Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اوچ بخاری میں گندہ پانی، جھکے کھمبے، کھنڈر گلیاں اور سکول تباہ، عوام وزیر اعلیٰ کی مدد کے منتظر

    اوچ بخاری میں گندہ پانی، جھکے کھمبے، کھنڈر گلیاں اور سکول تباہ، عوام وزیر اعلیٰ کی مدد کے منتظر

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف کے نواحی علاقے اوچ بخاری میں گورنمنٹ مڈل سکول کے گرد و نواح انسانی رہائش کے قابل نہیں رہے۔ علاقے میں سیوریج نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے، کھلے مین ہولز، گلیوں میں گندا پانی، جھکے ہوئے بجلی کے کھمبے، اور شکستہ گلیاں علاقے کے مکینوں کی زندگی کو جہنم بنا چکی ہیں۔

    علاقہ مکینوں کے مطابق بدترین بدانتظامی، سرکاری غفلت اور بااثر وڈیروں کے دباؤ نے اس بستی کو موت کے منہ میں دھکیل دیا ہے۔ گندا پانی، تعفن، مچھر، ڈینگی، ہیضہ اور دیگر وبائی امراض سر اٹھا چکے ہیں، جبکہ کئی بچے اور بزرگ کھلے گٹروں میں گر کر زخمی ہو چکے ہیں۔

    بجلی کے جھکے کھمبے سکول اور گھروں پر گرنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ گلیوں کی حالت اتنی خراب ہو چکی ہے کہ آمدورفت ممکن نہیں رہی۔ گورنمنٹ مڈل سکول اوچ بخاری، جو کبھی علم کا مرکز تھا، اب متروک ہو چکا ہے، جہاں تعلیمی سرگرمیاں معدوم ہو چکی ہیں۔ والدین بچوں کو سکول بھیجنے سے گریزاں ہیں، جس سے تعلیمی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔

    علاقہ مکینوں نے بتایا کہ گزشتہ پانچ سالوں سے درخواستیں، احتجاج اور گزارشات کرتے چلے آ رہے ہیں، لیکن منتخب نمائندے اور سرکاری ادارے صرف تسلیاں دے رہے ہیں۔ خوف، جھوٹے مقدمات اور وڈیروں کی دھمکیوں نے ان کی آواز دبائی رکھی ہے۔

    مکینوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکریٹری پنجاب، سیکریٹری بلدیات، اور واسا حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر سیوریج سسٹم کی بحالی کی جائے،جھکے بجلی کے کھمبے درست کیے جائیں،گلیوں کی ازسر نو تعمیر کی جائے،مڈل سکول اوچ بخاری کی عمارت کو قابل استعمال بنایا جائے

    مقامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر فوری نوٹس نہ لیا گیا تو اوچ بخاری کسی بڑے انسانی المیے کا شکار ہو سکتا ہے۔ عوام اب خاموش نہیں بیٹھیں گے، ان کا صبر جواب دے چکا ہے۔

  • ڈیرہ غازیخان: میٹرک 2025 کے نتائج کا اعلان، ڈی پی ایس لیہ کی ہانیہ محمود کی پہلی پوزیشن

    ڈیرہ غازیخان: میٹرک 2025 کے نتائج کا اعلان، ڈی پی ایس لیہ کی ہانیہ محمود کی پہلی پوزیشن

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی، نیوز رپورٹر شاہد خان)بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیرہ غازیخان کے زیر اہتمام میٹرک امتحانات 2025 کے نتائج کا اعلان کمشنر ڈیرہ غازی خان و چیئرمین بورڈ اشفاق احمد چوہدری نے کر دیا۔ اس سال مجموعی طور پر 91,180 طلباء و طالبات نے امتحانات میں شرکت کی، جن میں سے 81.35 فیصد امیدوار کامیاب قرار پائے۔

    سائنس گروپ (طالبات):
    ڈی پی ایس گرلز لیہ کی ہانیہ محمود نے 1187 نمبر لے کر بورڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ وژن گرلز سکول لیہ کی انشا احمد 1186 نمبرز کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہیں۔ تیسری پوزیشن 1184 نمبرز حاصل کرنے والی تین طالبات نے مشترکہ طور پر حاصل کی جن میں دی راوین گرلز ہائی سکول راجن پور کی زارش فاطمہ، سنٹر آف ایکسی لینس مظفرگڑھ کی زینب شوکت اور گورنمنٹ گرلز ہائی سکول نمبر 1 ڈی جی خان کی لائبہ رضا شامل ہیں۔

