Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اوچ شریف: شمس کالونی گندگی کے ڈھیر میں تبدیل، بی ڈبلیو ایم سی کی مجرمانہ غفلت پر شہری سراپا احتجاج

    اوچ شریف: شمس کالونی گندگی کے ڈھیر میں تبدیل، بی ڈبلیو ایم سی کی مجرمانہ غفلت پر شہری سراپا احتجاج

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب اللہ خان) شمس کالونی گندگی کے ڈھیر میں تبدیل، بی ڈبلیو ایم سی کی مجرمانہ غفلت پر شہری سراپا احتجاج

    اوچ شریف کی معروف رہائشی آبادی شمس کالونی اس وقت بدترین ماحولیاتی بحران کا شکار ہے، جہاں بہاولپور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (بی ڈبلیو ایم سی) کی مجرمانہ غفلت نے گلی محلوں کو گندگی، بدبو، مچھروں اور بیماریوں کے ڈھیر میں بدل دیا ہے۔

    کالونی کی گلیوں میں ہر طرف کچرے کے ڈھیر، گھریلو فضلہ، پلاسٹک کے تھیلے، اور گندے نالے بہتے نظر آتے ہیں، جس کے باعث بچوں اور بزرگوں میں کھانسی، بخار، ڈینگی، ملیریا اور جلدی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ مقامی رہائشی سہیل احمد نے میڈیا کو بتایا، "ہمارے بچے بیمار پڑ رہے ہیں، بدبو اور مکھیاں کھانے تک کا نوالہ زہر بنا چکی ہیں۔”

    ایک اور شہری غلام حسین نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "ہم نے ہر فورم پر شکایات کیں، بی ڈبلیو ایم سی کے افسران کو تحریری درخواستیں دیں، لیکن کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ یہ کمپنی صرف کاغذی کارروائیوں تک محدود ہے۔”

    نالوں کی صفائی نہ ہونے کے باعث گندا پانی گلیوں میں کھڑا ہے، جو نہ صرف تعفن کا باعث ہے بلکہ مچھروں کی افزائش گاہ بن چکا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر صفائی نہ کروائی گئی تو وہ احتجاجاً سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے۔

    رہائشی بشیر احمد نے کہا، "ہر الیکشن میں وعدے ہوتے ہیں، مگر آج عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ سیاستدانوں کو اب ہماری گلیوں کی گندگی سے بدبو آتی ہے اس لیے وہ واپس نہیں آتے۔”

    شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، ڈپٹی کمشنر بہاولپور ڈاکٹر فرحان فاروق، اور ٹی ایم اے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری ایکشن لیتے ہوئے شمس کالونی کو صفائی کی سہولت فراہم کی جائے۔ بی ڈبلیو ایم سی کے ذمہ دار افسران کے خلاف انکوائری کی جائے، اور مستقل بنیادوں پر کچرا اٹھانے اور نکاسی کا نظام بحال کیا جائے، تاکہ علاقے کے مکین اس ماحولیاتی جہنم سے نجات حاصل کر سکیں۔

  • چینی کی قیمتوں میں بے لگام اضافہ: حکومتی وعدوں کی ناکامی اور عوام کی پریشانی

    چینی کی قیمتوں میں بے لگام اضافہ: حکومتی وعدوں کی ناکامی اور عوام کی پریشانی

    چینی کی قیمتوں میں بے لگام اضافہ: حکومتی وعدوں کی ناکامی اور عوام کی پریشانی
    تحریر: حبیب اللہ خان، نامہ نگار باغی ٹی وی بہاولپور
    پاکستان میں چینی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ نہ صرف عوام کے لیے ایک بڑا معاشی دھچکا ہے بلکہ حکومتی پالیسیوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔ گزشتہ برس شوگر ملز مالکان اور ڈیلرز نے حکومت کو یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ چینی کی برآمد سے نہ صرف زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا بلکہ ملکی معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔ ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ برآمدات کے باوجود مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں یا دستیابی پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔

    ان دعوؤں کی بنیاد پر حکومت نے چینی کی برآمد کی اجازت دے دی اور پُر اعتماد انداز میں کہا کہ کرشنگ سیزن سے قبل نہ چینی کی قلت ہوگی، نہ قیمتیں بڑھیں گی، اور نہ ہی درآمد کی ضرورت پیش آئے گی۔ لیکن آج صورتحال مکمل طور پر اس کے برعکس ہے۔

    چینی کی قیمتیں بے قابو ہو چکی ہیں، مارکیٹ میں قلت پیدا ہو رہی ہے، اور اب حکومت کو دوبارہ چینی درآمد کرنے کے لیے ڈالرز خرچ کرنے پڑ رہے ہیں۔ دسمبر 2024 میں جو چینی ایکس مل ریٹ پر 125 سے 130 روپے فی کلو دستیاب تھی، وہ اب ریٹیل مارکیٹ میں 190 سے 200 روپے فی کلو کی سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اوچ شریف میں چینی کی قیمت 6 روپے کے اضافے کے ساتھ 190 روپے، احمد پور میں 5 روپے اضافے سے 195 روپے، اور بہاولپور میں صرف ایک ماہ میں 10 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں قیمت 200 روپے فی کلو کی بلند ترین سطح کو چھو رہی ہے۔

    شوگر ڈیلرز نے برآمدات کے ذریعے ڈالر تو ضرور کمائے، لیکن اس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑا۔ برآمدات سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ بے معنی ہو جاتا ہے جب ملک کو دوبارہ وہی چینی درآمد کرنے کے لیے قیمتی ڈالرز خرچ کرنے پڑیں۔ یہ صورتحال حکومتی منصوبہ بندی میں خامیوں، شفافیت کی کمی اور فیصلہ سازی میں مفادات کے تصادم کو بے نقاب کرتی ہے۔

    سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جنہوں نے اس بحران کو جنم دیا؟ ماہرین کے مطابق چینی کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں شوگر ملز کی جانب سے پیداوار کے اعداد و شمار میں ہیر پھیر، برآمدات کو غیر ضروری طور پر ترجیح دینا، اور مقامی مارکیٹ کی طلب کو نظر انداز کرنا شامل ہیں۔ شوگر ملوں نے مبینہ طور پر پیداوار کو جان بوجھ کر کم ظاہر کیا تاکہ برآمدات کی اجازت حاصل کی جا سکے، جس کے نتیجے میں مقامی مارکیٹ میں چینی کی دستیابی متاثر ہوئی۔ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اضافے نے بھی درآمدات کو مزید مہنگا کر دیا، جس کا بوجھ بالآخر صارفین پر پڑا۔

    چینی ایک بنیادی ضرورت کی شے ہے، اور اس کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست عوام کی قوتِ خرید پر ضرب لگا رہا ہے۔ غریب اور متوسط طبقہ، جو پہلے ہی مہنگائی کی لپیٹ میں ہے، چینی کے اس ہوشربا اضافے سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ بیکریوں، مٹھائی فروشوں اور چینی استعمال کرنے والی دیگر صنعتوں پر بھی اس بحران کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بحران کا حل کیا ہے؟ حکومت کو فوری طور پر چینی کی برآمدات پر پابندی عائد کرنی چاہیے اور مقامی ضروریات کو ترجیح دینی چاہیے۔ شوگر ملز کی پیداوار اور اسٹاک کی کڑی نگرانی کی جائے تاکہ اعداد و شمار میں ہیر پھیر روکی جا سکے۔ قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے سبسڈی یا دیگر اقدامات پر غور کیا جائے۔ اگر حکومت نے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو یہ بحران نہ صرف معیشت بلکہ سیاسی استحکام کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

    چینی کی قیمتوں میں بے قابو اضافہ نہ صرف حکومتی وعدوں کی ناکامی کا نتیجہ ہے بلکہ ناقص منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی کے عمل میں شفافیت کی عدم موجودگی کا ثبوت بھی ہے۔ یہ وقت ہے کہ حکومت سنجیدگی سے اپنی ترجیحات کا ازسرِنو جائزہ لے اور عوامی مفاد کو اولیت دے، ورنہ عوامی اعتماد اور ملکی معیشت دونوں شدید خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

