Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سکھر بیراج کے 16 گیٹس کی تبدیلی مکمل،وزیرآبپاشی جام خان شورو نے کیا افتتاح

    سکھر بیراج کے 16 گیٹس کی تبدیلی مکمل،وزیرآبپاشی جام خان شورو نے کیا افتتاح

    سکھر(باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو نے 21 جولائی کو سکھر بیراج اور دریائے سندھ پر لاڑکانہ کے مقام پر واقع عاقل بند کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے بیراج پر 16 نئے گیٹس کی کامیاب تبدیلی کے بعد ایک گیٹ کو علامتی طور پر اٹھا کر افتتاح کیا۔

    اس موقع پر جام خان شورو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سکھر بیراج جیسے فعال اور حساس آبی ڈھانچے پر چلتے ہوئے دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ 16 گیٹس کی تبدیلی ایک بڑا چیلنج تھا جسے کامیابی سے مکمل کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان گیٹس کی تبدیلی کے بعد بیراج کی عمر میں 30 سال کا اضافہ ہو چکا ہے۔

    وزیر آبپاشی نے بتایا کہ جون 2026 تک مزید 28 گیٹس بھی تبدیل کر دیے جائیں گے، جبکہ بیراج کے پاکٹ گیٹس تیسرے مرحلے میں اپ گریڈ کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ گیٹس کی تبدیلی کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگی صورتحال، وکلاء کی تحریک، اور دہشتگردی جیسے کئی چیلنجز درپیش آئے، لیکن ان سب کے باوجود یہ تاریخی کام مکمل ہوا۔

    انہوں نے سکھر بیراج کو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے تمام گیٹس کی تبدیلی سے مجموعی وزن میں 3500 ٹن کی کمی آئے گی، جو انجینئرنگ کے لحاظ سے ایک بڑی کامیابی ہے۔ جام خان شورو کے مطابق چینی انجینئرز کی سیکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے بائی پاس پل پر خصوصی شیٹس بھی نصب کی گئی ہیں۔

    اس موقع پر وزیر نے انکشاف کیا کہ سکھر بیراج کے متبادل ایک نئے بیراج کے لیے بھی اسٹڈی جاری ہے۔ تاہم، انہوں نے دریائے سندھ میں پانی کی شدید قلت پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دریا میں اتنا پانی چھوڑا ہی نہیں جا رہا کہ ریت بہائی جا سکے۔ "ہمارا مطالبہ ہے کہ اپریل میں ہمیں ہماری ضرورت کے مطابق پانی فراہم کیا جائے تاکہ فصلیں وقت پر کاشت ہو سکیں۔”

    انہوں نے کہا کہ پانی کی کمی کے مسائل اب بھی موجود ہیں اور اس کے لیے محکمہ آبپاشی مسلسل جدوجہد کر رہا ہے۔ "اگر پانی آ بھی جاتا ہے تو وہ بارش کا ہوتا ہے جو زرعی مقاصد کے لیے مؤثر نہیں ہوتا،” انہوں نے کہا۔

    اس موقع پر سیکریٹری آبپاشی ظریف اقبال کھیڑو، چیف انجنیئرز اور دیگر اعلیٰ افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

  • ناکام پالیسیاں، ناکام ادارے اور ضائع ہوتا قیمتی پانی

    ناکام پالیسیاں، ناکام ادارے اور ضائع ہوتا قیمتی پانی

    ناکام پالیسیاں، ناکام ادارے اور ضائع ہوتا قیمتی پانی
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان میں منصوبہ بندی کا فقدان ہے اور منصوبہ ساز نااہل ہیں، تو شاید ہی کسی کی اس پر دوسری رائے ہو۔ جی ہاں، آپ نے درست سمجھا، پچھلی کئی دہائیوں سے ہم تجربات کرتے آ رہے ہیں، عوام کو اور پاکستان کو لوٹنے کے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم آج بھی ایک مقروض ملک ہیں اور آئی ایم ایف کی پالیسی سازوں کے زیرِ اثر۔

    یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان پانی کی قلت کا نہیں بلکہ نیتوں کی کمی کا شکار ہے۔ اگر آج بھی ریاست، ادارے اور عوام مل کر سنجیدہ اقدامات کریں تو بارش کا ہر قطرہ خزانے سے کم نہیں۔ بصورتِ دیگر، یہ قیمتی پانی ہر سال ضائع ہوتا رہے گا، زمین بنجر ہوتی جائے گی، اور ہم صرف رپورٹس میں کامیابی کے خواب دیکھتے رہیں گے۔

    ہم قدرتی وسائل سے مالامال ملک ہیں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، جہاں پانی زراعت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہر سال مون سون کے موسم میں اربوں لیٹر بارش کا پانی زمین پر گرتا ہے، لیکن بدقسمتی سے یہ بیش قیمت قدرتی نعمت ہمارے ناکام پالیسی سازوں اور غیر سنجیدہ اداروں کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہے۔

