Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اوچ شریف: سی این جی رکشہ الٹ گیا، سلینڈر محفوظ، سانحہ ٹل گیا،3زخمی

    اوچ شریف: سی این جی رکشہ الٹ گیا، سلینڈر محفوظ، سانحہ ٹل گیا،3زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) احمد پور شرقیہ سے آنے والا ایک تیز رفتار سی این جی رکشہ اُس وقت حادثے کا شکار ہو گیا جب رندھاوا پیٹرول پمپ کے قریب اچانک یو ٹرن لینے والی کار کو بچاتے ہوئے بے قابو ہو کر الٹ گیا۔ حادثے میں رکشہ ڈرائیور حضور بخش معمولی زخمی ہوا، جب کہ اس کی دو بیٹیاں، 16 سالہ رفعت اور 14 سالہ نازیہ، شدید زخمی ہو گئیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    عینی شاہدین کے مطابق حادثے کی بنیادی وجہ سڑک پر یو ٹرن کے ناقص انتظامات اور لاپروائی تھی، تاہم اصل خطرہ رکشے میں نصب سی این جی سلینڈر سے تھا، جو اگر پھٹ جاتا تو کئی جانیں ضائع ہو سکتی تھیں۔ یہ واقعہ حالیہ دنوں میں پانچ طالبات کی جان لینے والے سلینڈر دھماکے کی ہولناک یاد دلاتا ہے۔

    شہریوں نے ضلعی انتظامیہ، سول ڈیفنس اور پولیس کی مسلسل خاموشی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ غیر معیاری اور ناقص سی این جی سلینڈروں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش لاپرواہی آئندہ کسی بڑے سانحے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

  • اوکاڑہ: ایشین والی بال چیمپئن علی احمد کے اعزاز میں ڈی سی کا پرتپاک استقبال

    اوکاڑہ: ایشین والی بال چیمپئن علی احمد کے اعزاز میں ڈی سی کا پرتپاک استقبال

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے تحت نوجوانوں میں کھیلوں کے فروغ کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ احمد عثمان جاوید نے تھائی لینڈ میں ہونے والی ایشین انڈر 16 والی بال چیمپئن شپ میں فتح حاصل کرنے والے کھلاڑی علی احمد کے اعزاز میں زبردست استقبالیہ تقریب منعقد کی۔

    علی احمد، جو نواحی علاقہ 37 فور ایل سے تعلق رکھتے ہیں، جب اوکاڑہ بائی پاس پہنچے تو سیکیورٹی اسکواڈ کے ہمراہ انہیں ڈپٹی کمشنر آفس لایا گیا۔ ڈی سی آفس میں ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے علی احمد کا پھولوں کا گلدستہ پیش کر کے شاندار کامیابی پر مبارکباد دی۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس اینڈ پلاننگ چوہدری عبدالجبار گجر، ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر محمد اشفاق احمد، علی احمد کے استاد اور اہل علاقہ بھی موجود تھے۔

    علی احمد نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایشین چیمپئن شپ میں کامیابی اللہ کے فضل اور قوم کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی چیمپئن ایران کو شکست دینا ایک تاریخی لمحہ تھا۔

    ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے اعلان کیا کہ علی احمد کو ڈی پی ایس اینڈ کالجز میں مکمل اسکالرشپ دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی اور ضلعی سطح پر کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے حکومت پرعزم ہے، اور تمام کھلاڑیوں کو بھرپور تعاون فراہم کیا جائے گا تاکہ نوجوان نسل صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب ہو۔

  • میرپورخاص: انجینئر عبدالعلیم خانزادہ کا دورہ، ایم کیو ایم رہنماؤں سے ملاقات،مسائل پر بات چیت

    میرپورخاص: انجینئر عبدالعلیم خانزادہ کا دورہ، ایم کیو ایم رہنماؤں سے ملاقات،مسائل پر بات چیت

