Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ: چیمبر آف کامرس کا بجٹ 2025-26 مسترد، 19 جولائی کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان

    سیالکوٹ: چیمبر آف کامرس کا بجٹ 2025-26 مسترد، 19 جولائی کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض) چیمبر آف کامرس کا بجٹ 2025-26 مسترد، 19 جولائی کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان،اکرام الحق، ریاض الدین شیخ، تاجر برادری کا ایف بی آر، IMF اور 37A/37B پر شدید ردعمل

    ملک بھر کی بزنس کمیونٹی کی طرح سیالکوٹ کے تاجروں نے بھی قومی بجٹ 2025-26 کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ اس کا اظہار سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر اکرام الحق نے ایک اہم اجلاس سے خطاب کے دوران کیا، جس میں بزنس کمیونٹی کی بڑی تعداد شریک تھی۔

    اجلاس میں سینیئر نائب صدر شہباز وسیم لودھی، نائب صدر عمر خالد، چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد خلیل، چیئرمین میڈیا کمیٹی محمد اعجاز غوری، چیئرمین پولیس کمیٹی لالہ ظفر، شیخ خالد اور صحافی برادری بھی موجود تھی۔

    صدر اکرام الحق نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ”پورا ملک سراپا احتجاج ہے، مگر وزیر خزانہ اور دیگر حکام ایک ایسے بجٹ پر مُصر ہیں جو مکمل طور پر بزنس کمیونٹی کے خلاف ہے۔ کاروباری طبقے کو 37A اور 37B جیسے کالے قوانین کے تحت دبایا جا رہا ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ہم ٹیکس ریٹرنز جمع نہیں کرائیں گے، یہ ملک بھر کے تاجروں کا متفقہ فیصلہ ہے۔”

    انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومتی رویہ یہی رہا تو بزنس کمیونٹی مجبور ہو کر سڑکوں پر نکلے گی۔ ایف بی آر سے متعلق شکایات پر بھی برہمی کا اظہار کیا گیا کہ

    "کاروباری طبقہ سالوں سے ایف بی آر کے ہتھکنڈوں کا نشانہ بن رہا ہے، مگر اصلاحات کے بجائے مزید دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔”

    اس موقع پر اتحاد فاؤنڈرز گروپ کے چیئرمین ریاض الدین شیخ نے کہا کہ”ہم حکومت کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ EFS کا اصل اور مؤثر ماڈل بحال کیا جائے۔”

    اجلاس کے اختتام پر مرکزی انجمن تاجران سیالکوٹ اور سیالکوٹ چیمبر آف کامرس نے متفقہ طور پر 19 جولائی 2025 بروز ہفتہ کو شہر بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا۔ مقررین نے کہا کہ اگر حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو احتجاج کا دائرہ ملک گیر تحریک میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومتی پالیسی سازوں پر عائد ہو گی۔

  • سیالکوٹ: بزنس کمیونٹی کا بجٹ 2025-26 مسترد، 19 جولائی کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

    سیالکوٹ: بزنس کمیونٹی کا بجٹ 2025-26 مسترد، 19 جولائی کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض) بزنس کمیونٹی کا بجٹ 2025-26 مسترد، 19 جولائی کو ملک گیر احتجاج کا اعلان،PSGMEA ایگزیکٹو کمیٹی کا ہنگامی اجلاس، حکومت پر تنقید، ایف بی آر پر سنگین الزامات

    پاکستان سپورٹس گڈز مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (PSGMEA) کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اہم اجلاس چیئرمین خواجہ مسعود اختر کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں سینیئر چیئرمین شیخ ابرار احمد، وائس چیئرمین چوہدری اسلم، سابق چیئرمین ملک ذوالفقار احمد، شیخ رفیع سونی اور دیگر ایگزیکٹو ممبران نے شرکت کی۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین خواجہ مسعود اختر نے وفاقی بجٹ 2025-26 کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر کی بزنس کمیونٹی اس عوام دشمن بجٹ کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر خزانہ اور دیگر متعلقہ حکام کی پالیسیوں کا مقصد بزنس کمیونٹی کا گلا گھونٹنا ہے، جو ناقابل قبول ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ٹیکس قوانین 37A اور 37B جیسے "کالے قانون” کے ذریعے کاروباری طبقے کو ڈرایا اور دبایا جا رہا ہے۔

    "ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس دھونس اور جبر کے خلاف ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کرائیں گے، کیونکہ آئی ایم ایف کو خوش کرنے کے لیے مقامی صنعتوں کا جنازہ نکالا جا رہا ہے۔”

