Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ٹھٹھہ: میرپور ساکرو میں بااثر افراد کی زمین پر قبضے کی کوشش، بیوہ خاتون انصاف کے لیے عوامی پریس کلب پہنچ گئی

    ٹھٹھہ: میرپور ساکرو میں بااثر افراد کی زمین پر قبضے کی کوشش، بیوہ خاتون انصاف کے لیے عوامی پریس کلب پہنچ گئی

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی،ڈسٹرکٹ رپورٹربلاول سموں)میرپور ساکرو میں بااثر افراد کی زمین پر قبضے کی کوشش، بیوہ خاتون انصاف کے لیے عوامی پریس کلب پہنچ گئی

    تفصیلات کے مطابق میرپورساکرو تعلقہ کے گاؤں حاجی بچل تنیو کی رہائشی بیوہ مسمات حاجیانی زوجہ سلیم تنیو نے عوامی پریس کلب مکلی ،ٹھٹھہ میں پہنچ کر فریاد کی ہے کہ ان کے مرحوم شوہر سلیم تنیو کی ملکیتی زمین، جو دیہہ ڈارکی تعلقہ میرپورساکرو میں واقع ہے اور جس کا رقبہ 17 .3 ایکڑ ہے، اس پر ان ہی کی برادری کے بااثر اور جرائم پیشہ افراد جن میں بدنام زمانہ علی تنیو، اس کے ساتھی مٹھو تنیو اور یوسف تنیو شامل ہیں جو زبردستی زمین پرقبضہ کرنا چاہتے ہیں۔

    متاثرہ بیوہ کا کہنا ہے کہ مذکورہ افراد انہیں مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں کہ زمین ان کے نام منتقل کر دی جائے، ورنہ وہ انہیں قتل کر دیں گے۔ بیوہ حاجیانی کے مطابق گزشتہ دنوں ان جرائم پیشہ عناصر نے طاقت کے زور پر ان کی زمین پر ٹریکٹر چلانے کی کوشش کی، جب انہوں نے منع کیا تو ان پر تشدد کیا گیا۔

    بیوہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس واقعے کی اطلاع تھانہ ساکرو کے ایس ایچ او کو دی اور تحفظ کی درخواست کی، تاہم پولیس نے تاحال کوئی کارروائی نہیں کی اور ملزمان مسلسل سنگین دھمکیاں دے رہے ہیں۔

    متاثرہ خاتون نے ڈی ایس پی ساکرو، ایس ایس پی ٹھٹھہ، ڈی آئی جی حیدرآباد، ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ، آئی جی سندھ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیں، بااثر غاصبوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں اور انہیں انصاف و تحفظ فراہم کیا جائے۔

  • اوچ شریف: مزارات پر جعلی خلیفے قابض، نذرانوں کی بندربانٹ، اوقاف کی ملی بھگت بے نقاب

    اوچ شریف: مزارات پر جعلی خلیفے قابض، نذرانوں کی بندربانٹ، اوقاف کی ملی بھگت بے نقاب

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)روحانیت کے مرکز اوچ شریف کے تاریخی مزارات مبینہ طور پر جعلی خلیفوں کے قبضے میں چلے گئے ہیں۔ عقیدت کی آڑ میں سرگرم "خلیفہ مافیا” نے محکمہ اوقاف کے کرپٹ افسران کی سرپرستی میں مزارات کو نفع بخش کاروبار میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں لاکھوں روپے کے نذرانے، چادریں، خیرات اور عطیات روزانہ کی بنیاد پر ہڑپ کیے جا رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق اولیاء کرام کے ان مقدس مقامات پر اصل خدام کی جگہ غیر متعلقہ، نان اہل افراد کو خلیفہ مقرر کر دیا گیا ہے جن کی نہ کوئی دینی سند ہے نہ تربیت۔ ایک ایک مزار پر پانچ پانچ خلیفے تعینات ہیں جو نذر و نیاز کی تقسیم کے نام پر بدترین بندر بانٹ میں ملوث ہیں۔ ان تقرریوں کا کوئی ضابطہ، قانون یا شفافیت موجود نہیں بلکہ یہ تمام کارروائیاں مبینہ طور پر رشوت، سفارش اور کمیشن کے نظام کے تحت ہو رہی ہیں۔