    میرپورخاص (باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ)حق پرست رکن قومی اسمبلی و رکن اسٹینڈنگ کمیٹی برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان و ریاستیں و دفاعی پیداوار انجینئر عبدالعلیم خانزادہ نے میرپورخاص کا دورہ کیا اور ایم کیو ایم پاکستان میرپورخاص ڈسٹرکٹ کے انچارج خالد تبسم، جوائنٹ انچارجز آفاق احمد خان، سلیم میمن اور ڈسٹرکٹ کمیٹی کے دیگر اراکین سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں میرپورخاص کے دیرینہ عوامی مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

    اجلاس میں نیو سول اسپتال میرپورخاص میں مریضوں کو درپیش سہولیات کی کمی، اسپیشلسٹ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی خالی آسامیوں پر تعیناتی، امراض قلب کے علاج کے لیے این آئی سی وی ڈی اور ٹراما سینٹر و این آئی سی ایچ اسپتال کے قیام پر زور دیا گیا۔ گیس کی عدم فراہمی، پرانا اور خستہ گیس انفرااسٹرکچر، حادثات کا خدشہ اور متعلقہ حکام کی غفلت جیسے معاملات بھی زیر بحث آئے۔

    ریلوے کے شعبے میں مہران اور شاہ لطیف ایکسپریس کی سہولیات میں کمی، ٹرینوں کے اوقات اور بوگیوں کی حالت زار، اور حیدرآباد-میرپورخاص کے درمیان چلنے والی ٹرینوں کی تعداد بڑھانے کی تجاویز پیش کی گئیں۔ تعلیمی بورڈ میرپورخاص کے ریٹائرڈ ملازمین کے بقایا جات، موجودہ ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی جیسے مسائل بھی اٹھائے گئے۔

    میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ ایم کیو ایم کی حق پرست قیادت ان تمام مسائل کے حل کے لیے قومی و صوبائی اسمبلی میں آواز اٹھائے گی اور متعلقہ اداروں سے فوری رابطے کیے جائیں گے تاکہ میرپورخاص کے عوام کو جلد از جلد ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

  • اندرون سندھ پانی، صحت اور غربت کے شدید بحران کا شکار

    اندرون سندھ پانی، صحت اور غربت کے شدید بحران کا شکار

    خصوصی رپورٹ: سید شاہزیب شاہ، باغی ٹی وی، میرپور خاص
    سندھ اس وقت کئی محاذوں پر شدید بحران کا شکار ہے، جہاں پانی کی قلت، صحت عامہ کی زبوں حالی، غربت، بے روزگاری، تعلیم و علاج کی عدم دستیابی اور حکومتی بے حسی نے زندگی کو بدترین حد تک متاثر کیا ہے۔ اندرون سندھ میں حالات بگڑتے جا رہے ہیں اور عوامی صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا ہے۔

    پانی کا بحران: انڈس کینال منصوبہ تنازع کا شکار
    حالیہ دنوں میں انڈس کینال منصوبے اور پانی کی غیر منصفانہ تقسیم نے سندھ کے شہریوں کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا۔ شمالی سندھ میں ہونے والے احتجاجوں نے "میدانِ جنگ” کا منظر پیش کیا، جہاں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں قیمتی جانوں کا ضیاع بھی ہوا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ پنجاب کو پانی کی فراہمی میں ترجیح دی جا رہی ہے جبکہ سندھ، بالخصوص اندرونی اضلاع، بدترین قلت کا شکار ہیں۔ یہ معاملہ اب محض وسائل کی تقسیم کا نہیں، بلکہ وفاقی اکائیوں کے درمیان اعتماد کے بحران میں بدل چکا ہے۔

    میرپور خاص: صحت کا ہاٹ سپاٹ، ایچ آئی وی کا پھیلاؤ خطرناک حد تک بڑھ گیا
    میرپور خاص ڈسٹرکٹ اس وقت سندھ کا صحت کے حوالے سے نیا بحران مرکز بن چکا ہے۔ صرف 2024 میں ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کی تعداد 150 تک جا پہنچی ہے، جس نے انتظامیہ کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ صحت عامہ کا نظام ناکام دکھائی دیتا ہے اور ہنگامی اقدامات کی فوری ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ عوامی اسپتالوں میں ادویات کی کمی، تربیت یافتہ عملے کا فقدان اور عدم توجہی نے اس مسئلے کو پیچیدہ کر دیا ہے۔