    سائنس گروپ (طلباء):
    سنٹر آف ایکسی لینس ڈی جی خان کے نعمان وارث نے 1184 نمبرز لے کر پہلی پوزیشن حاصل کی، مظفرگڑھ کے امیر عبداللہ نے 1183 نمبرز کے ساتھ دوسرا جبکہ ڈی جی خان کے عبداللہ عثمان اور مظفرگڑھ کے محمد اسد نے 1181 نمبرز کے ساتھ تیسری پوزیشن شیئر کی۔

    جنرل گروپ (طلباء):
    کوٹ ادو سے محمد فہیم نے 1077 نمبرز حاصل کر کے پہلی، مظفر گڑھ سے محمد مزمل نے 1054 نمبرز کے ساتھ دوسری اور روجھان سے محمد شیراز نے 1051 نمبرز لے کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔

    جنرل گروپ (طالبات):
    مظفر گڑھ کی قراۃ العین اور لیہ کی لائبہ فیاض نے 1087 نمبرز حاصل کر کے پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کی جبکہ ڈی جی خان سے زہرا فاطمہ 1076 نمبرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہیں۔

    چیئرمین بورڈ اشفاق احمد چوہدری نے تمام پوزیشن ہولڈرز، ان کے والدین، اساتذہ اور اداروں کو شاندار کامیابی پر مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ یہ طلباء مستقبل میں بھی ملک و قوم کا نام روشن کریں گے۔

  • میرپورخاص: ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے خاتون جاں بحق، ورثاء کا ہسپتال پر حملہ، شہر کی ٹریفک مفلوج

    میرپورخاص: ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے خاتون جاں بحق، ورثاء کا ہسپتال پر حملہ، شہر کی ٹریفک مفلوج

    میرپورخاص (باغی ٹی وی، نامہ نگار سید شاہزیب شاہ) نجی علی میڈیکل سینٹر میں 40 سالہ صفیہ پنہور ایک معمولی رسولی (گلٹی) کے آپریشن کے دوران مبینہ طور پر ڈاکٹروں اور عملے کی غفلت سے جاں بحق ہو گئی۔ لواحقین کے مطابق خاتون کا آپریشن مکمل ہونے کے بعد بلڈ پریشر اچانک گر گیا، لیکن اس نازک وقت میں نہ کوئی ڈاکٹر موجود تھا اور نہ ہی تربیت یافتہ عملہ، جس کے باعث مریضہ نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔

    واقعے پر لواحقین اور پنہور برادری مشتعل ہو گئے، جنہوں نے پہلے ہسپتال کے اندر لاش رکھ کر احتجاج کیا اور بعد ازاں توڑ پھوڑ شروع کر دی۔ بعد میں لاش کو ایمبولینس میں رکھ کر پریس کلب کے سامنے پوسٹ آفس چوک پر سڑک بلاک کر دی گئی، جس کے نتیجے میں شہر کی مرکزی شاہراہوں پر ٹریفک مفلوج ہو گئی۔

    ورثاء اور مظاہرین نے علی میڈیکل سینٹر کی انتظامیہ، ڈاکٹر گلشن خواجہ اور مالک مجید میمن پر قتلِ عمد (دفعہ 302) کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ لاکھ روپے وصول کرنے کے باوجود ہسپتال نے صفیہ پنہور کو ایمرجنسی میں تنہا چھوڑ دیا اور واقعے کے وقت نہ ڈاکٹر گلشن موجود تھیں نہ ہی دیگر طبی عملہ۔ مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر فوری کارروائی نہ ہوئی تو احتجاج کا دائرہ کار سندھ بھر میں پھیل جائے گا۔

    لواحقین نے یہ بھی الزام لگایا کہ ڈاکٹر گلشن خواجہ ماضی میں بھی خواتین کی ہلاکتوں کی ذمہ دار رہی ہیں لیکن ہر بار انتظامیہ نے معاملہ دبایا۔ سول ہسپتال میں صفیہ کی لاش کا پوسٹ مارٹم تین رکنی میڈیکل بورڈ کے ذریعے کروایا جا رہا ہے تاکہ موت کی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے۔