    محکمہ اوقاف کے افسران پر الزام ہے کہ وہ ان جعلی خلیفوں سے ماہانہ "حصہ” وصول کرتے ہیں اور بدلے میں انہیں کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔ ان خلیفوں کی عیاشیاں، بچوں کی شاہانہ زندگی اور مقدس مقامات کی بے توقیری ایک لمحہ فکریہ بن چکی ہے۔ زائرین، جو عقیدت کے جذبے سے درباروں پر حاضری دیتے ہیں، صاف پانی، بیت الخلا، سیکیورٹی اور رہائش جیسی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔

    مقامی علما، شہریوں اور سول سوسائٹی نے اس صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعلیٰ پنجاب، اور محکمہ اینٹی کرپشن سے مطالبہ کیا ہے کہ اوچ شریف کے مزارات پر قابض جعلی خلیفوں اور محکمہ اوقاف کے بدعنوان افسران کے خلاف فوری طور پر جوڈیشل انکوائری کا حکم دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اولیاء کرام کے مزارات کو کرپشن، جعلسازی اور دنیاوی ہوس سے پاک کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    اس معاملے نے نہ صرف عوام کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے بلکہ ان مقدس مقامات کے تقدس پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ عوامی مطالبے کے پیش نظر یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ حکومت اور عدلیہ اس سنگین کرپشن اسکینڈل پر کب اور کیا عملی قدم اٹھاتی ہے۔

  • احمد پور شرقیہ: ڈینگی سے بچاؤ کیلئے TERC اجلاس، بین المحکماتی تعاون اور عوامی شمولیت پر زور

    احمد پور شرقیہ: ڈینگی سے بچاؤ کیلئے TERC اجلاس، بین المحکماتی تعاون اور عوامی شمولیت پر زور

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)احمد پور شرقیہ میں ڈینگی کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایمرجنسی رسپانس کمیٹی (TERC) کا ایک اہم اجلاس اسسٹنٹ کمشنر نوید حیدر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ صحت، بلدیاتی ادارے، تعلیمی شعبے اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ ڈینگی انسپکٹر نوید حیدر سیال نے ڈینگی سے بچاؤ کی موجودہ مہم پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    اسسٹنٹ کمشنر نوید حیدر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈینگی ایک سنگین عوامی صحت کا چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے تمام محکموں کے اشتراک اور عوامی شمولیت کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف حکومتی کوششیں کافی نہیں بلکہ شہریوں کی فعال شراکت سے ہی کامیابی ممکن ہے۔

    اجلاس میں متعدد اہم فیصلے کیے گئے، جن میں شہری و دیہی علاقوں میں صفائی مہم کو تیز کرنے، پانی کے ذخائر پر کڑی نگرانی، لاروا کش اسپرے کو مزید وسعت دینے، تعلیمی اداروں میں طلبہ کے لیے آگاہی سیشنز کے انعقاد، اور مساجد، سماجی تنظیموں و مقامی رہنماؤں کو مہم کا حصہ بنانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

    فوکل پرسن نوید سیال نے بتایا کہ محکمہ صحت کی ٹیمیں فیلڈ میں مسلسل سرگرم عمل ہیں، جدید ڈیجیٹل رپورٹنگ سسٹم کے ذریعے مشتبہ مقامات کی نشاندہی اور بروقت کارروائی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ دنوں میں کیسز کی شرح میں کمی آئی ہے، مگر خطرہ ابھی مکمل ختم نہیں ہوا۔

    اسسٹنٹ کمشنر نے اجلاس کے اختتام پر شہریوں سے اپیل کی کہ وہ گھروں، گلیوں اور بازاروں میں صفائی ستھرائی کو یقینی بنائیں، پانی کھڑا نہ ہونے دیں اور کسی بھی مشتبہ صورت میں فوری انتظامیہ سے رابطہ کریں۔ انہوں نے کہا، "ڈینگی کے خلاف جنگ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور صرف اجتماعی کوششوں سے ہی ہم اس خطرے پر قابو پا سکتے ہیں۔”