    سماجی و معاشی بدحالی: 53 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے
    رورل سندھ آج بھی بنیادی انسانی سہولیات سے محروم ہے۔ زراعت میں جدت اور استحکام نہ ہونے کے باعث کسان اور ہاری بدحالی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ موسمیاتی تغیرات اور بارشوں کے بعد اکثر سڑکیں، کھلیان، اور بستیاں زیرِ آب آ جاتی ہیں، جس سے لوگوں کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔ اندرونی سندھ میں خواتین اور بچیوں کی تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ قبائلی جھگڑے اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔

    تعلیم و علاج تک رسائی محدود، وسائل کی تقسیم غیر منصفانہ
    تعلیم، صحت، صاف پانی، سڑکیں، اور روزگار جیسے بنیادی مسائل دہائیوں سے حل طلب ہیں۔ حکومتی منصوبہ بندی اور نچلی سطح پر ناقص گورننس کے باعث اصلاحات کا فائدہ نچلے طبقے تک نہیں پہنچ پا رہا۔ میرپور خاص سمیت اندرونی سندھ میں احساس محرومی بڑھتا جا رہا ہے اور عوام کی نظر اب عملی اقدامات پر ہے، نہ کہ صرف بیانات پر۔

    آخری سوال: کیا سندھ کو اس کا حق مل پائے گا؟
    سندھ کے عوام آج سوال کر رہے ہیں: کب تک ان کے وسائل پر قبضہ رہے گا؟ کب تک ان کی محرومیوں کو نظرانداز کیا جائے گا؟ کیا وفاقی حکومت اندرونی سندھ کے لیے خصوصی معاشی و ترقیاتی پیکیج لانے پر غور کرے گی؟ کیا سندھ کو وہی عزت، سہولتیں اور وسائل میسر آ سکیں گے جو ملک کے دیگر حصوں کو حاصل ہیں؟

    اب وقت آ چکا ہے کہ اندرون سندھ کے عوام کو ان کا حق دیا جائے، ورنہ یہ احتجاج محض سڑکوں تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ ایک بڑی تحریک میں بدل سکتا ہے۔

  • کہاں گئی شہباز سپیڈ؟

    کہاں گئی شہباز سپیڈ؟

    کہاں گئی شہباز سپیڈ؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    پاکستان کی سیاست میں شہباز شریف کا نام ایک ایسی رفتار کے ساتھ جڑا رہا ہے جو بظاہر نا ممکن کو بھی ممکن بنا دیتی تھی۔ جب وہ وزیراعلیٰ پنجاب تھے تو اُن کی شہرت اُن کی غیر معمولی انتظامی مہارت، منصوبوں کی تیزی سے تکمیل اور عوامی ریلیف پر مبنی پالیسیوں کی بدولت "شہباز سپیڈ” کے نام سے معروف ہوئی۔ لاہور میٹرو، آشیانہ اسکیم، دانش سکولز، فلائی اوورز اور ہسپتالوں کی بہتری کے منصوبے اُن کی شناخت بنے۔ لیکن آج جب وہ پاکستان کے وزیراعظم ہیں تو عوام حیران ہے کہ وہی شہباز سپیڈ کہاں کھو گئی؟ کیونکہ اب مسائل کے انبار لگے ہیں، وعدے ادھورے ہیں اور عوامی ریلیف ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ یہ سوچنا بجا ہے کہ کیا وہی شہباز شریف ہیں یا اب رفتار کو زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے؟ یہ سب دیکھ کر لگتا ہے کہ اب صرف فائلیں دوڑ رہی ہیں، عوام نہیں اور شہباز سپیڈ بس ایک سیاسی یادگار بن کر رہ گئی ہے۔

