Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ: ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی کا سیلاب متاثرہ علاقہ بجوات کے موضع صدر پورہ کا دورہ

    سیالکوٹ: ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی کا سیلاب متاثرہ علاقہ بجوات کے موضع صدر پورہ کا دورہ

    سیالکوٹ ( باغی ٹی وی ، ڈسٹرکٹ رپورٹر مدثر رتو)ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی کا سیلاب متاثرہ علاقہ بجوات کے موضع صدر پورہ کا دورہ
    تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی نے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقہ بجوات کے موضع صدر پورہ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے متاثرہ مکینوں سے ملاقات کی اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تفصیل سے جائزہ لیا۔ ڈپٹی کمشنر نے مکینوں کی املاک، مال مویشی اور علاقائی انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان کا بغور معائنہ کیا اور متاثرہ افراد کی مشکلات کے حل کے لیے فوری اقدامات کی ہدایات دیں۔

    اس دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی نے غیر سرکاری فلاحی تنظیموں کے تعاون سے متاثرہ خاندانوں میں ایل پی جی گیس سلنڈر، چولہے، مچھر دانیاں اور راشن بیگز تقسیم کیے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں حکومت اور سول سوسائٹی دونوں کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ متاثرہ افراد کو جلد از جلد ریلیف فراہم کیا جاسکے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے تمام ادارے بشمول ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن سیالکوٹ دن رات بحالی اور ریلیف کے کاموں میں مصروف ہیں۔ تاہم، اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والے نقصانات کا ازالہ صرف حکومت کی بس کی بات نہیں، اس کے لیے فلاحی تنظیموں اور سول سوسائٹی کو بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ ڈپٹی کمشنر نے فلاحی تنظیموں کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ جذبہ خدمت کے ساتھ انتظامیہ کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی وقت ہے کہ ہم سب مل کر سیلاب سے متاثرہ بھائی بہنوں کی داد رسی کریں اور ان کے دکھوں کو بانٹیں۔

  • ڈیرہ غازیخان:ایک ہی بارش نے شہر کو ڈبو دیا، انتظامیہ کے دعوؤں کی قلعی کھل گئی

    ڈیرہ غازیخان:ایک ہی بارش نے شہر کو ڈبو دیا، انتظامیہ کے دعوؤں کی قلعی کھل گئی

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی رپورٹ) ایک ہی طوفانی بارش نے ڈیرہ غازی خان شہر کو پانی میں ڈبو دیا۔ شہر کی اہم سڑکیں اور نشیبی علاقے تالاب کا منظر پیش کرنے لگے، جبکہ شہریوں کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ اس صورتحال نے ضلعی انتظامیہ کے بارش سے نمٹنے کے دعوؤں کی قلعی کھول کر رکھ دی۔

    گولائی کمیٹی، مشرف چوک، دربار قادریہ اور بمبے چوک سمیت کئی علاقوں میں پانی ہی پانی نظر آیا۔ نشیبی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہو گیا، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لوگ اپنے گھروں اور دکانوں میں پانی نکالنے کی کوششوں میں مصروف رہے۔

    دوسری جانب، ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان خالد کی جانب سے جاری کردہ سرکاری خبر میں بتایا گیا کہ ضلعی انتظامیہ بارش سے پیدا ہونے والے مسائل کے بروقت حل کے لیے متحرک ہے۔ ضلعی کنٹرول روم کو فعال کر دیا گیا ہے اور ڈپٹی کمشنر نے خود اس کا دورہ کر کے کیمروں کی مدد سے صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے واسا اور دیگر متعلقہ محکموں کو پانی کی نکاسی کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت بھی جاری کی۔

    سرکاری بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ کوہ سلیمان رینج میں بارشوں کے بعد رود کوہیوں کی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ لیکن عملی طور پر انتظامیہ کی نااہلی کھل کر سامنے آئی، کیونکہ پورا شہر پانی میں ڈوبا رہا اور شہریوں کو کوئی مدد فراہم نہیں ہو سکی۔ یہ واقعہ انتظامیہ کی تیاریوں اور حقیقت کے درمیان موجود واضح فرق کو نمایاں کرتا ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان:الیکٹرک بس سروس کا آغاز، وزیر اعلیٰ مریم نواز اگلے ہفتے افتتاح کریں گی

