Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ڈیرہ غازی خان: خدمتِ خلق کی نئی مثال، ڈاکٹر رضوان الحسین صدیقی کی منشیات کے خلاف خاموش جنگ

    ڈیرہ غازی خان: خدمتِ خلق کی نئی مثال، ڈاکٹر رضوان الحسین صدیقی کی منشیات کے خلاف خاموش جنگ

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی،نیوز رپورٹرشاہدخان) خدمتِ خلق کی نئی مثال، ڈاکٹر رضوان الحسین صدیقی کی منشیات کے خلاف خاموش جنگ
    تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر رضوان الحسین صدیقی، جو میڈیکل کالج ڈیرہ غازی خان میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اور زین کلینک بلخ سرور میں ماہرِ امراضِ نفسیات اور ترکِ منشیات کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، ایک ایسی شخصیت ہیں جو اپنی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی اور خلوص کی مثال ہیں۔

    ڈاکٹر رضوان کا شمار ان چند معالجین میں ہوتا ہے جو مریضوں کو صرف دوا نہیں دیتے بلکہ انہیں اعتماد اور اپنائیت کا احساس بھی فراہم کرتے ہیں۔ ان کا سب سے نمایاں کارنامہ منشیات کے خلاف ان کی جدوجہد ہے۔ انہوں نے سیکڑوں نوجوانوں کو نشے کی تاریک دنیا سے نکال کر ایک نئی زندگی دی ہے۔ ان کے زیرِ علاج مریض نہ صرف جسمانی طور پر صحت یاب ہوتے ہیں بلکہ وہ انہیں ذہنی اور روحانی طور پر بھی مضبوط بناتے ہیں۔

    ڈاکٹر رضوان الحسین صدیقی نفسیاتی بیماریوں کو سماجی بدنامی کا باعث نہیں بلکہ ایک قابلِ علاج مرض سمجھتے ہیں۔ وہ معاشرے میں ذہنی صحت کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔ ان کی عاجزی، علم، اور ذمہ داری کا احساس انہیں ایک ایسا باوقار معالج بناتا ہے جو قوم کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔ ان جیسی شخصیات ملک و قوم کے لیے فخر کا باعث ہوتی ہیں جو خاموشی سے انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں۔

  • اوچ شریف : کھجور یں توڑتے ہوئے شخص بجلی کے کرنٹ سے جاں بحق

    اوچ شریف : کھجور یں توڑتے ہوئے شخص بجلی کے کرنٹ سے جاں بحق

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے مخدوم پور میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جہاں کھجور توڑنے کی کوشش میں ایک شخص بجلی کا کرنٹ لگنے سے جان کی بازی ہار گیا۔

    تفصیلات کے مطابق خادم حسین ولد امام بخش کھجور کے درخت پر چڑھے تھے کہ اچانک وہ درخت کے قریب سے گزرنے والی مین بجلی کی کیبل سے چھو گئے۔ کرنٹ لگنے کے بعد وہ کچھ دیر تک درخت پر ہی لٹکے رہے۔

    مقامی لوگوں کی اطلاع پر ریسکیو 1122 کی ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچی۔ ٹیم نے بڑی احتیاط کے ساتھ خادم حسین کو درخت سے نیچے اتارا اور ان کی زندگی بچانے کے لیے موقع پر ہی سی پی آر (CPR) فراہم کرنے کی کوشش کی، مگر تمام کوششیں بے سود ثابت ہوئیں اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔

    خادم حسین کی لاش کو بعد ازاں آر ایچ سی (RHC) اوچ شریف منتقل کر دیا گیا۔ اس افسوسناک حادثے نے پورے علاقے میں گہرے غم و افسوس کی فضا پیدا کر دی ہے۔

  • گھوٹکی :کچے میں ڈاکوؤں کے خلاف بڑا آپریشن، پولیس اور اغواء کاروں میں شدید فائرنگ