    برادری کا کہنا ہے کہ علی میڈیکل سینٹر کی انتظامیہ نے غفلت کو چھپانے کی کوشش کی اور اسے صرف ایک "میڈیکل پیچیدگی” قرار دے کر بری الذمہ ہونے کی کوشش کی، حالانکہ یہ واضح انسانی غفلت ہے جس پر قانونی و اخلاقی طور پر سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

  • ڈسکہ: پرائس کنٹرول و صفائی پر اے سی سعدیہ جعفر کی انجمن تاجران سے میٹنگ

    ڈسکہ: پرائس کنٹرول و صفائی پر اے سی سعدیہ جعفر کی انجمن تاجران سے میٹنگ

    ڈسکہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک عمران)اسسٹنٹ کمشنر سعدیہ جعفر کی زیر صدارت مرکزی انجمن تاجران ڈسکہ کے نمائندہ وفد کے ساتھ اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں پرائس کنٹرول، تجاوزات کے خاتمے اور شہر بھر میں صفائی ستھرائی کے انتظامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس میٹنگ میں چیئرمین مرکزی انجمن تاجران محمد افضل منشاء، صدر میاں محمد اشرف، جنرل سیکرٹری شہزاد انجم گوشی بٹ سمیت تمام بازاروں کے صدور نے شرکت کی۔

    اسسٹنٹ کمشنر نے تاجروں کو شہر میں جاری حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ شہری سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے بازاروں کی صفائی اور ناجائز تجاوزات کے خاتمے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ تاجر نمائندوں نے حکومتی پالیسیوں کو سراہتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

  • اوکاڑہ: چوہدری ریاض الحق جج کی ہدایت پر طبروق روڈ کی عارضی مرمت

    اوکاڑہ: چوہدری ریاض الحق جج کی ہدایت پر طبروق روڈ کی عارضی مرمت

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)حلقہ این اے 136 کے عوام کی سہولت کے لیے رکن قومی اسمبلی چوہدری ریاض الحق جج کی خصوصی ہدایت پر طبروق روڈ کی مرمت کا عمل فوری طور پر شروع کر دیا گیا۔ حالیہ بارشوں کے باعث روڈ کے دونوں اطراف میں بننے والے گڑھوں اور خستہ حال راستوں کو مٹی ڈال کر عارضی طور پر قابلِ استعمال بنا دیا گیا، تاکہ عوام کو روزمرہ سفر میں درپیش مشکلات سے نجات دلائی جا سکے۔

    اس کام کی نگرانی معروف سماجی کارکن ملک خالد یعقوب نے خود موقع پر موجود رہ کر کی۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اقدام چوہدری ریاض الحق جج کی قیادت میں عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چوہدری ریاض الحق جج ایک ہمہ وقت متحرک اور عوام دوست رہنما ہیں، جو دن رات اپنے حلقے کے مسائل کے حل کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔

    ملک خالد یعقوب نے کہا کہ یہ صرف ایک ابتدائی قدم ہے، اور ان شاء اللہ حلقے کے تمام بنیادی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔ انہوں نے چوہدری ریاض الحق جج کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت ہی دراصل خدمت، اخلاص اور ترقی کی اصل پہچان ہے، جو حلقے کے ہر فرد کے دل میں گھر کیے ہوئے ہے۔

    یہ اقدام نہ صرف چوہدری ریاض الحق جج کی عوامی خدمت کے جذبے کا مظہر ہے بلکہ حلقے میں ترقیاتی کاموں کے تسلسل کی بھی علامت ہے، جس کا مقصد شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا اور ان کے مسائل کا فوری حل یقینی بنانا ہے۔

  • وزیراعلیٰ مریم نواز کا ننکانہ صاحب کا دورہ، سیلاب متاثرین میں امداد، ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ

    وزیراعلیٰ مریم نواز کا ننکانہ صاحب کا دورہ، سیلاب متاثرین میں امداد، ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ

    واربرٹن (نامہ نگارعبدالغفار چوہدری)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ننکانہ صاحب کے سیلاب سے متاثرہ دیہی اور شہری علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا جو ڈھائی گھنٹے سے زائد جاری رہا۔ اس دورے کا مقصد نہ صرف سیلابی صورتحال کا جائزہ لینا تھا بلکہ مقامی عوام سے براہ راست ملاقات کر کے ان کے مسائل سننا اور فوری اقدامات کا اعلان کرنا بھی تھا۔

