Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ میں واسا کو واٹر سپلائی اور سینی ٹیشن کی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں

    سیالکوٹ میں واسا کو واٹر سپلائی اور سینی ٹیشن کی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں

    سیالکوٹ(باغی ٹی وی،ڈسٹرکٹ رپورٹرمدثررتو) سیالکوٹ شہر میں شہریوں کو پانی کی فراہمی اور سینی ٹیشن کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) کو میونسپل کارپوریشن کے یہ شعبے منتقل کر دیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی اور ایم پی اے محمد منشاء اللہ بٹ کی موجودگی میں ایک معاہدے پر دستخط ہوئے۔

    ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جناح ہال میں منعقدہ تقریب میں میونسپل کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر ایوب بخاری اور ایم ڈی واسا ابوبکر عمران نے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کے سینی ٹیشن کے تمام وسائل اور عملہ اب واسا کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ واسا میں نئے ملازمین بھرتی کیے جائیں گے اور جدید مشینری بھی خریدی جائے گی تاکہ شہریوں کو معیاری خدمات فراہم کی جا سکیں۔

    ڈپٹی کمشنر صبا اصغر نے بتایا کہ شہری سینی ٹیشن سے متعلق شکایات کے لیے واسا کی ہیلپ لائن 1334 پر کال کر سکتے ہیں، جہاں ان کی شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے گا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ڈی سی آفس کا کنٹرول روم 24 گھنٹے فعال ہے، جہاں شہری 1718 پر کال کرکے اپنی شکایات درج کروا سکتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ وہ خود ہفتہ وار شکایات کنندگان سے فون پر رابطہ کر کے فیڈ بیک لیتی ہیں، اور اب تک مسائل کے حل کی شرح 80 فیصد سے زیادہ ہے۔

    ایم پی اے محمد منشاء اللہ بٹ نے واسا کے قیام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے شہریوں کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں شہریوں کے دیرینہ مسائل حل ہونا شروع ہوں گے۔

    ایم ڈی واسا ابوبکر عمران نے وضاحت کی کہ واسا کی خدمات میونسپل کارپوریشن سیالکوٹ کی حدود میں فراہم کی جائیں گی، جس میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور سینی ٹیشن کی خدمات شامل ہیں۔ انہوں نے بھی شہریوں کو یاد دلایا کہ 1334 ہیلپ لائن فعال ہے۔

    اس تقریب میں میونسپل کارپوریشن کے سی او ملک اعجاز، چودھری بشیر احمد، سہیل احمد بٹ، نواز بھٹی، عبدالحمید قاسم کے علاوہ سابق یوسی چیئرمینز اور کونسلر بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔

  • اوکاڑہ: ڈپٹی کمشنر کی زیر صدارت ضلعی افسران کا اجلاس، عوامی مسائل کے حل پر زور

    اوکاڑہ: ڈپٹی کمشنر کی زیر صدارت ضلعی افسران کا اجلاس، عوامی مسائل کے حل پر زور

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کی زیر صدارت ضلعی انتظامیہ کے افسران کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس اینڈ پلاننگ چوہدری عبدالجبار گجر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل علیزہ ریحان، اسسٹنٹ کمشنر اوکاڑہ چوہدری رب نواز، اسسٹنٹ کمشنر ایچ آر نور محمد، ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ شہباز سکھیرا، ایس ڈی ای او پیرا وسیم جاوید اور سسٹم نیٹ ورک ایڈمنسٹریٹر افضال حسین بلوچ سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے گڈ گورننس اقدامات کے ذریعے عوام الناس کے لیے زیادہ سے زیادہ آسانیاں پیدا کی جائیں اور ان کے مسائل کے حل کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پرائس کنٹرول میکانزم پر عمل درآمد کو مزید مؤثر بنایا جائے، تجاوزات کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں اور ضلع بھر میں بیوٹیفکیشن سمیت ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے۔

    ڈپٹی کمشنر نے افسران پر زور دیا کہ وہ فیلڈ میں متحرک رہتے ہوئے عوامی خدمت کے جذبے کے تحت لوگوں کی شکایات کا ازالہ کریں اور مسائل کے فوری حل کو ترجیح بنائیں

