Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • انتقامی سیاست کا باب بند کرنا ضروری، تجزیہ:شہزاد قریشی

    انتقامی سیاست کا باب بند کرنا ضروری، تجزیہ:شہزاد قریشی

    یہ کہانی آج کی نہیں کئی سال پہلے کی ہے انتخابات میں دھاندلی قوم کے مقدر میں لکھی جا چکی ہے، سینٹ کے اجلاس میں سینیٹر عرفان صدیقی، سینیٹر مشاہد حسین نے بھی اس کا اظہار کیا ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اس سوال کا جواب سیاسی قائدین ہی دے سکتے ہیں،اقتدار اور اختیارات کے سوداگر اس میں خود ملوث ہیں، سینیٹر عرفان صدیقی نے 2018ء اور اب 2024ء میں ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کا ذکر کیا اور کے پی کے انتخابات کا بھی ذکر کیونکہ ایک جماعت پی ٹی آئی دھاندلی زدہ انتخابات تو قرار دیتی ہے مگر کے پی کے انتخابات کو شفاف قرار دیتی ہے، تاہم خدا نہ کرے قوم انتشار کی سیاست کے راستوں پر چل کر ملک کو عدم استحکام کی طرف لے جائے جو پہلے ہی معیشت اور دیگر معاشرتی مسائل کی وجہ سے گرداب میں ہے،تاہم امریکہ اور اس کے اتحادی جس میں چین بھی شامل ہے ایٹمی ہتھیاروں سے لیس اسلامی جمہوریہ میں عدم استحکام نہیں دیکھنا چاہتے،اب چونکہ مخلوط حکومت بننے جا رہی ہے یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں جاری انتشار کو روکنے کے لئے اپوزیشن سے انتقامی سیاست کو دفن کر کے اس ملک اور عوام کے لئے دوستی کا ہاتھ بڑھائیں کیوںکہ سیاست میں تشدد ہٹلر کا مذہب تھا، ہٹلر اور ہلاکو خان کے نقش قدم پر چلنے کے بجائے اسلامی راستوں کا انتخاب کیا جائے،

    مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نوازشریف ایک زیرک سیاستدان ہیں جو کچھ مسلم لیگ ن کے ساتھ بطور جماعت کیا گیا وہ ایک الگ ہی داستان ہے لیکن یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ سیاست میں اقتدار کے لئے کچھ بھی کیا جا سکتا ہے نوازشریف نام کے بھی شریف ہیں اور ایک شریف انسان بھی ہیں،نوازشریف نے موجودہ وقت میں جب ملک و قوم معیشت کی وجہ سے انتہائی نازک اور تکلیف دہ حالات سے گزر رہے ہیں ملک میں جاری نفرت کی فضا کو کم کرنے کے لئے جو کردار ایک بار پھر ادا کیا اور برداشت کیا وہ قابل تحسین ہے تاہم ملکی سیاست میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے تاج و تخت کے حصول کی خاطر بادشاہ اپنے باپ بیٹوں اور بھائیوں تک کا خیال نہیں کرتے، مریم نوازشریف چونکہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کی وزیر اعلیٰ بننے جا رہی ہیں ،انہیں پنجاب میں گڈ گورننس کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ ن کو مستحکم کرنے کا کردار ادا کرنا ہوگا،خوشامدی ٹولے سے بچنا ہوگا قوموں کو مایوس کرنے والے کو تاریخ کے صفحات جگہ نہیں دیتے اپنے والد کے نقش قدم پر چل کر عام آدمی کے لئے ترقی کا سفر شروع کریں۔

  • لیڈر شپ کا فقدان،مسائل کی اصل وجہ، تجزیہ: شہزاد قریشی

    لیڈر شپ کا فقدان،مسائل کی اصل وجہ، تجزیہ: شہزاد قریشی

    فوج اور عدلیہ دنیا میں کسی بھی ریاست کے حتمی ستون ہوتے ہیں بدقسمتی سے پاکستان کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں ان دونوں اداروں کا ہر معاملہ کو لے کر بے دریغ استعمال ریاست کو کمزر کرنے کے مترادف ہے ۔ ان دو اہم ریاستی اداروں کو روزانہ کی بنیاد پر الیکٹرانک میڈیا ، سوشل میڈیا ، جلسے ، جلوسوں میں موضوع بحث بنا کر عالمی دنیاکو ہم اپنے ملک کا کیسا نقشہ پیش کر رہے ہیں۔ ہم ایسی چنگاریاں چاروں طرف پھیلا رہے ہیں جس سے شعلے بھڑک سکتے ہیں۔ اصل میں جو اس وقت ملک میں کہرام مچا ہے اس کہرام کی وجہ سیاسی جماعتیں ہیں سیاسی جماعتوں میں یزیدی اور حسینی ٹولے موجود ہیں۔ اقتدار اور اختیارات نے انہیں نیم پاگل بنا دیا ہے۔ایک دوسرے کو زچ کرکے آگے بڑھنا چاہتا ہے۔

    یاد رکھیے عالمی سطح پر سیاسی منظر نامے بدل رہے ہیں جمہوریت کا پنپ جانا کسی معجزے سے کم نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ لیڈر شپ کا فقدان ہے سیاسی لیڈر شپ کو اُس کی مقبولیت سے محروم کرنے کا نقصان ملک و قوم کا ہوتا ہے نہ ملک ترقی کرتا ہے او رنہ عوام کے بنیادی مسائل حل ہوتے ہیں۔ نہ جمہوریت مستحکم ہوتی ہے جن سیاسی لیڈروں کی اپنی ہی جماعتوں میں یزیدی ٹولے موجود ہیں اور اپنے قائدین کے مخبر ہوں وہ قائدین اپنی مقبولیت کھو بیٹھتے ہیں ۔ ہر سیاسی جماعت میں مخبروں کی لائن لگی ہے۔
    بقول شاعر نہ لو انتقام میرے ساتھ ساتھ چل کے۔
    ہماری سیاست اور جمہوریت کا المیہ یہ ہے کہ ایسے ایسے لوگوں کو ٹکٹ دیا جاتا ہے جن کو پاکستان او رعوام کے بنیادی مسائل کا ادراک ہی نہیں۔ صرف دھواں دھار تقریر کرنے سے سیاستدان نہیں کہلایا جا سکتا ۔ ایسے لوگ مخبر او ر خوشامدی کہلو اسکتے ہیں،سیاستدان نہیں۔

