہم انداز میں تحریر کیا گیا ہے

    کسی بھی قوم کی بڑی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری اپنی نئی نسل کی تربیت ہے امت مسلمہ کے لیے یہ کام اور بھی زیادہ اہم ہے جو قومیں مادہ پرستانہ نقطہ نظر رکھتی ہیں ان کے لیے نئی نسلوں کی تربیت نسبتا اسان ہے انہیں صرف اتنا کرنا ہوتا ہے کہ مادی ضرورتوں کو پورا کرنے یا مادی اسائشوں کے حصول کی جو خواہش ہر انسان میں پائی جاتی ہے اس کو بنیاد بنا کر وہ علوم سکھانے کا انتظام کر دیں جو اس مقصد کے لیے معاون ہو سکتے ہیں ان کے برعکس اللہ تعالی نے امت مسلمہ کو یہ حکم دیا ہے کہ یہ دنیا محض ایک عارضی مرحلہ ہے ان کا اصل کام اپنی زندگی اور اپنی ساری صلاحیتوں کو چند روزہ تعینات کے حصول کے لیے ضائع کر دینا نہیں دنیا کی خوشحالی ان کی اصل جدوجہد کے ضمن میں خود بخود حاصل ہو جائے گی دنیاوی زندگی کے دوران میں ان کا اصل کام سب سے پہلے تو یہ سمجھنا ہے کہ اس ساری کائنات میں اصل اختیار کس کا ہے اس کو کس نے بنایا اور کس مقصد کے لیے بنایا ہے یہ سمجھنے کے بعد اس مختار مطلق کی مرضی کے مطابق اپنی دنیا کو نیکیوں بہلائیوں امن اور سلامتی سے معمور کر دینا ہے ہر صورت میں انہیں اپنا کردار بھلائیوں کی تقسیم کے حوالے سے ادا کرنا ہے دوسروں کی قیمت پر اپنا فائدہ ظلم نا انصافی وغیرہ ان قوتوں کے ایماں پر کی جاتی ہیں جو نبی بنی نوع انسان کے دشمن ہیں

    بازار بچوں کے لیے طرح طرح کی خوبصورت اور جاذب نظر کتابوں سے بھرے پڑے ہیں عام معلومات میں اضافے کی کتابوں سے لے کر مختلف علوم و فنون کے لیے انسائکلو پیریا تک اور سائنس سے لے کر قوموں اور نسلوں کی برتری کے پرچار سے بھرے ہوئے بچوں کے ناولوں تک لاکھوں کی تعداد میں کتابیں موجود ہیں ہر گلی کی ہر گلی کی کتابوں کی دکانوں میں ان کے ڈھیر لگے ہیں اگر دشوار ہے تو ایسی کتابوں کا ڈھونڈنا جو بچوں کو انسانیت کی سلامتی امن اور ہم اہنگی کہ ابدی ابدی اصولوں سے روشناس کرا سکیں جو انسانیت کی بھلائی کے ضامن دین کے بارے میں بچوں کو معلومات دے سکیں اللہ کا شکر ہے کہ دارالسلام اس مید ان میں بھی اپنے حصے کا کام کیے جا رہا ہے بچوں کے لیے انتہائی دیدہ زیب پاکیزہ اور دلچسپ کتابوں کی ایک سیریز ہے جن میں سے ہر بچے کی لائبریری سج جاتی ہے الحمدللہ یہ کتابیں ہماری نئی نسل کو محض روایتی مسلمان کی بجائے باشعور صحیح معلومات سے مزین پرعظم پرجوش اور انسانی خدمت اور بہرائی کا مخلصانہ احساس رکھنے والے نوجوانوں کی حیثیت سے پروان چردھانے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں

    یہ کتاب مسلمان بچوں کو اسلام کی بنیادی تعلیمات اور تصورات سے اگاہ کرنے کی ایک عمدہ کوشش ہے یہ حوالے کی ایک کتاب ہے جو بنیادی طور پر 10 سال اور اس سے کچھ زائد عمر کے بچوں کے لیے لکھی گئی ہے اس میں شامل موضوعات نہایت اسان اور سلیس زبان میں حروف تہجی کی ترتیب سے پیش کیے گئے ہیں یہ معلومات حوالہ درحوالہ کے طور پر اس طرح درج کی گئی ہیں کہ پڑھنے والے کو ایک متن سے دوسرے متن کی طرف جانے کی ترغیب ملتی ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد ان میں سے بہت سی بنیادی باتوں کو بھول چکی ہے اور یہ بھی ایک مسلمہ امر ہے کہ کچھ غیر مسلموں نے ان میں سے بعض تصورات کی غلط تاریخ پیش کر کے ان کے بارے میں الجھاؤ پیدا کیا ہے یہ کتاب نہ صرف توحید شرک ایمان اور احسان جیسی اصطلاحات کی تشریح کرتی ہے بلکہ مشہور و نام اور نامور انبیاء￿ و رسل کے حالات زندگی پر بھی روشنی ڈالتی ہے اس کے علاوہ اہم تقریبات مثلا عیدین وغیرہ ان کے منائے جانے کے فوائد نیز خلفائے راشدین کی مختصر سوانح حیات بھی اس کتاب میں شامل ہے جنہوں نے امت مسلمہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے اور تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں یہ کتاب اگرچہ مسلمان بچوں کے لیے مرتب کی گئی ہے لیکن بڑی عمر کے طلبہ و طالبات اور دیگر عقائد و مذاہب سے تعلق رکھنے والے شائقین مطالعہ بھی اس کے ذریعے سے اسلام کے بارے میں مستند معلومات حاصل کر سکتے ہیں اس سے ان کے ذخیرہ علم مزید اضافہ ہوگا اس کتاب میں پیش کردہ معلومات زیادہ تر قران مجید کی ایات اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مستند احادیث پر مبنی ہیں جب قران مجید کی کسی سورت کا حوالہ دیا گیا ہے تو اس میں سور? کا نام سور? نمبر اور ایت کا نمبر شمار بھی درج کیا گیا ہے

  • تھانہ کلچر کی تبدیلی اور آئی جی پنجاب کا کردار،تجزیہ: شہزاد قریشی

    تھانہ کلچر کی تبدیلی اور آئی جی پنجاب کا کردار،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سالوں پہلے ہر ضلع میں ایک ڈی آئی جی ،ایک ایس ایس پی ،ایک ایس پی ہیڈ کوارٹرز ہوا کرتے تھے آبادی کم تھی جرائم کم ہوا کرتے تھے ۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ہر ضلع میں پولیس افسران کی تعداد میں اضافہ ہو گیا جرائم بڑھ گئے ۔ منشیات فروش ،جگہ جگہ جوئے کے اڈے ،لینڈ مافیا کی اکثریت اپنے آپ کو مخیر حضرات کہلوانے لگی ۔ منشیات فروش اور جوئے کے اڈوں کی پشت پناہی نام نہاد سیاسی اور بعض پولیس کے افسران کرنے لگے ۔ افغان جہاد کے بدلے پاکستان میں کلاشنکوف بڑے بڑے شہروں میں پھیلائی گئی ہیروئن کا زہر نوجوانوں میں پھیلنے لگا۔دیکھتے ہی د یکھتے کلاشنکوف کلچر اور ہیروئن نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ مخیر حضرات ، سیاسی رہنمائوں ، دولت مندوں اور دیگر افراد نے اپنے ساتھ بڑی گاڑیاں اور مسلح افراد رکھنا شروع کردئیے ۔ شادی ،جنازوں میں اپنے ساتھ مسلح کلاشنکوف رکھنا ایک کلچر کا روپ اختیار کرگیا ۔حکومتوں کی لاپرواہی اور مہنگائی بے روزگاری نے چوریوں اور ڈکیتیوں میں اضافہ کردیا ۔ پولیس افسران سفارش پر تعینات ہونے لگے ۔ عام آدمی کی شنوائی نہ سرکار میں رہی اور نہ ہی دربار میں رہی ۔

