Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • بجلی کا بل، سولی کا پھندہ اور حافظ نعیم الرحمان کی خاموشی

    بجلی کا بل، سولی کا پھندہ اور حافظ نعیم الرحمان کی خاموشی

    بجلی کا بل، سولی کا پھندہ اور حافظ نعیم الرحمان کی خاموشی
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان میں بجلی کے بل اب صرف ایک گھریلو خرچ نہیں رہے بلکہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے موت کا پروانہ بن چکے ہیں۔ یہ بل کسی بھی وقت کسی کا چولہا بجھا سکتے ہیں، کسی بچے کے سکول کی فیس روک سکتے ہیں یا کسی بوڑھے ماں باپ کی دوا چھین سکتے ہیں۔ لیکن مسئلہ صرف قیمتوں کا نہیں بلکہ اس ظالمانہ اور غیر منصفانہ "سلیب سسٹم” کا ہے جو عوام کو ایک ایسے شکنجے میں کس چکا ہے جہاں ایک یونٹ کا فرق زندگی اور موت کی لکیر بن چکا ہے۔

    حکومتی پالیسی کے مطابق اگر کوئی صارف 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرتا ہے تو اسے سبسڈی دی جاتی ہے اور قیمت فی یونٹ 10.54 روپے سے 13.01 روپے تک ہوتی ہے۔ مگر جیسے ہی یہ تعداد 201 یونٹ ہو جائے تو وہ صارف نان پروٹیکٹڈ کیٹگری میں شامل ہو جاتا ہے جہاں فی یونٹ قیمت 33.10 روپے ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ بجلی کے بل میں کئی اقسام کے ٹیکس اور سرچارجز شامل ہو کر بل کو ناقابل برداشت بنا دیتے ہیں۔ ایک عام صارف کا 200 یونٹ کا بل تقریباً 3,083 روپے بنتا ہے، لیکن صرف ایک یونٹ اضافے پر یعنی 201 یونٹ پر بل 8,154 روپے ہو جاتا ہے۔ صرف ایک یونٹ کا فرق اور بل میں 5,071 روپے کا اضافہ؟ یہ مذاق نہیں، معاشی ظلم ہے۔

    ایکس(ٹویٹر) پر لوگ اپنے بل شیئر کر رہے ہیں۔ کہیں 199 یونٹس کا بل 2,000 روپے ہے اور وہی صارف اگر 201 یونٹس استعمال کر لے تو بل 9,000 روپے سے تجاوز کر جاتا ہے۔ اس پر اگر کوئی اضافی سرچارج بھی لگ جائے تو غریب کے لیے بجلی جلانا ناممکن ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بے بسی، غصہ اور دکھ مل کر انسان کو یا تو خودکشی پر مجبور کرتے ہیں یا احتجاج پر۔

    یہ کوئی مفروضہ باتیں نہیں ہیں میڈیا رپورٹس کے مطابق گوجرانوالہ کے انور کا بل صرف 3,800 روپے تھا لیکن عدم ادائیگی پر اس کا کنکشن کاٹ دیا گیا۔ اس نے ہمسائے سے بجلی لی تو گیپکو نے بجلی چوری کا مقدمہ درج کر دیا۔ یہ صدمہ برداشت نہ کرتے ہوئے انور کا بیٹا فراز تیزاب پی کر مر گیا۔ اس کی ماں کی چیخ، "میرا بیٹا بلوں کے چکر میں مر گیا” ایک ایسا جملہ ہے جو ہر قانون ساز کے کان میں گونجنا چاہیے۔ لاہور کا ریڑھی بان فیصل ہو یا ڈسکہ کی نسرین بی بی، سب کی کہانیاں ایک جیسی ہیں۔ کسی نے بل کی زیادتی سے تنگ آ کر خودکشی کی تو کسی نے اپنے خاندان کو کھو دیا۔