  • سیاسی جوڑ توڑ اور مریم نواز کی ذمہ داری، تجزیہ: شہزادقریشی

    سیاسی جوڑ توڑ اور مریم نواز کی ذمہ داری، تجزیہ: شہزادقریشی

    تجزیہ،شہزاد قریشی
    ملک میں ایک مخلوط حکومت کے لئے سیاسی جماعتیں جوڑ توڑ میں مصروف ہیں تاہم مخلوط حکومت کو ایک بھرپور مزاحمت کرنے والی اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑے گا، پیپلز پارٹی آدھا تیتر آدھا بٹیر والی سیاست کررہی ہے،وفاقی کابینہ میں تادم تحریر شمولیت سے انکاری ہے، آئینی عہدے لینے کا اعلان کرچکی ہے اور وزارت عظمیٰ کے امیدوار شہباز شریف کو ووٹ بھی دینے کا اعلان کرچکی ہے،مریم نواز پنجاب کی پہلی خاتون ہیں جو وزارت اعلیٰ کیلئے نامزد ہوئی ہیں بطور وزیراعلیٰ پنجاب ان پر بڑی ذمہ داری عائد ہوگی کہ وہ مسلم لیگ ن کی مقبولیت میں اضافہ کرنے کے لئے پنجاب میں گڈ گورننس کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں،

    پنجاب کی اکثریت کا روزانہ سول انتظامیہ اور پولیس سے واسطہ پڑتا ہے اگر صوبے میں میرا ڈی پی او میرا سی پی او میرا ڈپٹی کمشنر‘ کمشنر کے روایتی تبادلے کروانے والے ایم پی اے اور ایم این اے کی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے ان کی سفارشات پر عمل کریں گی تو پھر پنجاب میں گڈ گورننس پر سوالیہ نشان ہوگا جبکہ مسلم لیگ ن کی مقبولیت بھی نہیں ہوگی، صوبے کے دو افسران چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو فری ہینڈ دیں اور وہ اپنی مرضی کے مطابق پنجاب بھر میں تعیناتیاں کریں اور وہ وزیراعلیٰ پنجاب اور ان کی مقررہ کردہ ٹیم کو ہر ماہ گڈ گورننس کی رپورٹ دیں،یکے بعد دیگرے پنجاب میں حکومتوں کی ناکامی انہی سفارشی ایم پی اے اور ایم این اے کی بدولت ہوئی، لاکھوں کا نذرانہ دے کر اپنی من پسند کی جگہ تبادلہ کروا کر مسلم لیگ ن اور وزیراعلیٰ کی گڈ گورننس کے لئے ایک سوالیہ نشان ہوں گے، نامزد وزیر اعلی کو صوبے کی سول انتظامیہ اور پولیس افسران کو عوام کی خدمت اور ہر خواص و عام کے لئے دروازے کھلے رکھنے اور فرائض کی کما حقہ ادائیگی کاپابند بنانا ہوگا، قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو وقت کی قدر کرتی ہیں اگر صوبے کے افسران دن گیارہ بجے دفتر پہنچیں گے تو پنجاب میں گڈ گورننس کیسے قائم ہوگی۔

  • تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    نام کتاب : زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر
    فضائل ، احکام ومسائل
    مئولف : حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ،نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال، لاہور
    صفحات : 135
    قیمت : 220روپے
    برائے رابطہ : 042-37324034
    شعبان اور رمضان المبارکی آمد آمد ہے ۔ ان مہینوں میں مسلمان اپنے مال ، زیورات ،سوناچاندی میں سے زکوٰۃ نکالتے ہیں ۔زکوٰۃ ۔۔۔اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے ۔یہ نہایت ہی اہم فریضہ ہے جو نہ صرف مال کو پاک کرتا بلکہ مال کو بڑھاتا بھی ہے جبکہ پاکیزہ مال انسان کی صحت سلامتی اور جان ومال میں برکت کااہم ذریعہ ثابت ہوتا ہے ۔ زکوٰۃ جس قدر اہم فریضہ ہے ہمارے مسلمان بھائی بہنیں اس کے نصاب ، مسائل اور فضائل سے اتنے ہی لاعلم ہیں ۔ پیش نظر کتاب ’’ زکوٰۃ ، عشر اور صدقۃ الفطر اسی موضوع پر ایک اہم پیشکش ہے جسے دینی کتابوں کی اشاعت کے عالمی ادارہ ’’ دارالسلام‘‘ نے اپنے روایتی تزک واحتشام ، خوبصورت جاذب نظر ٹائٹل کے ساتھ شائع کیا ہے ۔ کتاب کے مصنف مفسر قرآن ، جید عالم دین اور اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق رکن حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم ہیں۔ حافظ صلاح الدین یوسف کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں وہ جس موضوع پر لکھتے تو قرآن وحدیث کی روشنی میں لکھنے کاحق ادا کردیا کرتے تھے ۔ یہ کتاب اپنے موضوع کے تمام پہلوئووں کاکماحقہ احاطہ کئے ہوئے ہے ۔

    حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم نے زکوٰۃ ، عشر ، صدقۃ الفطر اور ان سے متعلقہ کسی بھی موضوع کوتشنہ نہیں چھوڑا ۔ کتاب میں بتایاگیا ہے کہ زکوٰۃ کے دو پہلو ہیں ۔ عبادت ہونے کے اعتبار سے اس کاتعلق حقوق اللہ سے ہے اور چونکہ اس سے بندگان الہی بھی مستفید فیض یاب ہوتے ہیں ، لاکھوں کروڑوں فقرا ومساکین ، یتامیٰ ، بیوگان ، معذور اور اپاہج قسم کے افرادکے معاشی مفادات بھی زکوٰۃ سے وابستہ ہیں ۔ اس لحاظ سے زکوٰۃ کاتعلق حقوق العباد سے بھی ہے ۔ اس سے زکوٰۃ کی اہمیت وافادیت واضح ہے ۔ اس کے عبادت ہونے کامطلب یہ ہے کہ اس کی ادائیگی سے انسان کو اللہ کاخصوصی قرب اوراس کی رضا حاصل ہوتی ہے ، مال بڑھتا اور پاک ہوتا ہے ۔ اس کادوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ معاشرے کے معذور اور نادار افراد کی معاشی کفالت کابھی ایک بہت بڑاذریعہ ہے ۔ جس سے ایک انسان کے دل میں ضرورت مندوں کی خبرگیری اوران کی خیرخواہی کاجذبہ بیدارہوتا ہے ۔ چارابواب پر مشتمل کتاب میں بتایاگیا ہے کہ اسلام میں زکوٰۃ کی اہمیت وافادیت کیا ہے ؟ زکوٰۃ نہ دینے کے لئے کیا وعید ہے ؟ زکوٰۃ کے علاوہ دیگر صدقات ، اجتماعی طور پر زکوٰۃ کی تقسیم کے فوائد ، زکوٰۃ وصول کرنے والوں کے لئے نبی ﷺ کی کیا ہدایات ہیں ، کیا مقروض پر زکوٰۃ ہے یانہیں ؟ مشینری پر زکوٰۃ ، سونے ، چاندی ، زیور ، مال تجارت ، نقدی، زرعی پیداوار ، پھلوں کانصاب کتنا ہے، مال ِ تجارت میں زکوٰۃ کی ادائیگی کاطریقہ کار کیا ہے ، پھلوں اور غلوں کے نصاب کاوقت کیا ہے ؟ جانوروں کی زکوٰۃ کی تفصیل ؟ مصارف زکوٰۃ کیا ہیں ؟ وہ افراد جن کے لئے زکوٰۃ جائز نہیں ۔ صدقۃ الفطر کے کیامسائل ہیں ۔۔۔؟

