Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ڈیرہ غازی خان:ستھرا پنجاب پروگرام پر کمشنر اشفاق احمد چوہدری کی زیر صدارت اہم اجلاس

    ڈیرہ غازی خان:ستھرا پنجاب پروگرام پر کمشنر اشفاق احمد چوہدری کی زیر صدارت اہم اجلاس

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹرجواداکبر) کمشنر ڈیرہ غازی خان اشفاق احمد چوہدری کی زیر صدارت "ستھرا پنجاب پروگرام” کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔

    اجلاس میں ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے ڈپٹی کمشنرز اور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے افسران نے شرکت کی اور پروگرام سے متعلق تفصیلی بریفنگ پیش کی۔

    اجلاس میں ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان عثمان خالد، ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ عثمان طاہر جپہ، ڈپٹی کمشنر کوٹ ادو منور عباس بخاری اور ڈپٹی کمشنر راجن پور شفقت اللہ مشتاق سمیت دیگر متعلقہ حکام اور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے نمائندے موجود تھے۔

    اجلاس میں ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت جاری صفائی مہم، ویسٹ کلیکشن، کوڑا کرکٹ کی تلفی اور شہری و دیہی علاقوں میں صفائی ستھرائی کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    کمشنر اشفاق احمد چوہدری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صفائی شہری سہولیات کا بنیادی جزو ہے، اور اس پروگرام کو مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے تمام ضلعی افسران اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے ادا کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام کو صاف ماحول فراہم کرنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ کمشنر کا مزید کہنا تھا کہ ستھرا پنجاب پروگرام وزیراعلیٰ پنجاب کا ایک انقلابی پروگرام ہے جو پنجاب کے شہروں اور دیہاتوں کو خوبصورت بنائے گا۔

    ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے نمائندوں نے اجلاس کو بتایا کہ پروگرام کے تحت تمام شہروں اور قصبوں میں صفائی کے انتظامات بہتر بنائے جا رہے ہیں، کوڑا کرکٹ اٹھانے کے لیے مشینری اور افرادی قوت میں اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ مانیٹرنگ کا نظام بھی مؤثر بنایا گیا ہے۔

    کمشنر نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر صفائی مہم کی نگرانی کریں اور عوامی شکایات کا بروقت ازالہ یقینی بنائیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ شہری آگاہی مہمات چلائی جائیں اور اسکولوں، اسپتالوں اور دیگر عوامی مقامات پر صفائی ٹیمیں خصوصی توجہ دیں۔

    اجلاس میں صفائی کے معیار کو مزید بہتر بنانے، گلی محلوں کی صفائی، ڈمپنگ پوائنٹس کی نشاندہی، اور ویسٹ کلیکشن نظام کی بہتری کے لیے مختلف تجاویز بھی زیر غور آئیں۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ستھرا پنجاب پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ، ویسٹ مینجمنٹ کمپنیاں اور شہریوں کو باہم مل کر کام کرنا ہو گا۔

  • اوکاڑہ: ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کی زیر صدارت اہم اجلاس، عوامی فلاحی اقدامات پر زور

    اوکاڑہ: ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کی زیر صدارت اہم اجلاس، عوامی فلاحی اقدامات پر زور

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ احمد عثمان جاوید کی زیر صدارت ضلعی افسران کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد شعجین وسترو، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل حافظ محمد عمر طیب، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس اینڈ پلاننگ چوہدری عبدالجبار گجر، اسسٹنٹ کمشنر چوہدری رب نواز، ایس ڈی ای او پیرا وسیم جاوید، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ مرغوب حسین ڈوگر اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

    اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے عوامی مفاد عامہ کے مختلف اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی اور ان کی مؤثر انجام دہی کے لیے احکامات جاری کیے۔ ان اقدامات میں "ستھرا پنجاب مہم”، آوارہ کتوں کی تلفی، تجاوزات کے خلاف آپریشن، بازاروں کی خوبصورتی اور پرائس کنٹرول کارروائیاں شامل تھیں۔