    گھوٹکی :کچے میں ڈاکوؤں کے خلاف بڑا آپریشن، پولیس اور اغواء کاروں میں شدید فائرنگ

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی،نامہ نگار مشتاق علی لغاری) ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران کے حکم پر ضلع بھر میں کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں اور اغواء کاروں کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    ڈی ایس پی اوباوڑو عبدالقادر سومرو کی سربراہی میں تھانہ کھمبڑا کی حدود کراس بند کراچی کے کچے والے علاقے میں پولیس نے اغواء کاروں کے خلاف آپریشن شروع کیا ہے۔ اس دوران پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔

    10 تھانوں کی پولیس اور بکتر بند گاڑیاں شامل
    ڈی ایس پی عبدالقادر سومرو کی قیادت میں 10 مختلف تھانوں کی بھاری نفری، اے پی سی چین اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ اس آپریشن میں حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا بنیادی مقصد گزشتہ روز اغواء کیے گئے دو مغویوں، صاحب ڈنو اور بالم میگھواڑ کی بازیابی ہے۔

    ایس ایس پی گھوٹکی نے واضح کیا ہے کہ یہ آپریشن مغویوں کی بحفاظت بازیابی اور علاقے سے تمام ڈاکوؤں کے مکمل سرنڈر ہونے تک جاری رہے گا۔ یہ کارروائی کچے کے علاقے میں بڑھتے ہوئے جرائم پر قابو پانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔

  • سیالکوٹ:انوکھا واقعہ،ڈاکو اپنے ہی ساتھی کی فائرنگ سے ہلاک

    سیالکوٹ:انوکھا واقعہ،ڈاکو اپنے ہی ساتھی کی فائرنگ سے ہلاک

    سیالکوٹ (بیوروچیف خرم میر): تھانہ نیکاپورہ کے علاقہ میں ایک انوکھی اور افسوسناک واردات پیش آئی جہاں ایک ڈاکو اپنے ہی ساتھی کی فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک ہو گیا۔

    ابتدائی معلومات کے مطابق یہ واقعہ نیکاپورہ کے ایمن آباد روڈ پر ٹیولپ مارکی کے قریب پیش آیا۔ دو مسلح ڈاکوؤں نے ایک پھل فروش ندیم کو لوٹنے کی کوشش کی۔ جب ندیم نے مزاحمت کی تو ڈاکوؤں میں سے ایک نے فائرنگ کر دی، لیکن بدقسمتی سے گولی اس کے اپنے ہی ساتھی کو جا لگی جس کی وجہ سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ فائرنگ کرنے والا ڈاکو اس واردات کے بعد جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی تھانہ نیکاپورہ کے ایس ایچ او پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے۔ انہوں نے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ ہلاک ہونے والے ڈاکو کی شناخت مدثر صابر ولد صابر، سکنہ بن حاجی پورہ کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق، مدثر متعدد مقدمات میں ملوث تھا۔

    فرار ہونے والے ملزم کی تلاش کے لیے پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ اس واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ہی فرار ملزم کو گرفتار کر لیا جائے گا۔

  • عام ٹی شرٹ پہننے پر نارنگ پولیس کا ظلم، بے روزگار نوجوان کو جعلی کمانڈو بنا کر جیل بھیج دیا

    عام ٹی شرٹ پہننے پر نارنگ پولیس کا ظلم، بے روزگار نوجوان کو جعلی کمانڈو بنا کر جیل بھیج دیا

    نارنگ منڈی(نامہ نگارمحمدوقاص) نارنگ منڈی میں پولیس کی ایک ایسی کارروائی سامنے آئی ہے جس نے قانون کے نفاذ اور غریبوں کے ساتھ برتاؤ پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ رفیق آباد کا رہائشی نوجوان قاسم جو حال ہی میں اپنی کنٹریکٹ ملازمت سے فارغ ہوا تھا، ایک عام ٹی شرٹ اور بلیک ٹراؤزر پہننے پر پولیس کے شکنجے میں آگیا۔

