Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اوکاڑہ: بھارت کی آبی جارحیت، دریائے راوی و ستلج میں درمیانے درجے کا سیلاب، ضلعی انتظامیہ ہائی الرٹ

    اوکاڑہ: بھارت کی آبی جارحیت، دریائے راوی و ستلج میں درمیانے درجے کا سیلاب، ضلعی انتظامیہ ہائی الرٹ

    اوکاڑہ (نامہ نگارملک ظفر) اوکاڑہ میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، دریائے راوی اور ستلج کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ حالیہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے ہیڈ سلیمانکی کے علاقے میں 7 فلیڈ ریلیف کیمپ قائم کیے ہیں جہاں ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے 12 سو کے قریب متاثرہ افراد کو ان کے مال مویشی سمیت محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔

    دریائے راوی کے مقام پر بھی دو فلیڈ ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں جہاں محکمہ سول ڈیفنس اور پنجاب پولیس کے اہلکار متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔ دوسری جانب پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری الرٹ کے مطابق بھارت کی طرف سے ایک لاکھ ساٹھ ہزار کیوسک پانی کا نیا ریلا چھوڑا گیا ہے جو آج کسی بھی وقت دریائے راوی اوکاڑہ سے گزرے گا۔ اس صورتحال کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے تمام تر حفاظتی انتظامات مکمل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

  • سیالکوٹ :ڈپٹی کمشنر کا نشیبی علاقوں کادورہ، 512 ملی میٹر بارش موسمیاتی تبدیلیوں کا مظہر

    سیالکوٹ :ڈپٹی کمشنر کا نشیبی علاقوں کادورہ، 512 ملی میٹر بارش موسمیاتی تبدیلیوں کا مظہر

    سیالکوٹ(باغی ٹی وی،ڈسٹرکٹ رپورٹرمدثررتو) ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی نے شہر کے نشیبی علاقوں، بشمول رنگپورہ اور نیکاپورہ، کا دورہ کیا تاکہ سیلاب کے بعد کی صورتحال اور نکاسی آب کی کوششوں کا جائزہ لے سکیں۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ سیالکوٹ میں 512 ملی میٹر ریکارڈ بارش شدید موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ شہر کے تینوں برساتی نالوں—ایک، بھیڈ، اور پلکھو—میں گنجائش سے زیادہ پانی بھر چکا ہے۔ اس کی وجہ سے کئی جگہوں پر پانی کناروں سے باہر نکل رہا ہے اور شگاف پڑ رہے ہیں، اور جب تک ان نالوں میں پانی معمول کی سطح پر نہیں آجاتا، نشیبی علاقوں سے پانی نکالنا مشکل ہے۔

    ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ سیلاب کے باعث ضلع میں اب تک 5 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے اور مزید جانوں کے ضیاع کا خدشہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، پاک فوج، اور پولیس نے گزشتہ رات تقریباً 6,900 افراد کو ریسکیو کیا ہے۔ ان افراد کے لیے ریلیف کیمپوں میں کھانے، پینے اور رہائش کا انتظام کیا گیا ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں، ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ایم ڈی واسا کو ایچ آر کا بروقت انتظام نہ کرنے کی وجہ سے معطل کیا گیا ہے۔ اس موقع پر نئے ایم ڈی واسا فیصل شہزاد بھی موجود تھے، جنہوں نے اپنا چارج سنبھال کر کام شروع کر دیا ہے۔

  • سیالکوٹ: صوبائی وزیر بلدیات میاں ذیشان رفیق کا نشیبی علاقوں کا دورہ، عوام کے نقصان کے ازالے کا اعلان

    سیالکوٹ: صوبائی وزیر بلدیات میاں ذیشان رفیق کا نشیبی علاقوں کا دورہ، عوام کے نقصان کے ازالے کا اعلان

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، ڈسٹرکٹ رپورٹر مدثر رتو) صوبائی وزیر بلدیات میاں ذیشان رفیق نے سیالکوٹ کے نشیبی علاقوں کا دورہ کیا اور رنگ پورہ چوک پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیالکوٹ کی تاریخ میں کبھی اتنی زیادہ بارش ریکارڈ نہیں ہوئی۔ صرف ایک دن میں 405 ملی میٹر اور رات کے وقت مزید 110 ملی میٹر بارش سے شہر میں ایمرجنسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

    وزیر بلدیات نے کہا کہ سیالکوٹ اس وقت ایک قدرتی آفت کا سامنا کر رہا ہے لیکن حکومتی اقدامات میں کسی قسم کی کمی نہیں آنے دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا ریلیف حکومت کی پہلی ترجیح ہے، جہاں بھی سیلاب یا خطرہ ہے وہاں سے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ لوگوں کے نقصان کا ازالہ حکومت کرے گی کیونکہ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑی ہیں۔

