قدر اسی چیز کی ہے جو لاحاصل ہے۔ جو چیز ہاتھ میں آجائے وہ بے مول ہوجاتی ہے۔
انسانی چاہت کی مثلت انہی تین زاویوں سے بنتی ہے:
"لاحاصل سے حاصل اور حاصل سے دوبارہ لاحاصل۔”
لگتا ہے کہ بہت کچھ پالیا ہے۔ لیکن دل کی خانہ ویرانی اکساتی رہتی ہے کہ نہیں۔ جو نہیں ہے، اسی کی چاہ ہے اور اس کے بغیر یہ دامن سمجھو کہ بہت خالی ہے تو پھر چاہے دنیا بھر کی خوشیاں ڈال دو اس میں۔
پیچھے مڑ کر دیکھوں تو اکثر سوچتی ہوں کہ کبھی میں چاہتی تھی کہ مجھے فلاں چیز مل جائے۔ تو جب وہ مل جاتی تھی تو دل میں کسی اور چیز کی خواہش جاگ جاتی تھی۔ جب وہ ملتی تھی تو پھر اگلی۔ ختم نہ ہونے والا ایک طویل سلسلہ جس کا شاید کوئی انت ہی نہیں۔
سنا تھا کہ انسان کا پیٹ نہیں بھرتا، ہمارا تو دل بھی نہیں بھرتا۔ مجال ہے جو بس ایک تمنا پوری ہوجانے پر راضی ہوا ہو۔
آگے سے آگے کی چاہ ٹھہراؤ نہیں آنے دیتی۔ ذرا سا پڑاؤ ڈال لیا جائے ،تو کیا برا ہے؟
لیکن اب کوشش ہے کہ دل کی تمناؤں کو محدود کردیا جائے۔ ٹھہر لیا جائے، رک کر سانس لے لیا جائے۔ پڑاؤ ڈال کر دیکھ لیا جائے کہ جو خواہش کے علاوہ مل رہا ہے وہ کتنا بہترین ہے۔ وہ جو اللہ اپنی چاہت سے ہمیں نواز رہے ہیں، اس میں کتنی خیر ہے۔
بس اب:
"یہ تمنا ہے کہ آزادِ تمنا ہی رہوں”
مسکان احزم
Author: باغی بلاگز
-

"یہ تمنا ہے کہ آزادِ تمنا ہی رہوں” .تحریر:مسکان احزم
-

8 فروری 2025 کو منعقد ہونیوالے عالمی مشاعرے کی تیاریوں کا جائزہ اجلاس
عالمی مشاعرہ کمیٹی کا خصوصی اجلاس جہانگیر خان اسپورٹس کمپلیکس، کشمیر روڈ، کراچی میں شام 6 بجے منعقد ہوا۔ اس اجلاس کا مقصد 8 فروری 2025 کو منعقد ہونے والے عالمی مشاعرے کی تیاریوں کا جائزہ لینا، اس کی تشہیر کے لیے حکمت عملی مرتب کرنا، اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی تجاویز کو شامل کرنا تھا۔
اجلاس میں کمیٹی کے معزز اراکین، کاروباری برادری کے نمائندوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ حاضرین نے مشاعرے کی کامیابی کے لیے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی اور اس کے انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے مفید تجاویز بھی پیش کی گئیں ۔ شرکاء محفل نے مشاعرے کے پیغام کو زیادہ سے زیادہ افراد تک پہنچانے کے لیے ڈیجیٹل اور روایتی ذرائع ابلاغ کے مؤثر استعمال پر زور دیا۔ اس کے ساتھ مہمان شعراء کی فہرست کو جلد حتمی شکل دینے، سامعین کے لئے آرام دہ سہولتوں کی فراہمی، اور مشاعرے کے دوران اعلیٰ معیار کے آلات کے استعمال کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ مشاعرے کی لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے عالمی سطح پر اس کے پیغام کو پھیلانے کی تجویز کو بھی سراہا گیا۔
کاروباری برادری کے نمائندوں جناب ایس ایم تنور، ریاض احمد (مکہ مکرمہ) جناب خالد تواب، جناب میاں زاہد، جناب حنیف گوھر، جناب نوید بخاری، جناب زبیر چھایا، جناب جنید نقی اور دیگر نے اس مشاعرے کی کامیابی کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی اور اسپانسرشپ کی پیشکش بھی کی۔ اس تعاون سے مشاعرے کی تیاریوں کو مزید تقویت ملےگی ۔ اجلاس کے دوران ایک مختصر مشاعرے کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں شعراء نے اپنے کلام سے حاضرین کو محظوظ کیا۔ یہ مختصر مشاعرہ نہ صرف اجلاس کے شرکاء کے لیے ایک یادگار لمحہ تھا بلکہ عالمی مشاعرے کے لئے ایک خوبصورت پیش خیمہ بھی ثابت ہوا۔