    ڈپٹی کمشنر نے زور دیا کہ عوام الناس کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کے لیے مؤثر انداز میں مانیٹرنگ کی جائے اور آوارہ کتوں کی تلفی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ انسداد تجاوزات مہم کے تحت جنرل بس اسٹینڈ میں آپریشن کیا جائے۔

  • پریس کلب ڈسکہ کے عہدیداران کا سپریم کالج ڈسکہ کا دورہ

    پریس کلب ڈسکہ کے عہدیداران کا سپریم کالج ڈسکہ کا دورہ

    ڈسکہ (باغی ٹی وی نامہ نگار ملک عمران)پریس کلب ڈسکہ رجسٹرڈ کے سینئر وائس چیئرمین امین رضا مغل، جنرل سیکرٹری سید رضوان مہدی، اور انفارمیشن سیکرٹری رانا محمد افضل نے ممبران بابر ملک، راشد منہاس، شاہد صدیقی، اور آصف رضا کے ہمراہ سپریم کالج ڈسکہ کا دورہ کیا۔

    کالج پہنچنے پر پرنسپل ثاقب جاوید گورسی نے ڈاکٹر ناصر حسین علوی کے ہمراہ پریس کلب کے وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔ بعد ازاں، پریس کلب کے وفد نے پرنسپل ثاقب گورسی کے ساتھ کالج میں تعلیمی خدمات کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی اور تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر پرنسپل ثاقب جاوید گورسی نے پریس کلب ڈسکہ رجسٹرڈ کے وفد کو یادگاری تحائف سے نوازا۔

    پرنسپل ثاقب جاوید گورسی نے سپریم کالج ڈسکہ میں فراہم کی جانے والی تعلیمی خدمات کے متعلق بتایا۔ دورے کے اختتام پر پریس کلب کے عہدیداران نے پرنسپل کے ہمراہ سپریم کالج کی جدید کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا اور ملک و قوم کی ترقی کے لیے دعائے خیر کی۔

  • سیالکوٹ: ایچ ای سی کی نئی پالیسی کے خلاف نرسنگ طالبات کا احتجاج

    سیالکوٹ: ایچ ای سی کی نئی پالیسی کے خلاف نرسنگ طالبات کا احتجاج

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی ڈویژنل بیوروچیف شاہد ریاض)سیالکوٹ میں گورنمنٹ علامہ اقبال ٹیچنگ میموریل ہسپتال کے گرلز ہاسٹل کے باہر نرسنگ کی طالبات نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی نئی پالیسی کے خلاف بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا۔ طالبات کا مطالبہ ہے کہ ایچ ای سی نے نرسنگ کے پاسنگ مارکس 50 فیصد سے بڑھا کر اچانک 60 فیصد کر دیے ہیں، جس کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    طالبات کا کہنا ہے کہ ایچ ای سی نے یہ پالیسی امتحانات کے بعد راتوں رات تبدیل کی ہے اور اس نئی پالیسی کے تحت فیل ہونے والی طالبات سے دوبارہ امتحانات دینے کا حق بھی چھین لیا گیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ فیل ہونے کی صورت میں ڈراپ آؤٹ کی پالیسی ان کی 13 سالہ تعلیمی محنت کو رائیگاں کر دے گی۔

    ہسپتال کے پرنسپل کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اگر ایچ ای سی کی نئی پالیسی کی کوئی ٹھوس توجیہ (جسٹفیکیشن) موجود ہو گی تو وہ اس پر عمل درآمد کے پابند ہوں گے۔ تاہم، طالبات نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

  • سیالکوٹ:2مطلوب ملزمان پولیس مقابلے میں ہلاک

    سیالکوٹ:2مطلوب ملزمان پولیس مقابلے میں ہلاک

    سیالکوٹ (شاہد ریاض ڈویژنل بیوروچیف)سیالکوٹ میں پولیس کے ساتھ دو الگ الگ مقابلوں میں قتل، اقدامِ قتل اور بھتہ خوری سمیت متعدد جرائم میں مطلوب دو ملزمان ہلاک ہو گئے۔

