Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اوکاڑہ: فیصل آباد روڈ پر پختہ تجاوزات کا خاتمہ، انسدادِ تجاوزات مہم میں تیزی آگئی

    اوکاڑہ: فیصل آباد روڈ پر پختہ تجاوزات کا خاتمہ، انسدادِ تجاوزات مہم میں تیزی آگئی

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک ظفر)ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کی خصوصی ہدایت پر ضلع اوکاڑہ میں انسدادِ تجاوزات مہم میں شدت آگئی۔ سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر وسیم جاوید نے فیصل آباد روڈ پر کارروائی کرتے ہوئے دکانوں کی پختہ تجاوزات مسمار کر دیں اور گول چوک و صدر بازار میں دکانداروں کو وارننگ جاری کی۔

    فیصل آباد روڈ پر کارروائی کے دوران سرکاری جگہ پر بنائی گئی مستقل تعمیرات کو گرا دیا گیا۔ وسیم جاوید نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات پر ضلع بھر میں تجاوزات کے خلاف بلا تفریق مہم جاری ہے، جس کا مقصد شہریوں کو صاف، کشادہ، اور رکاوٹوں سے پاک راستے فراہم کرنا ہے۔

    انہوں نے گول چوک اور صدر بازار میں موقع پر موجود دکانداروں کو خبردار کیا کہ آئندہ تجاوزات کی صورت میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دکانداروں کو تاکید کی گئی کہ وہ اپنی دکانوں کو مقررہ حدود میں رکھیں اور عوامی آمدورفت میں رکاوٹ بننے سے گریز کریں۔

    وسیم جاوید نے کہا کہ عوامی مفاد کے پیش نظر انسدادِ تجاوزات مہم تسلسل کے ساتھ جاری رہے گی اور تجاوزات کے خلاف سخت ترین اقدامات کیے جائیں گے تاکہ شہریوں کو بہتر سہولیات اور صاف ماحول فراہم کیا جا سکے۔

    عوامی حلقوں کی جانب سے تجاوزات کے خاتمے پر ضلعی انتظامیہ کے اقدامات کو سراہا گیا ہے۔

  • اوکاڑہ: وزیراعلیٰ پنجاب کا انقلابی اقدام، محنت کشوں کو راشن کارڈز کی فراہمی

    اوکاڑہ: وزیراعلیٰ پنجاب کا انقلابی اقدام، محنت کشوں کو راشن کارڈز کی فراہمی

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک ظفر)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے محنت کش طبقے کے لیے ایک اور انقلابی قدم، ضلع اوکاڑہ میں 2600 فیکٹری ورکرز کو مریم نواز راشن کارڈز فراہم کر دیے گئے۔ اس کار خیر کے تحت مزدور طبقے کو نہ صرف راشن پر سبسڈی دی جائے گی بلکہ متعدد مالی اور فلاحی سہولیات بھی مہیا کی جائیں گی۔

    راشن کارڈز کی تقسیم کی تقریب میں ممبر قومی اسمبلی چوہدری ریاض الحق جج اور ایم پی اے میاں محمد منیر نے خصوصی طور پر شرکت کی اور مستحق ورکرز میں کارڈز تقسیم کیے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر سوشل سیکیورٹی ساہیوال میاں ذوالفقار علی، اسسٹنٹ کمشنر رب نواز چدھڑ، ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل سیکیورٹی حسن اصغر سمیت دیگر افسران، فیکٹری ورکرز اور ان کے اہل خانہ کی بڑی تعداد موجود تھی۔

    ڈائریکٹر سوشل سیکیورٹی میاں ذوالفقار علی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز راشن کارڈ کی افادیت پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کارڈ محنت کشوں کو نہ صرف راشن پر 20 فیصد رعایت فراہم کرے گا بلکہ ان کے معاشی بوجھ کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ راشن کارڈ استعمال کرنے والے ورکرز کو ماہانہ 3 ہزار روپے سبسڈی دی جائے گی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری ریاض الحق جج نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں عوامی خدمت کا سفر جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ راشن کارڈ سے مستفید ہونے والے ورکرز کو کسی حادثے کی صورت میں 3 لاکھ روپے انشورنس جبکہ مستقل معذوری کی صورت میں 2 لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محنت کش طبقے کو یہ حق برسوں پہلے ملنا چاہیے تھا۔

    ڈائریکٹر میاں ذوالفقار علی نے بتایا کہ صوبائی وزیر افرادی قوت فیصل ایوب کھوکھر ورکرز کی فلاح و بہبود کے لیے دن رات کوشاں ہیں، اور ان کی کاوشوں کو محنت کش طبقہ خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔

    چوہدری ریاض الحق نے مزید اعلان کیا کہ محکمہ سوشل سیکیورٹی ورکرز کے بچوں کے لیے اسٹیٹ آف دی آرٹ اسکول قائم کرے گا، جہاں معیاری تعلیم کی سہولت دی جائے گی تاکہ یہ بچے بھی ایک روشن مستقبل کی جانب بڑھ سکیں۔