    یہ اجلاس بین المحکماتی ہم آہنگی اور عوامی شعور کی بیداری کے ذریعے ڈینگی کے مکمل خاتمے کی طرف ایک عملی قدم تصور کیا جا رہا ہے۔

  • اوچ شریف: قاری مختیار بھگلہ برادری سمیت مخدوم عامر علی شاہ کے قافلے میں شامل

    اوچ شریف: قاری مختیار بھگلہ برادری سمیت مخدوم عامر علی شاہ کے قافلے میں شامل

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے رتہر نہڑانوالی کی معروف شخصیت قاری مختیار احمد بھگلہ نے اپنی برادری سمیت رکنِ صوبائی اسمبلی مخدوم سید عامر علی شاہ کی بھرپور حمایت کا اعلان کر دیا۔ اس موقع پر غوث الاعظم ہاؤس میں ایک پُروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں انہوں نے باقاعدہ سیاسی شمولیت اختیار کرتے ہوئے سید عامر علی شاہ کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

    قاری مختیار احمد بھگلہ، جو ماضی میں مخدوم سید سمیع الحسن گیلانی کے سیاسی کیمپ سے وابستہ رہے، نے موجودہ سیاسی منظرنامے میں تبدیلی اور مخدوم سید عامر علی شاہ کی قیادت سے متاثر ہو کر نیا سیاسی فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنی برادری کے ہمراہ سیاسی وابستگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ علاقے کی ترقی اور عوامی خدمت کے وژن کی تکمیل کے لیے موجودہ قیادت کے ساتھ چلیں گے۔

    تقریب میں دعا خیر کی گئی اور برادری کے دیگر معززین نے بھی قاری مختیار احمد کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے اس نئے سیاسی اتحاد کو خوش آئند قرار دیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اعلان کے بعد حلقہ پی پی 250 میں سیاسی توازن نئی کروٹ لے سکتا ہے اور یہ پیش رفت مستقبل کے انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔

    مخدوم سید عامر علی شاہ نے قاری مختیار احمد بھگلہ اور ان کے ساتھیوں کا پرتپاک خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ شمولیت نہ صرف جماعت کو تقویت دے گی بلکہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں مزید بہتری آئے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ علاقے کے عوام کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور ترقی کا سفر جاری رہے گا۔

    مقامی سطح پر اس خبر کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے اور اسے اوچ شریف کے سیاسی نقشے میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

  • سیالکوٹ: دریاؤں، نہروں اور نالوں سے مٹی اور ریت نکالنے پر مکمل پابندی عائد

    سیالکوٹ: دریاؤں، نہروں اور نالوں سے مٹی اور ریت نکالنے پر مکمل پابندی عائد

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی،بیوروچیف خرم میر) ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی نے سیلابی سیزن کے پیش نظر عوامی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے دریاؤں، نہروں اور نالوں سے ریت اور مٹی نکالنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس ضمن میں ضلعی انتظامیہ نے سیکشن 144 کے تحت 60 روز کے لیے سخت پابندی نافذ کر دی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا ہے کہ غیر قانونی کھدائی کے باعث مصنوعی نالے بننے اور پانی کے قدرتی بہاؤ میں تبدیلی کا خطرہ موجود ہے، جس سے نہ صرف زرعی نظام متاثر ہو سکتا ہے بلکہ حفاظتی بند بھی شدید نقصان کا شکار ہو سکتے ہیں۔ پانی کی رفتار میں غیرمعمولی اضافہ ان بندوں کو کمزور کر کے ممکنہ تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ سیلابی سیزن میں تمام تر اقدامات انسانی زندگی اور املاک کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جا رہے ہیں، اور کسی قسم کی غفلت یا قانون شکنی برداشت نہیں کی جائے گی۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی جگہ خلاف ورزی یا غیر قانونی کھدائی کی اطلاع ہو تو فوری طور پر ہیلپ لائن 1718 یا فون نمبر 052-9250011 پر ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کریں۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حکم دیا ہے کہ اس پابندی کے احکامات پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور اسے وسیع پیمانے پر مشتہر کیا جائے تاکہ عوامی شعور میں اضافہ ہو سکے۔