    وزیراعلیٰ نے واربرٹن کے نواحی علاقوں میراں پور اور ڈفر کھوکھراں میں متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی، جہاں انہوں نے پی ڈی ایم اے کی جانب سے امدادی سامان کی تقسیم کا آغاز کیا۔ سیلابی ریلوں سے متاثرہ گھروں اور زرعی اراضی کا خود معائنہ کیا اور اعلان کیا کہ کچے گھروں کے مکینوں کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی، جب کہ متاثرہ فصلوں اور لائیوسٹاک کے نقصان کا ازالہ بھی کیا جائے گا۔

    میراں پور میں بزرگ خواتین نے وزیراعلیٰ کے مثالی گاؤں اسکیم کے اعلان پر دعا دی، جبکہ مریم نواز نے تمام خواتین سے فرداً فرداً ملاقات کی، ان سے ہاتھ ملایا اور کہا: "تہانوں ملن آئی آں، تے گلاں وی کرن نیاں نے”۔ ان کا یہ جملہ عوامی محبت کا مرکز بن گیا۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز نے دھولار چوک، جنم استھان گردوارہ چوک، ڈی پی ایس چوک، بیری چوک، چونگی چوک، ریلوے روڈ، پیرا حمد شاہ روڈ اور مانانوالہ پھاٹک سمیت اہم مقامات کا دورہ کیا۔ اس دوران عوام کی بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا، بچے ان کے گرد جمع ہو گئے، جنہیں انہوں نے سویٹس کے تحائف بھی دیے اور شفقت کا مظاہرہ کیا۔

    وزیراعلیٰ نے ننکانہ صاحب میں سیلابی ریلوں سے نمٹنے کے لیے دو فلڈ ڈرین بنانے کا اعلان کیا، شہر کی بیوٹی فکیشن کے لیے فنڈز کے فوری اجراء کی ہدایت دی اور دو ہفتوں میں جامع پلان طلب کیا۔ اس کے علاوہ شہر کے داخلی راستوں اور مرکزی سڑکوں کے کناروں پر شولڈر تعمیر کرنے، روڈز کی بہتری اور گرین بیلٹس کی خوبصورتی کے لیے بھی فوری اقدامات کی ہدایت دی۔

    وزیراعلیٰ نے ننکانہ صاحب کو ماڈل سٹی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ضلع میں کلینک آن وہیلز کی تعداد بڑھانے، الیکٹرک بسوں کی فراہمی میں اضافے اور سکولوں کے سامنے زیبرا کراسنگ اور سائن بورڈز یقینی بنانے کی بھی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے روٹی کے نرخ کنٹرول میں کوتاہی پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ کسی بھی غفلت پر متعلقہ حکام ذمہ دار ہوں گے۔

    بعد ازاں ڈپٹی کمشنر آفس میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں وزیرمملکت موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر شذرہ منصب علی کھرل، چوہدری برجیس طاہر، اراکین اسمبلی، کمشنر لاہور زید بن مقصود، ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر اور دیگر ضلعی افسران شریک ہوئے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ:

    ندی نالوں اور نہروں کے اوورفلو سے 1525 ایکڑ رقبہ زیر آب آیا،22 دیہات متاثر ہوئے،20 ہزار سے زائد تجاوزات ختم کی گئیں،1194 خصوصی افراد کو ہمت کارڈز جاری کیے گئے،اپنی چھت اپنا گھر منصوبے کے تحت 788 قرضے جاری اور 400 گھر زیر تعمیر ہیں،سبسڈی پر 176 گرین ٹریکٹرز دیے گئے، جب کہ 20 مفت فراہم کیے گئے،267 لائیو اسٹاک، 1715 اقلیتی کارڈز اور 242 زرعی ٹیوب ویل سولر سکیم میں شامل کیے گئے،وزیراعلیٰ نے ان تمام منصوبوں کو مزید وسعت دینے اور اہلیت کی بنیاد پر مستحقین کی تعداد بڑھانے کی ہدایت دی۔

