Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ڈیرہ غازیخان: ایم پی اے محمد حنیف پتافی اور ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے بلاک 45 کی امام بارگاہ کا دورہ کیا

    ڈیرہ غازیخان: ایم پی اے محمد حنیف پتافی اور ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے بلاک 45 کی امام بارگاہ کا دورہ کیا

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر جواد اکبر) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر رکن پنجاب اسمبلی محمد حنیف پتافی اور ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے بلاک 45 کی امام بارگاہ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈی پی او سید علی، اسسٹنٹ کمشنر تیمور عثمان، اور چیف آفیسر ضلع کونسل جواد الحسن گوندل سمیت دیگر ضلعی افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔

    دورے کے دوران ایم پی اے اور ضلعی انتظامیہ نے عزادار کمیٹیوں اور مقامی منتظمین سے ملاقاتیں کیں اور محرم الحرام کے جلوسوں کے روٹس، مجالس کے مقامات، سیکیورٹی، صفائی اور دیگر انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ حکام نے یقین دہانی کرائی کہ عزاداروں کو صاف پانی، طبی امداد، ٹریفک مینجمنٹ اور فول پروف سیکیورٹی سمیت تمام شہری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

    ایم پی اے محمد حنیف پتافی، ڈپٹی کمشنر عثمان خالد اور ڈی پی او سید علی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے دوران مذہبی عقیدت و احترام، امن و امان، اور بین المذاہب ہم آہنگی کا قیام ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں امن کمیٹیوں اور مقامی منتظمین کا تعاون قابلِ ستائش ہے اور ضلعی حکومت اس تعاون کو مزید مؤثر بناتے ہوئے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق عزاداروں کو بہترین سہولیات کی فراہمی اور مذہبی تقاریب کے پرامن انعقاد کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری ہیں۔

  • اوچ شریف: جوس کارنر والانوجوان کرنٹ لگنے سے جاں بحق

    اوچ شریف: جوس کارنر والانوجوان کرنٹ لگنے سے جاں بحق

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)وچ شریف شہر کی معروف جوس شاپ "شاکر جوس کارنر” کے مالک نوجوان محمد شاکر حسین افسوسناک حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ المناک واقعہ اُس وقت پیش آیا جب وہ معمول کے مطابق اپنی دکان پر جوس تیار کر رہے تھے کہ اچانک بجلی کا کرنٹ لگ گیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق حادثہ اچانک پیش آیا اور وہاں موجود افراد نے فوری طور پر ریسکیو 1122 کو اطلاع دی۔ امدادی ٹیم نے بروقت پہنچ کر ابتدائی طبی امداد (سی پی آر) فراہم کی اور زخمی نوجوان کو شدید نازک حالت میں مریم نواز شریف ہسپتال اوچ شریف منتقل کیا، جہاں وہ جانبر نہ ہو سکے اور خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

    نوجوان کی ناگہانی موت کی خبر شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، جس پر فضا سوگوار ہو گئی۔ علاقہ مکینوں اور کاروباری برادری نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

    مرحوم محمد شاکر حسین کی نمازِ جنازہ دربار حضرت جمال درویش میں ادا کی گئی، جس میں سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات سمیت اہلِ علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے غمزدہ خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کے بلند درجات کے لیے دعا کی۔

    واضح رہے کہ محمد شاکر حسین نہ صرف ایک محنتی کاروباری نوجوان تھے بلکہ اپنے اخلاق اور خوش اخلاقی کی وجہ سے عوام میں خاص مقبولیت رکھتے تھے۔ ان کی ناگہانی وفات نے شہر بھر کو غم کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

  • 5 جولائی: جب بھٹو اور جمہوریت زنجیروں میں جکڑ دیے گئے

    5 جولائی: جب بھٹو اور جمہوریت زنجیروں میں جکڑ دیے گئے

    5 جولائی: جب بھٹو اور جمہوریت زنجیروں میں جکڑ دیے گئے
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    5 جولائی 1977 کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا دن ہے جو جمہوری نظام کے لیے بدترین مثال بن کر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یہ وہ دن تھا جب پاکستان کے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر فوجی آمریت کا اندھیرا ہر طرف چھا گیا۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کر کے نہ صرف ایک سیاسی نظام کو معطل کیا بلکہ ایک پوری نسل کے خواب، امیدیں اور سیاسی تربیت کو مسخ کر دیا۔ یہ واقعہ پاکستان کے جمہوری سفر میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوا، جس کے اثرات آج کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود سیاست، معاشرت، عدلیہ، معیشت اور صحافت میں موجود ہیں۔

