Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • احمدپورشرقیہ: گھریلو جھگڑے کے بعد نوجوان کا خود پر تیز دھار آلے سے وار

    احمدپورشرقیہ: گھریلو جھگڑے کے بعد نوجوان کا خود پر تیز دھار آلے سے وار

    اوچ شریف باغی ٹی وی ( نامہ نگار حبیب خان ) چوک منیر شہید میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں گھریلو جھگڑے کے دوران ایک 27 سالہ نوجوان نے تیز دھار آلے سے خود پر وار کر لیا۔

    سید وجاہت علی نامی نوجوان، جو سید برات حسین کا بیٹا ہے، نے اپنے بائیں بازو اور سر پر گہرے زخم لگائے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، وجاہت علی کافی عرصے سے ذہنی دباؤ کا شکار تھے اور اس کی ادویات بھی استعمال کر رہے تھے۔

    اطلاع ملنے پر ریسکیو ٹیم فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچی اور زخمی کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ بعد ازاں انہیں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کیا گیا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق وجاہت علی کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔

  • لاثانی ایکسپریس پر پتھراؤ، بزرگ مسافر کی آنکھ زخمی، ریلوے حکام غفلت کا شکار

    لاثانی ایکسپریس پر پتھراؤ، بزرگ مسافر کی آنکھ زخمی، ریلوے حکام غفلت کا شکار

    نارنگ منڈی (نامہ نگار محمد وقاص قمر) لاہور سے سیالکوٹ جانے والی لاثانی ایکسپریس پر کوٹ مولچند کے قریب شرپسند عناصر کی جانب سے شدید پتھراؤ کیا گیا، جس کے نتیجے میں قلعہ احمد آباد کا رہائشی بزرگ مسافر ظفر اقبال آنکھ پر پتھر لگنے سے شدید زخمی ہوگیا۔ عینی شاہدین کے مطابق پتھر لگنے سے مسافر کا چہرہ لہولہان ہوگیا جبکہ بوگیوں پر بھی شدید نقصان پہنچا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اس قسم کے واقعات معمول بن چکے ہیں،کبھی ٹرین کے انجن کو نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ ڈرائیوروں کو ہراساں کیا جا سکے، تو کبھی مسافروں پر گندگی سے بھرے شاپر، کیچڑ اور پتھر برسائے جاتے ہیں، جس سے متعدد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ انجن کے شیشے ٹوٹنے اور بوگیوں کو نقصان پہنچنے کے واقعات کے باوجود پاکستان ریلوے اور ریلوے پولیس کی جانب سے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

    گزشتہ روز کے واقعے میں زخمی ہونے والے بزرگ مسافر ظفر اقبال کو فوری طبی امداد دی گئی تاہم مسافروں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی اور آئی جی ریلوے پولیس رائے محمد طاہر سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے واقعات کا فوری نوٹس لیا جائے اور ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ مسافروں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

  • ڈیرہ غازی خان: سپربند منصوبے میں میگا کرپشن دوبارہ بے نقاب، تین سال بعد بھی وہی کہانی، وہی کردار

    ڈیرہ غازی خان: سپربند منصوبے میں میگا کرپشن دوبارہ بے نقاب، تین سال بعد بھی وہی کہانی، وہی کردار

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی کی خصوصی رپورٹ) سپربند منصوبے میں میگا کرپشن دوبارہ بے نقاب، تین سال بعد بھی وہی کہانی، وہی کردار
    ڈیرہ غازی خان کے علاقے سمینہ میں واقع سپربند آر ڈی 148 کی حالیہ تباہی نے ایک بار پھر تین سال قبل پیش آئے سپربند 138 کے میگا کرپشن اسکینڈل کی یاد تازہ کر دی ہے۔ اُس وقت بھی کروڑوں روپے کا فنڈ جاری ہونے کے باوجود زمینی سطح پر کوئی کام نہ کیا گیا تھا، اور آج بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ تین سال قبل باغی ٹی وی نے اس اسکینڈل کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا تھا، مگر متعلقہ اداروں اور افسران نے بجائے اصلاح کے، محض عارضی تبادلوں اور فرضی انکوائریوں کے ذریعے معاملے کو دبا دیا۔