    راولپنڈی سمیت پنجاب میں ایسے ایسے افسران گزرے جنہوں نے عام آدمی کی فریاد سننے کے لئے اپنے دفاتر کھلے رکھے ۔ ایسے بھی گزرے جنہوں نے عام آدمی سے ملنا گوارہ نہیں کیا ۔راولپنڈی میں رائو محمد اقبال ریٹائر ڈی آئی جی ۔ ناصر خان درانی (مرحوم) فخر سلطان راجہ موجودہ ایڈیشنل آئی جی کے پی کے ۔ احسن یونس موجودہ انچارج سیف سٹی پنجاب پولیس لاہور۔ اسرار عباسی موجودہ ڈی آئی جی ایف آئی اے ۔ جو راولپنڈی میں عام آدمی کے لئے کسی مسیحا سے کم نہیں تھے ۔۔ اسی طرح بہت سے دوسرے افسران ایسے ایسے راولپنڈی میں تعینات رہے جو عام آدمی کی فریاد خود سنتے تھے ۔اسی طرح پنجاب میں ایسے ایسے آئی جی تعینات رہے جنہوں نے پولیس ملازمین کے ساتھ ساتھ تھانہ کلچر تبدیل کیا .

    آج موجودہ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے پولیس شہداء ، غازی اور نچلے درجے کے ملازمین کے ساتھ تھانہ کلچر تبدیل کردیا۔ تھانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ آراستہ کیا ۔ آئی جی پنجاب نے ملاقات میں بتایا تھا کہ آج جو کچھ پنجاب پولیس شہداء ، غازیوں ،نچلے درجے کے ملازمین کے جو کچھ کر رہا ہوں اس کے لئے میری ٹیم کا کردار تو ہے ہی لیکن سب سے بڑا کردار احسن یونس ہیں ۔ راولپنڈی میں تعینات موجودہ سی پی او اور آر پی او کو آئی جی پنجاب نے نئے تھانے جدید آلات ، جدید ٹیکنالوجی فراہم کردی ہے۔ عام آدمی کے لئے اپنے دروازے کھلے رکھیں ۔ سالوں سے تعینات ایسے پولیس افسران جو بار بار راولپنڈی میں ہی سفارشی تعینات ہونے میں اپنی بقا سمجھتے ہیں اُن پر نظر رکھیں ۔ اہل اقتدار سفارشی تعیناتی سے باز رہیں ۔ پولیس افسران سیاسی آقائوں کی خدمت داری حکم بجا آوری میں ہمہ تن مصروف نہ رہیں ۔ عام آدمی کا سٹیٹ پر اعتماد بحال کرنے میں کردار ادا کریں۔ راولپنڈی حساس ترین شہر ہے یہاں ہمارے قومی سلامتی کے ادارے موجود ہیں ۔ قومی سلامتی کو مد نظر رکھتے ہوئے قومی فریضہ ادا کریں ۔ جہاں عوام الناس کے حقوق کی حفاظت ہوتی ہے وہاں پر جرائم سے پاک معاشرہ قائم رہتا ہے۔

  • تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    نام کتاب : خواتین کے امتیازی مسائل
    نام مﺅلف : مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم
    صفحات : 241
    قیمت : 1075روپے
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور
    زیر نظر کتاب” خواتین کے امتیازی مسائل “یہ اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن ہے ۔اپنے مضامین کے اعتبار سے یہ کتاب بہت اہمیت کی حامل ہے ۔ اسلئے کہ معاشرے کی تعمیر اور اصلاح میں خواتین کا کردار بہت اہم ہے ۔ خواتین کی تربیت صحیح ہوگی تو فرد اور معاشرہ درست بنیادوں پر استوار ہوگا ۔اسلام نے خواتین کی تعلیم وتربیت کے سلسلہ میں ہماری ہر پہلو سے رہنمائی کی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم اسلام کی تعلیمات سے بے بہرہ ہوچکے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں گذشتہ تین چار سالوں سے ” عورت مارچ “ کے نام پر طوفان بدتمیزی برپاکیا جارہا ہے ۔ اس موقع پر ایسے ایسے نعرے لگائے جاتے اور پوسٹر لہرائے جاتے ہیں کہ الامان والحفیظ ۔ان حالات میں ” دارالسلام “انٹرنیشنل نے اسلام کی عفت ماٰ ب ماﺅں ، بہنوں اور بیٹیوں کےلئے اس بات کی ضرورت محسوس کی کہ ” خواتین کے امتیازی مسائل “ کا دوسرا ایڈیشن شائع کیاجائے ۔یہ کتاب معروف عالم دین ، مفسر قرآن اور اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق ممبر حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم کی تالیف ہے ۔ یہ کتاب حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم کے خواتین کے مسائل کے متعلق مختلف اوقات میں تحریر کیے گئے علمی اور تحقیقی مضامین کا مجموعہ ہے۔ ان میں سے ہر مضمون کی اپنی اہمیت ہے جو کہ لائق مطالعہ ہے ۔ مثلاََ ”عورت کی سربراہی کا مسئلہ “ یہ مضامین اس وقت تحریر کئے گئے تھے جب بے نظیر پہلی دفعہ پاکستان کی وزیراعظم بنیں ۔اسی طرح جنرل ضیاءالحق کے دور میں جب حدود و قصاص کا آرڈیننس نافذ کیا گیا جس میں شریعت کے عین مطابق عورت کی گواہی کو مرد کی گواہی کے مقابلے میں نصف قرار دیا گیا تو مغرب زدہ طبقے نے اس کے خلاف بہت شور مچایا اور اسے عورت کی توہین قرار دیا یہاں تک کہ اس آرڈیننس کو شرعی عدالت میں چیلنج کر دیاگیا ۔ اس وقت شرعی عدالت کی درخواست پر محترم حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم نے ایک مفصل مقالہ تحریر کیاتھا اس کا ایک حصہ بھی اس کتاب میں شامل ہے۔ 1976 ءمیں مسٹر بھٹو کے دور حکومت میں قائم کردہ ایک خواتین کمیشن کی تجاویز پر تبصرہ بھی اس کتاب میں شامل ہے۔ اسی طرح پرویز مشرف کے دور میں حدود آرڈیننس کا تیاپانچہ کر کے جو تحفظ حقوق نسواں ایکٹ نافذ کیا گیا اس کی حقیقت بھی کتاب میں واضح کی گئی ہے۔ امریکہ میں وقوع پذیر ہونے والے فتنہ امامت ِ زن پر بھی تبصرہ ہے جو اسلامی تاریخ میں پہلی مرتبہ مغربی استعمار کی سازشوں کے نتیجے میں ظہور میں آیا ہے۔

