Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • 12 دسمبر، تاریخی دن، تجزیہ، شہزاد قریشی

    12 دسمبر، تاریخی دن، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزا قریشی)
    اگر کوئی پاکستان کی تاریخ لکھ رہا ہے تو اٰسے 12 دسمبر2023 کے دن کو تاریخی دن قرار دے کر لکھنا چاہیئے ۔ آج ایک بین الاقوامی قد آور سیاسی شخصیت سابق وزیرعظم ذوالفقار بھٹو کا کیس یعنی صدارتی ریفرنس عدالت میں زیر سماعت تھا جب کہ ایک سابقہ وزیراعظم جو اس ملک کے تین بار وزارت عظمیٰ پر رہے میاں محمد نواز شریف کا کیس بھی زیر سماعت تھا جبکہ ایک سابقہ وزیراعظم عمران خان کا بھی آج ہی کیس زیر سماعت تھا ۔ اس طرح آج ملک کے تین وزرائے اعظم جن میں ایک اب اس دنیا میں نہیں ہیں اور دو وزرائے اعظم حیات ہیں۔ا ن کے کیس زیر سماعت ہیں۔ بھٹو خاندان مظلوم خاندان ہے ۔ سیاسی سفیر حیات ہیں بھٹو خاندان نے بہت زخم کھائے ، زخم کھاتے کھاتے پورا خاندان منوں مٹی تلے دفن ہو گیا ۔ لیکن آج کی سیاسی گلیاروں میں اقتدار ، اختیارات ، عہدے اور وہ سیاستدان جن کے آبائو اجداد نے 8 ستاروں پر مشتمل قومی اتحاد تشکیل دیا جس کو پی این اے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ سیاسی گلیاروں میں سیاست کرنے والی سیاسی اور مذہبی جماعتیں تاریخ کے اوراق پلٹیں اور دیکھیں کے ان کے آبائو اجداد نے بھٹو جیسے عظیم لیڈر کے خلاف کس کے کہنے پر اور کس بین الاقوامی طاقت کے کہنے پر تحریک شروع کی تھی ؟

    ملکی سیاست کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے وہ گل کھلائے جس سے جمہوریت بھی پناہ مانگتی نظر آئے گی۔ آج کی سیاست پر کالی و سفید دولت کا غلبہ ہے ۔ آڈیو ، ویڈیو اور سوشل میڈیا پر جو گندگی پھیلائی جا رہی ہے کیا اس سے ملک کی معیشت مستحکم ہو گی ؟ دنیا کہاں پہنچ رہی ہے ا ور کہاں پہنچ گئی ہے ۔ ایک دوسرے پر الزام در الزام کی دوڑ میں آگے نکلنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔سیاستدانوں بالخصوص سیاسی جماعتوں کے عمائدین کو کون سمجھائے عروج اور زوال کی داستانوں سے تاریخ بھری پڑی ہے ۔ اگر کوئی تاریخ سے سبق حاصل نہ کرئے تو کیا کہا جا سکا ہے ۔ آج کی سیاست کا دارو مدار ، ایک دوسرے کی مخبری ، اقربا پروری ، مفاد پرستی ، حصول اقتدار ، جاہ و جلال تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔ تاہم آج کی ملکی سیاسی جماعتیں کبھی کبھی سینہ کوبی کرتی نظر آتی ہیں کہ ہمیں سچا پیار نہیں ملا ۔ بھٹو بننے کے لئے بقول اقبال ۔
    ہو صداقت کے لئے جس کے دل میں مرنے کی تڑپ
    پہلے اپنے پیکر خاکی میں جان پیدا کرئے

  • انتخابی دنگل،نظریاتی کارکنان کے حق پر ڈاکے کیوں؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    انتخابی دنگل،نظریاتی کارکنان کے حق پر ڈاکے کیوں؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    الیکشن سے قبل ٹکٹوں کی تقسیم سیاسی نام نہاد رہنماؤں جو ہر ضلع اور ڈویژن کی سطح پر پائے جاتے ہیں اپنی سیاسی جماعتوں کے قائدین اور سیاسی جماعتوں کی مرکزی قیادت کو گمراہ کر کے اپنی دولت میں تو اضافہ کرتے ہیں مگر سیاسی جماعتوں اور اپنی قیادت کی بھی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ ٹکٹوں کی تقسیم میں سودے بازی میں ملوث ہوتے ہیں یہ وہ نام نہاد رہنما ہیں جو حقیقی اور مخلص کارکنان اور نظریاتی شخصیات کے حقوق پر ڈاکے کے مترادف ہے یہ لوگ سیاسی جماعتوں کی ارتقائی پرورش میں بڑی رکاوٹ ہے۔ راولپنڈی ضلع اور ڈویژن میں جاری یہ روش مسلم لیگ (ن) کے کئی نام نہاد رہنما اس میں ملوث ہیں۔ میاں محمد نوازشریف جلاوطنی کی ایک طویل رات گزارنے کے بعد ایسے عناصر سے بخوبی آگاہ ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ انتخابات کی آمد پر مسلم لیگ (ن) کو مکمل بیداری کے ساتھ ایسے نام نہاد سیاسی رہنمائوں کی نہ صرف حوصلہ شکنی کرنا ہوگی بلکہ حقیقی معنوں میں وفادار، اچھی شہرت، رکھنے والی شخصیات کو الیکشن ٹکٹ دینے ہوں گے۔

    مسلم لیگ ن کو یہ پرکھ کرنی ہوگی کہ کون لوگ لینڈ مافیا، کرپٹ پولیس افسران اور جرائم پیشہ حلقوں کے ہم نوالہ رہے ہیں اور کون اپنی جان کی بازی لگا کر پارٹی قیادت کے ساتھ مشکل کھڑے رہے پارٹی قیادت کو دیکھنا ہوگا اپنے نیچے امیدواروں کو اس گارنٹی پر ٹکٹ دلوانے پر کوشاں ہیں کہ ان کے الیکشن کے اخراجات بھی ان کے مرہون منت امیدواران برداشت کریں گے ان لٹیروں کی تلاش اور کرپٹ سہاروں کے بل بوتے پر انتخابی دنگل میں اترنے والے پہلوان حقیقی مخلص کارکنوں کو دوسرے پارٹی عہدیداروں کو مایوس کر دیتے ہیں۔ بلاشبہ کئی رہنمائوں نے جیلیں کاٹی مقدمات کا سامنا کیا لیکن ان سزائوں اور مقدمات میں مسلم لیگ (ن) کو یہ جانچنا ہوگا کون اپنے کردہ جرائم کی وجہ سے جیلوں میں گیا اور کون ناکردہ گناہوں کی سزا محض میاں نوازشریف اور پارٹی قیادت سے وفاداری کی بھینٹ چڑھ گیا۔ سیاسی سفر حیات کے نشیب و فراز سے میاں محمد نوازشریف، مریم نواز اور دیگر پارٹی قیادت سے بہتر کون جانتا ہے۔ شباب کی چوکھٹ پر قیام پذیر افراد کو کیا معلوم جو اپنی معیشت مستحکم کرنے میں مصروف ہیں وہ ملکی معیشت مستحکم کرنے میں کیا کردار ادا کریں گے؟

