Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اوکاڑہ:ڈپٹی کمشنر کی اوپن پالیسی، شہریوں کے مسائل سنے اور فوری حل کی ہدایت

    اوکاڑہ:ڈپٹی کمشنر کی اوپن پالیسی، شہریوں کے مسائل سنے اور فوری حل کی ہدایت

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ احمد عثمان جاوید نے پنجاب حکومت کی اوپن پالیسی کے تحت شہریوں کے مسائل سنے اور ان کے فوری حل کے لیے موقع پر ہی متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایات جاری کیں۔

    اس موقع پر ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے کہا کہ عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ان کی درخواستوں پر فوری کارروائی کی جائے اور ان کے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ انہوں نے سختی سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں تاخیری حربے استعمال کرنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ سائلین کے مسائل کو حل کرنے میں دلچسپی لیں اور ان کی مشکلات کو دور کریں۔ یہ اقدام شہریوں کے مسائل کو براہ راست سن کر ان کا فوری حل نکالنے کی حکومت کی کوششوں کا حصہ ہے۔

  • ننکانہ صاحب میں یوم آزادی شایان شان طریقے سے منانے کا فیصلہ

    ننکانہ صاحب میں یوم آزادی شایان شان طریقے سے منانے کا فیصلہ

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز) ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ کی زیر صدارت یوم آزادی کو شاندار طریقے سے منانے کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہد کھوکھر اور تینوں تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز سمیت تمام ضلعی افسران نے شرکت کی۔

    اجلاس میں ضلع افسران نے "معرکہ حق” اور "جشن آزادی” کی جاری تقریبات اور 14 اگست کی تیاریوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ جشن آزادی کی تقریبات روزانہ کی بنیاد پر جاری ہیں اور 14 اگست کی مرکزی تقریبات کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سال یوم آزادی کی تقریبات "معرکہ حق” میں پاکستان کی فتح کے جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی خصوصی ہدایات پر یہ تقریبات "حصولِ آزادی سے تحفظِ آزادی تک” کے عنوان سے منعقد کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلع بھر کے تمام پبلک اور پرائیویٹ سکولوں میں آج سے تقریبات کا آغاز ہو جائے گا اور تدریسی سرگرمیاں نہیں ہوں گی۔

    ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ 12 اگست کی شام علامہ اقبال پارک میں بچوں کے لیے میجک اور پپٹ شو سمیت دیگر تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا، جبکہ 13 اگست کی رات اسی پارک میں میوزیکل شو منعقد ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سال جشن آزادی میں نوجوانوں اور بچوں کی خصوصی شرکت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

    اہم اعلانات اور ہدایات:
    پرچم کشائی: ضلع کی مرکزی پرچم کشائی کی تقریب جمنازیم ہال میں ہوگی، جبکہ تحصیل سطح پر اسسٹنٹ کمشنرز پرچم کشائی سمیت دیگر تقریبات میں شرکت کریں گے۔
    مقابلہ جات: ضلعی اور تحصیل سطح پر قرات، نعت، تقاریر اور دیگر مقابلہ جات کا انعقاد کیا جائے گا۔
    شجرکاری: ضلع بھر میں شجرکاری مہم کے تحت پودے لگائے جا رہے ہیں۔
    آتشبازی: 13 اگست کی رات میونسپل حدود میں شاندار آتشبازی کا مظاہرہ کیا جائے گا۔
    چھٹیاں منسوخ: 15 اگست تک ہسپتالوں کے ڈاکٹروں اور عملے سمیت تمام ضلعی اداروں کے افسران و اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

    حفاظتی اقدامات: 14 اگست کو ضلع بھر میں صفائی ستھرائی کے مثالی انتظامات کیے جائیں گے۔ گوردوارہ جات اور چینی باشندوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے، اور تمام ایونٹس پر خواتین پولیس اہلکاروں کو بھی تعینات کیا جائے گا۔