    میاں ذیشان رفیق نے کہا کہ ڈی سی آفس میں قائم کنٹرول روم دن رات کام کر رہا ہے اور نکاسی آب و ریلیف کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک نالہ ایک میں پانی کے بہاؤ کا نظام معمول پر نہیں آتا، نشیبی علاقوں میں پانی موجود رہے گا، تاہم ریلیف ٹیمیں مسلسل سرگرم ہیں۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ ضلعی انتظامیہ، واسا اور میونسپل کارپوریشن کی ٹیمیں گزشتہ 48 گھنٹوں سے فیلڈ میں مصروف ہیں اور شہریوں کو پانی سمیت بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر ریلیف سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔

  • نارنگ منڈی: دریائے راوی کی طغیانی، درجنوں دیہات زیر آب، انتظامیہ غائب

    نارنگ منڈی: دریائے راوی کی طغیانی، درجنوں دیہات زیر آب، انتظامیہ غائب

    نارنگ منڈی (نامہ نگار) دریائے راوی نارنگ کے قریب تباہی مچانے لگا، درجنوں دیہات زیر آب آگئے جبکہ متعدد علاقوں کا زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوگیا۔ شتاب گڑھ، برج نواں پنڈ، بریار کہنہ سمیت درجنوں ڈیرہ جات میں پانی داخل ہونے سے ہزاروں ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں اور علاقے میں خوف و ہراس کی فضاء قائم ہے۔

    پسیانوالہ، میرووال، مقبول پور، پرانا چک، دھیدو پرانا، بریار، جنڈیالہ کلساں، پرانا کوٹلی پیراں مست، چک راج پورہ، منڈھیالی، لونگ والا پرانا سمیت وسیع علاقے پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت اہل خانہ اور مال مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم سرکاری سطح پر کوئی امداد نہ پہنچنے پر عوام سخت مشکلات کا شکار ہیں۔

    انتظامیہ نے بی آر بی کے کنارے فلڈ ریلیف کیمپ تو قائم کر دیے ہیں لیکن پانی میں گھرے دیہات تک رسائی نہ ہونے کے باعث متاثرین تک کوئی عملی مدد نہیں پہنچ سکی۔ اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ سرکاری ادارے صرف بیانات تک محدود ہیں جبکہ اصل متاثرین کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق لاہور کو بچانے کے لیے دریائے راوی کو کالا خطائی روڈ، حاجی کوٹ اور شرقپور کے قریب سے توڑنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، جس کے باعث اہل علاقہ نے بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ جسٹر کے مقام پر اڑھائی لاکھ کیوسک پانی چھوڑنے کے بعد دریائے راوی کے کنارے صورتحال مزید سنگین ہوگئی ہے۔

    انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ جسٹر میں پانی کی سطح بتدریج کم ہورہی ہے، تاہم اگلے 24 گھنٹوں میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب نارنگ، فیروزوالہ اور شاہدرہ کے علاقوں تک پہنچنے کا امکان ہے۔ تمام محکموں کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بروقت محفوظ مقامات پر منتقل ہو کر انتظامیہ سے تعاون کریں۔

  • گوجرہ میں جماعت اسلامی کا یومِ تاسیس کنونشن: سودی نظام کے خاتمے اور خوشحال پاکستان کا عزم

    گوجرہ میں جماعت اسلامی کا یومِ تاسیس کنونشن: سودی نظام کے خاتمے اور خوشحال پاکستان کا عزم

    گوجرہ (نامہ نگار، عبدالرحمن جٹ) جماعت اسلامی پنجاب وسطی کے امیر مولانا محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ اگر قوم نے موقع دیا تو جماعت اسلامی اقتدار میں آکر پاکستان کو خوشحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن کرے گی اور ملک کو سودی نظام سے نجات دلائی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوجرہ میں جماعت اسلامی کے زیرِ اہتمام یومِ تاسیس کے موقع پر منعقدہ عوامی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کنونشن کی صدارت ضلعی امیر ڈاکٹر عطاء اللہ حمید نے کی۔

    مولانا جاوید قصوری نے کہا کہ جماعت اسلامی کی 84 سالہ جدوجہد کو محض انتخابی پیمانے پر نہیں پرکھنا چاہیے، کیونکہ اس جماعت نے بے شمار اہداف حاصل کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی تہذیب کے مقابلے میں ‘میرا جسم میری مرضی’ جیسے فتنوں کا مقابلہ حیا کلچر کو فروغ دے کر کیا گیا ہے اور آج ہماری خواتین 8 مارچ کو فخر کے ساتھ ‘حیا ڈے’ مناتی ہیں۔ انہوں نے معاشرے کی اصلاح میں جماعت اسلامی کے کردار کو سراہا۔