    دوسری طرف وہ اشرافیہ ہے جسے بجلی یا تو مفت فراہم کی جا رہی ہے یا انتہائی رعایتی نرخوں پر۔ سینئر صحافی حامد میر نے ایکس (ٹویٹر)پر ایک بل کی تصویر شیئر کی جس میں واپڈا کے ایک ملازم نے 1,200 یونٹس بجلی استعمال کی اور صرف 716 روپے ادا کیے۔ ملتان میں ایک افسر کے 895 یونٹس کے بل کی رقم صرف 1,201 روپے تھی۔ یعنی یہ لوگ 1.5 روپے فی یونٹ سے بھی کم میں بجلی حاصل کر رہے ہیں جبکہ عام صارف 201 یونٹ پر 8,000 سے 11,000 روپے ادا کر رہا ہے۔ یہ دہرا معیار معاشرے میں غصہ، محرومی اور بغاوت کو جنم دے رہا ہے۔

    یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب موجودہ حکومت، خاص طور پر وزیر توانائی اویس لغاری بجلی کے مسائل کا کوئی عملی حل دینے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہیں۔ عوام کو اس نظام میں پھنسا دیا گیا ہے جہاں لائن لاسز، بجلی چوری، مفت بجلی کی سہولیات اور مہنگے نجی پاور پلانٹس کے کیپیسٹی چارجز کا بوجھ ان صارفین پر ڈالا جا رہا ہے جو نہ چوری کرتے ہیں، نہ مفت بجلی استعمال کرتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ایماندار صارف ہی اس پورے کرپٹ نظام کا اصل شکار بن چکا ہے۔

    یہی وہ لمحہ ہے جب عوام نے توقع کی تھی کہ کوئی ان کا مقدمہ لڑے گا اور یہ توقع حافظ نعیم الرحمان سے تھی۔ وہی حافظ نعیم جو ماضی میں کے الیکٹرک کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے تھے، عوامی مظاہروں کی قیادت کرتے تھے اور بجلی کے ہر بحران پر سڑکوں پر احتجاج کرتے تھے۔ لیکن آج جب ظلم پورے ملک میں سلیب سسٹم کی صورت میں نافذ ہے، عوام خودکشیاں کر رہے ہیں تو حافظ نعیم کی خاموشی حیران کن اور تکلیف دہ ہے۔

    کیا جماعت اسلامی نے اپنی سیاسی حکمت عملی بدل لی ہے؟ کیا حالیہ انتخابی نتائج نے ان کے احتجاجی جذبے کو ماند کر دیا ہے؟ یا وہ کسی مفاہمتی پالیسی کے تحت خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں؟ ان سوالات کا جواب خود حافظ نعیم الرحمن کو دینا ہوگا۔ کیونکہ عوام اب اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں انہیں جذباتی تقاریر نہیں، عملی مزاحمت چاہیے۔ ان کی خاموشی اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ جماعت اسلامی اب حکومتی دباؤ یا مصلحت کے تابع ہو چکی ہے۔

    عوام نے 201 یونٹ کی سلیب گردی کو مسترد کر دیا ہے۔اس سسٹم کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ سوشل میڈیا پر "NoMoreSlabLooting” جیسے ٹرینڈز روزانہ کی بنیاد پر چل رہے ہیں۔ صارفین یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ سلیب سسٹم کو ختم کیا جائے،اداکار نعمان اعجاز نے ایکس(ٹویٹر) پر لکھا، "200 یونٹ والی بدمعاشی ختم کریں۔” عوام مطالبہ کر رہے ہیں کہ سلیب سسٹم اصلاح کیا جائے، اشرافیہ کی مفت بجلی ختم ہو، پن بجلی اور قابل تجدید توانائی سے سستی بجلی بنائی جائے اور ٹیکسز و سرچارجز ہٹا کر شفاف نظام لایا جائے۔ یہ ظلم کب تک جاری رہے گا؟ جب تک اشرافیہ کو مراعات ملتی رہیں گی اور عام صارف پر بوجھ ڈالا جاتا رہے گا، عوامی غصہ بڑھتا رہے گا۔