    پہلا واقعہ صدر سرکل کے تھانہ کوٹلی سید امیر کی حدود میں موضع شادیوال کے قریب ایک پولیس مقابلے میں قتل، اقدامِ قتل اور بھتہ خوری میں ملوث ملزم راحت عرف مودا ہلاک ہو گیا۔ راحت مودا اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ موٹرسائیکل پر سوار تھا کہ اس کا سی سی ڈی ٹیم سے آمنا سامنا ہو گیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں ملزم راحت مودا اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزم راحت مودا کے خلاف مختلف نوعیت کے 42 مقدمات درج تھے۔

    دوسرا واقعہ ڈسکہ کے قریب پیش آیا جہاں پولیس حراست سے فرار ہونے والے ملزم احسن مون عرف مون انجلیک کا سی سی ڈی سے آمنا سامنا ہوا۔ ملزمان نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر براہ راست فائرنگ شروع کر دی۔ تقریباً بیس منٹ تک جاری رہنے والے فائرنگ کے تبادلے کے بعد ملزم احسن مون اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے شدید زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔ تاہم، ہسپتال منتقل کرنے سے قبل ہی وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

  • 1958سے آج تک، پاکستانی عوام پر برستا قہر

    1958سے آج تک، پاکستانی عوام پر برستا قہر

    1958سے آج تک،پاکستانی عوام پر برستا قہر
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    پاکستانی عوام پر برستے اس قہر کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی؟ آئیے، آج تاریخ کے اوراق پلٹ کر اس کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہ ظلم کے خلاف ایک ایسی فریاد ہے جو دہائیوں پر محیط ہے۔ یہ اس درد کی داستان ہے جو ہر پاکستانی کے دل میں گھر کر چکا ہے، جب وہ مہنگائی، کرپشن، بے روزگاری، قرضوں، اور طاقتور اشرافیہ کے مظالم تلے دب کر زندگی گزارنے پر مجبور رہا۔ یہ اس قوم کے خون نچوڑنے والے نظام کے خلاف ایک احتجاجی نوحہ ہے۔ یہ سطریں عوام کے لیے ہیں، ان کی چیخوں، ان کے دکھوں اور ان کی بے بسی کی نمائندگی کرتی ہیں۔

    جب ایک ماں بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست نہ کر پائے، جب ایک باپ بجلی کا بل دیکھ کر دل تھام لے، جب ایک نوجوان روزگار کی تلاش میں مایوس ہو جائے تو سوال اٹھتا ہے کہ عوام سے جینے کا حق کس نے چھینا؟ مہنگائی، بیروزگاری، بدعنوانی اور ریاستی نااہلی نے عوام کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے جہاں جینا ایک بوجھ بن چکا ہے۔ آٹا، چینی، دال، سبزی اورسب کچھ عام انسان کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک شہری کی تحریر نے یہ درد یوں بیان کیاکہ "تنخواہ وہی، بل دوگنے، زندگی جہنم بن چکی ہے!”جس کا جواب واضح ہےکہ وہ اشرافیہ جو اس ملک کی دولت کو اپنی مٹھی میں قید کیے بیٹھی ہے ،ان میں سیاستدان، جرنیل، سرمایہ دار، جاگیردار ودیگرشامل ہیں جو عوام کے خون سے اپنی سلطنتیں قائم کرچکے ہیں۔