    ضلعی انتظامیہ کا یہ قدم ماحولیاتی تحفظ، آبی بہاؤ کی بحالی، اور ممکنہ قدرتی آفات سے بروقت بچاؤ کی جانب ایک مثبت پیش رفت ہے۔

  • سیالکوٹ: عظمت صحابہ و اہل بیت کانفرنس آج مرکزی عیدگاہ شہاب پورہ روڈ پر ہوگی

    سیالکوٹ: عظمت صحابہ و اہل بیت کانفرنس آج مرکزی عیدگاہ شہاب پورہ روڈ پر ہوگی

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی رپورٹ) مرکزی جمعیت اہل حدیث سیالکوٹ کے زیر اہتمام عظمت صحابہ و اہل بیت کانفرنس آج بروز ہفتہ، مرکزی عیدگاہ شہاب پورہ روڈ پر منعقد کی جا رہی ہے۔ کانفرنس کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

    مرکزی جمعیت اہل حدیث سیالکوٹ کے سیکرٹری اطلاعات و نشریات حافظ عبدالباسط حسن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کانفرنس میں ملک کے مختلف علاقوں سے نامور جید علمائے کرام، مفسرین اور شیخ الحدیث شرکت کریں گے اور عظمتِ صحابہ کرام و اہل بیت اطہار پر ایمان افروز خطابات فرمائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ اس روح پرور اجتماع کا مقصد امت مسلمہ میں صحابہ کرام اور اہل بیت کی عظمت و محبت کو اجاگر کرنا، اتحاد بین المسلمین کو فروغ دینا اور عوام کو اسلام کی اصل تعلیمات سے روشناس کروانا ہے۔

    حافظ عبدالباسط حسن نے شہرِ سیالکوٹ کے تمام مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس عظیم الشان کانفرنس میں بھرپور شرکت کر کے اپنے دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور کریں اور دینِ حق کے پیغام کو سمجھیں۔

  • سیالکوٹ: ہمت کارڈ، دھی رانی پروگرام اور معاون آلات کی فراہمی کا جائزہ

    سیالکوٹ: ہمت کارڈ، دھی رانی پروگرام اور معاون آلات کی فراہمی کا جائزہ

    سیالکوٹ (بیوروچیف خرم میر)ڈویژنل کوآرڈینیٹر سوشل ویلفیئر و بیت المال گوجرانوالہ رانا علی یاسر اور ڈائریکٹر پروگرام لاہور مزمل یار نے سوشل ویلفیئر کمپلیکس سیالکوٹ کا تفصیلی دورہ کیا۔ انہوں نے دارالامان، ماڈرن چلڈرن ہوم اور صنعت زار کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے انیشیٹوز جیسے ہمت کارڈ، معاون آلات کی فراہمی اور دھی رانی پروگرام کی زمینی صورتحال کا جائزہ لیا۔

    ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر سیالکوٹ شریف گھمن نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کے تحت 1200 خصوصی افراد کو سہ ماہی نقد امداد کی فراہمی کیلئے ہمت کارڈز جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ 200 مستحق افراد کو وہیل چیئرز اور دیگر معاون آلات فراہم کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دھی رانی پروگرام کی رجسٹریشن بھی مرحلہ وار جاری ہے، جس سے بے سہارا خواتین کو باعزت خود کفالت کی طرف گامزن کیا جا رہا ہے۔

    اس موقع پر ڈویژنل کوآرڈینیٹر رانا علی یاسر نے مختلف یونٹس کا جائزہ لیتے ہوئے سروسز کی بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ سوشل ویلفیئر و بیت المال پنجاب، وزیر اعلیٰ مریم نواز اور صوبائی وزیر سہیل شوکت بٹ کے ویژن کے مطابق معاشرے کے کمزور طبقات کو سہارا دینے کے لیے سرگرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستحق افراد تک ان کے حقوق کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے جاری منصوبوں کی سخت مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔

    دورے کے موقع پر منیجر صنعت زار محمد غالب، انچارج ماڈرن چلڈرن ہوم اسماء احمد، اسسٹنٹ ڈائریکٹرز ابرار عبداللہ ساہی، عدنان سرور، اشفاق نذر گھمن اور پیر غلام حسین سلطانی بھی موجود تھے۔