  • نواز شریف کی مقبولیت،مریم کا کردار،تجزیہ :شہزاد قریشی

    نواز شریف کی مقبولیت،مریم کا کردار،تجزیہ :شہزاد قریشی

    2024ء کی آمد آمد ہے الیکشن کمیشن نے قومی انتخابات کی گھنٹی بجا دی ہے ۔ نوازشریف نے سیاسی گلیاروں میں دوبارہ لندن سے واپسی پر قدم رکھنے کے ساتھ ہی سیاسی جماعتوں سے رابطے تیز کر دیئے۔ تین بار وزیراعظم رہنے والے نوازشریف چوتھی بار وزیراعظم بننے کے لئے سفر کرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ پنجاب کے دیہی علاقوں میں عوام کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اس بات کی گواہی ہے کہ نوازشریف کی مقبولیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ دیہی علاقوں میں عوام کی اکثریت کان لیگ میں شامل ہونا نوازشریف کی ووٹروں پر مسلسل گرفت کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس گرفت کا سہرا ان کی بیٹی مریم نواز کو بھی جاتا ہے جنہوں نے اپنے والد کی سیاست اور مقبولیت کو کم نہیں ہونے دیا پابندیوں کے باوجود وہ اپنے والد کا مقدمہ گلی کوچوں بازاروں میں پہنچاتی رہی۔

    بلاشبہ نواز شریف کے دور حکومتوں میں پاکستان نے حقیقی ترقی کی تھی معیشت کو مستحکم کرنے میں اسحاق ڈار کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ملک میں بڑے بڑے میگا پراجیکٹ موٹرویز، ایرپورٹ ملک کو دفاعی لحاظ سے مضبوطی میں بھی نوازشریف کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھٹو اور پھر محترمہ بینظیر بھٹو نے بھی ملک کو دفاعی لحاظ سے مستحکم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

    بلاشبہ پاکستان ایک مقروض ملک ہے جس کی وجہ سے بین الاقوامی اداروں کا دبائو رہتا ہے اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہماری قومی سلامتی خطرے میں ہے ملکی سلامتی کے ذمہ دار پاک فوج اور جملہ ادارے ملکی سلامتی کو لے کر چاک و چوبند ہیں۔ چین اور امریکہ کے اپنے اپنے مفادات ہو سکتے ہیں لیکن ملک کے ذمہ داران ریاست کے بھی اس ملک کی سلامتی اور بقا کے مفادات ہیں اس سلسلے میں پاک فوج اور جملہ اداروں کی قربانیوں کو فراموش میں کیا جا سکتا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ پاک فوج ملک کو 1971ء کے بحران کی طرف دھکیل رہی ہے جس کی وجہ سے بنگلہ دیش کی علیحدگی ہوئی۔ افسوس صد افسوس ملک میں رہنے والے بعض دانشور، سیاسی تجزیہ نگار، سوشل میڈیا پر عمران خان کی محبت میں ملکی سلامتی اور بقا کو بھی پس پشت ڈال رہے ہیں۔ بلاشبہ عمران خان مقبول سیاسی لیڈر ہیں مگر وہ ہوش نہیں جوش سے کام لینے والے لیڈر ہیں۔ سیاست میں بردباری اور تحمل کی ضرورت ہوتی ہے۔

  • بابری مسجد کاانہدام ۔۔۔غیرت ِ مسلم کا امتحان ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    بابری مسجد کاانہدام ۔۔۔غیرت ِ مسلم کا امتحان ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    6دسمبر1992ء …تاریخ کاوہ دلخراش اور افسوسناک دن ہے جب مسلمانوں کی عظمت کی ایک نشانی‘مغل بادشاہ وسپہ سالار ظہیرالدین بابرکے عہد(1528ء ) کی بنائی گئی 500 سالہ تاریخی بابری مسجد کوانتہاپسنداور جنونی ہندؤوں نے شہیدکردیا۔ان انتہاپسندہندؤوں کادعویٰ تھا کہ بابری مسجد ان کے خداراما(1500 ق م)کی جائے پیدائش ہے‘ یہاں گیارہویں صدی عیسوی میں مندرتعمیر کیاگیاتھا بعدمیں اسے گراکربابری مسجد بنائی گئی۔ ہندؤوں نے بابری مسجد کواپنے خداراما کی جنم بھومی قراردینے کادعویٰ سب سے پہلے 1855ء میں انگریزوں کے دورمیں کیا ‘گویاہندؤوں کوبابری مسجد بننے کے تقریباً350سال بعد اور راما کی پیدائش کے تین ہزار تین سو پچپن (3355)سال بعدپتہ چلا کہ یہ توان کے راماکی جائے پیدائش ہے۔اسی سے اندازہ ہو جاتاہے کہ ان کی تاریخی اور علمی تحقیق کی کیاحیثیت ہے۔ حالانکہ اگربابری مسجد واقعی ان کے خداکی جائے پیدائش ہوتی تویہ بہت مشہور اور یادگار جگہ ہوتی۔جیسا کہ تاریخ میں سومنات اوردیگر مندروں کاذکر توملتاہے لیکن مسلمانوں کے ہاتھوں راماکی جائے پیدائش والے مندر کے توڑنے اوراسے مسجد بنانے کاکہیں حوالہ نہیں ملتا۔ اگر مسلمانوں کے ہاتھوں سومنات اوریگرمندروں کے توڑنے کاذکر کتابوں میں جابجا موجود اور یقینا موجود ہے توپھرراما کی جائے پیدائش والے مندر کے توڑنے کی شہرت توسب سے زیادہ ہونی چاہئے تھی اور تاریخ کی کتب میں جابجا اس کا ذکر بھی ہونا چاہئے تھا ۔