    آئی ایم ایف سے لیے گئے اربوں ڈالر کے قرضے بظاہر معیشت کو سہارا دینے کے لیے ہوتے ہیں مگر اصل فائدہ کس کو پہنچتا ہے؟ کیا یہ پیسہ عوام کے بچوں کی تعلیم پر خرچ ہوا؟ کیا اس سے ہسپتالوں میں ادویات آئیں؟ کیا روزگار کے مواقع پیدا ہوئے؟ نہیں! یہ قرضے صرف اشرافیہ کے بینک اکاؤنٹس میں پہنچتے ہیں اور ان کی عیاشیوں کا ایندھن بنتے ہیں۔ معروف معیشت دان ڈاکٹر شاہدہ وزارت نے ڈی ڈبلیو کو انٹرویو میں واضح کیا کہ آئی ایم ایف کی شرائط نے پاکستانی عوام پر مہنگائی کا بم گرایا، مگر اصل مجرم وہ حکمران ہیں جو ان رقوم کو عوام کی فلاح کے بجائے اپنی جائیدادیں بنانے پر لگاتے ہیں۔ آج گھی ،کوکنگ آئل،بجلی اور پٹرول کی قیمتوں نے عوام کی زندگی مفلوج کر دی ہے۔ قرضے عوام نے نہیں کھائے مگر ان کی قیمت عوام ہی چکا رہے ہیں۔

    کرپشن وہ ناسور ہے جس نے اس قوم کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ گندم سکینڈل، شوگر مافیا، جعلی انوائسز، پانامہ لیکس وغیرہ یہ سب وہ زخم ہیں جو حکمران طبقے نے عوام کے اعتماد پر لگائے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے مطابق صرف گزشتہ برس 873 ارب روپے کی جعلی انوائسز پکڑی گئیں۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں ہیں بلکہ یہ اس قوم کا خون ہے جو چوسا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملک کی 30 شوگر ملز میں سے 9 شریف خاندان، 5 زرداری خاندان اور باقی ان کے اتحادیوں کے قبضے میں ہیں۔ یہ وہی طبقہ ہے جو اقتدار میں آکر قومی خزانے کو اپنے خاندانی کاروبار میں بدل دیتا ہے۔ اور جب کوئی سوال اٹھاتا ہے تو جواب آتا ہے کہ "یہ سب سیاست ہے!”

    یہ کہانی نئی نہیں ہے بلکہ اس کی جڑیں ایوب خان کے دور (1958-1969) سے جڑی ہوئی ہیں، جب محض 22 خاندانوں کو ملکی معیشت کا کنٹرول دیا گیا۔آدم جی، سیہگل، حبیب، داؤد، ولیکہ، منو، فینسی،نشاط اور کریسنٹ جیسے خاندان یہ وہ خاندان تھے جنہیں ریاستی سرپرستی میں زمینیں، صنعتیں اور وسائل دیے گئے۔ گوہر ایوب، جو ایوب خان کے بیٹے تھے نے اپنے سسر جنرل (ر) حبیب اللہ خٹک کے ساتھ مل کر یونیورسل انشورنس اور گندھارا انڈسٹریز جیسی کمپنیوں کو پروان چڑھایا۔ گوہر ایوب کی سیاسی و کاروباری سرگرمیوں نے ریاستی وسائل کو خاندانی مفاد کے لیے استعمال کرنے کی راہ ہموار کی۔ بی بی سی کے مطابق اس دور کی پالیسیوں نے سرمایہ دارانہ اشرافیہ کو اتنی طاقت دی کہ آج تک وہ طبقہ مضبوط تر ہوتا جا رہا ہے۔