    جب وزیراعظم نے قوم سے وعدہ کیا کہ بجلی سستی کریں گے تو لوگوں کو امید بندھی۔ لیکن عملی طور پر وزارت توانائی نے ایسے اقدامات کیے کہ عوام پر مہنگائی کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ وزیر توانائی اویس لغاری نے 201 یونٹ کا سلیب سسٹم متعارف کروا کر بجلی کے نرخ کئی گنا بڑھا دیے۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ نے انکشاف کیا کہ آٹھ ڈسکوز نے 244 ارب روپے کی اووربلنگ کی، جس کا کوئی حساب نہیں۔ لاکھوں صارفین کو اضافی بل جاری ہوئے اور زرعی صارفین کو بھی 148 ارب سے زائد کی اووربلنگ کر دی گئی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ بجائے ان کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرنے کے، سب کچھ فائلوں میں دبا دیا گیا۔ عوام پریشان ہیں، حکومت خاموش ہے اور ظلم کا سارا بوجھ شہباز سپیڈ کے سر ڈال دیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ سب ظلم اویس لغاری نے کیے، شہباز سپیڈ کا اس میں کوئی قصور نہیں۔

    ایندھن کی قیمتوں پر قابو پانے کا وعدہ بھی ہوا میں تحلیل ہو چکا ہے۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کی جائیں گی، لیکن عالمی مالیاتی ادارے کی شرائط نے ان کے ہاتھ باندھ دیے۔ پٹرول اب عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے۔ دوسری جانب چینی کا معاملہ لیں تو حکومت نے شوگر مافیا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔ چینی جو عام آدمی کے لیے ضروری تھی، اب ایک پرتعیش شے بن چکی ہے۔ یہ سب اس نظام کی خرابیاں ہیں جنہوں نے شہباز شریف کی رفتار کو باندھ رکھا ہے۔ ان کے ارادے جتنے بھی بلند ہوں، عملی پیش رفت ندارد۔ مگر یہ سب ناکامیاں شہباز سپیڈ کی نہیں، بلکہ مافیا نے شہباز سپیڈ کی ہینڈ بریک پر قبضہ جما کر بریک لگا دی ہے۔

    معاشی بحران کے اس دور میں اشرافیہ کی مراعات میں اضافہ عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ ارکان اسمبلی، سپیکر اور وزراء کی تنخواہوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا گیا، ساتھ ہی ساتھ مفت بجلی، پٹرول، علاج، رہائش اور گاڑیوں کی سہولتیں بدستور جاری رہیں۔ کہا گیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے جاتے تو حکومتی اتحاد خطرے میں پڑ جاتا۔ دوسری جانب، پنشنرز، سرکاری ملازمین اور سفید پوش طبقہ مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔ آئی ایم ایف کو اشرافیہ کی ان مراعات پر کوئی اعتراض نہ تھا، لیکن جیسے ہی عوامی تنخواہوں میں اضافے کی بات آئی، قسط روکنے کی دھمکی دے دی گئی۔ یوں وسائل بالا طبقے کی جھولی میں ڈال دیے گئے اور عوام کو صرف قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ یہ سب دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ شہباز سپیڈ کی ناکامی نہیں بلکہ نظام کی وہ غلامی ہے جس نے شہباز سپیڈ کے ہاتھ باندھ دیے ہیں۔

    واپڈا کی تقسیم کار کمپنیوں میں کرپشن، اووربلنگ اور بجلی چوری جیسے معاملات نے حکومت کو اخلاقی طور پر دیوالیہ کر دیا ہے۔ کمپنیوں نے آڈٹ ریکارڈ دینے سے انکار کر دیا، اربوں روپے کی خرد برد کا جواب دینے والا کوئی نہیں۔ کیا وزیراعظم اکیلے اس سب کا ذمہ دار ہیں؟ ہرگز نہیں۔ وزیر توانائی کی نااہلی، نیپرا کی خاموشی اور بیوروکریسی کی ملی بھگت نے عوام کو اندھیرے میں دھکیل دیا ہے۔ اس صورتحال میں عوام کا سوال بجا ہے کہ کہاں گئی شہباز سپیڈ؟ لیکن جواب یہ ہے کہ شہباز سپیڈ کو تو روک دیا گیا، لوٹنے والوں نے۔