    خواجہ مسعود اختر نے خبردار کیا کہ اگر بزنس کمیونٹی کے دیرینہ مسائل بشمول FTR اسکیم، ایکسپورٹرز کی پریشانیاں، اور ایف بی آر سے متعلق شکایات فوری طور پر حل نہ کی گئیں تو تاجر اور صنعت کار مجبور ہو کر سڑکوں پر نکلیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ملک بھر کی طرح سیالکوٹ کی بزنس کمیونٹی بھی 19 جولائی کو بھرپور احتجاج کرے گی، اور اس دن کاروبار بند کر کے اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر آئیں گے۔

    ایگزیکٹو ممبران نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بزنس دوست پالیسیاں اپنائی جائیں اور صنعت کو برباد کرنے والے اقدامات فوری واپس لیے جائیں، ورنہ ملکی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔

    اجلاس کے اختتام پر متفقہ قرارداد کے ذریعے حکومت کو خبردار کیا گیا کہ بزنس کمیونٹی کو مزید نظر انداز نہ کیا جائے، وگرنہ ملک گیر تحریک شروع کی جائے گی جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔

  • سیالکوٹ: وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر سانحہ سوات کے ڈسکہ متاثرین میں امدادی چیک تقسیم

    سیالکوٹ: وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر سانحہ سوات کے ڈسکہ متاثرین میں امدادی چیک تقسیم

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر سانحہ سوات میں جاں بحق ہونے والے ڈسکہ کے متاثرین کے لواحقین کو مالی امداد کے چیک تقسیم کیے گئے۔

    سانحہ میں جان کی بازی ہارنے والے 10 افراد کے تین مختلف لواحقین کو 80، 80 اور 40 لاکھ روپے مالیت کے چیک فراہم کیے گئے۔امدادی چیکس صوبائی وزیر بلدیات میاں ذیشان رفیق، رکن قومی اسمبلی سیدہ نوشین افتخار، اور رکن صوبائی اسمبلی نوید اشرف نے جاں بحق افراد کے گھروں جا کر ان کے اہلِ خانہ کے سپرد کیے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو اقبال سنگھیڑا بھی موجود تھے۔

    میاں ذیشان رفیق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ“وزیراعلیٰ مریم نواز شریف ہر مشکل گھڑی میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں۔ ہم ان کی خصوصی ہدایت پر یہاں آئے ہیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کو یہ پیغام دیں کہ حکومت ان کے ساتھ ہے۔”

    انہوں نے کہا کہ متاثرین کو دی جانے والی یہ مالی امداد ہرگز ان قیمتی جانوں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔ آج بھی دل خون کے آنسو رو رہا ہے، اور یہ زخم کبھی نہیں بھریں گے۔ ہنستے بستے خاندان ایک بدترین انتظامی کوتاہی اور بدانتظامی کی بھینٹ چڑھ گئے۔

    سانحے کے حوالے سے میاں ذیشان رفیق نے مزید بتایا کہ ایک ڈوبنے والے بچے عبداللہ کا تاحال کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر خیبرپختونخوا کی حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ تحقیقات اور امدادی کارروائیاں آگے بڑھائی جا سکیں۔

    ذیشان رفیق نے دیگر صوبوں کی حکومتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ“دوسرے صوبوں کی قیادت کو وزیراعلیٰ مریم نواز شریف سے سیکھنا چاہیے، کہ کس طرح بروقت اقدامات سے عوام کا دکھ بانٹا جاتا ہے۔”

    انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ افراد حادثے کے وقت دو گھنٹے تک مدد کے لیے پکارتے رہے لیکن کوئی ان کی مدد کو نہ پہنچا، جو کہ انتظامیہ کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    متاثرین کے لواحقین نے وزیراعلیٰ پنجاب اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی یہ ہمدردی ان کے زخموں پر مرہم ہے، اور وہ امید کرتے ہیں کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی تاکہ آئندہ ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔

  • تنگوانی: بھلکانی اور قمبرانی قبائل میں خونریز تصادم، فائرنگ سے نوجوان زخمی، پولیس غائب

    تنگوانی: بھلکانی اور قمبرانی قبائل میں خونریز تصادم، فائرنگ سے نوجوان زخمی، پولیس غائب

    تنگوانی (باغی ٹی وی نامہ نگار منصور بلوچ)تنگوانی کے نواحی علاقے نیو روڈ اسٹاپ پر بھلکانی اور قمبرانی قبائل کے درمیان خطرناک تصادم ہوا، جس کے دوران دونوں اطراف سے جدید ہتھیاروں کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔ دو گھنٹے تک جاری رہنے والی فائرنگ کے نتیجے میں علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، جب کہ پولیس مکمل طور پر غائب رہی۔

    عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کے اس واقعے میں قمبرانی قبیلے کا نوجوان نور محمد قمبرانی گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گیا، جسے فوری طور پر طبی امداد کے لیے مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    تصادم کی وجہ ایک پرانی دشمنی بتائی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق شفیع محمد بھلکانی کے بیٹوں اور اربیلو قمبرانی کے درمیان پہلے ایک خاتون کے زخمی ہونے کے واقعے پر کشیدگی چل رہی تھی، جو آج فائرنگ میں بدل گئی۔

    قبائلی ذرائع کے مطابق قمبرانی قبیلے کے معزز شخص نے الزام لگایا ہے کہ ان کے گاؤں پر بھلکانی قبیلے کے منو گینگ سے وابستہ امتیاز بھلکانی نے بھتہ نہ دینے پر جدید ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ان کا نوجوان بری طرح زخمی ہوا۔

    دو گھنٹے تک جاری رہنے والی فائرنگ کے باوجود پولیس موقع پر نہ پہنچ سکی، جس پر علاقہ مکینوں نے انتظامیہ پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت پولیس پہنچتی تو نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔

    علاقے میں تاحال کشیدگی برقرار ہے اور مزید تصادم کا خدشہ ہے۔ عوامی حلقے حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوری طور پر علاقے میں رینجرز یا پلیس کی بھاری نفری تعینات کر کے حالات کو قابو میں لایا جائے اور واقعے کے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

  • اوکاڑہ:لاہور میں آگ بجھاتے ہوئے دو ریسکیو اہلکار شہید، دو زخمی، ریسکیورز کا خراجِ عقیدت

    اوکاڑہ:لاہور میں آگ بجھاتے ہوئے دو ریسکیو اہلکار شہید، دو زخمی، ریسکیورز کا خراجِ عقیدت

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)لاہور میں ایک افسوسناک مگر بہادری سے بھرپور واقعہ پیش آیا جہاں دو ریسکیو 1122 اہلکار، فرض کی ادائیگی کے دوران شہادت کے درجے پر فائز ہوگئے۔ واقعہ 10 جولائی کو پیش آیا، جو نہ صرف لاہور بلکہ ریسکیو 1122 کے لیے ایک غمناک اور فخر سے لبریز دن بن گیا۔

    تفصیلات کے مطابق لاہور میں ایک عمارت میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جہاں پلاسٹک کا دانہ ذخیرہ کیا گیا تھا۔ ریسکیو 1122 کے فائر فائٹرز نے بروقت ریسپانس دیتے ہوئے جانفشانی سے آگ پر قابو پایا۔ تاہم آگ بجھانے کے بعد جب کولنگ کا عمل جاری تھا، اچانک عمارت کا ایک حصہ زمین بوس ہوگیا، جس کے نتیجے میں چار اہلکار ملبے تلے دب گئے۔

    ان میں سے دو بہادر اہلکار فائر فائٹر سید ناظم حسین اور میڈیکل ٹیکنیشن شعیب جانبر نہ ہو سکے اور جامِ شہادت نوش کر گئے، جبکہ دو دیگر اہلکار شدید زخمی حالت میں نکال لیے گئے۔ ریسکیو 1122 کے ان ہیروز نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر خدمت، فرض شناسی اور قربانی کی ایسی روشن مثال قائم کی جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر اوکاڑہ احتشام واہلہ نے واقعے پر گہرے دکھ اور فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ریسکیو 1122 کے یہ شہداء ہمارے وہ سچے ہیرو ہیں جنہوں نے دوسروں کی جان و مال بچانے کے لیے اپنی زندگی قربان کر دی۔ ضلع اوکاڑہ کے تمام ریسکیورز اپنے ان عظیم ساتھیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، جنہوں نے بہادری، قربانی اور انسانیت کی مثال قائم کر دی۔”

    یہ المناک واقعہ نہ صرف ریسکیو 1122 کی بے مثال قربانیوں کو اجاگر کرتا ہے بلکہ اس امر کی بھی گواہی دیتا ہے کہ قوم کے یہ محافظ اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر ہر لمحہ عوام کی خدمت کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔

  • اوچ شریف: بکری کو بچاتے ہوئے 15 سالہ لڑکا زہریلی گیس سے دم گھٹنے کے باعث جاں بحق