    سپربند 138 کی مرمت کے لیے 108.3 ملین روپے کی لاگت سے منصوبہ منظور ہوا، جس کا ٹھیکہ "رانا ٹریڈرز” کو دیا گیا، جس کے مالک کا تعلق ساہیوال سے تھا۔ متعلقہ افسران کی ملی بھگت سے اس کنٹریکٹر کو 55.6 ملین روپے ایڈوانس میں جاری کیے گئے، مگر سپربند پر عملی طور پر کوئی کام نہ ہو سکا۔ کام نہ ہونے کے باوجود پیسے جاری کیے جانا اس بات کی دلیل تھی کہ محکمہ انہار کے اندرونی افسران اس مبینہ کرپشن میں برابر کے شریک تھے۔ وقت مقررہ پر کام شروع نہ ہونے کی وجہ سے 2021 میں اسی بند کا بیشتر حصہ دریا بُرد ہو گیا۔ ریزیڈنٹ انجینئر محمد حنیف اور ان کی ٹیم نے موقع پر جا کر معائنہ کیا اور اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا کہ کام شروع ہی نہیں ہوا، مگر پھر بھی ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی گئی۔

    اب 2025 میں سپربند آر ڈی 148 کی تباہی نے معاملے کو پھر زندہ کر دیا ہے۔ ایک بار پھر وہی کنٹریکٹر، وہی طریقہ کار، اور وہی محکماتی غفلت دیکھی جا رہی ہے۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ بند میں دراڑیں کافی عرصے سے موجود تھیں، محکمہ انہار کو کئی بار زبانی و تحریری طور پر آگاہ کیا گیا، مگر کسی نے توجہ نہ دی۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ افسران کو معلوم تھا کہ بند کسی بھی وقت ٹوٹ سکتا ہے، لیکن وہ جان بوجھ کر خاموش رہے تاکہ جب بند ٹوٹے تو مرمت و بحالی کے نئے فنڈز کے نام پر ایک اور کرپشن کا موقع میسر آئے۔

    محکمہ انہار کے بعض افسران، جن میں مجاہد کلیم (XEN)، رشید جروار، عزیز زنگلانی، ارسلان اور خاص طور پر عاقب جاوید کا نام شامل ہے، ان تمام معاملات میں مرکزی کردار سمجھے جا رہے ہیں۔ عاقب جاوید، جو بیک وقت تین عہدوں پر تعینات ہے، اس پر پہلے بھی کرپشن کے الزامات عائد ہو چکے ہیں۔ حیران کن طور پر یہ شخص پہلے پنجاب پولیس میں سب انسپکٹر تھا اور مگر بعد ازاں محکمہ انہار میں ایس ڈی او جیسے اہم عہدے پر تعینات کر دیا گیا۔ موجودہ وقت میں وہ کنسٹرکشن، مشینری، اور ڈیزائن سب ڈویژنز تینوں کا انچارج ہے۔

    تین سال قبل اس کرپشن کی تہہ میں ایک اور پہلو بھی چھپا ہے، اور وہ ہے ریت اٹھانے کا غیر قانونی عمل۔ سپربندوں کے اردگرد سے ریت اٹھانے کے ٹھیکے دیے گئے تھے ، جس سے بند کی بنیادیں مزید کمزور ہو گئیں۔ ٹھیکیداروں کو بااثر وڈیروں اور سیاستدانوں کی پشت پناہی حاصل تھی، جنہیں بدلے میں مچھلیاں، رشوت اور تحائف پہنچائے جاتے تھے۔ بند کی مرمت کے لیے جو پتھر استعمال کیے گئے، وہ بھی بغیر کسی جال کے دریا میں یوں ہی پھینک دیے گئے، جس کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔

    بند ٹوٹنے کے بعد متاثرہ علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقامی مساجد میں اعلانات کروا کر لوگوں کو محفوظ مقامات پر جانے کا کہا گیا، جبکہ محکمہ کے افسران کئی گھنٹے تاخیر سے موقع پر پہنچے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بند ٹوٹنے کے بعد ٹھیکیدار نے چند صحافیوں کو بھی رشوت کی پیشکش کی، تاکہ یہ معاملہ میڈیا پر نہ آئے۔ مگر بعض ذمہ دار صحافیوں نے وہ ویڈیوز ریکارڈ کیں، جن میں بغیر کسی جال کے بہتے پانی میں پتھر ڈالے جا رہے ہیں — جو کہ محض کرپشن کا طریقہ ہے، تحفظ کا نہیں۔

    عوام کا کہنا ہے کہ سپربندوں کی تباہی کوئی قدرتی آفت نہیں، بلکہ یہ انتظامی غفلت، بدانتظامی اور منظم کرپشن کا نتیجہ ہے۔ تین سال قبل جن سوالات کو میڈیا نے اٹھایا، آج بھی وہی سوالات اپنی جگہ موجود ہیں: ایڈوانس رقم دینے کے بعد کام کیوں نہ ہوا؟ ذمہ داروں کو سزا کیوں نہ ملی؟ رانا ٹریڈرز کو دوبارہ ٹھیکے کیسے ملے؟ اور تین سال بعد بھی عوام کی زمینیں، گھر، اور فصلیں کیوں ڈوب رہی ہیں؟

    متاثرین اور شہری حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت فوری طور پر اس میگا کرپشن اسکینڈل کی عدالتی انکوائری کا حکم دے، اور ان تمام افسران، ٹھیکیداروں، اور سرپرست سیاستدانوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، وگرنہ مستقبل میں اس سے بھی بڑے سانحات جنم لے سکتے ہیں۔

  • ڈی جی خان میں ڈی پی اوز کے اعزاز میں الوداعی تقریب

    ڈی جی خان میں ڈی پی اوز کے اعزاز میں الوداعی تقریب

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹرجواد)ڈیرہ غازی خان میں ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) کیپٹن (ر) سجاد حسن خان کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) ڈیرہ غازی خان سید علی اور ڈی پی او مظفرگڑھ ڈاکٹر رضوان احمد خان کے اعزاز میں ایک پروقار الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ یہ تقریب جمخانہ کلب میں منعقد ہوئی جہاں دونوں افسران کو ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں اعزازی شیلڈز اور سوینئرز پیش کیے گئے۔

    اس تقریب میں کمشنر ڈیرہ غازی خان اشفاق احمد چوہدری کے ساتھ ساتھ ریجن کے تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ پولیس افسران، ڈپٹی کمشنرز، سی ٹی ڈی، سپیشل برانچ، سیف سٹی اتھارٹی، پولیس اور سول انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    مقررین نے دونوں افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سید علی اور ڈاکٹر رضوان احمد خان نے اپنے اپنے اضلاع میں جرائم کے خاتمے، عوامی اعتماد کی بحالی اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ آر پی او کیپٹن (ر) سجاد حسن خان نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ دونوں افسران نے دیانتداری، فرض شناسی اور بہترین قیادت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب-خیبر پختونخوا بارڈر پر دہشت گردوں کے خلاف اور مظفرگڑھ میں کچے کے جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف ان کی کارروائیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

    تقریب کے اختتام پر شرکاء نے دونوں افسران کی آئندہ ذمہ داریوں میں کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

  • ڈی جی خان میں صفائی مہم کا دائرہ قبرستانوں اور مساجد تک پھیل گیا

    ڈی جی خان میں صفائی مہم کا دائرہ قبرستانوں اور مساجد تک پھیل گیا

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹر شاہد خان)ڈیرہ غازی خان میں ڈائیوو کمپنی (ڈی ڈبلیو ایم سی) کی صفائی مہم شہر اور دیہات کے علاوہ اب قبرستانوں اور مساجد تک بھی پہنچ گئی ہے۔ آج کمپنی کے کارکنان نے یونین کونسل نمبر 17 کے غوثیہ قبرستان میں صفائی کا کام انجام دیا۔ اس دوران قبرستان کے اندر جھاڑیوں کو کاٹا گیا اور قبروں کی صفائی کی گئی۔