    دفعہ 144: 15 اگست تک ون ویلنگ، ہلڑ بازی، سلنسر اتارنے، نہروں اور دریاؤں میں نہانے پر دفعہ 144 نافذ ہو گی۔ اس کے علاوہ ہوائی فائرنگ اور اسلحہ لہرانے پر بھی پابندی ہو گی۔ پولیس کو پٹرولنگ بڑھانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ یوم آزادی کی تقریبات میں بھرپور شرکت کریں اور یہ ثابت کر دیں کہ وہ ایک زندہ اور باوقار قوم ہیں۔

  • ننکانہ صاحب میں "متحد قوم فاتح پاکستان” کانفرنس کا انعقاد

    ننکانہ صاحب میں "متحد قوم فاتح پاکستان” کانفرنس کا انعقاد

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز) پاکستان مرکزی مسلم لیگ ضلع ننکانہ صاحب کے زیر اہتمام "متحد قوم فاتح پاکستان” کے عنوان سے ایک آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

    کانفرنس میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم اسٹوڈنٹس لیگ، تاجر برادری، وکلاء اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مقررین میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ وسطی پنجاب کے صدر حمید الحسن گجر، پاکستان پیپلزپارٹی لاہور ڈویژن کے صدر رائے شاہ جہان احمد بھٹی، مسلم سٹوڈنٹس لیگ پاکستان کے سیکرٹری جنرل عمر عباس اور پاکستان مرکزی مسلم لیگ ضلع ننکانہ صاحب کے صدر میاں عابد شامل تھے۔

    مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ "معرکہ حق” اور "آپریشن بنیان المرصوص” میں پاک فوج نے بھارت کے غرور کو خاک میں ملا کر 1971 میں پاکستان کے خلاف کی گئی سازشوں کا بدلہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تاریخی کامیابی کے بعد پوری قوم اس سال یوم آزادی بھرپور جوش و خروش سے منا رہی ہے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ اس سال "ہفتہ یوم آزادی” منا رہی ہے اور 14 اگست کو گول چکر ننکانہ صاحب میں ایک بڑی "متحد قوم فاتح پاکستان کانفرنس” منعقد کی جائے گی، جس میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد شرکت کریں گے۔

    مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ 10 مئی کو پوری قوم نے افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہو کر مثالی اتحاد کا مظاہرہ کیا اور ملک کو ترقی یافتہ اور خوشحال بنانے کے لیے اسی طرح کے اتحاد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس نے دوبارہ کوئی غلطی کی تو پاکستان کا جواب پہلے سے بھی زیادہ سخت ہوگا۔ یہ وقت جھگڑوں اور اختلافات کا نہیں بلکہ متحد ہونے کا ہے، اور بلوچستان میں بھارت کی تمام سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے دفاعِ وطن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دینے والے پاک فوج کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔

  • نارنگ منڈی میں جعلی کھاد اور ادویات کے خلاف کریک ڈاؤن

    نارنگ منڈی میں جعلی کھاد اور ادویات کے خلاف کریک ڈاؤن

    نارنگ منڈی (نامہ نگار محمد وقاص قمر) – پنجاب حکومت کی ہدایت پر محکمہ زراعت توسیع نے نارنگ منڈی میں جعلی اور غیر معیاری کھاد و ادویات فروخت کرنے والے ڈیلرز کے خلاف سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔

    اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ توسیع مریدکے، ملک فاروق احمد کی قیادت میں ایک ٹیم نے ٹیکنیکل زراعت آفیسر اقراء نذیر اور زراعت آفیسر ملک آصف کے ہمراہ نارنگ منڈی کے مختلف علاقوں میں زرعی دکانوں پر اچانک چھاپے مارے۔ اس دوران انہوں نے مختلف کھادوں جیسے زنک، ہیومک ایسڈ، اور ڈی اے پی کے ساتھ ساتھ دیگر زرعی ادویات کا بھی معائنہ کیا۔