    اوچ شریف: بکری کو بچاتے ہوئے 15 سالہ لڑکا زہریلی گیس سے دم گھٹنے کے باعث جاں بحق

    (باغی ٹی وی ، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف کے نواحی علاقے چنی گوٹھ میں ایک افسوسناک اور دلخراش واقعہ پیش آیا ہے، جس میں ایک 15 سالہ لڑکا زہریلی گیس سے دم گھٹنے کے باعث جان کی بازی ہار گیا۔ متوفی لڑکے کی شناخت پرویز ولد عبدالغفار کے نام سے ہوئی ہے، جو تھانہ احمد پور ایسٹ کے قریب واقع علاقے میں رہائش پذیر تھا۔

    تفصیلات کے مطابق، پرویز کے گھر کے باہر ایک پرائیویٹ گٹر کا ڈھکن غائب تھا، جس میں ایک بکری جاگری۔ پرویز نے انسانی ہمدردی اور جانور سے محبت کے تحت بکری کو بچانے کی کوشش کی، لیکن بدقسمتی سے وہ خود بھی گٹر میں جاگرا۔ گٹر میں موجود زہریلی گیسوں کے باعث وہ فوری طور پر بے ہوش ہوگیا اور پانی میں ڈوب گیا۔

    واقعے کی اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122 کی ٹیم فوری موقع پر پہنچی اور آپریشن کے بعد پرویز کو گٹر سے نکالا۔ ریسکیو اہلکاروں نے مصنوعی تنفس اور دل کی دھڑکن کی بحالی کے اقدامات کیے، تاہم اس وقت تک اس کی سانسیں بند ہو چکی تھیں۔ بعد ازاں پرویز کو فوری طور پر آر ایچ سی (RHC) چنی گوٹھ منتقل کیا گیا، مگر وہ جانبر نہ ہو سکا۔

    پرویز کی اچانک موت پر اہل علاقہ شدید صدمے سے دوچار ہیں اور علاقے میں کہرام برپا ہے۔ مقامی افراد نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گٹرز کے کھلے ڈھکنوں کو فوری طور پر بند کیا جائے اور غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے جان لیوا واقعات رونما نہ ہوں۔

    یہ واقعہ نہ صرف مقامی انتظامیہ کی غفلت کی عکاسی کرتا ہے بلکہ شہری تحفظ کے ناقص انتظامات پر ایک سوالیہ نشان بھی چھوڑ گیا ہے۔

  • سیالکوٹ: 7 سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش، ملزم گرفتار، والد کو دھمکیاں

    سیالکوٹ: 7 سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش، ملزم گرفتار، والد کو دھمکیاں

    سیالکوٹ(باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض) 7 سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش، ملزم گرفتار، والد کو دھمکیاں

    سیالکوٹ کے تھانہ صدر کے علاقے ملہو چھت میں 7 سالہ معصوم بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی کی کوشش کا دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ والدین کی غیر موجودگی میں ایک اوباش شخص نے مبینہ طور پر کمسن بچی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم بچی کے شور مچانے پر ملزم موقع سے فرار ہو گیا۔

    متاثرہ بچی کے والد پطرس مسیح نے تھانہ صدر میں تحریری درخواست دی، جس پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے نامزد ملزم کو گرفتار کر لیا اور اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    پطرس مسیح کا کہنا ہے کہ اسے ملزم کی گرفتاری اور قانونی کارروائی پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ”میری بیٹی پر ظلم کی کوشش کی گئی، میں نے انصاف کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا، لیکن اب ہمیں مسلسل دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب اور ڈی پی او سیالکوٹ سے اپیل ہے کہ ہمیں انصاف دلایا جائے اور جان و مال کا تحفظ فراہم کیا جائے۔”

    پولیس ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ واقعے کی رپورٹ پر فوری مقدمہ درج کیا گیا اور نامزد ملزم کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان کو مکمل قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا اور مقدمے کی تفتیش میرٹ پر کی جائے گی۔

    علاقے کے شہریوں نے اس افسوسناک واقعہ پر شدید ردعمل دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کیس کو سنجیدگی سے لیں اور درندہ صفت مجرم کو قرار واقعی سزا دلوائیں تاکہ آئندہ کوئی ایسی جرأت نہ کر سکے۔

  • بلوچستان واقعہ: والد کے جنازے پر آنے والے دو بھائی بھی دہشتگردی کا نشانہ بن گئے،