    ڈیرہ غازی خان:الیکٹرک بس سروس کا آغاز، وزیر اعلیٰ مریم نواز اگلے ہفتے افتتاح کریں گی

    ڈیرہ غازی خان میں الیکٹرک بس سروس کا آغاز، وزیر اعلیٰ مریم نواز اگلے ہفتے افتتاح کریں گی،وزیر اعلیٰ کے حکم پر ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے بسیں فراہم

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ) پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی نے ڈیرہ غازی خان اور گردونواح کے شہریوں کے لیے جدید الیکٹرک بس سروس شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کا باقاعدہ افتتاح وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اگلے ہفتے کریں گی۔ اس سلسلے میں انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں جبکہ ایم پی اے حنیف پتافی کے مطابق وزیر اعلیٰ کا ڈیرہ غازی خان کا دورہ گیارہ ستمبر کو متوقع ہے۔

    تفصیلات کے مطابق نئی بس سروس چھ مختلف روٹس پر چلائی جائے گی، جن میں ڈیرہ غازی خان سے شاہ صدر دین، سخی سرور، چوٹی زیریں (ماموری و قائم والا کے راستے)، چوٹی زیریں (کوٹ چھٹہ کے راستے)، جنرل بس اسٹینڈ سٹی روٹ، اور جنرل بس اسٹینڈ بذریعہ انڈس ہائی وے شامل ہیں۔ ان روٹس کی لمبائی 20 سے 36 کلومیٹر کے درمیان ہوگی جبکہ ہر روٹ پر 6 سے 15 بس اسٹاپ قائم کیے گئے ہیں۔

    کمپنی کے مطابق ابتدائی طور پر ہر روٹ پر 8 بسیں چلائی جائیں گی، تاہم چوٹی زیریں (معموری و قائم والا) روٹ پر بسوں کی تعداد 4 رکھی گئی ہے۔ مسافروں کی اوسط یومیہ تعداد 200 سے 600 کے درمیان متوقع ہے جبکہ سب سے زیادہ رش ڈیرہ غازی خان تا چوٹی زیریں (کوٹ چھٹہ روٹ) پر ریکارڈ ہونے کی توقع ہے۔ ایک بس کے بعد دوسری بس کے آنے کا وقفہ 38 سے 55 منٹ کے درمیان ہوگا۔

    پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ سروس ماحولیاتی لحاظ سے ماحول دوست ہوگی کیونکہ یہ تمام بسیں الیکٹرک ہیں۔ یہ بسیں TRANSPORT & MASSTRANSIT DEPARTMENT کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم پر ڈیرہ غازی خان کو فراہم کی گئی ہیں۔ تمام روٹس 25 فٹ سے زائد چوڑائی والی سڑکوں پر قائم ہیں جبکہ زیادہ تر راستے ڈوئل کیرج وے پر مشتمل ہیں۔

    شہریوں نے اس منصوبے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ بس سروس بروقت شروع ہو جائے تو نہ صرف ہزاروں افراد کو روزانہ کی بنیاد پر معیاری اور سستی سفری سہولت میسر آئے گی بلکہ ڈیزل کے استعمال میں کمی اور فضائی آلودگی کے مسائل بھی کم ہوں گے۔ عوامی حلقوں نے امید ظاہر کی ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے اعلان کے مطابق یہ منصوبہ عملی طور پر شروع ہو کر خطے میں سفری سہولتوں کا نیا باب ثابت ہوگا۔

  • سیلاب، بربادی اور بھارتی آبی وار۔۔۔ پاکستان کب عالمی عدالت انصاف کا در کھٹکھٹائے گا؟

    سیلاب، بربادی اور بھارتی آبی وار۔۔۔ پاکستان کب عالمی عدالت انصاف کا در کھٹکھٹائے گا؟

    سیلاب، بربادی اور بھارتی آبی وار۔۔۔ پاکستان کب عالمی عدالت انصاف کا در کھٹکھٹائے گا؟
    "بھارت کی آبی جارحیت نے پاکستان کو سیلابی بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا حکومت عالمی عدالت انصاف میں اس ماحولیاتی و انسانی جرم پر آواز بلند کرے گی؟”
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    پاکستان ایک بار پھر تباہ کن سیلابوں کی زد میں ہے مگر اس بار معاملہ صرف قدرتی آفت تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے پیچھے بھارت کی مبینہ آبی جارحیت کے شواہد نمایاں ہو کر سامنے آئے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے بھارتی رہنماؤں کے بیانات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے رہے ہیں کہ پانی کو پاکستان کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے اور ستمبر 2025 کے حالیہ سیلاب نے ان خدشات کو حقیقت میں بدل دیا ہے۔

