Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اوکاڑہ: بہادر نگر ادارہ افزائش حیوانات کا معائنہ، لائیو اسٹاک منصوبوں پر بریفنگ

    اوکاڑہ: بہادر نگر ادارہ افزائش حیوانات کا معائنہ، لائیو اسٹاک منصوبوں پر بریفنگ

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)چیئرپرسن وزیراعلیٰ پنجاب ڈائریکٹوریٹ آف انسپکشن و مانیٹرنگ بریگیڈیئر (ر) بابر علاؤالدین نے ادارہ تحقیقات افزائش حیوانات بہادر نگر کا دورہ کیا اور مویشیوں کی افزائش نسل کے حوالے سے جاری منصوبہ جات و سہولیات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر چوہدری رب نواز، ڈائریکٹر لائیو اسٹاک ڈاکٹر مقصود اختر، میجر نوید اسلم اور اسٹاف آفیسر عبدالجبار بھٹی سمیت دیگر افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔

    دورے کے دوران ڈائریکٹر لائیو اسٹاک نے ادارے میں جاری تحقیقی سرگرمیوں، جانوروں کی افزائش نسل کے جدید سائنسی طریقہ کار، ادویات، بہتر چارہ (فوڈر)، اور گوشت و دودھ کی پیداوار بڑھانے سے متعلق فراہم کی جانے والی سہولیات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    بریگیڈیئر (ر) بابر علاؤالدین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صوبے میں لائیو اسٹاک سیکٹر کی ترقی کے لیے انقلابی اور مثالی اقدامات کر رہی ہیں، جن کے ثمرات نچلی سطح تک پہنچائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ افزائش حیوانات بہادر نگر جدید تحقیق، اختراعات اور فیلڈ لیول پر اطلاق کے حوالے سے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

    چیئرپرسن نے ہدایت کی کہ تحقیقاتی عمل، آپریشنل کارکردگی، اور وسائل کے شفاف استعمال کو جاری رکھتے ہوئے ادارے کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ مویشی پال کسان براہِ راست مستفید ہو سکیں۔

  • ننکانہ:پی ایف یو جے کی گولڈن جوبلی پر اتحاد کی اپیل، صحافی برادری سے مشترکہ تقریبات منانے کا مطالبہ

    ننکانہ:پی ایف یو جے کی گولڈن جوبلی پر اتحاد کی اپیل، صحافی برادری سے مشترکہ تقریبات منانے کا مطالبہ

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (ورکرز) کے صدر شمیم شاہد اور سیکرٹری جنرل راجہ ریاض نے پی ایف یو جے کی گولڈن جوبلی کے موقع پر ملک بھر کی صحافی برادری اور تنظیم کے مختلف دھڑوں سے اپیل کی ہے کہ وہ باہمی اختلافات ختم کر کے اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کریں، اور تاریخی تقریب کو مشترکہ طور پر منانے کے لیے متحد ہو جائیں۔

    شمیم شاہد اور راجہ ریاض نے یاد دہانی کرائی کہ اگست 1950 میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی بنیاد رکھی گئی، جو کارکن صحافیوں کی عالمی سطح پر پہلی نمائندہ تنظیم تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس عظیم تنظیم کی تاریخ اور بانیوں کی قربانیوں کو صرف یاد رکھنا کافی نہیں بلکہ ان کے مشن کو جاری رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

    دونوں راہنماؤں نے کہا کہ آج جب دنیا بھر میں صحافت کو مالی بحران، سنسرشپ اور بیروزگاری جیسے سنگین چیلنجز درپیش ہیں، تو ایسے حالات میں پی ایف یو جے کے تمام دھڑوں کو اتحاد کی طرف واپس آنا ہوگا تاکہ صحافیوں کے حقوق کی مؤثر نمائندگی ممکن ہو۔