    مارشل لا سے پہلے کا سیاسی منظرنامہ بھی کشیدہ تھا۔ مارچ 1977 میں ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی، مگر حزبِ اختلاف نے نتائج کو تسلیم نہ کیا اور دھاندلی کے الزامات کے تحت ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیا۔ ملک میں احتجاجی مظاہرے، ہنگامے اور سیاسی کشمکش اس نہج پر پہنچ گئی کہ جنرل ضیاء الحق نے ‘ملک میں بڑھتی ہوئی انارکی’ کو جواز بنا کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ یہ جواز کتنا مصنوعی اور سیاسی تھا، اس کا اندازہ وقت نے خود کروا دیا۔

    ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد گرفتار کیا گیا۔ ان پر ایک سیاسی قتل کا مقدمہ بنایا گیا، جس کی نوعیت نہ صرف مشکوک تھی بلکہ عدالتی کارروائی بھی ضیاء کے زیراثر تھی۔ چیف جسٹس انوارالحق کی سربراہی میں وہ عدالتی نظام جو بھٹو کو انصاف فراہم کرنے کا پابند تھا، درحقیقت آمریت کے ہاتھوں یرغمال بن چکا تھا۔ جسٹس نسیم حسن شاہ کا بعد ازاں یہ اعتراف تاریخ کے سیاہ اوراق میں محفوظ ہے کہ عدالتی دباؤ کے باعث بھٹو کو سزائے موت دی گئی۔ اس فیصلے نے نہ صرف عدالت کی غیر جانبداری کو مشکوک بنا دیا بلکہ جمہوری عمل کے خلاف بھی ایک عدالتی ہتھیار کے طور پر استعمال ہونے کا آغاز کیا۔

    ضیاء الحق کی آمریت نے مذہب کو ریاستی ایجنڈے میں شامل کیا، اور اسے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا۔ حدود آرڈیننس، زنا قوانین، کوڑوں کی سزائیں، سرِعام پھانسیاں اور میڈیا پر سنسرشپ ضیاء کی پالیسیوں کا حصہ بن گئیں۔ خواتین، اقلیتیں اور ترقی پسند عناصر ریاستی جبر کا نشانہ بنے۔ تعلیمی نصاب میں نظریاتی زہر بھر دیا گیا۔ آزادی اظہار رائے جرم قرار پائی اور صحافیوں کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ شاعر حبیب جالب کی نظم "ظلمت کو ضیاء، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا” اس دور کی آئینہ دار ہے۔

    5 جولائی کو ضیاء نے اعلان کیا کہ نوّے دن کے اندر انتخابات ہوں گے لیکن یہ وعدہ 11 سال پر محیط آمریت میں تبدیل ہوا۔ انتخابات بار بار ملتوی کیے جاتے رہے۔ 1985 میں بالآخر غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کروائے گئے، جس میں منتخب نمائندے ضیاء کے تابع رہے۔ سیاستدانوں کی نئی نسل فوجی نرسریوں سے تیار کی گئی، جن میں آج کے کئی سیاسی رہنما بھی شامل ہیں۔ آمریت کے اسی دور میں جہادی کلچر کو فروغ ملا، جس کا نقطہ آغاز افغان جہاد اور امریکہ کے ساتھ اسٹریٹیجک اتحاد تھا۔ اس کا نتیجہ شدت پسندی، کلاشنکوف کلچر، فرقہ واریت اور انتہاپسندی کی صورت میں نکلا، جو آج بھی پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

    ضیاء الحق کے مارشل لا کے بعد ملک میں نظریاتی تقسیم نے جنم لیا۔ بائیں بازو کی سیاست کو ریاستی بیانیے سے باہر نکال دیا گیا۔ طلبا یونینز پر پابندی عائد کی گئی، جو آج تک بحال نہ ہو سکی۔ اس مارشل لا نے نہ صرف سیاسی اداروں کو کمزور کیا بلکہ فوج کو سیاسی معاملات میں مداخلت کا مستقل حق بھی دے دیا۔ یہ روایت آج بھی بدستور قائم ہے۔ آج بھی جب کبھی جمہوریت کمزور ہوتی ہے تو 5 جولائی کی پرچھائیاں محسوس ہوتی ہیں۔

