Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • کیا پاکستانی بھی انڈونیشیا کے راستے پر چلیں گے؟

    کیا پاکستانی بھی انڈونیشیا کے راستے پر چلیں گے؟

    کیا پاکستانی بھی انڈونیشیا کے راستے پر چلیں گے؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    رائٹرز کی ایک خبر کے مطابق "انڈونیشیا میں اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج شدت اختیار کر گیا۔ مظاہرین نے پارلیمنٹ کے نزدیک جمع ہو کر توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کیا، پارلیمنٹ کی عمارت کو بھی آگ لگا دی۔ آگ لگنے کے باعث عمارت میں پھنسے کئی مظاہرین نے کود کر جان بچائی جس کے نتیجے میں متعدد افراد کی ہڈیاں بھی ٹوٹ گئیں۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے شیل برسائے، پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں 6 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ حکام نے کشیدگی والے علاقوں میں فوج طلب کر لی۔”

    ان دنوں جب عالمی سطح پر اقتصادی عدم مساوات اور سیاسی اشرافیہ کی خود غرضی زیر بحث ہے، انڈونیشیا اور پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں پارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ ایک حساس موضوع بن چکا ہے۔ انڈونیشیا میں ارکان پارلیمنٹ کے ہاؤسنگ الاؤنس عوام کو سڑکوں پر لے آیا، جس کے نتیجے میں پرتشدد احتجاج ہوئے اور پارلیمنٹ کی عمارتیں نذر آتش ہوئیں۔ دوسری طرف پاکستان میں پارلیمنٹیرینز، وزراء، اسپیکر، چیئرمین سینٹ اور ججز کی تنخواہوں میں اضافے پر تنقید تو ہوئی، لیکن ابھی تک کوئی بڑا عوامی احتجاج نہیں دیکھا گیا۔ یہ اضافے ایک ایسے وقت میں ہوئے جب پاکستان بدترین معاشی مشکلات کا شکار ہے اور سیلاب کی لپیٹ میں ہے، جہاں شہر اور دیہات تباہ ہو چکے، لاکھوں لوگوں کا سب کچھ دریاؤں کی نذر ہو گیا اور قومی ہنگامی حالت ہے۔آئیےانڈونیشیا اور پاکستان کی مراعات کا تقابلی جائزہ پیش لینے کی کوشش کرتے ہیں ، یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا پاکستانی اشرافیہ نے یہ ناجائز اضافے رضاکارانہ طور پر واپس کیے، اور کیا وہ عوام کو انڈونیشیا کی طرح خطرناک احتجاج کی طرف نہیں دھکیل رہے ہیں۔

    انڈونیشیا میں 2024 میں ارکان پارلیمنٹ (ڈی پی آر) کے لیے ہاؤسنگ الاؤنس متعارف کرایا گیا جو ماہانہ 50 ملین روپیہ (تقریباً 3,057 امریکی ڈالر یا 8.5 لاکھ پاکستانی روپے) تھا۔ یہ الاؤنس جکارتہ کی کم سے کم اجرت (5.4 ملین روپیہ) سے دس گنا زیادہ تھا اور ارکان کی مجموعی آمدنی 100 ملین روپیہ سے تجاوز کر گئی۔ یہ اضافہ پارلیمنٹ کی رہائشی کمپلیکس بند ہونے کی وجہ سے کیا گیا لیکن اس کا اعلان اگست 2025 میں ایک حساس وقت پر ہوا، جب ملک اقتصادی بحران، مہنگائی اور بے روزگاری سے نبردآزما ہورہا تھا۔ صدر پرابوو سبیانٹو کی نئی حکومت کفایت شعاری کی پالیسیوں پر زور دے رہی تھی، لیکن یہ الاؤنس عوام کو اشرافیہ کی خود غرضی کا ثبوت لگا۔ اس اعلان نے عوامی غم و غصے کو بھڑکا دیا۔ 25 اگست 2025 کو جکارتہ میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر طلبہ، مزدوروں اور ایکٹوسٹس نے احتجاج شروع کیا، جو جلد ہی ملک گیر تحریک "انڈونیشیا گیلیپ” کا حصہ بن گیا۔ 28 اگست کو پولیس کی گاڑی نے ایک موٹر سائیکل ٹیکسی ڈرائیور افان کرنیاوان کو کچل دیا، جس کی ہلاکت نے احتجاج کو پرتشدد بنا دیا۔ مظاہرین نے مکاسر، سورابایا، بینڈنگ اور دیگر شہروں میں علاقائی پارلیمنٹ کی عمارتوں کو آگ لگائی، جس میں 6 ہلاکتیں اور متعدد زخمی ہوئے۔ پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا، لیکن عوامی دباؤ نے بالآخر 31 اگست کو صدر پرابوو کو مجبور کیا کہ وہ الاؤنس واپس لیں اور غیر ملکی دوروں پر پابندی لگائیں۔ یہ واقعات انڈونیشیا میں عوامی طاقت اور سیاسی جوابدہی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔

    دوسری طرف پاکستان کی صورتحال زیادہ پیچیدہ اور افسوسناک ہے۔ 2024 اور 2025 میں پارلیمنٹیرینز (ایم این اے اور سینیٹرز)، وزراء، اسپیکر، چیئرمین سینٹ اور ججز کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا۔ پارلیمنٹیرینز کی تنخواہ 218,000 روپے سے بڑھ کر 519,000 روپے (138 فیصد اضافہ) ہو گئی، جو "ممبرز آف پارلیمنٹ سیلریز اینڈ الاؤنسز (ترمیمی) بل 2025” کے ذریعے جنوری 2025 سے نافذ ہوا۔ وفاقی وزراء کی تنخواہ میں 159 فیصد اور وزراء مملکت کی 188 فیصد اضافہ ہوا، جو سب 519,000 روپے پر آ گئی۔ اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ کی تنخواہ 205,000 سے 1.3 ملین روپے (535 فیصد اضافہ) ہو گئی، جو مئی 2025 کے نوٹیفکیشن سے ہوا۔ ججز کے الاؤنسز بھی بڑھائے گئے، ہائی کورٹ ججز کا ہاؤس رینٹ الاؤنس 65,000 سے 350,000 روپے اور سپریئر جوڈیشل الاؤنس 342,431 سے 1,090,000 روپے، جبکہ سپریم کورٹ ججز کے الاؤنسز میں بھی اسی طرح اضافہ نومبر 2024 میں ہوا۔ یہ اضافے وزارت قانون و انصاف کے نوٹیفکیشنز اور صدر کی منظوری سے کیے گئے۔

    یہ اضافے ایک ایسے وقت میں ہوئے جب پاکستان شدید اقتصادی بحران سے گزر رہا ہے، جہاں مہنگائی 20 فیصد سے زیادہ ہے اور غربت بڑھ رہی ہے۔ مزید برآں گذشتہ ماہ یعنی اگست 2025 سے پاکستان بدترین سیلاب کی لپیٹ میں ہے۔ کے پی کے میں بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ پلک جھپکتے ہی سب کچھ تباہ کردیا،پنجاب، سندھ اور دیگر علاقوں میں ستلج، چناب اور راوی دریاؤں کی بلند سطح نے تباہی مچائی۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق 2 ملین سے زائد افراد متاثر ہوئے، 1400 دیہات زیر آب آئے، 849 ہلاکتیں اور 1130 زخمی ہوئےجبکہ 1 ملین سے زیادہ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔ شہر جیسے لاہور ،سیالکوٹ برباد ہو چکے، زرعی اراضی تباہ اور لوگوں کے گھر، مویشی اور فصلیں سیلاب کی نذر ہو گئیں۔ یہ مون سون سے شروع ہونے والا سیلاب ستمبر 10 تک جاری رہ سکتا ہے، جو پاکستان کی آب و ہوا کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