    یہ طرفہ تماشہ نہیں تو اور کیا ہے کہ ایک قوم کے خداکی جائے پیدائش پربناہوامندر ہو اوراس کی شہرت کاذکرتاریخ میں نہ ہونے کے برابر ملے‘اتنی بات ہی ہندؤوں کے دعوے کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے کافی ہے…ویسے ہندؤوں کایہ کیساخدا ہے جوخداہوکربھی اپنی جنم بھومی اورجائے پیدائش کی حفاظت نہ کرسکا اور وہاں اس کے دشمن مسلمان اپنی عبادت گاہ تعمیرکرنے میں بھی کامیاب ہوگئے۔

    بابری مسجد کی شہادت کو آج 31برس مکمل ہوچکے ہیں ۔ یہ مسجد جو کعبہ کی بیٹی تھی ، کبھی ایستادہ تھی ،عالی شان تھی ، اس کی مضبوط بنیادیں تھیں ، موٹی دیواریں تھیں ، گنبد تھے لیکن آج اس کانام ونشان بھی مٹ چکا ہے ۔بابری مسجد کو شہید لکھتے ہوئے قلم کانپتا ہے،دل لرزتا ہے ، آنکھیں بھیگ جاتی ہیں یہ سوچ کر کہ جب گائو ماتا اور بتوں کے پجاری اس کے گنبدوں پر چڑھے ، ان پر کدالیں چلانا شروع کیں تو مسجد چیختی رہی ، کعبے کی بیٹی چلاتی رہی کہ محمود غزنوی کے فرزند کدھر ہیں ؟ ظہیر الدین بابر کے گھوڑوں کے ٹاپوں کی آوازیں کیوں خاموش ہیں ؟ ہندو مجھ پر ہتھوڑے برساتا رہا ، بزدل بنیا مجھ پر لاٹھیاں مارتا رہا ، میرے ان گنبدوں پر چڑھ گیا جن میں کبھی قرآن مجید کی تلاوت اور احادیث کی آوازیں گونجا کرتی تھیں ۔ بابری مسجد چلاتی رہی کہ کوئی ہے جو میری مدد کو پہنچے ، کون ہے جو مجھے گائو ماتا کے پجاریوں سے بچائے ۔ صد حیف مجھے بچانے کیلئے کوئی بھی نہ پہنچا ۔ جس دن بابری مسجد کو شہید کیا گیا اس دن اترپردیش میں کرفیو لگا دیا گیا ۔ اس کے باوجود بھارت کے مسلمان اپنی طاقت ، وسائل اور استعداد کے مطابق جو احتجاج کرسکتے تھے کیا ۔۔۔۔۔۔لیکن 57اسلامی ممالک کے سربراہ خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہے ۔آخر مٹی اور پتھر سے بنے دیوی اور دیوتائوں کے پجاری مسجد کے سینے پر چڑھ گئے۔

    حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں ’’ ہندو توا ‘‘ کا عفریت برہنہ ناچ رہا ہے ۔ بھارت کی اکثریتی ہندو آبادی کی رگ رگ میں مسلم دشمنی سرایت کرچکی ہے یہی وجہ ہے کہ بھارت کے 25 کروڑ مسلمان بھی بے بس ہوگئے جو احتجاج کیلئے نکلے ان پر ہندو بلوائی ٹوٹ پڑے بابری مسجد کی شہادت کے خلاف احتجاج کرنے والے سینکڑوں مسلمان شہید کردیے گئے ۔ جنونی ہندو 75 برس سے مسلسل مسلمانوں کو ذلیل کر رہے اور ان پر حملے کررہے ہیں مگر بھارتی مسلمان اس حد تک کمزور اور بے بس ہوچکے ہیں کہ وہ کسی حملے کا جواب دینے کی ہمت بھی نہیں کرسکتے ۔ ۔ بیچارے بھارتی مسلمانوں سے کیا شکوہ یہاں تو آزاد پاکستان کے مسلمان حکمران بھی اپنے کلمہ گو بھارتی مسلمانوں کے حق میں آواز نہیں اٹھاتے ہیں ۔ان حالات میں بابری مسجد کہتی ہے کہ میں اپنی شہادت کی شکایت کروں تو کس سے کروں ۔۔۔۔۔۔؟ کیا مجال ہے جو تم نے جواب دینے کا سوچا ہو اور میرے لئے آواز اٹھائی ہو ۔ بابری مسجد کہتی ہے اے پاکستان کے مسلمانوں ! ذرا تم بھی تو بتلاؤ تم کیوں چپ سادھے بیٹھے رہے؟ ۔کیا تم نہیں جانتے کہ میں 1828 ء میں اس وقت بنی تھی جب بابر نے ایودیا کو فتح یاب کیا تھا تب بابر نے مجھے فتح کی یاد میں بنایا تھا۔ اس کا مطلب ہے میں اس وقت کی یادگار ہوں جب ہندوستان کے مسلمان مرد ِ میدان تھے مجاہدتھے اور موحد تھے ۔ بابری مسجد کے گرائے جانے کا یہ مطلب ہے کہ آج کے مسلمان مرد ِ میدان نہیں رہے اور ان میں سے جہادی روح ختم ہو گئی ہے ۔میں تو 1949 ء سے انتظار کر رہی ہوں اس وقت سے میرے در و دیوار نمازیوں کے رکوع وسجود اور قرآن کی تلاوت کو ترس گئے ہیں اب تو مجھے شہید ہوئے بھی 31برس ہونے کو آئے ہیں ۔تین عشرے گزرنے کے بعد بھی جب کوئی مسلمان میری مدد کو نہ آیا تو بتوں کے پجاریوں نے جان لیا کہ اب یہ قوم غزنوی اور بابر کی قوم نہیں یہ تو لتا کے گانے سننے والی قوم ہے۔ یہ ہماری معاشرتی رسموں مہندی ، تلک اور بسنت کی رسیا قوم ہے۔ یہ قراردادیں پیش کرنے ، اقوام متحدہ میں جانے ، جلوس نکالنے ، ٹائر جلانے اور نعرے لگانے والی قوم ہے۔ بھلا ایسی قوم سے خائف ہونے کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔۔؟
    ان حالات میں مسلمانوں کے پاس آخری چارہ کار کے طور پر عدلیہ کا دروازہ تھا چنانچہ مسلمانوں نے بھارتی سپریم کورٹ سے رجوع کیا ۔ دلائل ، شواہد ، حقائق مسلمانوں کے حق میں تھے ۔ تاریخی کاغذات اور دستاویزات یہ چیخ چیخ کر کہہ رہی تھیں مذکورہ جگہ کبھی مندر نہیں رہا بلکہ ابتدا ہی سے یہاں مسجد ہی تھی ۔اسلئے مسلمانوں کو یقین تھا کہ عدلیہ ان کے حق میں فیصلہ کرے گی ۔ لیکن مسلمان بھول گئے تھے کہ بھارتی عدلیہ انصاف کی بالادستی نہیں بلکہ ہندوتوا کی بالادستی چاہتی تھی ۔ اسی لئے بھارتی سپریم کورٹ نے ٹھوس حقائق ہونے کے باوجود مسلمانوں کے خلاف فیصلہ دیا ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے مودی حکومت کے حوصلے مزید بڑھ گئے اس کے بعد مندر کی تعمیر کے مذموم پروگرام پر عملدرآمد شروع کردیا گیا ۔