  • گوجرانوالہ: تاوان کے لیے اغوا کیا گیا 9 سالہ شایان قتل، لاش ویران حویلی سے برآمد

    گوجرانوالہ: تاوان کے لیے اغوا کیا گیا 9 سالہ شایان قتل، لاش ویران حویلی سے برآمد

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)تھانہ فیروز والا کی حدود میں انسانیت سوز واقعہ، 9 سالہ شایان اغوا کے بعد بے دردی سے قتل۔ اغوا کاروں نے ایک کروڑ روپے تاوان کے لیے معصوم بچے کو اغوا کیا اور قتل کے بعد لاش ویران حویلی میں دفنا دی۔

    پولیس کے مطابق 9 سالہ شایان کو چار روز قبل اُس کے گھر کے قریب سے اغوا کیا گیا تھا۔ ملزمان نے بچے کے اہل خانہ سے رابطہ کر کے تاوان کے طور پر ایک کروڑ روپے کا مطالبہ کیا، اور بطور ثبوت شایان کا جوتا اور ایک USB ڈیوائس ورثا کو بھیجی گئی۔ اس مطالبے کے بعد بچے کی جان لینے والے سفاک ملزمان نے لاش کو ایک ویران حویلی میں دفن کر دیا۔

    واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی، شایان کی لاش کو نکال کر پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا اور شواہد اکٹھے کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ تاہم چار روز گزرنے کے باوجود پولیس کسی بھی ملزم کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے، جس پر عوامی حلقوں میں شدید تشویش اور غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    اہلِ علاقہ اور شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس اندوہناک واقعے میں ملوث ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے نشانِ عبرت بنایا جائے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اگر پولیس بروقت کارروائی کرتی تو شاید معصوم شایان کی جان بچائی جا سکتی۔

  • صحرائےتھر میں سانپوں کا راج، بارش کے بعد 200 افراد زہریلے ڈنک کا شکار

    صحرائےتھر میں سانپوں کا راج، بارش کے بعد 200 افراد زہریلے ڈنک کا شکار

    تھرپارکر (باغی ٹی وی رپورٹ) صحرائے تھر میں حالیہ مون سون بارشوں کے بعد خطرناک سانپوں کی بڑی تعداد بلوں سے باہر نکل آئی ہے، جس کے باعث انسانی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2025 کے آغاز سے اب تک ضلع تھرپارکر میں 200 سے زائد افراد کو سانپوں نے ڈس لیا ہے، جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    متاثرہ افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل
    محکمہ صحت کے مطابق سانپ کے ڈسے جانے والے مریضوں میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ متاثرین کو ضلع بھر کے مختلف مراکز صحت میں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ تشویشناک حالت میں موجود چند مریضوں کو حیدرآباد کے ہسپتالوں میں ریفر کیا گیا۔ ایک مریض جانبر نہ ہو سکا اور اس کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔

    خطرناک سانپوں کی اقسام اور افزائش کا موسم
    ماہرینِ حیاتیات کے مطابق صحرائے تھر کے جنگلات اور ریگزاروں میں سانپوں کی 10 سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں، جن میں سب سے خطرناک نیوروٹاکسک (دماغی نظام کو متاثر کرنے والا) اور مسکولوٹاکسک (پٹھوں پر اثر انداز ہونے والا) زہر رکھنے والے سانپ شامل ہیں۔
    مون سون کے موسم میں سانپوں کی افزائش کا دور شروع ہوتا ہے جس میں وہ بلوں سے باہر نکلتے ہیں۔ اس دوران وہ زیادہ متحرک اور جارح مزاج ہو جاتے ہیں کیونکہ زہر خارج کرنے کی فطری ضرورت اور موسمی درجہ حرارت میں تبدیلی ان کی حرکات کو تیز کر دیتی ہے۔

    سانپ کیوں ڈس لیتے ہیں؟
    ماہرین کا کہنا ہے کہ سانپ عام طور پر خود حملہ نہیں کرتے بلکہ آہٹ محسوس کر کے دفاعی طور پر ڈس لیتے ہیں۔ چونکہ صحرائی علاقوں میں لوگ اکثر ننگے پاؤں یا بغیر احتیاطی تدابیر کے سفر کرتے ہیں، اس لیے وہ ان حملوں کی زد میں آ جاتے ہیں۔