    جناب وزیراعظم میاں شہباز شریف، عوام کا غیض و غضب نوشتہ دیوار ہے۔ 201 یونٹ کی سلیب گردی اور اشرافیہ کی مفت بجلی سولی کا پھندہ ہے جو غریب پاکستانیوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہی ہے۔ آپ ہمیشہ اقتدار میں نہیں رہیں گے۔ جب آپ عوام کے سامنے جائیں گے، تو اشرافیہ کے سہارے آپ کو عوام کے غیض و غضب سے نہیں بچا سکیں گے۔ یہ غصہ، جو سڑکوں پر، سوشل میڈیا پر اور ہر گھر میں پھیل چکا ہے، آپ کی حکومت کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گا۔ فوری طور پر سلیب سسٹم کی اصلاح کریں، مفت بجلی کی مراعات ختم کریں اور غریب کو سستی بجلی دیں۔ ورنہ، تاریخ آپ کو اس حکمران کے طور پر یاد رکھے گی جس نے عوام کو معاشی عذاب میں جکڑ زندہ درگور کردیا۔

  • منڈی بہاءالدین: ساہنپال شریف میں شہدائے کربلا کانفرنس

    منڈی بہاءالدین: ساہنپال شریف میں شہدائے کربلا کانفرنس

    منڈی بہاءالدین (باغی ٹی وی، نامہ نگار محمد افنان طالب) یومِ عاشورہ کی مناسبت سے دربار نوشاہیہ شرافتیہ ساہنپال شریف میں شہدائے کربلا کانفرنس کا روح پرور انعقاد کیا گیا، جس میں علمائے کرام، مشائخ عظام اور عقیدت مندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ محفل کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا جس کی سعادت پیر سید استبصار الحسن نے حاصل کی۔ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ کے بعد ذکرِ اہلبیت اور شانِ امام حسینؓ بیان کی گئی، جس نے حاضرین کے دلوں کو منور کر دیا۔

    کانفرنس میں ممتاز عالم دین علامہ سید استقرارالحسن نوشاہی نے خصوصی شرکت کی اور شہدائے کربلا کی لازوال قربانیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دین اسلام کی بقاء کا راز انہی قربانیوں میں پنہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام حسینؓ کا پیغام قیامت تک مظلوموں کے حق میں آوازِ بلند اور ظالموں کے خلاف مزاحمت کی علامت رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ظلم کے خلاف ڈٹ جانا اور حق کا علم بلند رکھنا ہی حقیقی کامیابی کی ضمانت ہے۔

    سجادہ نشین پیر سید توثیق الحسن نوشاہی نے اختتامی دعا میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، اہلِ فلسطین و اہلِ کشمیر کی آزادی، اور ملکِ پاکستان کی سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں مانگیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا و آخرت کی کامیابی صرف اور صرف نبی آخرالزماں ﷺ، اہلبیت اطہارؓ اور صحابہ کرامؓ کے نقشِ قدم پر چلنے میں ہے۔ اختتام پر حاضرین میں نیاز و لنگر تقسیم کیا گیا۔

    یہ محفل نہ صرف ایک روحانی تجربہ ثابت ہوئی بلکہ کربلا کے عظیم پیغام کو زندہ رکھنے کا عملی مظہر بھی بنی۔

  • سیالکوٹ پر خواتین کا راج . تاریخ میں پہلی بار ضلع و تحصیل کی مکمل کمان خواتین کے سپرد

    سیالکوٹ پر خواتین کا راج . تاریخ میں پہلی بار ضلع و تحصیل کی مکمل کمان خواتین کے سپرد

    سیالکوٹ(باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)تاریخ میں پہلی بار خواتین افسران ضلعی و تحصیل سطح پر تعینات، انتظامی قیادت میں نئی مثال قائم

    تفصیلات کے مطابق سیالکوٹ کی تاریخ میں پہلی بار ایک تاریخی تبدیلی رونما ہوئی ہے جہاں ضلعی اور تمام تحصیل سطح پر اعلیٰ انتظامی عہدے باصلاحیت خواتین افسران کے سپرد کیے گئے ہیں۔ اس انقلابی اقدام کو نہ صرف صنفی مساوات کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے بلکہ یہ خواتین کی قائدانہ صلاحیتوں کا واضح اعتراف بھی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کی حیثیت سے صبا اصغر علی نے چارج سنبھالا ہے اور یوں ضلع سیالکوٹ کی اعلیٰ ترین انتظامی سربراہی پر پہلی بار کسی خاتون کو فائز کیا گیا ہے۔ اسی طرح چاروں تحصیلوں میں بھی باصلاحیت خواتین کو اسسٹنٹ کمشنر کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔

    انعم بابر اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہی ہیں، جبکہ سدرہ ستار کو پسرور میں، غلام فاطمہ کو سمبڑیال میں اور سعدیہ جعفر کو ڈسکہ میں اسسٹنٹ کمشنر مقرر کیا گیا ہے۔ اس طرح ضلع بھر میں تمام انتظامی افسران کی قیادت خواتین کو سونپی گئی ہے۔

    عوامی حلقے اس اقدام کو نہایت خوش آئند قرار دے رہے ہیں جو نہ صرف خواتین کو فیصلہ سازی کے مرکزی کردار میں لاتا ہے بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے ایک متاثر کن مثال بھی قائم کرتا ہے۔ سیالکوٹ میں یہ پہلا موقع ہے کہ ضلعی سطح سے لے کر تحصیل سطح تک قیادت کی باگ ڈور مکمل طور پر خواتین کے ہاتھوں میں دی گئی ہے۔

  • زہریلا دودھ . خاموش قاتل، بے حس ادارے

    زہریلا دودھ . خاموش قاتل، بے حس ادارے

    زہریلا دودھ. خاموش قاتل، بے حس ادارے
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    بحیثیت قوم اگر ہم دنیا کی دیگر اقوام سے اپنا موازنہ کریں تو حالیہ دنوں پاکپتن، سوات اور کراچی لیاری میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔ ان سانحات کو دیکھ کر ہمیں شدت سے احساس ہوتا ہے کہ گزشتہ 78 برسوں سے ہماری ترقی، ترجیحات اور ریاستی نظام کس قدر بگاڑ کا شکار رہا ہے۔ ہم ترقی کے بجائے مسلسل تنزلی کی طرف گامزن ہیں اور اس زوال کی سب سے بڑی وجہ وہ ریاستی ادارے ہیں جنہوں نے فیلڈ ورک ترک کر کے مافیا کو طاقت بخشی، جیسا کہ پاکپتن کی حالیہ مثال سے ظاہر ہوتا ہے۔

    ان ہی تلخ حقائق کی روشنی میں آج ہمیں جس خطرناک اور نظر انداز کیے گئے مسئلے پر بات کرنی ہے وہ ہے دودھ مافیا۔ ایسا مافیا جو خاموشی سے نہ صرف ہماری بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کی صحت کو تباہ کر رہا ہے۔ اس گھناؤنے کھیل میں شریک وہ سرکاری اہلکار بھی برابر کے مجرم ہیں جو عوامی تحفظ کے بجائے مفادات کے اسیر بن چکے ہیں۔ جب پنجاب فوڈ اتھارٹی کا قیام عمل میں آیا تو عوام کو امید ہوئی کہ اب ملاوٹ، آلودگی اور مضر صحت اشیاء کے خلاف سنجیدہ اقدامات کیے جائیں گے، مگر جلد ہی یہ امید دم توڑ گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ فوڈ اتھارٹی بیشتر مقامات پر صرف فوٹو اتھارٹی بن چکی ہے۔ چند مخصوص فوٹو سیشن، سوشل میڈیا پوسٹس، اور پریس ریلیز اس کی کارکردگی سمجھی جاتی ہے جبکہ زمینی سطح پر صورتحال جوں کی توں ہے۔ نہ چیکنگ ہو رہی ہے، نہ چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہات میں اس کا کوئی عملی اثر دیکھنے میں آتا ہے۔

    مارکیٹ میں بکنے والا زیادہ تر کھلا دودھ اب مکمل غذا کے بجائے ایک زہریلا مشروب بن چکا ہے۔ اس میں فارملین، سرف، یوریا، شیمپو، بال سافٹنر اور نہری پانی جیسے مہلک اجزاء شامل کیے جاتے ہیں۔ وہ دودھ جسے بچوں کی نشوونما، نوجوانوں کی توانائی، عورتوں کی صحت اور بزرگوں کی ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے، بدقسمتی سے آج سفید زہر کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ پنجاب بھر میں بالخصوص دیہی اور نیم شہری علاقوں میں دودھ فروش مافیا بے خوف ہو کر کیمیکل ملا دودھ بیچ رہا ہے۔ ان کے خلاف کارروائیاں یا تو صرف کیمروں کی حد تک محدود ہوتی ہیں یا پھر کسی رسمی کارروائی کے بعد ختم ہو جاتی ہیں۔ فوڈ اتھارٹی، محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ صرف اپنی فائلیں اور تصاویر سنوارنے میں مصروف ہیں جبکہ اصل مسئلہ وہیں کا وہیں ہے۔

