Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ: کریانہ سٹور میں ڈکیتی، 15 لاکھ روپے لوٹ لیے، فائرنگ سے راہگیر شدید زخمی

    سیالکوٹ: کریانہ سٹور میں ڈکیتی، 15 لاکھ روپے لوٹ لیے، فائرنگ سے راہگیر شدید زخمی

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض) تھانہ کوٹلی لوہاراں کے علاقے میں ڈکیتی کی سنگین واردات پیش آئی ہے، جہاں تین موٹر سائیکل سوار مسلح ڈاکوؤں نے اسلحہ کے زور پر بشیر کریانہ سٹور کو لوٹ لیا اور فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے۔

    ذرائع کے مطابق ڈاکو کریانہ سٹور سے 15 لاکھ روپے نقدی لوٹ کر فرار ہوئے۔ واردات کے بعد جب ڈاکو مراکیوال کی طرف جا رہے تھے تو متاثرہ شہری کے بھائی نے انہیں روکنے کی کوشش کی، جس پر ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کی زد میں آ کر یاسین نامی راہگیر شدید زخمی ہو گیا جسے فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    واقعہ کی اطلاع ملتے ہی تھانہ کوٹلی لوہاراں پولیس موقع پر پہنچی، زخمی کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ ملزمان کی تلاش کے لیے علاقے میں ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا جائے گا۔

    شہری حلقوں نے دن دیہاڑے ہونے والی اس واردات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف فوری اور موثر کارروائی کی جائے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

  • بارشوں کا ماسٹر پلان اور نااہل سرکاری ادارے

    بارشوں کا ماسٹر پلان اور نااہل سرکاری ادارے

    بارشوں کا ماسٹر پلان اور نااہل سرکاری ادارے
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    پاکستان اگر سونے کی چڑیا ہے تو وہ صرف سرکاری اشرافیہ کے لیے ہے۔ ایک ایسی ریاست جہاں بجلی، گیس اور پٹرول جیسی نعمتیں عوام کی پہنچ سے باہر ہیں، مگر سرکاری ادارے ان سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ فائدے ہم عوام کے حصے میں نہیں آتے، نہ ہی آپ کے لیے ہیں، نہ میرے لیے۔ اس ملک میں جو بھی سہولت ہے، وہ صرف ان سرکاری طبقوں کے لیے ہے جن کے بل بھی ہم ہی ادا کرتے ہیں۔ مگر سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ان اداروں میں بھرتی کیے گئے نالائق، سیاسی بنیادوں پر لائے گئے افراد نے ملک کی ہر منصوبہ بندی کو ناکام کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بارش جیسا قدرتی، متوقع اور سادہ سا موسمی عمل بھی ہمارے لیے آفت بن کر آتا ہے۔

    پاکستان میں ہر سال مون سون کا موسم ایک مقررہ وقت پر آتا ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے پیشگی وارننگز جاری ہوتی ہیں، اخبارات اور ٹی وی چینلز پر مسلسل الرٹس دیے جاتے ہیں، مگر جیسے ہی بارش کا آغاز ہوتا ہے، ہمارے شہر پانی میں ڈوبنے لگتے ہیں۔ لاہور، فیصل آباد، ملتان، اوکاڑہ سمیت تمام بڑے شہر ندی نالوں کا منظر پیش کرتے ہیں، گلیاں پانی سے لبریز ہو جاتی ہیں، گھروں کے اندر پانی داخل ہو جاتا ہے اور عوام کا جینا دوبھر ہو جاتا ہے۔ کیا یہ کوئی اچانک آفت ہے؟ ہرگز نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر بارش ہر سال ہوتی ہے، تو پھر ہم ہر سال تباہی سے دوچار کیوں ہوتے ہیں؟ کیا یہ حکومتوں کی ناکامی ہے یا صرف منصوبہ سازوں کی؟

    حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ادارے محض کاغذی منصوبہ بندی کے ماہر ہیں۔ لاہور جیسے شہر میں جہاں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے دکھائی دیتے ہیں، وہیں ایک گھنٹے کی بارش میں مین بلیوارڈ، جیل روڈ، گلبرگ اور شاہدرہ جیسے علاقے پانی میں ڈوب جاتے ہیں۔ اوکاڑہ میں نکاسی آب کی صورتحال تو اس سے بھی ابتر ہے۔ نالوں کی صفائی سالہا سال نہیں ہوتی، نکاسی آب کا کوئی جامع نظام موجود نہیں، اور شہر کی غیر منصوبہ بند توسیع نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس ساری بدانتظامی کی سب سے بڑی وجہ سرکاری اداروں میں سیاسی بھرتیاں اور اقربا پروری ہے، جس نے ادارہ جاتی میرٹ اور استعداد کار کو دفن کر دیا ہے۔

