Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • کمیٹی کمیٹی کا کھیل

    کمیٹی کمیٹی کا کھیل

    کمیٹی کمیٹی کا کھیل
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان میں آج کل ایک عجیب سی کیفیت طاری ہے۔ حکومتی اعلانات کی گونج ہوا میں بلند ہوتی ہے، لیکن جب بات عوام تک پہنچتی ہے تو وہ محض ایک سراب بن کر رہ جاتی ہے۔ آج کی ایک بڑی خبر یہ ہے کہ "پروٹیکٹڈ کیٹیگری کے دائرہ کار میں توسیع پر غور، حد 301 یونٹ رکھنے کی تجویز” زیرِ بحث ہے۔ یہ خبر سن کر ایک لمحے کے لیے دل کو تسلی ہوئی کہ شاید اب غریب اور متوسط طبقے کو کچھ ریلیف ملے گا، لیکن جیسے ہی اس خبر کو موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھا تو یہ محض ایک اور بلند بانگ دعویٰ لگا،جو حقیقت سے کوسوں دور ہے۔

    وزیراعظم میاں شہباز شریف نے کچھ عرصہ قبل اعلان کیا تھا کہ بجلی کے نرخوں میں کمی کی جائے گی۔ یہ خوشخبری موبائل فون پر کال ملنے پر ان کی آواز میں سنائی گئی کہ بجلی سستی کر دی گئی ہے۔ لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس نکلے۔ نیا سلیب سسٹم متعارف کر کے بجلی کے بلز میں اضافہ کر دیا گیا، جس نے غریب اور متوسط طبقے کے خون کے آخری قطرے کو بھی نچوڑ لیا۔ اسی طرح چینی کی قیمتوں پر نوٹس لیا گیا، کمیٹیاں بنائی گئیں، دکھاوے کی کارروائیاں کی گئیں اور اعلانات کی حد تک چینی سستی ہو گئی۔ لیکن بازاروں میں چینی اب بھی 200 روپے فی کلو سے کم پر دستیاب نہیں۔ بناسپتی گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتیں عالمی منڈی میں کم ہوئیں، لیکن ایک رپورٹ کے مطابق مافیا نے اس کمی کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچنے دیا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں ایک بار کسی چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے تو وہ پھر کبھی کم نہیں ہوتی، چاہے عالمی منڈی میں اس کی قیمت چند سینٹ ہی کیوں نہ رہ جائے۔

    اب بات کرتے ہیں پروٹیکٹڈ کیٹیگری کی توسیع کی تجویز کی۔ خبر کے مطابق وزیراعظم نے پروٹیکٹڈ صارفین کے حوالے سے شکایات کا نوٹس لے کر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جو پروٹیکٹڈ کیٹیگری کی حد کو 201 یونٹ سے بڑھا کر 301 یونٹ کرنے پر غور کرے گی۔ موجودہ نظام کے تحت اگر کوئی صارف 201 یونٹ بجلی استعمال کر لیتا ہے، تو وہ اگلے چھ ماہ تک پروٹیکٹڈ کیٹیگری سے باہر ہو جاتا ہے اور اسے ماہانہ تقریباً 5 ہزار روپے اضافی بل ادا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک ایسی زیادتی ہے جس نے غریب اور متوسط طبقے کے صارفین کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ اراکینِ اسمبلی نے بھی اسے صارفین کے ساتھ ناانصافی قرار دیا ہے کہ صرف ایک یونٹ زیادہ استعمال کرنے کی وجہ سے اگلے چھ ماہ تک اضافی بل ادا کرنا پڑے۔