    کتاب میں بتایا گیا ہے کہ مسلمان معاشروں میں معاشی ناہمواری انتہاکو پہنچی ہوئی ہے ایک طرف دولت کے جزیرے آباد ہیں اور دوسری طرف غربت وناداری کی گہرائیاں ہیں ۔ گداگری کی لعنت عام ہے ، سفید پوش قسم کے لوگوں سے تعاون کاکوئی آبرومندانہ انتظام نہیں ، گردش دولت کی وہ صورت نہیں ہے جواسلام میں مطلوب ہے بلکہ دولت جمع کرنے کی ہوس ہے جواسلام میں بالعموم ناپسندیدہ ہے ، باہم تعاون کی وہ کیفیت نہیں جن کااہتمام زکوٰۃ کے ذریعے سے کیاجاتاہے اور کلمۃ اللہ کی سربلندی کاوہ اہتمام بھی نہیں ہے جوزکوٰۃ کے ایک مصرف فی سبیل اللہ کے قدرے وسیع مفہوم ومطلب کاتقاضہ ہے ، اسی طرح تالیف قلب کابھی خاص اہتمام نہیں ہے جس کے ذریعے سے غیر مسلموں کواسلام کی طرف راغب کیاجاسکے ۔ اس کتاب میں ان تمام پہلوئووں کو بھی اجاگر کیاگیا ہے جوعلماکے لئے بھی قابل غورفکر ہیں اور ارباب بست وکشاد کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہیں۔ کتاب کے آخر میں زکوٰۃ کاانکار کرنے والوں کاافکار ونظریات کاذکر اور بالخصوص غلام احمد پرویز کے اشتراکی نظریہ کاقرآن وحدیث کی روشنی میں جائزہ لے کر ان کارد کیاگیا ہے ۔ اس طرح سے اس کتاب کی اہمیت وافادیت کئی گنابڑھ گئی ہے جو کہ اہل اسلام کے لئے ایک گرانقدر ہدیہ سے کم نہیں ہے ۔ شعبان اور رمضان کے ایام شروع ہونے سے پہلے اس کتاب کاہر صاحب ِ نصاب زکوٰۃ فرد کے پاس ہونا مفید ہے ۔

  • سعودی عرب میں 3لاکھ 47ہزار 6سو 46افراد حلقہ بگوش ِ اسلام ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    سعودی عرب میں 3لاکھ 47ہزار 6سو 46افراد حلقہ بگوش ِ اسلام ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    کچھ خبریں اور باتیں ایسی ہوتی ہیں جنھیں سن کر ایمان بڑھ جاتا اور دل خوشی سے بھر جاتا ہے ۔ انہی میں سے ایک نہایت ہی خوش کن اور خوش آئند خبر یہ ہے کہ سعودی عرب میں 3لاکھ 47ہزار 6سو 46افراد حلقہ بگوش ِ اسلام ہوئے ہیں۔ یہ ایمان افروز خبر سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے دنیا کو بتائی اور سنائی ہے ۔ بلاشبہ یہ بہت ہی خوشی کی خبر ہے جس پر ہم خادم الحرمین ملک سلمان بن عبدالعزیز ، ولیعہد محمد بن سلمان اور سعودی عوام کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس سعی کو قبول فرمائے ۔دریں حالات جبکہ عالم اسلام سخت ابتلاءوآزمائش کا شکار ہے ان حالات میں اس خبر سے اہل اسلام کے حوصلے بلند ہوئے اور دل خوشی ومسرت سے لبریز ہوئے ہیں ۔اس نوید مسرت سے ایک طرف اسلام کی صداقت وحقانیت واضح ہورہی ہے تو دوسری طرف مملکت سعودی عرب کے حکمرانوں کی اسلام کے ساتھ بے پایاں محبت بھی واضح ہے۔یہ خبر اس امر کااظہار بھی ہے کہ سعودی معاشرہ اور سعودی عرب کے حکمران اسلام کے سچے خادم ہیں ، اسلام سے محبت کرتے ہیں اور اسلام کی تبلیغ واشاعت کےلئے تمام وسائل بروئے کار لارہے ہیں ۔جس مقصد کی خاطر سعودی عرب معرض ِ وجود میں آیا آج بھی اس پر قائم ہے ۔سعودی عرب کے بانیوں نے اپنے ملک کے قیام کے وقت اللہ سے جو وعدے کئے تھے۔۔۔۔۔ آج بھی ان ۔۔۔۔۔ وعدوں پر کاربند ہیں ۔