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے 2016 کے اُوڑی حملے کے بعد کہا تھا کہ "خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے” ، جو پاکستان کے خلاف براہِ راست دھمکی کے طور پر دیکھا گیا۔ اسی تسلسل میں 2019 میں پلوامہ حملے کے بعد بھارتی وزیر نتن گڈکری نے اعلان کیا کہ پاکستان کو جانے والا پانی روک کر ہم اسے جموں و کشمیر اور پنجاب میں استعمال کریں گے۔ یہاں تک کہ بھارتی فوج کے سابق لیفٹیننٹ جنرل کانول جیت سنگھ ڈھلن نے کھلے عام کہا کہ ہم فصلوں کے موسم میں پانی روک کر اور مون سون کے دوران اچانک چھوڑ کر پاکستان میں تباہی پھیلا سکتے ہیں۔ اس سال بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے انڈس واٹر ٹریٹی کی معطلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ اب بحال نہیں ہوگا۔ یہ بیانات اس حکمتِ عملی کی نشاندہی کرتے ہیں جسے ماہرین "واٹر وار” یا پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی قرار دیتے ہیں۔

    ستمبر 2025 میں بھارت نے دریاؤں اور ڈیموں کے سپیل وے اچانک کھول دیے جس کے نتیجے میں پنجاب میں قیامت خیز سیلاب آیاجو اب سندھ کی طرف رواں دواں ہے۔ پنجاب میں بستیاں، کھیت اور مویشی سب کچھ پانی میں بہہ گئے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق صرف پنجاب میں 55 افراد ہلاک ہوئے جبکہ ملک بھر میں مجموعی ہلاکتیں 800 سے بڑھ گئیں۔ متاثرین میں خواتین اور بچے بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ ایک ہزار سے زائد افراد زخمی اور دو سو سے زیادہ لاپتہ ہیں۔ لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہوئی اور چاول، کپاس، مکئی اور گنے کی فصلیں بہہ گئیں۔ صرف زرعی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے، جو پہلے ہی مہنگائی اور درآمدی انحصار کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھی۔

    اس تباہ کن سیلاب سے ہزاروں مکانات مکمل طور پر منہدم ہوئے، سکول اور درجنوں صحت مراکز زیرِ آب آ گئے۔ دیہات کے دیہات اجڑ گئے اور ہزاروں خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے۔ پینے کے صاف پانی اور طبی سہولتوں کی عدم دستیابی نے وبائی بیماریوں کے خطرے کو بڑھا دیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں ذہنی صحت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق بہت سے متاثرین پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) میں مبتلا ہیں جبکہ گاؤں کے لوگوں کے الفاظ میں "موت ہمارے گھروں میں داخل ہو گئی ہے”۔

    یہ سوال یہاں شدت سے ابھرتا ہے کہ کیا یہ محض قدرتی آفت تھی یا بھارتی آبی جارحیت کی منظم کوشش؟ کلائمیٹ چینج نے بلاشبہ بارشوں کی شدت بڑھائی ہے مگر بھارتی ڈیموں سے اچانک پانی چھوڑنے نے اسے انسانی ساختہ آفت میں تبدیل کر دیا۔ پاکستان کے لیے یہ محض ریلیف سرگرمیوں کا معاملہ نہیں بلکہ قومی سلامتی اور مستقبل کے وجود کا سوال ہے۔

    پاکستان کے پاس عالمی فورمز پر جانے کے کئی راستے موجود ہیں مگر تاحال وہ عملی طور پر غیر متحرک دکھائی دیتا ہے۔ سب سے پہلا اور مؤثر قدم عالمی عدالت انصاف (ICJ) میں جانا ہے۔ انڈس واٹر ٹریٹی 1960 کے تحت بھارت کو پانی چھوڑنے کے فیصلوں کا بروقت نوٹس دینا لازمی ہے، مگر پاکستان کے دعوے کے مطابق ایسا نہیں ہوا۔ بھارتی وزراء اور فوجی افسران کے بیانات اس بات کے واضح ثبوت ہیں کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی نیت موجود ہے۔ یہ ثبوت ICJ میں پیش کیے جا سکتے ہیں تاکہ بھارت کو عالمی سطح پر جواب دہ بنایا جا سکے۔