    یہاں وزیراعظم شہباز شریف کے لاڈلے اور ہونہار وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی پھرتیوں کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ ان کی غیر دانشمندانہ اور عوام دشمن پالیسیاں مسلم لیگ (ن) کے لیے نوشتہء دیوار ثابت ہو رہی ہیں۔ اویس لغاری کی پالیسیوں نے بجلی کے صارفین کو شدید مشکلات سے دوچار کیا ہے، خاص طور پر پروٹیکٹڈ کیٹیگری کے حوالے سے 201 یونٹ والی سلیب، جو وزارتِ توانائی اور نیپرا کی جانب سے جان بوجھ کر نافذ کی گئی، ایک ایسی پالیسی ہے جس نے غریب صارفین کی کمر توڑ دی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی نہ صرف صارفین کے لیے ظالمانہ ہے بلکہ اس سے حکومتی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ اویس لغاری کا سیاسی ماضی بھی گواہ ہے کہ وہ جہاں ہری گھاس دکھائی دیتی ہے، وہاں جمپ لگانے میں دیر نہیں کرتے۔ ان کی پارٹی بدلنے کی تاریخ اس بات کی عکاس ہے کہ وہ اپنے سیاسی مفادات کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ یہ بات حیران کن نہیں کہ ان کی موجودہ پالیسیاں بھی عوام کے بجائے ذاتی یا گروہی مفادات کو تحفظ دینے کی کوشش کا نتیجہ لگتی ہیں۔

    حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لے گی اور کابینہ کو اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ تجویز ہے کہ پروٹیکٹڈ کیٹیگری کی حد کو 200 یونٹ سے بڑھا کر 300 یونٹ کیا جائے، یا کم از کم اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ 201 یونٹ استعمال کرنے کی صورت میں صرف اسی ماہ کے لیے نان پروٹیکٹڈ شرح لاگو ہو، نہ کہ اگلے چھ ماہ تک۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اویس لغاری کے وزیرتوانائی ہوتے ہوئے، بننے والی یہ پالیسیاں اور کمیٹیاں کیا واقعی عوام کو ریلیف دے سکیں گی؟ یا یہ بھی محض ایک اور دکھاوا ثابت ہوگا؟

    یہ تمام صورتحال ایک بڑے سوال کو جنم دیتی ہےکہ کیا یہ سب کچھ واقعی غریب آدمی کو ریلیف دینے کے لیے کیا جا رہا ہے، یا یہ محض ایک اور دکھاوا ہے؟ موجودہ حکومت دعوے تو بڑے بڑے کرتی ہے، لیکن جب بات عمل کی آتی ہے تو عوام کو وہی پرانی مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 200 یونٹ بجلی استعمال کرنے والا صارف عموماً کم آمدنی والا ہی ہوتا ہے۔ ایسے صارفین کے لیے بجلی کے بلز میں اضافہ کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ اگر حکومت واقعی غریب آدمی کو ریلیف دینا چاہتی ہے، تو اسے نہ صرف پروٹیکٹڈ کیٹیگری کی حد بڑھانی چاہیے بلکہ اس نظام کو بھی شفاف بنانا چاہیے تاکہ کوئی صارف غیر ضروری طور پر متاثر نہ ہو۔

    اس کے علاوہ بجلی کے نرخوں میں اضافے کے پیچھے جو مافیا کام کر رہا ہے، اس کے خلاف ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔اور مافیا کو دی جانے والی مفت بجلی فوری طور پر بندکی جائے ،تاکہ اس کا بوجھ عام آدمی پر نہ پڑے، یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اور دیگر متعلقہ ادارے صارفین سے زیادتی کر رہے ہیں۔ اگر ایک صارف ایک ماہ میں 201 یونٹ استعمال کر لیتا ہے، تو اسے چھ ماہ تک سزا دینا کہاں کا انصاف ہے؟ اسی طرح، چینی، گھی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے پیچھے بھی ایک منظم مافیا کام کر رہا ہے، جو عالمی منڈی میں کمی کے باوجود پاکستانی صارفین کو ریلیف نہیں دیتا۔