    یہ 22 خاندان آج 42 ہو چکے ہیں اور بعض تجزیہ کار اس تعداد کو اس سے بھی زیادہ بتاتے ہیں۔ اگرچہ درست اعداد و شمار کی تصدیق مشکل ہے، لیکن یہ حقیقت اب واضح ہو چکی ہے کہ اشرافیہ کے طبقات مسلسل پھیلتے جا رہے ہیں۔ شریف، زرداری، ترین، چوہدری اور دیگر خاندان ملکی معیشت، سیاست، زراعت، رئیل اسٹیٹ اور صنعت پر قابض ہو چکے ہیں۔ شوگر ملز، سیمنٹ، میڈیا ہاؤسز، بینکس ودیگر سب پر ان ہی کا راج ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ریاستی مشینری تحفظ دیتی ہےاور قانون ان کے دروازے پر دستک دینے سے گھبراتا ہے۔ گوہر ایوب کی سرپرستی میں ایوب خان نے معیشت کو چند خاندانوں کے حوالے کیا، جنہوں نے نجکاری کے نام پر قومی ادارے خریدے اور پھر سیاست میں آ کر ان اداروں کو اپنی جاگیر سمجھا۔ بی بی سی کی رپورٹس کے مطابق گوہر ایوب نے اپنے والد کے اقتدار سے خوب فائدہ اٹھایا اور اپنی اولاد کو بھی اسی ڈگر پر لگایا۔ ان کے بیٹے عمر ایوب آج بھی پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے سیاسی میدان میں متحرک ہیں۔ یہ نسل در نسل اقتدار اور دولت کے سوداگر ہیں جو پاکستانی عوام کی تقدیر کے فیصلے اپنے محلات میں بیٹھ کر کرتے ہیں۔

    کیا یہ ظلم کبھی ختم ہوگا؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر پاکستانی کے دل میں گونجتا ہے۔ جب تک اشرافیہ سے اقتدار اور دولت کا ارتکاز ختم نہیں ہوتا، جب تک قانون سب کے لیے یکساں نہیں ہوتا، جب تک عوام کو ان کا جائز حق نہیں ملتا، تب تک یہ قہر جاری رہے گا۔ جب تک عوام سیاسی شعبدہ بازی اور شخصیت پرستی سے باہر نہیں نکلیں گے، باشعور نہیں ہوں گے، سوال نہیں پوچھیں گے، احتساب نہیں کریں گے، تب تک یہی چند خاندان اس ملک کی سانسوں پر قابض رہیں گے۔ لیکن تبدیلی کی کنجی عوام کے ہاتھ میں ہے۔ انہیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اس ظلم کو سہتے رہیں گے یا اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔

  • سرکاری ہسپتال کے باتھ روم میں خواتین کی نازیبا ویڈیوز بنانے والا پولیس اہلکار رنگے ہاتھوں گرفتار

    سرکاری ہسپتال کے باتھ روم میں خواتین کی نازیبا ویڈیوز بنانے والا پولیس اہلکار رنگے ہاتھوں گرفتار

    گوجرخان (باغی ٹی وی رپورٹ) تحصیل گوجرخان کے سول ہسپتال میں ایک انتہائی شرمناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں پولیس کا ایک اہلکار خواتین کے باتھ روم میں نازیبا ویڈیوز اور تصاویر بناتا ہوا رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا۔ واقعہ نے نہ صرف ہسپتال انتظامیہ بلکہ سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اُس وقت سامنے آیا جب ایک شہری بلال حسین نے ہسپتال کے باتھ روم اور دیگر مقامات پر ایک مشکوک شخص کو خواتین کی ویڈیوز بناتے دیکھا۔ شہری نے شک کی بنیاد پر فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ شخص کو قابو میں لے لیا اور اس کا موبائل فون چیک کیا، جس میں متعدد خواتین کی نازیبا تصاویر اور ویڈیوز موجود تھیں۔ ملزم کو موبائل سمیت فوری طور پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

    پولیس نے مقدمہ بلال حسین کی مدعیت میں درج کر لیا ہے، جس نے اپنی شکایت میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ علاج کے لیے سول ہسپتال گوجرخان آیا تھا جہاں اس نے ایک شخص کو خواتین کے باتھ روم کے قریب مشکوک انداز میں گھومتے دیکھا۔ شک ہونے پر جب اس سے باز پرس کی گئی تو اس کے موبائل فون سے خواتین کی نازیبا ویڈیوز اور تصاویر برآمد ہوئیں، جو بظاہر ہسپتال کے باتھ روم اور دیگر مقامات پر خفیہ طور پر بنائی گئی تھیں۔