    تفصیلات کے مطابق قاسم رتیاں کینٹ، نارنگ میں کنٹریکٹ پر بھرتی ہوا تھا، مگر ملازمت کی مدت پوری ہونے پر اس کی ایکسٹینشن نہ ہو سکی اور اسے اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا۔ گزشتہ دنوں پٹرولنگ پولیس نے گشت کے دوران قاسم کو روکا اور اس کی ٹی شرٹ کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔ قاسم نے پولیس کو بتایا کہ یہ ایک عام ٹی شرٹ ہے جو وہ اپنی ڈیوٹی کے دوران پہنا کرتا تھا، مگر پولیس نے اس کی بات سنے بغیر ہی اسے نارنگ تھانے لے جا کر حوالات میں بند کر دیا۔

    نارنگ پولیس نے مزید "پھرتی” دکھاتے ہوئے قاسم پر جعلی ایس ایس کمانڈو بن کر لوگوں کو لوٹنے کا مقدمہ درج کر دیا اور اسے جیل بھیج دیا۔ یہ واقعہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایک بے روزگار اور غریب نوجوان کس طرح پولیس کی ہٹ دھرمی کا شکار ہوا۔

    مقامی شہریوں کا کہنا تھا کہ کیا ملک کا قانون صرف غریبوں کے لیے ہے؟ ایک طرف جہاں وڈیرے غیر قانونی اسلحہ کے ساتھ گھومتے ہیں، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی، وہیں ایک غریب نوجوان صرف ایک عام لباس پہننے کی وجہ سے جعلی مقدمے کا سامنا کر رہا ہے۔ قاسم کے گھر پہلے ہی فاقے پڑے ہیں اور اس پر یہ اضافی مصیبت آن پڑی ہے۔

    شہریوں نے آر پی او، ڈی پی او شیخوپورہ اور آئی جی پنجاب سے اس واقعے کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ،اور ساتھ کہا ہے کہ ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور اس بے گناہ نوجوان کو انصاف دلایا جائے۔

  • پوری قوم کا پرچم

    پوری قوم کا پرچم

    پوری قوم کا پرچم
    تحریر: سید سخاوت الوری
    جشنِ آزادی اور دیگر تقریبات پر قومی پرچم اور جھنڈیوں کے احترام کے سلسلے میں چند احتیاطی تدابیر بیان کی جا رہی ہیں۔ اگر ان پر عمل کر لیا جائے تو جہاں قومی پرچم کے وقار و احترام میں اضافہ ہوگا، وہاں اس کی قدر و منزلت میں بھی اضافہ ہوگا۔

    پاکستانی پرچم کا ڈیزائن امیرالدین قدوائی نے تیار کیا جبکہ بابائے قوم کے حکم پر اسے سینے کا اعزاز ماسٹر الطاف حسین کو حاصل ہوا۔ (ماسٹر الطاف حسین کو قائداعظمؒ اور دیگر زعمائے تحریکِ پاکستان کے کپڑے، سوٹ اور شیروانی سینے اور خصوصی حفاظتی محافظ ہونے کا شرف بھی حاصل تھا۔)

    پرچم کا سفید حصہ اقلیتوں جبکہ سبز رنگ مسلم اکثریت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے درمیان چاند ترقی کا مظہر اور پنج گوشہ ستارہ روشنی اور علم کی نمائندگی کرتا ہے۔ قومی ترانے میں اسے "پرچمِ ستارہ و ہلال” کہا گیا ہے۔ اس پرچم کی منظوری قائداعظم محمد علی جناح نے دی تھی۔

    عمارتوں پر جو قومی پرچم لہرایا جاتا ہے اس کی لمبائی چوڑائی عموماً 6 فٹ × 4 فٹ یا 3 فٹ × 2 فٹ ہوتی ہے۔ کاروں پر لہرائے جانے والے پرچم کا سائز 12 انچ × 8 انچ ہوتا ہے۔ یہ بات عام عوام کو معلوم نہیں، حالانکہ ابلاغِ عامہ کے تمام ذرائع (پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا)، کیبل اور اخبارات و جرائد کے ذریعے عوام کو بتانا چاہئے کہ قومی پرچم محض کاغذ یا کپڑے کا ٹکڑا نہیں بلکہ قوم و ملک کی وحدت، عظمت، وقار اور خودمختاری و آزادی کا مظہر ہے۔