    علاوہ ازیں کتاب میں درج ذیل موضوعات پر گفتگو کی گئی ہے : اسلام میں عورت کا مقام ، عورت کے شرف وتحفظ کےلئے اسلام کی تعلیمات ،شادی سے قبل اور شادی کے بعد عورت کا مقام ومرتبہ ، عورت اور مرد کا دائرہ کار ، معاشی کفالت کا ذمہ دار کون ۔۔۔۔مرد یا عورت ؟ عورت کےلئے پردے کا حکم ، وراثت میں عورت کا حصہ ، مرد کو ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت کیوں ۔۔۔۔؟ مرد کا حق ِ طلاق اور اس کی حکمتیں ، مسئلہ شہادت ِ نسواں ، عورت خانگی امور اور پرورش ِ اولاد کی ذمہ دار ، تربیت اولاد میں عورت کا کردار ، عورت کےلئے پردے کے احکام وآداب ، بے پردگی کی مختلف شکلیں ، شادی بیاہ میں ویڈیو اور حسن وجمال کی نمائش کی وبا ، کن کن لوگوں سے پردہ ضروری ہے ۔۔۔۔؟ مثالی مسلمان عورت کی صفات ، عورت کےلئے کرنے والے اہم کام ، وہ کام جن سے اجتناب کرنا عورت کےلئے ضروری ہے ، عورت اور تعلیم ، لاکھوں بے روزگار مردوں کی موجودگی میں عورت کی ملازمت کا کوئی جواز نہیں ہے ، خاوند کی ناشکری ایک بڑاجرم اور اس کا نبوی حل ، رہن سہن میں نازونعمت کی بجائے تواضع اور سادگی پسندیدہ عمل ہے ۔۔۔۔” قوم کی نصف آبادی بیکار “ کا نعرہ ۔۔۔۔افسانہ ہے یا حقیقت ۔۔۔۔۔؟ عورت اور سیاست ، مسلمان خواتین کے حل طلب ضروری مسائل کی ایک فہرست ، اسلام میں عورت کی سربراہی کا تصور ، جنگ جمل میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے کردار سے عورت کی سربراہی کا استدلال ۔۔۔۔! قرآن کریم میں ملکہ بلقیس کے ذکر سے استدلال ، قرآن کریم میں عورت کی سربراہی کے عدم جواز کے دلائل ، بعض مسلمان عورتوں کی حکمرانی کی حقیقت ، غزوات میں عورتوں کی سربراہی کی حقیقت ! عورت اقبال کی نظر میں ، عورت کی عفت وپاکیزگی کا مفہوم ، عورت اور مسئلہ ولایت ِ نکاح ، مرد کےلئے تعدد ازدواج اور اس کی حکمتیں ، عورت بیک وقت ایک سے زیادہ نکاح کیوں نہیں کرسکتی ۔۔۔۔؟ عورت کو اللہ تعالیٰ نے طلاق کا حق کیوں نہیں دیا ۔۔۔۔؟ عورت کا حق خلع اور اس کے مسائل ، عورت کا مسئلہ شہادت ، مرد کے مقابلے میں عورت کا نصف حصہ ِ وراثت کیوں ۔۔۔۔۔؟ مرد اور عورت کی نماز کا فرق ، مطلقہ کےلئے نان ونفقہ ۔۔۔۔؟ تربیت اطفال کے ادارے ،عورت کے حقوق کا تحفظ اسلامی تعلیمات کے ذریعے ہی ممکن ہے ، قانون الہیٰ سے انحراف سراسر تباہی کا راستہ ہے ، خاندانی نظام کی تباہی ، بن بیاہی ( کنواری ماﺅں ) کا طوفان ۔۔۔۔ ان جیسے دیگر موضوعات کو کتاب میں زیر بحث بناگیا ہے اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اپنے موضوع پر یہ نہایت ہی شاندار اور لاجواب کتاب ہے ۔یہ کتاب ہر گھراور ہرفرد کی ضرورت ہے ۔۔۔ہماری ہر قابل احترام ماں ، بہن یا بیٹی سب کےلئے اشد ضروری ہے کہ وہ اس کتاب کا مطالعہ کریں ۔ جو بہن بیٹی اس کتاب کا مطالعہ کرلے وہ زندگی کے کسی درجے کسی مرحلے اور عمر کی کسی بھی سطح پر کسی بھی معاشی یا معاشرتی پریشانی کا شکار نہیں ہوگی ان شاءاللہ ۔

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

  • آٹھ فروری،فیصلہ کرے گی عوام،تجزیہ: شہزاد قریشی

    آٹھ فروری،فیصلہ کرے گی عوام،تجزیہ: شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    آیئے آپ کا انتظار تھا۔ 8 فروری بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ، مہنگائی، بنیادی ضروریات زندگی سے کوسوں دور عوام کے پاس سیاسی جماعتوں کے نامزد کردہ امیدوار دوبارہ ووٹ لینے کی غرض سے حاضر ہوں گے۔ کون کرے گا وزیراعظم ہائوس پر قبضہ، کون سی سیاسی جماعت عام آدمی کے مسائل اور ریاستی مسائل کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی؟ یہ بات تو طے ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت دو تہائی اکثریت حاصل نہیں کر پائے گی ۔ موجودہ 8 فروری کے الیکشن صرف الیکشن نہیں ہیں ملکی اور قوم کے لاتعداد مسائل کے ساتھ جمہوری نظام کی بقا کے ساتھ ساتھ عالمی معاملات میں ملکی قیادت کا بھی معاملہ ہے کون کرے گا قیادت؟ یہ فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔ ملکی معیشت کا جو حال ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ ملک کو بے پناہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ کس سیاسی جماعت پر بھروسہ کیا جائے جو مسائل میں ڈوبی ریاست کو اندھیروں میں ڈوبی عوام کو روشنیوں کی طرف لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    ملک کی تمام سیاسی جماعتیں 8 فروری کا انتظار کر رہی ہیں اور عوام بھی۔ امید ہے عوام لینڈ مافیا، کرپٹ، جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کرنے والے تکبر اور غرور کی حدوں کو کراس کرنے والوں، سیاسی جماعتوں کے فنانسروں کو ووٹ نہیں دیں گے۔ قوم نے فیصلہ کرنا ہے کہ قومی قیادت کس کے سپرد کرنی ہے ایسی قیادت کا فیصلہ نہ کرنا جو دیوان خانوں تک محدود ہو یا اقتدار کی چوکھٹ پر بیٹھ کر اقتدار کے مزے لوٹے اور عوام اندھیروں میں ہی ڈوبے رہیں۔ قیادت کے ذریعے ہی تبدیلی ممکن ہوا کرتی ہے اعلیٰ قیادت کا انتخاب ہی تبدیلی لاسکتا ہے باقی سب فریب ہے۔

  • انتخابات اور عالمی منظر نامہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    انتخابات اور عالمی منظر نامہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    پاکستان ہی نہیں امریکہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں جیسے جیسے انتخابات کی تاریخ نزدیک آرہی ہے دھڑکنیں بھی تیز ہو رہی ہیں۔ پوری دنیا کا ووٹر انتخابات کا منتظر ہے جبکہ پوری دنیا کی معیشت پر گزشتہ سال جو اثرات پڑے ہیں ایک کرونا دوسرا روس ہیو کرائن جنگ جبکہ تیسرا اسرائیل غزہ جنگ نے پوری دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ دنیا کا ووٹرز منتظر ہے کہ شاید موجودہ سال کے انتخابات میں کامیاب ہونے والے سیاستدان معیشت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ دنیا بھر کا ووٹر مہنگائی کی زد میں ہے ۔ سب سے زیادہ دیکھا جانے والا انتخاب امریکہ کا ہوگا 81 سالہ بائیڈن دوبارہ صدارتی انتخابات کا امیدوار ہے جبکہ روس صدر پوتن بھی صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ہیں پوتن مضبوط ترین امیدوار ہیں۔ بھارت، بنگلہ دیش، جنوبی افریقہ ، میکسیکو ، انڈونیشیا اور دنیا کے دیگر ممالک میں بھی عام انتخابات ہو رہے ہیں۔ اس طرح 2024 کو انتخابات کا سال قرار دیا جا سکتا ہے اور سیاست کے ساتھ معیشت مستحکم کرنے کا سال بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ دنیا کے موجودہ انتخابات نہ صرف سیاست بلکہ بین الاقوامی تعلقات عالمی اقتصادی اور مالیاتی منظر نامے کو بھی تبدیل کریں گے۔