    انڈونیشیا اور پاکستان کی مراعات کی کہانیوں میں کئی باتیں مشترک ہیں۔ دونوں ممالک نے اقتصادی بحران کے دوران مراعات بڑھائیں، انڈونیشیا میں ہاؤسنگ الاؤنس (50 ملین روپیہ، کم سے کم اجرت کا 10 گنا) اور پاکستان میں تنخواہ/الاؤنس (519,000 روپے تک، کم سے کم اجرت کا 20 گنا اور اسپیکر کی 1.3 ملین روپے)۔ دونوں میں اضافے عوامی تنقید کا باعث بنے، لیکن ردعمل میں فرق واضح ہے۔ انڈونیشیا میں عوام نے فوری اور پرتشدد احتجاج کیا، جس نے حکومت کو الاؤنس واپس لینے پر مجبور کیا۔ پاکستان میں اگرچہ سیاسی حلقوں (جیسے پی ایم ایل-این کے اندر) سے تنقید ہوئی، لیکن عوامی احتجاج ابھی تک محدود ہے۔ اہم بات یہ کہ پاکستانی اشرافیہ نے اضافے رضاکارانہ طور پر واپس نہیں کیے، نہ ہی مفت بجلی، گیس اور دیگر مراعات ترک کیں، جو غریب کے ٹیکس سے آتی ہیں۔

    پاکستان کی موجودہ صورتحال خطرناک ہے۔ سیلاب نے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کر دیا، جبکہ اشرافیہ کی مراعات عوام کے زخموں پر نمک پاشی ہیں۔ انڈونیشیا میں ایک ڈرائیور کی ہلاکت نے احتجاج کو بھڑکایااور پاکستان میں 849 ہلاکتیں اور لاکھوں افراد کی بے گھری اس سے بڑی وجہ فراہم کر سکتی ہے۔ اگر پارلیمنٹیرینز، اسپیکر، چیئرمین سینٹ اور ججز نے اضافے واپس نہ کیے تو عوام انڈونیشیا کی طرح سڑکوں پر آ سکتا ہے۔ مفت مراعات جیسے بجلی، گیس اور ٹریول، جو غریب کے خون پسینے سے ادا ہوتے ہیں، اشرافیہ کی بے ضمیری کو ظاہر کرتی ہیں۔

    انڈونیشیا سے سبق سیکھتے ہوئے، پاکستانی اشرافیہ کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر تنخواہوں اور الاؤنسز کا اضافہ واپس لے اور مفت مراعات ترک کر کے یہ وسائل سیلاب زدگان کی بحالی پر خرچ کرے۔ انڈونیشیا نے عوامی دباؤ سے اصلاحات کیں اور پاکستان کو بھی اسی راستے پر چلنا ہو گا، ورنہ عوامی غم و غصہ پرتشدد احتجاج کی شکل لے سکتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ سیاسی کلاس عوام کی تکلیف کو سمجھے، ورنہ تاریخ بتاتی ہے کہ خاموشی ہمیشہ نہیں رہتی۔

  • ڈیرہ غازی خان: کوہ سلیمان میں بارشوں کے بعد ضلعی انتظامیہ متحرک، سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات

    ڈیرہ غازی خان: کوہ سلیمان میں بارشوں کے بعد ضلعی انتظامیہ متحرک، سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات

    ڈیرہ غازی خان(سٹی رپورٹرجواداکبر)حالیہ بارشوں کے باعث کوہ سلیمان میں رود کوہیوں میں پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ پوری طرح متحرک ہو چکی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان خالد نے ڈی پی او طارق ولایت اور دیگر افسران کے ہمراہ سخی سرور کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے رود کوہی سخی سرور میں پانی کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا اور مقامی لوگوں سے بھی ملاقات کی۔

    ڈپٹی کمشنر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بھاری مشینری اور دیگر ضروری سہولیات موقع پر فراہم کر دی گئی ہیں اور انتظامیہ مکمل طور پر الرٹ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پانی کی صورتحال بتدریج کم ہو رہی ہے۔

    محمد عثمان خالد نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے تاکہ شہریوں کو کسی بھی قسم کی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے اور انہیں ہر ممکن سہولت فراہم کی جا سکے۔

  • گوجرانوالہ:موٹرسائیکل چوری کے خلاف بڑی کارروائی، 7 گروہوں کے 16 ملزمان گرفتار

    گوجرانوالہ:موٹرسائیکل چوری کے خلاف بڑی کارروائی، 7 گروہوں کے 16 ملزمان گرفتار

    گوجرانوالہ(نامہ نگار،محمدرمضان نوشاہی) گوجرانوالہ کی اینٹی وہیکل لفٹنگ سٹاف (AVLS) پولیس نے ماہِ اگست کے دوران موٹرسائیکل چوروں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے 7 گروہوں کے 16 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