    اس زہریلے دودھ کے نتیجے میں بچوں، عورتوں اور بزرگوں میں متعدد خطرناک بیماریاں جنم لے رہی ہیں، جن میں گیس، السر، بدہضمی، ہیپاٹائٹس اے، بی اور جگر کی سوزش، گردے کے امراض، پتھری، جلدی الرجی، خارش، چہرے پر دانے، ہڈیوں کی کمزوری، بچوں میں نشوونما کی رکاوٹ، خواتین میں ہارمونی تبدیلیاں، نظر کی کمزوری اور اعصابی مسائل شامل ہیں۔ یہ تو صرف چند بیماریاں ہیں، حقیقتاً اسپتالوں کی او پی ڈیز میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد خود اس زہریلے کاروبار کا زندہ ثبوت ہے۔

    اس پورے نظام میں شامل کالی بھیڑیں سرکاری دفاتر میں بیٹھی رشوت کے عوض آنکھیں بند کیے بیٹھی ہیں۔ دودھ فروش مافیا کو ان کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے، جبکہ فوڈ اتھارٹی، پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی ملی بھگت کوئی راز نہیں رہی۔ دیہی علاقوں میں نہ لیبارٹری کی سہولت ہے نہ چیکنگ کا کوئی مؤثر نظام۔ گاؤں دیہات کے کروڑوں افراد روزانہ زہر پینے پر مجبور ہیں اور ریاستی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

    یہ صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ اب اس میں وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ کو ذاتی دلچسپی لینا ہوگی۔ آپ ایک بااختیار، باشعور اور عوام دوست رہنما ہیں جنہوں نے کئی شعبوں میں اصلاحات کے ذریعے قابلِ تحسین مثالیں قائم کی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کو بھی براہ راست آپ کی نگرانی میں لایا جائے تاکہ اس خاموش قاتل کا راستہ روکا جا سکے، اور عوام کو سفید زہر سے نجات ملے۔ اگر فوری، سنجیدہ اور غیر سیاسی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ آنے والے برسوں میں ایک سنگین قومی المیہ بن جائے گا۔

  • ڈسکہ: یوم عاشورہ کے پُرامن اختتام پر انتظامیہ و بلدیاتی افسران کو خراجِ تحسین

    ڈسکہ: یوم عاشورہ کے پُرامن اختتام پر انتظامیہ و بلدیاتی افسران کو خراجِ تحسین

    ڈسکہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک عمران)صدر مرکزی انجمن تاجران ڈسکہ میاں محمد اشرف اور جنرل سیکرٹری شہزاد انجم گوشی بٹ سمیت دیگر تاجروں نے یوم عاشورہ کے پُرامن اور بخیر و عافیت اختتام پذیر ہونے پر صوبائی وزیر بلدیات پنجاب میاں ذیشان رفیق، چیئرمین مرکزی انجمن تاجران، سٹی صدر مسلم لیگ ن محمد افضل منشاء، اسسٹنٹ کمشنر عثمان غنی، ای ڈی پی او خالد اسلم، چیف آفیسر میونسپل کمیٹی الفت شہزاد، سینٹری انسپکٹر چوہدری محمد یوسف اور دیگر انتظامی و بلدیاتی افسران کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ تمام متعلقہ اداروں نے عاشورہ کے دوران صفائی ستھرائی، سیکیورٹی اور دیگر انتظامات کو احسن طریقے سے سرانجام دیا، جس پر تاجر برادری ان کی خدمات کی دل سے معترف ہے۔ انجمن تاجران نے تمام اہلکاروں اور افسران کی کاوشوں پر شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی اسی جذبے سے عوامی خدمات انجام دی جاتی رہیں گی۔

  • اوکاڑہ: یومِ عاشورہ پر ریسکیو 1122 کی شاندار کارکردگی، 686 عزاداران کو طبی امداد فراہم، 6 کو ہسپتال منتقل کیا گیا