    اب ہم آتے ہیں اصل موضوع کی طرف ۔ مضمون کی ابتدا میں ہم سعودی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ کی پریس کانفرنس کا ذکر کرچکے ہیں ۔ ڈاکٹر عبد اللطیف نے حلقہ بگوش اسلام ہونے والوں کی جو تفصیل بتائی اس کی ترتیب درج ذیل ہے :سال 2019ءمیں 21654افراد نے اسلام قبول کیا۔ سال 2020ءمیں 41441افراد حلقہ بگوش اسلام ہوئے ، سال2021ءمیں3 2733 افراد شرف ِ اسلام سے سرفراز ہوئے ، سال 2022ءمیں 93899افراد نے اسلام قبول کیاجبکہ سال 2023ءمیں 163319 افراد شرف ِ اسلام سے سرفراز ہوئے اس طرح اسلام قبول کرنے والوں کی مجموعی تعداد 3لاکھ 47ہزار 6سو 46بنتی ہے۔ یہ اعداد وشمار صرف 2019ءسے ابتک کے ہیں ۔ اگر سعودی عرب کے قیام سے ابتک اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد جمع کی جائے تو بلاشبہ وہ کروڑوں میں بنتی ہے ۔ اسی طرح دوسرے ممالک میں سعودی داعی اور مبلیغین کی کوششوں سے بھی ہر سال ہزاروں لوگ حلقہ بگوش اسلام ہورہے ہیں ۔۔۔ ۔جیسا کہ یہ بات پہلے ذکر ہوچکی ہے کہ سال 2023ءسعودی عرب میں ایک لاکھ 63ہزار3ہزار 3سو19افراد حلقہ بگوش اسلام ہوئے ہیں ۔ اگر اس تعداد کو سال کے 365دنوں پر تقسیم کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سعودی عرب میں ایک دن میں 447افراد نے اسلام قبول کیا جو کہ الحمد للہ بہت بڑی تعداد ہے اور یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں روزانہ کی بنیاد پر اتنی تعداد میں لوگ اسلام قبول نہیں کررہے ہیں ۔

    سعودی عرب میں ہر سال بڑی تعداد میں غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہورہے ہیں تو اس کی بہت سی وجوہات ہیں مثلاََ یہ کہ سعودی عرب کے حکمران اسلام سے محبت کرتے ہیں ۔ حکومتی سطح پر بھی اور عوامی سطح پر بھی اسلام کی تبلیغ واشاعت کےلئے کوششیں کی جاتی ہیں۔ حکومتی سطح پر مملکت کے ہر خطے میں داعی اور مبلغین تعینات کئے گئے ہیں ۔اسی طرح سعودی عرب کے اہم ترین کارنامے جو دنیا بھر میں اسلام کی تبلیغ واشاعت کےلئے بے حد ممد ومعاون ثابت ہورہے ہیں ان میں سے چند ایک یہ ہیں ۔۔۔۔

    اولاََ۔۔۔۔۔ سعودی حکومت نے قرآن مجید کی تعلیمات کو عام کرنے کا خاص اہتمام کررکھا ہے۔اس مقصد کی خاطر خادم الحرمین الشریفین شاہ فہد بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ نے اپنے دور میں ” کنگ فہد قرآن پرنٹنگ کمپلیکس “ کے نام سے مدینہ منورہ میں ایک عظیم الشان اشاعتی ادارہ قائم کیا جو بلاشبہ دنیا بھر میں قرآن مجید کی طباعت واشاعت کا سب سے بڑا ادارہ ہے ۔ اس مبارک پراجیکٹ کا سنگ بنیاد 2 نومبر 1982 ءمیں رکھاگیا ۔ یہ کمپلیکس فن تعمیر کا دلکش اور خوبصورت شاہکار ہے۔ اس پرنٹنگ کمپلیکس میں اعلی معیار کے اور غلطیوں سے پاک قرآن مجید کے نسخے طبع کرکے پوری دنیا میں مفت تقیم کیے جاتے ہیں۔ قیام سے لے کر اب تک اس کمپلیکس سے مختلف انواع سائز کے کروڑوں کی تعداد میں 40سے زبانوں میں نسخے شائع ہو چکے ہیں ۔ شاہ فہد رحمہ اللہ علیہ نے قرآن مجید کو گھر گھر پہنچانے اور اس کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے دنیا کی مختلف زندہ زبانوںمیں اس کے ترجمے و تفاسیر اور اس کی توضیح اور تقسیم کر کے کے جو عظیم کارنامہ سرانجام دیا ہے وہ قیامت تک یاد رکھا جائے گا ۔ قرآن مجید کی طباعت واشاعت کے علاوہ کتب ِ تفاسیر واحادیث اور دیگر کتب بھی شائع کرکے مفت تقسیم کی جاتی ہیں جن پر ہر سال کروڑوں ریال خرچ کئے جاتے ہیں ۔

    ثانیاََ۔۔۔۔ دینی تعلیم کے فروغ کے لیے 1944ءمیں جامعہ ازہر کی طرز پرمدینہ منورہ میں” الجامعة الاسلامیہ “ کے نام سے یونیورسٹی قائم کی جواس وقت علوم اسلامیہ کے فروغ میں اسلامی دنیاکی سب سے بڑی یونیورسٹی بن چکی ہے جہاں پوری دنیاسے طلبہ تعلیم حاصل کرنے کے لئے آتے ہیں اور حصول کے بعد سعودی عرب سمیت دنیا بھر میں اسلام کی تبلیغ واشاعت کا فریضہ انجام دیتے ہیں ۔

    ثالثاََ۔۔۔۔۔ سعودی حکومت نے اپنی مملکت سمیت پوری دنیا میں مستقل بنیادوں پراسلام کے مراکز ، مساجد اور مدارس قائم کئے ہیں جن میں داعی ، مبلغین ، اساتذہ کرام، قرائے عظام اور علمائے کرام اور مبعوث تعینات کئے گئے ہیں جن کی تعداد کئی ہزار ہے۔ ان کی سرپرستی سعودی حکومت اور سعودی خیراتی ادارے کرتے ہیں۔ یہ مبلغین ومعلمین خالص توحید اور قرآن و سنت کی روشنی میں لوگوں کو صحیح عقیدے کی دعوت دیتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ اپنے عقائد کی اصلاح کرتے اور مشرف بہ اسلام ہوتے ہیں۔

    رابعاََ ۔۔۔۔۔۔مملکت سعودی عرب میں دعوت وتبلیغ کیلئے 457 دینی ودعوتی جمعیتیں اور این جی اوز مختلف خطوں میں سرگرم عمل ہیںجو مملکت میں روزگار کےلئے غیر مسلموں کو اور سعودی عرب میں بغرض ِ سیاحت آنے والے غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دیتی ہیں ۔

    آخر میں اس بات کا ذکر بھی بے حد ضروری ہے کہ کچھ لوگ مملکت سعودی عرب کے بارے میں پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ محمد بن سلمان اب سعودی عرب کو یورپ بنا رہے ہیں، دین اسلام کو مٹا رہے ہیں، مگر وہاں تو عملاً اس جھوٹے پروپیگنڈے کے برعکس کام ہو رہا ہے، اس سے پہلے کسی بھی سعودی بادشاہ کے دور میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ مسلمان نہیں ہوتے تھے جس قدر پچھلے چند سالوں میں ہوئے ہیں اور دن بہ د ن اسلام لانے والوں کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے، مطلب یہ ہوا کہ سعودی عرب میں اب دعوت دین پر پہلے سے زیادہ سنجیدگی سے اور بہتر انداز میں ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ سعودی حکومت اور وہاں کے سلفی علماءکی دین اسلام کی اشاعت کیلئے محنتوں کو قبول فرمائے اور رب کریم انہیں اس باسعادت مشن کیلئے مزید آگے سے آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین !

  • معاشی، معاشرتی،اخلاقی،سیاسی زوال کیوں؟ کبھی سوچا، تجزیہ: شہزاد قریشی

    معاشی، معاشرتی،اخلاقی،سیاسی زوال کیوں؟ کبھی سوچا، تجزیہ: شہزاد قریشی

    ہم پچیس کروڑ عوام شاہ سے لے کر فقیر تک ملکی حالات کو لے کر پریشان رہتے ہیں اور اپنے اوپر آنے والے زوال کی وجوہات کی تلاش میں رہتے ہیں اور یہ زوال مختلف شکلوں میں آتا ہے ۔کبھی معاشی زوال، کبھی معاشرتی زوال ، کبھی اخلاقی زوال، کبھی سیاسی زوال، حیرت ہے آخر ہم سے کون سا گناہ سرزد ہو گیا ہے کہ ہم پر ہی زوال آتاہے۔ منبر و محراب سے دعائوں کی صدائیں بھی سنائی دیتی ہیں پھر بھی زوال۔ تلاش کرنے پر ثابت ہوتا ہے کہ ہم نے من حیث القوم خدا اور اس کے رسول ؐ کی نافرمانی کی حد تو کراس نہیں کر لی؟ ہم مسلمان ہونے کے دعویدار ہیں۔ کیا واقعی ہم خدا پاک کے بنائے قانون پر عمل کررہے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر ہر کسی زوال کے ہم مستحق ہیں۔

    یاد رکھیئے! سرزمین پاکستان پر اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اور اللہ ہی اس کا حاکم حقیقی ہے۔ کمال ہے اس زمین پر بسنے والے چند جاگیرداروں ، وڈیروں، صنعتکاروں، دولتمندوں نے خدا کی مخلوق کی زندگیوں کو عذاب بنا کر رکھ دیا ہے۔ اقتدار اور اختیارات کی دوڑ میں اللہ تعالیٰ کے بنائے قانون کو پس پشت ڈال کر اپنی موت سے بے خبر انسانوں نے خدا کی زمین پر اپنے مرضی کے قانون نافذ کر دیئے۔ اللہ تعالیٰ حد کراس کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اس وقت ہمارا داخلی بحران، قومی معاملات ذاتیات اور خاندانوں پر مبنی سیاستدانوں نے پس پشت ڈال کر ذاتی مفادات، اختیارات اور اقتدار کی جنگ شروع کر دی ہے۔

    حیرت ہے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو صوبائی سطح پر حکومتیں بنانے کا مینڈیٹ عوام نے دے دیا ہے حکومتیں بنائیں مخلوق خدا اور خدا کی ملکیت زمین کی خدمت کریں عوام کو درپیش مسائل اور ریاستی مسائل کو حل کریں عوام نے تو الیکشن میں سب کو برابر پیار دیا اب کس سچے پیار کی کی تلاش میں ہیں؟

  • انتخابات ہو گئے،وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں مقابلہ جاری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    انتخابات ہو گئے،وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں مقابلہ جاری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    قومی انتخابات کا مرحلہ مکمل ہو گیا۔ سیاسی جماعتوں اورمذہبی جماعتوں سمیت آزاد امیدواروں جن کو پی ٹی آئی کی حمایت تھی کامیاب ہو گئے ہیں۔ ایک بہت بڑی تعداد آزاد امیدواروں کی ہے، نوازشریف چوتھی مرتبہ وزیراعظم بنتے دکھائی دے رہے ہیں یا نہیں جبکہ تادم تحریر بلاول بھٹو بھی اس دوڑ میں شامل ہیں۔ وزارت عظمیٰ کے لئے دوڑ شروع ہو چکی ہے۔ آصف علی زرداری آزاد امیدواروں سے رابطے کرر ہے ہیں تاہم نوازشریف نے پاکستان کو مشکل سے نکالنے کے لئے سب کو دعوت دی ہے۔ انہوں نے آزاد امیدواروں کو بھی دعوت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کی ذمہ داری صرف میری اور اسحاق ڈار کی نہیں سب پر ذمہ داری ہے۔

    امریکہ میں بھی صدارتی انتخابات کا وقت قریب ہے امریکی عوام بے چین ہے اور وقت کا انتظار کر رہے ہیں بائیڈن کا دور مہنگائی اور جنگوں کا غلبہ رہا۔ بائیڈن اور ٹرمپ ایک دوسرے کیخلاف برسر پیکار ہیں امریکہ اور امریکی عوام کے مفادات کے لئے دونوں میں کون فیورٹ ہے اس کا پوری دنیا کو انتظار ہے تاہم امریکی عوام کا اور صدارتی امیدواروں کا انحصار گیتوں پر نہیں منشور پر ہے ملک کی تمام جماعتوں نے منشور دیا مگر کیا کہنے پاکستان قوم کے منشور پڑھنے کے بجائے انتخابی گیتوں پر انحصار کیا کس جماعت کا گیت اور فنکار اچھا ہے تاہم ہماری انتخابی مہم کا دار و مدار منشور نہیں گیتوں پر رہا ہے۔ جو قوم کئی سالوں سے بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ سے ذہنی و مالی اذیت کا شکار ہے وہ الیکشن میں اگر منشور کے بجائے گیتوں پر انحصار کرے گی تو پھر ایسی قوم کا خدا ہی حافظ ہے ۔

  • تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    نام کتاب : واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات
    مئولف : حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور
    صفحات : 122
    قیمت : 190روپے