    پنجاب میں نکاسی آب کی ذمہ داری محکمہ بلدیات، واسا، محکمہ آبپاشی اور مقامی حکومتوں کے کندھوں پر ہے، مگر یہ ادارے اس وقت تک حرکت میں نہیں آتے جب تک کسی شہری کی ویڈیو وائرل نہ ہو جائے یا وزیر اعلیٰ بذات خود سڑکوں پر نہ نکل آئیں۔ فنڈز ہر سال جاری ہوتے ہیں مگر زیادہ تر کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں، یا کام ادھورا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اوکاڑہ شہر کے علاقے صمد پورہ، صدیق نگر، جنوبی اوکاڑہ، سٹی نالہ، غلہ منڈی اور گول چکر میں ہر سال بارش کے ساتھ نکاسی آب کا نظام مکمل طور پر فیل ہو جاتا ہے۔ شہری مجبوراً خود موٹریں لگا کر پانی نکالتے ہیں جبکہ سرکاری ادارے صرف تصاویر بنوا کر سوشل میڈیا پر رپورٹ مکمل کر لیتے ہیں۔ اس سے بڑی ادارہ جاتی بے حسی اور کیا ہو سکتی ہے؟

    ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان میں اربن فلڈنگ کی اصل وجوہات ناقص انفراسٹرکچر، نالوں پر تجاوزات، غیر قانونی تعمیرات، اور قبل از وقت صفائی کے انتظامات کی کمی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں بارش سے پہلے صفائی، ڈرینج اور پانی کے ذخیرے کے سسٹمز پر کام کیا جاتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں صرف دعوے اور بیانات دیے جاتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہم نے آج تک بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے، اسے کاشتکاری یا شہری استعمال کے لیے محفوظ بنانے کے کسی بھی منصوبے پر عملدرآمد نہیں کیا۔ اگر ہم منصوبہ بندی سے کام لیں تو یہی پانی، جو آج زحمت ہے، کل رحمت بن سکتا ہے۔ اس پانی کو اسٹور کر کے ہم نہ صرف پانی کی قلت پر قابو پا سکتے ہیں بلکہ بجلی پیدا کرنے اور زرعی مقاصد کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

    یہ امر بھی نہایت اہم ہے کہ کرپشن کی جڑیں صرف نچلی سطح تک محدود نہیں بلکہ آڈٹ کے وہ ادارے بھی اس میں ملوث ہیں جو احتساب کے نگہبان ہونے چاہیے تھے۔ اگر یہی ادارے خود کرپٹ ہو جائیں تو پھر کسی ماسٹر پلان، کسی فنڈ، کسی منصوبے کی کوئی ضمانت باقی نہیں رہتی۔ حکومت اگر واقعی سنجیدہ ہے تو سب سے پہلے انہیں اداروں کا قبلہ درست کرنا ہوگا، ورنہ سال بہ سال بارشیں آتی رہیں گی، شہر ڈوبتے رہیں گے، عوام روتے رہیں گے، اور ماسٹر پلان صرف فائلوں کی زینت بنے رہیں گے۔

  • اوچ شریف: ٹرین حادثے میں 12 سالہ بچہ جاں بحق، چھت گرنے سے ماں بیٹی زخمی

    اوچ شریف: ٹرین حادثے میں 12 سالہ بچہ جاں بحق، چھت گرنے سے ماں بیٹی زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان)تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور کے مختلف علاقوں میں دو المناک حادثات نے فضاء کو سوگوار کر دیا۔ ایک جانب شالیمار ایکسپریس کی زد میں آ کر 12 سالہ بچہ جاں بحق ہو گیا، تو دوسری جانب چھت گرنے کے واقعے میں ماں اور بیٹی زخمی ہو گئیں۔