    قومی پرچم کے احترام کے لئے احتیاطی تدابیر
    جشنِ آزادی کے دنوں میں بچے شوق سے گھروں پر قومی پرچم لہراتے اور جھنڈیوں سے سجاتے ہیں، لیکن جب تقریبات ختم ہوجائیں تو انہیں لپیٹ کر احتیاط سے محفوظ رکھ دیا جائے۔ اسی طرح جھنڈیاں بھی اُتار کر محفوظ کر لی جائیں۔

    گلیوں اور بازاروں میں بھی یہی عمل ہونا چاہئے، کیونکہ عام طور پر جھنڈیاں پیروں تلے روندی جاتی ہیں۔ بہتر ہے کہ جشن کی تقریبات ختم ہوتے ہی انہیں اُتار دیا جائے۔

    شہری انتظامیہ بینرز اور جھنڈیوں کو بعد میں اُتارتی ضرور ہے، لیکن یہ کام فوری طور پر ہونا چاہئے تاکہ بارش، آندھی یا تیز ہوا سے یہ ٹوٹ کر سڑک پر نہ گریں۔

    قومی پرچم اور جھنڈیاں پرنٹ کرتے وقت اس کا معیار مدنظر رکھا جائے اور مقررہ رنگ کے علاوہ کسی اور رنگ میں پرنٹ نہ کیا جائے۔ اس کے حقیقی ڈیزائن اور سائز کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے۔

    عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ قومی پرچم پر لوگ اپنے پسندیدہ لیڈرز کی تصاویر بھی لگا دیتے ہیں، یہ بھی قومی پرچم کی توہین کے زمرے میں آتا ہے۔ قومی پرچم کے اوپر کچھ اور چھاپا یا لکھا نہیں ہونا چاہئے۔

    تاریخی پس منظر
    تاریخی اعتبار سے پاکستانی قوم کی وابستگی اور بنیادی نقوش کا تعلق اس پرچم سے ہے جو 30 دسمبر 1906ء کو ڈھاکہ میں اس موقع پر لہرایا گیا تھا جب وہاں برصغیر کی مختلف تنظیموں کے قائدین کا ایک نمائندہ اجتماع ہوا، جس کے نتیجے میں مسلمانانِ ہند کی اوّلین سیاسی جماعت "آل انڈیا مسلم لیگ” تشکیل پائی۔

    ڈھاکہ میں جو پرچم استعمال کیا گیا اس کا رنگ سبز تھا اور درمیان میں ہلال و ستارہ تھا۔ قیامِ پاکستان سے قبل پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کے اجلاس منعقدہ 11 اگست 1947ء میں پاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ خان لیاقت علی خان نے قومی پرچم باضابطہ طور پر منظوری کے لئے پیش کیا۔

    اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
    "جنابِ والا! یہ پرچم کسی ایک پارٹی یا ایک طبقے کا پرچم نہیں، یہ پاکستانی قوم کا پرچم ہے اور کسی بھی قوم کا پرچم محض کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتا، اس کی خصوصیت اس کے کپڑے میں نہیں بلکہ ان اصولوں پر ہوتی ہے جن کا یہ حامل ہے اور میں بلا خوف کہہ سکتا ہوں کہ پاکستانی پرچم اپنے وفاداروں اور اطاعت گزاروں کی آزادی، خودمختاری اور مساوات کا پاسبان رہے گا۔ یہ پرچم ہر شہری کے جائز حقوق کا تحفظ کرے گا۔ انشاء اللہ”