    یہی پانی نہ صرف شہروں کی سڑکوں اور گلیوں کو دریا بنا دیتا ہے — جیسا کہ حالیہ بارشوں میں ہم نے دیکھا — بلکہ زرعی زمینوں سے بھی بہہ کر ندی نالوں میں چلا جاتا ہے، بنا کسی ریچارج کے، بنا کسی ذخیرہ اندوزی کے۔

    اب سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ سسٹم کیا ہے۔
    ریچارج کا مطلب ہوتا ہے زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو قدرتی یا مصنوعی طریقے سے دوبارہ بھرنا۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں بارش کے پانی کو محفوظ کر کے نہ صرف زمین کو ریچارج کیا جاتا ہے بلکہ شہری علاقوں میں بھی اسے قابلِ استعمال بنایا جاتا ہے۔

    پاکستان میں اگر جدید طریقہ کار اختیار کر لیا جائے تو نہ صرف زیرِ زمین پانی کی سطح میں بہتری لائی جا سکتی ہے بلکہ پانی کی قلت جیسے سنگین مسئلے سے بھی نمٹا جا سکتا ہے۔

    ہمارے ہاں سیاسی اکھاڑوں میں ہماری ترجیحات انتقامی سیاست ہے۔ کیا یہی سوچ ہمارے بانی پاکستان کی تھی؟ یقیناً نہیں۔

    اصل مسئلہ پانی کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کی کمی ہے۔ ہمارے پالیسی ساز حضرات اور بیوروکریسی کی دلچسپی صرف کاغذی منصوبوں میں ہوتی ہے، جہاں فنڈز کے نام پر اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، لیکن عملی طور پر کوئی بہتری دکھائی نہیں دیتی۔

    شہروں میں ڈرینج سسٹم ناکارہ ہے، دیہات میں پانی کے نکاس کا کوئی بندوبست نہیں ، جس کی مثالیں حالیہ بارشوں میں کئی دیہات کے زیرِ آب آنے سے دیکھی جا سکتی ہیں۔ ناقص کارکردگی کی وجہ سے کوئی بھی ادارہ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرتا دکھائی نہیں دیتا۔

    آئیں اب بات کرتے ہیں ہم ناکام کیوں ہیں اور اداروں کی ناکامی کی وجوہات کیا ہیں:
    ×واٹر مینجمنٹ اتھارٹی ہو یا محکمہ آبپاشی ، سب کی کارکردگی صرف فائلوں تک محدود ہے۔
    ×بلدیاتی ادارے نکاسیٔ آب پر توجہ دیتے ہیں، مگر پانی کو محفوظ کرنے کا کوئی مؤثر نظام نہیں۔
    ×ماحولیاتی ادارے صرف رپورٹس تیار کرتے ہیں، عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
    ×سیلاب کنٹرول ڈپارٹمنٹ صرف ہنگامی حالات میں متحرک ہوتے ہیں، مستقل منصوبہ بندی ناپید ہے۔

    اگر یہ ہماری ترجیحات میں شامل ہو تو ریچارج ویل (Recharge Wells) کا قیام شہروں اور زرعی علاقوں میں مخصوص مقامات پر کنویں نما گڑھے کھود کر بارش کے پانی کو زیرِ زمین پہنچایا جا سکتا ہے۔

    ریگولر واٹر ہارویسٹنگ اسکیمز کو ہر ضلع کی سطح پر شروع کیا جا سکتا ہے تاکہ بارش کے پانی کو ذخیرہ کیا جا سکے۔کاشتکاروں کو جدید زرعی تکنیکوں کے ذریعے پانی کی بچت اور قدرتی ذرائع سے فائدہ اٹھانے کی تربیت دی جا سکتی ہے۔

    قانون سازی کے ذریعے نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور تعمیراتی منصوبوں میں واٹر ریچارج سسٹم کو لازمی قرار دیا جا سکتا ہے۔

    بہرحال، اُمید کا دامن کبھی چھوڑنا نہیں چاہیے… مگر، کب تک؟

  • میرپورخاص: مبینہ فراڈی گینگ کیخلاف احتجاج، میر طارق تالپور پر سرپرستی کا الزام

    میرپورخاص: مبینہ فراڈی گینگ کیخلاف احتجاج، میر طارق تالپور پر سرپرستی کا الزام

    میرپورخاص (باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ کی رپورٹ)ٹنڈو جان محمد میں سرگرم مبینہ فراڈی گینگ کے خلاف احتجاجی تحریک نے شدت اختیار کر لی ہے۔ سندھ کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے درجنوں متاثرین نے ایس ایس پی آفس میرپورخاص کے احاطے میں جمع ہو کر شدید احتجاج کیا اور چانڈیو برادری سے تعلق رکھنے والے گینگ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