    پہلا واقعہ اوچ شریف ریلوے پھاٹک پر پیش آیا، جہاں بہاولپور سے کراچی جانے والی شالیمار ایکسپریس کی زد میں آ کر 12 سالہ منیب ولد منیرجو کہ بستی کھور کا رہائشی تھا موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق منیب ریلوے لائن عبور کر رہا تھا کہ اچانک تیز رفتار ٹرین آ گئی اور وہ جان بچانے کا موقع نہ پا سکا۔ ریسکیو 1122 کی ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچی اور لاش کو تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا۔ واقعے کی اطلاع پر اہل علاقہ، رشتہ دار اور والدین جائے حادثہ پر پہنچے، جہاں کہرام برپا ہو گیا اور ہر آنکھ اشکبار نظر آئی۔

    دوسرا واقعہ احمد پورشرقیہ کے علاقے "حمزہ ٹاؤن” میں پیش آیا، جہاں ایک گاڈر ٹی آر والے مکان کی کچی چھت پر کنسٹرکشن جاری تھی کہ اچانک وزن زیادہ ہونے سے چھت زمین بوس ہو گئی۔ ریسکیو 1122 کنٹرول روم کے مطابق اس حادثے میں 13 سالہ آمنہ بی بی دختر محمد اکبر کو سر پر چوٹ آئی جبکہ 46 سالہ زاہدہ بی بی زوجہ محمد اکبر کے منہ پر زخم آئے۔ اہل خانہ نے دونوں زخمیوں کو ملبے سے نکال کر ریسکیو ٹیم کے پہنچنے سے پہلے ابتدائی طبی امداد دلوائی۔ ریسکیو عملے نے دونوں زخمیوں کو ٹی ایچ کیو احمد پور منتقل کر دیا۔

    شہریوں نے ان دونوں واقعات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ریلوے پھاٹکوں پر سیکیورٹی اور حفاظتی عملے کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے اور تعمیراتی کاموں میں حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل کرایا جائے تاکہ آئندہ ایسے دردناک حادثات سے بچا جا سکے۔

  • ڈسکہ: پیر فقیر بابا جی سرکارؒ کا 26واں سالانہ عرس عقیدت و احترام سے منایا گیا

    ڈسکہ: پیر فقیر بابا جی سرکارؒ کا 26واں سالانہ عرس عقیدت و احترام سے منایا گیا

    ڈسکہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک عمران)پیر طریقت، رہبر شریعت، غوثِ زماں حضرت پیر فقیر بابا جی سرکار رحمۃ اللہ علیہ کا 26 واں سالانہ عرس پاک نہایت عقیدت و احترام سے بٹ خیلہ شریف میں منایا گیا۔ یہ روحانی اجتماع سجادہ نشین رہبر شریعت صاحبزادہ حضرت پیر فقیر محمد مدظلہ کی صدارت اور حضرت صاحبزادہ محمد وقاص خان و حضرت صاحبزادہ محمد حسن قادری کی نگرانی میں منعقد ہوا۔

    تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا، جس کے بعد روح پرور ختم پاک کی محفل منعقد ہوئی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سجادہ نشین حضرت صاحبزادہ پیر فقیر محمد مدظلہ نے بابا جی سرکارؒ کی روحانی، دینی اور اخلاقی خدمات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ تاجدارِ بٹ خیلہ حضرت پیر فقیر بابا جی سرکارؒ نے اپنی تمام زندگی دین اسلام کی تبلیغ، عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے فروغ، اور انسانیت کی خدمت میں وقف کر دی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بابا جی سرکارؒ کی حیاتِ طیبہ سیرت النبی ﷺ کا عملی نمونہ تھی اور ان کی تعلیمات آج بھی راہِ حق کے مسافروں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ان کا روحانی فیض آج بھی بٹ خیلہ شریف سے جاری ہے اور تاقیامت جاری رہے گا۔

    عرس کے موقع پر بڑی تعداد میں عقیدت مندوں، علماء کرام، مشائخ عظام، اور زائرین نے شرکت کی اور بابا جی سرکارؒ کے دربار پر حاضری دی۔ تقریب کے اختتام پر امت مسلمہ، ملک پاکستان کی سلامتی اور عالم اسلام کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

  • سیالکوٹ: ڈسکہ روڈ گھوئینکی ندی کا منظر پیش کرنے لگا، کروڑوں کی گاڑیاں تباہ، متعدد شہری زخمی

    سیالکوٹ: ڈسکہ روڈ گھوئینکی ندی کا منظر پیش کرنے لگا، کروڑوں کی گاڑیاں تباہ، متعدد شہری زخمی