    اوکاڑہ: یومِ عاشورہ پر ریسکیو 1122 کی شاندار کارکردگی، 686 عزاداران کو طبی امداد فراہم، 6 کو ہسپتال منتقل کیا گیا

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)یومِ عاشورہ کے موقع پر پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 نے ضلع بھر میں 27 ماتمی جلوسوں اور 14 مجالس کو میڈیکل کور فراہم کرتے ہوئے مجموعی طور پر 686 عزاداران کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر احتشام کی زیرِ نگرانی اس ریسکیو آپریشن میں 680 عزاداروں کو موقع پر ہی طبی امداد دی گئی، جبکہ 6 عزاداروں کو حالت کی نزاکت کے پیش نظر مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق، تحصیل اوکاڑہ میں 13 جلوسوں اور 5 مجالس کے دوران 232 عزاداروں کو طبی امداد دی گئی، جن میں سے 4 کو بعد ازاں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ تحصیل دیپالپور میں 8 جلوسوں اور 5 مجالس میں 279 افراد کو فوری طبی امداد مہیا کی گئی، جبکہ ایک عزادار کو ہسپتال لے جایا گیا۔ تحصیل رینالہ خورد میں 6 جلوسوں اور 4 مجالس کے دوران 169 افراد کو ریسکیو سروسز فراہم کی گئیں اور ایک شخص کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    ریسکیو آپریشن میں 20 ایمبولینسز، 57 موٹر بائیکس، 5 فائر وہیکلز، 329 سے زائد ریسکیورز اور 100 سے زائد تربیت یافتہ رضاکاروں نے حصہ لیا۔ ریسکیو ٹیموں نے ہر جلوس اور مجلس میں ایمبولینسز اور میڈیکل سٹاف کے ذریعے بروقت خدمات فراہم کیں۔

    سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر (ستارۂ امتیاز) کی ہدایات کے مطابق ضلع بھر میں تمام جلوسوں اور مجالس کو مکمل ایمرجنسی کوریج دی گئی۔ بہترین انتظامات اور فرض شناسی کا مظاہرہ کرنے پر ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر احتشام نے تمام ریسکیورز کو خصوصی شاباش دی اور ان کی خدمات کو سراہا۔

  • اوچ شریف: بہاول نہر میں 20 فٹ چوڑا شگاف، سینکڑوں ایکڑ فصلیں زیر آب، گھروں میں پانی داخل

    اوچ شریف: بہاول نہر میں 20 فٹ چوڑا شگاف، سینکڑوں ایکڑ فصلیں زیر آب، گھروں میں پانی داخل

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)احمد پور شرقیہ کے نواحی علاقے بستی جھبیل اور موضع دائم والا کے قریب بہاول نہر میں 20 فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے زبردست تباہی پھیل گئی۔ سینکڑوں ایکڑ پر محیط زرعی زمین زیرِ آب آ گئی، جب کہ نہری پانی کئی گھروں میں بھی داخل ہو گیا، جس سے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ متاثرہ کسانوں اور رہائشیوں نے محکمہ آبپاشی اور ضلعی انتظامیہ کی غفلت کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے مکمل تباہی کا ذمہ دار قرار دیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق شگاف رات تین بجے پڑا اور مقامی افراد نے فوری طور پر حکام کو اطلاع دی، مگر کئی گھنٹوں تک کوئی اہلکار موقع پر نہ پہنچا۔ کسان محمد رمضان نے بتایا کہ "ہم نے پوری رات فون کیے، لیکن کسی نے ہماری فریاد نہ سنی۔ اگر بروقت کارروائی ہوتی تو ہماری فصلیں بچائی جا سکتی تھیں۔” متاثرہ علاقوں میں کپاس، گنا اور دھان کی لاکھوں روپے مالیت کی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں، جبکہ گھروں میں پانی داخل ہونے سے مال مویشی اور گھریلو سامان بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔

    مکینوں کا کہنا ہے کہ محکمہ آبپاشی کے پاس نہ کوئی پیشگی ہنگامی منصوبہ تھا، نہ ہی موقع پر موجودگی نظر آئی۔ ایک محکمہ ایریگیشن کے اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "مرمتی ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں، لیکن تیز بہاؤ کام میں رکاوٹ بن رہا ہے۔” تاہم، مقامی افراد کے مطابق یہ اقدامات بہت تاخیر سے کیے گئے ہیں اور اب ان کا کوئی فائدہ نہیں رہا۔