  • اوچ شریف: علی پور روڈ پر کھوکھراں والی پل کے قریب رکشہ حادثہ، 6 افراد زخمی

    اوچ شریف: علی پور روڈ پر کھوکھراں والی پل کے قریب رکشہ حادثہ، 6 افراد زخمی

    اوچ شریف باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان )علی پور روڈ پر کھوکھراں والی پل کے قریب تیز رفتار وکٹم کار نے پھٹہ رکشہ کو پیچھے سے ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں رکشے پر سوار 6 افراد شدید زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

    زخمیوں میں ارشاد بی بی زوجہ محبوب، عمر 47 سال، ناہید بی بی زوجہ امام بخش، عمر 25 سال، محمد حسن ولد محبوب، عمر 12 سال،سویرا بی بی دختر محمد نواز، عمر 18 سال، رکیہ دختر اللہ بخش، عمر 16 سال، محبوب ولد عبدالغفور، عمر 43 سال، ریسکیو سٹاف نے ابتدائی طبی امداد کے بعد دو زخمیوں کو آر ایچ سی اوچ شریف منتقل کر دیا گیا، جبکہ باقی مریضوں کو ٹی ایچ کیو احمد پور شرقیہ ریفر کر دیا گیا ہے۔

  • واربرٹن: آزادی گروپ کے زیر اہتمام 17 واں جشنِ آزادی فیسٹیول، ہزاروں افراد کی شرکت

    واربرٹن: آزادی گروپ کے زیر اہتمام 17 واں جشنِ آزادی فیسٹیول، ہزاروں افراد کی شرکت

    واربرٹن (باغی ٹی وی،نامہ نگار عبدالغفار چوہدری) آزادی گروپ واربرٹن کے زیر اہتمام 17 واں عظیم الشان جشنِ آزادی فیسٹیول شاندار انداز میں منعقد ہوا جس میں ہزاروں کی تعداد میں مرد و خواتین نے شرکت کی۔ واربرٹن کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا فیسٹیول قرار دیا جا رہا ہے جس میں عوام کا جوش و خروش قابلِ دید تھا۔

    فیسٹیول سے قبل یومِ آزادی کے حوالے سے ایک ریلی بھی نکالی گئی جس میں 100 فٹ لمبا قومی پرچم شامل تھا۔ ریلی مدینہ شادی ہال سے شروع ہوئی، شہر کا گشت کرتے ہوئے بائی پاس پر فیسٹیول کے مقام پر پہنچی تو شرکاء کا شاندار استقبال کیا گیا اور زبردست آتش بازی کا مظاہرہ بھی کیا گیا۔

    اس سے قبل 10 اگست کو آزادی گروپ کے زیر اہتمام کامن ہال میں جشنِ آزادی کی مناسبت سے ملی نغموں، تقریری مقابلوں اور ٹیبلوز کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات نے فیسٹیول کے آغاز پر اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور انعامات وصول کیے۔

    فیسٹیول میں قومی و بین الاقوامی شہرت یافتہ فنکاروں اور گلوکاروں نے بھی اپنی پرفارمنس سے حاضرین سے خوب داد سمیٹی۔ اس موقع پر چیف آرگنائزر آزادی گروپ و سماجی رہنما حاجی محمد اکرم آرائیں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمِ اسلام کا قلعہ ہے۔ بچوں کے جذبہ و لگن کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور مقابلوں میں شریک تمام طلبا و طالبات مبارکباد کے مستحق ہیں۔

    ایسوسی ایٹ پروفیسر و نیفرالوجسٹ کنسلٹنٹ ڈاکٹر علی ثقلین حیدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ہمیشہ پاکستان کا مثبت رخ پیش کرنا چاہیے۔ پاکستان کا پرچم ہمیشہ سربلند رہے گا، ہم سب پاکستانی ہیں اور ہماری پہچان پاکستان ہے۔ عوامی جوش و جذبہ دیکھتے ہوئے ڈاکٹر علی ثقلین حیدر نے اعلان کیا کہ آئندہ سال فیسٹیول کے انتظامات اور سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔

  • ڈیرہ غازی خان سمیت 16 اضلاع میں انسداد پولیو کی خصوصی مہم یکم ستمبر سے شروع ہوگی