    بلوچستان واقعہ: والد کے جنازے پر آنے والے دو بھائی بھی دہشتگردی کا نشانہ بن گئے،

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ)بلوچستان میں 10 اور 11 جولائی کی درمیانی شب پیش آنے والے دلخراش واقعے میں دہشتگردوں کے ہاتھوں قتل کیے گئے 9 مسافروں میں لودھراں کے دو سگے بھائی بھی شامل تھے جو اپنے والد کے انتقال کی اطلاع پر گھر واپس آرہے تھے۔ افسوسناک طور پر اب ان کے خاندان کو ایک نہیں بلکہ تین جنازوں کا سامنا ہے۔

    تحصیل دنیاپور ضلع لودھراں سے تعلق رکھنے والے جابر طور اور عثمان طور اپنے والد نذیر طور کے انتقال کی اطلاع ملنے کے بعد کوئٹہ سے روانہ ہوئے تاکہ نمازِ جنازہ میں شرکت کر سکیں۔ مگر راستے میں فتنہ الہند کے دہشتگردوں نے ان کی بس کو روک کر انہیں اہل خانہ کے سامنے شناختی کارڈ دیکھ کر اتارا اور پھر پہاڑی علاقے میں لے جا کر بے دردی سے قتل کر دیا۔

    مقتولین کے بھائی صابر طور نے بتایا کہ دونوں بھائی والد کی تدفین کی تیاری کے لیے آرہے تھے، مگر اب ہمارے گھر سے دو کے بجائے تین جنازے اٹھیں گے۔ یہ غم لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ جابر اور عثمان طور کے چھوٹے بچے اور خواتین اس صدمے سے نڈھال ہو چکے ہیں۔

    دوسری طرف مقتولین میں گوجرانوالہ کے علاقے واہنڈو (صائب) سے تعلق رکھنے والے 42 سالہ صابر حسین بھی شامل تھے جو بلوچستان کے ایک پکوان سینٹر پر کام کرتے تھے۔ صابر 15 سال سے محنت مزدوری کر رہے تھے اور اپنے 4 بچوں سمیت پورے خاندان کے واحد کفیل تھے۔ ان کے بڑے بیٹے کی عمر صرف 14 سال ہے۔

    صابر کی ہلاکت سے ان کا خاندان معاشی طور پر بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ محض شناخت کی بنیاد پر قتل کیا جانا انسانیت سوز درندگی ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

    یاد رہے کہ 10 جولائی کی شام کوئٹہ سے لاہور جانے والی دو مسافر کوچز اے کے موورز اور سپر میختر بلوچستان کے علاقے ژوب میں دہشتگردوں نے روکا، شناختی کارڈ چیک کیے اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے 12 افراد کو بس سے اتار کر علیحدہ کیا۔ ان میں سے 9 کو شناخت کے بعد پہاڑوں میں لے جا کر فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا۔

    لاشیں بعد ازاں بارڈر ایریا بواٹہ پر پنجاب کی انتظامیہ نے وصول کیں اور انہیں مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان خالد، کمانڈنٹ بارڈر فورس محمد اسد خان چانڈیہ اور کمشنر اشفاق احمد چوہدری اس عمل کی نگرانی کر رہے تھے۔

  • ڈیرہ غازیخان:بلوچستان میں مسافروں کا قتل، لاشیں آبائی علاقوں کو روانہ

    ڈیرہ غازیخان:بلوچستان میں مسافروں کا قتل، لاشیں آبائی علاقوں کو روانہ

    ڈیرہ غازیخان( باغی ٹی وی رپورٹ)بلوچستان میں دہشتگردوں کے ہاتھوں بے دردی سے قتل کیے گئے پنجاب سے تعلق رکھنے والے 9 مسافروں کی لاشیں مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئی ہیں۔ اس دلخراش واقعے پر ملک بھر میں سوگ کی فضا ہے جبکہ مقتولین کے ورثا غم سے نڈھال ہیں۔

    ذرائع کے مطابق کوئٹہ سے لاہور آنے والی دو مسافر بسوں اے کے موورز اور سپر میختر کو 10 جولائی 2025 کی شام 5 بج کر 30 منٹ پر بلوچستان کے ضلع ژوب میں نامعلوم دہشتگردوں نے روکا۔ ان مسلح حملہ آوروں نے شناختی کارڈ چیک کیے اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے 12 مسافروں کو بسوں سے اتار کر الگ کیا۔ بعدازاں 9 مسافروں کو شناخت کی بنیاد پر فائرنگ کر کے بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ تین افراد معجزاتی طور پر بچ نکلے۔