    جس جگہ کسی وقت میں مسجد تھی وہاں 70 ایکڑ کا رقبہ کمپلیکس کیلئے مختص کردیا گیا اور اس کمپلیکس کے اندر 2.67 ایکڑ کی جگہ پر نریندر مودی نے عین اس دن مندر کا سنگ بنیاد رکھا جس دن مقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی تھی ۔اس طرح سے مودی حکومت نے یہ پیغام دیا کہ بھارت ہو یا مقبوضہ جموں کشمیر ہر دو جگہ مسلمان ہی اس کا ٹارگٹ ہیں ۔ اس کے بعد تیزی سے مندر کی تعمیر کاکام شروع کردیا گیا ۔سو 15ارب روپے کی خطیر رقم کی لاگت سے مندر کی پہلی منزل مکمل ہوچکی ہے جسے جنوری 2024ء میں پوجا پاٹ کیلئے کھول دیا جائے گا جبکہ مندر کی تعمیر کا دوسرا اور آخری مرحلہ دسمبر 2025 میں مکمل ہو گا ۔

    بابری مسجد کی شہادت اور مندر کی تعمیر بی جے پی کے انتخابی ایجنڈے اور وعدے میں شامل تھی ۔ بی جے پی نے جووعدہ کیا پورا کیا جو چاہا حاصل کرلیا اپنے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنا لیا ۔۔۔۔ان حالات میں سوال یہ ہے کہ ۔۔۔۔ ۔پاکستان کے حکمران کیا کررہے ہیں ، وہ پاکستان جو کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا تھا جس کے قیام میں لاکھوں مسلمانوں کا خون شامل ہے ۔ جس کے بانیان نے بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں اور مساجد کی حفاظت کے وعدے کئے تھے ۔ بابری مسجد اور دیگر شہید کی جانے والی مساجد کے منبر ومحراب اور مینار ہم سے سوال کرتے ہیں کہ اے پاکستان کے مسلمانوں ، حکمرانوں تم نے ہماری مدد اور حفاظت کے جو وعدے کئے تھے ۔۔۔۔وہ وعدے کب پورے کرو گے !

  • سوشل میڈیا پر بیہودہ الفاظ کی پذیرائی کیوں؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    سوشل میڈیا پر بیہودہ الفاظ کی پذیرائی کیوں؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    کیا عجب تماشا ہے ۔پوری قوم پی ٹی آئی کے ایک سینئر عہدیدار کے ایک بولے گئے بیہودہ الفاظ کو اپنا تکیہ کلام بنا چکی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان بیہودہ الفاظ کو پذیرائی مل رہی ہے ۔افسوس صد افسوس کیا کسی مذہب معاشرے میں اس کی اجازت دی جا سکتی ہے ؟ الفاظ بولنے والے شخص کو قومی ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اگر ہمارا معیار یہ ہے تو پھر قوم کا اللہ ہی حافظ ہے۔ سیاستدان ایک دوسرے پر الزام تراشیوں میں مصروف ہیں۔ کچھ سیاستدان پاک فوج اور جملہ اداروں کو سرعام سوشل میڈیا پر اور کچھ پردہ اسکرین کے پیچھے حملہ آور ہیں افسوس جس فوج نے ملکی سلامتی کی خاطر قربانیاں دیں کل ہی کی بات ہے ضرب عضب اور ردالفساد جیسے آپریشن کر کے اس ملک کو دہشت گردی اور انتہاپسندی سے آزاد کروایا ایک عالم ان واقعات سے آگاہ ہے پاک فوج کی قربانیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ملک کی نوجوان نسل کی ہم کیا تربیت کر رہے ہیں پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک اسلامی ریاست کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔

    ملکی سیاستدانوں کی رنگین داستانیں، معاشقوں کی کہانیاں، واہیات کتابیں پھر اس قوم اور ملک پر ظلم یہ ہے کہ واہیات کتابیں لکھنے والوں کے انٹرویو ، خدا کی پناہ سستی شہرت حاصل کرنے والوں کو موت یاد نہیں پھر موت کے بعد زندہ ہو کر خدا کی عدالت میں پیش ہونا یاد نہیں کیا ان کے گھروں میں مائیں، بیٹیاں اور بچے نہیں؟ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے خوف کھائیں اپنا طرز زندگی بدل ڈالیں۔ انسانیت کی فلاح کے لئے کام کریں۔ اس ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کریں ذرا سوچئے! آج ہماری معیشت کہاں کھڑی ہے ملک کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت ہے جو وڈیروں اور جاگیرداروں کے قبضے میں ہے اور وہی حکومتیں چلاتے ہیں ٹیکس بھی نہیں دیتے بڑے بڑے کاروباری بنکوں سے قرض لیتے ہیں اور قرضے معاف کرواتے ہیں۔ جن سیاستدانوں نے طرح طرح کے نعرے لگا کر عوام سے ووٹ لئے وہ پارلیمنٹ ہائوس میں جا کر جمہور کے مسائل کو نظر انداز کر کے اپنے ذاتی مفادات کی جنگ میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ کوئی بنیادی تبدیلی نہیں لائے۔ کوئی اصلاحات نہیں کیں۔ بچوں کو کوالٹی تعلیم، نہ ہی صحت کے لئے بنیادی سہولتیں۔ نوجوانوں کو فنی اور ہنر مندی کی تعلیم دینے میں ناکام اور گیس کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے میں ناکام۔ ملک اور عوام کے مسائل دیکھیں کیا دنیا کی قومیں اسی طرز سے حکومتیں چلاتے ہیں؟