    فیکٹری ورکرز اور ان کے اہل خانہ نے وزیراعلیٰ مریم نواز اور صوبائی وزیر فیصل ایوب کھوکھر کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور اس اقدام کو حقیقی عوامی فلاح کی جانب ایک قدم قرار دیا۔ راشن کارڈ سکیم کو محنت کشوں کی زندگی میں خوشحالی لانے کا ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے۔

  • ڈاکٹرجمیل جالبی،علم و ادب کے آفتاب کا سحرانگیز جائزہ

    ڈاکٹرجمیل جالبی،علم و ادب کے آفتاب کا سحرانگیز جائزہ

    ڈاکٹر جمیل جالبی، علم و ادب کے آفتاب کا سحرانگیز جائزہ
    تحریر: ظفر اقبال ظفر
    علم و ادب کی روشنی بکھیرنے والی عظیم شخصیت ڈاکٹر جمیل جالبی نے اردو زبان و ادب کو جن جہتوں سے جِلا بخشی، وہ ناقابلِ فراموش ہیں۔ ان کی علمی و ادبی خدمات نے اردو زبان کی بنیادوں کو مضبوط کیا اور معاشرتی شعور کو جلا بخشی۔ ان کی تصانیف، تحقیقی کام، لغت نویسی، تنقید، ترجمہ، تدریسی اور اداری خدمات نے ان کی شخصیت کو ہمہ جہت بنا دیا۔

    لغت نویسی: زبان کی بنیادوں کا تعین
    ڈاکٹر جمیل جالبی لغت نویسی میں خاص دلچسپی رکھتے تھے۔ ان کی معرکہ آرا تصنیف "قومی انگریزی اردو لغت” دو جلدوں پر مشتمل ایک ایسا علمی سرمایہ ہے جو اردو زبان کی سائنسی، ادبی، معاشی، قانونی، طبّی، تجارتی اور سماجی اصطلاحات کو مربوط انداز میں پیش کرتا ہے۔ اس لغت کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں علاقائی، مقامی اور عوامی سطح کے الفاظ کو بھی شامل کیا گیا تاکہ زبان کی اصلیت قائم رہے۔ دیگر لغوی کاموں میں "قدیم اردو کی لغت” اور "فرہنگِ اصطلاحات جامعہ عثمانیہ” شامل ہیں۔

    تحقیق و تاریخ ادب اردو
    ڈاکٹر جالبی کی سب سے نمایاں اور یادگار تصنیف "تاریخ ادب اردو” ہے، جو چار ضخیم جلدوں پر مشتمل ایک فکری، تحقیقی اور ثقافتی دستاویز ہے۔ اس میں اردو ادب کے ارتقاء کو صرف زمانی ترتیب میں نہیں بلکہ تہذیبی، سیاسی اور معاشرتی عوامل کی روشنی میں بھی پیش کیا گیا ہے۔

    ان کی تحقیقی خدمات میں "مثنوی قدم راؤ پدم راؤ”, "دیوان حسن شوقی” اور "دیوان نصرتی” کی بازیافت شامل ہے، جن کے ذریعے انہوں نے اردو ادب کی گمشدہ کڑیوں کو بازیاب کیا۔ ان کی دیگر اہم کتب میں "اردو زبان کی تاریخ” اور "اردو نثر کا ارتقاء” شامل ہیں۔

    تنقید: فکری تجزیے کی بنیاد
    ڈاکٹر جالبی کا شمار جدید تنقیدی نظریات کے ماہرین میں ہوتا ہے۔ ان کی اہم تنقیدی کتب میں "تنقید اور تجربہ”, "نئی تنقید”, "عصری ادب”, "ادب، کلچر اور مسائل”, "میر تقی میر: ایک مطالعہ”, "قومی زبان: یکجہتی، نفاذ اور مسائل” شامل ہیں۔

    وہ ادب کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ سماجی تنقید، فکری تجزیے اور معاشرتی اصلاح کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ ان کی تصنیف "ارسطو سے ایلیٹ تک” مغربی تنقید کی تفہیم میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

    ترجمہ نگاری: علم و ادب کی عالمی رسائی
    ڈاکٹر جالبی نے ترجمہ نگاری میں بھی اعلیٰ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ان کے اہم تراجم میں جارج آرویل کا ناول "جانورستان”, "ٹی ایس ایلیٹ کے مضامین”, "برصغیر میں اسلامی کلچر” اور "برصغیر میں اسلامی جدیدیت” شامل ہیں۔

    ان کے تراجم صرف زبان کی تبدیلی نہیں بلکہ تخلیقی حسن کے آئینہ دار ہیں، جن میں اصل متن کی روح اور مفہوم کو محفوظ رکھا گیا۔

    کلچر، تہذیب اور بچوں کا ادب
    کلچر اور تہذیب کے میدان میں ان کی کتاب "پاکستانی کلچر: قومی کلچر کی تشکیل” ایک اہم تصنیف ہے، جس میں انہوں نے زبان، رسم و رواج، قومی وحدت اور تہذیبی شناخت پر سیر حاصل بحث کی۔