    مریم نواز نے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی کنٹرول سنٹر اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں دریائے راوی کی ممکنہ سیلابی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ ہسپتال میں ایمرجنسی، زنانہ وارڈ اور دیگر شعبہ جات کا معائنہ کیا، مریضوں اور لواحقین سے سہولیات پر بات چیت کی اور فوری مسائل کے حل کی ہدایت جاری کی۔

    مریم نواز نے کہا کہ”عوام کی خدمت میری ذمہ داری ہے، مہربانی نہیں۔ ماضی میں پنجاب کے ساتھ جو سلوک ہوا، وہ دیکھ کر دل کڑھتا ہے۔ میں مسائل کے حل کے لیے بے چینی محسوس کرتی ہوں، لیکن ہم سب مل کر اس صوبے کو آگے لے کر جائیں گے۔”

    دورے کے اختتام پر وزیراعلیٰ موٹروے کے ذریعے واپس لاہور روانہ ہو گئیں۔

  • اوکاڑہ:ACکا شہر میں صفائی و نکاسی کا جائزہ، ستھرا پنجاب مہم تیز کرنے کی ہدایت

    اوکاڑہ:ACکا شہر میں صفائی و نکاسی کا جائزہ، ستھرا پنجاب مہم تیز کرنے کی ہدایت

    اوکاڑہ (نامہ نگار: ملک ظفر)اسسٹنٹ کمشنر چوہدری رب نواز نے شہر بھر میں صفائی ستھرائی، نکاسی آب اور دیگر بلدیاتی امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے عیدگاہ روڈ، تحصیل روڈ اور جناح روڈ کا دورہ کرتے ہوئے نالیوں کی صفائی اور بارش کے پانی کے بروقت انخلاء کے لیے احکامات جاری کیے۔

    اسسٹنٹ کمشنر نے صدر بازار، گول چوک اور کچہری بازار میں صفائی کے انتظامات اور نکاسی کے عمل کا بھی مشاہدہ کیا اور عملے کو ہدایت کی کہ شہری علاقوں میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ستھرا پنجاب مہم کے تحت انہوں نے پوسٹ آفس سے ملحقہ سڑکوں کی صفائی کے لیے ٹیموں کو متحرک کرنے کا حکم دیا، جبکہ پوسٹ آفس انتظامیہ کو ویسٹ مینجمنٹ بہتر بنانے اور کچرا دان نصب کرنے کی ہدایات بھی دیں۔

    دیپالپور روڈ پر نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے، جی ٹی روڈ، پبلک پارکس اور روڈز پر واقع گرین بیلٹس کی باقاعدہ صفائی اور خوبصورتی یقینی بنانے کے بھی احکامات جاری کیے گئے۔

    اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر چوہدری رب نواز نے کہا کہ عوام کو صاف ستھرا اور صحت مند ماحول فراہم کرنا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، اور اس مقصد کے لیے تشکیل دی گئی ٹیمیں عوامی خدمت کے جذبے سے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔

  • اوکاڑہ: فیصل آباد اور چرچ روڈ پر تجاوزات کے خلاف کارروائی، متعدد دکانیں سیل

    اوکاڑہ: فیصل آباد اور چرچ روڈ پر تجاوزات کے خلاف کارروائی، متعدد دکانیں سیل

    اوکاڑہ (نامہ نگار، ملک ظفر)ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کی ہدایت پر سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر وسیم جاوید نے شہر میں تجاوزات کے خلاف بھرپور کارروائیاں کیں۔ فیصل آباد روڈ اور چرچ روڈ پر عارضی تجاوزات قائم کرنے والی متعدد دکانوں کو سیل کر دیا گیا جبکہ دکانوں کے سامنے رکھا گیا تجاوزات کا سامان بھی قبضے میں لے لیا گیا۔

    اس موقع پر سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر وسیم جاوید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پنجاب کی ہدایات کے مطابق شہر بھر میں تجاوزات کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے دکانداروں کو خبردار کیا کہ وہ اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور عوامی راہداری میں رکاوٹ ڈالنے سے گریز کریں، ورنہ ان کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ عارضی تجاوزات نہ صرف ٹریفک کی روانی میں خلل ڈالتی ہیں بلکہ شہریوں کے لیے بھی مشکلات کا باعث بنتی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ تجاوزات کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے اور کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