    معیار کی جانچ کے لیے، ٹیم نے تمام اشیاء کے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری بھجوا دیے ہیں۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ملک فاروق احمد نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ویژن اور ڈپٹی ڈائریکٹر شیخوپورہ محمد شفیق کی ہدایات کے مطابق، کاشتکاروں کو معیاری اور سستی زرعی اشیاء کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ جعلی یا غیر معیاری ادویات فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور کاشتکاروں کو نقصان سے بچانے کے لیے چھاپوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

  • نارنگ منڈی: آوارہ کتوں کی بھرمار، شہری پریشان

    نارنگ منڈی: آوارہ کتوں کی بھرمار، شہری پریشان

    نارنگ منڈی (نامہ نگار محمد وقاص قمر) شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ عوامی مقامات پر خونخوار کتوں کی موجودگی شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بن رہی ہے، لیکن متعلقہ محکمے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کر رہے۔

    شہر کی گلیوں، بازاروں، ریلوے اسٹیشن، بینکوں، سرکاری عمارتوں اور پارکس میں درجنوں آوارہ کتے ٹولیوں کی شکل میں گھومتے پھرتے ہیں۔ شہریوں کا گھروں سے باہر نکلنا مشکل ہو گیا ہے، بچے باہر نکلنے سے ڈرتے ہیں اور خواتین و طالبات کا بازار اور تعلیمی اداروں میں جانا بھی دشوار ہو چکا ہے۔

    اس صورتحال پر محکمہ صحت اور بلدیہ ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال رہے ہیں، جس کی وجہ سے یہ مسئلہ حل طلب ہے۔ شہریوں نے ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ شاہد عمران مارتھ سے اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لینے اور آوارہ کتوں کو تلف کرنے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

  • لنڈی کوتل: ویٹرنری ہسپتال، ڈاکٹرز غائب، عوام پریشان

    لنڈی کوتل: ویٹرنری ہسپتال، ڈاکٹرز غائب، عوام پریشان

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی،مہد شاہ شینواری کی رپورٹ) ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں مویشیوں کے ہسپتال میں ڈاکٹروں کی عدم موجودگی نے مقامی مویشی پال حضرات کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ ڈیری فارم مالکان کا کہنا ہے کہ بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اپنی قیمتی مویشیوں سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔

    ڈیری فارم مالکان عبدالسلام شینواری، ایران آفریدی، محمد اللہ آفریدی، یوسف شینواری اور دیگر نے ڈسٹرکٹ خیبر پریس کلب لنڈی کوتل میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اپنے مسائل بیان کیے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ علاقے کے لوگوں کو خالص دودھ فراہم کرنے کے لیے ڈیری فارمز چلا رہے ہیں، لیکن جب کوئی جانور بیمار ہو جاتا ہے تو لنڈی کوتل کے ہسپتال میں کوئی تجربہ کار ڈاکٹر موجود نہیں ہوتا۔

    انہوں نے کہا کہ ہسپتال کی لیبارٹری بھی غیر فعال ہے اور ضروری ادویات بھی دستیاب نہیں ہیں۔ اس صورتحال کے باعث انہیں اپنے جانوروں کے علاج کے لیے جمرود کے مویشی ہسپتال جانا پڑتا ہے، جس میں وقت اور پیسہ دونوں ضائع ہوتے ہیں۔

    مالکان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر طارق کی یہاں تعیناتی ہے لیکن وہ اپنی ڈیوٹی باقاعدگی سے انجام نہیں دیتے۔ ان کی غفلت کی وجہ سے ان کی کئی قیمتی گائیں مر چکی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لنڈی کوتل میں زیادہ تر لوگ غریب ہیں جو اپنے خاندان کی کفالت کے لیے مویشی پالتے ہیں۔ ڈاکٹروں کی عدم موجودگی ان کے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔

    انہوں نے محکمہ لائیو سٹاک کے سیکرٹری، ڈائریکٹر جنرل اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ لنڈی کوتل کے مویشی ہسپتال میں فوری طور پر تجربہ کار ڈاکٹروں کو تعینات کیا جائے اور موجودہ عملے کو بھی اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے انجام دینے کی سخت ہدایات جاری کی جائیں۔