    حکومت کو چاہیے کہ وہ صرف کمیٹیاں بنانے اور اعلانات کرنے کی بجائے عملی اقدامات کرے۔ پروٹیکٹڈ کیٹیگری کی حد کو 301 یونٹ تک بڑھانا ایک اچھا قدم ہو سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ بجلی کے بلز کے نظام کو سادہ اور صارف دوست بنانے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ اگر حکومت یہ سب کرنے میں ناکام رہتی ہے، تو عوام کا اعتماد مزید کم ہوگا، اور وہ اعلانات جو خوشخبری کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں، محض ایک مذاق بن کر رہ جائیں گے۔ اویس لغاری کی پالیسیوں نے مسلم لیگ (ن) کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، اور اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی، تو یہ پارٹی کے لیے سیاسی خودکشی کے مترادف ہوگا۔

    آخر میں، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستانی عوام اب اس "کمیٹی کمیٹی کے کھیل” سے تنگ آ چکے ہیں۔ ہر مسئلے کا حل کمیٹیاں بنا کر نکالنے کا رواج محض ایک سراب ہے، جس کی تعبیر شاید کبھی نہ ملے۔ اگر عوام کو یقین ہوتا کہ یہ اعلانات اور کمیٹیوں کی رپورٹیں حقیقت میں تبدیل ہو جائیں گی، تو شاید وہ خوشی سے مر جاتے۔ لیکن فی الحال، یہ سب کچھ ایک مذاق لگتا ہے، جس سے عوام کا اعتماد مزید متزلزل ہو رہا ہے۔ وزیراعظم صاحب، اب کمیٹیوں کا یہ کھیل ختم ہونا چاہیے۔ عوام کو حقیقی ریلیف دینے کا اعلان کریں، جس پر فوری عملدرآمد ہو اور عوام کو ریلیف ملتا ہوا نظر آئے۔

  • ڈیرہ غازی خان: پل سیدن شاہ روڈ کی تعمیر کی منظوری، عوام میں خوشی کی لہر

    ڈیرہ غازی خان: پل سیدن شاہ روڈ کی تعمیر کی منظوری، عوام میں خوشی کی لہر

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی.سٹی رپورٹر، جواد اکبر)حلقہ پی پی 287 کے عوام کے لیے ایک اہم ترقیاتی خوشخبری سامنے آئی ہے، جب پل سیدن شاہ کے قریب پانچ کلومیٹر سے زائد طویل شاہراہ کی تعمیر کی باضابطہ منظوری دی گئی۔ اس موقع پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کی میزبانی علاقے کی معروف سماجی و سیاسی شخصیت سردار اللہ نواز خان گوپانگ نے کی، جنہیں لغاری گروپ کا معتبر رکن سمجھا جاتا ہے۔

    تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ سردار اللہ نواز گوپانگ نے اپنے خطاب میں اس منصوبے کو علاقے کے لیے "نئی زندگی کی نوید” قرار دیتے ہوئے کہا کہ سڑک کی تعمیر سے عوام کو آمدورفت میں آسانی، اور مقامی معیشت، زراعت و تجارت میں بہتری آئے گی۔

    تقریب کے مہمانِ خصوصی صوبائی اسمبلی کے رکن و پارلیمانی سیکرٹری برائے زراعت سردار اسامہ فیاض لغاری تھے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر توانائی سردار اویس خان لغاری کی مشاورت سے حاجی غازی، سکھیرا آرائیں، سیدن بستی سمیت دیگر علاقوں میں متعدد ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔ انہوں نے مزید اعلان کیا کہ "کوٹ چھٹہ تا دراہمہ روڈ” کا منصوبہ بھی جلد شروع ہوگا، جو علاقے کی ترقی میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔

    سردار اسامہ لغاری نے عوام سے اتحاد و اتفاق قائم رکھنے اور انتشار پسند عناصر کے عزائم کو ناکام بنانے کی اپیل کی۔ تقریب کے دوران سردار اللہ نواز گوپانگ نے علاقے کے دیگر دیرینہ مسائل سے بھی آگاہ کیا، جن پر سردار اسامہ لغاری نے موقع پر ہی متعلقہ محکموں کو فوری کارروائی کی ہدایت جاری کی۔