    بچوں کے لیے ادب بھی ان کے قلم کی توجہ کا مرکز رہا۔ ان کی بچوں کے لیے لکھی گئی کتابیں "حیرت انگیز کہانیاں” اور "کھوجی” مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔

    ادارتی، تدریسی و ادارتی خدمات
    ڈاکٹر جالبی نے "پیامِ مشرق”, "ساقی” اور "نیا دور” جیسے معروف ادبی جرائد کی ادارت کی۔ وہ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر، مقتدرہ قومی زبان کے صدر نشین اور اردو لغت بورڈ کے سربراہ بھی رہے۔

    ان کی خطوط نگاری کا بھی ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے، جس میں تقریباً دو ہزار خطوط شامل ہیں۔ ان کا مجموعہ "مکاتیب مشاہیر بنام ڈاکٹر جمیل جالبی” کے عنوان سے شائع ہو چکا ہے۔

    جمیل جالبی: ایک زندہ علمی روح
    معزز قارئین! بطور ادب کے طالب علم، جمیل جالبی کے مطالعے کے بعد مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں ان کی علمی روح سے ملاقات کر رہا ہوں۔ انہوں نے معاشرے کے ذہنوں سے جہالت کے اندھیرے مٹانے کے لیے جو چراغ جلائے، ان کی روشنی کبھی ماند نہیں پڑ سکتی۔

    علم و ادب کی مٹھاس جس معاشرے کی زبان پر آ جائے، وہاں نفرتیں دم توڑ جاتی ہیں۔ ڈاکٹر جالبی نے ادب کو ایک ایسا مرہم بنا دیا جو ہر زخم کو بھرنے کی شفا رکھتا ہے۔

    اللہ تعالیٰ ان کی روح کو بلند درجات عطا فرمائے اور ان کی کتابوں کی روشنی سے معاشرے کے اندھیرے ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ آمین ثم آمین۔

  • آن لائن تعلیم یا آن لائن فراڈ؟ سینکڑوں طلبہ شکار بن گئے

    آن لائن تعلیم یا آن لائن فراڈ؟ سینکڑوں طلبہ شکار بن گئے

    لاہور (باغی ٹی وی رپورٹ)آن لائن تعلیم یا آن لائن فراڈ؟ سینکڑوں طلبہ شکار بن گئے
    تفصیلات کے مطابق آن لائن تعلیم کی بڑھتی مقبولیت نے جہاں تعلیمی رسائی کو آسان بنایا، وہیں جعلی کورسز اور سرٹیفکیٹس کے ذریعے فراڈ کے واقعات میں بھی خطرناک اضافہ ہوا ہے۔ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے مطابق گزشتہ چند ماہ میں سینکڑوں طلبہ جعلی آن لائن تعلیمی اداروں کا شکار ہوئے، جن سے لاکھوں روپے ہتھیائے گئے۔ یہ رپورٹ حالیہ واقعات، فراڈ کے طریقہ کار، اور بچاؤ کے اقدامات پر روشنی ڈالتی ہے۔

    روزنامہ جنگ میں 9 جولائی 2025 کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق فیصل آباد میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے ایک منظم فراڈ نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خاص طور پر واٹس ایپ اور فیس بک پر جعلی تعلیمی کورسز کی پیشکش کر رہا تھا۔ ملزمان نے معروف یونیورسٹیوں کی نقل کرتے ہوئے ویب سائٹس بنائیں اور طلبہ سے رجسٹریشن فیس کے نام پر 20,000 سے 50,000 روپے وصول کیے۔ ایک متاثرہ طالب علم احمد علی نے بتایا کہ اس نے "آن لائن ڈیجیٹل مارکیٹنگ کورس” کے لیے 40,000 روپے ادا کیے، لیکن کورس کے نام پر صرف چند غیر معیاری پی ڈی ایف فائلز موصول ہوئیں۔ ایف آئی اے نے تین ملزمان کو گرفتار کیا اور ان کے قبضے سے جعلی سرٹیفکیٹس، لیپ ٹاپس اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات برآمد کیں .

    اسی طرح11 اکتوبر 2023 کو24 نیوز اردونے ایک رپورٹ دی کہ ایف آئی اے راولپنڈی نے ایک گینگ کے سرغنہ امیر حمزہ کو گرفتار کیا جو جعلی ملازمتوں اور آن لائن تعلیمی کورسز کے ذریعے فراڈ کر رہا تھا۔ ملزم نے واٹس ایپ گروپس اور سوشل میڈیا اشتہارات کے ذریعے طلبہ اور بیروزگار افراد کو نشانہ بنایا۔ متاثرین سے "فنگر پرنٹس، میڈیکل اور پروسیسنگ فیس” کے نام پر 78,800 روپے فی کس وصول کیے گئے۔ مجموعی طور پر 32 متاثرین سے 25 لاکھ روپے ہتھیائے گئے۔ ملزمان نے جعلی میڈیکل اور فنگر پرنٹ سہولیات قائم کی تھیں اور طلبہ کو غیر معتبر سرٹیفکیٹس دیے گئے جو ملازمت کے لیے ناکارہ تھے