  • افواہوں  کے موسم میں اچھی خبر،پاکستان کو ملا اعزاز،تجزیہ،شہزاد قریشی

    افواہوں کے موسم میں اچھی خبر،پاکستان کو ملا اعزاز،تجزیہ،شہزاد قریشی

    آڈیو ویڈیو عدت ، طلاق، کون بنے گا وزیراعظم ؟ افواہوں اور ا نتشار زدہ سیاسی ماحول میں قوم کے لئے خوشخبری یہ ہے کہ پاکستان کیمیائی ہتھیاروں کے بین الاقوامی کنونشن جو یورپین یونین کے اہم ترین ملک ہالینڈ کے شہر دی ھیگ میں ہوا۔ پاکستان کو پہلی دفعہ سی ایس پی کی چیئر کا اعزاز حاصل ہوتا ہے۔ 193 ممبران پر مشتمل کانفرنس نے ایک سال کے لئے پاکستان کو منتخب کیا ہے۔ ایشیائی گروپ نے ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر سلجوق منتصر تارڑ کو نامزد کیا وہ پاکستان کی طرف سے ایک سال کے لیے اس بین الاقوامی تنظیم کے چیئرمین ہوں گے۔

    8 فروری 2024 کا انتظار کریں عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت میں قبول اور منظورکیا جاتا ہے ۔ عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں ۔ پیپلزپارٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ عام انتخابات میں میں کامیابی حاصل کریں گے اور ایک مخلوط حکومت بنائیں گے جس کے وزیراعظم بلاول بھٹو ہوں گے جبکہ(ن) لیگ کا دعویٰ ہے ہماری حکومت ہوگی نواز شریف وزیراعظم ہوں گے جبکہ پنجاب میں اصل مقابلہ (ن) لیگ اور پی ٹی آئی کا نظر آرہا ہے ۔پنجاب کے دیہی علاقوں میں عوام مسلم لیگ(ن) میں شمولیت اختیار کررہے ہیں ۔ ایم کیو ایم کا دعویٰ ہے کہ وہ صوبہ سندھ اور کراچی کے شہری علاقوں میں کامیابی حاصل کریں گے اور (ن) لیگ سمیت صوبہ سندھ میں حکومت بنائیں گے۔ میرے خیال میں کراچی کے شہری حلقوں میں جماعت اسلامی کا غلبہ ہے اس لئے جماعت اسلامی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کراچی نہیں جماعت اسلامی ایک حقیقت ہے افسانہ نہیں۔ تاہم تمام سیاسی جماعتوں کے دعوے اپنی جگہ درست یہ سب عوامی عدالت میں پیش ہوں گے ۔ عوام پر فرض ہے کہ وہ پاکستان کے بہتر مستقبل کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں۔ تاہم(ن) لیگ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے پاکستان کو قرضوں سے نجات دلانے ،غربت کے خاتمے کے لئے بے روزگاری کے خاتمے ، اپنے ملکی وسائل پر بھرپور توجہ دینے کے لئے منشور کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ تاہم فیصلہ عوام نے ہی کرنا ہے کہ آئندہ وزیراعظم کون ہوگا کیونکہ ووٹوں سے منتخب ہونے والی سیاسی جماعت وزیراعظم کی حقدار ہوگی 2024 میں نئے نویلے وزیراعظم کون ہوں گے آنے والے نئے وزیراعظم کیا ان ناگفتہ بہ حالت میں کیا کچھ کر پائیں گے انتظار کیجئے ۔

  • پاکستان کو ترقی پسند رہنما کی ضرورت، تجزیہ، شہزاد قریشی

    پاکستان کو ترقی پسند رہنما کی ضرورت، تجزیہ، شہزاد قریشی

    نمک حلال اور نمک حرام یہ دو وہ الفاظ ہیں جو کثرت سے بولے جاتے ہیں ۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں بالخصوص آجکل میاں محمد نواز شریف کو اپنے کچن سے آیوڈین ملا تبدیل کرکے کھیوڑا کا گلابی نمک استعمال کرنا چاہئے کہا جاتا ہے کہ یہ نمک کرداربناتا ہے ۔ تاکہ کردار والے افراد اس ملک و قوم کی خدمت کریں۔ اگر واقعی آپ کو چوتھی بار اقتدار ملنے والا ہے تو بغاوت سونگھنے والی اور نگزیبی حس بھی رکھیں کیونکہ بنگال کے سراج الدولہ اس لیے ناکام رہے اُن کے پاس اورنگزیبی توپ تو تھی اورنگ زیب والی بغاوت سونگھنے والی حس نہیں تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے ہی وزیر میر جعفر کی بغاوت سونگھ نہ سکے ۔

    آج کل سیاسی گلیاروں میں جس رفتار میں دشنام طرازیاں اور حرف عتاب کی عذاب ذدہ بارشیں ایک دوسرے پر سیاسی افراد ، سوشل میڈیا پر بغیر کسی تعطل جاری رکھتے ہوئے ہیں خدا کی پناہ معاشرہ اخلاقی طورپر دیوالیہ پن کا شکار ہو رہا ہے ۔ حیرت ہے سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی برپا ہے۔ معاشرہ کس طرف جا رہا ہے ۔ بالخصوص ہم نوجوان نسل کی کیا تربیت کررہے ہیں ۔ نہ جانے مغرب پر فحاشی اور عریانیت کے فتوے لگانے والے علماء کہاں ہیں انہیں بیہودہ انٹرویو ، سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کی مائوں ،بیٹیوں کی عزت مجروع ہوتی نظر کیوں نہیں آتی ؟ مقام افسوس ہے کہ ایک اسلامی مملکت کے دعویدار ہونے کے باوجود ہم امداد حاصل کرنے کے لئے جادوٹونے کا سہارا لیتے ہیں جو کہ بالکل ہی غلط ہے ۔ قرآن پاک جیسی عظیم تر کتاب جس پر ہمارایمان اس طرح کی حرکتوں سے منع کرتا ہے پھر سامری جادوگر کا قصہ بھی موجود ہے۔ علم حاصل کرنے کی بجائے ہم جادو ٹونے اور نجومیوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ ہمیں پاکستان کے موجودہ حالات کو مد نظر رکھ کر ( رب زدنی علما ) پر عمل کرنا ہوگا۔ ملک کو 21 صدی کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لئے ہمیں سائنس اور ٹیکنالوجی ، مواصلاتی ، سی پیک کی تجارت علم وہنر کا فروغ چاہیئے نہ کہ دقیانوسی ٹچکلوں پر وزارت عظمیٰ کے خواب دیکھنے والے رہنما اگر پاکستان کو عصر حاضرکے مطابق چلنا ہے تو اس وقت ملک کو ترقی پسند رہنما کی ضرورت ہے۔