    انہوں نے ظفر اللہ چوہدری، منہاج برنا، نثار عثمانی، احفاظ الرحمن اور دیگر بانی رہنماؤں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جدوجہد نے پی ایف یو جے کو ایک نظریاتی تحریک کی حیثیت دی، جسے 1977 کے مارشل لاء کے بعد ریاستی مداخلت نے نقصان پہنچایا، تاہم 1989 میں مرحوم رحیم اللہ یوسفزئی کی کوششوں سے تنظیم دوبارہ فعال ہوئی، لیکن 2013 میں ایک بار پھر اختلافات کے باعث تنظیم تقسیم کا شکار ہو گئی، اور اب اس کے چھ سے زائد دھڑے بن چکے ہیں۔

    شمیم شاہد اور راجہ ریاض نے تجویز دی کہ مظہر عباس اور خورشید عباسی کی قیادت میں ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے، جس میں تمام صوبوں اور دھڑوں کی نمائندگی ہو۔ یہ کمیٹی نہ صرف اتحاد کی بحالی پر کام کرے بلکہ پی ایف یو جے کی گولڈن جوبلی تقریبات کو ملک بھر میں باوقار انداز سے منظم کرے۔

    انہوں نے حکومت، جمہوری جماعتوں خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سے اپیل کی کہ وہ صحافی برادری کے اتحاد کے لیے مثبت کردار ادا کریں۔ ساتھ ہی انسانی حقوق کی تنظیموں، آئین و قانون پر یقین رکھنے والے دانشوروں اور تمام کارکن صحافیوں سے بھی درخواست کی کہ وہ اس قومی جدوجہد میں شامل ہو کر پی ایف یو جے کو دوبارہ ایک متحد، مؤثر اور پرجوش آواز میں تبدیل کرنے میں کردار ادا کریں۔

  • واربرٹن: ڈوبنے سے بچاؤ کے عالمی دن پر پولیس اور ریسکیو 1122 کی جانب سے آگاہی سیشنز کا انعقاد

    واربرٹن: ڈوبنے سے بچاؤ کے عالمی دن پر پولیس اور ریسکیو 1122 کی جانب سے آگاہی سیشنز کا انعقاد

    واربرٹن (باغی ٹی وی، رپورٹر عبدالغفار چوہدری)عالمی دن برائے ڈوبنے سے بچاؤ کے موقع پر واربرٹن پولیس اور ریسکیو 1122 کی مشترکہ کاوش سے حالیہ طوفانی بارشوں سے زیر آب آنے والے نواحی دیہات میراں پور اور ملوک میں آگاہی سیشنز منعقد کیے گئے۔ یہ سیشنز ڈی پی او ننکانہ صاحب سید ندیم عباس کی خصوصی ہدایت پر منعقد ہوئے جن میں مقامی آبادی، خصوصاً بچوں اور والدین کو ڈوبنے سے بچاؤ کی اہم تدابیر سے آگاہ کیا گیا۔

    ایس ایچ او تھانہ واربرٹن مجاہد عباس ملہی اور ریسکیو سیفٹی آفیسر علی عمران اعوان نے آگاہی سیشنز کی سربراہی کی اور شہریوں کو گہرے پانی، تالابوں، نہروں اور کھلے پانی کے ذخائر کے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر بتائیں۔ شہریوں کو خصوصی طور پر یہ ہدایت دی گئی کہ:

    * بچوں کو کبھی بھی پانی کے قریب تنہا نہ چھوڑا جائے
    * تیرنا سیکھنا اور سکھانا ضروری ہے
    * لائف جیکٹس اور لائف رنگز کا درست استعمال سیکھا جائے
    * کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں فوری طور پر 15 پر اطلاع دی جائے

    ریسکیو 1122 کے تربیتی عملے نے موقع پر لائف جیکٹس پہننے، لائف رنگ استعمال کرنے اور تیز پانی سے گزرنے کے محفوظ طریقے بھی سکھائے۔

    شرکاء نے پولیس اور ریسکیو اہلکاروں کی کاوش کو سراہا اور یہ عہد کیا کہ وہ خود بھی ان احتیاطی تدابیر پر عمل کریں گے اور دوسروں کو بھی اس بارے میں آگاہ کریں گے۔

    ڈی پی او سید ندیم عباس کا کہنا تھا کہ ڈوبنے کے واقعات کو "خاموش قاتل” کہا جاتا ہے جو ہر سال ہزاروں زندگیاں نگل لیتے ہیں، جن میں بچوں کی تعداد نمایاں ہے۔ ننکانہ پولیس عوامی تحفظ کے مشن میں ہمہ وقت مستعد ہے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرتی رہے گی۔