  • ناول خاک اور خون، فیروز پور اور گورداسپور کیسے بھارت کو ملے

    ناول خاک اور خون، فیروز پور اور گورداسپور کیسے بھارت کو ملے

    ناول خاک اور خون، فیروز پور اور گورداسپور کیسے بھارت کو ملے
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    نسیم حجازی کا شہرہ آفاق ناول خاک اور خون برصغیر کے مسلمانوں کی اس عظیم قربانی کا ادبی مرثیہ ہے جو انہوں نے 1947 کی تقسیمِ ہند کے دوران پیش کی۔ یہ محض ایک تخیلی داستان نہیں بلکہ حقیقت کے ایسے ٹکڑوں کا ادبی امتزاج ہے جنہیں مصنف نے کرداروں، مکالموں اور جذبات کے ذریعے زندہ کر دیا۔ اس میں قتل و غارت کے مناظر، قافلوں پر ہونے والے حملے، عورتوں کی عزتیں پامال ہونے کے واقعات اور بچھڑنے والے خاندانوں کا کرب اس شدت سے بیان کیا گیا ہے کہ قاری خود کو اس زمانے کے دل دہلا دینے والے حالات میں محسوس کرتا ہے۔ ناول میں ایک اشارہ اس طرف بھی ملتا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں ہونے والی سازشوں، ذاتی تعلقات اور خفیہ سودوں نے پاکستان کی سرحدوں کو اس طرح بدل دیا کہ کئی مسلم اکثریتی علاقے آخری لمحوں میں بھارت کے حصے میں چلے گئے۔ انہی علاقوں میں فیروز پور اور گورداسپوربھی شامل تھے جن کا پاکستان سے چھن جانا نہ صرف اس وقت ایک صدمہ تھا بلکہ اس کے اثرات آج تک محسوس کیے جاتے ہیں۔

    قیامِ پاکستان کے اعلان کے ساتھ ہی تقسیمِ ہند کے اصول طے ہوئے کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان اور غیر مسلم اکثریتی علاقے بھارت کا حصہ بنیں گے۔ 3 جون 1947 کو مانٹ بیٹن پلان کے مطابق پنجاب اور بنگال کی تقسیم کے لیے باؤنڈری کمیشن بنایا گیا جس کی سربراہی برطانوی جج سر سائریل ریڈ کلف کو دی گئی۔ یہ شخص اس خطے سے بالکل ناآشنا تھا اور اسے صرف پانچ ہفتوں میں سرحدی لکیر کھینچنے کا مشکل ترین کام سونپا گیا۔ کاغذ پر اصول سادہ تھا، مگر زمینی حقیقت کچھ اور تھی۔ فیروز پور ایک مسلم اکثریتی ضلع تھا جس کی آبادی 51 فیصد سے زائد مسلمان تھی۔ یہ ستلج دریا اور نہری نظام کے کنٹرول کی وجہ سے اسٹریٹجک اہمیت رکھتا تھا۔ گورداسپور بھی چار تحصیلوں پر مشتمل تھا جن میں سے تین میں مسلمان اکثریت میں تھے اور اس کی جغرافیائی پوزیشن بھارت کو کشمیر تک براہِ راست زمینی راستہ دیتی تھی۔

    تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ ریڈ کلف کے ابتدائی مسودے میں دونوں اضلاع پاکستان کو ملنے والے تھے۔ اگست 1947 کے پہلے ہفتے میں تیار ہونے والے نقشوں میں فیروز پور مکمل طور پر اور گورداسپور کی تین تحصیلیں پاکستان میں شامل تھیں۔ لیکن 12 اگست کو صورتحال بدل گئی۔ بعض مورخین کے مطابق اس تبدیلی کا پس منظر نہرو اور وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن کی ملاقاتوں سے جڑا تھا۔ ان ملاقاتوں کا ذکر کئی برطانوی اور بھارتی ذرائع میں ملتا ہے اور ایڈوینا ماؤنٹ بیٹن اور نہرو کے قریبی تعلقات کو بھی ان فیصلوں پر اثر انداز ہونے والے عوامل میں شمار کیا جاتا ہے۔ الیسٹر لیمب اور اسٹینلی وولپرٹ جیسے محققین نے لکھا ہے کہ ماؤنٹ بیٹن نے اس موقع پر جانبداری کا مظاہرہ کیا جبکہ ایڈوینا اور نہرو کے تعلقات برطانوی ایوانِ اقتدار میں ایک غیر رسمی مگر اثر انگیز چینل کے طور پر کام کرتا رہا۔

    یہ بات مصدقہ ہے کہ 6 سے 8 اگست کے درمیان تیار ہونے والے ابتدائی ڈرافٹ اور 12 اگست کے بعد سامنے آنے والے حتمی فیصلوں میں واضح فرق تھا۔ فیروز پور اور گورداسپور کے نقشے بدل دیے گئے اور دونوں اضلاع کو بھارت میں شامل کرنے کا فیصلہ ہوا۔ باضابطہ وجہ یہ بتائی گئی کہ گورداسپور کو بھارت دینے سے فوجی اور انتظامی ضروریات پوری ہوں گی اور فیروز پور کے معاملے میں ستلج کے ہیڈ ورکس کا کنٹرول بھارت کے پاس جانا بہتر ہے۔ لیکن یہ وضاحت کمزور تھی کیونکہ ایسی ضرورتیں ابتدائی ڈرافٹ میں کیوں نظر نہیں آئیں، اس کا جواب کبھی تسلی بخش نہیں دیا گیا۔

    14 اگست 1947 کو پاکستان اور بھارت کی آزادی کا اعلان ہوا، مگر باؤنڈری کمیشن کے فیصلوں کا اعلان تین دن بعد17 اگست کو کیا گیا۔ اس تاخیر کا مقصد یہ بتایا گیا کہ نئے ملکوں کے اعلان کے وقت کشیدگی کو کم رکھا جائے، لیکن بعض محققین کے مطابق یہ تاخیر بھارت کو کشمیر کے لیے زمینی راستے کی تیاری کا وقت دینے کے لیے تھی۔ جب فیصلے سامنے آئے تو گورداسپور کی تین تحصیلیں پٹھان کوٹ، گورداسپور اور بٹالہ بھارت کو مل گئیں، صرف شکر گڑھ پاکستان کو دیا گیا۔ فیروز پور مکمل طور پر بھارت کو چلا گیا۔ یہ فیصلہ آبادی کے اصولوں کے برخلاف تھا کیونکہ دونوں علاقوں میں مسلمانوں کی واضح اکثریت تھی۔
    ان فیصلوں کے اثرات فوری طور پر ظاہر ہوئے۔ اکتوبر 1947 میں بھارت نے گورداسپور کے راستے فوجی نقل و حرکت شروع کی اور یہی راستہ کشمیر میں بھارتی فوجوں کے داخلے کا بنیادی ذریعہ بنا۔ فیروز پور کے بھارت کو ملنے سے پاکستان کا ستلج دریا اور نہری نظام پر کنٹرول کمزور پڑ گیا اور یہ مسئلہ بعد میں پانی کی تقسیم کے تنازع میں ایک اہم فیکٹر بن گیا۔بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور دیگر رہنماؤں نے ان فیصلوں کو ماؤنٹ بیٹن کی جانبداری اور برطانوی حکومت کے خفیہ ایجنڈے کا حصہ قرار دیا۔ چوہدری محمد علی، ڈاکٹر صفدر محمود اور شریف المجاہد جیسے مورخین نے بارہا لکھا ہے کہ یہ تبدیلی محض انتظامی بنیادوں پر نہیں بلکہ سیاسی اور ذاتی تعلقات کے پس منظر میں کی گئی۔