جن شعرا کرام نے اپنا کلام پیش کیا ان کے نام یہ ہیں ۔
صدف بنت اظہارِ ۔ہدایت سائر۔ ظفر بھوپالی۔طارق سبز واری۔ سلیم فوز اور ڈاکٹر شاداب احسانی شامل ہیں۔اجلاس میں مشاعرے کی کامیابی، ملک و قوم کی ترقی، اور ادب کے فروغ کے لئے خصوصی دعا کی گئی۔ اس موقع پر کئی معزز شخصیات نے اپنی موجودگی سے اجلاس کی رونق کو دوبالا کیا، جن میں حاجی رفیق پردیسی، فرحان الرحمان، شیخ راشد عالم، خالد جمیل شمسی، فیصل ندیم، ندیم معاز جی، عارف شیخانی، ڈاکٹر شاہ فیصل، انجینئر تنویر احمد، ندیم شیخ ایڈووکیٹ، خالد فرشوری، ظفر بھوپالی، محمود راشد۔ ہما۔بخاری اور عارف زبیری شامل ہیں۔
یہ اجلاس عالمی مشاعرے کی تیاریوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوا اور اس کے کامیاب انعقاد کے امکانات کو مزید روشن کر دیا۔ شرکاء کی دلچسپی اور تعاون سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ 8 فروری 2025 کو منعقد ہونے والا عالمی مشاعرہ ایک تاریخی اور یادگار ادبی تقریب ہوگی، جو پاکستانی ادب اور ثقافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
رپورٹ ۔۔
صدف بنت اظہار ۔
مکتبہ حیدری پاکستان کراچی ۔ -

قوم منتشر،سیاستداوں کے کردار کی ضرورت.تجزیہ:شہزاد قریشی
بے یقینی ، مایوسی ،فساد ،انتشار وطن عزیز کے گلشن میں کانٹے بکھیرنے کا کام جو جاری ہے ہر طرف کانٹے بکھیرے جا رہے ہیں۔ سیاسی گلیاروں میں تماش بین افراد کی تعداد میں اضافہ ہوچکا ہے ۔ بین الاقوامی دنیا میں ملک کے وقار، اس کی عزت کو داغدار کیا جا رہاہے ۔ قوم منتشر ہو چکی ہے ۔ منتشر قوم کے لئے نواز شریف، مولانا فضل الرحمان ، جماعت اسلامی ، پیپلزپارٹی میں موجود بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے ہمسفر افراد اور دیگر سنجیدہ سیاستدان اپنا کردارادا کریں ۔پی ٹی آئی کی سنجیدہ قیادت کے ساتھ مذاکرات کا راستہ تلاش کریں۔ نواز شریف خود اس وطن عزیز کی عزت اور وقار کے لئے میدان میں نکلیں ۔ قیادت کریں سیاسی راہنمائوں کے دروازے پر دستک دیں- انہیں ایک جگہ جمع کریں وطن عزیز میں ترقی کے لئے جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے آئین اور قانون کی حکمرانی کے لئے ۔ ملک کے معاشی حالات کیا ہیں ؟ سب جانتے ہیں ان حالات میں ملک کسی انتشار اور فساد ،قتل وغارت کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔
کیا تخلیق پاکستان کا مقصد یہی تھاکہ یہاں بے روزگاری ،لاقانونیت ،ناانصافی ، بدانتظامی ، منافقت ، ملاوٹ ، ناجائزمنافع خوری ، اقربا پروری ، بے اصولی ، کرپشن کو فروغ دیا جائے ؟نہیں ،نہیں پاکستان اس کے لئے نہیں بنایا گیا تھا ہرگز نہیں خدا را بابائے قوم بزرگوں ،لاکھوں شہداء کی روحوں کو اتنا نہ تڑپائو ۔ اللہ کا خوف دلوں میں پیدا کرو۔ تبدیلی اور حقیقی انقلاب اور حقیقی آزادی والی جماعت سے گزارش ہے پاکستان کا قیام بذات خود ایک بہت بڑا انقلاب تھا محض نعرہ نہیں تھا ،پوری وضاحت کے ساتھ اس انقلاب کے مقاصد تھے۔