    بلوچستان کے سرحدی علاقے میں یہ واقعہ پیش آنے کے بعد کمشنر ڈیرہ غازی خان اشفاق احمد چوہدری اور ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے فوری طور پر بلوچستان انتظامیہ سے رابطہ کیا۔ مقتولین کی لاشیں بلوچستان پنجاب سرحدی علاقے "بواٹہ” پر تحصیلدار و کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس محمد اسد خان چانڈیہ نے وصول کیں۔ اس موقع پر ڈی پی او سید علی، اے ڈی سی آر عثمان بخاری، اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ لاشوں کو سرکاری ایمبولینسز کے ذریعے ریونیو افسران کی نگرانی میں متعلقہ اضلاع کی جانب روانہ کر دیا گیا۔

    کمشنر اشفاق احمد اور ڈپٹی کمشنر عثمان خالد کی نگرانی میں شہداء کے جسد خاکی بلوچ لیوی لائنز ڈیرہ غازی خان سے روانہ کیے گئے۔ تمام لاشوں کی حوالگی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایات پر عمل میں لائی گئی۔

    شہداء کی شناخت اور تعلق:
    1. جابر طور اور عثمان طور (دو سگے بھائی) تحصیل دنیا پور ضلع لودھراں جواپنے والد نذیر طور کے جنازے میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔
    2. محمد عرفان ولد غلام اکبر ڈیرہ غازی خان۔
    3. صابر حسین ولد محمد ریاض کامونکی، ضلع گوجرانوالہ۔
    4. محمد آصف ولد سلطان چوک قریشی (ٹیچر)۔
    5. غلام سعید ولد غلام سرور خانیوال
    6. محمد جنید لاہور
    7. محمد بلال ولد عبد الوحید اٹک۔
    8. بلاول گجرات
    یہ افسوس ناک واقعہ بلوچستان اور پنجاب کے سنگم پر واقع کوہِ سلیمان کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کو پہلے ہی بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی) کی جانب سے تھریٹس موصول ہو چکی تھیں، جس کے نتیجے میں بارڈر ملٹری پولیس، بلوچ لیوی فورس اور دیگر اداروں کو ہائی الرٹ کیا گیا تھا۔

    اس افسوسناک واقعے کے بعد کمشنر اشفاق احمد چوہدری، ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد اور کمانڈنٹ اسد خان چانڈیہ نے بلوچستان سے ملحقہ تمام بارڈر پوائنٹس خصوصاً بواٹہ، فورٹ منرو، کھر اور دیگر اہم راستوں پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ بارڈر ملٹری پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ تمام مشکوک گاڑیوں اور افراد کی سخت تلاشی لی جا رہی ہے۔

    پنجاب سے بلوچستان جانے والی تمام ٹریفک کو تا حکم ثانی بواٹہ چیک پوسٹ پر روک دیا گیا ہے۔ تمام داخلی و خارجی راستوں پر پیدل گشت، موبائل وائرلیس ٹیمز اور ڈرون کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے۔

    کمشنر اشفاق چوہدری اور ڈپٹی کمشنر عثمان خالد نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ انتظامیہ یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ معصوم شہریوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور حکومت مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی۔

    ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے شہداء کے اہلخانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ ہر ضلع کی ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ متاثرہ خاندانوں سے مکمل تعاون کیا جائے اور لاشوں کی تدفین و دیگر انتظامات سرکاری سطح پر کرائے جائیں۔

  • حکومتی بے حسی اور پاکستان میں برین ڈرین

    حکومتی بے حسی اور پاکستان میں برین ڈرین

    حکومتی بے حسی اور پاکستان میں برین ڈرین
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان آج ایک ایسی کربلا سے گزر رہا ہے جہاں اس کے نوجوان، اس کا سب سے قیمتی اثاثہ، معاشی بدحالی، ہوشربا مہنگائی اور حکومتی بے حسی کے ہاتھوں اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ 2023 سے جولائی 2025 تک، لاکھوں پاکستانی، جن میں ڈاکٹرز، انجینئرز، نرسز، اور اساتذہ شامل ہیں، بہتر مستقبل کی تلاش میں ہجرت کر گئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف 2025 کے پہلے تین ماہ میں 172,144 نوجوان روزگار کے لیے بیرونِ ملک روانہ ہوئے جبکہ سیالکوٹ جیسے صنعتی شہر سے 4831 نوجوان، جن میں 60 فیصد تعلیم یافتہ تھے، نے وطن کو الوداع کہا۔ بدقسمتی سے، غیر قانونی سمندری راستوں سے یورپ جانے کی کوشش میں 343–353 پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ اعداد و شمار صرف ہندسوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ہر اس خاندان کی چیخ و پکار ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا۔