    مظاہرین کا الزام ہے کہ ٹنڈو جان محمد میں ایک منظم فراڈی گروہ کاروباری لین دین اور دیگر ذرائع سے شہریوں کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا چکا ہے، لیکن پولیس اس پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ متاثرین کے مطابق جب وہ ٹنڈو جان محمد تھانے میں اپنی شکایات درج کرانے گئے تو انہیں سننے کے بجائے دھمکایا گیا، جس سے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ مقامی پولیس اس گینگ کی پشت پناہی کر رہی ہے۔

    مظاہرین نے مزید الزام عائد کیا کہ بااثر سیاسی شخصیت میر طارق تالپور اس فراڈی نیٹ ورک کی مبینہ سرپرستی کر رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مقامی پولیس کارروائی سے گریزاں ہے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ میر طارق تالپور کے کردار کی اعلیٰ سطح پر غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔

    احتجاج کے دوران مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر "چانڈیو گینگ کے خلاف کارروائی کرو”، "لوٹی گئی رقم واپس دلاؤ”، اور "پولیس کی پشت پناہی بند کرو” جیسے نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر انہیں انصاف نہ ملا تو وہ احتجاج کا دائرہ سندھ بھر میں پھیلائیں گے۔

    انہوں نے حکومت سندھ، آئی جی سندھ پولیس، اور دیگر اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پولیس اہلکاروں کے کردار کی بھی چھان بین کی جائے۔ ذرائع کے مطابق متاثرین نے اس معاملے سے متعلق مزید شواہد اور ثبوت جلد اعلیٰ حکام کو فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے تاکہ فراڈ کے اس نیٹ ورک کی شفاف تحقیقات ممکن ہو سکے اور متاثرہ شہریوں کو انصاف دلایا جا سکے۔

  • خادمِ اوکاڑہ کا عزم ,عوام کی خدمت ہی مسلم لیگ (ن) کا منشور ہے: چوہدری فیاض ظفر

    خادمِ اوکاڑہ کا عزم ,عوام کی خدمت ہی مسلم لیگ (ن) کا منشور ہے: چوہدری فیاض ظفر

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور خادمِ اوکاڑہ چوہدری فیاض ظفر نے کہا ہے کہ حالیہ بارشوں کے دوران ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا گیا، اور یہ خدمت کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ وہ ایک وفد سے گفتگو کر رہے تھے جو بارشوں کے بعد کی صورت حال پر تبادلہ خیال کے لیے ان سے ملا۔

    چوہدری فیاض ظفر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ عوامی مسائل کو اپنی اولین ترجیح بنایا ہے اور مشکل کی ہر گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ "بارش ہو یا آفت، دن ہو یا رات — ہمارے دروازے اپنی عوام کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں، کیونکہ ہم سیاست کو عبادت اور خدمت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔”

    انہوں نے ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، ٹی ایم اے، اور دیگر متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے دن رات محنت کر کے متاثرہ علاقوں میں ریلیف پہنچایا اور پانی کے نکاس کے عمل کو تیز تر بنایا۔ چوہدری فیاض ظفر نے کہا کہ شہری اور دیہی علاقوں میں جہاں جہاں نکاسی آب کا مسئلہ سامنے آیا، وہاں فوری طور پر اقدامات اٹھائے گئے تاکہ لوگ کسی بڑی پریشانی سے دوچار نہ ہوں۔

    انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ قدرتی آفات کے دوران صبر و تحمل سے کام لیں اور حکومتی اداروں سے بھرپور تعاون کریں۔ چوہدری فیاض ظفر نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ ایک جامع حکمتِ عملی کے تحت بارش کے پانی کے دیرپا نکاس اور زرعی زمینوں کے تحفظ کے لیے جلد اعلیٰ حکام کو سفارشات پیش کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ "ہمیں جو عوامی اعتماد اور محبت ملی ہے، وہ ہمارا اصل سرمایہ ہے، اور اس خدمت کا سفر تب تک جاری رہے گا جب تک ہر شہری کو سہولت، تحفظ اور عزت کا مکمل حق نہیں مل جاتا۔ عوام کی خدمت ہی ہمارا منشور، مقصد اور سیاست کا اصل چہرہ ہے۔”

  • اوکاڑہ: ڈی ایچ کیو ہسپتال میں پارکنگ فیس کی اوورچارجنگ، ٹھیکیدار گرفتار، مقدمہ درج

    اوکاڑہ: ڈی ایچ کیو ہسپتال میں پارکنگ فیس کی اوورچارجنگ، ٹھیکیدار گرفتار، مقدمہ درج