بھارت سے مسلمانوں نے ہجرت کی ،سر کٹوائے ، گھر بار چھوڑے ، یہ سب انقلابی تھے جو بابائے قوم کی صاف ستھری اور بہادر قیادت میں انقلاب لے کر آئے پاکستان کی صورت میں اس گلشن میں کانٹے بکھیرنے کی بجائے اس گلشن کو آبادرکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔قصر دل میں نرم گوشہ رکھنے والے ہی دلوں پر راج کرتے ہیں ۔کائنات کی خوبصورتی حسن اخلاق میں ہے۔ چنگیز خان ،ہلاکو اور ہٹلر نے توانسانیت کا خون بہایا تھا اچھے الفاظ کی خوشبو سے ہی قبائے دل میں خوبصورت پھول کِھلتے ہیں
-

فلسطینیوں کی پکار اور ہمارا رویہ.تحریر:ارم ثناء
آج کل جو مسلمانوں کے ساتھ سلوک ہورہا ہے فلسطین، لبنان، کشمیر، برما، ہندوستان وغیرہ ممالک میں۔ کیا اب بھی مسلمانوں پر جہاد فرض نہیں ہے؟ کیا اب جو مسلم آزاد ممالک ہیں کیا ان پر جہاد فرض نہیں ہے؟ جہاد کیا ہے؟ جہاد صرف تلوار سے لڑنے کو تو نہیں کہتے جہاد کی مختلف اقسام بتائی گئی ہیں ہمیں۔ یہ جو پاکستان کی آدھی سے زیادہ عوام کہتی ہے کہ ہم کیا کر سکتے؟ یہ سب تو حکمرانوں کے ہاتھوں میں ہے۔ آپ کیوں نہیں کچھ کر سکتے؟ آپ لوگ اسرائیل کی پروڈکٹس کا بائیکاٹ تو کر سکتے ہیں نا ؟ آپ کا دل کوک یا lay’s وغیرہ کھانے کو کر رہا ہے لیکن آپ لوگ رک جائیں، نہیں ہم نے نہیں کھانا اپنے دل کو سمجھائیں کہ نہیں کھانا، خود کو کہیں کہ میں اسرائیل کی معیشت کو کیوں مضبوط کروں؟ میں کیوں فلسطین کے خون سے اپنے ہاتھوں کو رنگوں، ظاہر ہے میرے ہی دیے پیسوں سے وہ ہتھیار یا جنگ کا باقی سامان خریدتے ہیں۔ یہ ہوگا آپ کا جہاد با لنفس۔ آپ نے یہاں اپنے نفس کو روکا ہے اللہ کےلئے اللہ کے بندوں کےلئے۔
اب جو ناول نگار ہیں جو سارا دن بیہودہ ناول لکھتے ہیں وہ لکھیں وہ اپنی قوم کو جہاد کے بارے میں بتائیں یہ ہوگا قلم سے جہاد۔ جو لوگ جسمانی طور پر مضبوط ہیں یہ جو لیڈرز ہیں یہ سب اپنی اپنی پارٹی کے لوگوں کو کہیں کہ آئیں ساتھ دیں ہمارا، ہم جہاد کریں گے جب سب پاکستان کی عوام سڑکوں پر نکلے گی تو کیوں نا حکمران مانیں گے؟ یہ ہوگا آپ کا تلوار سے جہاد۔ اب اس وقت جہاد ہم پر فرض ہے اب جو مائیں ہیں یہ اپنے بچوں کی تربیت اس طرح کریں کہ ان میں شروع سے جنون ہو اللہ کی راہ میں قربان ہونے کا،
یاد رکھیں اگر آپ لوگ اسرائیل کی پروڈکٹس استعمال کرتے ہیں تو قیامت کے دن آپ سے بھی پوچھا جائے گا کہ کیوں اسرائیل کا ساتھ دیا؟ کیوں تم لوگوں نے اسرائیل کی معیشت کو مضبوط کیا؟ کیوں تم لوگوں نے اپنے بہن بھائیوں کا ساتھ نہیں دیا؟ کیوں تم لوگوں نے اپنا قبلہ اول آزاد کرانے کی کوشش نہیں گی؟ یہ جو پاکستان کی عوام کہتی ہے کہ عمران خان نے، بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمان یا حکومت نے ان کی مدد کی ہے تو یہ سب جھوٹ ہے پاکستان کی عوام کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔ اگر انہوں نے ساتھ دیا ہوتا تو اب فلسطین آزاد ہوتا اگر انہوں نے ساتھ دیا ہوتا تو یہ جو فلسطین کےلئے آواز اٹھا رہے ہیں ان کو جیل میں قید نا کرتے۔
اب مسلمانوں کو چاہیے کہ ایک ہو جائیں چھوڑ دیں پاکستانی، سعودیہ، ترکی، پنجابی، سندھی، پلوجی، اہل سنت، اہلحدیث، شعہہ، وہابی اب چھوڑ دو یہ سب فرقہ واریت کا پرچار ،اب ایک ہو جاؤ جسد واحد کی طرح اب اٹھ جاؤ۔