    2023 میں 862,000 اور 2024 میں 727,381 پاکستانی ہجرت کر گئے، جن میں سے 45,687 ہنرمند افراد تھے۔ 2025 کے پہلے تین ماہ میں یہ تعداد 172,144 تک جا پہنچی، اور اگر چھ ماہ کے اعداد و شمار شامل کیے جائیں تو یہ تعداد کئی لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ سیالکوٹ سے ہجرت کرنے والے 4831 نوجوانوں میں سے 60 فیصد اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے، جو وطن میں اپنی صلاحیتوں کے مطابق روزگار نہ ملنے کے باعث مشرق وسطیٰ، یورپ، اور امریکہ کی طرف رخ کر گئے۔ یہ "برین ڈرین” پاکستان کے مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، کیونکہ ملک اپنی باصلاحیت نسل کھو رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک جیسے سعودی عرب، قطر، اور دبئی تعمیراتی اور ٹیکنیکل شعبوں میں ملازمتیں فراہم کر رہے ہیں، لیکن یورپ جانے کی خواہش میں کچھ نوجوان غیر قانونی سمندری راستوں کا انتخاب کرتے ہیں، جہاں انسانی سمگلرز ان کے خوابوں کا استحصال کرتے ہیں۔

    غیر قانونی ہجرت کے دوران سمندری سانحات نے پاکستانی معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ 2023 سے جولائی 2025 تک، 343–353 پاکستانی بحیرہ روم اور بحر اوقیانوس میں کشتیوں کے ڈوبنے سے ہلاک ہوئے۔ اٹلی کے کروٹون ساحل پر 27 فروری 2023 کو ہونے والے حادثے میں 6 پاکستانی ہلاک ہوئے، جن میں سے 2 کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی اور 4 لاپتہ رہے۔ یونان کے پلاس ساحل پر جون 2023 میں ایک کشتی ڈوبنے سے 241–251 پاکستانی ہلاک ہوئے، جن میں سے 111 مصدقہ اور 130–140 غیر مصدقہ ہیں۔ لیبیا کے ساحلوں پر مارچ 2023، فروری 2025، اور جولائی 2025 سے قبل کے واقعات میں 29–39 پاکستانی اپنی جان سے گئے۔ مراکش کے ساحل پر جنوری 2025 میں 13 اور بحر اوقیانوس میں 2 جنوری 2025 کو 44 پاکستانی ہلاک ہوئے، جب انسانی سمگلرز نے پیسوں کے تنازع پر کچھ افراد کو سمندر میں پھینک دیا۔ ہر ہلاکت ایک ماں کی چیخ، ایک باپ کی امید اور ایک خاندان کے ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کہانی ہے۔

    اس المیے کی جڑیں پاکستانی معاشرے کے معاشی اور سماجی حالات میں پیوست ہیں۔ 2023 میں افراط زر 46 فیصد تک جا پہنچا، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔ آٹا، چینی اور ایندھن کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں جبکہ بجلی کے بل تین گنا اور ایندھن کی قیمتیں دگنی ہو چکی ہیں۔ ایک عام پاکستانی خاندان اپنی آمدن کا 70 فیصد کھانے اور بجلی کے بلوں پر خرچ کر رہا ہے۔ بے روزگاری کی شرح 22 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور 4.5 ملین پاکستانی بے روزگار ہیں، جن میں سے 11.1 فیصد نوجوان ہیں۔ سیالکوٹ جیسے شہر جو صنعتی سرگرمیوں کے لیے مشہور ہے، وہاں بھی 60 فیصد تعلیم یافتہ نوجوانوں کو نوکریاں نہیں مل رہیں۔ ایک 33 سالہ خاتون جو برطانیہ ہجرت سے قبل دو نوکریاں کرتی تھی، کہتی ہیں کہ وہ گھریلو اخراجات پورے نہ کر سکیں۔ یہ حالات نوجوانوں کو وطن چھوڑنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