  • اوکاڑہ: پولیس مقابلے میں 2 بین الصوبائی ڈاکو ہلاک، اسلحہ و موٹرسائیکل برآمد

    اوکاڑہ: پولیس مقابلے میں 2 بین الصوبائی ڈاکو ہلاک، اسلحہ و موٹرسائیکل برآمد

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)اوکاڑہ کے نواحی علاقے پیر دی ہٹی تھانہ سٹی دیپالپور کی حدود میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران دو بین الصوبائی ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والے ڈاکوؤں کی شناخت سمیر اور علی حسنین کے ناموں سے ہوئی ہے، جو پنجاب اور سندھ میں اقدامِ قتل، ڈکیتی، راہزنی سمیت کم از کم 20 سے زائد سنگین مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھے۔

    پولیس ترجمان کے مطابق چار مسلح ڈاکوؤں نے 38 ڈی کے علاقے میں ایک شہری سے اسلحے کے زور پر موٹر سائیکل چھین لی۔ واقعے کی اطلاع پر ایس ایچ او فخر حیات اور ان کی ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کا پیچھا کیا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ڈاکوؤں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ جوابی کارروائی میں دو ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کی زد میں آکر موقع پر ہلاک ہو گئے جبکہ دو فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    پولیس نے موقع سے چھینی گئی موٹرسائیکل اور اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔ ہلاک ملزمان کا ریکارڈ کراچی، لاہور اور پاکپتن کے مختلف تھانوں میں درج ہے۔ فرار ملزمان کی تلاش کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جبکہ دیپالپور سرکل کی بھاری نفری علاقے میں سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہلاک ڈاکوؤں کی لاشیں اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں اور مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

  • ڈسکہ: پولیس مقابلے میں خطرناک ملزم انضمام عرف سانپ ہلاک

    ڈسکہ: پولیس مقابلے میں خطرناک ملزم انضمام عرف سانپ ہلاک

    ڈسکہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک عمران)بمبانوالہ پولیس اور جرائم پیشہ افراد کے درمیان کلمہ چوک غالبکے کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں خطرناک ملزم انضمام عرف سانپ اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہو گیا، جبکہ اس کے دو ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    تفصیلات کے مطابق بمبانوالہ پولیس معمول کے گشت پر موجود تھی کہ اچانک تین موٹر سائیکل سوار افراد نے پولیس پارٹی پر فائرنگ شروع کر دی۔ ملزمان فائرنگ کرتے ہوئے قریبی کھیتوں میں گھس گئے اور کافی دیر تک شدید فائرنگ کرتے رہے۔ پولیس کی جانب سے ہوائی فائرنگ سے جوابی کارروائی کی گئی۔

    فائرنگ کے تھمنے کے بعد پولیس کو کھیتوں میں ایک ملزم زخمی حالت میں ملا، جس کی شناخت انضمام ولد اللہ دتہ سکنہ اسلام نگر ڈسکہ کے نام سے ہوئی، جو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر دم توڑ گیا۔ پولیس کے مطابق ہلاک ملزم ڈکیتی، راہزنی، موٹر سائیکل چوری، چھیننے اور اقدام قتل کی متعدد وارداتوں میں مطلوب تھا۔

    پولیس نے واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر فرار ہونے والے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔ بمبانوالہ پولیس کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

  • ڈسکہ: پریس کلب کا پہلا باقاعدہ اجلاس، جگہ کے حصول کے لیے اے ڈی سی آر سے رابطہ

    ڈسکہ: پریس کلب کا پہلا باقاعدہ اجلاس، جگہ کے حصول کے لیے اے ڈی سی آر سے رابطہ

    ڈسکہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک عمران)پریس کلب ڈسکہ ® کا پہلا باقاعدہ اجلاس منشاء پلازہ، دفتر پریس کلب نسبت روڈ پر منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین محمد افضل منشاء نے کی جبکہ سرپرستی شہباز علی محسن نے کی۔ اجلاس میں پریس کلب کے تمام عہدیداران نے بھرپور شرکت کی۔

    اجلاس کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا جو جنرل سیکرٹری سید رضوان مہدی نے کی، جبکہ نعت رسول مقبول ﷺ کا شرف سرپرست شہباز علی محسن نے حاصل کیا۔ اجلاس کا بنیادی ایجنڈا پریس کلب ® کے جنرل اجلاس کے انعقاد سے متعلق تھا۔