    پاکستان کی وزارت عظمی حاصل کرنے کے لئے مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی دونوں شامل ہیں۔ جبکہ پی ٹی آئی اور مذہبی جماعتیں بھی اس دوڑ میں شامل تو ہیں مگر 8 فروری کے انتخابات میں عوام جو مہنگائی اور دیگر مسائل میں مبتلا ہیں کس جماعت کو اکثریت میں کامیاب کریں گے۔آصف علی زرداری سیاسی شطرنج کھیلنے کے لئے تو ماہر ہیں مگر پنجاب میں شاید وہ کامیاب نہ ہو سکیں۔ پنجاب میں اب (ن) لیگ ہی نہیں پی ٹی آئی کا ووٹر بھی موجود ہے ۔ بظاہر کوئی بھی سیاسی جماعت ملک بھرمیں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گی ۔ مذہبی اور دیگر چھوٹی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے میں کامیاب ہوگی۔

    تادم تحریر ملک مالیاتی بحران کا شکار ہے دوسرے کئی مسائل کے گرداب میں پھنسا ہے۔کیا بلاول بھٹو یا نواز شریف ان مشکل ترین حالات جن میں پاکستان او رعوام پھنسے ہیں نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ مسلم لیگ(ن) کا دعویٰ ہے کہ نواز شریف کے انتخابات جیتنے اور وزیراعظم بننے کے امکانات قوی ہیں۔ کیا نواز شریف اندھیروں میں ڈوبے پاکستان اور عوام کو روشنیوں کی جانب لے جانے میں ایک بار پھر کامیاب ہو جائیں گے اگر ایسا ہے توپھر ویلکم ٹو نواز شریف2024

  • تبصرہ کتب، جنوں اور شیطانوں کی دنیا،جادو کی حقیقت

    تبصرہ کتب، جنوں اور شیطانوں کی دنیا،جادو کی حقیقت

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا
    جادوکی حقیقت
    خطرات ،احتیاطی تدابیراورعلاج
    مصنف : غازی عزیز مبارک پوری
    صفحات : 392
    قیمت : 1000روپے
    ناشر : دارالسلام انٹر نیشنل ،نزد ایکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال ، لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034
    دارالسلام کی شائع کردہ پیش نظر کتاب” جنوں اور شیطانوں کی دنیا ، جادوکی حقیقت ، خطرات ، احتیاطی ، تدابیر اور علاج “ ایک انتہائی موضوع پر لکھی گئی ہے۔ برصغیر میں جادو کا وجود ہمیشہ سے لوگوںکی توجہ کا مرکز رہا ہے ۔ بنگال کا کالا جادو تو پوری دنیا میں آج بھی اپنا ایک امتیازی مقام رکھتا ہے ۔چونکہ پاکستان بھی ہندوستان کاحصہ رہاہے اس لئے یہاں بھی جادوکی تمام اقسام پائی جاتی ہیں ۔یہ جادو پہلے زیادہ تر غیر مسلم طبقہ تک ہی محدود تھا لیکن آج جادو کی وبا مسلم طبقہ میں بھی تیزی سے پھیلتی جارہی ہے ۔ ہر روز مسلم گھرانوں میں کوئی نیا واقعہ ہوتا اورسننے میں آتا ہے۔ باہمی رشتے داریاں اعتماد اور قربت کی بجائے نفرت ، بغض اورعداوت میں بدلتی جارہی ہیں ۔ کوئی جادو کے زور پر کسی کا کاروبار بگاڑنے اور باندھنے کے در پے ہے تو کوئی باپ کو بیٹے سے متنفر کرنے کے لیے کوشاں ، کوئی شوہر اور بیوی کے درمیان اختلافا ت پیدا کرنے کی فکر میں ہے ، تو کوئی خاندانی تنازعات کو بھڑکانے میں مصروف ہے اور ان تمام کاموں کو سر انجام دینے کے لیے شیطان نما عاملوں او رجادو گروں کی خدمات لینے میں قطعاََ کوئی تر دد نہیں کیاجاتا۔ ہمارے ملک میں بے حددکھ بھری اور افسوسناک صورتحال دیکھنے میں آئی ہے۔ تہذیب و تمدن اوراخلاقیات سے عاری ننگ دھڑنگ، بے عمل اور بے دین لوگوں نے جگہ جگہ سادہ ، معصوم اور ضعیف العقیدہ لوگوں کو لوٹنے اور ان کے خون پسینے کی کمائی اینٹھنے کے لیے پھندے لگا رکھے ہیں ۔ لوگوں کو ان پھندوں میں پھنساکر نہ صرف ان کی جیبیں مختلف حیلوں بہانوں سے خالی کروائی جاتی ہیں بلکہ ان کی بہو بیٹیوں کی عصمت دری بھی کی جاتی ہے ۔

    ان حالات میں ایسی کتاب کی اشدضرورت تھی جو مسلمان گھرانوں کو جادو گروں، کا ہنوں اور جنات و شیاطین کے شرسے محفوظ فرمائے اورمعصوم لوگوں کو دھوکہ بازوں اور شعبدہ بازوں کے چنگل میں بھی پھنسنے سے بچائے۔زیرنظرکتاب ”جنوں اورشیطانوں کی دنیا،جادوکی حقیقت ،خطرات ،احتیاطی تدابیراورعلاج کتاب وسنت کی روشنی میں “ کے مصنف غازی عزیز مبارک پوری ہیں ان کاتعلق سرزمین ہندوستان سے ہے ۔انہوں نے زیرنظرکتاب عربی زبان میں لکھی تھی ۔کتاب کی عوام و خواص میں مقبولیت کا اندازہ اس امر سے کیا جاسکتا ہے کہ یہ کتاب تقریباََ تمام عرب، بالخصوص خلیجی ، ممالک کے طول و عرض میں بکثرت تقسیم ہوئی اور صرف چار ماہ کی قلیل مدت میں اس کا پہلا ایڈیشن ختم ہو گیا ۔عربی زبان میں کتاب کی اشاعت و تقسیم اور پذیر ائی کے بعد سے متعدد حلقوں کی طرف سے مسلسل اصرار تھا کہ اس کتاب کا اردو اورانگریزی زبانوں میں بھی ترجمہ کیاجائے تاکہ اردوداں طبقہ بھی اس سے مستفیدہوسکے ۔

    کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے : پہلا باب جادو کی حقیقت ، اس کا حکم اور اس کے خطرات پر مشتمل ہے ، دوسرا باب : جنوں اور شیاطین کے احوال اور خطرات کے تعارف سے متعلق ہے ، تیسرے باب میں جنوں اور شیطانوں سے مقابلہ کے لیے مومنین کے ہتھیار اور بعض احتیاطی تدابیر بیان کی گئی ہیں ، چوتھا باب جنوں کی آسیب زدگی اور جادو سے خلاصی ، بعض دیگر احتیاطی تدابیر اور ان عوارض کے علاج سے متعلق ہے اور پانچویں باب میں بر صغیر میں رائج جادو وغیرہ سے احتیاط اور علاج کے بعض غیر شرعی طریقوں پر بحث کی گئی ہے ۔کتاب کی تربیت میں واقعات اورحادیث کی صحت کا بھی خصوصی لحاظ رکھا گیا ہے ۔اس قابل قدر کتاب میں مولانا عزیز مبارکپوری نے جادو ‘ کہانت اور علمِ نجوم کی حرمت نیز اسلام میں ایسے افعال کے مرتکبین کے بارے میں قرآن و سنت کی روشنی میں احکامات پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ۔ ایک مسلمان گھرانہ جنوںکی آسیب زدگی اور جادو کے اثرات سے کیسے محفوظ رہ سکتا ہے ؟ رشتے داریوں کوٹوٹنے بکھرنے سے کیسے بچایاجاسکتاہے ؟فاضل مﺅ لف نے قرآن وحدیث کی روشنی میں ان تمام مسائل کے حل بتلانے کے ساتھ ساتھ بر صغیر میں رائج جادو اور آسیب وغیرہ سے بچاﺅ اور علاج کے بعض غیر شرعی طریقے بتلا کر نا م نہاد فقیروں پیروں اور شعبدہ بازوں کی حقیقت سے بھی پردہ اٹھایاہے۔