  • آڈیو ویڈیو کا گندہ کھیل اور سیاست کی عدت سے طلاق تک پہنچ.تجزیہ،شہزاد قریشی

    آڈیو ویڈیو کا گندہ کھیل اور سیاست کی عدت سے طلاق تک پہنچ.تجزیہ،شہزاد قریشی

    ملکی سیاست میں افواہ سازی معمول بن چکی، آڈیو ‘ ویڈیو کے گندے کھیل سے شروع ہونے والی سیا ست اب عدت اور طلاق تک پہنچ چکی ہے، جس غلیظ سیاست کا آغاز پی ٹی آئی نے کیا تھا آج وہ خود اس کے گلے پڑی ہے، گزرے زمانے میں سیاستدان قوم کی رہنمائی کرتے تھے، آج معاشرے میں وہ گند پھیلایا جا رہا ہے جس کی اجازت اسلام دیتا ہے نہ اخلاقی روایات .

    سیاستدان ‘ وی لاگر‘یوٹیوبر‘ نام نہاد دانشور ذرا سوچیں ہم قوم کے مستقبل نوجوان بچوں اور بچیوں کے ذہنوں میں کیا بھر رہے ہیں،ہوس اقتدار اوراختیارات نے سیا ستدانوں کو ملکی وقار‘ عزت نوجوان نسل کے مستقبل کو پس پشت ڈال دیا ہے ،پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو قومی ،عوامی اور ریاستی مفادات کو سامنے رکھ کر لکھنا اور بولنا ہوگا، آج کے خزاں رسیدہ اور پرفتن دور میں ہمارا معاشرہ اخلاقی پستی کا شکار ہو رہا ہے، بد اخلاقی معاشرے میں بری طرح سرایت کر چکی ہے، معاشرے کے ناسوروں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے ،ہمارا معاشرہ جھوٹ‘ حق تلفی‘ الزم تراشی بے شرمی و بے حیائی‘ فریب دھوکے بازی‘ ذخیرہ اندوزی‘ ملاوٹ‘ سود جیسی برائیوں سے بھرا پڑا ہے، علمائے کرام‘ مذہبی جماعتوں کا بھی معاشرے کو سدھارنے میں کوئی کردار نظر نہیں آرہا، معاشرہ اخلاقی‘ معاشی اور سیاسی اعتبار سے گراوٹ کا شکار ہے جو لوگ اپنے آپ کو تعلیم یافتہ کہتے ہیں ، ان میں بھی اخلاق اور تربیت کے آثارنہیں پائے جاتے، اب بھی وقت ہے ہوش کے ناخن لئے جائیں اور معاشرے کو سدھارنے میں ہرکوئی کردار ادا کرے،

    ہمارا معاشرہ اخلاقی اقدار سے مزین معاشرہ بن سکتا ہے،خبروں کے مطابق دسمبر کے پہلے ہفتے میں الیکشن کا شیڈول آرہا ہے ووٹر نوٹ کے بغیر ووٹ استعمال کرے،جملہ بازوں‘ آزمائے ہوئے لوگوں کو بار بار مت آزمائیں، کسی کی دنیا بنانے کے لئے اپنی آخرت خراب اور بر باد مت کیجیے اچھے معاشرے کی تشکیل کے لئے ووٹ بہترین طاقت ہے،اچھے شہری بن کر شان سے و قار سے رہنا سیکھیے، ملک اور بچوں کا مستقبل سامنے رکھے کہ ووٹ دیں۔

  • جمہوریت کو فوج نہیں جمہوری تقاضے  پورے نہ ہونے سے خطرہ ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    جمہوریت کو فوج نہیں جمہوری تقاضے پورے نہ ہونے سے خطرہ ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    ہمارے سیاستدانوں کی تاریخ کیا لکھی جائے گی ؟ ملک مقروض،عوام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم،مہنگائی ، بے روزگاری عروج پرہے اور یہ ایک دسرے کو غدار ،سیکورٹی رسک ، انڈیا کا یار، یہودی ایجنٹ ، امریکی ایجنٹ گردانتے ہیں اور اب بات لاڈلا تک پہنچ چکی ہے،یاد رکھیے اسٹیبلشمنٹ کا کوئی لاڈلا نہیں،اسٹیبلشمنٹ کی لاڈلی یہ سرزمین اور عوام ہیں اسی سرزمین کی سلامتی کی خاطر اسٹیبلشمنٹ قربانیاں دیتی ہے،موجودہ دور میں قومی سلامتی کی تعریف وسیع ہو گئی ہے اور معیشت اس کا ایک بڑا حصہ ہے،فوج کا ساتھ ہر طبقہ فکر کے لوگ دیتے ہیں،تب ہی فوج کا جذبہ جوان رہتا ہے اور وہ کامیاب ہوتی ہے، فوجی کے جذبات دل و دماغ میں پرورش پاتے ہیں اور جنگ کے موقع پر وہا ں کا اظہار بھی کرتے ہیں ۔