    اجلاس میں اتفاقِ رائے سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ جنرل اجلاس کے انعقاد سے قبل پریس کلب ® کے لیے باقاعدہ جگہ حاصل کی جائے گی۔ اس سلسلے میں موقع پر ہی چیئرمین محمد افضل منشاء نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو (اے ڈی سی آر) محمد اقبال سنگھیڑا سے رابطہ کیا اور دو روز کے اندر ملاقات کا وقت طے کیا۔

    اجلاس کے اختتام پر دعا خیر کی گئی اور پریس کلب کی باضابطہ سرگرمیوں کے آغاز کو خوش آئند قرار دیا گیا۔ عہدیداران نے امید ظاہر کی کہ پریس کلب ® صحافی برادری کے حقوق اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔

  • سیالکوٹ کا نوجوان طبقہ بے حال، 6 ماہ میں 4831 ملک چھوڑکر دیارغیرچلے گئے

    سیالکوٹ کا نوجوان طبقہ بے حال، 6 ماہ میں 4831 ملک چھوڑکر دیارغیرچلے گئے

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، رپورٹ: شاہد ریاض)چھ ماہ میں 4831 نوجوان بیرونِ ملک روانہ، 60 فیصد تعلیم یافتہ، مقامی روزگار پر سوالیہ نشان، جنوری تا مارچ 2025 کے دوران، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 172,144 پاکستانی نوجوان بیرونِ ملک روزگار کی تلاش میں روانہ ہوئے

    تفصیل کے مطابق رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں ضلع سیالکوٹ سے 4831 نوجوان بہتر مستقبل اور روزگار کی تلاش میں بیرونِ ملک روانہ ہو گئے، جن میں سے 60 فیصد تعلیم یافتہ اور ہنرمند نوجوان شامل ہیں۔ معاشی بحران، مہنگائی اور مقامی سطح پر روزگار کے محدود مواقع نے نوجوانوں کو اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان نوجوانوں نے زیادہ تر سعودی عرب، قطر، بحرین، عمان، ملائیشیا اور دبئی جیسے مشرق وسطیٰ کے ممالک کا رخ کیا، جہاں وہ تعمیرات، خدمات، صنعتی اور ٹیکنیکل شعبوں میں ملازمتیں حاصل کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ضلع سیالکوٹ کی پانچوں تحصیلوں — سیالکوٹ، ڈسکہ، پسرور، سمبڑیال اور ان کے گردونواح — سے تعلق رکھنے والے یہ نوجوان نہ صرف ہنر مند تھے بلکہ کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی تھے، جنہیں وطن میں ان کے معیار کے مطابق روزگار دستیاب نہ ہو سکا۔

    اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ ان میں سے 83 نوجوان یورپ اور امریکہ گئے، جن میں سے کچھ نے وہاں مستقل سکونت اختیار کر لی ہے جب کہ کچھ نوجوان تعلیم یا اعلیٰ پیشہ ورانہ تربیت کی غرض سے ان ممالک میں موجود ہیں۔

    معاشی ماہرین کے مطابق یہ مسلسل "برین ڈرین” پاکستان کے مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ایک طرف حکومت نوجوانوں کو روزگار دینے کے دعوے کرتی ہے، دوسری جانب پڑھے لکھے افراد کی بڑی تعداد ملک چھوڑ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تعلیم یافتہ طبقے کی ہجرت کا یہ سلسلہ جاری رہا تو ملک میں نہ صرف افرادی قوت کا خلا پیدا ہو گا بلکہ مقامی ترقیاتی ڈھانچے پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

    مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بڑھانے، انڈسٹریل زونز کے قیام اور کاروبار دوست پالیسیوں کے نفاذ کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے تاکہ نوجوانوں کو ہجرت پر مجبور ہونے سے روکا جا سکے۔ بصورت دیگر، پاکستان کے ترقی کے خواب صرف ہنر مندوں کے ایکسپورٹ تک محدود ہو کر رہ جائیں گے۔