  • ڈیرہ غازی خان: ریونیو واجبات کی سو فیصد ریکوری کا ہدف، نادہندگان کے خلاف سخت اقدامات کا حکم

    ڈیرہ غازی خان: ریونیو واجبات کی سو فیصد ریکوری کا ہدف، نادہندگان کے خلاف سخت اقدامات کا حکم

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی ،سٹی رپورٹرجواد اکبر)ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان خالد کی زیر صدارت ریونیو معاملات سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو عثمان بخاری، اسسٹنٹ کمشنرز اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

    اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو عثمان بخاری نے سرکاری واجبات کی وصولی، نادہندگان کی فہرست اور زیر التوا کیسز سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری واجبات کی 100 فیصد وصولی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ تمام ریونیو افسران فیلڈ میں نکل کر ریکوری کے عمل کو تیز کریں اور نادہندگان کے خلاف قانونی اختیارات کا مؤثر استعمال کیا جائے، جن میں جائیداد کی قرقی جیسے اقدامات بھی شامل ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ زیر التوا جوڈیشل انکوائریوں اور انضباطی کارروائیوں کو فوری طور پر نمٹایا جائے اور کسی قسم کی غفلت یا سستی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام ریونیو افسران کو متنبہ کیا کہ فرائض میں عدم دلچسپی یا کارکردگی میں کمی پر سخت کارروائی کی جائے گی اور ان کی انفرادی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا۔

    اجلاس میں موجود افسران نے یقین دہانی کروائی کہ جاری ہدایات پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ سرکاری محصولات کی وصولی کو مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے۔

  • سیالکوٹ: سانحہ ڈسٹرکٹ جیل کی 22ویں برسی پر دعائیہ تقریب، شہید ججز کو خراجِ عقیدت

    سیالکوٹ: سانحہ ڈسٹرکٹ جیل کی 22ویں برسی پر دعائیہ تقریب، شہید ججز کو خراجِ عقیدت

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی،بیورورپورٹ+ سٹی رپورٹر )سانحہ ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ کی 22ویں برسی کے موقع پر ضلعی عدلیہ سیالکوٹ میں ایک پُراثر دعائیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ندیم طاہر سید نے کی۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سینئر سول ججز، سول ججز اور سیکرٹری ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن افضال اسلم بھی موجود تھے۔

    تقریب کا آغاز یادگار شہداء پر پھول چڑھانے اور شہید ججز کے لیے مغفرت کی اجتماعی دعا سے ہوا۔ پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہداء کو سلامی پیش کر کے ان کی عظیم قربانی کو سلام پیش کیا۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ندیم طاہر سید نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 25 جولائی 2003 کا دن عدلیہ کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا، جب چار معزز جج صاحبان نے ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ کے معائنہ کے دوران دورانِ ڈیوٹی جام شہادت نوش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان جج صاحبان کی قربانی عدلیہ کی آزادی، سچائی کی سربلندی اور نظامِ عدل کے تحفظ کی ایک روشن مثال ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ شہداء ججز کا صبر و استقامت اور فرض شناسی آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے اور عدلیہ و بار ایسوسی ایشن ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ تقریب میں شریک تمام ججز اور وکلاء نے بھی شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے دعائیں کیں اور ان کی عظمت کو سلام پیش کیا۔

  • تنگوانی: نوجوانوں کو ملازمت کا جھانسہ دے کر اغوا اور قتل کرنے والا درندہ صفت ڈاکو پولیس مقابلے میں ہلاک

    تنگوانی: نوجوانوں کو ملازمت کا جھانسہ دے کر اغوا اور قتل کرنے والا درندہ صفت ڈاکو پولیس مقابلے میں ہلاک