    حکومتی بے حسی نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ وزراء خاص طور پر اویس لغاری جیسے ذمہ داران، جو توانائی کے شعبے کی نگرانی کرتے ہیں، عوام کو بنیادی سہولیات دینے میں ناکام رہے ہیں۔ بجلی کے ناقابل برداشت بل اور لوڈشیڈنگ نے متوسط اور غریب طبقے کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ آئی ایم ایف کے دباؤ پر سبسڈیاں ختم کرنے سے مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا، لیکن حکومت نے کوئی ٹھوس حل پیش نہیں کیا۔ سیاسی عدم استحکام جو 2022 میں عمران خان کی حکومت کے خاتمے سے شروع ہوا، نے معاشی اصلاحات کو روک دیا۔ بونگے وزراء کی ناقص پالیسیوں نے عوام کا اعتماد ختم کر دیا ہےاور حکومتی دعوؤں کے باوجود مقامی روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہو رہے۔ صنعتی زونز، کاروبار دوست پالیسیاں اور تعلیمی اصلاحات کے وعدے کاغذی رہے ہیں جبکہ پاکستانی معیشت زوال کا شکار ہے۔ 2023 میں غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 3 بلین ڈالر تک گر گئے جو صرف تین ہفتوں کی درآمدات کے لیے کافی تھے۔

    غیر قانونی ہجرت کی طرف راغب ہونے کی وجوہات بھی رقت آمیز ہیں۔ انسانی سمگلرز دیہی علاقوں کے نوجوانوں کو یورپ میں "سنہری مستقبل” کے جھانسے دیتے ہیں اور لاکھوں روپے لے کر انہیں موت کے منہ میں دھکیل دیتے ہیں۔ قانونی ہجرت کے لیے ویزوں کا حصول مشکل اور مہنگا ہے، جس سے نوجوان غیر قانونی راستوں کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ کچھ خاندانی دباؤ اور سماجی توقعات کے تحت خطرہ مول لیتے ہیں جبکہ دیگر کو سمندری سفر کے خطرات کا علم ہی نہیں ہوتا۔ ایک سروے کے مطابق 37 فیصد پاکستانی ہجرت کی خواہش رکھتے ہیں کیونکہ انہیں اپنے بچوں کے لیے بہتر مستقبل نظر نہیں آتا۔ یہ مایوسی پاکستانی معاشرے کی روح کو کھوکھلا کر رہی ہے۔

    اس "برین ڈرین” کے نتائج تباہ کن ہیں۔ پاکستان اپنی باصلاحیت نسل کھو رہا ہے، جو معاشی ترقی کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ گجرات اور کوٹلی جیسے شہروں سے لاپتہ ہونے والے 100 سے زائد پاکستانیوں کے خاندان آج بھی انتظار میں ہیں۔ ایک ماں کا اپنے بیٹے کی لاش کے انتظار میں روتے ہوئے کہنا کہ "میں نے اسے پڑھایا، لیکن اسے نوکری نہ ملی” دل کو چیر دیتا ہے۔ یہ سانحات صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ حکومتی ناکامی اور عوام کو کچھ بھی ڈیلیور نہ کر پانے کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ تعلیمی نظام ملکی معیشت کی ضروریات کے مطابق ہنرمند افرادی قوت تیار نہیں کر رہا اور صنعتی ترقی کی کمی نے روزگار کے مواقع کم کر دیے ہیں۔ پاکستان کی 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے لیکن معیشت اس "یوتھ بلج” کو جذب کرنے سے قاصر ہے۔

    اس بحران سے نکلنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ مقامی روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے صنعتی زونز قائم کیے جائیں۔ ووکیشنل ٹریننگ اور ہنر مندی پر مبنی تعلیم کو فروغ دیا جائے۔ انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف سخت کارروائی اور عوام میں غیر قانونی ہجرت کے خطرات کے بارے میں آگاہی ضروری ہے۔ مہنگائی اور بجلی کے بلوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ٹھوس پالیسیاں بنائی جائیں۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو پاکستان اپنی ترقی کے خوابوں کو ہمیشہ کے لیے کھو دے گا۔

    کیا ہم ہمیشہ اپنی قوم کے بہترین دماغوں کو بیگانہ سرزمینوں پر دفن ہونے کے لیے رخصت کرتے رہیں گے؟ کیا یہ وقت نہیں آ گیا کہ ہم سوچیں، کیوں ہمارا نوجوان اپنے وطن سے ناامید ہے؟ کیا حکومتیں صرف اعداد و شمار پر آنکھیں بند رکھیں گی، یا ان ماؤں کی فریاد سنیں گی جن کے بیٹے سمندروں میں غرق ہو گئے؟ کیا ہم اس سسٹم کو بدلنے کے لیے کھڑے ہوں گے یا یوں ہی اپنی صلاحیتوں کو دفن ہوتے دیکھتے رہیں گے؟ سوالات ہمارے سامنے ہیں، مگر کیا ہمارے پاس ان کے جوابات ہیں؟