    دوسری طرف، عمران خان کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے 90 دن میں کرپشن ختم کر دی، لیکن ان کے دور میں آٹا، چینی اور پٹرول کے اسکینڈلز سامنے آئے۔ جہانگیر ترین، خسرو بختیار اور دیگر وزرا پر الزامات لگے، لیکن کسی کو سزا نہ ملی۔ رپورٹیں دبائی گئیں، قوم کو سبز باغ دکھائے گئے۔ شہباز شریف پر تنقید ضرور کریں، لیکن یہ بھی دیکھیں کہ کیا عمران خان کی رفتار نے عوام کو کچھ دیا؟ یا صرف تقاریر اور دعوے کیے؟ یہ دونوں رہنما عوامی خدمت کے دعوے دار ہیں، لیکن عوام کے مسائل آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں کل تھے۔ اور اسی لیے شہباز سپیڈ پر تنقید سے پہلے سچائی کو بھی تسلیم کرنا ضروری ہے۔

    اگر کوئی توقع باقی ہے تو وہ صرف اسی وقت پوری ہو سکتی ہے جب شہباز شریف اپنی پرانی رفتار کو دوبارہ زندہ کریں۔ انہیں چاہیے کہ وہ عوام کے حقیقی مسائل کو سمجھیں، کرپشن کے خلاف بھرپور کارروائی کریں، بیوروکریسی کو قابو میں لائیں اور فیصلہ کن کردار ادا کریں۔ عوام اب صرف وعدوں سے نہیں، عمل سے مطمئن ہو گی۔ اگر شہباز سپیڈ کو دوبارہ زندہ کرنا ہے تو اب وقت ہے کہ فیصلے میدان میں کیے جائیں، صرف پریس کانفرنسوں میں نہیں۔ بصورتِ دیگر، شہباز سپیڈ صرف ماضی کا ایک قصہ بن کر رہ جائے گی۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا شہباز سپیڈ واقعی اپنے پرانے ٹریک پر دوبارہ دوڑنے کے قابل ہو سکے گی؟ کیا وہ تمام رکاوٹیں عبور کر پائے گی جنہوں نے اس کی رفتار کو جکڑ رکھا ہے؟ کیا بجلی بحران، سلیب سسٹم کا خاتمہ اور اویس لغاری کی برطرفی ممکن ہو پائے گی؟ کیا عوام کو سستی چینی اور ایندھن دوبارہ میسر آ سکے گا؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا یہ سب کچھ شہباز سپیڈ ممکن بنا پائے گی؟ عوام ان سوالات کے جوابات کی منتظر ہے اور وقت ہی بتائے گا کہ شہباز سپیڈ پھر سے اپنا جادو جگا پاتی ہے یا نہیں۔

  • رینالہ خورد: مون سون و ڈینگی سے نمٹنے کے لیے اسسٹنٹ کمشنر کی زیر صدارت اجلاس

    رینالہ خورد: مون سون و ڈینگی سے نمٹنے کے لیے اسسٹنٹ کمشنر کی زیر صدارت اجلاس

    اوکاڑہ (نامہ نگار، ملک ظفر)رینالہ خورد میں اسسٹنٹ کمشنر انعم علی خان کی زیر صدارت تحصیل ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ ہیلتھ اور ریونیو فیلڈ اسٹاف کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد مون سون بارشوں کے دوران درپیش ممکنہ چیلنجز اور ڈینگی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی حکمت عملی ترتیب دینا تھا۔

    اس موقع پر محکمہ ہیلتھ کے افسران نے ڈینگی مچھر کے خاتمے اور سرویلنس سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اسسٹنٹ کمشنر انعم علی خان نے ہدایت کی کہ مون سون سیزن کے دوران ڈینگی مچھر کی افزائش کے مقامات پر کڑی نگرانی کی جائے اور ہاٹ سپاٹس کی مسلسل مانیٹرنگ کا عمل یقینی بنایا جائے۔

    انہوں نے زور دیا کہ شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں اور گاؤں کی سطح پر بھی برساتی نالوں میں پانی کے بہاؤ کو مانیٹر کیا جائے، تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال میں عوام کو بروقت ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ تمام انسدادِ ڈینگی سرگرمیاں ڈیش بورڈ پر باقاعدگی سے اپ لوڈ کی جائیں۔