    انہوں نے کہا کہ سودی نظام نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ کرپشن اور لاقانونیت کے خلاف جماعت اسلامی کی جدوجہد ضرور رنگ لائے گی اور قوم کے لیے خوشحالی کے دروازے کھلیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جہاں دوسری سیاسی جماعتوں نے ملک میں کرپشن اور لوٹ مار کی داستانیں رقم کی ہیں، وہاں جماعت اسلامی نے امانت، دیانت اور اعلیٰ اقدار کو فروغ دیا ہے، جو اس کی ایک بڑی کامیابی ہے۔

    مولانا جاوید قصوری نے الخدمت فاؤنڈیشن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج پوری دنیا کے سامنے ایک اسلامی نظریاتی تشخص رکھنے اور انسانیت کی خدمت کرنے والی الخدمت فاؤنڈیشن کا غلبہ ہے، جبکہ ادارہ آغوش بھی یتیم اور بے سہارا افراد کی کفالت میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ایک پوری نسل تیار کی ہے جسے ایک نظریہ، کردار اور اسلام پر غیر متزلزل ایمان دیا گیا ہے۔

    تقریب سے مولانا رحمت اللہ ارشد، مولانا عارف محمود، حیدر علی چوہدری اور محمود عزمی نے بھی خطاب کیا۔ آخر میں، محمد جاوید قصوری نے کہا کہ جماعت اسلامی اب قوم کے ساتھ اپنے رابطے کو مزید مؤثر بنائے گی اور آنے والے دنوں میں سیاسی اور انتخابی میدان میں قوم کو ساتھ لے کر آگے بڑھے گی۔

  • اوکاڑہ: اسسٹنٹ کمشنر کا فلڈ ریلیف کیمپس کا دورہ، انتظامات کا جائزہ

    اوکاڑہ: اسسٹنٹ کمشنر کا فلڈ ریلیف کیمپس کا دورہ، انتظامات کا جائزہ

    اوکاڑہ(نامہ نگارملک ظفر) دریائے راوی میں اونچے درجے کے سیلاب کے خدشے کے پیش نظر، اسسٹنٹ کمشنر انعم علی خان نے فلڈ ریلیف کیمپس کا دورہ کیا اور وہاں فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے موضع موپالکے، بامہ بالا اور چوچک میں قائم کیے گئے ریلیف کیمپس میں انتظامات کا معائنہ کیا۔

    دورے کے دوران، انہوں نے کیمپس میں موجود سٹاف کی حاضری بھی چیک کی اور انہیں محنت اور لگن سے کام کرنے کی ہدایت کی۔ اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے قائم کیے گئے ان کیمپس میں ڈیوٹی پر مامور عملہ مکمل طور پر الرٹ رہے۔

    انہوں نے واضح ہدایات جاری کیں کہ سیلاب متاثرین کو تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں۔ ان میں متاثرین کے لیے کھانے پینے کی اشیاء اور ان کے جانوروں کے لیے چارے کا مکمل انتظام شامل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان انتظامات میں کسی قسم کی کمی نہیں آنی چاہیے۔

  • اوکاڑہ:دریائے راوی میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ، انتظامیہ الرٹ

    اوکاڑہ:دریائے راوی میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ، انتظامیہ الرٹ

    اوکاڑہٰ(نامہ نگارملک ظفر) دریائے راوی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھنے کے بعد ضلع اوکاڑہ میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے ایم پی اے چوہدری غلام رضا ربیرہ اور دیگر افسران کے ہمراہ دریائے راوی کے علاقے کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔

    موضع جندراکہ کے مقام پر پانی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد محکمہ انہار کے افسران نے ڈپٹی کمشنر کو بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر پانی کا اخراج 2 لاکھ 29 ہزار کیوسک سے زائد جبکہ ہیڈ بلوکی پر 80 ہزار کیوسک سے تجاوز کر چکا ہے۔ اگلے 24 گھنٹوں کے دوران دریائے راوی میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔
    علاقے خالی کرانے کے احکامات: ڈپٹی کمشنر نے دریا سے ملحقہ تمام علاقوں کو فوری طور پر خالی کروانے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔

    تمام محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت: ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

    عوام اور مال کا تحفظ:
    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ عوام اور ان کے مال کو محفوظ بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جائیں گے۔

    ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں متحرک:
    ایمرجنسی رسپانس ٹیموں کو ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کو متحرک انداز میں سرانجام دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔

  • ننکانہ صاحب: سیلابی صورتحال کے پیش نظر دریائی علاقوں میں دفعہ 144 نافذ

    ننکانہ صاحب: سیلابی صورتحال کے پیش نظر دریائی علاقوں میں دفعہ 144 نافذ

    ننکانہ صاحب(باغی ٹی وی ،نامہ نگار احسان اللہ ایاز) ضلع ننکانہ صاحب میں حالیہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر انسانی جان و مال کے تحفظ کے لیے دریائی علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کو کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچانا ہے۔ ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق، ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ نے دفعہ 144 کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

    حفاظتی انتظامات کے بغیر کشتیوں، فیریوں اور بیڑوں کے ذریعے دریائے راوی کو پار کرنے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ پرائیویٹ آپریٹرز کو دریا عبور کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ سے (NOC) حاصل کرنا لازمی ہوگا۔

    دریائے راوی اور ضلع کی تمام نہروں و ندی نالوں میں نہانے پر بھی دفعہ 144 نافذ ہوگی۔

    دریا اور نہروں کے پلوں پر غیر ضروری طور پر کھڑے ہونے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

    انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ جو افراد سیلاب زدہ علاقوں میں اپنی رہائش نہیں چھوڑیں گے، ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

    ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان ہدایات پر سختی سے عمل کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

  • گوجرانوالہ: دریائے چناب میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب، فوج اور رینجرز ریلیف سرگرمیوں میں مصروف

    گوجرانوالہ: دریائے چناب میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب، فوج اور رینجرز ریلیف سرگرمیوں میں مصروف

    گوجرانوالہ(باغی ٹی وی محمد رمضان نوشاہی کی رپورٹ)گوجرانوالہ میں دریائے چناب میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نوید احمد نے وزیرآباد کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور رات بھر فلڈ ریلیف سرگرمیوں کی خود نگرانی کی۔ ان کا کہنا ہے کہ مختلف دیہاتوں سے پھنسے ہوئے لوگوں کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے اور ریلیف سرگرمیاں جاری ہیں جبکہ صورتحال انڈر کنٹرول ہے۔

    سیلابی صورتحال میں پاکستان آرمی اور رینجرز کے دستے بھی ضلعی انتظامیہ کے شانہ بشانہ امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ دریائے چناب کے قریبی تمام علاقوں میں ریسکیو اہلکار مسلسل کشتیوں میں نگرانی کر رہے ہیں۔

    محکمہ انہار کے مطابق دوپہر ایک بجے کی رپورٹ کے تحت ہیڈ مرالہ بیراج پر پانی کی آمد 5 لاکھ 49 ہزار 748 کیوسک اور اخراج 5 لاکھ 43 ہزار 283 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ خانکی بیراج پر پانی کی آمد و اخراج 10 لاکھ 01 ہزار 480 کیوسک، جبکہ قادر آباد بیراج پر آمد و اخراج 9 لاکھ 35 ہزار 722 کیوسک ریکارڈ ہوا۔ اسی طرح نالہ ایک میں پانی کا اخراج 46 ہزار 950، نالہ ڈیک کنگرہ میں 7437 اور پلکھو میں 4400 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    سیلاب سے متاثرہ عوام کی امداد کے لیے ضلعی انتظامیہ نے وزیرآباد اور گوجرانوالہ میں 13 فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیے ہیں، جہاں متاثرین کو ریلیف اور ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

  • لنڈی کوتل:وکلاء کا چارسدہ میں ایڈووکیٹ عاصم شاہ کے قتل پر شدید احتجاج، فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

    لنڈی کوتل:وکلاء کا چارسدہ میں ایڈووکیٹ عاصم شاہ کے قتل پر شدید احتجاج، فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

    لنڈی کوتل(تحصیل رپورٹر) پشاور ہائی کورٹ کے سابق ایگزیکٹو ممبر قبیس شینواری ایڈووکیٹ نے چارسدہ میں قتل ہونے والے ایڈووکیٹ میاں عاصم شاہ کاکاخیل کے بہیمانہ قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی صاف اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔

    ڈسٹرکٹ خیبر پریس کلب لنڈی کوتل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قبیس شینواری ایڈووکیٹ نے کہا کہ وکلاء برادری اس بے حسی سے ہونے والے قتل پر شدید غم و غصہ میں ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایڈووکیٹ عاصم شاہ کا قتل بغیر کسی وجہ کے انتہائی بے دردی سے کیا گیا ہے اور ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

    انہوں نے آئی جی پولیس خیبر پختونخواہ اور دیگر ذمہ داران سے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ قبیس شینواری ایڈووکیٹ نے متنبہ کیا کہ اگر ملزمان کو جلد گرفتار نہیں کیا گیا اور واقعے کی فوری اور صاف و شفاف تحقیقات نہیں کی گئیں تو وکلاء برادری سخت احتجاج پر مجبور ہو جائے گی۔