    فوج کے نیچے سے تو سیاستدان زمین کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں،سیاستدان چاہتے ہیں ، فوج آئین اور قانون کے تحت ان کی تابع رہے،یہ بات درست ہے لیکن سیاستدان بھی تو اپنا قبلہ درست رکھیں،فوج کو اپنا ہی سمجھیں اس کی وجہ سے ملک قائم ہے اوریہ فوج ہی ملکی سلامتی کی ذمہ دار ہے، جمہوریت کو فوج نہیں جمہوری تقاضے پورے نہ ہونے سے خطرہ ہے ۔ خدارا اپنی فوج سے غیریت مت برتیے، سیاستدانوں کو لاڈلاکی سیاست سے بالاتر ہو کر ملکی اور قومی مفادات کو مقدم رکھنا ہوگا،نواز شریف اگر لاڈلے ہوتے تو تین بار وزارت عظمٰی سے کیوں نکالے جاتے ؟نواز شریف کے خلاف کرپشن کی داستانیں آج طوطا میںا کہانیاں ثابت ہورہی ہیں، ان کے ا دوار میں کئی میگا پراجیکٹس آج قومی اثاثے ثابت ہو رہے ہیں، جن میں موٹر ویز سرفہرست ہیں، ایٹمی طاقت کا اظہارقومی دفاع کی علامت بن چکا ہے،

    سیاستدانوں کے لئے بھٹو کی پھانسی، محترمہ بے نظیر بھٹو کا قتل ، نواز شریف کی اقتدار میں انٹری اور ایگزٹ آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں اور مقتدر حلقوں میں نوازشریف کی حب الوطنی اور عالمی تناظر میں اہمیت روز روشن کی طرح واضع ہو چکی ہے ،تمام سیاسی قوتوں کو ذاتیات سے بالاتر ہو کر ملکی اور قومی مفادات کودیکھنا ہو گا، ورنہ ذر ا سوچئے اگر جمہوریت کی پری نے مکھڑا پھیر لیا تو پھر کیا ہو گا؟ نواز شریف کیسا لاڈلا ہے 2002 ، 2008 اور 2018 کا الیکشن نہیں لڑنے دیا گیا، 2013 عدالتی حکم پر الیکشن لڑا،اب فیصلہ عوام کریں لاڈلاکون ہے ؟

  • سموگ۔۔۔میں حفاظتی تدابیر .تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    سموگ۔۔۔میں حفاظتی تدابیر .تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    اللہ تعالیٰ نے جس کائنات کی تخلیق کی وہ بے حد وسیع ، خوبصورت ، حسین وجمیل ، صفاف وشفاف اور اجلی ہے ۔لیکن انسان اپنی نت نئی ایجادات اور مصنوعات کے مرہون منت اس کائنات کو آلودہ اور تباہ کررہا ہے۔ یہ آلودگی درحقیقت زہر ہے جو انسانی صحت اور زندگی کو برباد کررہی ہے ۔ اس وقت جو چیزیں کائنات کو آلودہ اور انسانی صحت کو تباہ کررہی ہیں ان میں سر فہرست۔۔۔۔ ”’ سموگ “‘ ہے ۔ سموگ بنیادی طور پر ایسی فضائی آلودگی ہے جو انسانی آنکھ ،دماغ اور جسم کو تاحد نگاہ متاثر کرتی ہے، سموگ کو زمینی ” اوزون “ بھی کہا جاتا ہے ،یہ ایک ایسی بھاری اور سرمئی دھند کی تہہ کی مانند ہو تی ہے جو ہوا میں جم جاتی ہے۔سموگ میں موجود دھوئیں اور دھند کے اس مرکب یا آمیزے میں کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ، میتھین جیسے مختلف زہریلے کیمیائی مادے بھی شامل ہوتے ہیں اور پھر فضا میں موجود ہوائی آلودگی اور بخارات کا سورج کی روشنی میں دھند کے ساتھ ملنا سموگ کی وجہ بنتا ہے۔
    جو چیزں سموگ کے بننے اور پھیلنے پھولنے کا سبب بنتی ہیں وہ ہے بارشوں میں کمی، فضلوں کو جلایا جانا، کارخانوں گاڑیوں کا دھواں ،درختوں کا بے تحاشا کٹاﺅ اور قدرتی ماحول میں بگاڑ پیدا کرنا ۔۔۔۔یہ سموگ کے پھیلنے کی بنیادی وجوہات ہیں۔
    سب سے پہلے ہمیں دھند اور سموگ میں فرق معلوم ہونا چاہئے کیونکہ سموگ کی موجودگی اور اس کے مضر اثرات کے بارے میں جاننے کے بعد ہی ہم اپنے آپ کو اس سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔دھند اور سموگ میں بظاہر کوئی فرق معلوم نہیں ہوتا لیکن دھند اور سموگ کی نوعیتیں ، کیفتیں مختلف ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ جب ہوا میں موجود بخارات کم درجہ حرارت کی وجہ سے کثیف ہو جاتے ہیں تو یہ ماحول میں سفیدی مائل ایک موٹی تہہ بنا دیتے ہیں جسے دھند کہا جاتا ہے، اسی دھند میں دھواں اور مختلف زہریلے کیمیائی مادے شامل ہو جائیں تو یہ دھند مزید گہری اور کثیف ہو جاتی ہے جسے سموگ کہاجاتا ہے۔

    ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً ایک لاکھ سے زیادہ افراد فضائی آلودگی کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، دراصل سموگ میں بنیادی طور پر ایک زہریلا مادہ موجود ہوتا ہے جو پرٹیکولیٹ مادہ 2.5 کہلاتا ہے اور یہ پی ایم 2.5 ایک انسانی بال سے تقریباً چار گنا باریک ہوتا ہے یہ مادہ ہوا کے ذریعے انسانی پھیپھڑوں میں بآسانی داخل ہو کر پھیپھڑوں کی مختلف بیماریوں کیساتھ ساتھ پھیپھڑوں کے کینسر تک کا باعث بن سکتا ہے۔
    سموگ سے بچاﺅ کے دو طریقے ہیں ایک طریقہ وہ ہے جو ہر انسان اپنے طور پر اختیار کرسکتا ہے ۔ یعنی مناسب حفاظتی لباس پہنایا جائے ۔ اس کا مطلب ہے کہ جب آپ باہر جائیں تو ماسک پہنیں یا دوسرے آلات استعمال کریں جو آپکو نقصان دہ ذرات سے پھیلنے والی آلودگی سے بچاتے ہیں۔یہ ضروری ہے کہ جس قدر ممکن ہو سموگ کے اثرات سے بچا جائے تاہم اگر آپ کی رہائش زیادہ آلودگی والے علاقے میں ہے تو پھر ضروری ہے کہ اپنی صحت کی حفاظت کیلئے دوسرے طریقے بھی اختیار کریں ۔یعنی دل کے مریض گھر وں میں رہ کر اسٹیم لیں، ٹھنڈے مشروبات اور کھانے پینے کی کھٹی ترش اشیاسے پرہیز کریں ، اگر کسی کو دل یا پھیپھڑوں کا دائمی مسئلہ ہے، جیسے دمہ یا اس جیسی کوئی دیگر بیماری ہے تو پھر ڈاکٹر سے اپنے آ پ کو فضائی آلودگی سے بچانے کے طریقوں کے بارے میں مشورہ کریں۔ ایسی صورت میں ڈاکٹر آپ کو سانس لینے میں مدد کے لیے کوئی دوا تجویز کر سکتا ہے۔