    پیش نظر کتاب ’’ واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات ‘‘ مفسر قرآن ، بزرگ عالم دین حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم کی تصنیف ہے جسے دینی کتابوں کی اشاعت کے عالمی ادارہ ’’ دارالسلام ‘‘ نے شائع کیا ہے ۔ یہ کتاب اگرچہ حجم میں مختصر ہے لیکن اپنے موضوع پر ایک جامع، مستند داور علمی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہی ۔ کتاب چھ ابواب پر مشتمل پر ہے ۔ پہلے باب میں بتایاگیاہے کہ معراج کے دو حصے ہیں پہلے کو ’’ اسرا ‘‘ اور دوسرے کو ’’ معراج ‘‘ کہاجاتا ہے ۔ واقعہ معراج کشف ، مشاہدہ یا خواب کا واقعہ نہیں بلکہ روح اور بدن کے ساتھ عالم بیداری کاواقعہ ہے ۔ کتاب کے دوسرے باب میں واقعہ معراج کی بابت تمام صحیح احادیث یکجا کردی گئی ہیں ۔ بعدازاں ان تمام احادیث کی توضیح بھی بیان کردی گئی ہے جس سے ایک عام قاری کے لئے واقعہ معراج کو سمجھنا انتہائی آسان ہوجاتا ہے ۔ شب معراج میں نماز کی فرضیت کی حکمت پر بات کی گئی ہے ۔ یہ بھی بتایاگیا ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ میں اللہ نے امت محمدیہ کونماز کے علاوہ بھی دیگر دو تحفے دیے ہیں ۔ تیسرے باب میں تفصیل کے ساتھ مشاہدات ِ معراج یعنی روئت باری تعالیٰ اور ا للہ سے کلام کاذکر کیاگیا ہے۔ قائلین روئت باری تعالیٰ کے دلائل اور ان کاتجزیہ بیان کیاگیا ہے ۔چوتھے باب میں معراج کی عظیم نشانیاں ، حضرت موسی علیہ السلام کو قبر میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا ، داروغہ جہنم ، دجال کامشاہدہ ، نہر کوثر کامشاہدہ ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کاامت محمدیہ کے نام خصوصی پیغام ، سینگی لگوانے کی اہمیت اور دیگر امورکاذکر کیاگیا ہے ۔ پانچویں باب میں جہنم کے مشاہدات یعنی غیبت کرنے والوں ، بے عمل خطبا کاانجام اور ناقۃ اللہ ( حضرت صالح علیہ السلام ) کی اونٹنی کے قاتل کے انجام کے مشاہدے کاذکر کیاگیا ہے ۔ چھٹے اور آخری باب میں واقعہ معراج کے بارے میں ایسے تمام واقعات جمع کردیے گے ہیں جو اگرچہ بہت مشہور ہیں لیکن غیر مستند ہیں ۔ کتاب میں یہ بھی بتایاگیا ہے کہ واقعہ معراج ہمارے پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد رسول ﷺ کا ایک عظیم الشان معجزہ ہے، یہ عظیم تر معجزہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے جو چشم زدن میں رونما ہوا لیکن حقیقت میں اس میں کتنا وقت لگا یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں۔واقعہ معراج دنیا کاایک ایسا واقعہ ہے کہ جس کا وقت مختصر ترین ہے لیکن سفر دنیا کاطویل ترین ہے ایسا طویل ترین سفر کہ جسے کسی پیمانے کے ساتھ ماپا نہیں جاسکتا ۔ ہماراایمان ہے کہ یہ سب ہوا۔۔۔۔لیکن یہ سب کیسے ہوا ۔۔۔ کیوں کر ہوا ۔۔۔۔اس کے بارے میںہمارا اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ۔ اس واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی قدرت کاملہ کے بیشمار مشاہدات بھی کروائے ۔واقعہ معراج کا ثبوت اور ذکر قرآن کریم اوراحادیث صحیحہ دونوں میں ہے ۔ لیکن مسلمانوں کا ایک گروہ ایسا ہے جو اسے ایک کشفی ، روحانی یا خواب کے مشاہدے سے تعبیر کر کے اسکی معجزانہ حیثیت کا انکار کرتا ہے ۔ ایک دوسراگروہ ہے جو اس میں بہت سی بے سرو پار وایات شامل کر کے اسے کچھ کاکچھ بنا دیتا ہے ۔ ظاہر بات یہ ہے کہ دونوں ہی گروہ افراط و تفریط و شکار ہیں ۔اردو زبان میں اس موضوع پر آج تک کوئی مستند اور معیاری کام نہیں ہوا جس کی تشنگی مدت اور شدت سے محسوس کی جارہی تھی ۔ خاص طور پر روایات عامہ کی صحت و ضعف کا خیال رکھتے ہوئے اس واقعے کے حقائق بیان کرنا وقت کی اہم ضرورت تھی ۔ یہ بڑی مسرت کی بات ہے کہ اس اہم موضوع پر بر گزیدہ عالم دین ، مصنف کتب ِ کثیرہ ، مفسر قرآن الشیخ حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم نے قلم اٹھایا اور علم ونظر کے اعلیٰ پیمانے اور تحقیق و جستجو کی کسوٹی پر رکھ کر یہ واقعہ مستند حقائق سمیت قارئین کے سامنے پیش کر دیاہے۔اردو زبان میں پہلی کتاب ہے جو واقعہ معراج کو اس کے صحیح تناظر میں پیش کرتی اور اس کے واقعاتی مشاہدات کو غیر مستند روایات سے ممیز کرتی ہے ۔ دارالسلام نے اپنے روایتی معیار طباعت کے مطابق یہ کتاب نہایت خوبصورت پیرائے میں شائع کی ہے ۔یہ کتاب ہر لائبریری ، خطیب ، واعظ کی ضرورت ہے عام آدمی کے لئے بھی اس کتاب کا مطالعہ بہت مفید ہے ۔ کتاب کی قیمت 135روپے ہے ۔ یہ کتاب دارالسلام کے مرکزی شوروم لوئر مال نزد سیکرٹریٹ لاہور پر دستیاب ہے یا براہ راست کتاب حاصل کرنے کے لئے درج ذیل فون نمبر 042-37324034پر رابطہ کیاجاسکتا ہے ۔ اس کتاب میں پہلی مرتبہ یہ کوشش کی گئی ہے کہ روایات معراج کی توضیح اس انداز سے کی جائے کے واقعے کی صحیح شکل واضح ہوکر سامنے آجائے ۔ عام طور پر اس کے لئے ’’ معراج‘‘ کالفظ استعمال کیا جاتاہے

  • انتخابات،پہلے مشکلات اور پھر امیدیں،تجزیہ: شہزاد قریشی

    انتخابات،پہلے مشکلات اور پھر امیدیں،تجزیہ: شہزاد قریشی

    عین الیکشن کے وقت الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوالات کا اٹھنا درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ شفاف الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے پریزائیڈنگ آفیسرز سے حلف اٹھانے کے بعد الیکشن کے عمل کا آغاز ایک احسن اقدام ہے۔ ملک کی سیاسی و مذہبی جماعتیں الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے نعروں سے فضا گونج رہی ہے مگر ملک کی ترقی آسان نہیں ہے۔ جب تک ملکی وسائل، تعلیم پر خصوصی توجہ نہیں دی جائے گی ترقی ممکن نہیں۔