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)یہ کوئی دریائے چناب نہیں بلکہ سیالکوٹ کی مرکزی شاہراہ "ڈسکہ روڈ گھوئینکی” ہے جو حالیہ بارشوں کے بعد ندی نالے کا منظر پیش کر رہی ہے۔ یہ وہی اہم شاہراہ ہے جو سیالکوٹ کو لاہور موٹروے سے ملاتی ہے اور جہاں سے روزانہ وزراء، اعلیٰ بیوروکریٹس اور دیگر ہائی پروفائل افراد کا گزر ہوتا ہے۔

    اس سڑک کے دونوں اطراف کئی بڑی نجی ہاؤسنگ سوسائٹیاں قائم ہیں، لیکن اس کے باوجود سڑک پر گندے نالوں اور بارش کے پانی نے ایسی تباہی مچائی ہے کہ شہریوں کی کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ گندہ پانی چار سے پانچ فٹ گہرائی تک سڑک پر بہہ رہا ہے، جس کی وجہ سے موٹر سائیکل سواروں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ کئی افراد گر کر زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ کچھ شہری اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے یا مستقل جسمانی معذوری کا شکار ہو گئے ہیں۔

    مقامی شہریوں کے مطابق یہ مسئلہ کئی برسوں سے موجود ہے مگر تاحال کسی حکومت یا ضلعی انتظامیہ نے اس کی طرف توجہ نہیں دی۔ حالانکہ یہ سڑک نہ صرف سیالکوٹ کی اہم ترین تجارتی راہداری ہے بلکہ اس سے گزرنے والے افراد میں اعلیٰ حکومتی عہدیدار بھی شامل ہیں، جو روزانہ اس خطرناک صورتحال سے گزرتے ہیں مگر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔

    اہل علاقہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے اس سنگین معاملے کا نوٹس لیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اس سڑک پر نکاسی آب کے نظام کو فوری بہتر نہ بنایا گیا اور ادھورے نالوں کی تعمیر مکمل نہ کی گئی تو یہ سڑک چند ہی ماہ میں مکمل طور پر ناقابلِ استعمال ہو جائے گی، اور کروڑوں روپے کی لاگت سے بنائی گئی انفراسٹرکچر ضائع ہو جائے گا۔

    شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ "ہم بھی اسی ملک کے شہری ہیں، ہمیں بھی جینے کا حق دیا جائے۔ یہ سڑک اگر حکومتی بے حسی کی نذر ہوئی تو اس کے ذمہ دار وہی ہوں گے جو روزانہ یہاں سے گزرتے ہیں مگر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔”

  • حکومتی تکبر اور پاکستانیوں کے اٹھتے جنازے

    حکومتی تکبر اور پاکستانیوں کے اٹھتے جنازے

    حکومتی تکبر اور پاکستانیوں کے اٹھتے جنازے
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان میں مہنگائی، چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور بھاری بجلی کے بل عوام کی زندگیوں کو مفلوج کر چکے ہیں۔ ایسے میں وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری کا حالیہ بیان عوامی غصے میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان میں بجلی اس لیے مہنگی ہے کیونکہ اس کا استعمال کم ہے اور جب تک استعمال نہیں بڑھے گا، نرخوں میں کمی ممکن نہیں۔ یہ بیان عوام کے لیے ناقابلِ قبول ہے کیونکہ بجلی ایک سہولت نہیں بلکہ ضرورت ہے اور عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ایسی منطق عام آدمی کی بے بسی کا مذاق اڑاتی ہے۔

    اویس لغاری ناقص پالیسیوں اور غیر ذمہ دار بیانات کی وجہ سے عوامی نفرت کا محور بن چکے ہیں۔ عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور اب انہیں بجلی کے بڑھتے نرخوں اور سلیب سسٹم کے جال میں الجھا دیا گیا ہے۔ موجودہ بل عوام کی قوتِ برداشت سے باہر ہو چکے ہیں اور لوگ متبادل توانائی ذرائع جیسے سولر پینلز کی طرف مجبوراً رجوع کر رہے ہیں۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے مسلسل نرخوں میں اضافہ عوام کی جیبوں پر ڈاکہ محسوس ہوتا ہے۔