    تنگوانی (باغی ٹی وی نامہ نگار منصور بلوچ)پنجاب اور ملک کے دیگر شہروں سے نوجوانوں کو ملازمت کا جھانسہ دے کر اغوا، جنسی تشدد اور بیدردی سے قتل کرنے والا سفاک سیریل کلر اور بدنام زمانہ ڈاکو جیکب آباد پولیس کے مبینہ مقابلے میں مارا گیا۔ ہلاک ملزم کی شناخت نصیر عرف سلیم عرف ٹوڈو ولد تگھیو قوم ملک سکنہ گاؤں حضور بخش ملک تنگوانی ضلع کندھکوٹ کے نام سے ہوئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کے تھانہ سی سیکشن ٹھل کی حدود ماو واہ کے قریب پولیس اور جرائم پیشہ عناصر کے درمیان مقابلہ ہوا۔ فائرنگ کے تبادلے کے بعد نصیر عرف ٹوڈو ہلاک ہو گیا جبکہ پولیس نے اسلحہ برآمد کر لیا۔ ایس ایس پی جیکب آباد محمد کلیم ملک کے مطابق ہلاک ملزم انتہائی خطرناک اور درندہ صفت مجرم تھا، جو پنجاب، سندھ اور دیگر علاقوں سے نوجوانوں کو نوکری کے بہانے اغوا کرتا، جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا اور مزاحمت پر گلا کاٹ کر قتل کر دیتا تھا۔

    پولیس ترجمان کے مطابق ہلاک ملزم نے حالیہ واردات میں 17 جولائی 2025 کو ملتان سے تعلق رکھنے والے نوجوان وحید احمد شیخ کو اغوا کے بعد گلا کاٹ کر قتل کیا جبکہ محمد سلیمان نامی نوجوان کو شدید زخمی کیا۔ اس سے قبل بھی ملزم کئی وارداتوں میں ملوث رہا ہے، جس میں درج ذیل مقدمات شامل ہیں:

    1. ایف آئی آر نمبر 170/2025 تعزیرات پاکستان 365، تھانہ جمشید کوارٹر، ضلع ایسٹ کراچی
    2. ایف آئی آر نمبر 07/2020، غیر قانونی اسلحہ، تھانہ سٹی، جیکب آباد
    3. ایف آئی آر نمبر 34/2024، قتل، تھانہ غلام سرور سرکی، کشمور
    4. ایف آئی آر نمبر 124/2025، قتل و اقدام قتل، تھانہ اے سیکشن ٹھل، جیکب آباد

    ایس ایس پی کلیم ملک نے اس کامیاب کارروائی کو جیکب آباد پولیس کی بڑی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملزم جیسے درندہ صفت عناصر کا انجام صرف قانون کی گرفت میں آنا ہے۔ ہلاک ملزم کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے تعلقہ اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ترجمان جیکب آباد پولیس کے مطابق تفتیش جاری ہے اور دیگر مغویوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ پولیس کی اس کارروائی کو علاقے میں سراہا جا رہا ہے۔

  • سیالکوٹ :پولیس کا شہریوں کو انصاف کی فراہمی کا عزم

    سیالکوٹ :پولیس کا شہریوں کو انصاف کی فراہمی کا عزم

    سیالکوٹ (بیورو چیف خرم میر): سیالکوٹ پولیس نے شہریوں کو ان کی دہلیز پر انصاف فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) سیالکوٹ فیصل شہزاد نے کھلی کچہری میں شہریوں کے مسائل سنے اور ان کے فوری حل کے لیے احکامات جاری کیے۔

    ڈی پی او فیصل شہزاد نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ویژن کے مطابق شہریوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جرائم پیشہ افراد کا خاتمہ ان کی اولین ترجیح ہے، اور اس مقصد کے لیے عوام کا تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ سیالکوٹ کے رہائشیوں کے تعاون سے شہر کو ایک مثالی شہر بنایا جائے گا۔

    کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے ڈی پی او نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے پولیس ہمہ وقت کوشاں ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ پولیس کے ساتھ تعاون کریں تاکہ جرائم پر قابو پایا جا سکے اور سیالکوٹ کو پرامن شہر بنایا جا سکے۔

  • ننکانہ: وزیراعلیٰ کا دورہ، سلگتے عوامی مسائل سے پردہ پوشی، اصلی صحافیوں کو دور رکھا گیا