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کی ہدایت پر ڈی ایچ کیو سٹی ہسپتال اوکاڑہ میں پارکنگ سٹینڈ کے ٹھیکیدار کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی گئی۔ اسسٹنٹ کمشنر رب نواز نے ہسپتال کے دورے کے دوران شکایات پر فوری ایکشن لیتے ہوئے مریضوں کے لواحقین سے پارکنگ فیس کی مد میں زائد رقم وصول کرنے پر پارکنگ سٹینڈ کے ٹھیکیدار کو موقع پر گرفتار کروایا اور اس کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا گیا۔

    اسسٹنٹ کمشنر نے ہسپتال میں عوامی شکایات کے بروقت اندراج کے لیے کمپلینٹ نمبر نمایاں طور پر آویزاں کرنے کے احکامات بھی جاری کیے تاکہ شہری کسی بھی زیادتی کی فوری اطلاع دے سکیں۔ ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر اور سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر کو ہدایت دی کہ وہ صبح اور رات کے اوقات میں پارکنگ سٹینڈ کی باقاعدہ مانیٹرنگ کریں۔

    ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے لواحقین سے پارکنگ فیس لینا کسی صورت جائز نہیں، اور پارکنگ فیسوں میں اوورچارجنگ کی صورت میں متعلقہ ٹھیکیداروں کے خلاف مزید مقدمات درج کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی سہولیات میں رکاوٹ یا زیادتی برداشت نہیں کی جائے گی اور غفلت برتنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

  • اوکاڑہ: ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کی زیر صدارت ضلعی افسران کا اجلاس

    اوکاڑہ: ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کی زیر صدارت ضلعی افسران کا اجلاس

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کی زیر صدارت ضلعی انتظامیہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع کے مختلف شعبہ جات کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد ابراہیم ارباب، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل حافظ محمد عمر طیب، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس اینڈ پلاننگ چوہدری عبدالجبار گجر، اسسٹنٹ کمشنر اوکاڑہ رب نواز، اسسٹنٹ کمشنر ایچ آر نور محمد، ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ شہباز سکھیرا، سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر وسیم جاوید اور ایس این اے افضال حسین شریک ہوئے۔

    ڈپٹی کمشنر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تمام افسران کو ہدایت کی کہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کے مطابق گڈ گورننس کو یقینی بناتے ہوئے عوامی بہتری کے لیے میدان عمل میں متحرک رہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں انقلابی اقدامات کے ذریعے شہریوں کے معیارِ زندگی کو بلند کیا جائے اور ہر ممکن سہولیات ان تک پہنچائی جائیں۔

    احمد عثمان جاوید نے افسران پر زور دیا کہ وہ عوامی خدمت کو اولین ترجیح دیں اور خلوص نیت سے محنت کرتے ہوئے مسائل کے حل اور سہولتوں کی فراہمی میں فعال کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت عبادت ہے، اور اس مشن میں کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

    اجلاس میں مختلف ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی حکمتِ عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، اور افسران نے اپنی کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے آئندہ لائحہ عمل سے بھی آگاہ کیا۔

  • سیالکوٹ: نوجوانوں کو روڈ سیفٹی لیکچر، ہیلمٹ اور قوانین پر عملدرآمد کا عزم

    سیالکوٹ: نوجوانوں کو روڈ سیفٹی لیکچر، ہیلمٹ اور قوانین پر عملدرآمد کا عزم

    سیالکوٹ (بیوروچیف خرم میر)ٹریفک ایجوکیشن ونگ سیالکوٹ کے زیر اہتمام سوئمنگ سیکھنے والے نوجوانوں کو روڈ سیفٹی اور ٹریفک قوانین سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کیلئے ایک خصوصی لیکچر کا انعقاد کیا گیا۔ لیکچر کی صدارت انچارج ایجوکیشن ونگ ڈاکٹر شفقت رسول نے کی، جنہوں نے نوجوانوں کو دورانِ ڈرائیونگ احتیاطی تدابیر اور قانون کی پاسداری کی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

    ڈاکٹر شفقت رسول نے نوجوان شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ہیلمٹ کا استعمال زندگی کی ضمانت ہے، جبکہ ون ویلنگ کوئی کھیل نہیں بلکہ موت کا پیغام ہے۔” انہوں نے کہا کہ تیز رفتاری، لاپرواہی اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈالتی ہے۔

    لیکچر کے دوران شرکاء کو عملی مثالوں سے سمجھایا گیا کہ کیسے معمولی سی غفلت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ ڈاکٹر شفقت رسول نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ روڈ سیفٹی اصولوں پر سختی سے عمل کریں، ٹریفک قوانین کا احترام کریں اور اپنے دوستوں و اہل خانہ کو بھی اس کی تلقین کریں تاکہ محفوظ سڑکوں کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