    اخبارات کے صفحات، ادیبوں کی تحریریں اور عوام کی زبانیں ضیاء کے دور میں بند کر دی گئیں۔ نصاب کو اس حد تک مسخ کیا گیا کہ آنے والی نسلوں کے اذہان میں آمریت اور اسلام کا ایک غیر فطری ملاپ پیوست ہو گیا۔ جمہوریت کو مغربی سازش قرار دے کر عوام کو آمریت سے محبت سکھائی گئی۔ اس پر فخر کیا گیا کہ جنرل ضیاء نے ملک کو "اسلامی ریاست” میں تبدیل کر دیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس دور نے پاکستانی ریاست کی روح، فکر اور سچائی کو مسخ کیا۔

    ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے کر آمریت کو دوام دینے کی کوشش کی گئی، مگر تاریخ نے اسے کبھی معاف نہیں کیا۔ بھٹو کو ختم کر کے جو خلا پیدا کیا گیا، وہ آج بھی پر نہیں ہو سکا۔ ان کا قتل ایک سیاسی قتل سے زیادہ قومی ضمیر کا قتل تھا۔ بھٹو نے کہا تھاکہ "تاریخ مجھے بری کردے گی” اور آج وہ تاریخ واقعی ضیاء کو آمریت کی علامت اور بھٹو کو جمہوریت کا استعارہ قرار دیتی ہے۔

    جب جب پاکستان میں جمہوریت کی بات ہوتی ہے تو 5 جولائی یاد آتا ہے۔ جب جب کوئی آئین کی بالادستی کی بات کرتا ہے تووہ ذوالفقار علی بھٹو کے انجام سے عبرت سیکھتا ہے۔ آج بھی ضیاء الحق کے نظریاتی وارث مختلف شکلوں میں موجود ہیں جو کبھی مذہب کے نام پر، کبھی حب الوطنی کے پردے میں تو کبھی احتساب کے نعرے میں جمہوریت کو کمزور کرتے ہیں۔

    یہ دن ایک یاددہانی ہے کہ پاکستان میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں اور جب تک عوام اپنے ووٹ، اپنی آواز اور اپنے اداروں کا دفاع نہیں کریں گے، مارشل لا جیسے سانحات بار بار جنم لیتے رہیں گے۔ ہمیں تاریخ سے سیکھنا ہو گا کہ جو قومیں آمریت کو قبول کرتی ہیں، ان کے مستقبل اندھیرے میں ڈوب جاتے ہیں۔ 5 جولائی کا مارشل لا صرف ایک رات کا حادثہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا زلزلہ تھا جس کی آفٹر شاکس آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔

  • سیالکوٹ: سیالکوٹ چیمبر آف کامرس میں وفاقی بجٹ پر مشاورتی اجلاس

    سیالکوٹ: سیالکوٹ چیمبر آف کامرس میں وفاقی بجٹ پر مشاورتی اجلاس

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (SCCI) کے صدر اکرام الحق کی زیر صدارت تجارتی اداروں کے نمائندہ اجلاس کا انعقاد کیا گیا، جس میں وفاقی بجٹ 2025-26 میں بزنس کمیونٹی کی تجاویز اور خدشات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس میں چیئرمین سپورٹس گڈز ایسوسی ایشن خواجہ مسعود اختر، سینئر نائب صدر شہباز وسیم لودھی، نائب صدر عمر خالد، اور مختلف ٹریڈ باڈیز کے نمائندوں نے شرکت کی اور خطاب کیا۔ مقررین نے بجٹ میں شامل ٹیکس اصلاحات، صنعتی مراعات، برآمدات پر اثرات، اور کاروباری لاگت میں اضافے جیسے نکات پر کھل کر اظہار خیال کیا۔