آپ کو پتا ہے؟ کہ یہودی پوری دنیا میں بہت کم ہیں ان کی تعداد لاکھوں میں ہے جبکہ مسلمانوں کی تعداد اربوں میں ہے۔ یہ یہودی اپنے مسیح دجال کےلئے راہ صاف کررہے ہیں اور عیسائی حضرت عیسیٰ کےلئے۔ مسلمانوں آپ لوگ کیا کررہے ہو؟ اپنی ہی بیٹوں کو نچا کر خوش ہورہے ہو، اپنی ہی بیٹیوں کی عمر کی لڑکیوں پر تبصرے کرکے خوش ہو رہے ہو ،خدار لوٹ آؤ اسلام کی طرف، لڑکیو چھوڑ دو بے پردگی، چھوڑ دو غیر محرم کی آنکھوں کو سکون دینا ،چھوڑ دوغیر محرم کو اپنا جسم دکھانا، خدار اب اپنی نسل کو ایسے تیار کرو کہ اللہ ان کو حضرت امام مہدی کے لشکر میں شامل کردے -

ذہنی غلام قوم کب ہو گی آزاد.تحریر: ارم ثناء
ہم صرف نام کے آزاد ہیں، ورنہ ہمارے ذہن تو اب بھی غلامی میں ہیں، ہمارے اساتذہ جن کو چاہیے کہ وہ بچوں کو ایسے تیار کریں کہ وہ حق بات کرتے ہوئے ہچکچائیں نا۔ لیکن وہ بچوں کو ایسے تیار کرتے ہیں کہ وہ اپنی بات کو بھی دوسروں تک پہنچانے سے پہلے گئی مرتبہ سوچتے ہیں۔ ہماری درس گاہوں میں اگر کبھی کوئی ٹیچر غلط بات کرے اور بچے ٹیچر کو بتا دیں تو ٹیچر اس کا شکر ادا کرنے کی بجائے الٹا اس کو ڈانٹ دیتے ہیں جس سے بچے پر یہ اثر ہوتا ہے کہ وہ جس بھی جگہ پر کچھ غلط ہوتا دیکھے تو خاموش ہو جاتا ہے۔ ہمارے گھروں میں کوئی بہوئیں نہیں لانا چاہتا بلکہ وہ ایک ذہنی غلام لانا چاہتے ہیں جو بھی ان کے ساتھ غلط کرے بس اس کو خاموشی سے برداشت کر لیں۔
میرے خیال میں بچوں کو سکول لیول پر ہی یہ سیکھانا چاہیے کہ وہ حق بات کےلئے کھڑے ہوں چاہے وہ غلط بات ٹیچر کرے یا والدین۔ جو بھی بات اسلام کے خلاف ہو اس کے خلاف کھڑے ہوجائیں۔ جس بھی جگہ پر دیکھیں کہ اللہ کی نافرمانی ہو رہی ہے آواز بلند کریں اس جگہ پر۔ بچے جب صحیح بات کریں تو ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، بچے جب کسی بڑے کی غلطی کو نوٹ کرکے وہ آپ کی غلطی آپ کو بتائیں تو ان کا شکر ادا کریں۔
-

اقتدار کی خاطر مذہبی تاویلیں،رب کو ناراض نہ کریں،تجزیہ:شہزاد قریشی
دہشت گردی ،قتل و غارت گری، سماجی معمول کا درجہ اختیار کر جائیں، رشتے مٹ رہے ہوں، احساس ماند پڑ جائے، بیروزگاری، ناخواندگی عام ہو ۔۔کوئی راستہ کوئی منزل نظر نہ آئے ۔ بدعنوانی اور منافقت اخلاقیات کا درجہ اختیار کر لیں تو سیاست اور جمہوریت کیسی؟ ان حالات میں ریاست کی حالت کیا ہوگی؟ تاہم بدترین داخلی انتشار کے باوجود پاک فوج اور جملہ اداروں نے ریاست کے ساتھ ساتھ دفاع کو بھی اپنی حفاظت میں لیا ہوا ہے۔ یاد رکھیئے! ریاست کے نگہبانوں کو فساد اور انتشار کا سدباب کرنا آتا ہے ریاست کے استحکام پر کسی فرد واحد کو اہمیت حاصل نہیں ہوتی۔ ریاست کے استحکام کے لئے پاک فوج اور جملہ ادارے دیوار چین کی طرح کھڑے ہیں۔