    پاکستان زرعی ملک ہے اس پر توجہ کی ضرورت ہے اس وقت ملک کی بظاہر تین بڑی سیاسی جماعتیں آمنے سامنے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی، جبکہ مذہبی جماعتوں میں جماعت اسلامی، تحریک لبیک، جمعیت علمائے پاکستان، تمام جماعتوں کے حامی اپنے قائدین کو معاشی بحران سے دوچار پاکستان کو آخری امید کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ آخری امید سے مرادمعیشت کو مستحکم کرنے والا قائد، پاک فوج اور جملہ اداروں کا کردار ملکی سلامتی ملکی بقا پر مرکوز ہے جس کا بھرپور عملی مظاہرہ ایران سے ہونے والی دراندازی پر منہ توڑ جواب دے کر کیا گیا۔ آٹھ فروری کے بعد منتخب ہونے والی سیاسی جماعت کو ملکی معیشت پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے عوام مہنگائی ، نوجوان بیروزگاری اور دیگر معاشرتی مسائل میں مبتلا ہیں ان کو مسائل سے نکالنے کی ذمہ داری نئی حکومت پر ہوگی۔ آیئے نئے وزیراعظم عہد کریں، ملک و قوم کے مسائل کو حل کرنے کا عہد کریں۔

  • اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور،سیکنڈل اور حقائق،تحریر: ارشاد احمد ارشد

    اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور،سیکنڈل اور حقائق،تحریر: ارشاد احمد ارشد

    پاکستان کی معروف قدیمی درس گاہ ۔۔۔۔اسلامیہ یونیورسٹی بہالپور اور اس کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کو بدنام کرنے کےلئے جو جھوٹ بولے گئے ۔۔۔وہ سب غلط ثابت ہوئے ہیں ۔ ڈاکٹر اطہر محبوب اور یونیورسٹی کو بدنام کرنے کا اسیکنڈل جب منظر عام پر آیا تو اسی وقت ہی معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والا ہر شخص سمجھ گیا تھا کہ یہ سازش ہے اور الزام تراشی ہے ۔اس کے بعد جو حقائق منظر عام پر آئے اور خاص کر وزیر اعلیٰ پنجاب کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے جو ٹربیونل بنایا اس نے بھی اپنی آزادا نہ تحقیقات کے بعد یہ بتا دیا ہے کہ آئی یو بی کو بدنام کرنے کےلئے جو سکینڈل بنایا گیا وہ سب جھوٹ تھا ۔
    اب آئیں مختصراَ َ اس واردات کا جائزہ لیتے ہیں ۔ کسی بھی ادارے میں انتظامی اعتبار سے چیف سکیورٹی آفیسر کا عہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، چیف سکیورٹی آفیسر ادارے کے حفاظتی معاملات کا ذمہ دار ہوتا ہے ۔لہذا ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سب سے پہلے یونیورسٹی کے چیف سکیورٹی آفیسر ریٹائرڈ میجر اعجاز شاہ کو ٹارگٹ کیا گیا۔ اس مقصد کےلئے جو سیکنڈل گھڑا گیا وہ یہ تھا کہ یونیورسٹی کے چیف سکیورٹی آفیسر سے منشیات اور اس کے موبائل سے 5,500 یونیورسٹی کی طالبات کی نازیبا ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں اس سے یہ تاثر دینا مقصود تھا کہ یونیورسٹی کا چیف سیکورٹی آفیسر ایک جرائم پیشہ اور اخلاق باختہ شخص ہے ۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر یونیورسٹی کے کچھ دیگر سٹاف کے بارے میں تواتر کے ساتھ منشیات اور ویڈیوز برآمدگی کی خبریں چلائی گئیں جنھیں اور سن کر یوں لگتا تھا جیسے یونیورسٹی میں اساتذہ اور سٹاف نہیں اٹھائی گیر ہیں اور یہ اسلامیہ یونیورسٹی نہیں بلکہ جرائم پیشہ افراد اور منشیات کا اڈاہے ۔

    یہ ایسی ہولناک سازش تھی کہ جس نے ملک بھر میں غم وغصے اور اضطراب کی کیفیت برپا کردی۔ نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی یونیورسٹی کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے ۔ ان حالات میں ضروری تھا کہ اس سازش کا پردہ چاک کیا جاتا چنانچہ ڈاکٹر اطہر محبوب نے سب سے پہلے خود کو اور اپنے سٹاف کو احتساب اور خون ٹیسٹ کروانے کےلئے پیش کیا ۔ آئی جی پنجاب کو مراسلہ لکھ کر آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔کئی ادارہ جاتی کمیٹیاں قائم کی گئیں جن میں جنوبی پنجاب سے ہائر ایجوکیشن کے ممبران بھی شامل کیے گئے تھے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی دو ڈی آئی جی لیول کے پولیس اہلکار اور ایک صوبائی سیکرٹری پر مشتمل ایک اعلی تحقیقاتی کمیٹی بھیجی ۔ ان سب نے مکمل تفتیش اور تحقیق کے بعد کہا کہ اس سکینڈل کا کوئی وجود نہیں ہے نہ کوئی ویڈیو بنی اور نہ برآمد ہوئی ہے ۔ اس سلسلہ میں مزید کاروائی یہ کی گئی کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو ایک حاضر سروس جج کے تقرر کےلئے درخواست ارسال کردی ۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے جسٹس سردار محمد ڈوگر کو بطور ٹربیونل جج نامزد کیا تاکہ وہ یونیورسٹی کے طلبہ کے منشیات استعمال کرنے ،بلیک میلنگ اور جنسی استحصال کرنے کی تفتیش کریں ۔

    جسٹس سردار ڈوگر نے پوری تحقیق کے بعد جو رپورٹ تیار کی اس کے درج ذیل نکات ہیں :
    یونیورسٹی کی حدود میں نہ تو مبینہ منشیات استعمال ہوئیں اور نہ ہی جنسی استحصال ہوا ۔ اور اس ضمن میں کوئی گینگ بھی نہیں پایا گیا جو ایسا ارتکاب کرتا ہو ۔ کسی پکے ثبوت یا شہادت کے بغیر ہی جنسی ہراسگی یا منشیات کے استعمال کے الزام پر پولیس نے اس کیس کو مس ہینڈل کیا اور یوں یونیورسٹی کو بدنام کیا گیا ۔ یوینورسٹی میں طالبات یا ارکان جامعہ کے جنسی ہراسانی یا منشیات کے استعمال میں ملوث ہونے کی خبریں سوشل میڈیا کے لوگوں نے پھیلا ئیں جن سے یونیورسٹی کو بدنام کیا گیا اور طالبات اور پروفیسرز کی عزت اور وقار پر بھی حرف آیا ۔
    ٹربیونل نے درج ذیل افراد کو سازش رچانے کا ذمہ دار ٹھہرایا
    جمشید ڈی ایس پی /سی آئی اے
    ایس ایچ او تھانہ دراوڑ
    سید محمد عباس ڈی پی او بہاولپور
    عبداللہ نامی ٹاﺅٹ پولیس جس کے خلاف کریمنل مقدمے کی سفارش کی گئی
    اقرار الحسن سید ٹی وی اینکر ، یوٹیوبر /ولاگر اور ثاقب مشتاق یوٹیوبر اور بلاگر( لودھراں )