    دوسرا راستہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں آواز بلند کرنا ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ ایک قرارداد پیش کرے جس میں بھارتی آبی جارحیت کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا جائے۔ اس موقع پر اسلامی تعاون تنظیم (OIC)، عرب لیگ اور دوست ممالک کی حمایت حاصل کی جا سکتی ہے تاکہ دنیا کی توجہ بھارت کے اس رویے پر مرکوز ہو۔

    تیسرا قدم بھارت پر معاشی دباؤ ڈالنے کا ہے۔ پاکستان کو امریکہ، یورپی یونین اور چین جیسے بڑے تجارتی شراکت داروں کے سامنے یہ معاملہ اٹھانا ہوگا کہ بھارت کی برآمدات کو محدود یا مشروط کیا جائے۔ خاص طور پر بھارتی ٹیکسٹائل اور فارماسیوٹیکل انڈسٹری پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے تاکہ بھارت کو پانی کے بطور ہتھیار استعمال کرنے سے باز رکھا جا سکے۔

    چوتھا اور نہایت اہم نکتہ یہ ہے کہ پاکستان کو بھارتی پراکسی جنگوں کا معاملہ بھی اس تناظر میں اجاگر کرنا چاہیے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کی مداخلت کے شواہد عالمی برادری کے سامنے رکھے جائیں۔ غیر ملکی میڈیا، صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو ان علاقوں میں لے جا کر دکھایا جائے کہ بھارت کس طرح پاکستان کو مختلف محاذوں پر کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    پاکستان کی حکومت نے اب تک ریلیف سرگرمیوں پر توجہ دی ہے مگر عالمی سطح پر قانونی اور سفارتی محاذ پر خاطر خواہ اقدامات دکھائی نہیں دے رہے۔ سیلاب کے متاثرین کو عارضی پناہ گاہوں، خوراک اور ادویات کی ضرورت ہے لیکن اس سے بڑھ کر یہ ایک قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ اگر آج پاکستان نے عالمی عدالت انصاف اور دیگر عالمی اداروں کا در نہ کھٹکھٹایا تو کل یہ سیلاب ہر سال ایک نئے المیے کے ساتھ لوٹتے رہیں گے اور ہم صرف ملبے پر آنسو بہاتے رہیں گے۔

    پاکستان کے عوام اور سیاسی قیادت دونوں کے لیے یہ لمحہ فیصلہ کن ہے۔ سوال یہ نہیں کہ سیلاب کب آئے گا بلکہ یہ ہے کہ ہم کب اس آبی وار کے خلاف اپنی آواز دنیا تک پہنچائیں گے۔ بھارت کی آبی جارحیت اب محض خدشہ نہیں بلکہ ایک حقیقت بن چکی ہےاور اس کے خلاف قانونی، سفارتی اور معاشی محاذ پر مؤثر حکمت عملی کے بغیر پاکستان کا وجود بار بار اسی طرح کے امتحان سے دوچار ہوتا رہے گا۔

    ریفرنسز:
    1.Modi, N. (2016). Statement after Uri attack – "Blood and water cannot flow together.” (BBC, The Hindu)
    2.Gadkari, N. (2019). "We will stop water to Pakistan and use it in Punjab.” (Times of India)
    3.Dhillon, K. J. Singh (Retd. Lt. Gen.). Interview on using rivers against Pakistan (The Print, 2020).
    4.Shah, A. (2025). Statement on Indus Water Treaty suspension – "This treaty will never be restored.” (Hindustan Times)
    5.NDMA Pakistan Flood Report, September 2025.
    6.UN Climate Change & South Asia Flooding Report, 2024–25.