  • سیالکوٹ: ٹینری زون ماحولیاتی آلودگی میں کمی کا ضامن، برآمدات میں اضافہ متوقع

    سیالکوٹ: ٹینری زون ماحولیاتی آلودگی میں کمی کا ضامن، برآمدات میں اضافہ متوقع

    سیالکوٹ (بیوروچیف خرم میر) پارلیمانی سیکرٹری ماحولیات و جنگلات پنجاب کنول لیاقت نے کہا ہے کہ سیالکوٹ ٹینری زون ایک ماحول دوست صنعتی منصوبہ ہے جو چمڑے کی صنعت سے پیدا ہونے والے فضلے اور آلودہ پانی کو جدید سائنسی طریقوں سے صاف کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

    اس منصوبے کے تحت کیمیکل ریکوری پلانٹ کے ذریعے پانی کو مضر صحت اجزاء سے پاک کیا جائے گا، جس سے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی بلکہ عوامی صحت کا تحفظ بھی ممکن ہو سکے گا۔ وہ سیالکوٹ ٹینری زون ایسوسی ایشن کے اجلاس سے خطاب کر رہی تھیں، جس میں ڈائریکٹر جنرل ادارہ تحفظ ماحولیات پنجاب عمران حامد شیخ، ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی اور صنعت کاروں کی بڑی تعداد شریک تھی۔

    ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ٹینریوں کی زون میں منتقلی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ اب تک 137 غیر منتقل شدہ ٹینریاں سیل کی جا چکی ہیں، 15 ٹینریاں زون میں فعال ہیں، جبکہ آئندہ 15 روز میں مزید 33 ٹینریاں فنکشنل ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ایفولینٹ پلانٹ بھی جلد کام کا آغاز کرے گا، جس سے چمڑے کی مصنوعات کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔

    ڈی جی ادارہ تحفظ ماحولیات عمران حامد شیخ نے کہا کہ ٹینری زون کی بروقت تکمیل حکومت اور صنعت کاروں دونوں کے مفاد میں ہے اور اس میں مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ اجلاس میں شریک صنعت کاروں نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف صنعت کی ترقی بلکہ ماحول کی بہتری، عوامی صحت کے تحفظ اور عالمی معیار کی پیداوار میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

  • ڈیرہ غازی خان: ایکسپائری اشیاء کی فروخت پر مشترکہ کارروائی، 15 لاکھ مالیت کا سامان تلف

    ڈیرہ غازی خان: ایکسپائری اشیاء کی فروخت پر مشترکہ کارروائی، 15 لاکھ مالیت کا سامان تلف

    ڈیرہ غازی خان (جواد اکبر) ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ اور پنجاب فوڈ اتھارٹی نے عوامی صحت کے تحفظ کے لیے چوک چورہٹہ عزیز آباد روڈ پر مشترکہ کارروائی کی۔ اس کارروائی کی نگرانی اسسٹنٹ کمشنر ہیڈ کوارٹر نذر حسین کورائی نے کی۔

    کارروائی کے دوران کریانہ کی پانچ دکانوں سے بچوں کے کھانے پینے کی اشیاء، جن میں سلانٹی، چرمر، ٹافیاں اور دیگر آئٹمز شامل تھیں، برآمد کی گئیں۔ برآمد شدہ سامان کی مالیت تقریباً 15 لاکھ روپے تھی، جسے موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں پر مجموعی طور پر 70 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

    اسسٹنٹ کمشنر نذر حسین کورائی نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد کی ہدایت پر شہریوں، خصوصاً بچوں کو صحت مند اور محفوظ غذا کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ دکانداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی دکانوں میں موجود اشیاء کی معیاد باقاعدگی سے چیک کریں اور مدت پوری ہونے سے پہلے انہیں تلف کریں، بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا۔

  • ڈیرہ غازی خان: پولیس مقابلے میں لادی گینگ کا خطرناک کارندہ ، 40 مقدمات میں اشتہاری ہلاک

    ڈیرہ غازی خان: پولیس مقابلے میں لادی گینگ کا خطرناک کارندہ ، 40 مقدمات میں اشتہاری ہلاک