    اے سی انعم علی خان نے کہا کہ گلیوں، بازاروں، گھروں کی چھتوں اور خالی پلاٹوں میں پانی جمع نہ ہونے دیا جائے اور متعلقہ محکمے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام کو محفوظ اور صحت مند ماحول فراہم کرنے کے لیے متحرک رہیں۔

  • اوکاڑہ: اے سی رب نواز کا مختلف علاقوں کا دورہ، صفائی کے انتظامات کا جائزہ، بہتری کے لیے احکامات جاری

    اوکاڑہ: اے سی رب نواز کا مختلف علاقوں کا دورہ، صفائی کے انتظامات کا جائزہ، بہتری کے لیے احکامات جاری

    اوکاڑہ (نامہ نگار: ملک ظفر)اسسٹنٹ کمشنر اوکاڑہ رب نواز نے شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے صفائی و ستھرائی کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے سٹیڈیم روڈ، فیصل آباد روڈ، چرچ روڈ، ریل بازار اور بینظیر روڈ سمیت اہم شاہراہوں پر صفائی کے عمل کا معائنہ کیا اور متعلقہ عملے کو تمام علاقوں کی مکمل کلیرنس یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

    اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے ایم اے جناح روڈ پر موجود گرین بیلٹس کی صفائی اور خوبصورتی کے لیے خصوصی اقدامات کرنے کے بھی احکامات جاری کیے۔

    رب نواز کا کہنا تھا کہ شہر کی خوبصورتی، صفائی اور عوامی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور اس ضمن میں عملی اقدامات کے ساتھ ساتھ مانیٹرنگ کا عمل بھی مسلسل جاری ہے تاکہ شہریوں کو صاف ستھرا اور خوشگوار ماحول فراہم کیا جا سکے۔

  • احمدپورشرقیہ: مظفر کالونی میں بیوی کا لرزہ خیز قتل، شوہر گرفتار

    احمدپورشرقیہ: مظفر کالونی میں بیوی کا لرزہ خیز قتل، شوہر گرفتار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار: حبیب خان)احمدپورشرقیہ کے نواحی علاقے مظفر کالونی میں گھریلو جھگڑا لرزہ خیز قتل کا باعث بن گیا، جہاں سفاک شوہر نے اپنی بیوی کو تیز دھار آلے سے ذبح کر کے قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق 35 سالہ صابرہ بی بی کو اس کے شوہر مقصود نے انتہائی بے دردی سے قتل کیا، جس سے پورے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی۔

    پولیس ذرائع نے بتایا کہ ملزم مقصود حال ہی میں قتل کے ایک مقدمے میں سزا کاٹ کر جیل سے رہا ہوا تھا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی تھانہ ڈیرہ نواب صاحب کی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا جبکہ آلہ قتل بھی اس کے قبضے سے برآمد کر لیا گیا۔

    مقتولہ کی لاش کو ضابطے کی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے پس پردہ وجوہات جاننے کے لیے ملزم سے تفتیش جاری ہے، اور تمام ممکنہ پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب اہل علاقہ نے اس اندوہناک واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو عبرتناک سزا دی جائے تاکہ اس قسم کے جرائم کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مزید تفصیلات تفتیش مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گی۔

  • سلیب گردی، ن لیگ کا تابوت

    سلیب گردی، ن لیگ کا تابوت

    سلیب گردی، ن لیگ کا تابوت
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مسلم لیگ (ن) ایک ایسی جماعت کے طور پر ابھری جس نے اپنے دورِ اقتدار میں بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کو اپنی کارکردگی کا معیار بنایا۔ سڑکیں، موٹرویز، اور انفراسٹرکچر وہ شعبے تھے جہاں اس جماعت نے سرمایہ کاری کی، اور اپنے بیانیے کو اس ترقیاتی ماڈل کے گرد گھمایا۔ لیکن اقتدار میں بارہا آنے کے باوجود عوامی فلاح کے حقیقی مسائل — مہنگائی، توانائی، تعلیم، صحت، روزگار اور معاشرتی انصاف ، ہمیشہ ثانوی حیثیت رکھتے رہے۔