    ننکانہ: وزیراعلیٰ کا دورہ، سلگتے عوامی مسائل سے پردہ پوشی، اصلی صحافیوں کو دور رکھا گیا

    ننکانہ صاحب سےباغی ٹی وی کے نامہ نگار احسان اللہ ایاز کی رپورٹ؛وزیراعلیٰ پنجاب کے دورے کی چمک دمک کے پیچھے چھپی بدحالی، صحافیوں کو دور رکھا گیا، عوامی مسائل پر پردہ ڈالنے کی کوشش؟

    وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کے حالیہ دورۂ ننکانہ صاحب کو بظاہر ایک عوام دوست اور ترقیاتی سرگرمیوں سے بھرپور واقعہ کے طور پر پیش کیا گیا، لیکن اس دورے کے پیچھے کئی ایسے حقائق چھپے رہے جنہوں نے نہ صرف مقامی صحافیوں کو مایوس کیا بلکہ بے بس عوام کو بھی بے چینی میں مبتلا کر دیا۔

    صحافیوں کو وزیراعلیٰ سے دور رکھا گیا، سوالات کرنے کا موقع نہ دیا گیا اور میڈیا کو سچ تک رسائی سے محروم کر کے محض سرکاری کیمروں کی آنکھ سے چمکتا چہرہ دکھایا گیا۔ ضلعی انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی مکمل ناکامی نے صورتحال کو مزید مشکوک بنا دیا۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ کے گزرنے والے علاقوں کی گلیاں جنہیں چند گھنٹوں کے لیے چمکا دیا گیا، درحقیقت کئی ہفتوں سے گندے پانی، تعفن اور بلدیاتی بے حسی کا شکار ہیں۔ قائم مقام چیف آفیسر میونسپل کمیٹی راؤ انوار عوامی شکایات کا مرکز بن چکے ہیں مگر ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔

    ڈی ایچ کیو ہسپتال جس کا وزیراعلیٰ نے دورہ کیا، اس دن یورپی معیار کا بنا دیا گیا۔ صفائی، اخلاق، دوائیاں، سب کچھ ایک دن کے لیے دستیاب تھے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ سب ممکن تھا تو روز کیوں نہیں؟ کیا وزیراعلیٰ کو دکھانے کے لیے سب کچھ محض ایک سرکاری اسٹیج شو تھا؟

    صحافیوں کو تمام دن مختلف مقامات پر دھکے کھانے پڑے، کبھی واربرٹن، کبھی ڈی ایچ کیو، کبھی ڈپٹی کمشنر آفس، لیکن نہ کوئی بریفنگ ملی، نہ کوئی واضح شیڈول۔ ضلعی تعلقات عامہ کا عملہ مکمل طور پر غائب رہا، کوآرڈینیشن نہ ہونے کے باعث صحافیوں کو شدید تضحیک کا سامنا کرنا پڑا۔

    یہ سب سوالات صرف صحافیوں کے لیے نہیں، عوام کے لیے بھی ہیں۔ اگر گندگی، بدبو، سیوریج اور استحصال کی حقیقت چھپائی جا رہی ہے تو کب تک؟ کیا ننکانہ کی عوام کو حق حاصل نہیں کہ ان کے مسائل براہِ راست اعلیٰ قیادت تک پہنچیں؟ کب مسیحا آئے گا جو ننکانہ کی سسکتی عوام کو سنے گا؟ کیا صحافی صرف تصویریں کھینچنے اور تعریفی خبریں چھاپنے کے لیے ہوتے ہیں یا ان کے سوالات کا بھی کوئی وزن ہے؟

    یہ تحریر صرف رپورٹنگ نہیں، ایک احتجاج ہے – عوام کی بے بسی، صحافت کی تذلیل اور سرکاری سچائیوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوششوں کے خلاف۔ ننکانہ کی عوام سوال کر رہی ہے:
    "کب مسیحا آئے گا؟”