    اختتام پر شرکاء نے اس اہم پیش رفت اور میگا پراجیکٹس کے اعلان پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سردار اسامہ لغاری اور لغاری خاندان کی عوامی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

  • اوچ شریف: پیپلز پارٹی رہنماؤں کا یومِ آزادی پر پیغام، پاکستان کی ایٹمی و اسٹریٹجک حیثیت پر فخر

    اوچ شریف: پیپلز پارٹی رہنماؤں کا یومِ آزادی پر پیغام، پاکستان کی ایٹمی و اسٹریٹجک حیثیت پر فخر

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) پاکستان پیپلز پارٹی ڈویژن بہاولپور کے ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری رانا محمد سلیم، سابقہ ٹکٹ ہولڈر عاصم عباسی، ضلعی صدر لیبر بیورو سید امجد بشیر، ضلعی صدر سرکل اسٹڈی عظیم وقار، ضلعی نائب صدر بشیر احمد جوئیہ، احمد داؤد، عبدالرحمن مغل، شعبہ خواتین کی ڈویژنل صدر سائرہ عباسی، ڈویژنل نائب صدر نسرین بیگ، فاطمہ زیدی ایڈووکیٹ (نائب صدر ڈویژن بہاولپور) اور تحصیل صدر احمد پور شرقیہ ام البنین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ آزادی ایک عظیم نعمت ہے جسے 14 اگست 1947ء کو لاکھوں قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا۔

    رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت اور پرامن ملک ہے، جس کے دوستانہ تعلقات مسلم دنیا میں نہایت گہرے ہیں۔ خواتین نے بھی تحریکِ آزادی میں مردوں کے شانہ بشانہ جدوجہد کی اور اپنی ذمہ داریاں بھرپور طریقے سے نبھائیں۔ آبادی کے لحاظ سے پاکستان او آئی سی کا دوسرا بڑا ملک اور واحد نیوکلیئر طاقت ہے، جو اپنی اسٹریٹجک حیثیت سے خطے اور قریبی علاقوں کے سنگین مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت نے 2025ء میں پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی لیکن اسے منہ کی کھانی پڑی۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی بصیرت کی بدولت 1974ء میں او آئی سی کے تاریخی سربراہی اجلاس کے ذریعے اسلامی دنیا میں اتحاد اور یکجہتی کو فروغ ملا، جو پیپلز پارٹی کے لیے ہمیشہ اولین ترجیح رہا ہے۔

    رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پاکستان او آئی سی کے پلیٹ فارم سے کشمیر اور فلسطین کے عوام کی جدوجہدِ آزادی کی مکمل حمایت کرتا رہے گا۔ کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت اور فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے پاکستان کی حمایت ہماری قومی اور اسلامی یکجہتی کی علامت ہے۔

  • اوچ شریف: مقتول صحافی ظفر اقبال نائچ کے قاتل اہل خانہ پر دباؤ ڈالنے لگے، پولیس پر سرپرستی کا الزام

    اوچ شریف: مقتول صحافی ظفر اقبال نائچ کے قاتل اہل خانہ پر دباؤ ڈالنے لگے، پولیس پر سرپرستی کا الزام

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) احمد پور شرقیہ کے نواحی علاقے چنی گوٹھ میں مقامی صحافی ظفر اقبال نائچ کے اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ ان کے بیٹے اور بھائی کے قاتل نہ صرف کھلے عام گھوم رہے ہیں بلکہ انہیں کیس کی پیروی سے روکنے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں، اور انکار پر جان کے دشمن بن گئے ہیں۔