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

  • انتخابات ،کیا عوام کو ریلیف مل پائے گا؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    انتخابات ،کیا عوام کو ریلیف مل پائے گا؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    الیکشن 8 فروری کو ہی ہونگے ۔ الیکشن نہ ہونے کی افو اہیں ،سیاسی جماعتیں اور وہ سیاستدان کرر ہے ہیں جو اس کارکردگی سے مایوس ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا الیکشن کے بعد ملک کی موجودہ شکل صورت تبدیل ہوگی ؟کیا معیشت مستحکم ہوگی ؟ کیا روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ۔ کیا زراعت پربھرپور توجہ د ی جائے گی؟ کیا ملکی وسائل پر توجہ دی جائے گی ؟

    عوام کو بڑی اٰمیدیں ہیں کہ موجودہ الیکشن صحیح معنوں میں اس ملک اور عوام کو درپیش مسائل سے نجات دیگا۔ کیا بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ سے نجات ملے گی ’ تاہم وہ ساری قیاس آرائیاں دم توڑتی نظر آرہی ہیں۔جن میں کہا جا رہا تھا کہ الیکشن ملتوی ہو جائیں گے۔مسلم لیگ (ن) ،پیپلزپارٹی، سمیت مذہبی جماعتوں نے الیکشن مہم کا آغاز بھی کردیا ہے بلکہ زوروشور سے جاری ہے۔ میاں محمد نواز شریف نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو ملکی معیشت کو پروان چڑھانے کے لئے ٹاسک دے دیا ہے ۔ الیکشن میں کامیابی کے بعد عام آدمی کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے منصوبے پر غورو فکر کیا جا رہا ہے ۔ پیپلزپارٹی نے بھی اپنا منشور جاری کردیا ہے جبکہ پی ٹی آئی بھی میدان میں ہے ۔ مذہبی جماعتیں بھی اپنا اپنا منشور مل کر عوام میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

    آج کے دور میں نظریاتی سیاست کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ نظریاتی سیاست کا جنازہ کب کا اُٹھ چکا ہے ۔ اس کا ادراک سیاسی جماعتوں اور عوام کی اکثریت کو بھی ہے ۔ اس وقت عوام کی اکثریت کی نگاہیں اپنے بنیادی مسائل اور8 فروری کے انتخابات پر ہیں ۔ گزشتہ کئی سالوں سے عوام کا سیاست کی سموگ سے دم گھٹ رہا تھا اب انتظامیہ کی غفلت اور لاپرواہی سے پنجاب کے بڑے اور چھوٹے شہر گندگی کے ڈھیروں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ سموگ نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے لاہور سمیت زہر آلود اشیاء جلانے والی فیکٹریوں کے مالکان ، عالمی مرتبت ،عزت دار ، پرہیز گار اور مخیر حضرات کو اپنی تجوریوں کی تو فکر ہے مگر مخلوق خدا کس کرب میں مبتلا ہے ۔ اس کی فکر نہیں۔ مضر صحت اشیاء کی فروخت ، جعلی ادویات ،جعلی مشرویات ،جعلی دودھ ، یہ وہ کاروبار ہیں جو مخیر حضرات کے حصے میں ہیں جنہیں انسانی جانوں کی پروا نہیں عوام آلودگی اور سموگ کو اپنے پھیپھڑوں کے ذریعے اپنے اندر سمونے پر مجبور ہیں۔زہریلے دھوئیں چھوڑنے والی گاڑیاں سڑکوں پر ٹریفک کے اعلیٰ حکام کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ سیاست اور صحافت کے موضوعات عوام نہیں سیاسی لڑائیاں ہیں۔

  • ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

    انسان کی زندگی میں کچھ لمحے، کچھ واقعات ایسے یادگار ہوتے ہیں جو اگرچہ لوٹ کر نہیں آتے مگر وہ دل و دماغ پر ایسے نقش ہوجاتے ہیں کہ انسان ان کے سحر میں تادم مرگ جکڑا رہتا ہے۔ آل پاکستان رائٹز ویلفیئرایسوسی ایشن(اپووا) کے بانی وصدر ایم ایم علی نے مجھے دعوت دی کہ اپووا خواتین ونگ کی گورنر ہاوس میں محترم گورنر محمد بلیغ الرحمان صاحب کے ساتھ میٹینگ ہے تو کیا آپ آسکتی ہیں؟ اندھے کو کیا چاہئے دو آنکھیں۔ میرے لئے تو بہت اعزاز کی بات تھی۔ میں نے فورا ًاوکے کیا اور دن گننے شروع کردیئے کہ کب وہ دن آئے گا؟ نا سردی کی پرواہ نا ہی بیماری، بچے اور میاں جی ہنس رہے تھے کہ جی اب تو گھٹنے بھی ٹھیک ہو گئے ہیں۔میں ان کی باتوں کو انجوائے کرتی لاہور پہنچ ایک دن پہلے ہی لاہور پہنچ گئی۔ رات خوشی کے مارے نیند ہی نا آئی، صبح سویرے اٹھ گئی ساتھ ہی بیٹے ڈاکٹر محمد عمر کو بھی اٹھا دیا کہ دو بجے سے پہلے پہنچنا ہے گورنر ہاوس۔قصہ مختصر! دوپہر دو بجے سے بھی پہلے میں گورنر ہاوس لاہور کے گیٹ پر تھی دور جو نظر پڑی تو کچھ خواتین مجھ سے بھی پہلے موجود تھیں اس چمکیلی سی دوپہر میں جیسے ہی میں اندر داخل ہوئی تو میری سوچ کی پرواز آج سے 40 سال پہلے پشاور کے گورنر ہاوس میں پہنچ گئی جب میں فرسٹ ایئر کی سٹوڈنٹ تھی میٹرک میں ضلع پشاور میں ٹاپ کیا تھا اور اس وقت کے گورنر جناب فضل حق (مرحوم) صاحب نے پہلی بار تمام ٹاپرز کو بلوایا اور انعامات سے نوازا (ابھی تک اس تقریب کے سحر میں تھی) یہ 1983 کی بات ہے اور اب دسمبر 2023 میں وہ بچی ٹھیک 40 سال بعد گورنر ہاوس لاہور میں کھڑی تھی اور کبھی سوچا ہی نا تھا حد سے زیادہ خوشی تھی۔پورے دو بجے اپووا صدر ایم ایم علی،صدر خواتین ونگ اپووا ثمینہ بٹ،اورایڈیشنل جنرل سیکریٹری مدیحہ کنول کی قیادت میں ہم سب کانفرنس روم میں پہنچے، وہاں چائے کے ساتھ دیگر لوازمات سے تواضع کی گئی،