    خاک اور خون میں ان فیصلوں کو براہِ راست نہیں لیکن اشاروں کنایوں میں بیان کیا گیا ہے۔ نسیم حجازی نے یہ پیغام دیا کہ آزادی کا سورج ایک ایسے افق سے طلوع ہوا جس پر سازشوں کا سایہ تھا۔ لاکھوں مسلمانوں نے جان، مال اور عزت قربان کر کے پاکستان کا خواب پورا کیا، مگر اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے چند افراد کے فیصلوں نے کئی مسلم اکثریتی علاقے چھین لیے۔ ناول کے کردار قاری کو یاد دلاتے ہیں کہ یہ سرحدیں کاغذ پر نہیں بلکہ خون اور قربانی سے بنی ہیں اور جو حصے پاکستان کو ملنے چاہیے تھے وہ بھی بعض پوشیدہ ہاتھوں نے چھین لیے۔

    فیروز پور اور گورداسپور کی بھارت کو منتقلی محض ایک جغرافیائی تبدیلی نہیں تھی بلکہ اس نے برصغیر کی تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف کشمیر کا تنازع پیدا ہوا بلکہ پانی کے وسائل پر بھی مستقل کشیدگی قائم ہو گئی۔ پاکستان آج بھی اس فیصلے کو ایک تاریخی ناانصافی سمجھتا ہے۔ یہ بحث آج بھی زندہ ہے کہ آیا یہ فیصلہ ذاتی تعلقات کا نتیجہ تھا، برطانوی سامراجی پالیسی کا تسلسل تھا یا بین الاقوامی سیاست کی ایک بڑی بساط کا حصہ۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ 1947 میں ان اضلاع کا بھارت میں شامل ہونا پاکستان کے لیے ایک ایسا زخم بن گیا جو وقت کے ساتھ مندمل ہونے کے بجائے مزید گہرا ہوتا گیا۔ یہ زخم آج بھی قومی یادداشت میں محفوظ ہے اور نسیم حجازی جیسے ادیبوں کے قلم نے اسے امر کر دیا ہے تاکہ آنے والی نسلیں جان سکیں کہ پاکستان کا حصول صرف ایک سیاسی معاہدہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا سفر تھا جو قربانی، سازش اور صبر کے امتزاج سے مکمل ہوا۔

    آخر میں ہم یہی کہیں گے کہ یہ ہماری نوجوان نسل اور ایوانِ اقتدار میں بیٹھے ان تمام لوگوں کے لیے ایک گہرا پیغام ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ملک انہیں کسی پلیٹ میں رکھ کر دیا گیا تھا۔ خاک اور خون کے ہر صفحے سے یہ صدائے احتجاج بلند ہوتی ہے کہ پاکستان کی بنیاد لاکھوں شہدا کے خون، بے شمار ماؤں کی قربانیوں اور بچھڑ جانے والے خاندانوں کے آنسوں پر رکھی گئی ہے۔ فیروز پور اور گورداسپور کا پاکستان سے کاٹ کر بھارت کو دینا محض ایک نقشے کی لکیروں کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ ہماری تاریخ کا وہ لمحہ تھا جب سازش اور طاقت کی بساط پر قربانی کے اصول روند دیے گئے۔ آج اگر ہم اپنی سرحدوں، وسائل اور خودمختاری کی حفاظت میں غفلت برتیں تو یہ انہی قربانیوں کی توہین ہوگی۔ نوجوانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ آزادی ایک امانت ہے اور ایوانِ اقتدار میں بیٹھے ہر شخص کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس ملک کی حفاظت اور بقا کے لیے وہی جذبہ، وہی جرات اور وہی یکجہتی درکار ہے جو 1947 میں لاکھوں گمنام شہدا نے دکھائی۔ پاکستان کسی خیرات میں نہیں ملا، یہ ایک قرض ہے جو ہم پر واجب الادا ہے اور جسے ہمیں آنے والی نسلوں تک عزت، وقار اور مضبوطی کے ساتھ منتقل کرنا ہے۔