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر جواد اکبر) تھانہ کوٹ مبارک پولیس اور لادی گینگ کے خطرناک کارندوں کے درمیان ہونے والے پولیس مقابلے میں متعدد سنگین وارداتوں میں ملوث بدنام زمانہ ڈاکو عبد الستار عرف راشد عرف کر چو ولد محمد رمضان قوم جندانی سکنہ تھلانگ جندانی ہلاک ہو گیا۔ مقتول ڈاکو لادی گینگ کا ایکٹو ممبر اور انتہائی مطلوب اشتہاری تھا، جو دہشت گردی، قتل، اقدامِ قتل، اغوا برائے تاوان، ڈکیتی، رہزنی، بھتہ خوری اور پولیس پارٹیوں پر حملوں سمیت 40 سنگین مقدمات میں ریکارڈ یافتہ تھا۔

    ذرائع کے مطابق عبد الستار پر کئی بڑے جرائم کے الزامات تھے جن میں 20 جنوری 2023 کو چور پل کے قریب ڈکیتی کے دوران فائرنگ کر کے لیڈی ڈاکٹر کے والد کو قتل کرنا، 11 نومبر 2023 کو تھانہ کالا میں پولیس گاڑی پر حملہ کر کے سب انسپکٹر رضوان محبوب کو شہید اور 3 اہلکاروں کو زخمی کرنا، 18 اپریل 2024 کو تھانہ صدر کی حدود میں ایک شہری کو قتل کرنا، 26 جنوری 2025 کو پولیس پر حملہ کر کے سب انسپکٹر محمد عرفان کو شدید زخمی کرنا، 3 فروری 2025 کو اندر پہاڑ میں ایک شہری کو قتل کرنا اور 27 مئی 2025 کو اندر پہاڑ میں سیمنٹ فیکٹری پر راکٹ لانچروں سے حملہ شامل ہیں۔

    پولیس کے مطابق ملزم جسمانی ریمانڈ پر تھا کہ دورانِ برآمدگی لادی گینگ کے سرغنہ ابراہیم عرف ابی چکرانی اور اس کے ساتھیوں نے پولیس گاڑی پر حملہ کر کے کانسٹیبل محمد آصف کو زخمی کر دیا اور عبد الستار کو چھڑا کر لے گئے۔ پولیس نے فوری طور پر ریڈنگ اور سرچنگ ٹیمیں تشکیل دیں اور قبرستان مراؤ جیانی کے قریب کارروائی کی۔ اس دوران ملزم اور اس کے ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر شدید فائرنگ کی۔ فائرنگ کے تبادلے میں عبد الستار اپنے ہی ساتھیوں کی گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا، جبکہ باقی ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    پولیس نے مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن مزید تیز کر دیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ علاقے میں امن و امان کی بحالی ان کی اولین ترجیح ہے۔

  • احمد پور شرقیہ: ڈی پی او احسن اقبال کی کھلی کچہری، عوامی شکایات پر فوری احکامات

    احمد پور شرقیہ: ڈی پی او احسن اقبال کی کھلی کچہری، عوامی شکایات پر فوری احکامات

    اوچ شریف (باغی ٹی وی ،نامہ نگارحبیب خان) ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر احسن اقبال نے احمد پور شرقیہ میں کھلی کچہری منعقد کی، جس میں بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کر کے اپنے مسائل اور شکایات پیش کیں۔ ڈی پی او نے تمام شکایات بغور سنیں اور موقع پر ہی متعلقہ افسران کو فوری کارروائی کے احکامات جاری کیے۔

    اس موقع پر ڈی پی او احسن اقبال نے کہا کہ کرپشن، غفلت اور کوتاہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ عوام کو انصاف کی فراہمی پولیس کی اولین ترجیح ہے اور ہر شکایت پر بلا امتیاز اور فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے شہریوں کو یقین دلایا کہ ان کے مسائل کے حل کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