    لیکچر کے اختتام پر نوجوانوں نے اجتماعی طور پر عہد کیا کہ وہ ہیلمٹ کے استعمال کو یقینی بنائیں گے، تیز رفتاری سے اجتناب کریں گے اور ون ویلنگ جیسے خطرناک عمل سے مکمل پرہیز کریں گے۔ اس اقدام کو والدین اور شہری حلقوں کی جانب سے بھی سراہا گیا ہے۔

  • ٹرمپ کا سچ، مودی سرکار کے لیے سونامی بن گیا

    ٹرمپ کا سچ، مودی سرکار کے لیے سونامی بن گیا

    ٹرمپ کا سچ، مودی سرکار کے لیے سونامی بن گیا
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 19 جولائی 2025 کے بیان نے بھارتی سیاست میں زلزلہ پیدا کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنی پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روزہ جنگ کے دوران پاکستان نے بھارت کے پانچ جنگی طیارے مار گرائے۔ ان کے اس غیر متوقع بیان نے نہ صرف نریندر مودی کی حکومت کو شدید دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا بلکہ بی جے پی کے اُس بیانیے کو بھی چکناچور کر دیا جو "آپریشن سندور” کو بھارتی فتح اور مودی کی قیادت کا مظہر قرار دیتا تھا۔

    بی جے پی حکومت اس آپریشن کو ایک بڑی سفارتی اور عسکری کامیابی کے طور پر پیش کر رہی تھی، لیکن ٹرمپ کے انکشاف نے سوالات کی ایک نئی لہر کو جنم دے دیا ہے۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے فوری طور پر اس موقع کو سیاسی حملے کے لیے استعمال کیا۔ راہول گاندھی نے ایکس پر ٹرمپ کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہاکہ "مودی جی، پانچ طیاروں کا سچ کیا ہے؟ قوم جاننا چاہتی ہے۔” کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مطالبہ کیا کہ حکومت آپریشن سندور کے نقصانات اور جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھے۔ اُنہوں نے کارگل ریویو کمیٹی کی طرز پر ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن بنانے کی بھی تجویز دی۔

    پارٹی کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے یہ الزام عائد کیا کہ مودی حکومت نے جان بوجھ کر جنگی نقصانات کو چھپایا۔ اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ انڈونیشیا میں تعینات بھارتی دفاعی اتاشی کیپٹن شیو کمار نے نجی ملاقاتوں میں تسلیم کیا ہے کہ پانچ طیارے تباہ ہوئے تھے، لیکن حکومت نے خاموشی اختیار کی۔ پون کھیڑا نے ایکس پر لکھا کہ مودی اپوزیشن سے اس لیے بھاگ رہے ہیں کہ وہ سچ کو سامنے لانے سے قاصر ہیں۔

    متعدد اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے پر پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے، آل پارٹی کانفرنس کرنے اور مودی حکومت کو مکمل شفافیت کے لیے مجبور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بینرجی نے الزام لگایا کہ مودی کی جارحانہ خارجہ پالیسی نے بھارت کو عالمی سطح پر تنہا کر دیا ہے۔ ایکس پر ہزاروں صارفین نے مودی حکومت کی پالیسیوں کو ناکام اور عوام دشمن قرار دیاجبکہ بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ تک کہا گیا کہ فوج اور عوام دونوں سطحوں پر بے چینی بڑھ رہی ہے۔

    معروف صحافی کرن تھاپر نے لکھا کہ "آپریشن سندور ایک جھوٹی سیاسی کہانی تھی، جس کا مقصد بی جے پی کی گرتی ساکھ کو وقتی سہارا دینا تھا۔” دفاعی تجزیہ کار اجے ثانی نے کہا کہ میڈیا نے جان بوجھ کر حقائق کو چھپایا تاکہ مودی حکومت کی ناکامی بے نقاب نہ ہو۔

    اس تمام پس منظر میں معاشی مسائل، بے روزگاری، مہنگائی، کسانوں کے احتجاج اور اقلیتوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت انگیز پالیسیوں نے حکومت کے لیے زمین مزید کھسکنے جیسی کر دی ہے۔ ہندوتوا پر مبنی طرز حکمرانی اور میڈیا کی یکطرفہ حمایت نے عوامی غصے میں مزید شدت پیدا کی ہے۔ اپوزیشن اتحاد "انڈیا” نے ان تمام عوامل کو جوڑ کر بی جے پی کو آمرانہ، غیر شفاف اور عوام دشمن حکومت قرار دیا ہے۔

    اس پورے تنازع میں ایک اور پہلو یہ ہے کہ مودی حکومت عالمی سطح پر بھی دباؤ کا شکار ہو چکی ہے۔ پاکستان کے خلاف جنگ بندی کے فیصلے کو بی جے پی نے دو طرفہ سفارتی کامیابی قرار دیا، مگر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کی مداخلت نے اسے بھارتی خودمختاری پر سوالیہ نشان بنا دیا۔ وزیر خارجہ جے شنکر نے اگرچہ اسے دوطرفہ مشاورت کا نتیجہ قرار دیا مگر اپوزیشن اسے امریکی دباؤ کا نتیجہ سمجھتی ہے۔