    ڈی ڈبلیو ایم سی کے ڈی ایم نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے "صاف ستھرا پنجاب” ویژن کے تحت شہر، گلی محلوں، دیہات اور قبرستانوں کی صفائی کے ساتھ ساتھ اب مساجد کی صفائی پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ قبرستان میں موجود درختوں کو ہفتہ وار پانی دیا جائے گا اور اس ویژن کے تحت شہر اور محلوں کی تمام مساجد کو ری پینٹ بھی کیا جائے گا۔

  • اوکاڑہ:نامعلوم گاڑی کی موٹرسائیکل کو ٹکر، کمسن بیٹا جاںبحق، باپ زخمی

    اوکاڑہ:نامعلوم گاڑی کی موٹرسائیکل کو ٹکر، کمسن بیٹا جاںبحق، باپ زخمی

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)دیپالپور کے نواحی علاقے پیر دی ہٹی کے قریب ایک افسوسناک ٹریفک حادثہ پیش آیا، جس میں ایک نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے موٹر سائیکل پر سوار 12 سالہ بچہ علی حمزہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا، جبکہ اس کا 45 سالہ والد مرتضیٰ شدید زخمی ہو گیا۔

    ریسکیو 1122 اوکاڑہ کے ترجمان کے مطابق، اطلاع ملنے پر فوری طور پر دو ایمبولینسز جائے حادثہ کی طرف روانہ کی گئیں۔ ریسکیو ٹیموں نے زخمی مرتضیٰ کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ہسپتال منتقل کیا، جبکہ بچے کی لاش کو بھی قانونی کارروائی کے لیے ہسپتال پہنچایا گیا۔

    جاں بحق ہونے والے علی حمزہ اور زخمی مرتضیٰ کا تعلق طاہر کلاں، بصیر پور سے بتایا گیا ہے۔ حادثے کے بعد سے گاڑی کا ڈرائیور فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا، اور پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے۔

  • اوکاڑہ:ڈپٹی کمشنر کا عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر تیزی لانے کا حکم

    اوکاڑہ:ڈپٹی کمشنر کا عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر تیزی لانے کا حکم

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ، احمد عثمان جاوید کی زیر صدارت ضلعی انتظامیہ کے افسران کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی ریونیو محمد شجعین وسطرو، ڈپٹی کمشنر فنانس اینڈ پلاننگ چوہدری عبدالجبار گجر، اسسٹنٹ کمشنر اوکاڑا رب نواز، اسسٹنٹ کمشنر ایچ آر نور محمد، ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ شہباز سکھیرا، سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر وسیم جاوید، اور ایس این اے افضال حسین نے شرکت کی۔

    ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے افسران کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب کے گڈ گورننس اقدامات کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ انہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ میدان میں فعال انداز میں کام کریں تاکہ لوگوں کو سہولیات فراہم کی جا سکیں اور ان کے مسائل حل ہو سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں کے علاوہ دیگر سیکٹرز میں بھی انقلابی اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا معیار زندگی بلند ہو سکے۔

    ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ عوامی بہتری کا عمل تسلسل سے جاری رہنا چاہیے اور اس سلسلے میں تمام دستیاب وسائل کا بھرپور استعمال کیا جائے۔

  • اوکاڑہ:شجرکاری مہم،ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اہم قدم

    اوکاڑہ:شجرکاری مہم،ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اہم قدم

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)اوکاڑہ میں ممبر صوبائی اسمبلی ملک علی عباس کھوکر نے اسسٹنٹ کمشنر فیصل ولید کے ساتھ ایک شجرکاری مہم کی تقریب میں شرکت کی۔ اس تقریب کا مقصد ماحولیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنا تھا۔ مختلف سرکاری محکموں کے افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔

    ممبر صوبائی اسمبلی ملک علی عباس کھوکر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ جیسے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے بڑی تعداد میں درخت لگانے ہوں گے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں جنگلات کی شرح بہت کم ہے، جس کی وجہ سے بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہمیں بری طرح متاثر کر رہا ہے۔

    اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر فیصل ولید نے کہا کہ ایک خوبصورت اور خوشگوار ماحول کے لیے شجرکاری انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق جشنِ آزادی کی تقریبات کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس ہدف کے تحت، محکمہ جنگلات اور دیگر محکمے تحصیل بھر میں شجرکاری کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے کے ہر فرد کو اس ماحول دوست مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کو شدید موسمی تبدیلیوں سے بچایا جا سکے۔

  • سیالکوٹ: واسا کو فعال بنانے کے لیے ڈپٹی کمشنر کے زیر صدارت اہم اجلاس، فوری اقدامات کا حکم

    سیالکوٹ: واسا کو فعال بنانے کے لیے ڈپٹی کمشنر کے زیر صدارت اہم اجلاس، فوری اقدامات کا حکم

    سیالکوٹ (بیوروچیف خرم میر)ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی کی زیر صدارت ڈی سی آفس کانفرنس روم میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں واسا، میونسپل کارپوریشن اور پیسپ (PICIIP) کے مقامی حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد واسا سیالکوٹ کو مکمل طور پر فعال کر کے شہریوں کو بلدیاتی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔

    ڈپٹی کمشنر نے واسا حکام کو فوری طور پر دفتر قائم کرنے کی ہدایت دی، جبکہ میونسپل کارپوریشن کو حکم دیا گیا کہ وہ سینی ٹیشن اسٹاف، مشینری اور دیگر اسٹاک جلد از جلد واسا کے حوالے کرے تاکہ ادارہ اپنی ذمہ داریاں باقاعدہ طور پر ادا کر سکے۔

    انہوں نے زور دیا کہ واسا کو ہنگامی بنیادوں پر وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ شہریوں کو صاف پانی، نکاسی آب اور صفائی کی سہولیات میں بہتری دی جا سکے۔ اجلاس میں پیسپ حکام کو زیر تعمیر واٹر سپلائی، سیوریج اور ڈسپوزل اسٹیشنز کے منصوبے جلد مکمل کر کے واسا کے سپرد کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔

    اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ایوب بخاری، ایم ڈی واسا ابوبکر عمران، چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن ملک اعجاز احمد، مینیجر پیسپ علی خان سمیت متعلقہ افسران شریک ہوئے۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام اداروں کو باہمی روابط اور مربوط حکمت عملی کے تحت کام کرنے کی ہدایت دی تاکہ شہریوں کو معیاری بلدیاتی خدمات مہیا کی جا سکیں۔

  • اوکاڑہ: چہلم اور یوم آزادی کے لیے سیکیورٹی اور انتظامات کو حتمی شکل

    اوکاڑہ: چہلم اور یوم آزادی کے لیے سیکیورٹی اور انتظامات کو حتمی شکل

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) اسسٹنٹ کمشنر چوہدری رب نواز کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں چہلم حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور جشن آزادی کی تقریبات کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں محکمہ صحت، تعلیم، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔

    اسسٹنٹ کمشنر چوہدری رب نواز نے بریفنگ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ محرم الحرام کی طرح چہلم حضرت امام حسین کے موقع پر بھی موثر حکمت عملی کے تحت انتظامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عزاداروں کو سہولیات اور سیکیورٹی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ جشن آزادی کی تقریبات کا بھی حتمی پلان تیار کیا جائے۔ انہوں نے تمام متعلقہ محکموں کے افسران پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں مکمل طور پر ادا کریں اور تمام تر تیاریاں وقت پر مکمل کریں۔ اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ ان دونوں اہم مواقع پر امن و امان اور شہریوں کی سہولیات کو یقینی بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