    ڈیرہ غازی خان سمیت 16 اضلاع میں انسداد پولیو کی خصوصی مہم یکم ستمبر سے شروع ہوگی

    ڈیرہ غازی خان( باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر جواد اکبر ) یکم ستمبر سے ڈیرہ غازی خان سمیت 16 اضلاع میں انسداد پولیو کی چار روزہ خصوصی مہم کا آغاز ہوگا جو چار ستمبر تک جاری رہے گی۔ مہم کے بعد ایک دن کیچ اپ ڈے کے طور پر مختص کیا گیا ہے تاکہ رہ جانے والے بچوں کو بھی پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا سکیں۔

    اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد کی زیر صدارت ضلعی انسداد پولیو کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہ سلیمان امیر تیمور، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل قدسیہ ناز، اسسٹنٹ کمشنرز تیمور عثمان اور شکیب سرور کے علاوہ محکمہ صحت، پاپولیشن، عالمی ادارہ صحت، یونیسیف، پولیس اور دیگر اداروں کے افسران نے شرکت کی۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً آٹھ لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے 2369 موبائل ٹیمیں، 113 فکسڈ پوائنٹس اور 58 ٹرانزٹ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 5542 افراد خدمات سرانجام دیں گے۔

    ڈپٹی کمشنر عثمان خالد نے ہدایت کی کہ انسداد پولیو مہم کا مائیکرو پلان ازسرِ نو تشکیل دیا جائے تاکہ ہر ہدف شدہ بچے تک رسائی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مہم کے دوران بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں، مزارات، جنرل بس و ویگن اسٹینڈز اور خانہ بدوش بستیوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔

    ڈپٹی کمشنر نے پولیو ٹیموں کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے اور ان کی سخت نگرانی کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔ اجلاس میں گزشتہ مہم کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے پولیو سیمپلز اور دیگر پہلوؤں پر غور کیا گیا اور خامیوں کے ازالے کے لیے احکامات دیے گئے۔

  • ننکانہ: وزیراعلیٰ کے دعوے ہوا، ڈی ایچ کیو ہسپتال میں اہم ٹیسٹ بند، مریضوں کی چیخ و پکار

    ننکانہ: وزیراعلیٰ کے دعوے ہوا، ڈی ایچ کیو ہسپتال میں اہم ٹیسٹ بند، مریضوں کی چیخ و پکار

    ننکانہ صاحب (نامہ نگار احسان اللہ ایاز، باغی ٹی وی) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے صحت کے شعبے میں انقلابی اصلاحات کے بلند و بانگ دعووں کے باوجود، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ننکانہ صاحب کی لیبارٹری کئی ہفتوں سے انتہائی اہم ٹیسٹوں کی سہولت فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ رپورٹس کے مطابق، اہم ترین ٹیسٹ جیسے LFT (جگر کا ٹیسٹ)، HIV اور UPT (خواتین کے لیے) کے لیے درکار کٹس اور کیمیکل ختم ہو چکے ہیں، جس سے مریضوں اور ان کے لواحقین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    غریب اور دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے مریضوں کو مجبوری کے عالم میں پرائیویٹ لیبارٹریز کا رخ کرنا پڑ رہا ہے، جہاں انہیں بھاری فیسیں ادا کرنا پڑ رہی ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف ان کے علاج کو متاثر کیا ہے بلکہ انہیں معاشی طور پر بھی شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، HIV ٹیسٹ، جو گائنی آپریشنز اور دیگر سرجریز سے قبل لازمی ہوتا ہے، کئی ہفتوں سے دستیاب نہیں ہے۔ اسی طرح جگر کی کارکردگی جانچنے والا LFT اور خواتین کے علاج و آپریشن کے لیے ضروری UPT بھی بند پڑے ہیں۔

    عوامی اور سماجی حلقوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ جب وزیراعلیٰ صحت کے شعبے میں بہتری کی بات کر رہی ہیں تو ضلعی سطح پر یہ بدانتظامی کیوں ہے؟ شہریوں نے سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر روحیل اختر اور ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ سے اس معاملے پر جوابدہی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ عوام کو بنیادی سہولیات کیوں فراہم نہیں کی جا رہیں۔