    اہل علاقہ نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرین کو فوری امداد فراہم کی جائے اور محکمانہ غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کا تدارک ممکن ہو۔ اس سانحے نے احمد پور شرقیہ میں ایریگیشن نظام کی کمزوریوں اور انتظامیہ کی لاپروائی کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔

  • پنجاب: سرکاری ہسپتالوں میں باہر کی دوا لکھنے پر پابندی، پہلا شوکاز نوٹس جاری

    پنجاب: سرکاری ہسپتالوں میں باہر کی دوا لکھنے پر پابندی، پہلا شوکاز نوٹس جاری

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان)پنجاب حکومت نے سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مریضوں کو ہسپتال کے باہر سے دوا خریدنے پر مجبور نہ کریں۔ اس سلسلے میں احمد پور شرقیہ کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر محمد فیصل کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

    اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ 5 جولائی 2025 کو شام 6:30 بجے ہسپتال کے اچانک دورے کے دوران معلوم ہوا کہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ایک مریض کو سیرپ "ٹرول” تجویز کیا، جو اہسپتال میں دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے مریض کو بازار سے خریدنا پڑا۔ نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومت پنجاب کی واضح ہدایات کے مطابق ڈاکٹروں کو باہر کی ادویات تجویز کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

    نوٹس میں مذکور ہے کہ یہ عمل نہ صرف غفلت کا مظہر ہے بلکہ محکمانہ قوانین کی خلاف ورزی بھی ہے۔ متعلقہ میڈیکل آفیسر کو تین دن کے اندر وضاحت طلب کی گئی ہے، بصورت دیگر ان کے خلاف باقاعدہ محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

    ذرائع کے مطابق یہ پہلا شوکاز نوٹس منظر عام پر آیا ہے اور آئندہ بھی اگر کسی ڈاکٹر نے باہر کی دوا تجویز کی تو سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • اوچ شریف: یوم عاشورہ کا پُرامن انعقاد، انتظامیہ کو خراجِ تحسین

    اوچ شریف: یوم عاشورہ کا پُرامن انعقاد، انتظامیہ کو خراجِ تحسین

    اوچ شریف(باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان) یوم عاشورہ کا پُرامن انعقاد، انتظامیہ کی مثالی کارکردگی پر خراجِ تحسین،شیخ ناصر سلیم کی میزبانی میں تقریب، اداروں اور شہریوں کے مثالی تعاون کو سراہا گیا

    یوم عاشورہ کے موقع پر اوچ شریف میں امن و امان، نظم و ضبط اور ہم آہنگی کی قابلِ تحسین مثال قائم ہوئی، جس پر ضلعی و تحصیل انتظامیہ، پولیس، اور ریسکیو 1122 کی خدمات کو بھرپور سراہا گیا۔ اس سلسلے میں صدر چیمبر آف ایگریکلچر جنوبی پنجاب اور معروف سماجی رہنما شیخ ناصر سلیم کی رہائش گاہ پر ایک باوقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں ضلعی انتظامیہ بہاولپور، کمشنر بہاولپور ، ڈپٹی کمشنر بہاولپور ،ارپی او بہاولپور ڈی پی او بہاولپور سمیت تحصیل احمد پور شرقیہ کی انتظامیہ، مقامی پولیس اوچ شریف اور ریسکیو 1122 کے افسران اور دیگر معززین شریک ہوئے۔

    تقریب کا مقصد عاشورہ جیسے حساس دن کے پُرامن اور منظم انعقاد پر تمام متعلقہ اداروں کی انتھک کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا۔ اپنے خطاب میں شیخ ناصر سلیم نے کہا کہ "انتظامیہ، پولیس اور ریسکیو سروسز نے نہ صرف اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا بلکہ عوام کے ساتھ قریبی تعاون سے اتحاد، رواداری اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیا، جو پورے خطے کے لیے قابلِ فخر مثال ہے۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ کامیابی اداروں کی لگن اور عوامی شعور کے باہمی اشتراک کا ثمر ہے، جس نے اوچ شریف کو امن، بھائی چارے اور اعتماد کی علامت بنا دیا ہے۔ شیخ ناصر سلیم نے ان تمام اداروں کو عوام کا سچا خادم قرار دیتے ہوئے ان کی شب و روز محنت پر دلی خراجِ تحسین پیش کیا۔