    اس موقع پر صدر چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری میاں محمد خلیل، اعجاز غوری، شیخ خالد محمود، چیئرمین سرجیکل ایسوسی ایشن ذیشان طارق شیخ، ملک نصیر احمد، حاجی غلام مجتبیٰ مہر، کرنل (ر) سید احتشام گیلانی، تصور بٹ اور دیگر تاجران نے بھی خصوصی شرکت کی۔

    اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ وفاقی حکومت بزنس کمیونٹی کی تجاویز کو سنجیدگی سے لے اور پالیسی سازی میں ان کی شمولیت یقینی بنائے۔ اجلاس کا مقصد وفاقی بجٹ کے صنعت پر اثرات کا تجزیہ کرنا اور آئندہ کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا تھا تاکہ ملکی معیشت میں سیالکوٹ کا تاریخی صنعتی کردار مزید مستحکم کیا جا سکے۔

  • سیالکوٹ: ماتمی جلوسوں کی سیکیورٹی کیلئے سیف سٹی کیمروں کی نگرانی

    سیالکوٹ: ماتمی جلوسوں کی سیکیورٹی کیلئے سیف سٹی کیمروں کی نگرانی

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض)ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) ایوب بخاری نے سیف سٹی اتھارٹی کے دفتر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے محرم الحرام کے دوران نکالے جانے والے ماتمی جلوسوں کے روٹس پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر ڈی ایس پی ساجد ورک نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کو مانیٹرنگ سسٹم اور سیکیورٹی انتظامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    ایوب بخاری نے کہا کہ ضلع سیالکوٹ میں تمام جلوسوں کے روٹس کی ہمہ وقت نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ سیف سٹی اتھارٹی کے مطابق شہر بھر میں 263 فعال سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں، جو محکمہ داخلہ کے سنٹرل کنٹرول روم سے منسلک ہیں اور تمام سرگرمیوں کی براہِ راست مانیٹرنگ جاری ہے۔

    سیف سٹی اتھارٹی کا تربیت یافتہ عملہ 24 گھنٹے ڈیوٹی انجام دے رہا ہے، جو ماتمی جلوسوں کی فول پروف سیکیورٹی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے سیکیورٹی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ محرم کے دوران کسی بھی ممکنہ خطرے کے پیش نظر چوکسی برقرار رکھی جائے۔

  • کراچی: گرتی عمارتیں، ہر اینٹ کے نیچے سے اٹھتی چیخ، مجرم کون؟

    کراچی: گرتی عمارتیں، ہر اینٹ کے نیچے سے اٹھتی چیخ، مجرم کون؟

    کراچی: گرتی عمارتیں، ہر اینٹ کے نیچے سے اٹھتی چیخ، مجرم کون؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    کراچی جو پاکستان کا معاشی ہب، صنعتی مرکز اور ملک کی سب سے بڑی آبادی والا شہر ہے، یہ شہر اب صرف کاروبار، روشنیوں اور شور کا استعارہ نہیں رہا بلکہ یہاں ہر گرتی عمارت ایک چیخ ہے جو ملبے سے نکل کر آسمان سے سوال کرتی ہے کہ آخر مجرم کون ہے؟

    گزشتہ پانچ سالوں میں اس شہر میں کئی عمارتیں زمین بوس ہوئیں۔ کہیں پانچ منزلہ عمارت گری تو کہیں رہائشی اپارٹمنٹس یا فیکٹری کی چھت دھماکے سے نیچے آ گری۔ ان سانحات میں درجنوں زندگیاں چلی گئیں، سیکڑوں خواب دفن ہوئے اور ہر بار کچھ دن شور اٹھا، کچھ افسر معطل ہوئے، لیکن کوئی مستقل حل سامنے نہ آیا۔

    4 جولائی 2025 کو لیاری کے بغدادی محلے میں گرنے والی عمارت محض ایک عمارت نہیں تھی بلکہ وہ کراچی کی بلڈنگ پالیسی، حکومتی نااہلی، بلڈرز کی حرص اور عوام کی بے بسی کا علامتی مجسمہ تھی۔ وہ عمارت جو 50 سال پرانی تھی اور خطرناک قرار دی جا چکی تھی، آخر کیوں خالی نہ کرائی گئی؟ کیوں ان سات جانوں کو موت کے منہ میں دھکیلا گیا؟

    یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ مارچ 2020 میں گلبہار میں 27 افراد ایک غیر قانونی عمارت کے نیچے دب کر مر گئے۔ اپریل 2023 میں نیو کراچی کی ایک فیکٹری میں چار فائر فائٹرز جان سے گئے۔ 2021، 2022، 2023 اور 2025 کے مختلف مہینوں میں شاہ فیصل کالونی، مچھر کالونی، بھینس کالونی اور کھارادر میں بھی یہی ملبہ گرا . کبھی مزدور، کبھی بچے اور کبھی ماں باپ اس ملبے میں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے۔

    سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) نے 578 سے زائد خطرناک عمارتوں کی نشاندہی کی مگر ان میں سے بیشتر آج بھی لوگوں سے آباد ہیں۔ SBCA کو نہ وسائل دستیاب ہیں، نہ سیاسی آزادی، نہ تکنیکی استعداد۔ اکثر عمارتوں کو نوٹس تو جاری ہو جاتا ہے مگر نہ انخلاء ہوتا ہے، نہ انہدام اور آخرکار ایک دن موت کا بلاوا آ جاتا ہے۔

    ذمہ دار صرف ادارے نہیں بلکہ وہ بلڈرز بھی ہیں جو چند ٹکوں کی خاطر تعمیراتی اصولوں کو روندتے ہیں، وہ مالکان بھی جو خستہ حال عمارتوں میں کرایہ داری جاری رکھتے ہیں اور وہ رہائشی بھی جو غربت یا بے خبری میں خطرہ مول لیتے ہیں۔ سب اس جرم میں شریک ہیں، کچھ خاموشی سے، کچھ بے بسی سے اور کچھ جانتے بوجھتے۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ ہم کڑوے سچ کا سامنا کریں۔ ہمیں خود سے یہ سوالات پوچھنے کی ہمت کرنا ہوگی کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نوٹس جاری کرنے کے بعد خاموش کیوں ہو جاتی ہے؟ بلڈرز کو قانون کے شکنجے میں کیوں نہیں کسا جاتا؟ ہر سانحے کے بعد چند افسران کی علامتی معطلی سے آگے کوئی قدم کیوں نہیں اٹھایا جاتا؟ غیر قانونی عمارتیں تعمیر ہونے سے پہلے کیوں نہیں روکی جاتیں؟ سیاسی سرپرستی ہر بار مجرموں کی ڈھال کیسے بن جاتی ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں بلدیاتی ادارے، صوبائی حکومت اور خود شہری اپنی جان کے تحفظ کے لیے کب جاگیں گے؟ اگر آج ہم نے ان چیخوں کو نہ سنا تو آنے والا کل ہم سے بھی بدلہ لے سکتا ہے۔

    کراچی کے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت اب ایک عظیم امتحان بن چکی ہے، جس سے نظریں چرانا صرف آنے والی تباہی کو دعوت دینا ہے۔ یہ وقت عمل کا ہے، ورنہ ہر اینٹ ہماری خاموشی کی گواہ بن کر ہماری بے حسی کا ماتم کرتی رہے گی۔

  • دیپالپور: سرکاری ادویات چوری کا اسکینڈل بے نقاب، مرکزی ملزم گرفتار، لاکھوں مالیت کی دوا برآمد

    دیپالپور: سرکاری ادویات چوری کا اسکینڈل بے نقاب، مرکزی ملزم گرفتار، لاکھوں مالیت کی دوا برآمد

    اوکاڑہ (نامہ نگار، ملک ظفر)ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر دیپالپور نعیم بشیر نے سرکاری ادویات کی چوری میں ملوث گینگ کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایک منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس کارروائی کے دوران سرکاری ادویات چوری کے مرکزی ملزم نعیم اللہ ولد سخی محمد کو گرفتار کر لیا گیا، جس کے قبضے سے سات اقسام کی لاکھوں روپے مالیت کی سرکاری ادویات برآمد کر لی گئیں۔

    تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ ملزم نعیم اللہ سوشل سکیورٹی ہسپتال لاہور میں ملازمت کے دوران سرکاری ادویات چوری کر کے مقامی نجی فارمیسیز کو فروخت کرتا رہا۔ مزید تفتیش کے دوران سرویڈ فارمیسی حویلی لکھا سے بھی بھاری مقدار میں چوری شدہ ادویات برآمد کی گئیں، جس پر اس غیرقانونی کاروبار میں ملوث فارمیسی کو موقع پر ہی سیل کر دیا گیا۔