  • ننکانہ: ایک سپروائزر سب پر بھاری، ڈی ایچ کیو ہسپتال کے صفائی ٹھیکے میں کروڑوں کی کرپشن بے نقاب

    ننکانہ: ایک سپروائزر سب پر بھاری، ڈی ایچ کیو ہسپتال کے صفائی ٹھیکے میں کروڑوں کی کرپشن بے نقاب

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی ،نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ننکانہ صاحب میں صفائی کے ٹھیکے کے تحت ایک سنگین کرپشن اسکینڈل بے نقاب ہوا ہے، جس نے محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق "جینوریل سروسز لاہور” نامی نجی کمپنی کے سپروائزر محمد اسامہ پر الزام ہے کہ وہ ہسپتال کے تقریباً 72 مرد و خواتین ملازمین کی تنخواہوں میں سے باقاعدگی سے بھاری رقوم غیر قانونی طور پر کاٹتا رہا۔

    ایک خفیہ انٹیلی جنس رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ سپروائزر اسامہ نے جون 2025 میں ہر ملازم کی تنخواہ سے 5 ہزار روپے اور جولائی میں 4 ہزار روپے کی کٹوتی کی۔ اس غیر قانونی عمل سے جون میں تقریباً 3 لاکھ 45 ہزار روپے جبکہ جولائی میں 2 لاکھ 88 ہزار روپے ہتھیا لیے گئے۔ متاثرہ ملازمین کی ماہانہ تنخواہ تقریباً 37 ہزار روپے ہے اور وہ صفائی کے ساتھ ساتھ وارڈ بوائے کے فرائض بھی سرانجام دیتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اسامہ ملازمین کو دھمکاتا تھا کہ اگر کسی نے یہ معاملہ افشا کیا تو اسے فوراً نوکری سے برخاست کر دیا جائے گا۔ اس خوف کی وجہ سے بیشتر ملازمین طویل عرصے تک خاموش رہے، جبکہ کچھ نے پسِ پردہ اعلیٰ حکام کو شکایات پہنچائیں۔

    انٹیلی جنس ادارے نے اپنی رپورٹ کے ساتھ حکام کو ایک ویڈیو ثبوت بھی فراہم کیا ہے، جس میں مبینہ طور پر غیر قانونی کٹوتیوں کا اعتراف اور رقوم کی لین دین کے شواہد موجود ہیں۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر ضلعی انتظامیہ نے اسکینڈل کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مزید حقائق اور ملوث افراد کے نام آئندہ چند روز میں منظرعام پر آنے کا امکان ہے۔

    اس واقعے پر شہری اور سماجی حلقے شدید برہمی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کم تنخواہ پر محنت کرنے والے ملازمین کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا سنگین جرم ہے، جس میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق کڑی سزا ملنی چاہیے۔ عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس اسکینڈل میں ملوث تمام افراد کو فی الفور معطل کر کے ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں۔

  • میرپور خاص: یومِ آزادی پر سول ڈیفنس کا "معرکہ حق”، میئر عبدالرؤف غوری کی شرکت

    میرپور خاص: یومِ آزادی پر سول ڈیفنس کا "معرکہ حق”، میئر عبدالرؤف غوری کی شرکت

    میرپور خاص (باغی ٹی وی،نامہ نگارسید شاہزیب شاہ ): یومِ آزادی پاکستان "معرکہ حق” کی مناسبت سے میئر میرپور خاص اور چیف وارڈن سول ڈیفنس عبدالرؤف غوری نے سول ڈیفنس میرپور خاص کی جانب سے میونسپل کارپوریشن ہال میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں شرکت کی۔