    punjab

    کچھ دیر بعد محترم جناب گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان صاحب تشریف لائے اور تمام شرکاء کو بہت عزت و احترام سے، نہایت خوشدلی سے خوش آمدید کہا۔۔صدر خواتین ونگ ثمینہ طاہر نے تنظیم کی مجموعی کارکردگی پر بریف دیا جبکہ ایڈیشنل جنرل سیکریٹری مدیحہ کنول نے تنظیم کا تفصیلی تعارف پیش کیا اس کے بعد تمام لکھاریوں سے تعارف ہوا جسے بہت دلچسپی سے گورنر صاحب نے سنا اور مجھ ناچیز کو اسپیشل پشاور سے آنے پر بہت سراہا تعارف مکمل ہونے کے بعد انہوں نے ہمیں گورنر ہاوس کی تاریخ کے بارے میں کافی تفصیل سے آگاہ کیا۔ گورنر ہاوس پنجاب کی تاریخ سوا چار سو سال پرانی ہے یہ 700 کنال پر پھیلا ہوا ہے،اکبر بادشاہ نے 1600میں یہاں اپنے کزن (چچا زاد بھائی) قاسم خان کا مقبرہ تعمیر کروایا جو اس کی بیسمینٹ میں آج بھی موجود ہے بعد میں سکھوں اور انگریزوں نے اس پر قبضہ کیا اور انگریزوں کے ہی دور میں اس عمارت کو گورنر ہاوس کا درجہ دیا گیا۔ گورنر پنجاب جناب محمد بلیغ الرحمان صاحب نے سیاحت کے عالمی دن کے موقع پر گورنر ہاوس لاہور میں گایئڈڈ ٹور کا افتتاح کیا اور مزید بتایا کہ یہ ایک تاریخی عمارت اور قومی ورثہ ہے اس میں قائداعظم محمدعلی جناح بھی بطور گورنر جنرل ٹھہر چکے ہیں۔اس میں قائد، ملکہ وکٹوریہ اور دیگر شخصیات کے کمرے بھی موجود ہیں جہاں انہوں نے قیام کیا تھا۔سکولوں، کالجوں کے طلباء، عام عوام،ملکی و غیر ملکی سیاح سب گایئڈڈٹورز سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں یہ سب عالمی معیار کا ہوگا اور لوگوں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔استاد اللہ بخش کی شاہکار پینٹنگز بھی یہاں موجود تھیں جنہیں گورنر صاحب نے اکٹھی کرکے کمروں میں تزیئن و آرائش کے لئے استعمال کیا استاد اللہ بخش کی تصاویر مصوری کا نایاب شاہکار ہیں ان کا استاد کوء نہیں تھا ان کی ایک پینٹینگ 1 ملین میں فروخت ہوئی نامور مصور چغتائی کے بارے میں بھی بتایا۔

    punjab

    گورنر صاحب نے تمام لکھاریوں، صحافیوں، شعراء کی کاوشوں کو سراہا، ان کا کہنا تھا کہ عام آدمی کی نسبت لکھاری زیادہ حساس ہوتا ہے اگر وہ حساس نا ہو تو کبھی لکھ نا پائے لیکن جو بھی لکھیں بغیر تحقیق کے نا لکھیں کبھی بھی سنی سنائی بات کو آگے نا پہنچایئں کہ اس سے معاشرے میں بہت خرابی پھیلتی ہے اور کچھ ہی دیر جھوٹی خبر ایسے پھیلتی ہے کہ وہ سچ لگتی ہے خود بھی اس پر عمل کریں اور دوسروں کو بھی اس بات کا احساس دلایئں کہ اس سے معاشرے میں خرابی پھیلتی ہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق کسی قوم کو ناکام کرنا ہو تو اسے مایوس کردو اور آج کل ہماری نوجوان نسل میں بہت مایوسی پھیلائی جارہی ہے آپ جو بھی لکھیں اس سے صرف مایوسی یا پریشانی نا بتائیں بلکہ اس کے پازیٹیو اور نیگیٹو دونوں پہلو لکھیں صرف نیگیٹیو لکھیں گے تو پڑھنے والا مایوس ہوگا ملکی معشیت کے پہلووں پر بھی روشنی ڈالی گئی نوجوانوں کی تعلیم و تربیت بارے بھی گفتگو ہوئی ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کی تعلیم وتربیت ایسی ہو کہ ان کو خرابی کی پہچان ہو تاکہ وہ اپنی اصلاح کر سکیں مایوسی بہت بڑی خرابی ہے اور نوجوانوں کو اس سے باہر نکالنا ہوگا جو اچھائیاں ہیں ان کی قدر کریں ان پر شکر کریں اور مایوس ہونا چھوڑ دیں۔پھر مادری زبان میں تعلیم،عربی اور ناظرہ کی تعلیم پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے حوالے سے بھی تعلیم اور قومی زبان میں تعلیم پر گفتگوہوئی اس گفتگو میں، نوجوانوں کے حوالے میں نے بھی ایک عرض پیش کی کہ نوجوان طبقہ ڈپریسڈ ہے بیروزگار ہے اور میری درخواست ہے کہ خاص کر فارن گریجویئٹیس کے لئے کچھ کریں یہ صرف ایک میری آواز نا سمجھیں یہ ان ہزاروں ماوں کی اور ان نوجوان ڈاکٹرز کی آواز سمجھیں جو باہر سے پڑھ کر آئے ہیں ان کو جابز نہیں تو کم از کم لائسسنس ایشو کر دیئے جائیں تاکہ گھر کے کسی کمرے میں ہی کلینک بنا لیں کچھ تو کرسکیں اس بارے میں بھی گورنر صاحب کی مشکور ہوں کہ انہوں نے توجہ سے سنااور تمام سوالات کے مفصل جوابات بھی دیئے اور تمام مسائل کے تدارک کے لئے اقدامات کرنے کا عہد بھی کیا میٹینگ اور گفتگو اتنی دلچسپ تھی کہ وقت کا پتہ ہی نا چلا اور آدھے گھنٹے کی بجائے دورانیہ ڈیڑھ سے دو گھنٹے تک چلا گیا۔

    دل تھا کہ یہ ابھی کچھ دیر اور جاری رہتی کیونکہ ایسے خوبصورت مواقع، یادگاری لمحے زندگی میں قسمت سے کبھی کبھار ہی ملتے ہیں آخر میں گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان صاحب نے وفد کے تمام اراکین کو یادگاری سرٹیفیکیٹس سے اور خوبصورت قلم و تحائف سے نوازا، مصنفین نے اپنی کتابوں اور رسائل کا تحفہ گورنر صاحب کو پیش کیا اختتام پر گروپ فوٹو کے بعد گورنر صاحب کے حکم پر وفد کو تاریخی گورنر ہاوس کا تفصیلی ٹور بھی کروایا گیا جو میں بوجہ اپنی صحت نا کرسکی اور دور کھڑی سب کو دیکھ رہی تھی اور سوچ میں وہ بچی تھی جس نے 83 میں گورنر ہاوس پشاور کا کونا کوناایسے بھاگ بھاگ کر دیکھا تھا اور آج؟ پھر اللہ پاک ہزاروں بار شکر ادا کیا کہ جس نے آج یہ موقع دیا کہ جس عمارت کے اندر چڑی بھی پر نہیں مار سکتی وہاں آکر بیٹھنا، گفتگو کرنا، اتنی عزت افزائی یہ سب کیا کسی نعمت سے کم ہے۔۔؟ سب دوستوں سے اجازت لی اور بیٹے کے ساتھ گھر کو روانہ ہوء بہت سی حسین اور خوشگوار یادوں کے ہمراہ۔۔ ابھی پشاور کو جاتے ہوئے راستے میں اس خوبصورت اور یادگار دن کو قلمبند کررہی ہوں اور آخر میں گورنر جناب محمد بلیغ الرحمان صاحب کی بے حد ممنون ومشکور ہوں جنہوں نے اپنے قیمتی وقت سے ہمیں اتنا وقت، اتنی عزت اتنا مان دیا۔۔ اپووا کی تمام ٹیم کی شکرگزار ہوں۔۔ اللہ پاک ہم سب کو سلامت رکھے صحت اور ایمان کی سلامتی کے ساتھ آمین ثم آمین
    punjab