    شہریوں نے مزید کہا کہ ضلعی افسران کی یہ ناکامی وزیراعلیٰ کے اقدامات پر سوالیہ نشان ہے اور اگر مقامی افسران اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے تو صحت کی اصلاحات صرف کاغذوں تک محدود رہ جائیں گی۔ عوام نے وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے تاکہ ڈی ایچ کیو ہسپتال ننکانہ صاحب میں ٹیسٹوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اور غریب مریضوں کو پرائیویٹ لیبارٹریز کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے۔

  • ڈیرہ غازی خان: گرلز سنٹر آف ایکسیلنس میں یوم آزادی کی پروقار تقریب

    ڈیرہ غازی خان: گرلز سنٹر آف ایکسیلنس میں یوم آزادی کی پروقار تقریب

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر جواد اکبر) دانش اتھارٹی کے تحت چلنے والے گرلز سنٹر آف ایکسیلنس ڈیرہ غازی خان میں یوم آزادی کے حوالے سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کی مہمان خصوصی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل قدسیہ ناز تھیں۔

    تقریب کا آغاز پرچم کشائی سے ہوا، جس کے بعد طالبات نے ملی نغموں، تقریروں اور خوبصورت خاکوں کے ذریعے پاکستان سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔ یومِ آزادی کی مناسبت سے کیک بھی کاٹا گیا۔

    ادارے کی پرنسپل شبانہ آفرین نے اس موقع پر ادارے کی تعلیمی اور غیر نصابی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی اور طالبات کی کارکردگی اور محنت کی تعریف کی۔

    تقریب کے اختتام پر "گرین پنجاب” مہم کے تحت ادارہ میں شجرکاری بھی کی گئی۔ طالبات اور اساتذہ نے اس میں بھرپور حصہ لیا اور ملک کو سرسبز و شاداب بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    مہمان خصوصی قدسیہ ناز نے تقریب کے کامیاب انعقاد کو سراہا اور طالبات کے جذبہ حب الوطنی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل کا یہ جذبہ ہی پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔

  • اوکاڑہ:اسسٹنٹ کمشنر کا دریائے ستلج میں سیلاب کی صورتحال کا جائزہ، فلڈ ریلیف کیمپ کا دورہ

    اوکاڑہ:اسسٹنٹ کمشنر کا دریائے ستلج میں سیلاب کی صورتحال کا جائزہ، فلڈ ریلیف کیمپ کا دورہ

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر فیصل ولید نے دریائے ستلج میں پانی کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا اور اٹاری کے مقام پر قائم فلڈ ریلیف کیمپ میں انتظامات کا معائنہ کیا۔ اس دورے کا مقصد سیلاب کی ممکنہ صورتحال میں عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔

    اسسٹنٹ کمشنر نے اٹاری میں پانی کے بہاؤ کو خود دیکھا اور ریلیف کیمپ میں فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ بھی لیا۔ انہوں نے کیمپ میں موجود ابتدائی طبی امداد، میڈیکل سہولیات، جانوروں کے لیے ادویات اور چارے کے بندوبست کو چیک کیا۔

    اس موقع پر ریسکیو حکام نے انہیں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ہیڈ گنڈا سنگھ والا پر پانی کا اخراج 67 ہزار کیوسک ہے جبکہ ہیڈ سلیمانکی پر پانی کی آمد 60 ہزار اور اخراج 50 ہزار کیوسک ہے۔ حکام نے بتایا کہ فی الحال دریائے ستلج میں نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔

    اسسٹنٹ کمشنر فیصل ولید نے اس موقع پر کہا کہ دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال کے دوران عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد کو کھانے، پینے اور طبی امداد سمیت تمام ضروری سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے۔ انہوں نے ریسکیو اہلکاروں پر زور دیا کہ وہ دریائی علاقے سے لوگوں کے باحفاظت انخلاء کو یقینی بنائیں اور کشتیوں میں لوگوں کی نقل و حمل کے لیے تمام حفاظتی اقدامات (ایس او پیز) پر مکمل عمل کریں۔