    عالمی سطح پر مودی حکومت کو میانمار میں کی گئی فوجی کارروائیوں پر بھی شدید تنقید کا سامنا ہے، جسے بھارتی توسیع پسندانہ عزائم کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کا حالیہ انکشاف ان تمام چیلنجز کو ایک جگہ سمیٹ کر بی جے پی کے بیانیے پر کاری ضرب لگا چکا ہے۔

    اب مودی حکومت کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اس سونامی کا سامنا کس طرح کرتی ہے۔ کیا وہ حقائق کو سامنے لا کر شفافیت کا راستہ اپنائے گی یا ہمیشہ کی طرح میڈیا، بیانیے اور جارحانہ تقاریر کے سہارے اپنی ساکھ بچانے کی کوشش کرے گی؟
    یا پھر کوئی اور فالزفیلگ اپریشن کے راستے پر چلنے کی کوشش کریگی،جیسا مودی سرکار ماضی میں کئی بار ایسا کرچکی ہے.

    وقت بتائے گا کہ ٹرمپ کا سچ مودی سرکار کے لیے اٹھنے والا سونامی کس سمت بہتا ہے،کیا یہ صرف بی جے پی کے سیاسی بیانیے کو بہا کر لے جائے گا یا اقتدار کی بنیادیں بھی ہلا ڈالے گا؟

  • ٹھٹھہ: ایس ایچ او مبین پرھیار ہٹاؤ، ٹھٹھہ بچاؤ،عوامی تحریک شروع

    ٹھٹھہ: ایس ایچ او مبین پرھیار ہٹاؤ، ٹھٹھہ بچاؤ،عوامی تحریک شروع

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی ،ڈسٹرکٹ رپورٹر)ٹھٹھہ میں "ایس ایچ او مبین پرہیار ہٹاؤ، ٹھٹھہ بچاؤ تحریک” کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں عوامی پریس کلب ٹھٹھہ کے سامنے ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں صحافیوں، سول سوسائٹی، اور مختلف علاقوں سے آئے متاثرین نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ایس ایچ او تھانہ دھابیجی مبین پرھیار کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ اسے فوری طور پر برطرف کیا جائے۔

    مظاہرے میں ایوانِ صحافت مکلی کے سرپرست نظیر قریشی، صدر اکبر دلوانی اور ان کے رفقا، گھارو سے ممتاز لاشاری، بوہارا سے عزیز سومرو، ٹھٹھہ سے اسد سبزپوش، روزنامہ کوشش کے نمائندہ حسن عباس، سماجی رہنما صالح خانیو، مظہر جکھڑ اور ایس ایچ او کے مبینہ مظالم کا شکار محمد بلوچ، سید انور شاہ، اکبر کچھی سمیت متعدد افراد نے شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ایس ایچ او کے خلاف نعرے درج تھے۔

    احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ایوانِ صحافت مکلی کے صدر اکبر دلوانی، روزنامہ کوشش کے رپورٹر حسن عباس، سینیئر صحافی شبیر مانجھند اور عوامی پریس کلب کے جنرل سیکریٹری محمد عمر سرائی نے عوامی پریس کلب کے صدر بلاول سموں سے مکمل اظہارِ یکجہتی کیا۔ مقررین نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ ایس ایچ او مبین پرھیار کو فوری طور پر معطل کر کے اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

    عوامی پریس کلب ٹھٹھہ کے صدر بلاول سموں نے اپنے خطاب میں سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایچ او مبین پرھیار منشیات کی ترسیل، زمینوں پر قبضے، اغوا برائے تاوان، غیرقانونی آئل ایجنسیوں اور چوری شدہ پیٹرول و ڈیزل کی اسمگلنگ جیسے جرائم میں ملوث ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایس ایچ او نے تھانے کا کنٹرول ایک پرائیویٹ شخص حاجن ڈاهری کے سپرد کر رکھا ہے، جو تمام غیرقانونی کاموں کا فرنٹ مین ہے۔

    بلاول سموں نے بتایا کہ عوامی پریس کلب کی جدوجہد کے نتیجے میں ایس ایس پی ٹھٹھہ نے متعدد چھاپے مارے اور ہماری طرف سے لگائے گئے الزامات درست ثابت ہوئے، جن میں غیر قانونی آئل ڈپو، گٹکا، ماوا، منشیات فروشی، اغوا برائے تاوان اور زمینوں پر قبضے شامل ہیں۔

    انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ ایس ایچ او مبین پرھیار کو "ڈسمس فرام سروس” کیا جائے۔ بصورت دیگر عوامی پریس کلب کی زیر قیادت احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔

    احتجاج کے اختتام پر اعلان کیا گیا کہ تحریک کا دوسرا مرحلہ جمعرات کے روز ایس ایس پی آفس ٹھٹھہ کے سامنے دھرنے کی صورت میں شروع کیا جائے گا، جہاں مزید سخت اقدامات کا عندیہ دیا گیا ہے۔

  • آج کے اخبارات کے اداریے،عوام کا درد اور حکمرانوں کی بے حسی

    آج کے اخبارات کے اداریے،عوام کا درد اور حکمرانوں کی بے حسی

    آج کے اخبارات کے اداریے،عوام کا درد اور حکمرانوں کی بے حسی
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    آج 20 جولائی 2025 کو پاکستان کے بڑے اخبارات جیسے ڈان، جنگ، ایکسپریس، نوائے وقت اور بی بی سی اردو کے اداریوں اور خبروں میں عوام کو درپیش گوناگوں مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ان مسائل پر نہ صرف پرنٹ میڈیا میں کھل کر بات کی جا رہی ہے بلکہ سوشل میڈیا، خاص طور پر ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر بھی یہ موضوعات ٹرینڈ کر رہے ہیں، جو عوام کی بے چینی، مایوسی اور حکمرانوں کی بظاہر بے حسی کو واضح طور پر دکھاتے ہیں۔ ان تمام مباحثوں سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں عوامی درد شدت اختیار کر چکا ہے اور حکومت کی جانب سے مؤثر اقدامات کی کمی اس درد میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔

    ملک میں سیلاب اور واٹر مینجمنٹ کا مسئلہ ہر سال معمول کا بحران بن چکا ہے اور اس سال بھی اس پر کھل کر بات کی گئی ہے۔ ڈان کے ایک اداریے نے سیلاب کو پاکستان کا "معمول بن جانے والا بحران” قرار دیا، جو واٹر مینجمنٹ کے فقدان اور ڈیموں کی تعمیر میں سیاسی و قوم پرست رکاوٹوں کا نتیجہ ہے۔ یہ اداریہ صرف پانی کی تباہ کاریوں کا ذکر نہیں کرتا بلکہ اس کے پیچھے کارفرما سیاسی رکاوٹوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔ تجویز دی گئی ہے کہ نئے انتظامی یونٹس اور قوم پرستی کی سیاست کے خاتمے سے ہی اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی تجویز ہے جو سالہا سال سے دہرائی جا رہی ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے، جس سے عوام کے اندر شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ واٹر مینجمنٹ کے مسائل، جیسے پانی کی قلت اور تباہ کن سیلابوں کا غیر متوازن سلسلہ، ملک کی زرعی معیشت اور لاکھوں افراد کی زندگیوں کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس مسئلے پر شدید بحث جاری ہے، جہاں ایک صارف @Khyousufzai90 جیسے افراد ڈان کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ڈیموں کی تعمیر میں سیاسی رکاوٹوں پر تنقید کر رہے ہیں اور نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ یہ عوامی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ لوگ مسئلے کی جڑ کو سمجھتے ہیں لیکن حکمرانوں کی جانب سے ٹھوس حل نہ ہونے پر نالاں ہیں۔

    امن و امان کی صورتحال ملک بھر میں بالخصوص خیبرپختونخوا میں بدستور ایک تشویشناک مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ایکسپریس نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر تفصیلی تبصرہ کیا ہے، جہاں علی امین گنڈاپور نے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ صورتحال کس قدر سنگین ہے کہ صوبائی حکومت کو تمام فریقین کو ایک میز پر لانے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ ڈان نے انسداد دہشت گردی کے عدالتی فیصلوں اور مقدمات کی منتقلی کے بارے میں لکھا ہے، جو دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ ان عدالتی فیصلوں اور مقدمات کی پیچیدگیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دہشت گردی کا مسئلہ صرف فوجی کارروائیوں سے حل ہونے والا نہیں بلکہ ایک جامع قانونی اور عدالتی نظام کی بھی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات اور بلوچستان میں دہشت گردوں کے حملوں میں ہونے والی شہادتوں پر والدین کے صبر اور حب الوطنی کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی حکومت کی ناکامی پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ صحافی ارشد شریف کے قتل سے متعلق انصاف کی مانگ آج بھی سوشل میڈیا پر ایک اہم موضوع ہے، جہاں ان کے خاندان کی جدوجہد کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ عوامی احساسات کا آئینہ دار ہے کہ وہ انصاف اور امن کی فراہمی میں حکومت کی جانب سے مزید فعال کردار کے منتظر ہیں۔