    پولیس نے ملزم کی شناخت عقیل عباس کے نام سے کی ہے، جو راجگان کا رہائشی اور پولیس ٹریننگ ونگ لاہور سے وابستہ بتایا جا رہا ہے۔ حیرت انگیز طور پر ملزم اہلکار سادہ کپڑوں میں ملبوس تھا تاکہ کسی کو شک نہ ہو اور وہ بآسانی خواتین کے قریب جا سکے۔

    گوجرخان پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے عقیل عباس کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 354 (خواتین کی عزت پر حملہ) اور 292 (فحش مواد کی تیاری و اشاعت) کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مقدمے کے اندراج کے بعد ملزم سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

    ایس پی صدر نبیل کھوکھر نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرفتار اہلکار کا تعلق پولیس ٹریننگ ونگ لاہور سے ہے اور اس واقعے کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے گھناونے فعل میں ملوث کسی بھی شخص کو قطعاً معاف نہیں کیا جائے گا اور ملزم کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے گی تاکہ آئندہ کوئی اہلکار وردی کے وقار کو داغدار نہ کر سکے۔

    ادھر شہری حلقوں، سماجی تنظیموں اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان نے واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس محکمے میں ایسے عناصر کی سختی سے چھان بین کی جائے اور اسپتالوں سمیت عوامی مقامات پر سیکیورٹی کو بہتر بنایا جائے تاکہ خواتین محفوظ رہ سکیں۔

    یہ واقعہ نہ صرف پولیس کے نظامِ احتساب کے لیے لمحہ فکریہ ہے بلکہ معاشرے میں خواتین کے تحفظ پر جاری مباحثے کو مزید شدت دے گیا ہے۔ عوامی مطالبہ ہے کہ ایسے واقعات میں ملوث مجرموں کو نہ صرف نشانِ عبرت بنایا جائے بلکہ ادارہ جاتی اصلاحات بھی فوری نافذ کی جائیں۔

  • گھوٹکی: ٹک ٹاکرسمیرا راجپوت کی پر اسرار موت، زہر دیے جانے کا الزام، دو افراد گرفتار

    گھوٹکی: ٹک ٹاکرسمیرا راجپوت کی پر اسرار موت، زہر دیے جانے کا الزام، دو افراد گرفتار

    میرپورماتھیلو(باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق لغاری) ضلع گھوٹکی کے نواحی علاقے میں ظلم اور سفاکی کا لرزہ خیز واقعہ پیش آیا ہے، جہاں معروف ٹک ٹاکر مسمات سمیرا راجپوت دختر محمد شریف راجپوت کی لاش اس کے گھر سے ملی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق سمیرا کو مبینہ طور پر زہریلی گولیاں دے کر قتل کیا گیا اور اس کی لاش گھر میں اس انداز سے پھینکی گئی تاکہ موت کو قدرتی موت ظاہر کیا جا سکے۔

    ڈی ایس پی انور شیخ کے مطابق مقتولہ کی 15 سالہ بیٹی نے اپنے بیان میں بتایا کہ چند افراد اس پر زبردستی شادی کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے اور اسی دباؤ کے باعث اس کی والدہ سمیرا کو زہر دے کر قتل کیا گیا۔ بیٹی نے واقعے کے فوراً بعد ایمبولینس کے ذریعے لاش کو اپنی خالہ کے گھر منتقل کیا اور پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ پر پہنچی اور لاش کو اپنی تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا۔

    ذرائع کے مطابق سمیرا راجپوت طویل عرصے سے گھریلو تنازعات اور سسرالی رشتہ داروں کی جانب سے ہراسانی کا شکار تھی۔ مقتولہ کی بیٹی کے بیانات اور ابتدائی شواہد کی بنیاد پر پولیس کو شبہ ہے کہ یہ ایک باقاعدہ سازش کے تحت کیا گیا قتل ہو سکتا ہے۔ پولیس نے شک کی بنیاد پر دو افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

    ایم ایس سول اسپتال ڈاکٹر سرونند کے مطابق ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں تشدد کے کوئی شواہد نہیں ملے، تاہم لاش سے حاصل کیے گئے نمونے لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ آنے کے بعد موت کی اصل وجہ سامنے آئے گی۔ دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ تاحال مقدمہ درج نہیں کیا گیا اور تفتیش جاری ہے۔