  • ہمارا تعلیمی نظام اور معیارِ زندگی

    ہمارا تعلیمی نظام اور معیارِ زندگی

    ہمارا تعلیمی نظام اور معیارِ زندگی
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    پاکستان کا نظامِ تعلیم آج بھی بنیادی ضروریات اور جدید تقاضوں سے کوسوں دور ہے۔ صورتِ حال یہ ہے کہ اگر کوئی نوجوان بی ایس ٹیکسٹائل یا سافٹ ویئر انجینئرنگ کر بھی لے تو وہ عملی میدان میں مؤثر کارکردگی نہیں دکھا پاتا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں تعلیم کا معیار صرف ڈگری کے حصول تک محدود ہو چکا ہے۔ تعلیمی منصوبہ سازوں اور ذمہ داران کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ ہم نئی نسل کو کیسی تعلیم دے رہے ہیں۔

    پاکستان کا تعلیمی نظام طویل عرصے سے تنقید کی زد میں ہے۔ اس نظام نے نسلوں کو نہ صرف فکری طور پر الجھایا ہے بلکہ عملی زندگی میں بھی ناکامی کا سامنا کروایا ہے۔ ایک طالبعلم اگرچہ میٹرک، انٹر، بی اے، ایم اے، ایم فل یا پی ایچ ڈی جیسی اعلیٰ اسناد حاصل کر لے، حتیٰ کہ سافٹ ویئر یا ٹیکسٹائل انجینئرنگ جیسے فنی شعبوں میں مہارت بھی رکھتا ہو، تب بھی وہ خوداعتمادی، پیشہ ورانہ قابلیت اور فکری پختگی کے بحران کا شکار نظر آتا ہے۔

    یہ نظام اب بھی نوآبادیاتی دور کی باقیات کو ڈھوتا آ رہا ہے۔ آج بھی بیشتر سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں رٹا سسٹم رائج ہے، جو بچوں کی ذہنی نشوونما کو محدود کرتا ہے۔ نہ تنقیدی سوچ کو فروغ دیا جاتا ہے، نہ تخلیقی صلاحیتوں کی آبیاری کی جاتی ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے محض اسناد تقسیم کرنے کے مراکز بن چکے ہیں۔ مضمون فہمی، عملی تربیت اور تحقیق کی افادیت کہیں نظر نہیں آتی کیونکہ تعلیم اب ایک منافع بخش کاروبار میں تبدیل ہو چکی ہے اور تعلیمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

    ہمارا نصابِ تعلیم عملی زندگی سے کٹا ہوا ہے۔ جو کچھ طلبہ کو پڑھایا جاتا ہے، وہ زندگی کے حقائق سے یکسر مختلف ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جب ایک نوجوان ڈگری لے کر عملی دنیا میں قدم رکھتا ہے تو نہ اس کے پاس مطلوبہ مہارت ہوتی ہے، نہ زبان پر عبور اور نہ ہی کسی شعبے کی جامع فہم۔ وہ صرف ایک ڈگری کا لفافہ تھامے ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ لاکھوں پڑھے لکھے نوجوان بیروزگاروں کی فوج میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

    جب تعلیم روزگار کی ضمانت نہ ہو، جب اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان مایوسی اور فرسٹریشن کا شکار ہوں، جب تعلیمی ادارے صرف ڈگری ہاؤسز بن جائیں تو معاشرے میں معیارِ زندگی کی بہتری کیسے ممکن ہو سکتی ہے؟ غربت، بیروزگاری، ذہنی امراض، جرائم اور معاشرتی بے چینی جیسے مسائل اسی تعلیمی نظام کی ناکامی کا شاخسانہ ہیں۔

    ایک طرف ایلیٹ کلاس کے لیے مہنگے نجی سکول اور جامعات موجود ہیں جہاں جدید نصاب، تحقیق، تربیت اور سہولیات میسر ہیں جبکہ دوسری طرف عوام کے بچے ایسے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں جو بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔ یہ طبقاتی تفاوت نہ صرف معاشرتی ناہمواری کو جنم دیتا ہے بلکہ ایک تقسیم شدہ اور غیرمنصفانہ نظام کو بھی مضبوط کرتا جا رہا ہے۔