  • عوام کے اور کتنے امتحان باقی ہیں؟

    عوام کے اور کتنے امتحان باقی ہیں؟

    عوام کے اور کتنے امتحان باقی ہیں؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    چینی اسکینڈل کے دھوئیں سے ابھی فضاء صاف نہیں ہوئی تھی کہ خوردنی تیل کے نرخوں کی آگ نے ایک اور معاشی سانحے کا دروازہ کھول دیا۔ عالمی منڈی میں پام آئل کی قیمتیں 24 فیصد تک کم ہوئیں لیکن پاکستان میں اس کے برعکس کوکنگ آئل 4.5 فیصد مہنگا کر دیا گیا۔ صارفین فی لیٹر 150 روپے اضافی ادا کرنے پر مجبور ہو گئے اور اس کا فائدہ ان عوام دشمن مافیاز کو ہوا جو ہر بحران کو اپنی تجوریاں بھرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ آخر یہ منافع خور کون ہیں؟ ان پر ہاتھ ڈالنے سے حکومتی ادارے کیوں گھبراتے ہیں؟ اور اگر ریاستی مشینری بے بس ہے تو کیا عوام کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے؟

    وزیر اعظم شہباز شریف نے رواں برس فروری میں عوام کو ریلیف دینے کے بلند بانگ دعوے کیےلیکن اپریل اور مئی میں بناسپتی مینوفیکچررز سے ہونے والے اجلاسوں کے باوجود قیمتیں کم نہ ہو سکیں۔ کیا یہ ریلیف محض سیاسی دعوے تھے یا پھر پسِ پردہ مفادات نے ہر کوشش کو ناکام بنا دیا؟ عوام آج بھی انتظار میں ہے کہ حکومت مہنگائی کے سیلاب کے آگے کوئی بند باندھے گی، مگر اس سیلاب کے ساتھ اگر ریاست خود بہتی نظر آئے تو عوام جائے تو کہاں جائے؟

    ادھر آڈیٹر جنرل کی رپورٹ نے بجلی کے صارفین پر ایک اور بجلی گرائی ہے۔ 8 بجلی کی تقسیم کار کمپنیاںجن میں آئیسکو، لیسکو، میپکو، پیسکو، کیسکو، سیپکو، حیسکو، اور ٹیسکو ہیں جو 244 ارب روپے کی اوور بلنگ میں ملوث پائی گئیں۔ صرف ایک ماہ میں 2 لاکھ 78 ہزار صارفین کو 47 ارب روپے کے اضافی بل بھیجے گئے اور ملوث افسران کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہو سکی۔

    کیسکو نے زرعی صارفین کو 148 ارب روپے سے زائد کی اوور بلنگ کی، فیڈرز پر 18 ارب روپے کے جعلی بل ڈالے گئے، آڈٹ کے لیے ریکارڈ مانگا گیا تو کمپنیوں نے تعاون سے گریز کیا۔ آخر یہ کون سے بااثر لوگ ہیں جو قانون اور انصاف سے بالا تر ہیں؟

    اب ایک اور تلخ حقیقت کی جانب توجہ درکار ہے کہ ہر سال جب بارشیں اور سیلاب آتے ہیں تو غریبوں کے گھر، مویشی، فصلیں اور زندگی کی ساری جمع پونجی بہا لے جاتے ہیں۔ کبھی کوہِ سلیمان کے پہاڑوں سے آنے والا سیلاب ہوتا ہے تو کبھی دریائے سندھ کا پانی اپنے کنارے توڑ دیتا ہے، لیکن کیا آپ نے کبھی سنا کہ کسی حکمران کے محل میں پانی داخل ہوا ہو؟ ان کے خاندان کا کوئی فرد سیلاب میں بےگھر ہوا ہو؟ یا ان کے بچے کسی ریلیف کیمپ میں فاقے سے بیٹھے ہوں؟

    قدرتی آفات ہوں یا دہشت گردی، طوفان ہوں یا زلزلے، ہر آفت کا شکار ہمیشہ عام آدمی ہی کیوں ہوتا ہے؟ آخر یہ کیسی ریاست ہے جہاں حکمران تو ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں اور عوام ہر مصیبت کا ہدف بنتے ہیں؟ کیا یہ سچ نہیں کہ حکمرانوں نے اپنے محلوں کے گرد حفاظتی بند باندھ رکھے ہیں؟ کیا ان کی طاقتور گاڑیاں، محافظ، بیرونِ ملک اکاؤنٹس اور ایلیٹ کلاس رابطے انہیں ان آفات سے بچا لیتے ہیں جو عوام کے لیے قیامت بن کر آتی ہیں؟