    توسنامہ نوائے وقت نے 26 فروری 2025 کو ایک خبر شائع کی کہ کراچی میں بھی جعلی آن لائن اکیڈمی نے سینکڑوں طلبہ سے لاکھوں روپے لوٹے۔ یہ اکیڈمی بین الاقوامی یونیورسٹیوں سے منسلک ہونے کا دعویٰ کرتی تھی اور "آن لائن ایم بی اے” اور "آئی ٹی سرٹیفکیٹس” کے کورسز پیش کرتی تھی۔ ایک طالبہ عائشہ خان نے بتایا کہ اس نے 1.5 لاکھ روپے فیس ادا کی لیکن کورس غیر پیشہ ورانہ اساتذہ اور ناقص مواد پر مشتمل تھا۔ سرٹیفکیٹ ملنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ جعلی ہے اور کسی ادارے میں قابل قبول نہیں۔ ایف آئی اے نے اس اکیڈمی کے خلاف تحقیقات شروع کیں اور عوام سے ہوشیاری کی اپیل کی

    بی بی سی اردو کی 3 اکتوبر 2020کی ایک رپورٹ کے مطابق آن لائن تعلیمی فراڈ عالمی سطح پر بھی بڑھ رہا ہے۔ سائبر مجرمان جعلی ویب سائٹس، ای میلز اور سوشل میڈیا اشتہارات کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ خاص طور پر کم تعلیم یافتہ افراد کو جعلی کورسز اور سرٹیفکیٹس کی پیشکش کی جاتی ہے۔ سٹیفن کونان کے حوالے سے بتایا گیا کہ موبائل بینکنگ اور آن لائن پلیٹ فارمز کے بڑھتے استعمال نے سائبر کرائم کو فروغ دیا۔ پاکستان میں بھی ایسی جعلی ای میلز اور واٹس ایپ میسجز عام ہیں جو لاٹری یا تعلیمی کورسز کے ذریعے ذاتی معلومات مانگتی ہیں۔

    اس طرح کے فراڈ کے طریقہ کار میں جعلی ویب سائٹس اور ایپس کا استعمال سرفہرست ہے، جہاں ملزمان معروف تعلیمی اداروں کی نقل کر کے طلبہ سے رجسٹریشن فیس وصول کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام پر پرکشش اشتہارات پھیلائے جاتے ہیں۔ متاثرین کو غیر معتبر سرٹیفکیٹس دیے جاتے ہیں جو ملازمت یا اعلیٰ تعلیم کے لیے قابل قبول نہیں ہوتے۔ کئی معاملات میں بھاری ایڈوانس فیس وصول کر کے رابطہ منقطع کر لیا جاتا ہے جبکہ بعض جعلی ایپس یا ویب سائٹس صارفین کی ذاتی معلومات، جیسے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات چوری کرتی ہیں۔

    متاثرین کی کہانیاں دل دہلا دینے والی ہیں۔ احمد علی (فیصل آباد) نے بتایا، "میں نے ڈیجیٹل مارکیٹنگ کورس کے لیے 40,000 روپے ادا کیے، لیکن مجھے صرف چند پی ڈی ایف فائلز ملیں۔ جب میں نے رابطہ کیا تو انہوں نے جواب دینا بند کر دیا۔” اسی طرح عائشہ خان (کراچی) نے کہا، "میں نے ایم بی اے کورس کے لیے 1.5 لاکھ روپے دیے، لیکن سرٹیفکیٹ جعلی نکلا۔ اب میری ساری جمع پونجی ضائع ہو گئی۔” محمد عمر (راولپنڈی) نے بتایا، "مجھ سے ملازمت کے لیے کورس فیس کے نام پر 78,000 روپے لیے گئے، لیکن نہ تو ملازمت ملی اور نہ ہی سرٹیفکیٹ کسی کام کا تھا۔”

    ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے آن لائن فراڈ کے خلاف متعدد کامیاب آپریشنز کیے ہیں۔ فیصل آباد، کراچی اور راولپنڈی میں حالیہ چھاپوں کے دوران متعدد ملزمان گرفتار کیے گئے اور جعلی ویب سائٹس بند کی گئیں۔ ایف آئی اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک پیشکشوں سے ہوشیار رہیں اور کسی بھی فراڈ کی اطلاع فوری دیں۔ بچاؤ کے لیے چند اہم اقدامات شامل ہیں، کسی بھی آن لائن کورس میں رجسٹریشن سے پہلے ادارے کی ساکھ چیک کریں، بھاری ایڈوانس فیس مانگنے والے اداروں سے ہوشیار رہیں اور معاہدے کی شرائط غور سے پڑھیں۔ مضبوط پاس ورڈز استعمال کریں اور مشکوک لنکس یا ایپس سے دور رہیں۔ فراڈ کا شبہ ہونے پر فوری طور پر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ سے رابطہ کریں (ہیلپ لائن: 111-345-786)۔ صرف تسلیم شدہ تعلیمی اداروں سے کورسز لیں اوردینی تعلیم کیلئے مقامی عالم یا مفتی سے مشورہ کریں۔