  • محکمہ بہبود آبادی،عوامی آگاہی کیلئے مسلسل مصروف عمل،تحریر:صباءفاروق

    محکمہ بہبود آبادی،عوامی آگاہی کیلئے مسلسل مصروف عمل،تحریر:صباءفاروق

    محکمہ بہبود آبادی،حکومت پنجاب عوام الناس میں خاندانی منصوبہ بندی، بچوں کی پیدائش میں وقفہ، زچہ و بچہ کی صحت،ماں کے دودھ کی اہمیت سمیت دیگر اہم موضوعات پر آگاہی و شعور کے فروغ کیلئے مسلسل مصروف عمل ہے۔عوام کو آگاہی اور شعور فراہم کرنے کیلئے روایتی ذرائع ابلاغ جیسا کہ ٹی وی چینلز،ریڈیو اوراخبارات سے استفادہ تو اٹھایا ہی جاتا ہے مگر محکمہ بہبود آبادی کے پیغامات کو گھر گھر پہنچانے اور مزید آسان طریقہ سے عوام کو خوشحالی اور صحت کا پیغام سمجھانے کیلئے متعدد جدیدطریقہ جات بھی زیر استعمال لائے جا رہے ہیں ۔

    ٹیلی ویژن،عوامی آگاہی کا مستند ذریعہ
    ٹیلی ویژن آج پاکستان کے ہر گھر موجود ہے اور ہر انسان دن میں کئی بار معلومات، انٹرٹینمنٹ وغیرہ کے حصول کیلئے ٹیلی ویژن دیکھتا ہے۔ ٹی وی چینلز کو ایک وقت میں لاکھوں لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں اور دنیا بھر میں پیغامات کی نشریات کیلئے ٹی وی چینلز کو منفرد اور ممتا ز حیثیت حاصل ہے۔ محکمہ بہبود آبادی عوامی سطح پر شعور و آگاہی عام کرنے کیلئے اب تک ہزاروں پیغامات نشر کر چکا ہے اور اس آگاہی مہم کی بدولت نہایت مثبت نتائج موصول ہو رہے ہیں اور محکمہ مزید آگاہی عام کرنے کیلئے مسلسل مصروف عمل ہے۔

    معلومات کی فراہمی کیلئے پرنٹ میڈیا کا استعمال
    اخبارات کو چونکہ معلومات کا مستند ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور معاشرے میں اخبار بینی کا رواج آج بھی اتنا ہی ہے جتنا دہائیوں پہلے تھا۔ محکمہ بہبود آبادی گزشتہ دوسالوں سے اخبارات میں سینکڑوں پرنٹ ایڈز شائع کر چکا ہے جہاں عوام الناس کو خاندانی منصوبہ بندی، جدید اور محفوظ طریقہ جات، ماں بچہ کی صحت، پیدائش میں وقفہ مناسب وقفہ، ماں کے دودھ کی اہمیت، جنسی،ذہنی و جسمانی صحت کے حوالے سے معلومات فراہم کی جاتی ہیںاور معاشرے میں محکمہ بہبود آبادی کی جانب سے دی گئی معلومات کو نا صرف مستند سمجھا جاتا ہے بلکہ ان پر عمل درآمد بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔عوامی سوچ میں تبدیلی لانے اور خوشحال،روشن مستقبل کی جانب قدم بڑھانے کیلئے امیدافزاءنتائج موصول ہوئے ہیں۔

    بذریعہ ریڈیو،عوام تک رسائی
    عوامی سطح پر خاندانی منصوبہ بندی اور دیگر اہم موضوعات پر آگاہی عام کرنے کیلئے ریڈیو اسٹیشنز کی وسیع تعداد زیر استعمال لائی جا رہی ہے۔ محکمہ بہبود آبادی تمام ذرائع ابلاغ کو بروئے کار لاتے ہوئے عوامی آگاہی کیلئے مسلسل مصروف عمل ہے۔چونکہ عوام کی ایک کثیر تعداددوران سفر،دفاتر یاگھروں میں ریڈیو سننا پسند کرتے ہیں اور ریڈیوکئی دہائیوں سے معلومات کا مستند ترین ذریعہ سمجھا جارہا ہے اور اسی افادیت کو مد نظر رکھتے ہوئے محکمہ بہبود آبادی اب تک ریڈیو پر سینکڑوں پیغامات نشر کر چکا ہے۔ اور عوامی سطح پر خوب پزیرائی حاصل ہوئی ہے۔

    ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے آگاہی
    چونکہ دنیا بھر میں ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے آگاہی مہم کا اجراءانتہائی مو ¿ثر طریقہ سمجھا جاتا ہے،افادیت کے پیش نظر پنجاب بھر میں تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر محکمہ بہبود آبادی کے سوشل میڈیا گروپس تشکیل دیئے گئے ہیں جہاں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی پیشرفت،سرگرمیوں اورپیغامات کی تشہیر کی جاتی ہے۔سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہی کا مقصد زیادہ سے زیادہ عوام تک پیغام پہنچانے کے علاوہ خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت سے متعلق نوجوان طبقہ تک آسان رسائی بھی ممکن بنانا ہے۔ تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر بنائے گئے ان سوشل میڈیا گروپس کے حوصلہ افزاءنتائج موصول ہوئے ہیں اور نوجوان طبقہ سمیت معاشرے کے ہر طبقہ کی جانب سے محکمہ بہبود آبادی کے پیغامات پزیزائی مل رہی ہے۔

    صوبائی،ضلعی،تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر آگاہی
    عوام الناس اوربالخصوص نوجوان طبقہ میں خاندانی منصوبہ بندی اور دیگر خدمات سے متعلق آگاہی کیلئے قومی سطح پر سیمینارز، صوبائی سطح پر کانفرنسز اورضلعی و تحصیل کی سطح پر میٹنگز کا انعقاد باقاعدگی سے ممکن بنایا جاتا ہے اور ماہرین کے ساتھ طلباءاور دیگر طبقہ جات کی براہ راست گفتگو سے ان کے ذہنوں میں موجودابہام اور روایتی تصورات کا ازالہ سائنسی اورمنطقی دلائل سے ممکن بنایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ یونین کونسل کی سطح پر سکھی گھر اور دیگر چھوٹی کمیٹیوں کے ذریعے خواتین اور مردوں تک خاندانی منصوبہ بندی کے جدید طریقہ جات، فوائد اور خوشحالی کے رہنما اصولوں کے بارے آگاہی عام کی جاتی ہے۔

    مقامی زبانوں میں آسان پیغام
    مقامی لوگوں کوخاندانی منصوبہ بندی کی افادیت کے بارے آگاہی فراہم کرنے کیلئے مقامی زبانوں جیساکہ پنجابی، سرائیکی اور پوٹھوہاری وغیرہ میں پیغامات کی تشہیر ممکن بنائی جاتی ہے جس کیلئے ٹی وی، ریڈیو سمیت سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز زیر استعمال لائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی لوگوں کی سچی کہانیاں،انہی کی زبانی،مقامی زبان میں دیگر لوگوں کو بتائی جاتی ہیں تا کہ عوام الناس غلط فہمیوں کی بجائے حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے خوشحال مستقبل کے بارے 100فیصددرست فیصلہ ممکن بنا سکیں۔

    بذریعہ پتلی تماشہ عوامی سطح پر آگاہی
    محکمہ بہبود آبادی، عوام الناس کو شعور فراہم کرنے کیلئے ضلعی سطح پر پتلی تماشوں کا انعقاد ممکن بنا رہا ہے جس میں بچوں کی کم تعداد،ان کی تعلیم تربیت اور ان کے روشن مستقبل کیلئے والدین کو آگاہی فراہم کی جاتی ہے اس کے علاوہ خاندانی منصوبہ بندی، بچوں کی پیدائش میں وقفہ،زچہ و بچہ کی صحت اور دیگر اہم سماجی معاملات سے متعلق کردار ڈرامہ کی صورت میں شعور عام کر رہے ہیں اور عوامی سطح پر پتلی تماشوں کی نمائش کو بھرپور پزیرائی مل رہی ہے اور عوام ان کرداروں سے سیکھ کر عملی زندگی میں متوازن خاندان اور صحت معاشرے کے ساتھ ساتھ خوشحال پاکستان کی جانب قدم بڑھا رہے ہیں۔