  • جنوبی پنجاب میں سیلاب، معیشت اور زندگی کی بقا کا امتحان

    جنوبی پنجاب میں سیلاب، معیشت اور زندگی کی بقا کا امتحان

    تعارف

    سید ریاض جاذب جنوبی پنجاب کے معتبر صحافی ہیں جن کی خدمات سوشل سیکٹر میں بھی نمایاں رہی ہیں۔ تین دہائیوں پر محیط صحافتی سفر میں انہوں نے قومی و بین الاقوامی اداروں میں کام کر کے اپنی دیانتداری اور تجربے سے منفرد مقام بنایا۔ اس وقت وہ باغی ٹی وی کے لیے تحقیقی و تجزیاتی مضامین لکھ رہے ہیں جو قارئین میں خاصی پذیرائی حاصل کر رہے ہیں۔

    جنوبی پنجاب میں سیلاب، معیشت اور زندگی کی بقا کا امتحان
    تحریر: ریاض جاذب (جاذب نامہ)
    جنوبی پنجاب ایک بار پھر سیلابی ریلوں کی زد میں ہے اور اس بار کی تباہ کاریاں پہلے سے زیادہ شدید ثابت ہو رہی ہیں۔ ملتان اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں پانی نے کھیتوں، بستیوں اور بنیادی ڈھانچے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ گھروں سے بے دخل لاکھوں افراد سڑکوں اور عارضی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ روزگار کے ذرائع اجڑنے سے ان کا مستقبل غیر یقینی ہو چکا ہے۔

    محکمہ موسمیات اور مقامی انتظامیہ کے مطابق دریائے چناب اور ہیڈ تونسہ کے قریب پانی کے اخراج نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ صرف ملتان ڈویژن میں پانچ لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جبکہ تقریباً تین لاکھ لوگ اپنے روزگار اور مکانات سے محروم ہو گئے۔ ڈیڑھ سو کے قریب دیہات میں کھڑی فصلیں مکمل طور پر برباد ہو گئیں۔ ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں بھی یہی منظرنامہ ہے، جہاں سرکاری رپورٹوں کے مطابق چار لاکھ سے زیادہ افراد متاثر اور اڑھائی لاکھ ایکڑ اراضی زیرِ آب آ چکی ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق اس لہر میں اب تک پنجاب میں 51 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں سے تقریباً آدھے کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے۔ انفراسٹرکچر کی تباہی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ کئی علاقوں میں سڑکیں اور رابطہ پل بہہ گئے، بجلی کے کھمبے اکھڑ گئے اور بعض بستیاں مکمل طور پر باقی ملک سے کٹ گئیں۔

    امدادی سرگرمیوں کے باوجود متاثرین کی مشکلات کم نہیں ہو سکیں۔ خیموں اور ضروری سامان کی کمی ہے، پینے کے صاف پانی اور ادویات کا شدید فقدان ہے اور بچے بیماریوں کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔ لوگ کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہیں اور ان کی مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔

    سب سے بڑا نقصان زرعی معیشت کو ہوا ہے۔ دریاؤں کے کنارے تقریباً سات کلومیٹر چوڑے علاقے میں کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ پنجاب بزنس فورم کے اعداد و شمار کے مطابق چاول کی 60 فیصد، گنے کی 30 فیصد اور کپاس کی 35 فیصد پیداوار ضائع ہو گئی ہے۔ وزارت غذائی تحفظ نے وارننگ دی ہے کہ اس نقصان کے نتیجے میں ملک میں چاول کی کمی اور برآمدات میں کمی ناگزیر ہو جائے گی۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر پانی جلد نہ اترا تو مزید فصلیں بھی برباد ہو سکتی ہیں، جس سے کسانوں کا اعتماد مکمل طور پر ٹوٹ جائے گا۔

    مجموعی طور پر 13 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی زیرِ آب آ چکی ہے۔ یہ نہ صرف کسانوں بلکہ پاکستان کے غذائی تحفظ کے لیے بھی خطرہ ہے۔ پہلے ہی گندم اور کپاس کی کمی، درآمدات پر انحصار اور مہنگائی جیسے مسائل موجود ہیں، اب ان پر یہ سیلاب مزید بوجھ ڈال رہا ہے۔ اگر کسانوں کو فوری سہارا نہ دیا گیا تو زرعی پیداوار سنبھلنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔

    معاشی ماہرین اور کسان تنظیموں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کے لیے ہنگامی ریلیف پیکج کا اعلان کیا جائے۔ بلا سود قرضے، بیج اور کھاد کی مفت فراہمی اور زمین کی بحالی کے لیے فنڈز قائم کیے جائیں تاکہ کسان دوبارہ کھیتی باڑی کے قابل ہو سکیں۔