    اس پروگرام میں ڈپٹی کنٹرولر سول ڈیفنس محمد فہیم میمن، ایڈیشنل چیف وارڈن پروفیسر عبدالحمید شیخ، ترجمان سول ڈیفنس خلیل اللہ خان اور ریسکیو 1122 کے انچارج آفیسر عرفان علی خاصخیلی سمیت سول ڈیفنس کے رضاکاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    پاکستان سے غیر متزلزل وفاداری کا عزم
    تقریب کے دوران شرکاء نے "پاک فوج زندہ باد” اور "پاکستان پائندہ باد” کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ اس موقع پر یہ عزم دہرایا گیا کہ سول ڈیفنس ہمیشہ اپنے ملک کے دفاع کے لیے پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔

    میئر عبدالرؤف غوری نے اپنے خطاب میں کہا کہ سول ڈیفنس کے رضاکاروں نے ہمیشہ وطن عزیز کے دفاع میں فعال کردار ادا کیا ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ انہوں نے رضاکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ہر وقت اپنی خدمات انجام دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

    تقریب کے اختتام پر میئر عبدالرؤف غوری نے سول ڈیفنس کے رضاکاروں میں شیلڈز اور سرٹیفکیٹ تقسیم کیے اور انہیں یقین دلایا کہ وہ سول ڈیفنس کو مزید فعال بنانے اور اس کی بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔

  • لاہور میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا ‘آزادی کارواں’، ہزاروں افراد کی شرکت

    لاہور میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا ‘آزادی کارواں’، ہزاروں افراد کی شرکت

    لاہور (باغی ٹی وی) یوم آزادی کے موقع پر پاکستان مرکزی مسلم لیگ لاہور کے زیر اہتمام ایک شاندار ‘پہلا آزادی کارواں’ نکالا گیا، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کر کے اپنے قومی جذبے کا بھرپور اظہار کیا۔

    کارواں کا آغاز بیگم کوٹ سے ہوا اور یہ شاہدرہ، بادامی باغ، راوی روڈ اور بھاٹی چوک سے ہوتا ہوا ریلوے اسٹیشن لاہور پر اختتام پذیر ہوا۔ کارواں کے راستے میں جگہ جگہ شہریوں نے استقبالیہ کیمپ لگا کر شرکاء پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور ان کا والہانہ استقبال کیا۔ فضا "پاکستان زندہ باد” اور "مرکزی مسلم لیگ پائندہ باد” کے پرجوش نعروں سے گونجتی رہی۔

    قیادت اور مرکزی رہنماؤں کی شرکت
    کارواں کی قیادت پاکستان مرکزی مسلم لیگ لاہور کے صدر انجینئر عادل خلیق نے کی۔ اس موقع پر مرکزی رہنماؤں میں قاری یعقوب شیخ، ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی (جنرل سیکرٹری لاہور)، چوہدری معاذ اشتیاق (سٹی صدر)، عمر فاروق گجر، اور عمر عبد العزیز بھی موجود تھے۔

    پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا تحفظ ہمارا اولین مقصد: انجینئر عادل خلیق
    انجینئر عادل خلیق نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "پاکستان مرکزی مسلم لیگ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی محافظ ہے۔ ہم اس 78ویں یوم آزادی کو حقیقی قومی جذبے کے ساتھ منانے کے لیے نکلے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ آج کا دن ہماری نسلوں میں ایک نئی روح پھونک رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس جرات سے پاکستان نے دشمن کو ناک رگڑوائی ہے، وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ 1971ء کا بدلہ چکاکر بھارت کی بدمعاشی کو لگام ڈالی گئی ہے۔

    ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے کہا کہ "آزادی کوئی تحفہ نہیں، یہ بے شمار قربانیوں کا ثمر ہے۔” انہوں نے نوجوان نسل کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان کی سالمیت، خودمختاری اور نظریاتی تشخص کے تحفظ کے لیے مرکزی مسلم لیگ ہمیشہ صفِ اول میں رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہماری سیاست اقتدار کی نہیں بلکہ اقدار کی سیاست ہے، اور ہمارا مشن نوجوانوں کو مایوسی سے نکال کر امید، وحدت اور عمل کے راستے پر گامزن کرنا ہے۔”