    آن لائن تعلیمی فراڈ پاکستان میں ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے جو طلبہ کی مالی اور تعلیمی امنگوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ ایف آئی اے کی کارروائیاں قابل ستائش ہیں لیکن عوام کی آگاہی اور احتیاط ہی اس خطرے سے بچاؤ کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ مستند اداروں سے رابطہ، مشکوک پیشکشوں سے گریز اور سائبر سیکیورٹی کے اقدامات سے اس طرح کے فراڈ سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔

  • سیالکوٹ: وزیر دفاع خواجہ آصف کا ڈی پی او آفس کا دورہ، سیف سٹی پراجیکٹ و پولیس خدمت مرکز پر بریفنگ

    سیالکوٹ: وزیر دفاع خواجہ آصف کا ڈی پی او آفس کا دورہ، سیف سٹی پراجیکٹ و پولیس خدمت مرکز پر بریفنگ

    سیالکوٹ( باغی ٹی وی ،بیوروچیف شاہد ریاض) وزیر دفاع خواجہ آصف کا ڈی پی او آفس کا دورہ، سیف سٹی پراجیکٹ و پولیس خدمت مرکز پر بریفنگ

    وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے ڈی پی او آفس سیالکوٹ کا اہم دورہ کیا، جہاں ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد نے کمانڈر آپریشنز سیف سٹی ساجد حمید ورک کے ہمراہ ان کا پرتپاک استقبال کیا اور پولیسنگ کے جدید اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    وزیر دفاع کو سیف سٹی آپریشنز مانیٹرنگ سنٹر میں جدید حکمت عملی، عوامی سہولیات اور سیالکوٹ پولیس کی جانب سے متعارف کرائے گئے اقدامات پر تفصیل سے آگاہ کیا گیا۔ ڈی پی او فیصل شہزاد نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کے وژن کے مطابق ضلع میں جدید ٹیکنالوجی پر مبنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس سسٹم، باڈی کیم کے ساتھ سنیپ چیکنگ، اور جرائم کی موثر نگرانی جیسے اقدامات سے جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے۔

    خواجہ آصف کو ضلع سیالکوٹ کی آبادی، معاشی اور جغرافیائی اہمیت کے ساتھ موجودہ پولیس فورس و وسائل کی صورتحال دیگر اضلاع کے ساتھ موازنہ کی صورت میں پیش کی گئی۔ ڈی پی او نے زور دیا کہ سیالکوٹ کو "سٹی ڈسٹرکٹ” کا درجہ دیا جانا اشد ضروری ہے تاکہ یہاں کے لیے درکار وسائل اور نفری کو بہتر انداز میں مہیا کیا جا سکے۔

    وزیر دفاع کو سیالکوٹ میں بڑھتے ہوئے ٹریفک چیلنجز اور ان کے حل کے لیے تجویز کردہ اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا جن میں ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کرنا شامل ہے۔

    اس موقع پر وزیر دفاع نے پولیس لائنز میں زیرِ تعمیر پاکستان کے پہلے ڈرائیو تھرو پولیس خدمت مرکز کا بھی دورہ کیا، جہاں شہریوں کو گاڑی سے اترے بغیر 14 اہم پولیس سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ خواجہ آصف نے اس منفرد اور عوام دوست منصوبے کو پولیس کی جدید سوچ اور سہل کاری کی بہترین مثال قرار دیا۔

    دورے کے اختتام پر وزیر دفاع نے ڈی پی او فیصل شہزاد اور سیالکوٹ پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کروائی کہ حکومت پنجاب ضلع سیالکوٹ کو مزید محفوظ، جدید اور ترقی یافتہ بنانے کے لیے درکار وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے اُس وژن کی حقیقی تصویر ہیں جس کا مقصد جدید، مؤثر اور عوام دوست پولیسنگ کو فروغ دینا ہے۔

  • سیالکوٹ: سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ پوسٹ شیئر کرنے والا شہری گرفتار، مقدمہ درج

    سیالکوٹ: سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ پوسٹ شیئر کرنے والا شہری گرفتار، مقدمہ درج

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ پوسٹ شیئر کرنے والا شہری گرفتار، مقدمہ درج،محرم الحرام میں شر انگیزی کی اجازت نہیں، ڈی پی او سیالکوٹ کا سخت پیغام