    موسمیات کے ماہرین نے آئندہ دنوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے جس سے فلیش فلڈ کے نئے خدشات جنم لے سکتے ہیں۔ انتظامیہ نے عوام کو محتاط رہنے اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا ہم ہر سال آنے والی ان تباہ کاریوں سے سبق سیکھنے پر تیار ہیں یا نہیں۔

    یہ وقت محض ریلیف فراہم کرنے کا نہیں بلکہ مستقبل کے لیے ٹھوس حکمتِ عملی بنانے کا ہے۔ اگر آبی ذخائر کے نظام کو بہتر نہ بنایا گیا، ڈیموں اور بیراجوں کی مینجمنٹ درست نہ ہوئی اور متاثرہ آبادیوں کے لیے پائیدار منصوبے نہ بنائے گئے تو سیلاب محض ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ ایک مستقل معاشی تباہی بن کر ہمارے سامنے کھڑا رہے گا۔

  • قصور: بلاول بھٹو سیلاب متاثرین کے درمیان، 1975 کی بھٹو روایت تازہ

    قصور: بلاول بھٹو سیلاب متاثرین کے درمیان، 1975 کی بھٹو روایت تازہ

    قصور(باغی ٹی وی،ڈسٹرکٹ رپورٹر طارق نوید سندھو)1975 سے آج تک، بھٹو کی روایت بلاول بھٹو کے ساتھ قصور کے سیلاب متاثرین تک پہنچ گئی،پیپلز پارٹی کی قیادت نے عوام کے دکھ درد میں شریک ہو کر سیاسی وراثت کا تسلسل ثابت کیا

    قصور کے سیلاب متاثرہ خاندانوں کو محض ہمدردی سے بڑھ کر احساس اس وقت ہوا جب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جمعہ کے روز ریلیف کیمپوں میں پہنچے۔ بہت سے متاثرین کے لیے یہ لمحہ 1975 کی یاد تازہ کر گیا، جب شہید ذوالفقار علی بھٹو انہی سیلاب زدہ علاقوں میں آ کر عوام کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے ریلیف کیمپوں اور تلوار پوسٹ کا دورہ کیا، جہاں وہ متاثرہ خاندانوں میں گھل مل گئے، ان کے مسائل سنے اور پارٹی کی غیر متزلزل حمایت کی یقین دہانی کرائی۔ خواتین بچوں کو سنبھالے، جھریوں بھرے چہروں والے بزرگ اور مستقبل کے حوالے سے پریشان نوجوان اس امید پر ان کے گرد جمع تھے کہ ان کی آواز سننے والا موجود ہے۔

    اس موقع پر ڈپٹی کمشنر قصور عمران علی اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عیسیٰ خان سکھیرا نے چیئرمین پیپلز پارٹی کو تباہی کے پیمانے، بے گھر ہونے والے خاندانوں کی تعداد اور فراہم کی جانے والی رہائشی، خوراک اور طبی سہولتوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔

    بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، چوہدری منظور احمد، سید حسن مرتضیٰ، قمر الزمان کائرہ، ندیم افضل چن، آصف کھوکھ، شہیم صفدر، آصف جاوید بھٹی اور دیگر ضلعی قیادت بھی موجود تھی۔ ان رہنماؤں کی موجودگی اس بات کا واضح پیغام دے رہی تھی کہ پیپلز پارٹی کی قیادت مشکل کی اس گھڑی میں متاثرین کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

    متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہر سطح پر ان کے مسائل کے حل کے لیے کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ فوری ریلیف کے ساتھ ساتھ بحالی اور مستقبل میں سیلاب سے بچاؤ کے اقدامات حکومت اور ان کی جماعت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔

    مقامی عوام نے اس دورے پر خوشی اور شکریہ کا اظہار کیا۔ بزرگ شہریوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کو اپنے درمیان دیکھ کر انہیں 1975 کے وہ مناظر یاد آگئے جب شہید ذوالفقار علی بھٹو سیلاب زدہ علاقوں میں پہنچ کر عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے تھے۔ ایک بزرگ شہری نے آنکھوں میں نمی لیے کہا: "آج ہمیں بلاول میں اپنے قائد کا عکس دکھائی دے رہا ہے۔”

    پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے بھی زور دیا کہ جس طرح شہید ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو عوام کے دکھ درد میں شریک رہے، بلاول بھٹو زرداری بھی اسی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ غریب اور پسے ہوئے طبقے کی آواز بلند کی ہے اور آئندہ بھی ہر آزمائش میں عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی۔

    یہ دورہ نہ صرف قصور میں سیلاب کی سنگین صورتحال کو اجاگر کرتا ہے بلکہ اس سیاسی وراثت کو بھی تازہ کرتا ہے جو ہمدردی، یکجہتی اور اس یقین پر مبنی ہے کہ حقیقی قیادت کا امتحان کٹھن اوقات میں ہوتا ہے۔ قصور کے عوام کے لیے بلاول بھٹو زرداری کی موجودگی فوری مدد کی امید بھی تھی اور اس بات کا یقین بھی کہ بھٹو کی روایت آج بھی عوام کے ساتھ سانجھی ہے۔

  • سکھر: یومِ دفاع پاکستان، 84 فٹ بلند قومی پرچم لہرایا گیا، شہداء کو خراجِ عقیدت

    سکھر: یومِ دفاع پاکستان، 84 فٹ بلند قومی پرچم لہرایا گیا، شہداء کو خراجِ عقیدت

    سکھر (باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق علی لغاری)یومِ دفاع پاکستان کے موقع پر لبِ مہران کے قریب واکنگ ٹریک پر پرچم کشائی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں میرِ سکھر بیرسٹر ارسلان شیخ، کمشنر سکھر عابد سلیم قریشی، ڈی آئی جی سکھر رینج کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ، ایس ایس پی سکھر اظہر خان مغل اور ڈپٹی کمشنر نادر شہزاد خان نے خصوصی شرکت کی۔

    ضلعی انتظامیہ کی جانب سے منعقدہ اس تقریب میں دفاعِ وطن کی بے مثال تاریخ کو یاد کیا گیا۔ اس موقع پر ملک کا دوسرا اور سندھ کا پہلا 84 فٹ بلند اور 56 فٹ چوڑا پرچم لہرایا گیا، جس پر شرکاء نے زبردست جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔

    تقریب کے اختتام پر ملکی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں جبکہ شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور افواجِ پاکستان کی خدمات کو سراہا گیا۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک و قوم کی خدمت میں ہمیشہ بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے۔

    اس موقع پر کالج کے اساتذہ، طلباء و طالبات، سول سوسائٹی کے معززین اور بری، بحری و فضائیہ سمیت دیگر فورسز کے افسران کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

  • گوجرہ: جشن عید میلادالنبی ﷺ کی گہما گہمی، جلوس، نعتیہ محافل اور درود و سلام کی صدائیں

    گوجرہ: جشن عید میلادالنبی ﷺ کی گہما گہمی، جلوس، نعتیہ محافل اور درود و سلام کی صدائیں

    گوجرہ (سٹی رپورٹر محمد اجمل)گوجرہ میں جشن عید میلادالنبی ﷺ کے موقع پر "جشن صبحِ بہاراں” کا آغاز بارگاہِ رسالت ﷺ میں ہدیہ درود و سلام اور اجتماعی دعاؤں سے ہوا۔ اس مناسبت سے شہر بھر میں نعتیہ محافل، محفل میلاد شریف اور قصیدہ بردہ شریف کے اجتماعات منعقد کیے گئے۔

    جشن کے سلسلے میں شہر کے مختلف علاقوں سے جلوس اور ریلیاں نکالی گئیں، جبکہ درود و سلام کی صداؤں سے فضاء معطر رہی۔ مرکزی جلوس کا استقبال میونسپل کمیٹی کے مرکزی گیٹ پر اسسٹنٹ کمشنر صدف اکبر، چیف آفیسر سید یاسر علی شاہ اور میونسپل کمیٹی کے عملے نے کیا، جہاں شرکاء پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور مٹھائی تقسیم کی گئی۔ اس کے علاوہ شہر بھر میں پانی کی سبیلوں کا بھی انتظام کیا گیا۔