    تقریب میں شریک افسران نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے شہریوں کے تعاون کو سراہا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ مستقبل میں بھی اسی جذبے کے ساتھ عوامی خدمت، سیکیورٹی، اور امن کے فروغ کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھیں گے۔

    تقریب کا اختتام ملک کی ترقی، امن، استحکام اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا کے ساتھ ہوا۔ یہ تقریب اوچ شریف میں اداروں اور عوام کے درمیان مضبوط تعلق اور باہمی اعتماد کی روشن علامت بن کر سامنے آئی۔

  • پنجاب بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے ساتھ یوم عاشور پُرامن طور پر اختتام پذیر

    پنجاب بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے ساتھ یوم عاشور پُرامن طور پر اختتام پذیر

    اوکاڑہ/سیالکوٹ (نامہ نگار ملک ظفر، بیوروچیف شاہد ریاض)ساہیوال ڈویژن اور ضلع سیالکوٹ سمیت پنجاب بھر میں یوم عاشور 10 محرم الحرام کو مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔ امام بارگاہوں میں مجالسِ عزاء منعقد ہوئیں جن میں زاکرین نے واقعہ کربلا پر تفصیلی روشنی ڈالی اور حضرت امام حسینؑ و شہدائے کربلا کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ مجلسوں کے بعد شبیہ ذوالجناح کے جلوس برآمد ہوئے جو اپنے روایتی راستوں سے ہوتے ہوئے مقررہ مقامات پر اختتام پذیر ہوئے۔

    اوکاڑہ، ساہیوال اور سیالکوٹ سمیت مختلف شہروں میں عزاداروں کی بڑی تعداد مرد و خواتین اور بچوں سمیت جلوسوں میں شریک ہوئی۔ روایتی انداز میں سینہ کوبی اور زنجیر زنی کے ذریعے شہدائے کربلا سے عقیدت کا اظہار کیا گیا۔ سیالکوٹ میں مرکزی جلوس امام بارگاہ در بتول اور دوسرا قدیمی جلوس امام بارگاہ مستری عبداللہ سے برآمد ہو کر اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا امام صاحب پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ جلوسوں کے راستوں پر پانی، شربت، نیاز اور لنگر کی سبیلوں کا بھی وسیع انتظام کیا گیا جہاں مقامی رضاکار خدمت پر مامور رہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے عوام کے لیے مختلف مقامات پر لنگر اور شربت کی سبیلوں کا خصوصی انتظام کیا گیا، جبکہ ان کے معاون خصوصی سلمیٰ بٹ نے اوکاڑہ میں جلوسوں کے روٹس اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔ کنٹرول سنٹرز کے ذریعے جلوسوں کی سی سی ٹی وی لائیو مانیٹرنگ کی گئی، جو قابلِ ستائش اقدام ہے۔

    سیکیورٹی کے حوالے سے ضلعی پولیس کی جانب سے بھرپور اقدامات کیے گئے۔ ساہیوال ڈویژن میں ریجنل پولیس آفیسر محبوب رشید، ڈی پی او اوکاڑہ راشد ہدایت، اور ڈی پی او ساہیوال رانا طاہر کی ہدایت پر ایس ایچ اوز اپنی نفری سمیت جلوسوں کی مکمل نگرانی کرتے رہے۔ سیالکوٹ میں ڈی پی او فیصل شہزاد کے مطابق، ضلع بھر میں کل 87 جلوس برآمد کیے گئے جن کی حفاظت کے لیے تین ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔ کیٹیگری اے کے تمام جلوسوں کی سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نگرانی کی گئی جبکہ مرکزی جلوسوں کی فضائی نگرانی کے لیے ڈرون کیمرے بھی استعمال کیے گئے۔ سیکیورٹی کے پیش نظر ضلع میں ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد رہی۔

    پولیس، ضلعی انتظامیہ اور رضاکاروں کی مشترکہ کاوشوں سے تمام پروگرام پرامن اور منظم انداز میں مکمل ہوئے۔