    سیالکوٹ پولیس نے محرم الحرام کے دوران فرقہ واریت پر مبنی مواد سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے والے ایک شہری کو فوری کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کر لیا۔ ملزم کے خلاف تھانہ مراد پور میں مقدمہ درج کر کے اسے جوڈیشل حوالات بھجوا دیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق ملزم نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایسا مواد شیئر کیا جو مذہبی منافرت اور فرقہ واریت کو ہوا دینے والا تھا۔ پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری ایکشن لیا اور قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے شہری کو گرفتار کرلیا۔ گرفتاری کے بعد مذکورہ شخص نے اپنے اقدام پر ندامت کا اظہار کیا اور معافی کی درخواست بھی دی۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سیالکوٹ فیصل شہزاد نے کہا ہے کہ محرم الحرام کے مقدس ایّام میں سوشل میڈیا پر شر انگیز اور فرقہ وارانہ مواد شیئر کرنے والوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی مسلک یا مذہب کے خلاف اشتعال انگیز پوسٹس یا تبصرے برداشت نہیں کیے جائیں گے، اور ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں

  • تنگوانی: سندھ پولیس کی بھرتیوں میں مسلسل ناانصافی، ویٹنگ امیدواروں کا احتجاج جاری

    تنگوانی: سندھ پولیس کی بھرتیوں میں مسلسل ناانصافی، ویٹنگ امیدواروں کا احتجاج جاری

    تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ)سندھ پولیس کی بھرتیوں میں مسلسل ناانصافی، ویٹنگ امیدواروں کا احتجاج جاری،وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اور وزیر داخلہ ضیاء لنجار سے نوٹس لینے کی اپیل

    سندھ پولیس میں 2019 کی بھرتیوں کے دوران پی ٹی ایس ٹیسٹ پاس کرنے والے ویٹنگ امیدوار نوجوانوں کے ساتھ مسلسل ناانصافی جاری ہے، جس پر امیدواروں کی جانب سے بھرپور احتجاج کیا جا رہا ہے۔ نوجوانوں نے سندھ حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ تمام مطلوبہ مراحل مکمل کرنے کے باوجود انہیں آج تک پولیس میں بھرتی نہیں کیا گیا۔

    احتجاجی نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ پولیس کانسٹیبل کی آسامیوں کے لیے نہ صرف تحریری بلکہ جسمانی ٹیسٹ بھی کامیابی سے مکمل کر چکے ہیں اور انہیں "ویٹنگ لسٹ” میں شامل کر لیا گیا تھا۔ تاہم وقت گزرنے کے باوجود نہ تو انہیں بھرتی کا کوئی باقاعدہ آرڈر جاری کیا گیا اور نہ ہی اس بارے میں کوئی پیش رفت دکھائی دے رہی ہے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ کابینہ اس بھرتی کی منظوری دے چکی ہے، اس کے باوجود انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے کئی مہینوں سے احتجاج کر رہے ہیں مگر ان کی آواز سننے والا کوئی نہیں۔ نوجوانوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ضلع انتظامیہ کی جانب سے انہیں مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

    احتجاجی نوجوانوں نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وزیر داخلہ ضیاء لنجار سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے کا فوری نوٹس لیں اور ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ازالہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی بھرتی نہ کی گئی تو وہ اپنا احتجاج صوبائی سطح تک پھیلائیں گے۔

  • گوجرانوالہ: پولیس کی منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی، 5 ملزمان گرفتار، 6 کلو سے زائد ہیروئن و چرس برآمد

    گوجرانوالہ: پولیس کی منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی، 5 ملزمان گرفتار، 6 کلو سے زائد ہیروئن و چرس برآمد

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی)گوجرانوالہ پولیس کی منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی: 5 ملزمان گرفتار، 6 کلو سے زائد ہیروئن و چرس برآمد،سماجی حلقوں کا پولیس کو خراج تحسین، سی پی او کا نوجوان نسل کے تحفظ کے عزم کا اظہار

    گوجرانوالہ پولیس نے منشیات فروشوں کے خلاف ایک اور بڑی کارروائی کرتے ہوئے 5 خطرناک ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کے قبضے سے مجموعی طور پر 5 کلو 430 گرام ہیروئن اور 740 گرام چرس برآمد کی گئی ہے۔ ان ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

    یہ کامیاب کارروائیاں سٹی پولیس آفیسر محمد ایاز سلیم کی خصوصی ہدایات پر عملدرآمد کرتے ہوئے کی گئیں۔ سی پی او نے تمام تھانوں کو منشیات فروشوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کے احکامات دے رکھے ہیں۔ اس سلسلے میں تھانہ کینٹ، تھانہ دھلے، تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن اور تھانہ کھیالی کی پولیس ٹیموں نے گشت، ناکہ بندی اور سرچ آپریشن کے دوران اہم کامیابیاں حاصل کیں۔

    تھانہ کینٹ پولیس نے منشیات فروش کبیر احمد سے 1.460 کلوگرام ہیروئن برآمد کی۔
    تھانہ دھلے پولیس نے جاوید بٹ سے 1.410 کلوگرام ہیروئن اور سلیمان سے 740 گرام چرس برآمد کی۔
    تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن پولیس نے ارسلان عرف شانی سے 1.320 کلوگرام ہیروئن برآمد کی۔
    تھانہ کھیالی پولیس نے عدنان لطیف سے 1.240 کلوگرام ہیروئن برآمد کی۔