    انہوں نے فلڈ ریلیف کیمپس کے عملے کو بھی ہدایت کی کہ وہ دیے گئے اوقات کار کے مطابق اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دیں اور کسی قسم کی غفلت کا مظاہرہ نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی ہدایات پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔

  • نارنگ ریلوے اسٹیشن پر خواتین پر تشدد، اوباشوں نے تھپڑوں کی بارش کر دی، ریلوے انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی

    نارنگ ریلوے اسٹیشن پر خواتین پر تشدد، اوباشوں نے تھپڑوں کی بارش کر دی، ریلوے انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی

    نارنگ منڈی (نامہ نگار محمد وقاص قمر) نارنگ ریلوے اسٹیشن پر خواتین کے ساتھ بدتمیزی اور تشدد کا ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں درجن بھر سے زائد نوجوانوں نے ایک خاتون پر وحشیانہ تشدد کیا اور ان پر تھپڑوں کی بارش کر دی۔ عینی شاہدین کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب خواتین نے ایک مقامی نوجوان کو چھیڑ چھاڑ کرنے سے منع کیا۔

    تفصیلات کے مطابق، نارنگ ریلوے اسٹیشن پر موجود کچھ خواتین نے ایک نوجوان کی ہراسانی اور بدتمیزی پر اسے منع کیا، جس پر وہ نوجوان آپے سے باہر ہو گیا۔ اس نے فوراً اپنے دوستوں کو فون کر کے اسٹیشن پر بلا لیا۔ جب ٹرین اسٹیشن پر پہنچی اور خواتین اس میں داخل ہونے لگیں تو ان لڑکوں نے حملہ کر دیا اور خواتین کو زدوکوب کیا۔

    حملہ آور نوجوانوں نے صرف اسٹیشن پر ہی نہیں بلکہ ٹرین کے اندر داخل ہو کر بھی خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا، جس سے مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اس واقعے نے ریلوے اسٹیشنز پر خواتین کی حفاظت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    مقامی افراد اور مسافروں نے ریلوے کے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات نہ صرف معاشرے کی اخلاقی گراوٹ کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہیں کہ عوامی مقامات پر خواتین محفوظ نہیں۔ حکام کو چاہیے کہ وہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کریں تاکہ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ دوبارہ رونما نہ ہو سکے۔

  • ننکانہ:ڈی ایچ کیو ہسپتال، کرپٹ مافیا 60 اور 50 KVA کے دو جنریٹر ‘ہضم’ کر گیا، کرپشن کا سنگین سکینڈل

    ننکانہ:ڈی ایچ کیو ہسپتال، کرپٹ مافیا 60 اور 50 KVA کے دو جنریٹر ‘ہضم’ کر گیا، کرپشن کا سنگین سکینڈل

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ننکانہ صاحب ایک بڑے کرپشن اسکینڈل کی زد میں آ گیا ہے جہاں مبینہ طور پر ہسپتال کے اندر موجود کرپٹ مافیا 60 اور 50 KVA کے دو بڑے جنریٹر غائب کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، یہ انتہائی قیمتی سامان ہسپتال کے ریکارڈ سے تو ظاہر ہے لیکن عملی طور پر غائب ہو چکا ہے، اور اس بارے میں کوئی بھی ذمہ دار شخص جواب دینے کو تیار نہیں۔

    اس واقعے نے ہسپتال انتظامیہ کی کارکردگی پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں اور عوامی حلقوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ کوئی معمولی چوری نہیں بلکہ لاکھوں روپے مالیت کے بڑے آلات کا ہضم ہو جانا ایک ایسے منظم مافیا کی نشاندہی کرتا ہے جو ہسپتال کے اثاثوں کی بندر بانٹ میں مصروف ہے۔

    عوامی نمائندوں اور سماجی کارکنوں نے اس سنگین معاملے پر فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اعلیٰ حکام کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے تاکہ ہسپتال میں موجود قیمتی سامان کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

    یہ اسکینڈل ہسپتال میں پہلے سے موجود بدانتظامی اور کرپشن کی شکایات کو مزید تقویت دیتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نہ صرف غائب ہونے والے جنریٹروں کا سراغ لگایا جائے بلکہ ان تمام افراد کا محاسبہ بھی کیا جائے جو اس واردات میں ملوث ہیں۔