    ٹربیونل نے اپنی رپورٹ نے واضح طور پر لکھا کہ ان ولاگر نے بغیر تصدیق کے ولاگ کئے اور یونیورسٹی کو بدنام کیا ۔
    جسٹس سردار ڈوگر کی اس رپورٹ سے بھی یہ بات بالکل واضح ہورہی ہے کہ آئی یو بی ، اس کے سٹاف سابق وی سی اور طالبات کو ایک دانستہ سازش کے تحت بدنام کیا گیا ہے ۔

    یہاں ایک بہت اہم سوال بھی ہے کہ آئی یوبی کے خلاف یہ گھناﺅنی سازش کیوں کی گئی اور اس کے مقاصد کیا تھے ۔۔۔۔ ؟
    اس کا جواب یہ ہے پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب نے چار سال کے عرصہ میں یونیورسٹی کے تعلیمی اور تدریسی معیار کو بہتر بنانے کےلئے جو کاوشیں کیں ۔۔۔۔انھیں ناکام بنانا مقصود تھا ۔ پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب ایک طرف امریکی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہیں،نامور ماہرِ تعلیم اور مثالی منتظم ہیں تو دوسری طرف وہ دین سے ، قرآن سے ، علما سے اور مساجد سے گہری محبت رکھتے ہیں۔انھوں نے اپنے دور میں یونیورسٹی کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کےلئے بیشمار اقدامات کئے ہیں ۔۔۔مثلاََ طلبہ وطالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کےلئے روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کی خدمات حاصل کی گئیں ، لائق اور ذہین طلبہ کی حوصلہ افزائی کےلئے وظائف جاری کئے گئے،ایسے مفید ڈگری پروگراموں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا جن کی معاشرے میں بہت زیادہ ڈیمانڈ ہے ، طلبہ وطالبات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر متعدد شفٹوں میں کلاسوں کا اجرا کیا گیا ، مختلف کیمپس میں ضروریات کے مطابق سہولیات میں اضافہ ہوا ، آمدو رفت کےلئے پہلے سے موجود ٹرانسپورٹ کی سہولیات کو نہ صرف بہتر کیا گیا بلکہ ان میں اضافہ بھی کیا گیا ، صحت مند سرگرمیوں کے لئے کھیلوں اور دیگر ہم نصابی سرگرمیاں جاری کی گئیں ۔یہ وہ قدامات تھے جنھوں نے ایک طرف یونیورسٹی کے معیار تعلیم کو چار چاند لگا دیے تو دوسری طرف اس کی مقبولیت میں بھی بے حد اضافہ ہونے لگا ۔طلبہ وطالبات جوق در جوق یونیورسٹی کا رخ کرنے کےلئے اور یونیورسٹی کی کلاسز تنگ داماں کا شکوہ کرنے لگیں ۔فیکلٹیز جو پہلے صرف چھ تھیں ان کی تعداد13تک جاپہنچی ۔ پہلے یونیورسٹی میں کل وقتی اساتذہ 400تھے پھر ایک وقت آیاجب کل وقتی اساتذہ کی تعداد 400سے بڑھ کر 1400تک جاپہنچی ۔جب لائق فائق اور اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ یونیورسٹی کی زینت بنے توطلبہ وطالبات کی تعداد میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ۔ ڈاکٹر اطہر محبوب کے اسلامیہ یونیورسٹی میں آنے سے پہلے طلبہ وطالبات کی تعداد صرف 13,000تھی جو 65,000ہزار تک جاپہنچی ۔ اسی طرح ڈاکٹر اطہر محبوب کے اس جامعہ میں آنے سے پہلے طالبات کی تعداد صرف 4000تھی جو 27,000تک چلی گئی ۔ اس کا واضح مطلب یہ تھا کہ ڈاکٹر اطہر محبوب کے یونیورسٹی میں آنے کے بعد والدین کا خصوصاََ بچیوں کے حوالے سے یونیورسٹی پر اعتماد میں اضافہ ہوا ۔

    یہ ہے ڈاکٹر اطہر محبوب کی تعلیمی کاوشوں کا مختصر تذکرہ ۔ ان کاوشوں کی وجہ سے علاقے میں موجود بعض نجی تعلیمی اداروں کے کاروبار مانند پڑنے لگے تھے اس کے ساتھ یہ خبریں بھی گردش کررہی تھیں کہ ڈاکٹر اطہر محبوب کو بطور وی سی مزید توسیع دی جائے گی ۔ اسلئے مبینہ طور پر یونیورسٹی کو بدنام کرنے اور ڈاکٹر اطہر محبوب کا دوسری ٹرم کےلئے راستہ روکنے کی خاطر یہ ڈرامہ پلے کیا گیا ۔حقیقت یہ ہے کہ یہ ڈرامہ جنھوں نے پلے کیاانھوں نے اچھے مسلمان اور شہری ہونے کا ثبوت نہیں دیا بلکہ چند ٹکوں کی خاطر اپنے ہی منہ پر کالک ملی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے عدالتی ٹربیونل نے اس شرمناک ڈرامہ کے جن کرداروں کی نشاندھی کی ہے ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے اور ڈاکٹر اطہر محبوب کو بطور وی سی توسیع دی جائے تاکہ انھوں نے پسماندہ علاقے کی جس یونیورسٹی کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کا جوسفر شروع کیا تھا وہ چلتا رہے ۔

    بہاولپوراسلامیہ یونیورسٹی میں خواتین ٹیچرزکاسی آئی اے پولیس پر ہراسانی کاالزام

    اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور،بزدار دورمیں وائس چانسلرکو نکالنے کی سفارش ہوئی تھی

    سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کو امریکہ جانے سے روک دیا گیا
    irshad arshad