    مقتول کی ضعیف ماں، بہن اور دیگر اہل خانہ نے مقامی صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ تھانہ ترنڈہ محمد پناہ کی پولیس مبینہ طور پر ملزمان کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ اسی سرپرستی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزمان نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا رکھا ہے اور ہمیں دھمکیاں دے کر انصاف سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    اہل خانہ کا مزید کہنا تھا کہ ملزمان کا تعلق کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے متعدد واقعات اور کچے کے ڈاکوؤں سے ہے، اس لیے وہ انتہائی خطرناک مجرم ہیں۔ انہوں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ فوری ایکشن لے کر قاتلوں کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

    ادھر سیاسی، سماجی اور صحافتی تنظیموں نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مقتول صحافی ظفر اقبال نائچ کے قاتلوں کو جلد از جلد سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ آئندہ کسی کو حق اور سچ کی آواز دبانے کی جرات نہ ہو۔

  • ڈیرہ غازیخان ڈویژن: دریائے سندھ پر محکمہ انہار کی کرپشن بے نقاب، علی پور میں بھی سپر بند دریابرد ہونے لگا

    ڈیرہ غازیخان ڈویژن: دریائے سندھ پر محکمہ انہار کی کرپشن بے نقاب، علی پور میں بھی سپر بند دریابرد ہونے لگا

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) دریائے سندھ میں طغیانی کے باعث مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور میں دریائی کٹاؤ شدت اختیار کر گیا ہے، جس سے سیت پور، کندائی، گبر آرائیں اور خیرپور سادات کے علاقے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ مسلسل کٹاؤ کے باعث درجنوں ایکڑ زرعی اراضی دریا برد ہو چکی ہے جبکہ سپر بند بھی خطرناک حد تک متاثر ہو رہے ہیں۔

    اہل علاقہ نے موضع گبر آرائیں میں سپر بند کی تعمیر میں سستی اور ناقص کام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سپر بند ٹوٹا تو علی پور کے شہری علاقے بھی سیلاب کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سپر بند کی تعمیر کا کام فوری طور پر مکمل کیا جائے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔

    محکمہ انہار کے ترجمان کے مطابق سپر بند کی مضبوطی کا کام جاری ہے اور صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ تاہم، مقامی افراد کا الزام ہے کہ محکمہ انہار کی مبینہ بدعنوانی اور انتظامی غفلت کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل ڈیرہ غازی خان کے علاقے سمینہ میں سپر بند آر ڈی 148 کے ٹوٹنے نے تین سال پرانے کرپشن اسکینڈل کی یاد تازہ کر دی تھی۔ ذرائع کے مطابق 2019 میں سپر بند 138 کی مرمت کے لیے کروڑوں روپے جاری ہوئے، ٹھیکیدار کو ایڈوانس ادائیگی بھی کی گئی، لیکن کوئی کام مکمل نہ ہو سکا۔ حیران کن طور پر، اب پھر اسی ٹھیکیدار کو نئے فنڈز جاری کرنے کے بعد بند ٹوٹنے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔

    مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ بند میں دراڑوں کی نشاندہی بارہا کی گئی، مگر حکام نے دانستہ نظرانداز کیا تاکہ دوبارہ مرمت کے نام پر فنڈز ہتھیائے جا سکیں۔ ذرائع کا انکشاف ہے کہ محکمہ انہار کے تین بڑے ڈویژنز — بہاولپور، ساہیوال اور ڈیرہ غازی خان — میں برسوں سے ایک ہی مخصوص ٹھیکیدار کو گھما پھرا کر ٹھیکے دیے جا رہے ہیں، اور اس عمل میں منظم کرپشن کا سلسلہ جاری ہے۔

    اہل علاقہ نے وزیرِاعلیٰ پنجاب اور اعلیٰ عدلیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی فوری عدالتی انکوائری کروا کر ملوث افسران اور ٹھیکیدار کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، تاکہ عوام کی زمینیں اور جانیں محفوظ رہ سکیں۔

  • علی پور:ماموں نے ذہنی معذور بھانجی کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنا دیا

    علی پور:ماموں نے ذہنی معذور بھانجی کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنا دیا