    تو پھر سوال یہ ہے کہ اگر اقتدار میں بیٹھے لوگ ان اسکینڈلز، اوور بلنگ، مہنگائی، قدرتی آفات اور دہشت گردی سے متاثر نہیں ہوتے تو کیا وہ عوام کے درد کو محسوس بھی کر سکتے ہیں؟ اور اگر محسوس نہیں کرتے تو پھر ان سے بہتری کی امید رکھنا محض فریب نہیں تو اور کیا ہے؟

    اب وقت آ گیا ہے کہ عوام حکمرانوں سے سوال کرے کہ ان اسکینڈلز میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کب ہوگی؟. عوام کو ریلیف دینا کس کی ذمہ داری ہے؟. کیا ان بااثر مجرموں کے کھرے ایوانِ اقتدار میں جا کر گم ہو جاتے ہیں؟. اگر حکمران واقعی ان اسکینڈلز میں ملوث نہیں تو پھر کارروائی کیوں نہیں ہو پاتی؟. اور سب سے اہم سوال کہ عوام کے اور کتنے امتحان باقی ہیں؟

    دہشت گردی، پیٹرولیم مصنوعات کی مہنگائی، بجلی کے بلوں کی "سلیب گردی” اور ہر طرف معاشی استحصال کا بازار گرم ہے۔ عوام آخر کب تک خاموش رہے گی؟ کیا یہ قوم قربانی کے بکرے بننے کے لیے بنی ہے؟

    اب عوام کے لیے فیصلہ کن وقت آن پہنچا ہے یا تو وہ خاموش رہ کر مزید تباہی کے لیے تیار ہو جائیں یا پھر اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔ کیونکہ اب سوال یہ نہیں کہ کب ریلیف ملے گا بلکہ یہ ہے کہ کیا ریاست واقعی عوام کی ہے یا صرف چند خاندانوں کی جاگیر؟

    کیونکہ اگر ریاست صرف امیروں کو بچانے کا نام ہے، تو غریبوں کے لیے اس ریاست کا کیا مطلب باقی رہ جاتا ہے؟

  • راجن پور: کوہ سلیمان میں بارش، برساتی نالوں میں طغیانی، دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند

    راجن پور: کوہ سلیمان میں بارش، برساتی نالوں میں طغیانی، دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند

    راجن پور (باغی ٹی وی)کوہ سلیمان کے پہاڑی علاقوں میں حالیہ بارشوں کے باعث ندی نالوں میں شدید طغیانی آگئی ہے۔ فلڈ کنٹرول روم کی رپورٹ کے مطابق برساتی نالہ کاہا سلطان سے 29 ہزار 340 کیوسک، نالہ چھاچھڑ سے 6 ہزار 113 کیوسک، اور نالہ کالا بگا سے 2 ہزار 573 کیوسک کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے، جس سے نشیبی علاقوں میں سیلابی خطرات بڑھ گئے ہیں۔

    فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جہاں کوٹ مٹھن کے مقام پر 3 لاکھ 42 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے۔ دریائے سندھ میں کالاباغ، چشمہ، اور ناح بیراج کے مقامات پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ تربیلا، تونسہ، گڈو، اور سکھر بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے۔

    ادھر دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور ہیڈ قادرآباد کے مقامات پر بھی نچلے درجے کا سیلاب جاری ہے۔ متعلقہ حکام کے مطابق ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر دریاؤں کے کناروں پر آباد افراد اور ان کے مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ کئی دیہات کی فصلیں شدید کٹاؤ کے باعث دریاؤں کی نذر ہو گئی ہیں۔

    فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کا مزید کہنا ہے کہ دریائے راوی، جہلم اور ستلج میں اس وقت پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے، تاہم محکمہ موسمیات اور متعلقہ ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور شہریوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