    اِن ہاو س سٹوڈیو کاآغاز
    محکمہ بہبود آبادی کی جانب سے اِن ہاوس سٹوڈیو کا بھی آغاز کیا گیا ہے جہاں ماہرین خاندانی منصوبہ بندی، جدید اور محفوظ طریقہ جات، ماں بچہ کی صحت، پیدائش میں وقفہ مناسب وقفہ، ماں کے دودھ کی اہمیت، جنسی،ذہنی و جسمانی صحت کے حوالے سے عوام کو اہم معلومات فراہم کرتے ہیں جس کو بعدازاں ڈیجیٹل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر پوسٹ کیا جاتا ہے تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک محکمہ کا پیغام پہنچا کر خوشحال کل اور صحت مند آج کے خواب کو عملی تعبیر فراہم کی جا سکے۔

    ورکرز بھی متوازن سوچ کے فروغ کیلئے مصروف عمل
    محکمہ بہبود آبادی کی جانب سے خاندانی منصوبہ بندی اپنا کر خوشحال پاکستان کی تشکیل کیلئے ہر میدان میں رائے عامہ ہموارکی جا رہی ہے جہاں محکمہ بہبود آبادی کے ہر ورکرکی تربیت اس انداز میں ممکن بنائی گئی ہے کہ وہ انفرادی و اجتماعی طور پر اپنے دوست احباب، رشتے داروں اور اپنی کمیونٹی میں خاندانی منصوبہ بندی کے فروغ کیلئے آگاہی فراہم کر رہا ہے۔ ورکرزخاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے معاشرے میں قائم فرسودہ خیالات اور غلط فہمیوں کا سائنسی اور منطقی انداز میں ازالہ کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ لوگوں کو نہ صرف خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے آگاہی فراہم کر رہے ہیں بلکہ وہ خاندانی منصوبہ بندی کے قابل بھروسہ اور جدید طریقہ جات تک بھی عوامی رسائی ممکن بنا رہے ہیں تاکہ معاشرے میں نئی سوچ کے فروغ سے ایک خوشحال پاکستان کی تشکیل ممکن بنائی جا سکے۔یہ ورکرز کی محنت کے ہی نتائج ہیں کہ خاندانی منصوبہ بندی کو اپنانے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور عوام الناس زیادہ بچوں، بیٹوں کی خواہش سمیت دیگرفرسودہ خیالات ترک کررہے ہیں۔ آگاہی کے اشتہارات سے محکمہ،لوگوں کی ذہن سازی اس انداز سے کر رہا ہے کہ وہ اب والدین بچوں کی تعداد کا تعین کرتے وقت زیادہ تعداد کی بجائے ان کی بہتر تعلیم تربیت اور اچھی صحت کو ترجیح دیتے ہیں۔

    عوامی سوچ اور رویوں میں واضح تبدیلی
    محکمہ بہبود آبادی لوگوں کے رویوں میں مثبت تبدیلی لانے کیلئے مسلسل مصروف عمل ہے۔محکمہ،عوام الناس کے سماجی رویوں میں تبدیلی لانے کیلئے قومی ذرائع ابلاغ جیسا کہ الیکٹرانک،پرنٹ،سوشل اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کامیابی سے آگاہی مہم کو فروغ دے رہا ہے۔محکمہ اپنی آگاہی مہم میں بیٹیوں کی تعلیم تربیت اور ان کے مساوی حقوق کے بارے عوام الناس میں شعور اجاگرکر رہا ہے۔ بچوں کی زیادہ تعداد کی بجائے،ان کی بہتر تعلیم و تربیت پر بھی زور دیا جا رہاہے۔ عوامی رویوں میں تبدیلی لانے کیلئے خواتین کی خود مختاری اور انہیں تعلیم تربیت کی فراہمی کو اولین ترجیح بنایا گیا ہے جہاں فرسودہ روایات و پرانی سوچ کی بجائے اپنوں کے روشن کل کی بات عوام تک پہنچائی گئی ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کی جدید اور محفوظ سہولیات چھوٹے خاندان کے روشن کل کی مضبوط بنیاد قرار دی گئی ہیں۔ عوامی سطح پر بچوں کی پیدائش میں وقفہ اور بچوں کی کم تعداد یقینی بناکر ان کے روشن مستقبل کی تشکیل کیلئے بھی رائے عامہ بنائی گئی ہے۔آئیں!خاندانی منصوبہ بندی اپنا کر چھوٹے خاندان کو خوشیوں اور صحت کی مضبوط بنیاد فراہم کریں اور خوشحال پاکستان کی تشکیل کیلئے اپنا کردارادا کریں کیونکہ سوچ میں تبدیلی سے ہی ممکن ہے متوازن خاندان، خوشحال پاکستان

    saba

    ماحولیاتی تبدیلیوں سے پاک پنجاب کیلئے پر عزم
    محکمہ بہبود آبادی،عوام الناس کو ماحولیاتی تبدیلیوں اور ان کے مضر اثرات سے بچاوءکیلئے بھی آگاہی عام کر رہا ہے۔ دنیا بھر میں جنگلات کارقبہ تیزی سے کم ہورہاہے، آتش زدگی اوردیگرقدرتی وانسانی عوامل سے جنگلات کیلئے خدشات اورخطرات بڑھ رہے ہیں،اس صورتحال کے تناظرمیں انسانی صحت اورغذائی سلامتی کے تحفظ کیلئے اقدامات ضروری ہیں۔ ماحولیات اورایکونظام کے تحفظ کیلئے کئے جانے والے عالمی معاہدوں پرعمل درآمد کیاجائے۔اس وقت ماحولیاتی تبدیلیوں سے دنیا کی 40 فیصدآبادی کو خطرات لاحق ہیں اس تناظرمیں ایکونظام کی بحالی کیلئے تمام ممالک کواپنامشترکہ لائحہ عمل اختیارکرنا پڑے گا۔عالمی ماحولیاتی اداروں کی تحقیق کے مطابق کسی بھی ملک کے خشک رقبے کا 25فیصد جنگلات پہ مشتمل ہونا نہایت مناسب اورانسانی زندگی کیلئے انتہائی ضروری تصور کیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 3.3فیصد جنگلات موجود ہیں جو کہ تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

    متوازن غذا اور نفسیاتی صحت،سب سے پہلے
    محکمہ بہبود آبادی کے زیر نگرانی کوالیفائیڈ نیوٹریشنسٹ اورسائیکالوجسٹ ضلعی سطح پر اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں جو متوازن غذا کی افادیت، غذائی مسائل سے نجات،حاملہ خواتین کیلئے ضروری غذائی اجزاءکے علاوہ ذہنی،جسمانی اور جنسی صحت کے تحفظ کے حوالے سے اہم خدمات سر انجام دہے رہے ہیں۔ عوام الناس بالخصوص خواتین کو نفسیاتی مسائل کے آسان حل بتائے جاتے ہیں،ورزش سمیت دیگر معمولات میں ہم آہنگی اور ذہنی سکون کے حوالے سے اہم نکات پر زور دیا جاتا ہے۔

    عوامی صحت،ہماری اولین ترجیح
    محکمہ بہبود آبادی،صحت عامہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ڈینگی، نمونیا، وبائی امراض سے متعلق ویکسینیشن،متوازن غذا،ماں بچہ کی صحت سے متعلق اہم معلومات اور ماں کے دودھ کی اہمیت سمیت دیگر اہم مسائل سے متعلق بھی معلومات ڈیجیٹل اور قومی میڈیا کے ذریعے آگاہی عام کر رہا ہے۔ جس کا مقصد عوام الناس کو صحت کے حوالے سے نئی معلومات فراہم کر کے نہ صرف خوشحال بلکہ صحت مند معاشرے کی تشکیل ممکن بنانا ہے.

    saba farooq