    دورانِ تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزمان دوسرے اضلاع سے منشیات لاکر گوجرانوالہ بھر میں فروخت کرتے تھے۔ پولیس کے مطابق مزید تفتیش جاری ہے اور قوی امکان ہے کہ اس نیٹ ورک کے دیگر ارکان بھی جلد گرفتار کیے جائیں گے۔

    ان کامیاب کارروائیوں پر سماجی و سیاسی تنظیموں اور اہلِ علاقہ نے پولیس کی کوششوں کو سراہا اور خراجِ تحسین پیش کیا۔ شہریوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو منشیات جیسے زہر سے بچانے کے لیے ایسی جرات مندانہ کارروائیاں نہایت ضروری ہیں۔

    اس موقع پر سی پی او محمد ایاز سلیم نے کہا کہ گوجرانوالہ میں منشیات فروشوں کے لیے کوئی جگہ نہیں، نوجوان نسل کا محفوظ مستقبل یقینی بنانے کے لیے ان مجرموں کے گرد دائرہ مزید تنگ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کامیاب کارروائی پر تھانہ کینٹ، تھانہ دھلے، تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن اور تھانہ کھیالی کے ایس ایچ اوز اور ان کی ٹیموں کو شاباش دیتے ہوئے ان کے جذبے کو سراہا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ یہ مہم جاری رہے گی اور گوجرانوالہ کو منشیات سے پاک ضلع بنانے کا مشن ہر قیمت پر مکمل کیا جائے گا۔

  • ٹھٹھہ: فاروق احمد بجارانی نے بطور ایس ایس پی ٹھٹھہ چارج سنبھال لیا، یادگار شہداء پر حاضری، افسران سے تعارفی ملاقات

    ٹھٹھہ: فاروق احمد بجارانی نے بطور ایس ایس پی ٹھٹھہ چارج سنبھال لیا، یادگار شہداء پر حاضری، افسران سے تعارفی ملاقات

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی،ڈسٹرکٹ رپورٹر بلاول سموں)ضلع ٹھٹھہ میں پولیس کے نئے سربراہ فاروق احمد بجارانی نے باقاعدہ طور پر ایس ایس پی کا چارج سنبھال لیا۔ ایس ایس پی آفس پہنچنے پر پولیس افسران اور عملے نے اُن کا پرتپاک استقبال کیا، جبکہ چاق و چوبند پولیس دستے نے انہیں سلامی بھی پیش کی۔

    چارج سنبھالنے کے فوری بعد ایس ایس پی فاروق احمد بجارانی نے یادگار شہداء پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور شہداء کی بلندی درجات کے لیے دعا کی۔ اُن کے ہمراہ دیگر پولیس افسران بھی موجود تھے۔


    بعد ازاں ایس ایس پی ٹھٹھہ نے ایس ایس پی آفس کے تمام ہیڈ آف برانچز سے تعارفی ملاقات کی۔ انہوں نے پولیس یونٹس کی مجموعی کارکردگی کو مؤثر اور عوام دوست بنانے کے لیے متعلقہ افسران اور اہلکاروں کو ضروری ہدایات جاری کیں۔

    اپنے ابتدائی پیغام میں ایس ایس پی فاروق احمد بجارانی نے کہا کہ ٹھٹھہ پولیس کو قانون کی حکمرانی اور عوامی خدمت کو اولین ترجیح دینی ہوگی۔ اگر کسی اہلکار یا شہری کو کسی بھی قسم کا مسئلہ درپیش ہو تو وہ بلا جھجک اُن سے براہِ راست رابطہ کرے، وہ ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق نئے ایس ایس پی کی قیادت میں ٹھٹھہ میں امن و امان اور قانون نافذ کرنے کے عمل میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔

  • حکومتی پالیسیاں، تاجروں کی ہڑتال اور بے حس جوتے کھاتی عوام

    حکومتی پالیسیاں، تاجروں کی ہڑتال اور بے حس جوتے کھاتی عوام

    حکومتی پالیسیاں، تاجروں کی ہڑتال اور بے حس جوتے کھاتی عوام
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف بے رحم حکومتی پالیسیاں ہیں جو سرمایہ کاروں، صنعتکاروں اور تاجروں پر ٹیکسوں کا ایسا بوجھ ڈال رہی ہیں جو عملاً کاروبار کو دفن کرنے کے مترادف ہے تو دوسری جانب ایک تھکی ہاری، بے حال اور دبے ہوئی عوام ہے جو روز مہنگائی، بیروزگاری اور بڑھتے ہوئے بلوں کے طوفان میں اپنی سانسیں گن رہی ہے۔ مگر اس دو انتہاؤں کے درمیان جو سب سے حیران کن فرق ہے وہ ردعمل کا ہے،جیساکہ تاجر متحد ہو کر سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور عوام چپ چاپ "جوتے” کھاتی رہتی ہے۔