قوم نے طویل تین مارشل لاء دیکھے موجودہ صدی کے پیروں، نام نہاد گدی نشینوں ، ججز، وڈیروں، سیاستدانوں، نام نہاد دانشوروں، سرمایہ داروں نے ان مارشل لاء لگانے والوں کا بھرپور ساتھ دیا ،میڈیا نے بھی بھرپور ساتھ دیا الزام صرف فوج پر نہیں لگایا جا سکتا۔ میاں محمد نوازشریف کو تین بار حکومت سے علیحدہ کیا گیا اس کی ذمہ داری سیاستدانوں پر ہی آتی ہے۔ سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی جماعت میں نہ سیاست اور نہ جمہوریت ہے، پانامہ لیکس ایک غلط اور بے بنیاد مقدمہ بنا کر نوازشریف اور اسکے خاندان کو بدنام کیا گیا اس مقدمے کے پیچھے سیاستدان ہی تھے، عمران خان جو آج جمہوریت آئین کی بات کرتے تھکتے نہیں کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ وہ ایک جمہوری حکومت کیخلاف سازش میں کیوں شامل ہوئے؟ 2018ء کے الیکشن میں انہوں نے کس طرح کامیابی حاصل کی وہ کن ملاحوں کی مدد سے اقتدار کی کرسی پر بیٹھے ،نوازشریف کا اس وقت گناہ کیا تھا؟ 2024ء کے الیکشن پر سینہ کوبی کرنے والے بتا سکتے ہیں 2018ء کا الیکشن ہی تھا؟
یاد رکھیئے۔ پاکستان کی سیاست سیاستدانوں اورنام نہاد جمہوریت سے امریکہ سمیت عالمی دنیا آگاہ ہے سوشل میڈیا جھوٹ بولنے کی فیکٹریاں ہیں بدقسمتی سے الیکٹرانک میڈیا بھی سوشل میڈیا کا اسیر بن چکا ہے۔ کلمہ پڑھ کر جھوٹ بولتے ہیں سیاستدانوں کی اکثریت نام نہاد پیروں اور گدی نشینوں، نام نہاد عالم دین، خدا کے عذاب سے ڈرتے نہیں روز محشر خدا کی عدالت میں کس منہ سے کھڑے ہوں گے پاکستان کی سرزمین بھی خدا پاک کی ملکیت ہے اس سرزمین پر بسنے والے خدا پاک کی مخلوق ہے اپنے اقتدار اور اختیارات کی خاطر مذہبی تاویلیں دے کر خدا پاک کو ناراض نہ کریں دین اسلام پر عمل کریں
-

تبصرہ کتب،: فتاویٰ برائے خواتین
نام کتاب : فتاویٰ برائے خواتین
جمع وترتیب : محمد بن عبدالعزیز المسند
صفحات : 488
قیمت 1450روپے
ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور
برائے رابطہ :042-37324034
زیر نظر کتاب” فتاویٰ برائے خواتین “ روزمرہ زندگی میں خواتین کو درپیش مختلف نوعیت کے تمام اہم مسائل اور ان کے علمی و تحقیقی جوابات کا گرانقدر مجموعہ ہے جو کہ دینی کتابوں کی اشاعت کے عالمی ادارہ دارالسلام نے شائع کیا ہے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ خواتین کو شرم و حیا اور حجاب و نقاب کے تقاضے ہمیشہ ملحوظ رکھنے چاہئیں۔ بچیوں کو اسلامی تعلیمات سے اچھی طرح روشناس کرانا چاہیے۔ جب وہ جوان ہو جائیں تو ان کی شادی کرنے کے لیے غایت درجہ احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ لڑکے کے انتخاب میں اس کے اخلاق و احوال دیکھنے چاہئیں۔ یہ تحقیق ضرور کرنی چاہیے کہ جس سے بچی کی شادی کی جارہی کیا وہ نماز کا پابند ہے یا نہیں؟ کسی بے نماز سے ہرگز شادی نہیں کرنی چاہیے۔ کوئی مرد لڑکی کی عمر سے دس پندرہ سال بڑا ہو اور وہ صالح اور صحت مند بھی ہو تو لڑکی کو ایسے مرد سے شادی کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہے لیکن بڑی عمر پر اعتراض کا کوئی حق نہیں۔ ایک فتوے میں ایک خاتون کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنے شرابی اور بدکار شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرسکتی ہے۔متعدد فتووں میں بتایا گیا ہے کہ ایامِ حیض میں نماز، روزہ اور طواف بیت اللہ جیسی عبادت کی ممانعت ہے۔شیر خوار بچہ قے کر دے تو لباس ناپاک نہیں ہوتا۔ جو عزیز رشتہ دار نماز نہیں پڑھتے ان سے حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے ۔ روزے میں مسواک یا ٹوتھ برش کرنے سے کوئی حرج نہیں۔ ایک فتوے میں بتایا گیا ہے کہ کوئی خاتون کتنی ہی پڑھی لکھی ہو، مردوں کی امامت کرانے کی مجاز نہیں۔ ایک خاتون گھر میں اکیلی ہے، نماز پڑھ رہی ہے، دروازے پر مہمان آگیا، اس نے گھنٹی بجائی، اب یہ خاتون کیا کرے؟ اس سوال کا دلچسپ حکیمانہ جواب دیا گیا ہے۔ جو خاتون باریک دوپٹہ اوڑھ کر نماز پڑھے، اس کےلئے کیا حکم ہے۔ کسی خاتون کے پاس زیورات ہوں یا صرف سوناہو، اُس پر ادائے زکاة کے ضروری احکام بتائے گئے ہیں۔