    آج جب مہنگائی آسمان چھو رہی ہے، بجلی کے بلوں نے عوام کی کمر توڑ دی ہے اور بے روزگاری نوجوان نسل کی امیدیں نگل رہی ہے، تو ن لیگ کی کارکردگی پر سوال اٹھانا محض تنقید نہیں بلکہ ایک قومی ضرورت بن چکا ہے۔ عوام اس وقت ایک ایسے معاشی جبر کا شکار ہیں جس کی جڑیں حکومتی پالیسیوں میں پیوست ہیں اور جس کے چہرے کو اویس لغاری جیسے وزرا کی صورت میں شناخت ملی ہے۔

    بطور وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی کارکردگی عوامی ریلیف کے بجائے عوامی اذیت کا سبب بنی۔ بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اور ناقابلِ برداشت اضافہ، شدید لوڈشیڈنگ اور توانائی کے شعبے میں ناقص حکمرانی نے عوام کو ذہنی، معاشی اور نفسیاتی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ حیرت ہے کہ ایسے سنگین حالات میں بھی وزیراعظم شہباز شریف نہ صرف خاموش ہیں بلکہ ایسے وزیروں کی سرپرستی کرتے دکھائی دیتے ہیں جو عوامی مسائل کے حل کی بجائے انہیں مزید گھمبیر بنانے کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔

    عوامی اذیت کی ایک نمایاں مثال بجلی کے بلوں میں لاگو "سلیب سسٹم” ہے، جس کے ذریعے محض ایک یونٹ کی زیادتی پر عام شہری کو پندرہ ہزار روپے تک کا بل تھما دیا جاتا ہے۔ "سلیب گردی” کی اصطلاح عوامی شعور نے اس سنگین ناانصافی کے ردعمل میں وضع کی ہے۔ 200 یونٹ تک بجلی کا بل تقریباً 3000 روپے ہوتا ہے، لیکن 201 یونٹ ہوتے ہی یہی بل چھلانگ لگا کر پندرہ ہزار تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ اضافہ محض ٹیکس نہیں بلکہ ایک قسم کی معاشی دہشتگردی ہے، جو ریاستی پالیسیوں کے نام پر عوام پر مسلط کی جا رہی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں شہری ریاست کو سہارا دینے کے بجائے خود کو اس کے ظلم سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔

    یہ تنقید صرف معیشت یا توانائی کے شعبے تک محدود نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کے اندرونی بحران اور قیادت کی بے حسی کا بھی آئینہ دار ہے۔ پارٹی کے مقامی کارکنان اور ارکانِ اسمبلی متعدد بار اس بات کا شکوہ کر چکے ہیں کہ قیادت نہ انہیں سن رہی ہے، نہ ترقیاتی فنڈز فراہم کر رہی ہے، اور نہ ہی عوامی رابطے کو اولیت دی جا رہی ہے۔ نتیجتاً پارٹی کے اندر بداعتمادی، فاصلہ اور مایوسی جنم لے چکے ہیں، جو کسی بھی جماعت کے لیے زوال کی علامت ہوتے ہیں۔

    اسی زوال کا اظہار عوام کی اس شدید مایوسی سے ہوتا ہے جو اب محض خاموش ناراضی نہیں بلکہ ایک متحرک اور بلند احتجاج کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ وہ بیانیہ جسے ن لیگ نے اپنے سیاسی وجود کی بنیاد بنایا تھا "ووٹ کو عزت دو” آج عوام کی نظروں میں اپنی ساکھ کھو چکا ہے۔ کیونکہ جب ووٹ دینے والا شہری مہنگائی سے بلکتا ہے اور اس کے صبر کا امتحان ہر بل، ہر اشیائے ضرورت، ہر سرکاری سروس میں لیا جاتا ہے تو وہ اس بیانیے کو ایک کھوکھلی نعرہ بازی سے زیادہ نہیں سمجھتا۔