    یاد رہے سیالکوٹ کے علاوہ پاکستان میں رواں سال کے پہلے تین ماہ یعنی جنوری تا مارچ 2025 کے دوران، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 172,144 پاکستانی نوجوان بیرونِ ملک روزگار کی تلاش میں روانہ ہوئے۔ ان میں سے 99,139 عام مزدور، 38,274 ڈرائیورز، 1,859 مستری، 2,130 الیکٹریشنز، 3,474 ٹیکنیشنز، 1,058 ویلڈرز، 849 ڈاکٹرز، 1,479 انجینئرز، 390 نرسز اور 436 اساتذہ شامل تھے۔ ان اعداد و شمار سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نہ صرف ہنر مند بلکہ تعلیم یافتہ اور پیشہ ور افراد بھی مقامی مواقع کی کمی کے باعث بیرونِ ملک جانے پر مجبور ہیں۔ اگر چھ ماہ کے اعداد شمار مل جاتے تو یہ تعداد کئی لاکھ تک پہنچ چکی ہوتی، ماہرین کے مطابق یہ رجحان پاکستان میں بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ اور غیر یقینی مستقبل کی عکاسی کرتا ہے، جو ملک کی ترقی کیلئے ایک سنجیدہ خطرے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

  • سیالکوٹ: بزنس کمیونٹی کا بجٹ 2025-26 مسترد، 11 جولائی کو احتجاج کا اعلان

    سیالکوٹ: بزنس کمیونٹی کا بجٹ 2025-26 مسترد، 11 جولائی کو احتجاج کا اعلان

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیورو چیف شاہد ریاض)سیالکوٹ کی بزنس کمیونٹی نے وفاقی بجٹ 2025-26 کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے 11 جولائی کو بھرپور احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔ سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر اکرام الحق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ کاروباری طبقے کے خلاف ایک کھلی جنگ ہے، جس کے ذریعے معیشت کا گلا گھونٹنے کی سازش کی گئی ہے۔

    اس موقع پر سینیئر نائب صدر شہباز وسیم لودھی، نائب صدر عمر خالد، محمد خلیل (صدر چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری)، محمد اعجاز غوری (چیئرمین میڈیا کمیٹی)، لالہ ظفر (چیئرمین پولیس کمیٹی)، شیخ خالد اور مقامی صحافی بھی موجود تھے۔

    اکرام الحق کا کہنا تھا کہ پورے ملک کی بزنس کمیونٹی سراپا احتجاج ہے، لیکن حکومت مسلسل ان کی آواز کو نظر انداز کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ آخر کس کو خوش کرنا چاہتے ہیں؟ مقامی صنعت کو تباہ کر کے کیا حاصل ہوگا؟ ٹیکسز کا ایسا بوجھ ڈالا جا رہا ہے جو ناقابل برداشت ہے۔ ہم فیصلہ کر چکے ہیں کہ اس بار ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کرائیں گے۔ اگر حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو ہم سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوں گے۔

    صدر سیالکوٹ چیمبر نے مزید کہا کہ ایف بی آر کے رویے اور پالیسیوں سے بزنس کمیونٹی سخت نالاں ہے، متعدد بار شکایات کے باوجود مسائل حل نہیں کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم آئی ایم ایف کے ایجنڈے کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ 11 جولائی کو سیالکوٹ میں بھی ملک گیر احتجاج میں بھرپور شرکت کی جائے گی تاکہ حکومت کو باور کروایا جا سکے کہ یہ بجٹ ناقابل قبول ہے۔

  • علی پور:کچے کے ڈاکوؤں کی یلغار، 180 بھینسیں لوٹ کر فرار . پولیس بے بس

    علی پور:کچے کے ڈاکوؤں کی یلغار، 180 بھینسیں لوٹ کر فرار . پولیس بے بس

    مظفرگڑھ (باغی ٹی وی) کچے کے جرائم پیشہ عناصر نے ایک بار پھر مظفرگڑھ پولیس کی رٹ کو چیلنج کر دیا۔ گذشتہ روزتحصیل علی پور کے موضع لنگرواہ میں 30 سے زائد مسلح ڈاکوؤں نے دھاوا بول کر مقامی لوگوں کی 180 بھینسیں لوٹ لیں اور باآسانی فرار ہو گئے۔ واردات نے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے جبکہ عوام کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    پولیس کے مطابق متاثرہ افراد نے واردات کے کئی گھنٹے بعد اطلاع دی، جس کے باعث ڈاکو باآسانی کچے کے علاقوں میں داخل ہو گئے۔ جائے واردات پہلے سے جاری کچے آپریشن کے علاقے میں واقع ہے، تاہم اس کے باوجود ڈاکوؤں کی منظم یلغار نے پولیس کی حکمتِ عملی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

    پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ واردات میں ملوث ڈاکو بوسن اور دیگر جرائم پیشہ گینگز سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی گرفتاری کے لیے مظفرگڑھ اور راجن پور کے کچے دریائی علاقوں میں ناکہ بندیاں کر دی گئی ہیں، اور پولیس تعاقب میں ہے۔

    مظفر گڑھ پولیس ترجمان نے کہا ہے کہ کچے کے گینگ کا خاتمہ ہی پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ ڈی پی او ڈاکٹر رضوان احمد خود کچے آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں اور پولیس ٹیموں کو جدید ہتھیاروں، ڈرونز اور ٹیکنالوجی سے لیس کیا جا رہا ہے تاکہ ان سنگین وارداتوں کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

    علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ پولیس آپریشن کی بات کرتی ہے، مگر کچے کے جرائم پیشہ گروہوں کا نیٹ ورک مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کچے کے علاقوں میں مستقل بنیادوں پر سخت فوجی طرز کا آپریشن شروع کیا جائے تاکہ ان وارداتوں کا مستقل خاتمہ ممکن ہو۔

    مزید یہ کہ حالیہ واردات نے پولیس کی موجودہ حکمت عملی پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے، کیونکہ ڈاکو دن دہاڑے اتنی بڑی تعداد میں مویشی لوٹ کر فرار ہو گئے اور کئی گھنٹوں تک کوئی مؤثر کارروائی نظر نہیں آئی۔ عوامی حلقے سوال کر رہے ہیں کہ آخر کب تک شہری کچے کے ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر رہیں گے؟

    ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مشتبہ سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں تاکہ کارروائی بروقت ممکن ہو سکے۔ کچے کے ان بدنام زمانہ گینگس کا خاتمہ اب صرف پولیس کا نہیں، بلکہ پورے ریاستی نظام کا امتحان بن چکا ہے۔

  • ننکانہ: شہر بارش میں ڈوبا، چھوٹے ملازم قربانی کا بکرا، کاغذی کارکردگی اور فوٹو گرافی کی خدمت پر شہری چیخ اٹھے

    ننکانہ: شہر بارش میں ڈوبا، چھوٹے ملازم قربانی کا بکرا، کاغذی کارکردگی اور فوٹو گرافی کی خدمت پر شہری چیخ اٹھے

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز)شہری انتظامیہ کی ناقص منصوبہ بندی اور "تصویری کارکردگی” کا بھانڈا اس وقت پھوٹا جب مون سون کی ایک موسلا دھار بارش نے ننکانہ صاحب کو پانی پانی کر دیا۔ دعوؤں کی دیوار اس وقت گر گئی جب پورا شہر، خصوصاً نشیبی علاقے، تالابوں میں بدل گئے اور میونسپل کمیٹی ہاتھ پر ہاتھ دھرے نظر آئی۔

    کہنے کو نکاسی کے لیے ٹیمیں اور مشینری تیار تھیں، لیکن حقیقت میں شہر بھر کے لیے صرف ایک سکرمشین موجود ہے، وہ بھی ڈسٹرکٹ کونسل کی اور صرف فوٹو سیشن کے لیے متحرک۔ شہری سوشل میڈیا پر چیف آفیسر راؤ انوار کی کارکردگی کی تصاویر دیکھتے رہے جبکہ پانی ان کے گھروں میں داخل ہوتا رہا۔

    چیف آفیسر راؤ انوار اور ان کی ٹیم دن بھر کیمروں کے سامنے نمودار ہوتے رہے، مگر زمینی حقائق اس کی مکمل تردید کرتے ہیں۔ مشینری فیلڈ سے غائب، بارش کے پانی کی نکاسی کا کوئی عملی انتظام نہ تھا اور سارا زور صرف میڈیا کوریج اور فیس بک پوسٹس پر رہا۔