کتاب میں بتایا گیا ہے کہ طیارے کے سفر میں نماز کا وقت آجائے اس دوران نماز فوت ہونے کا اندیشہ ہوتو کیا کیا جائے؟ٹیلی فون پر لائن کے دوسری طرف کوئی نامحرم مرد بول رہا ہو تو اُسے جواب دیا جائے یا نہ دیا جائے ؟ ۔ بعض بیگمات کثرتِ اولاد پسند نہیں کرتیں، کیا وہ مانع حمل گولیاں کھا سکتی ہیں یا نہیں؟ مسلمان باورچی نہیں مل رہاکیا ایسی صورت میںغیر مسلم باورچی کھانا پکانے کےلئے رکھا جاسکتا ہے یا نہیں ؟ شادی کے بعد دولھا میاں کے ساتھ ہنی مون منانے کے لیے سفر و سیاحت پر جاناکیسا ہے؟ ۔
ایک فتوے میں بتایا گیا ہے کہ شوہر فوت ہو جائے توکیا بیوی غسل دے سکتی ہے؟ اسی طرح بیوی وفات پا جائے توکیا شوہر غسل دے سکتا ہے؟۔کتاب میں یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ اللہ نہ کرے کوئی مسلمان خود کشی کرلے توکیا اسے بھی غسل دیا جائے گا اور مسنون طریقے کے مطابق تجہیز و تکفین کی جائے گی ؟ ۔ کتاب میں ایک ایسی خاتون کے شوہر کی بے حسی کی داستان سنائی گئی ہے جو اگر چہ نمازی ہے لیکن اس نے بیوی کو فراموش کررکھا ہے۔ کوئی عزیز رشتہ دار آجائے تو ان کے سامنے بیوی کا مذاق اڑاتاہے اس مسئلے کا جو دانشمندانہ حل بتایا گیا ہے وہ غافل شوہروں کی اصلاح کی بہترین تدبیر ہے۔اسی طرح بعض نیک طبع شادی شدہ نوجوان لڑکیوں کو ازدواجی امور کے سلسلے میں کچھ ایسے سوالات کے جوابات دیے گیے ہیںجو ہر شادی شدہ خاتون کو پڑھنا چاہئیں تاکہ وہ عائلی زندگی کے دوران آسانی سے نماز کا التزام، روزے کی حفاظت اور جملہ عبادات کا اہتمام کر سکیں۔ کتاب میں بعض قابل رحم بدقسمت لڑکیوں کی طرف سے دل و نگاہ کے معاملات پیش کیے گئے ہیں اور اپنی خطا کا اعتراف کرتے ہوئے تلافی کا طریقہ پوچھا گیا ہے۔ ان کے جو سبق آموز اور ایمان افروز جوابات دیے گئے ہیں وہ پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں ۔اسی طرح جو خواتین حیا کے بوجھ سے دبی رہتی ہیں، شرم اور جھجک کی وجہ سے نازک مسائل زبان پر نہیں لاتیں، یہ کتاب ان کی نارسا آوازوں کا جواب ہے۔اس کتاب کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ کسی ایک فرد واحد کی کاوش نہیں بلکہ مفتی اعظم سعودی عرب الشیخ عبدالعزیز بن باز مرحوم ، الشیخ مفتی محمد بن صالح العثمین ،الشیخ مفتی عبداللہ بن عبدالرحمن الجبرین اور دارالافتاءکمیٹی سعودی عرب کے دیگر جید علما کے جوابات پر مشتمل ہے جس سے اس کتاب کی علمی وتحقیقی افادیت کئی گنا بڑھ گئی ہے ۔کتاب کا ترجمہ مولانا جاراللہ ضیا نے کیا ہے۔ افادیت اور اہمیت کے اعتبار سے اس کتاب کا ہر گھر میں ہونا اور اس کا مطالعہ ہر مسلمان خاتون کےلئے بے حد ضروری ہے -

رشتہ کرنے سے پہلے …تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی
وقت آ گیا ہے کہ …
رشتہ کرنے سے پہلے ان نقاط پہ بات کی جائے ۔