    چینی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ بھی حکومت کی پالیسیوں میں تضاد کا واضح ثبوت ہے۔ اس وقت چینی کی قیمت 190 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے جو رواں مالی سال کے ابتدائی سات ماہ میں 7.57 لاکھ میٹرک ٹن چینی کی برآمدات کا نتیجہ ہے۔ اس فیصلے سے مقامی مارکیٹ میں قلت پیدا ہوئی اور قیمتوں نے آسمان کو چھو لیا۔ اب حکومت چینی درآمد کرنے جا رہی ہے، جس پر 55 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد ہوگی اور اس سے چینی کی قیمت 245 روپے فی کلو تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ عوام کو مہنگی چینی خریدنے پر مجبور کر کے شوگر مافیا کو ایک بار پھر اربوں روپے کا نفع کمانے کا موقع دیا جا رہا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اس پوری صورتحال کو "چینی سکینڈل” اور "قانونی کرپشن” قرار دیا جا رہا ہے۔ عوام کا ماننا ہے کہ یہ پالیسیاں کسی عوامی مفاد کی بنیاد پر نہیں بلکہ طاقتور گروہوں کے مفادات کی تکمیل کے لیے بنائی جا رہی ہیں۔ وزارتِ منسٹری آف نیشنل فوڈ سیکیورٹی کی خاموشی اور حکومتی مشینری کی بےحسی اس بات کو تقویت دیتی ہے کہ ایلیٹ طبقہ شوگر مافیا کے سامنے بےبس ہے۔

    دوسری جانب بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافے نے گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقے کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ چھوٹے کاروبار بڑھتے ہوئے بلوں کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہو چکے ہیں اور ایک ایک کر کے بند ہو رہے ہیں، جس سے بیروزگاری میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے۔ اویس لغاری کا دعویٰ کہ بجلی کی قیمتیں اس لیے بڑھ رہی ہیں کیونکہ اس کا استعمال کم ہے، عام شہری کے لیے ایک بے ربط اور غیر سنجیدہ جواز ہے۔ جب ماہانہ بجلی کے بل 10 سے 20 ہزار روپے تک جا پہنچیں تو کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے انہیں ادا کرنا کسی سزا سے کم نہیں۔

    نیپرا کی طرف سے کی گئی معمولی کمی جیسے 99 پیسے فی یونٹ، اس شدید مہنگائی کے سامنے بے اثر دکھائی دیتی ہے۔ عوام اب خود کو بچانے کے لیے سولر پینلز کی طرف مائل ہو رہے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہو چکا ہے کہ ریاستی ادارے اب ان کے مالی مسائل کے حل میں سنجیدہ نہیں۔ یہ وہ فضا ہے جس میں اعتماد کا رشتہ ریاست اور شہری کے درمیان ٹوٹنے لگتا ہے۔

    مہنگائی کا یہ طوفان صرف چینی اور بجلی تک محدود نہیں رہا۔ آٹا، دالیں، کوکنگ آئل، سبزی اور ایندھن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے۔ سکھر میں آٹے کی قیمت 160 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے، جب کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھا دیے ہیں، جس سے ہر شے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    2025-26 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو صرف 10 فیصد اضافہ دیا گیا لیکن جب مہنگائی کی شرح 12 سے 15 فیصد سے زائد ہو تو یہ اضافہ دکھاوا معلوم ہوتا ہے۔ نتیجتاً متوسط اور نچلے طبقے نے تعلیم، صحت اور بنیادی ضروریات پر خرچ کم کرنا شروع کر دیا ہے۔ دوسری طرف بجٹ میں دیہاڑی دار مزدور کو زندہ درگور کر دیا گیا ہے جو پہلے ہی بے روزگاری کے ہاتھوں تنگ ہے، جس کے بچے سکول نہیں جا سکتے، جو بچوں کا علاج نہیں کرا سکتا۔ سرکاری ہسپتالوں میں غریب اور مزدور کے بچوں کو علاج کے بجائے موت کی نیند سلایا جا رہا ہے، جس کی تازہ مثال پاکپتن کے سرکاری ہسپتال میں گزشتہ ماہ ہونے والی بچوں کی 20 ہلاکتیں ہیں۔ اس کی انکوائری رپورٹ کچھ بھی ہو مگر غریب کے بچے تو مر گئے اور سوال یہ ہے کہ ان کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟

    سوشل میڈیا عوامی غم و غصے کا آئینہ بن چکا ہے۔ روزانہ درجنوں پوسٹس میں یہ شکوہ دہرایا جا رہا ہے کہ حکومت مکمل طور پر مافیاز کے کنٹرول میں آ چکی ہے اور غریب آدمی کے لیے اس ملک میں جینا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔

    یہی بے بسی، یہی ناانصافی اور یہی مسلسل معاشی دباؤ وہ بنیادیں ہیں جو عوامی بےچینی کو تحریک میں بدلتی ہیں۔ حکومتی پالیسیوں میں شفافیت کا فقدان، ناقص منصوبہ بندی اور طاقتور طبقات کی خوشنودی پر مبنی فیصلے عوام کے صبر کو آزماتے جا رہے ہیں۔ چینی کی برآمدات کے بعد مہنگی درآمد، بجلی کے نرخوں میں من مانا اضافہ اور اویس لغاری جیسے وزراء کے غیر ذمہ دارانہ بیانات ، یہ سب مل کر اس نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔

    اب ہر پاکستانی کے ذہن میں یہ سوالات انگاروں کی طرح دہک رہے ہیں کہ غریب کے بچوں کے لیے سکولوں کے دروازے کیوں بند کر دیے گئے؟ کیا تعلیم اب صرف امیروں کی میراث بن چکی ہے؟ سرکاری ہسپتالوں میں مزدوروں اور عام شہریوں کے بچوں کو "علاج” کے نام پر موت کیوں دی جا رہی ہے؟ بجلی کے سلیب گرد بلوں میں جکڑے لوگ کب تک خودکشیاں کرتے رہیں گے؟ مہنگی چینی، آٹا، دال اور ادویات خریدنے کی سکت نہ رکھنے والے کب تک زندہ دفن کیے جاتے رہیں گے؟ آخر کب تک ہر مہینے کے اختتام پر گھروں سے مہنگائی کا مارا جنازہ نکلے گا؟

    یہ سوالات صرف احتجاجی بینروں یا سوشل میڈیا پوسٹس کے نعرے نہیں ہیں بلکہ ایک مجبور قوم کی چیخیں اور اضطراب ہیں جو اپنے جینے کے حق کی بھیک مانگ رہی ہے۔ اور جب ایک قوم اپنے حقِ زندگی کے لیے سوال کرنا شروع کر دے، تو یہ وقت اربابِ اختیار کے لیے فیصلہ کن گھڑی ہوتا ہے۔ اب تاریخ خاموش نہیں رہے گی،حکومتی بے حسی اور تکبر کی وجہ کتنے پاکستانیوں کےمزید جنازے اٹھیں گے؟،یہ سوالات کبھی نہ کبھی جواب مانگیں گے اور اگر اقتدار کے ایوانوں میں سننے والا کوئی نہ ہوا تو پھر عوام خود اپنے خون سے جواب لکھیں گے۔حکومتی ارباب اختیار کو اس وقت سے ڈرنا چاہیئے ،جب وہ کچھ کرناچاہیں گے تو اس وقت بہت دیر ہوچکی ہوگی اور آناََ فاناََ سب کچھ ملیامیٹ ہوجائے گا.

  • نوشہرہ ورکاں: جمعیت اہل حدیث گوجرانوالہ کا اجلاس 13 جولائی کو طلب

    نوشہرہ ورکاں: جمعیت اہل حدیث گوجرانوالہ کا اجلاس 13 جولائی کو طلب

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی)جمعیت اہل حدیث ڈویژن گوجرانوالہ کا اہم اجلاس 13 جولائی کو نوشہرہ ورکاں طلب، فضائل صحابہ و اہل بیت کانفرنس کی تیاریوں کا جائزہ لیا جائے گا

    جمعیت اہل حدیث ڈویژن گوجرانوالہ کا ایک اہم اجلاس 13 جولائی بروز اتوار بعد نمازِ ظہر جامع مسجد خاتم النبین اہل حدیث، نوشہرہ ورکاں میں منعقد ہوگا۔ اس بات کا اعلان صوبائی و ڈویژنل ناظم اطلاعات و نشریات اور معروف روحانی شخصیت محمد عدنان اولیاء سلفی نے کیا۔

    انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں لاہور کے علاقے بیگم کوٹ میں منعقد ہونے والی عظیم الشان *فضائلِ صحابہ و اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کانفرنس* کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور حتمی لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔

    اجلاس میں شرکت کرنے والی شخصیات میں شامل ہیں:

    * حکیم صفدر عثمانی (ڈویژنل سرپرست اعلیٰ)
    *پروفیسر ڈاکٹر نصراللہ خاں مظفر(ڈویژنل صدر)
    *حافظ جاوید احمد گورائیہ (ڈویژنل سیکرٹری جنرل)
    *ڈاکٹر عبدالرحمن پن (ڈویژنل چیئرمین)
    *حکیم قاری محمود احمد عاصم شیخوپوری (ڈویژنل ناظم تبلیغ)
    *حکیم قاری محمد اسحاق ساجد (ڈویژنل سینئر نائب صدر)
    *حافظ شمشاد احمد ناہرہ(ڈویژنل جوائنٹ سیکرٹری)
    *محمد اعجاز علوی اعوان (ڈویژنل چیف آرگنائزر)
    *محمد عدنان اولیاء سلفی (صوبائی و ڈویژنل ناظم اطلاعات و نشریات)

    اجلاس میں دیگر علماء، تنظیمی عہدیداران اور مقررین بھی شریک ہوں گے اور خطاب کریں گے۔ اجلاس کا مقصد نہ صرف آئندہ کانفرنس کی منصوبہ بندی کرنا ہے بلکہ تنظیمی امور اور دینی سرگرمیوں کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    اجلاس میں شرکت کرنے والے تمام ذمہ داران اور کارکنان سے بروقت پہنچنے اور مکمل تیاری کے ساتھ شریک ہونے کی اپیل کی گئی ہے۔

  • سیالکوٹ: البرکتہ بینک کے زیر اہتمام ویبینار، 13 ممالک کے امپورٹرز کی آن لائن شرکت

    سیالکوٹ: البرکتہ بینک کے زیر اہتمام ویبینار، 13 ممالک کے امپورٹرز کی آن لائن شرکت

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)سیالکوٹ میں مقامی مارکی میں ایک اہم اور جدید تجارتی ویبینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں سیالکوٹ کے 70 سے زائد سپورٹس گڈز اور ویئر ایکسپورٹرز نے شرکت کی، جبکہ دنیا کے 13 مختلف ممالک میں موجود امپورٹرز نے آن لائن شرکت کے ذریعے ویبینار میں حصہ لیا۔

    یہ ویبینار البرکتہ بینک کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا، جس میں بینک کے صدر محمد عاطف حنیف، چیئرمین سپورٹس ایسوسی ایشن خواجہ مسعود اختر، سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر عہدیداران ناصر بٹ و دیگر کاروباری شخصیات شریک ہوئیں۔

    اس موقع پر صدر البرکتہ بینک محمد عاطف حنیف نے بتایا کہ اس سے قبل بھی سیالکوٹ کے ایکسپورٹرز اور جنوبی افریقہ، مصر، ترکیہ سمیت دیگر ممالک کے امپورٹرز کے ساتھ کامیاب ویبینارز کا انعقاد کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی تجارت کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع ٹریڈ فنانس پورٹل تشکیل دیا گیا ہے، جس میں تمام ایکسپورٹرز اور امپورٹرز کی مکمل تفصیلات شامل کی گئی ہیں تاکہ تجارتی روابط شفاف اور مؤثر انداز میں استوار کیے جا سکیں۔

    چیئرمین سپورٹس ایسوسی ایشن خواجہ مسعود اختر نے ویبینار کو سیالکوٹ کی صنعت کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے مقامی ایکسپورٹرز کے لیے بین الاقوامی تجارت کے نئے دروازے کھلیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی امریکہ، یورپ اور دیگر عالمی مارکیٹس میں سیالکوٹ کی مصنوعات کی بڑی مانگ ہے، اور اس قسم کے اقدامات مقامی صنعت کو عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے میں مددگار ہوں گے۔

    کاروباری حلقوں نے البرکتہ بینک کی اس کوشش کو سراہتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ آئندہ بھی اس طرز کے ویبینارز کے تسلسل سے سیالکوٹ کی برآمدات کو فروغ ملے گا اور عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص مزید مضبوط ہوگا۔

  • ڈسکہ: ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کا بارش کے بعد نکاسی آب کا معائنہ، میونسپل عملے کی کارکردگی کو سراہا گیا

    ڈسکہ: ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کا بارش کے بعد نکاسی آب کا معائنہ، میونسپل عملے کی کارکردگی کو سراہا گیا

    ڈسکہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک عمران) ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد اقبال سنگھیڑا نے ڈسکہ کا دورہ کرتے ہوئے بارش کے بعد شہر کی مختلف شاہراہوں کا معائنہ کیا اور نکاسی آب کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے میونسپل کمیٹی کے عملے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ کم وقت میں پانی کی مؤثر نکاسی قابل تعریف ہے۔

    اس موقع پر سٹی صدر مسلم لیگ (ن) و چیئرمین مرکزی انجمن تاجران ڈسکہ محمد افضل منشاء، سی او میونسپل کمیٹی الفت شہزاد، سینئر وائس چیئرمین ڈسکہ پریس کلب رجسٹرڈ امین رضا مغل، جنرل سیکرٹری سید رضوان مہدی، تحصیل صدر مسلم لیگ ن یوتھ ونگ سجاد احمد گجر ایڈووکیٹ اور دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو نے کہا کہ شہر میں بارش کے فوری بعد شاہراہوں سے پانی کی نکاسی شہریوں کے لیے سہولت کا باعث ہے اور انتظامیہ آئندہ بھی ایسے اقدامات کو ترجیح دے گی تاکہ شہری مشکلات سے محفوظ رہیں۔

  • اوچ شریف: سرکاری اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ نے تعلیمی نظام کو بحران میں مبتلا کر دیا، والدین اور اساتذہ سراپا احتجاج

    اوچ شریف: سرکاری اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ نے تعلیمی نظام کو بحران میں مبتلا کر دیا، والدین اور اساتذہ سراپا احتجاج

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) تحصیل احمد پور شرقیہ سمیت پنجاب بھر میں سرکاری اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ پالیسی نے تعلیمی نظام کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت کئی اسکول نجی کمپنیوں کے حوالے کیے جا چکے ہیں، جس کے نتیجے میں طلبہ کی تعلیمی کارکردگی میں نمایاں کمی، اساتذہ کے روزگار پر خطرات اور تعلیمی معیار کی شدید گراوٹ سامنے آ رہی ہے۔

    مقامی اساتذہ، والدین اور طلبہ نے حکومت پنجاب سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ آؤٹ سورسنگ کے اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور سرکاری عملے کو بحال کیا جائے۔ اوچ شریف کے ایک سینئر استاد نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا: "نجی کمپنیوں کی اولین ترجیح تعلیم نہیں بلکہ منافع ہے۔ اس پالیسی نے بچوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے۔”

    عوامی رپورٹس اور والدین کے بیانات کے مطابق، آؤٹ سورسنگ کے بعد نہ صرف تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل متاثر ہوا بلکہ بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی معطل ہو گئی۔ کئی اسکولوں میں اساتذہ کی شدید کمی ہے، جبکہ صفائی، پانی، بیت الخلاء، اور بجلی جیسے بنیادی مسائل جوں کے توں موجود ہیں۔

    ایک طالبعلم کے والد، جو غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، نے کہا: "ہم فیس دینے کے قابل نہیں، اگر سرکاری اسکول بھی تعلیم نہیں دے سکتے تو ہمارے بچوں کا کیا بنے گا؟”

    علاقے کے طلبہ بھی اس صورتحال پر سخت نالاں نظر آتے ہیں۔ اوچ شریف کے ایک طالبعلم، علی، نے جذباتی انداز میں کہا: "ہمیں تعلیم کا حق چاہیے، ہم نجی کمپنیوں کی تجربہ گاہ نہیں بننا چاہتے۔”

    والدین کا کہنا ہے کہ نہ صرف فیسوں میں بلاجواز اضافہ ہوا ہے، بلکہ تعلیم کا معیار بھی دن بہ دن گرتا جا رہا ہے۔ والدین کے مطابق، نجی انتظامیہ اساتذہ کو بروقت تنخواہیں نہیں دیتی، جس سے ان کی دلچسپی بھی متاثر ہو رہی ہے، اور نتیجہ بچوں کے مستقبل پر منفی اثر کی صورت میں نکل رہا ہے۔

    عوامی اور سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے تاکہ آؤٹ سورسنگ کی پالیسی پر نظرثانی کی جائے، اور تعلیمی نظام کو دوبارہ سرکاری نگرانی میں فعال اور شفاف بنایا جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ تعلیم کاروبار نہیں، ریاست کی ذمہ داری ہے، جس سے دستبردار ہونا قوم کے مستقبل سے غداری کے مترادف ہے۔