    اوچ شریف(باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان)ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور کے نواحی علاقے بستی ٹبی ارائیں میں ایک افسوسناک اور شرمناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک شخص نے اپنی ہی ذہنی معذور بھانجی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے ملزم کو حراست میں لے لیا ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

    تفصیلات کے مطابق بستی ٹبی ارائیں کا رہائشی ناصر ولد رستم ارائیں دو روز قبل اپنی بھانجی کو مبینہ طور پر ورغلا کر زیادتی کا نشانہ بنا رہا تھا۔ اہل علاقہ نے اس شخص کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا اور اس کی خوب پٹائی کی۔

    متاثرہ لڑکی کے والد عبدالخالق ارائیں اور اس کا بھائی کراچی میں مزدوری کرتے ہیں۔ اہل علاقہ نے انہیں اس واقعے کی اطلاع دی جس کے بعد وہ فوری طور پر اپنی بستی پہنچے۔ انہوں نے پولیس تھانہ صدر علی پور کو اطلاع دی، جس پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم ناصر ارائیں کو حراست میں لے لیا۔ تاحال مقدمہ درج نہیں ہوا ہے۔

    اہل علاقہ نے اس واقعے کو انتہائی شرمناک قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے گھناؤنے جرم کے مرتکب شخص کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔

  • اوچ شریف:ایم 5  موٹروے پر غیر قانونی اسٹاپس، حادثات اور جرائم میں اضافہ

    اوچ شریف:ایم 5 موٹروے پر غیر قانونی اسٹاپس، حادثات اور جرائم میں اضافہ

    اوچ شریف(باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان ) ایم فائیو موٹروے پر ظاہر پیر سے ملتان کے درمیان ٹرانسپورٹرز کی جانب سے من مرضی کے غیر قانونی اسٹاپس قائم کر دیے گئے ہیں، جس سے نہ صرف حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ جرائم کی وارداتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق، موٹروے پر اوچ شریف کے مختلف مقامات پر موٹر وے پولیس اور ٹرانسپورٹرز کی ملی بھگت سے بسیں کھلے عام سواریاں اتار چڑھاتی ہیں۔ موٹروے قوانین کے تحت ویرانے میں گاڑی روکنا اور پیدل کراسنگ کرنا سختی سے منع ہے، مگر اس کی خلاف ورزی معمول بن چکی ہے۔

    ان غیر قانونی اسٹاپس پر پک اینڈ ڈراپ کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے جس کی وجہ سے حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ان مقامات پر جرائم کی وارداتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    سی پیک کے قریب رہنے والے مقامی شہری اس صورتحال پر سخت پریشانی کا شکار ہیں اور خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس غیر قانونی سرگرمی کا نوٹس لیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

  • بہاولپور:پولیس کی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بڑی کارروائی، 8 ملزمان گرفتار

    بہاولپور:پولیس کی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بڑی کارروائی، 8 ملزمان گرفتار

    بہاولپور(باغی ٹی وی ،حبیب خان) ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد حسن اقبال کی ہدایت پر بہاولپور پولیس نے جرائم پیشہ افراد کے خلاف جاری مہم میں بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ گزشتہ روز کی کارروائیوں میں 8 ملزمان کو گرفتار کیا گیا اور ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں شراب، ناجائز اسلحہ اور پتنگیں برآمد کی گئیں۔

    یہ کارروائیاں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے "منشیات سے پاک پنجاب” ویژن کے تحت کی جا رہی ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق تھانہ کوتوالی اور تھانہ سٹی احمدپور شرقیہ پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے 80 لیٹر شراب اور 11 کپی برآمد کیں۔تھانہ سول لائنز، صدر بہاولپور اور تھانہ سٹی یزمان پولیس نے چار ملزمان کو گرفتار کیا جن کے پاس سے 2 پسٹل 30 بور اور 2 ریوالور 32 بور برآمد ہوئے۔تھانہ بغدادالجدید اور تھانہ عباس نگر پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کر کے 222 پتنگیں اور خطرناک دھاتی ڈوریں قبضے میں لیں۔