    پولیس نے گرفتار ملزمان کے قبضے سے 42 موٹرسائیکلیں، 3 لاکھ روپے نقدی، 3 موبائل فونز، اور ناجائز اسلحہ برآمد کیا ہے۔ ڈی ایس پی اے وی ایل ایس طارق محمود کی زیرِ نگرانی ٹیموں نے جدید سائنسی طریقہ کار اور سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ان ملزمان کا سراغ لگایا۔ گرفتار ملزمان اور ان سے برآمد ہونے والا مالِ مسروقہ متعلقہ تھانوں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    اس موقع پر، سی پی او محمد ایاز سلیم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پولیس سماج دشمن عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے گی تاکہ شہریوں کو ایک پرامن ماحول فراہم کیا جا سکے۔

  • اوکاڑہ اور فیصل آباد کے ڈپٹی کمشنرز کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا مشترکہ دورہ

    اوکاڑہ اور فیصل آباد کے ڈپٹی کمشنرز کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا مشترکہ دورہ

    اوکاڑہ(نامہ نگار،ملک ظفر)اوکاڑہ اور فیصل آباد کے ڈپٹی کمشنرز نے دریائے راوی میں ماڑی پتن کے مقام پر سیلابی صورتحال کا مشترکہ جائزہ لیا۔ اس دورے کا مقصد دونوں اضلاع میں سیلاب متاثرین کے لیے ریلیف آپریشنز کو مزید مؤثر بنانا اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت اقدامات کرنا ہے۔

    محکمہ ایریگیشن کے افسران نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دریائے راوی میں اس وقت پانی کا بہاؤ 2 لاکھ کیوسک ہے اور پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ ریسکیو حکام نے سیلاب متاثرین کے انخلاء اور محفوظ مقامات پر منتقلی کے لیے جاری ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

    ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ احمد عثمان جاوید نے بتایا کہ ضلع اوکاڑہ میں تقریباً 80 ہزار ایکڑ رقبہ سیلاب سے متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلڈ ریلیف کیمپس میں متاثرین کو ہر ممکن سہولیات کے ساتھ تینوں اوقات میں معیاری کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کیپٹن (ر) ندیم ناصر نے بتایا کہ فیصل آباد کی 9 یونین کونسلز کے 25 دیہات دریائے راوی میں سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، اور شدید متاثرہ علاقوں کو خالی کرا لیا گیا ہے۔

    دونوں ضلعی سربراہان نے سیلاب متاثرین کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں اضلاع کی مشترکہ کاوشوں سے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی کارروائیوں میں بہتری آئے گی اور ضرورت کے وقت باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس اینڈ پلاننگ چوہدری عبدالجبار گجر اور پاک فوج کے افسران بھی موجود تھے۔

  • اوکاڑہ : دریائے ستلج کا 27 سالہ سیلاب کا ریکارڈ ٹوٹنے کا خدشہ، بڑے ریلے سے تباہی کا خطرہ

    اوکاڑہ : دریائے ستلج کا 27 سالہ سیلاب کا ریکارڈ ٹوٹنے کا خدشہ، بڑے ریلے سے تباہی کا خطرہ

    اوکاڑہ(نامہ نگارملک ظفر) دریائے ستلج میں بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کے نتیجے میں پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے، جس سے 27 سالہ سیلاب کا ریکارڈ ٹوٹنے کا خدشہ ہے۔ ذرائع کے مطابق، دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک سے تجاوز کر چکا ہے اور مسلسل بلند ہو رہا ہے۔

    پانی کا یہ بڑا سیلابی ریلا تباہی مچاتا ہوا ہیڈ سلیمانکی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ یاد رہے کہ 1998 میں ہیڈ سلیمانکی سے 3 لاکھ 20 ہزار کیوسک اور 1988 میں 4 لاکھ کیوسک کا ریلا گزرا تھا۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر، ہیڈ سلیمانکی پر ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور دھرنگہ بند میں شگاف پڑنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