بیٹے یا بیٹی کی تعلیم کتنی ہے اور اسکے کیا عزائم ہیں ؟
اگر بیٹا/ بیٹی نوکری کرتے ہیں تو کونسی ؟ کہاں ؟
موڈ کے معاملات کیا ہیں ؟ پرجوش؟ شوخ گفتار ؟ کم گو؟
طبعیت؛
حساس ؟ ریزروڈ ؟ شکی ؟
فطرت؛ ملنسار؟ ہنس مکھ؟ سڑیل ؟ مغرور؟ باعتماد ؟ احساس کمتری؟ متجسس؟
شوق؟ کتابیں؟ فلمیں ؟ دوست
دونوں کہاں رہیں گے ؟ علیحدہ ؟ کمبائنڈ فیملی سسٹم ؟
اگر کوئی ایک غیر ملک میں رہتا ہے تو کیا دوسرا اس کے ساتھ جائے گا؟
شادی کے بعد کیرئر اور مزید تعلیم حاصل کرنے کے مسائل کیسے حل کیے جائیں گے ؟
اگر دونوں کماؤ ہیں تو کونسی ذمہ داری کس کی ہو گی ؟
بچہ کب پیداکرنا چاہیں گے ؟ ( ہم کچھ لوگوں کو جانتے ہیں جن کے درمیان علیحدگی اس بات پہ ہوئی کہ ایک فریق بچہ پیدا نہیں کرنا چاہتا تھا )
اگر بانجھ پن کے مسائل ہوئے تو ان سے کیسے نمٹا جائے گا ؟
اگر کسی ایک نے دوسرے کو دھوکا دیا تب کیا حل نکالا جائے گا ؟ ( غیر ازدواجی تعلقات ، بنا بتائے دوسری شادی، رقم کا استعمال )
اگر گھر میں لڑائی جھگڑے کے مسائل ہیں تو ان پہ فریقین کیسے بات کریں گے ؟
کیا بیوی کو ہر بات میں شوہر کی اجازت درکار ہو گی؟
فریقین کا اپنے اپنے خاندان کے ساتھ کس حد تک ربط ضبط ہو گا ؟
اگر کسی ایک کو کوئی بیماری ہے تو کیا دوسرے فریق کو اس کے بارے میں علم ہے ؟ ( کچھ واقعات میں بیماری دوسرے فریق سے پوشیدہ رکھی جاتی ہے )
والدین اور بہن بھائیوں کے مالی مسائل کی صورت میں شوہر کس حد تک ان کی مدد کرے گا ؟ سسرال کی توقعات کیا ہیں ؟
کیافریقین جوائنٹ اکاؤنٹ کھولیں گے اور اس کو استعمال کرنے کا حق دونوں کا ہو گا ؟
طلاق اور خلع کے معاملات کیسے حل کیے جائیں گے ؟
شادی ایک معاہدہ ہے اور اس کا کنٹریکٹ ایسے ہی طے کریں جیسے کوئی بھی اور معاہدہ کرتے ہیں
بیٹیوں کا مقدر خدا نے مرنا، قتل ہونا اور تباہ حال زندگی گزارنا نہیں لکھا_
ایسا آپ کرتے ہیں
ڈاکٹر طاہرہ کاظمی -

رویوں کا ادراک .تحریر:عینی ملک
دو سال پہلے، جب بھی کوئی میری پوسٹ پر تضاد بھرا کمنٹ کرتا، تو میں فوراً دل برداشتہ ہو جاتی تھی۔ میرے ذہن میں بار بار یہ سوال آتا کہ آخر میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ میں خود کو مظلوم اور بےچارہ تصور کرتی، جیسے دنیا نے میرے خلاف کوئی سازش کر رکھی ہو۔ ہر منفی تبصرہ میرے دل کو گہرائی تک زخمی کر دیتا، اور میں گھنٹوں یہی سوچتی رہتی کہ شاید مجھ میں ہی کوئی کمی ہے۔
پھر ایک وقت آیا جب میں نے ان چیزوں کو گہرائی سے دیکھنا شروع کیا۔ میں نے محسوس کیا کہ یہاں موجود ہر انسان کی سوچنے، سمجھنے اور شعور کی سطح مختلف ہے۔ کچھ لوگ اپنے حالات سے ستائے ہوئے ہیں، کچھ اپنی خوشی کا اظہار کرنا چاہتے ہیں، اور کچھ بس دوسروں کو نیچا دکھانے یا ان کی باتوں میں خامیاں نکالنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔
اسی دوران، میں نے ایک اور دلچسپ رویہ نوٹ کیا۔ بعض لوگ بے تُکی بات پر بھی واہ واہ کر کے چلے جاتے ہیں، جیسے انہوں نے کسی بات پر غور کیے بغیر ہی تعریف کرنا اپنی عادت بنا لی ہو۔ کبھی کبھی ان کی یہ تعریف مصنوعی لگتی تھی، اور کبھی یہ احساس ہوتا کہ شاید وہ محض اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔
یہ سب دیکھ کر میں نے یہ جانا کہ لوگوں کے رویے اور ان کے ردعمل اکثر ان کی اپنی شخصیت، مزاج، یا حالات کا عکس ہوتے ہیں، نہ کہ میری بات یا میری شخصیت کا۔ تب میں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں دوسروں کے تبصروں کو اپنے دل پر لینے کے بجائے، ان پر غور کیے بغیر آگے بڑھوں گی۔
یہ شعور حاصل کرنا میرے لیے ایک طاقتور سبق تھا۔ میں نے سیکھا کہ اپنی زندگی کی خوشی اور سکون کو دوسروں کی رائے سے مشروط نہیں کرنا چاہیے۔ اب میں جانتی ہوں کہ دنیا کی رنگا رنگی اور لوگوں کے مختلف رویے اس دنیا کی خوبصورتی ہیں، اور ہمیں بس اپنے راستے پر اعتماد اور سکون کے ساتھ چلتے رہنا چاہیے۔اور اچھے لوگوں کی رائے کو اہمیت دینا چاہیے۔
-

مردوں کے عالمی دن پر میری زندگی کے تین مردوں کو خراج تحسین۔ تحریر:عینی ملک
یہ سچ بات ہے مردوں کے صرف پیدا ہونے کی خوشی منائی جاتی
اسکے بعد وہ ذمہ داریوں کے بوجھ اتارنے میں جت جاتا ہےدنیا میں کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جو زندگی کو نہ صرف سنوار دیتے ہیں بلکہ ایک مضبوط سہارا بھی بنتے ہیں۔ مردوں کے عالمی دن پر میں ان تین اہم مردوں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے میری زندگی کو ایک خاص معنی دیا۔میرے بابا جان، بھائی، اور شوہر نے میری زندگی کو پرآسائیش اور خوشحال بنانے کے لیے جو محنت کی ہے، وہ الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ بابا جان نے اپنی جوانی اور آرام میری تعلیم و تربیت کے لیے وقف کر دیا، دن رات محنت کی تاکہ مجھے کسی کمی کا احساس نہ ہو۔
میرے بھائی نے ہمیشہ اپنی خواہشات کو میری ضروریات پر ترجیح دی، میرے لیے سہولتیں پیدا کرنے کے لیے خود مشکلات اٹھائیں۔ میرے شوہر نے بھی اپنی زندگی کا ہر لمحہ اس یقین کے ساتھ محنت کرتے گزار رہے ہیں کہ مجھے ایک محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کر سکیں۔
میرے بابا جان ، ملک محمد خالد میری زندگی کے سب سے پہلے ہیرو ہیں۔ ان کی محبت بے غرض اور ان کا سایہ ہمیشہ میری حفاظت کرتا رہا۔ انہوں نے نہ صرف مجھے زندگی کے اصول سکھائے بلکہ میری ہر مشکل وقت میں رہنمائی بھی کی۔ ان کی دعاؤں کا اثر میری کامیابیوں کی بنیاد ہے۔مولا انکی قبر میں اندھیرا نہ
رکھنا انکی روح کو جنت میں ایک گھر عطا فرمانا الہی آمین۔دوسرے اہم مرد میرے بڑے بھائی نے ہمیشہ ایک دوست اور محافظ کا کردار نبھایا۔ وہ ہر وقت میرے ساتھ کھڑے رہے، چاہے معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ ان کے ساتھ گزرے لمحے میری زندگی کی سب سے حسین یادیں ہیں۔ بھائی میرے لیے ایک ایسا سہارا ہیں جس کو جب بھی ضرورت پڑے بلا جھجک آواز دے سکتی ہوں۔
اور تیسرے میرے شوہر میری زندگی کا وہ حصہ ہیں جو میری خوشیوں اور غموں کے برابر کے شریک ہیں۔ ان کا پیار، خلوص اور رفاقت میری زندگی کا بے بیش قیمت اثاثہ ہیں۔ وہ نہ صرف میرے ہمسفر ہیں بلکہ میرے سب سے بڑے حوصلہ بڑھانے والے بھی ہیں اور مجھ پر اعتماد کرنے والے بھی ہیں
یہ تینوں مرد میرے لیے طاقت، شفقت ، وفا، محبت اور رہنمائی کا مظہر ہیں۔ آج کے دن میں ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے میری زندگی کو اتنا خوبصورت بنایا۔ میری دعائیں ہمیشہ ان کے ساتھ ہیں۔