    چیف آفیسر راؤ انوار کی انتظامی نااہلی کی انتہا یہ کہ اپنی ناکامی کا بوجھ نچلے درجے کے ملازمین پر ڈالنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق چیف آفیسر خود ہی شوکاز جاری کرتے ہیں، خود ہی تفتیشی افسر بنتے ہیں اور خود ہی سزا سناتے ہیں . گویا انصاف کی تضحیک کو ادارہ جاتی اصول بنا لیا گیا ہے۔

    محنتی ملازمین کو بغیر ثبوت اور غیر جانبدار انکوائری کے نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس پر شہری حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ عوامی و سماجی شخصیات نے میونسپل افسران کے غیر سنجیدہ رویے اور نااہلی پر شدید تنقید کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب، سیکرٹری بلدیات اور ضلعی انتظامیہ سے فوری ایکشن کا مطالبہ کیا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ "کاغذی کارکردگی” اور "فوٹو گرافی پر مبنی خدمت” مزید برداشت نہیں، اب وقت ہے کہ ان افسران کا قبلہ درست کیا جائے اور ننکانہ صاحب کو ایسے نااہل آفیسران کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے۔

  • اوچ شریف:باغی ٹی وی کی خبر پربڑاایکشن،خیرپور ڈاہا میں غیر قانونی پٹرول و گیس دکانوں کے خلاف کریک ڈاؤن، متعدد سیل

    اوچ شریف:باغی ٹی وی کی خبر پربڑاایکشن،خیرپور ڈاہا میں غیر قانونی پٹرول و گیس دکانوں کے خلاف کریک ڈاؤن، متعدد سیل

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان)باغی ٹی وی کی چشم کشا رپورٹ پر ضلعی انتظامیہ حرکت میں آ گئی، اوچ شریف کے نواحی علاقے خیرپور ڈاہا میں انسانی جانوں سے کھیلنے والے غیر قانونی پٹرول و گیس کاروبار کے خلاف اسسٹنٹ کمشنر نوید حیدر کی زیر قیادت فیصلہ کن کارروائی عمل میں لائی گئی۔ کارروائی کے دوران دو غیر قانونی گیس سلنڈر شاپس سیل کر دی گئیں جبکہ متعدد منی پٹرول پمپس بند کر دیے گئے۔

    ذرائع کے مطابق یہ کارروائی خیرپور ڈاہا چوک بھٹہ پر کی گئی، جہاں غیر محفوظ پٹرول کی ترسیل، ناقص اسٹوریج اور کسی بھی حفاظتی انتظامات کی عدم موجودگی پر سخت تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر نوید حیدر نے موقع پر موجود افراد کو متنبہ کیا کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں، اور یہ مہلک کاروبار کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ضلع بھر میں غیر قانونی فیول ایجنسیاں اور گیس دکانیں بند کی جائیں گی، اور ایسی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے گی۔ سول ڈیفنس، ریسکیو 1122 اور فائر بریگیڈ کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ ایسے دیگر خطرناک کاروباری مراکز کی نشاندہی کی جا سکے۔ اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق مکمل سروے کیا جا رہا ہے، اور عنقریب دیگر علاقوں میں بھی اسی نوعیت کے کریک ڈاؤن کا آغاز کیا جائے گا۔

    ضلعی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ تمام پٹرول ایجنسیوں اور گیس شاپس کا ریکارڈ مرتب کر کے رجسٹریشن، سیفٹی چیک اور لائسنسنگ کا عمل سخت کیا جائے گا۔ بغیر اجازت کاروبار کرنے والوں کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    علاقہ مکینوں، سماجی حلقوں اور شہریوں نے انتظامیہ کی اس کارروائی کو سراہتے ہوئے باغی ٹی وی کا خصوصی شکریہ ادا کیا جس نے جرأت مندانہ رپورٹنگ کے ذریعے خطرناک مسائل کو اجاگر کیا۔ عوام نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ اقدامات وقتی نہیں بلکہ پائیدار اور مسلسل جاری رہیں گے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