    تمام گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

    ڈی پی او محمد حسن اقبال نے کہا کہ جرم جیسا بھی ہو، قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سماج دشمن عناصر کے خلاف یہ کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔

  • اوچ شریف:نادرا موبائل وین کیمپ کا کامیاب انعقاد، 96 شہریوں کو شناختی کارڈ کی سہولت فراہم

    اوچ شریف:نادرا موبائل وین کیمپ کا کامیاب انعقاد، 96 شہریوں کو شناختی کارڈ کی سہولت فراہم

    اوچ شریف(باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان) یونین کونسل چناب رسول پور میں ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر بہاولپور عبدالقیوم کی نگرانی میں نادرا کی موبائل وین کے ذریعے ایک روزہ شناختی کارڈ کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس کیمپ کا مقصد دور دراز علاقوں کے شہریوں کو گھر کی دہلیز پر شناختی کارڈز کی سہولت فراہم کرنا تھا۔

    اس کیمپ میں 96 سے زائد شہریوں کو شناختی کارڈز کے حوالے سے مختلف سہولیات فراہم کی گئیں۔ ان میں نئے کارڈز کے اجراء، تجدید، اور ترمیم کے خواہشمند افراد شامل تھے۔ نادرا کی ٹیم نے جدید آلات کا استعمال کرتے ہوئے تمام عمل کو شفاف اور کامیاب بنایا۔

    مقامی سماجی تنظیموں کے نمائندوں، جن میں جاوید محمود بھٹی، شیخ عزیز الرحمن، اور محمد اکمل کھاکھی شامل تھے، نے شہریوں کی رہنمائی اور فارم بھرنے میں مدد فراہم کی۔ یہ کیمپ نہ صرف شناختی کارڈز کے لیے تھا بلکہ اس کا مقصد ووٹر فہرستوں میں درست اندراج کو یقینی بنانا بھی تھا۔

    مقامی شہریوں نے اس اقدام کو سراہا اور آئندہ بھی ایسے کیمپوں کے انعقاد کا مطالبہ کیا۔ یہ کامیاب سرگرمی نادرا، الیکشن کمیشن، اور سماجی اداروں کے باہمی تعاون کا ثبوت ہے، جو دیہی علاقوں میں سہولیات کی فراہمی کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

  • اوچ شریف: باپ کے بعد 6 سالہ بیٹی کی لاش بھی نہر سے نکال لی گئی

    اوچ شریف: باپ کے بعد 6 سالہ بیٹی کی لاش بھی نہر سے نکال لی گئی

    اوچ شریف(باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے میں چند روز قبل اپنے والد کے ہمراہ نہر میں چھلانگ لگانے والی 6 سالہ حانیہ بی بی کی لاش ریسکیو ٹیموں نے برآمد کر لی ہے۔ اس افسوسناک واقعے میں والد کی لاش پہلے ہی مل چکی تھی۔

    ذرائع کے مطابق مامون آباد کا رہائشی 28 سالہ عمر نے مبینہ طور پر گھریلو جھگڑے سے دلبرداشتہ ہو کر اپنی بیٹی کے ساتھ ابوظہبی نہر میں چھلانگ لگا دی تھی۔ اس واقعے کے بعد سے ریسکیو ٹیمیں دونوں کی تلاش میں مصروف تھیں۔

    چند روز قبل، عمر کی لاش ہیڈ قاسم والا کے قریب سے ملی تھی جسے شناخت کے بعد ورثاء کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ اب تازہ پیش رفت میں، ریسکیو اہلکاروں نے سرچ آپریشن کے بعد حانیہ کی لاش بھی ہیڈ تلہ جیٹھہ بھٹہ کے قریب سے برآمد کر لی ہے۔ ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ لاش ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہے۔