    اوکاڑہ کی ضلعی انتظامیہ تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لاتے ہوئے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ پاکستان رینجرز، پولیس اور ریسکیو اہلکار ہائی الرٹ پر ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مزید پولیس نفری طلب کر لی گئی ہے۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر چوہدری ظفر اقبال کی قیادت میں ریسکیو ٹیمیں سیلاب میں پھنسے ہوئے لوگوں اور ان کے مال مویشیوں کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں۔

    محکمہ صحت، سول ڈیفنس، اور محکمہ لائیو سٹاک بھی متاثرہ افراد کی بھرپور امداد میں مصروف ہیں۔ سیلاب سے بچاؤ کے اعلانات کے ذریعے عوام سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی مسلسل اپیل کی جا رہی ہے۔

  • ننکانہ:مون سون اور سیلاب کا دہرہ وار، گلیاں ڈوب گئیں، ہیڈ بلوکی پر خطرے کی گھنٹی

    ننکانہ:مون سون اور سیلاب کا دہرہ وار، گلیاں ڈوب گئیں، ہیڈ بلوکی پر خطرے کی گھنٹی

    ننکانہ صاحب(باغی ٹی وی،نامہ نگاراحسان اللہ ایاز)مون سون اور سیلاب کا دہرہ وار، گلیاں ڈوب گئیں، ہیڈ بلوکی پر خطرے کی گھنٹی

    تفصیلات کے مطابق ننکانہ صاحب اور گردونواح میں مون سون بارشوں اور دریاؤں کی طغیانی نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ شہر کی گلیاں اور بازار کئی کئی فٹ پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ ڈاکٹر والا بازار، حرا چوک، ڈھولر چوک، ڈی ایچ کیو اسپتال اور ڈی سی آفس کے سامنے پانی جمع ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سیوریج کے ناقص انتظامات اور میونسپل کمیٹی کے افسران کی غفلت نے شہریوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کی فریادیں حکام تک نہیں پہنچ رہیں، جبکہ گندے پانی سے بیماریاں پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر سیوریج سسٹم کو بحال کیا جائے۔

    دوسری جانب ہیڈ بلوکی میں دریائے راوی کی سیلابی صورتحال سنگین ہو گئی ہے۔ پانی کی آمد 2 لاکھ 20 ہزار کیوسک سے تجاوز کر چکی ہے جس کے نتیجے میں 15 سے زائد دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے 26 فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے ہیں جہاں کھانے پینے کی اشیاء، صاف پانی اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ریسکیو اور ریلیف ٹیموں میں 600 سے زائد افسران اور اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔

    میجر جنرل محمد فیصل رانا نے ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ ہیڈ بلوکی کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ نے پاک فوج کے افسران کو سیلابی صورتحال پر بریفنگ دی۔ پاک فوج کے افسران نے ریلیف کیمپس کا معائنہ کیا، متاثرین سے ملاقات کی اور ان میں راشن بھی تقسیم کیا۔ افسران کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان اور سول ادارے ہر مشکل گھڑی میں قوم کے ساتھ ہیں۔

  • ڈیرہ غازی خان: ڈپٹی کمشنر کا سیلاب متاثرہ علاقوں اور ریلیف کیمپس کا دورہ

    ڈیرہ غازی خان: ڈپٹی کمشنر کا سیلاب متاثرہ علاقوں اور ریلیف کیمپس کا دورہ

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر جواد اکبر) ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان خالد نے ڈی پی او طارق ولایت اور دیگر افسران کے ہمراہ فلڈ ریلیف کیمپ سرور والی، غازی گھاٹ اور مختلف زیر آب علاقوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر اے سی صدر تیمور عثمان، چیف آفیسر ضلع کونسل جواد الحسن گوندل، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر احمد کمال اور دیگر افسران بھی ہمراہ تھے۔

    ڈپٹی کمشنر نے متاثرہ دیہات کے عوام سے ملاقاتیں کیں اور ان کے مسائل سنے۔ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر اہل علاقہ کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں اور شہری ضلعی انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔

    ڈپٹی کمشنر نے فلڈ ریلیف کیمپس کے علاوہ صحت، ریسکیو 1122 اور دیگر اداروں کے لگائے گئے کیمپس کا بھی معائنہ کیا اور ریسکیو آپریشن و تیاریوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ لی۔

  • نارنگ منڈی: سیلابی پانی کی سطح کم، 70 دیہات متاثر، 46 ہزار ایکڑ رقبہ تباہ

    نارنگ منڈی: سیلابی پانی کی سطح کم، 70 دیہات متاثر، 46 ہزار ایکڑ رقبہ تباہ

    نارنگ منڈی (نامہ نگار محمد وقاص قمر) نارنگ منڈی کے سرحدی دیہات میں سیلابی پانی کی سطح کم ہونا شروع ہو گئی ہے تاہم تباہی کے اثرات شدید ہیں۔ بی آر بی نہر اور دریائے راوی کے پار 70 کے قریب دیہات متاثر ہوئے ہیں، جبکہ 46 ہزار ایکڑ زرعی رقبے پر کھڑی فصلیں، جن میں چاول، جوار، مکئی، سبزیاں اور جانوروں کا چارہ شامل ہے، مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ ابتدائی تخمینے کے مطابق نقصانات کی مالیت کروڑوں روپے تک پہنچ چکی ہے۔

    مسلسل بارشوں نے متاثرہ دیہات کے مکینوں کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔ گزشتہ روز رکن قومی اسمبلی رانا احمد عتیق انور، رکن صوبائی اسمبلی چوہدری حسان ریاض، سابق ایم پی اے چوہدری واجد علی خاں، ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ شاہد عمران مارتھ، ڈسٹرکٹ ریسکیو آفیسر رانا اعجاز اور اسسٹنٹ کمشنر توصیف حسن نے سیلابی علاقوں کا دورہ کیا۔ اس دوران اہل علاقہ نے انتظامیہ کے سامنے شکایات کے انبار لگا دیے۔

    انتظامیہ کے مطابق دریائے راوی کے پار پھنسے درجنوں افراد کو ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ، مقامی فلاحی تنظیموں اور عوام کی مدد سے متاثرہ افراد کو کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں مسلسل امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور ہیڈ کوٹ بھیلاں کے مقام پر میڈیکل سمیت مختلف کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق پانی کی سطح میں کمی آ رہی ہے تاہم معمولات زندگی بحال ہونے میں مزید کئی دن لگ سکتے ہیں۔ دوسری جانب مسلسل بارشیں متاثرین کے لیے جلتے پر نمک کا کام کر رہی ہیں۔

  • سیالکوٹ:وزیراعلیٰ مریم نواز کا دورہ، متاثرین کی فوری بحالی کی ہدایت

    سیالکوٹ:وزیراعلیٰ مریم نواز کا دورہ، متاثرین کی فوری بحالی کی ہدایت

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی ڈسٹرکٹ رپورٹر مدثر رتو) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سیلابی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے سیالکوٹ سمبڑیال ایئرپورٹ چوک پہنچیں۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر صباء اصغر علی نے وزیراعلیٰ کو سیلاب اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز نے ڈپٹی کمشنر اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی تک ان کے لیے کھانے کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے نشیبی علاقوں سے پانی نکالنے کے لیے مزید ڈی واٹرنگ پمپس لگانے کی ہدایت بھی کی۔

    وزیراعلیٰ نے ارکان اسمبلی کو ہدایت کی کہ وہ مشکل کے وقت عوام کے درمیان موجود رہیں اور نکاسیِ آب کے پائیدار اقدامات کے لیے تجاویز دیں۔ انہوں نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ جلد از جلد پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ حالیہ بارشوں کے دوران تقریباً 20 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جب کہ انتظامیہ کی کاوشوں سے سیلاب میں پھنسے 6 ہزار 860 افراد کو بروقت ریسکیو کیا گیا۔ سیلابی ریلوں سے سیالکوٹ کے 300 سے زائد دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ ضلع بھر میں 38 ریلیف کیمپ اور 18 فوڈ کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔

  • میرپورخاص: معذور افراد میں وہیل چیئرز اور اسسٹنس ڈیوائسز تقسیم

    میرپورخاص: معذور افراد میں وہیل چیئرز اور اسسٹنس ڈیوائسز تقسیم

    میرپورخاص(باغی ٹی وی ،نامہ نگار سیدشاہزیب شاہ) حکومت سندھ کے محکمہ ڈی ای پی ڈی اور میرپورخاص اسپیشل اسپورٹس اینڈ ویلفیئر ایسوسی ایشن، گلستان معذورین کے اشتراک سے مقامی بینکوئیٹ ہال میں افرادِ باہم معذورین میں اسسٹنس ڈیوائسز تقسیم کرنے کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر معذور افراد میں وہیل چیئرز، ٹرائی سائیکلیں، واکر اور اسٹک تقسیم کی گئیں جبکہ نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو تمغہ حسنِ کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔

    تقریب میں ڈپٹی میئر محترمہ سمیرا بلوچ، اے ڈی سی فیصل سومرو، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈی ای پی ڈی حسن علی لغاری (پرنسپل اسپیشل ایجوکیشن)، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈی ای پی ڈی سرور علی، ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر زوہیب خانزادہ، ڈی ایس پی اسلیم جاگیرانی، صدر انجمن تاجران انیس الرحمن، نامزد ستارہ امتیاز برائے 2026ء صدر ڈی ڈبلیو اے کراچی جاوید رئیس، سرپرست ایم ایس ایس ڈبلیو اے آفاق احمد خان، بانی رکن لعل بلوچ، صدر قمرالدین ملک، سماجی رہنما محمد بخش کپری اور ٹنڈوالہیار، جھڈو سمیت میرپورخاص اور گردونواح کے معذور افراد کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

    ڈپٹی میئر سمیرا بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معذور افراد کی فلاح و بہبود کے لیے ایم ایس ایس ڈبلیو اے اور گلستان معذورین کو مستقل دفتر کی جگہ فراہم کی جائے گی تاکہ یہ خصوصی افراد اپنی صلاحیتیں ملک و قوم کی ترقی کے لیے استعمال کر سکیں۔ انہوں نے حکومت سندھ، وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ اور محکمہ ڈی ای پی ڈی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ادارے کے ساتھ مزید تعاون بڑھانے پر زور دیا اور ایم ایس ایس ڈبلیو اے کے سرپرست آفاق احمد خان، بانی رکن لعل بلوچ، صدر قمرالدین ملک اور جنرل سیکریٹری صلاح الدین کی خدمات کو سراہا۔

    تقریب سے آفاق احمد خان، جاوید رئیس، لعل بلوچ اور قمرالدین ملک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معذور افراد کی جدوجہد کے نتیجے میں بلدیاتی انتخابات میں خصوصی نشستیں مختص کی گئیں جس سے اسپیشل افراد بلدیاتی اداروں میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جلد قومی و صوبائی اسمبلیوں میں بھی معذور افراد کے لیے مخصوص نشستیں رکھی جائیں گی جس سے ان کی زندگیوں میں انقلابی تبدیلی آئے گی۔ مقررین نے آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی پر آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کیا اور حکومت سندھ، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اور سیکریٹری ڈی ای پی ڈی طٰحہ فاروقی کا تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

    اس موقع پر اے ڈی سی فیصل سومرو، ڈپٹی ڈائریکٹر حسن علی لغاری، سرور علی، زوہیب خانزادہ، ڈی ایس پی اسلیم جاگیرانی، انیس الرحمن، جاوید رئیس اور سماجی رہنما محمد بخش کپری نے بھی خطاب کیا۔

    قبل ازیں ایم ایس ایس ڈبلیو اے کے جے رام، فیصل، جمعہ خان، عمران، عرفان، نوید، صدر قمرالدین ملک، جنرل سیکریٹری صلاح الدین اور بانی رکن لعل بلوچ کو شاندار کارکردگی پر تمغہ حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا۔

    پروگرام میں اسپیشل نوجوان صدام راجپر نے سندھی گیت گا کر محفل کو محظوظ کیا جبکہ الیکٹرک وہیل چیئر حاصل کرنے والے بلال نے حاضرین کے سوالات کے ذہانت بھری گفتگو اور جوابات سے داد وصول کی۔