    حالیہ بجٹ 2025-26 کے خلاف بزنس کمیونٹی کے واضح اور بھرپور ردعمل نے اس تاثر کو مزید مستحکم کیا ہے کہ یہ طبقہ جانتا ہے کہ اپنی آواز کیسے منوانی ہے۔ سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کے صدر اکرام الحق، پاکستان سپورٹس گڈز مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین خواجہ مسعود اختر اور دیگر تمام کاروباری نمائندوں نے متفقہ طور پر نہ صرف بجٹ کو مسترد کیا بلکہ 19 جولائی کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان بھی کیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ 37A اور 37B جیسے "کالے قوانین” بزنس کو تباہ کرنے کی سازش ہیں اور آئی ایم ایف کی خوشنودی کے لیے مقامی صنعتوں کی گردن مروڑی جا رہی ہے۔

    یہ تمام بیانات اور فیصلے بتاتے ہیں کہ تاجر طبقہ نہ صرف حالات کی نزاکت کو سمجھتا ہے بلکہ منظم، متحد اور باہمی اتفاق سے ان کا مقابلہ بھی کرتا ہے۔ اُن کے پاس ادارے ہیں، پلیٹ فارم ہیں، قیادت ہے اور سب سے بڑھ کر شعور ہے کہ کب، کہاں اور کیسے اپنی طاقت کو استعمال کرنا ہے۔

    اب آئیے دوسری طرف دیکھیں تو وہ عوام جس پر ہر مہینہ بجلی کے بلوں کی صورت میں قہر نازل ہوتا ہے، جس کے باورچی خانے میں آٹا، چینی، گوشت اور سبزیاں خواب بن چکے ہیں جو روز کسی نہ کسی خاندان کی خودکشی کی خبر سن کر بھی چپ رہتی ہے۔ واپڈا کی "سلیب گردی” ہو یا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، ہر مسئلہ براہ راست عوام کو متاثر کرتا ہے۔ پھر بھی کوئی اجتماعی احتجاج، کوئی ملک گیر تحریک، کوئی شٹر بند ہڑتال نظر نہیں آتی۔

    اس عوامی خاموشی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ سب سے بڑی وجہ ایک مؤثر قیادت اور تنظیم کی عدم موجودگی ہے۔ عوام کے پاس نہ کوئی چیمبر آف کامرس ہے، نہ کوئی نمائندہ آواز، نہ ہی وہ متحد ہونے کے کسی پلیٹ فارم پر متفق ہیں۔ دوسرا، خوف اور مایوسی نے دلوں کو مردہ کر دیا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ "کچھ نہیں بدلے گا”، اور اس سوچ نے انہیں بے عملی کی قبر میں دفن کر دیا ہے۔ حزب اختلاف کی غیر موجودگی اور میڈیا کی مصلحت پسندی نے اس بے حسی کو اور بھی مضبوط کر دیا ہے۔

    تاجروں کی ہڑتال ہمیں بتاتی ہے کہ اتحاد میں طاقت ہے، تنظیم میں اثر ہے اور قیادت میں سمت ہے۔ اگر عوام ان اصولوں کو اپنائیں تو وہ بھی اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ لیکن کیا وہ ایسا کریں گے؟ کیا وہ اپنی بے بسی کو طاقت میں بدلنے کے لیے تیار ہیں؟ یا پھر وہی "جوتے کھاتی عوام” بن کر تماشائی بنی رہے گی؟

    اس موقع پر ایک پرانی کہاوت یاد آتی ہے کہ”سو پیاز اور سو جوتے۔” جب بادشاہ نے مجرم کو اختیار دیا کہ وہ یا تو سو پیاز کھائے یا سو جوتے سہے، تو اس مجرم نے پہلے پیاز کھانے شروع کیے۔ مگر جب برداشت نہ رہی تو جوتوں کی سزا قبول کی اور آخر کار دونوں پورے کیے،سو پیاز بھی کھائے اور سو جوتے بھی سہے۔

    آج پاکستانی عوام بھی اسی دو راہے پر کھڑی ہے۔ وہ ہر روز "پیاز” کی صورت میں مہنگائی، بیروزگاری، لوڈشیڈنگ اور ٹیکسوں کا بوجھ اٹھا رہی ہے اور "جوتوں” کی صورت میں ذلت، بے بسی، استحصال اور خاموشی برداشت کر رہی ہے۔

    سوال یہ ہے کہ عوام کب تک سو پیاز اور سو جوتے دونوں سہتی رہے گی؟ کیا وہ تاجروں کی طرح اپنے حق کے لیے اٹھ کھڑی ہو گی؟ کیا اب وقت نہیں آیا کہ "تماشائی” کی حیثیت سے نکل کر "تحریک” کا حصہ بن جایا جائے اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی جائے؟ یہ فیصلہ اب صرف عوام نے ہی کرنا ہے کہ وہ کون سا راستہ اختیار کرتی ہے۔