  • میں خود معاشرہ ہوں

    میں خود معاشرہ ہوں

    "میں خود معاشرہ ہوں،مگر میں اپنی برائی چھپا کر دوسروں کی نشاندہی کرتا ہوں”
    تحریر:ملک ظفراقبال بھوہڑ
    آج ہم اپنے معاشرے کے وہ خدوخال آپ کے ذوقِ مطالعہ کے لئے رکھیں جو یقیناً آپ کو بھی اچھے لگیں گے مگر عملاً کچھ نہیں ہوگا کیونکہ یہ انسانی فطرت ہے کہ ہم دوسروں پر تنقید کرتے ہیں مگر اپنے گریبان میں جھانکنے سے گریزاں ہیں ۔جی ہاں یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہر شخص کو اپنا چہرہ دیکھنا چاہیے۔ معاشرتی اصلاح کی راہ اسی وقت کھلتی ہے جب انسان اپنی ذات کا محاسبہ کرے، بجائے اس کے کہ ہر وقت دوسروں پر انگلی اٹھائے۔
    میں خود معاشرہ ہوں، مگر میں اپنی برائی چھپا کر دوسروں کی نشاندہی کرتا ہوں مگر ہمیں ضرورت کس چیز ہے۔

    خود احتسابی کی ضرورت . جواصلاح کی پہلی شرط
    ہم اکثر کہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ بگڑ گیا ہے، لوگ برے ہو گئے ہیں، ایمانداری ختم ہو گئی ہے، اور اخلاقیات ناپید ہو چکی ہیں۔ لیکن یہ "معاشرہ” کون ہے؟ یہ لوگ کون ہیں؟ اگر ہم غور کریں تو جواب واضح ہے — "یہ معاشرہ میں خود ہوں، آپ خود ہیں، ہم سب ہیں۔”
    مگر سچ یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ دوسروں کی برائیوں پر تو تنقید کرتے ہیں، مگر جب اپنی باری آتی ہے، تو ہم یا تو خاموش ہو جاتے ہیں یا دفاع میں آ جاتے ہیں۔ ہم دوسروں کے جھوٹ، فریب، کرپشن، ریاکاری اور بدتمیزی پر تو چیختے ہیں، مگر اپنے جھوٹ، چغل خوری، حسد، بغض اور خود غرضی کو "چالاکی” یا "مجبوری” کا نام دے دیتے ہیں۔
    اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خود احتسابی کیا ہے
    اسلام نے فرد کو معاشرے کی اصلاح کا پہلا قدم قرار دیا۔ قرآن و حدیث میں بارہا "نفس کا محاسبہ” کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

    قرآن:
    "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ…”
    (سورۃ المائدہ: 105)
    ترجمہ: "اے ایمان والو! اپنی ذات کی فکر کرو…”
    حضرت عمر بن خطابؓ کا قول:
    "اپنا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے…”

    حدیث نبوی ﷺ:
    "مومن اپنی خطاؤں پر نگاہ رکھتا ہے، اور منافق دوسروں کی برائیاں تلاش کرتا ہے۔”
    دوسروں کی نشاندہی، اپنی برائی سے فرار ہے
    ہم دوسروں کو نصیحت کرنے کے شوقین ضرور ہیں، مگر خود عمل سے محروم ہیں
    ہم کہتے ہیں لوگ جھوٹ بولتے ہیں،
    مگر خود سچ چھپاتے ہیں۔
    ہم کہتے ہیں لوگ بدعنوان ہیں،
    مگر خود سفارش اور رشوت کو "ترجیحات میں شامل کرتے ہیں
    ہم کہتے ہیں قوم تباہ ہو رہی ہے،
    مگر خود وقت، بجلی، پانی، وسائل ضائع کرتے ہیں۔
    ہم کہتے ہیں: نوجوان بگڑ گئے ہیں،
    مگر ان کے سامنے ہم نے کون سی اچھی مثال قائم کی؟
    اصلاح کا آغاز خود سے تو معاشرے میں مثبت تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں

    اگر ہر فرد یہ سوچ لے کہ:
    مجھے سچ بولنا ہے، چاہے نقصان ہو
    مجھے اپنا وعدہ نبھانا ہے، چاہے مشکل ہو
    مجھے اپنے اندر کی کینہ پروری اور خود غرضی کو ختم کرنا ہے
    مجھے تنقید سے پہلے اپنا کردار درست کرنا ہے
    تو صرف ایک شخص کی اصلاح نہیں ہوگی، بلکہ ایک نیا معاشرہ جنم لے گا۔
    آئیں چند عملی قدم خود کو بدلنے کے لیے استعمال کرتے ہیں

    روزانہ اپنا محاسبہ کریں:
    آج میں نے کیا غلط کام کیا؟ کسی کا دل تو نہیں دکھایا؟ کوئی وعدہ توڑ تو نہیں دیا؟
    تنقید سے پہلے خود پر نظر ڈالیں۔
    جو بات میں دوسروں کو کہہ رہا ہوں، کیا وہ مجھ پر بھی لاگو ہوتی ہے؟
    سوشل میڈیا پر دوسروں کو نہیں، خود کو درست کریں:
    کسی پر تنقیدی پوسٹ لگانے سے پہلے سوچیں کہ میں خود کہاں کھڑا ہوں؟
    اپنے بچوں، شاگردوں یا کارکنوں کے سامنے اپنی اصلاحی مثال بنیں۔

    معافی مانگنا سیکھیں:
    اپنی غلطی تسلیم کرنا کمزوری نہیں، بلکہ انسانیت کی معراج ہے۔
    ہم سب چاہتے ہیں کہ معاشرہ بہتر ہو، لوگ نیک ہوں، جھوٹ، فریب، کرپشن ختم ہو۔
    لیکن اگر ہم خود کو تبدیل نہیں کرتے، اور صرف دوسروں کی کمزوریوں کو نشانہ بناتے ہیں، تو یہ رویہ معاشرتی بگاڑ کو اور بڑھائے گا۔
    یاد رکھیں،
    "معاشرہ وہ نہیں جو ہم تنقید سے بدلیں، بلکہ وہ ہے جو ہم کردار سے سنواریں۔”

    لہٰذا، آئیں آج سے عہد کریں:
    "میں خود معاشرہ ہوں، اور تبدیلی کا آغاز میں خود سے کروں گا!”
    امید ہے آپ کو آج کا موضوع پسند آیا ہوگا اور تبدیلی بھی انشاء اللہ

  • اوکاڑہ: بابا فرید شوگر مل میں 12,600 میٹرک ٹن چینی کا سٹاک موجود،کیا ہوپائے گی شوگرمافیا کے خلاف کارروائی

    اوکاڑہ: بابا فرید شوگر مل میں 12,600 میٹرک ٹن چینی کا سٹاک موجود،کیا ہوپائے گی شوگرمافیا کے خلاف کارروائی

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد شوجین وسٹرو نے اسسٹنٹ کمشنر چوہدری رب نواز کے ہمراہ بابا فرید شوگر مل کا دورہ کیا اور چینی کے سٹاک کی دستیابی کا جائزہ لیا۔ مل انتظامیہ کے مطابق اس وقت 12,600 میٹرک ٹن چینی کا ذخیرہ موجود ہے اور کسی قسم کی قلت کا سامنا نہیں۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ عوام کے لیے وافر مقدار میں چینی موجود ہے، تاہم ذخیرہ اندوزی اور اوور چارجنگ کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔

    انہوں نے واضح کیا کہ حکومت پنجاب کی ہدایت کے مطابق چینی کی مصنوعی قلت پیدا کرنے یا بلیک مارکیٹنگ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ایسے عناصر کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے اور ان کے چینی کے ذخائر ضبط کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے مہنگائی کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