    اینٹی وینم کی دستیابی اور علاج کی صورتحال
    ڈاکٹرز کے مطابق سانپ کے کاٹے کا واحد مؤثر علاج اینٹی اسنیک وینم انجیکشن ہے، جو سرکاری ہسپتالوں میں دستیاب ہے۔ ایک مریض کو اوسطاً 7 سے 10 انجیکشنز لگانے پڑتے ہیں تاکہ زہر کے اثرات کو ختم کیا جا سکے۔محکمہ صحت تھرپارکر نے تمام ضلعی اور تحصیل سطح کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور اضافی اسٹاک کی فراہمی یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

    ماہرین کی احتیاطی تدابیر
    طبی ماہرین اور محکمہ وائلڈ لائف نے شہریوں کو تاکید کی ہے کہ وہ خاص طور پر بارشوں کے بعد صحرا یا جھاڑیوں میں جاتے ہوئے لانگ بوٹس پہنیں، لاٹھی کا استعمال کریں اور رات کے وقت ہاتھ میں روشن بتی رکھیں تاکہ سانپوں یا دیگر حشرات سے بچا جا سکے۔

    ریاستی اقدامات اور عوامی تحفظ کی اپیل
    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہر سال بارشوں کے بعد سانپوں کی یلغار معمول بن چکی ہے مگر حکومتی سطح پر مستقل حکمت عملی موجود نہیں۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آگاہی مہم چلائی جائے، موبائل یونٹس بھیجے جائیں اور دیہی سطح پر طبی سہولیات کو فوری مستحکم کیا جائے۔

  • سیالکوٹ: بزنس فیسلیٹیشن سینٹر کی شاندار کارکردگی، 99 فیصد درخواستیں مکمل

    سیالکوٹ: بزنس فیسلیٹیشن سینٹر کی شاندار کارکردگی، 99 فیصد درخواستیں مکمل

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر مدثر رتو)ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی کی زیر صدارت بزنس فیسلیٹیشن سینٹر (مرکزِ سہولتِ کاروبار) کی مارچ تا مئی 2025 کی سہ ماہی کارکردگی کا جائزہ اجلاس ڈی سی آفس کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا، جس میں 33 محکموں کے نمائندوں سمیت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل سید ایوب بخاری، سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر عمر خالد اور بی ایف سی منیجر طلحہ سلہریا نے شرکت کی۔

    ڈپٹی کمشنر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بزنس فیسلیٹیشن سینٹر پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ اور محکمہ صنعت، تجارت و سرمایہ کاری کے تعاون سے ایک "ون ونڈو” سہولت کے طور پر کاروباری افراد، صنعتکاروں اور عام شہریوں کو خدمات فراہم کر رہا ہے، جس کا مقصد کاروباری ماحول کو سہل اور مؤثر بنانا ہے۔ یہ مرکز 11 جنوری 2024 سے فعال ہے اور ضلعی سطح پر سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

    اجلاس میں پیش کردہ رپورٹ کے مطابق، مرکز نے سہ ماہی کے دوران 5,158 درخواستوں—جن میں رجسٹریشنز، لائسنسز، سرٹیفکیٹس اور پرمٹس شامل ہیں—پر کارروائی کی، جن میں سے 99 فیصد مکمل ہو چکی ہیں، جبکہ صرف 34 درخواستیں تاحال زیر التوا ہیں۔ مزید یہ کہ مرکز سے 7,516 شہریوں نے براہ راست خدمات حاصل کیں اور 2,055 مشاورتی نشستیں منعقد کی گئیں۔

    ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی نے زور دیا کہ آسان کاروبار کی فراہمی اور صنعتی ترقی کے لیے مرکزِ سہولتِ کاروبار کی فعالیت ضلعی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اُنہوں نے سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کے ساتھ قریبی مشاورت سے سروس ڈیلیوری کو مزید بہتر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    اجلاس کے اختتام پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے محکموں اور افسران میں تعریفی اسناد تقسیم کی گئیں تاکہ عوامی خدمت، سرمایہ کاری کے فروغ اور شفاف سروس فراہمی کے جذبے کو سراہا جا سکے۔