    یہ حالات صرف ایک سیاسی جماعت کی ساکھ کا بحران نہیں بلکہ جمہوری اعتماد کے ٹوٹنے کا اشارہ بھی ہیں۔ اگر ایک جماعت مسلسل اقتدار میں رہنے کے باوجود عوام کے بنیادی مسائل کو حل نہ کرے تو عوام بھی بالآخر اس جماعت کو سیاسی سزا دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ عوام کی نظریں اب ان نمائندوں سے جواب مانگتی ہیں، جنہوں نے اقتدار تو لیا مگر خدمت نہیں کی۔

    اگر مسلم لیگ (ن) واقعی اپنا وجود برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اسے اب فیصلے کرنے ہوں گے ، وہ فیصلے جو صرف وزارتوں کی تبدیلی تک محدود نہ ہوں بلکہ پالیسیوں، ترجیحات اور طرزِ حکمرانی میں انقلابی اصلاحات پر مبنی ہوں۔ اویس لغاری جیسے وزرا کی موجودگی پارٹی کے لیے سیاسی بوجھ بن چکی ہے اور جب عوام ایسے افراد کو اپنا دشمن سمجھنے لگیں تو جماعت کا دفاع کرنا ممکن نہیں رہتا۔

    یہ لمحہ ن لیگ کے لیے محض بحران نہیں ہے بلکہ ایک فیصلہ کن موڑ ہے! پارٹی کو یا تو خود کو تبدیل کرنا ہوگایا پھر عوام اسے بدل ڈالیں گے۔ "سلیب گردی” جیسے الفاظ چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ ٹوٹ چکا ہے۔

    اگر ن لیگ نے اب بھی عوام کے درد کو محسوس نہ کیا تو پھر یہ حقیقت بن جائے گی کہ اس جماعت کا تابوت عوام خود اپنے کندھوں پر اٹھائیں گے۔ اب وہ وقت دور نہیں جب انتخابی میدان سجے گا اور عوامی عدالت ن لیگ کو آخری بار طلب کرے گی۔ یہ ایک ایسا امتحان ہے جہاں یا تو وہ سرخرو ہوں گے، یا پھر تاریخ کے اوراق میں گم ہو جائیں گے۔

  • ڈیرہ غازی خان: پنجاب سے بلوچستان جانے والی ٹرانسپورٹ شام 5 بجے کے بعد بند

    ڈیرہ غازی خان: پنجاب سے بلوچستان جانے والی ٹرانسپورٹ شام 5 بجے کے بعد بند

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ)بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے معصوم شہریوں کے حالیہ افسوسناک قتل کے واقعات کے بعد ڈیرہ غازی خان کی ضلعی حدود میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر و چیئرمین ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی محمد عثمان خالد کی ہدایت پر بلوچستان جانے والی تمام پبلک اور پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کو شام پانچ بجے کے بعد سخی سرور اور بواٹہ کے سرحدی مقامات پر روکنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں، جس کا باقاعدہ مراسلہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق آئندہ بلوچستان میں ٹریفک کا داخلہ صرف دن کی روشنی میں ممکن ہوگا، جبکہ رات کے وقت کسی بھی قسم کی ٹرانسپورٹ کو داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ اقدام عوامی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر نے سخی سرور اور بواٹہ پر مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کو تمام ضروری سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ جاری کردہ مراسلے کے مطابق بس اڈوں پر پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے ڈرائیوروں اور مسافروں کی ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے گی، جبکہ تمام گاڑیاں سخت سیکیورٹی میں قافلوں کی صورت میں روانہ کی جائیں گی۔

    مزید براں، تمام پبلک ٹرانسپورٹ پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں گے، GPS ٹریکنگ سسٹم فعال رکھا جائے گا اور ایمرجنسی پینک/آلارم بٹن مہیا کیا جائے گا تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے یا ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل ممکن بنایا جا سکے۔

    ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے واضح کیا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، اور اس سلسلے میں سیکیورٹی انتظامات کو مزید سخت اور مؤثر بنایا جا رہا ہے۔