    اگر کسی کے سینے میں جکڑن، آنکھوں میں جلن، یا کھانسی کی علامات ہیں تو ڈاکٹر سے ملیں، بچوں کو آلودگی کی بلند سطح کے اثرات بڑوں کی نسبت زیادہ محسوس ہوتے ہیںاس لئے بچوں کے لئے حفاظتی اقدامات کرنا بے حد ضروری ہے ۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ سموگ سے بچاﺅ کیلئے اپنے گھروں، دفاتر اور گاڑیوں کے شیشے بند رکھیں، جب تک آلودہ دھوئیں والا موسم ختم نہیں ہو جاتا تب تک کھلی فضا میں جانے سے گریز کریں ، خاص کر سانس کی تکلیف میں مبتلا افراد ایسے موسم میں ہرگز باہر نہ نکلیں، ایسے موسم میں جسمانی ورزش کرنے سے بھی دریغ کیا جائے اور اپنی گاڑیوں کو کھڑے رکھنے کی پوزیشن کے دوران انجن کو چلتا مت چھوڑیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ سموگ سے بچنے کے لئے جہاں حکومت کو آلودگی کے خاتمہ میں سنجیدگی اختیار کرنے کی ضرورت ہے وہاں ماحول دوست ایندھن کا استعمال نہایت ضروری ہو چکا ہے۔ اس بارے میں ضروری ہے کہ حکومت دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں بند کرے جو لوگ دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں چلاتے ہیں ان کے خلاف سخت تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے جبکہ ہم سے ہر شخص خود بھی ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی مرمت کروائے تاکہ فضا میں آلودگی نہ پھیلے ۔نومبر اور دسمبر کے مہینوں میں پنجاب اور خاص کر لاہور میں سموگ کی وبا عام ہوجاتی ہے ۔ حکومت اس سے نمٹنے کے کےلئے ہر سال پنجاب بھر میں سموگ ایمرجنسی نافذ کردیتی ہے ایک ماہ کے لئے تمام سرکاری و نجی سکولوں میں طلبا و طالبات کیلئے ماسک لازمی قراردے دیا جاتا ہے یا پھر کچھ دنوں کےلئے سکولوں کالجوں میں چھٹیاں دے دی جاتی ہیں ۔کچھ دیگر حفاظتی تدابیر اختیار کرنے پر بھی توجہ دلائی جاتی ہے۔

    چین کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار سے امریکہ خائف کیوں؟ تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    بجلی کے بلوں کی وجہ سے گھر گھر لڑائیاں ہورہی ہیں،ڈاکٹر سبیل اکرام

    نگران حکومت سے عوام کی توقعات ، تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    سیاستدان سیاست پر ملک کے مفاد کو ترجیح دیں، ڈاکٹر سبیل اکرام

    پاکستان کا زرعی ومعاشی مستقبل نئے ڈیموں کی تعمیر سے وابستہ ہے ،ڈاکٹر سبیل اکرام

    حکومت بھارت کی آبی جارحیت کا فوری سدباب کرے،ڈاکٹر سبیل اکرام

    مراعات میں شاہانہ اضافے کے بل کی منظوری افسوسناک ہے،سبیل اکرام

    استقامت کو تیری سلام عافیہ ،تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    سیاستدان ملک کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کی کوشش کریں ۔ ڈاکٹر سبیل اکرام

    قرآن مجید کا پڑھنا عبادت اوراس پر عمل کرنا باعث نجات ہے،ڈاکٹر سبیل اکرام

    اصل بات یہ ہے کہ ہر سال نومبر اور دسمبر کے مہینے میں سموگ سے بچاﺅ کےلئے جتنے بھی اقدامات کئے جاتے ہیں یہ سب عارضی اقدامات ہیں اصل بات یہ ہے کہ لاہور جو پاکستان کا دل ہے ، پاکستان کا دوسرا بڑا صنعتی ، تجارتی اور صنعتی مرکز ہے اور پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا دارالحکومت ہے اس شہر میں ٹریفک بے ہنگم ہوچکی ہے ، لاہور کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ، لاہور جو کبھی باغوں کا شہر تھا اب یہ شہر دنیا کا آلودہ ترین شہر بن چکا ہے ۔ ہریالی کا فقدان ہے ، آبادی کے تناسب سے درخت نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ گندگی پھیلانے والوں کے خلاف کوئی کروائی نہیں کی جاتی ۔اگر چہ پنجاب حکومت ہر سال لاہور کو سموگ زدہ شہر قراردیتی ہے اس مناسبت سے وقتی طور پر کچھ اقدامات کئے جاتے ہیں لیکن اقدامات موقع محل اور ضروریات کی نسبت قطعی ناکافی ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اگلے سال سموگ پہلے سے بھی زیادہ طاقت کے ساتھ حملہ آور ہوتی ہے ۔ اب حالت یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ سموگ کی شدت بڑھتی جارہی ہے لہذا اب ضروری ہوچکا ہے کہ انتظامیہ لاہور کی آبادی کو کسی بڑی تباہی سے بچانے کےلئے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات اٹھائے ۔ مثلاََ یہ ہے کہ بے ہنگم آبادی کو کنٹرول کیا جائے ، ٹریفک کا نظام بہتر بنایا جائے ، شجر کاری میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے ۔یہ وہ اقدامات ہیں جن پر عمل کرکے سموگ جیسی آفت پر قابو پایا جاسکتا ہے اور لاہور کو بھی بڑی تباہی سے بچایا جاسکتا ہے ۔ سموگ کا تدارک اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہ چھوٹے بچوں کی صحت کو بہت زیادہ متاثر کرتا ہے جبکہ بچے ہی کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں ۔۔۔۔بچے محفوظ ہوں گے تو ہم بھی بحیثیت قوم محفوظ رہیں گے ۔
    subiyal