    وقت کا تقاضا ہے کہ ہم نصاب کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کریں۔ ہمیں ایسے مضامین کو شامل کرنا ہوگا جن میں ٹیکنالوجی، فری لانسنگ، کاروباری مہارتیں، ماحولیات اور شہری شعور شامل ہوں۔ معیاری تعلیم کے لیے اساتذہ کو جدید تدریسی طریقوں کی تربیت دینا ضروری ہے، تاکہ وہ طلبہ کو محض تھیوری نہیں بلکہ عملی میدان کے لیے بھی تیار کر سکیں۔

    سکول کی سطح سے انٹرن شپ اور پراجیکٹ بیسڈ لرننگ کو فروغ دیا جائے۔ سرکاری سکولوں میں سرمایہ کاری کی جائے تاکہ انفراسٹرکچر، سہولیات اور تدریسی معیار بہتر ہو سکے اور ہر طبقے کو یکساں تعلیمی مواقع مل سکیں۔ ہمیں تعلیم کو اس سطح پر لانا ہوگا جہاں غریب و امیر کی تفریق ختم ہو جائے۔

    اس کے ساتھ ساتھ تکنیکی اور ووکیشنل تعلیم کو عام کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہر بچہ یونیورسٹی جانے کی بجائے کسی ہنر میں مہارت حاصل کر سکے اور باعزت روزگار کما سکے۔

    پاکستان کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب ہمارا تعلیمی نظام جدید، ہم آہنگ اور عملی تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہو۔ تعلیم کا مقصد صرف ڈگری کا حصول نہیں بلکہ ایک باشعور، باہنر اور باوقار شہری کی تیاری ہونا چاہیے۔ جب تک ہم اپنی تعلیم کو اس نصب العین کے مطابق ڈھالنے میں ناکام رہیں گے، ہمارا معیارِ زندگی پست ہی رہے گا۔ قوموں کی تقدیر بدلنے کے لیے تعلیم کا حصول سب کے لیے یکساں، معیاری اور عملی ہونا ضروری ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: بلوچستان جانے والی گاڑیوں کے لیے نیا سیکیورٹی پلان نافذ

    ڈیرہ غازی خان: بلوچستان جانے والی گاڑیوں کے لیے نیا سیکیورٹی پلان نافذ

    ڈیرہ غازی خان ( باغی ٹی وی،سٹی رپورٹرجواداکبر)ڈی پی او ڈیرہ غازی خان سید علی اور ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے مشترکہ پریس بریفنگ میں بلوچستان جانے والی ٹرانسپورٹ کے لیے سخت سیکیورٹی ضوابط کا اعلان کیا ہے۔ ڈی پی او سید علی نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے، اور اسی مقصد کے تحت نئے اقدامات متعارف کرائے جا رہے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ اب بلوچستان جانے والی ہر مسافر کوچ میں دو مسلح سیکیورٹی گارڈز کی موجودگی لازمی ہو گی جبکہ تمام مسافر گاڑیاں قافلے کی صورت میں پولیس سیکیورٹی کے ساتھ روانہ کی جائیں گی۔ مزید برآں، بس اڈوں پر روانگی سے قبل مسافروں اور ڈرائیورز کی ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے گی، اور ہر گاڑی میں سی سی ٹی وی کیمرہ، جی پی ایس سسٹم اور ایمرجنسی کال سسٹم کی تنصیب کو یقینی بنایا جائے گا۔

    ڈی پی او نے واضح کیا کہ شام پانچ بجے کے بعد کسی بھی گاڑی کو بلوچستان کی حدود میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس پابندی کا مقصد سیکیورٹی کو مزید موثر بنانا ہے۔ دوسری جانب ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے بتایا کہ ٹرانسپورٹرز اور مسافروں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ضابطہ کار ترتیب دے دیا گیا ہے جس کے مطابق مسافر کوچز صرف دن دو بجے تک روانہ ہو سکیں گی جبکہ مال بردار اور دیگر گاڑیوں کو شام پانچ بجے سے پہلے ہی بلوچستان میں داخل ہونے کی اجازت ہو گی۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ڈیرہ غازی خان پولیس اور ضلعی انتظامیہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور ان تمام اقدامات کا مقصد عوام کے جان و مال کا تحفظ اور پرامن سفر کی فراہمی ہے۔