    ملک کی معاشی صورتحال بھی عوام کے لیے ایک مستقل درد سر ہے۔ ڈان نے فری لانس اور ریموٹ ورک سیکٹر کی ترقی پر روشنی ڈالی ہے، جہاں برآمدات میں 90 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ 77 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک مثبت پہلو ہے اور معاشی ترقی کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔ تاہم یہ خوش آئند خبر ملک کی مجموعی معاشی مشکلات کو چھپا نہیں سکتی۔ اے آر وائی نیوز اور آج ٹی وی نے سونے کی قیمتوں میں اضافے اور موٹر سائیکل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر بات کی ہے، جو عام صارفین پر معاشی بوجھ بڑھا رہے ہیں۔ یہ وہ مسائل ہیں جو براہ راست ہر طبقے کے افراد کو متاثر کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی صارفین مہنگائی کے اثرات اور حکومتی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔ مہنگائی کی یہ لہر عوام کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کر رہی ہے، جس سے زندگی گزارنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے اور حکومت سے اس پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ شدت اختیار کر رہا ہے۔ عوامی سوچ یہ ہے کہ جب تک بنیادی ضروریات کی اشیاء کی قیمتیں کنٹرول میں نہیں آتی، معاشی ترقی کے دعوے بے معنی ہیں۔

    کشمیر ایشو بھی ایک ایسا دیرینہ مسئلہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی اور عوامی جذبات کا اہم حصہ ہے۔ ڈان اور نوائے وقت نے کشمیر سے متعلق تاریخی اور موجودہ حالات پر تبصرہ کیا ہے، خاص طور پر 19 جولائی 1947 کو پاکستان سے الحاق کی قرارداد کی یاد تازہ کی گئی ہے۔ بھارت کے زیر قبضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کو "وحشیانہ اقدام” قرار دیا گیا ہے، جو کشمیری عوام کے حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ مسئلہ ہر پاکستانی کے دل میں بسا ہوا ہے اور اس پر حکومتی غیر فعالیت عوام کو مزید پریشان کرتی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت میں آوازیں اٹھائی جا رہی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اس مسئلے پر کسی قسم کی کمپرومائزنگ پوزیشن قبول کرنے کو تیار نہیں۔ حکمرانوں کی جانب سے اس مسئلے پر عملی اقدامات کا فقدان عوامی بے چینی کا باعث بن رہا ہے۔

    صحت اور سماجی مسائل بھی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ بی بی سی اردو اور نوائے وقت نے اداکارہ حمیرا اصغر کی پراسرار ہلاکت کے کیس میں پیش رفت پر تبصرہ کیا ہے، جہاں پوسٹ مارٹم رپورٹس میں کوئی زہریلی یا نشہ آور چیز نہ ملنے کی بات کی گئی ہے۔ اس کیس میں شفافیت اور انصاف کی فراہمی کے لیے عوامی دباؤ مسلسل موجود ہے۔ اس کے علاوہ، نوائے وقت نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے حکومتی رویے پر شدید تنقید کی ہے۔ یہ وہ سماجی مسئلہ ہے جو طویل عرصے سے عوام کے ذہنوں میں موجود ہے اور ان کی رہائی کے لیے ایکس (سوشل میڈیا) پر بھی ایک بھرپور مہم جاری ہے۔ عوامی سوچ یہ ہے کہ حکومت کو اپنی بیٹی کی رہائی کے لیے مزید سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں اور موجودہ رویہ حکمرانوں کی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ مسائل انسانی حقوق اور ریاستی ذمہ داریوں پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔

    تعلیم اور سرکاری اصلاحات کی ضرورت پر بھی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ ڈان نے سرکاری افسران کی بھرتی، ترقیاور تربیت کے نظام میں بہتری کی ضرورت پر زور دیا ہے، جیسا کہ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اجلاس میں بتایا۔ یہ اصلاحات ملکی ترقی اور گڈ گورننس کے لیے بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔ تاہم، ان اصلاحات کا صرف اجلاسوں میں ذکر کرنا کافی نہیں بلکہ ان پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ عوامی سطح پر تعلیم کے معیار اور سرکاری اداروں کی کارکردگی پر شدید عدم اطمینان پایا جاتا ہے اور یہ توقع کی جاتی ہے کہ حکومت اس شعبے میں حقیقی بہتری لائے گی۔

    مجموعی طور پر آج کے اخبارات اور سوشل میڈیا پر زیر بحث تمام مسائل پاکستان کے عام شہری کے روزمرہ کے درد کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے لے کر امن و امان کی خراب صورتحال، بڑھتی ہوئی مہنگائی، کشمیر کے حل طلب مسئلے اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی جیسے سماجی معاملات تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ہر شعبے میں عوام حکومت کی جانب سے فوری، مؤثر اور نتیجہ خیز اقدامات کے منتظر ہیں۔ کیا حکمران واقعی عوام کی اس بے چینی، اضطراب اور مایوسی کو محسوس کر رہے ہیں یا یہ درد صرف اداریوں اور سوشل میڈیا کی زینت بن کر ہی رہ جائے گا اور حکومتی بے حسی بدستور برقرار رہے گی؟