    مرکزی جلوس جامعہ چراغیہ کے پیر سید عثمان علی شاہ کی قیادت میں نکالا گیا، دوسرا بڑا جلوس پیر سید اسرار البہار شاہ اور تیسرا بڑا جلوس پیر عتیق الرحمان گھمکول شریف کی قیادت میں برآمد ہوا، جبکہ گلی محلوں سے بھی متعدد چھوٹے بڑے جلوس نکالے گئے۔

    شہر بھر میں جشن ولادت کے موقع پر ہر طرف خوشی کی فضا قائم ہے اور بچے، جوان اور بوڑھے سب سرور و مسرت کا اظہار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

  • میرپورخاص: عید میلادالنبی ﷺ کی ریلیوں اور محافل کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات

    میرپورخاص: عید میلادالنبی ﷺ کی ریلیوں اور محافل کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات

    میرپورخاص (باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ)ضلع بھر میں جشن عید میلادالنبی ﷺ کے موقع پر ریلیاں اور جلوس سخت سیکیورٹی انتظامات کے تحت رواں دواں ہیں۔ ایس ایس پی میرپورخاص ڈاکٹر سمیر نور چنہ کی ہدایات پر تمام میلاد محافل، اجتماعات اور جلوسوں کے لیے فول پروف سیکیورٹی پلان نافذ کیا گیا ہے۔

    ایس ایس پی ڈاکٹر سمیر نور چنہ نے ریلیوں اور جلوسوں کے منتظمین و علماء کرام سے ملاقاتیں کیں اور سیکیورٹی انتظامات کا خود جائزہ لیا۔ اس موقع پر تمام ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز فیلڈ میں موجود ہیں اور اپنے جوانوں کے ساتھ جلوسوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔

    شہریوں کے لیے ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کی غرض سے ٹریفک پولیس کے جوان بھی تعینات کیے گئے ہیں جبکہ ضلعی کمانڈ اینڈ کنٹرول روم سے سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے تمام سیکیورٹی انتظامات کی لمحہ بہ لمحہ مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔

    ایس ایس پی میرپورخاص نے واضح کیا ہے کہ سیکیورٹی اقدامات پر عمل درآمد کے حوالے سے کوئی بھی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • اوکاڑہ: صوبائی وزیر زراعت سید عاشق حسین کرمانی کا فلڈ ریلیف کیمپ بنگلہ گوگیرہ کا دورہ، متاثرین میں راشن و امدادی سامان تقسیم

    اوکاڑہ: صوبائی وزیر زراعت سید عاشق حسین کرمانی کا فلڈ ریلیف کیمپ بنگلہ گوگیرہ کا دورہ، متاثرین میں راشن و امدادی سامان تقسیم

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)صوبائی وزیر زراعت و لائیو اسٹاک سید عاشق حسین کرمانی نے بنگلہ گوگیرہ فلڈ ریلیف کیمپ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ممبر قومی اسمبلی چوہدری ندیم رضا ربیرہ، ایم پی اے چوہدری غلام رضا ربیرہ، ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید اور ڈی پی او راشد ہدایت سمیت دیگر افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے فلڈ ریلیف کیمپ میں سیلاب متاثرین کو فراہم کی جانے والی سہولیات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    صوبائی وزیر نے عید میلادالنبی ﷺ کا کیک کاٹا اور سیلاب متاثرین میں راشن، مٹھائی اور جانوروں کے لیے ونڈا تقسیم کیا۔ انہوں نے ایجوکیشن کاؤنٹر پر تعلیمی سہولیات، میڈیکل کیمپ میں طبی سہولیات اور فیلڈ ہسپتال میں دستیاب ادویات کے سٹاک کا بھی معائنہ کیا۔ بعدازاں وزیر زراعت نے کیمپ سے ملحقہ علاقوں کا پیدل دورہ کیا اور متاثرین سے فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔

    اس موقع پر انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب سیلاب متاثرین کی مشکلات کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہیں۔ صوبہ پنجاب تاریخ کے بدترین سیلاب کی تباہ کاریوں سے دوچار ہے لیکن متاثرین کو ریلیف کیمپس میں تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

    صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ عید میلادالنبی ﷺ اہلِ اسلام کے لیے خوشیوں کا پیغام ہے، اس موقع پر سیلاب متاثرین کو بھی خوشیوں میں برابر شریک کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ریلیف کی فراہمی کا سلسلہ بلا تعطل جاری رکھا جائے گا۔