    اسسٹنٹ کمشنر نعیم بشیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ سرکاری ادویات کی چوری ایک سنگین جرم ہے اور اس مکروہ دھندے میں ملوث افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ صرف چوروں کے خلاف بلکہ چوری شدہ دوا خریدنے اور بیچنے والی فارمیسیز کے خلاف بھی قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

    پولیس نے مرکزی ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید شواہد اکٹھے کرنے اور ملوث گروہ کی مکمل تحقیقات کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سرکاری وسائل کے تحفظ اور عوامی صحت کے حق میں اس قسم کے جرائم کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

  • امام کا آخری خطاب: حسینؑ نے پکارا، مگر ضمیر سوئے رہے

    امام کا آخری خطاب: حسینؑ نے پکارا، مگر ضمیر سوئے رہے

    آٹھ محرم۔ امام کا آخری خطاب: حسینؑ نے پکارا، مگر ضمیر سوئے رہے
    تحریر:سید ریاض حسین جاذب

    آٹھ محرم کی شام… کربلا کی پیاسی سرزمین پر سناٹا گہرے سائے کی مانند چھایا ہوا تھا۔ خیموں میں سسکیاں تھیں، خشک مشکیزے تھے، اور ہر چہرے پر اضطراب کی پرچھائیاں۔ چھوٹے بچے پانی کے ایک قطرے کو ترس رہے تھے، ماؤں کی گودیں اپنی تڑپتی اولاد کو خاموشی سے سینے سے لگا رہی تھیں، اور وقت جیسے تھم سا گیا تھا۔ آسمان پر سورج بھی جیسے شرمندگی سے جھک گیا ہو، اور زمین خاموشی سے اس اندوہناک منظر کی گواہی دے رہی تھی۔

    انہی گھڑیوں میں امام حسینؑ خیمے سے باہر تشریف لائے۔ یزیدی لشکر نے ہر طرف سے نرغہ تنگ کر رکھا تھا، مگر حسینؑ کے قدموں میں لرزش نہ تھی۔ ان کی نگاہوں میں جلال، لہجے میں وقار اور دل میں وہ درد تھا جو صرف نواسۂ رسولؐ کے سینے میں انگاروں کی طرح دہک سکتا ہے۔

    امامؑ نے دشمنوں سے مخاطب ہوکر وہ کلمات کہے جو رہتی دنیا تک مظلومیت کی بلند ترین صدا بن کر گونجتے رہیں گے:

    "کیا تم نہیں جانتے کہ میں محمدؐ کا نواسہ ہوں؟ کیا تم بھول گئے کہ میری ماں فاطمہؑ وہی ہیں جنہیں تم خاتونِ جنت کہتے ہو؟ کیا تم ان احادیث کو جھٹلا سکتے ہو جو رسولؐ خدا نے میرے اور میرے بھائی حسنؑ کے بارے میں فرمائی تھیں؟ اگر تمہیں شک ہے تو جابر بن عبداللہ، زید بن ارقم اور انس بن مالک جیسے جلیل القدر صحابہ سے پوچھ لو، جنہوں نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے سنا۔”

    یہ خطاب صرف ایک تاریخی بیان نہ تھا، یہ وہ احتجاج تھا جو ایک مظلوم امامؑ اپنی امت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کر رہا تھا… مگر ہر طرف سنگ دلی کے اندھیرے چھا چکے تھے۔

    اسی دن پانی کا محاصرہ مزید سخت کر دیا گیا۔ نہر فرات بہہ رہی تھی، مگر اہلِ بیتؑ کے لیے اس کے پانی کا ایک قطرہ بھی حرام کر دیا گیا۔ حضرت عباسؑ کی غیرت سلگ رہی تھی، سکینہؑ کے لب خشک تھے، اور امامؑ کی پلکوں پر امت کی بےحسی کا درد جھلک رہا تھا۔

    امام حسینؑ نے عمر بن سعد سے مذاکرات کیے۔ تین تجاویز پیش کیں:

    1. مجھے واپس مدینہ جانے دیا جائے
    2. کسی سرحدی مقام پر چلے جانے کی اجازت دی جائے
    3. یا پھر مجھے یزید کے سامنے پیش ہونے دیا جائے
    مگر یزیدی لشکر نے ہر دروازہ بند کر دیا۔

    رات ڈھلنے لگی۔ خیموں میں موت کی چاپ سنائی دینے لگی۔ اصحابِ حسینؑ اپنی تلواریں درست کرنے لگے، اور امامؑ اپنے رب کے حضور سر بسجود ہو گئے:

    "اے میرے رب! تُو جانتا ہے کہ ہم نے تیرے دین کی خاطر سب کچھ قربان کر دیا… بچوں کی پیاس، بہنوں کے آنسو، اصحاب کی جانیں… سب تیری رضا کے لیے نچھاور کر دیے۔”

    آٹھ محرم وہ دن ہے جب دنیا نے ایک سچ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا … جب سارا عالم خاموش ہو جائے، تو ایک حسینؑ کھڑا ہو کر تاریخ کو جگاتا ہے۔

    یہ دن ہمیں سکھاتا ہے کہ صبر صرف خاموشی کا نام نہیں، بلکہ وہ عزم ہے جو پانی کی پیاس میں بھی سر نہیں جھکاتا۔ امام حسینؑ کا خطاب فقط احتجاج نہیں تھا، بلکہ وہ درد بھری آواز تھی جو ایک بیٹے کو اپنے باپ کی لاش اٹھاتے وقت محسوس ہوتی ہے۔ یہ وہ جلال تھا جو صرف حق پر قائم ولی کو نصیب ہوتا ہے۔

    کربلا کی پیاسی شام میں امام حسینؑ نے صرف حجت تمام نہیں کی، بلکہ قیامت تک آنے والے انسانوں کو یہ سبق دیا کہ:

    > ظلم کے سائے چاہے جتنے گہرے ہوں، ایک نواسۂ رسولؐ کا سچ ان سب کو چیر کر روشنی بن جاتا ہے۔

  • واربرٹن: کمشنر لاہور زید بن مقصود کا دورہ، 8 محرم کے جلوس و مجالس کے انتظامات کا جائزہ

    واربرٹن: کمشنر لاہور زید بن مقصود کا دورہ، 8 محرم کے جلوس و مجالس کے انتظامات کا جائزہ

    واربرٹن (باغی ٹی وی،نامہ نگارعبدالغفارچوہدری)کمشنر لاہور زید بن مقصود نے ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سید ندیم عباس کے ہمراہ واربرٹن کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے 8 محرم الحرام کے جلوس اور مجالس عزا کے انتظامات کا تفصیلی معائنہ کیا۔

    دورے کے دوران کمشنر لاہور نے جلوس کے روٹ پر صفائی ستھرائی، لائٹنگ، اور عزاداروں کے لیے ٹھنڈے و میٹھے پانی کی سبیلوں کے انتظامات کو چیک کیا۔ انہوں نے امام بارگاہوں اور محرم جلوسوں کے لیے قائم انتظامی کیمپس کا بھی دورہ کیا اور انتظامیہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔

    اس موقع پر کمشنر لاہور زید بن مقصود کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی اور سہولیات کے حوالے سے انتظامی سطح پر تمام ممکنہ اقدامات کیے گئے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ 9 اور 10 محرم الحرام کے جلوسوں و مجالس کے لیے بہترین اور فول پروف انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ عزاداروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا سکے۔

  • سیالکوٹ: سوشل میڈیا پر مبینہ مذہبی منافرت پر نوجوان گرفتار

    سیالکوٹ: سوشل میڈیا پر مبینہ مذہبی منافرت پر نوجوان گرفتار

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)سیالکوٹ میں سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر مذہبی منافرت اور شرانگیزی پر مبنی مواد شیئر کرنے والے ایک نوجوان کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 298 کے تحت مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

    پولیس کے مطابق ملزم کو کشمیر روڈ کے علاقے سے گرفتار کیا گیا، جو اپنے موبائل فون کے ذریعے سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد شیئر کرنے میں ملوث پایا گیا۔ ملزم نے ابتدائی تفتیش کے دوران اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے معافی کی درخواست بھی کی ہے۔

    مزید تفتیش کے لیے پولیس نے ملزم کا موبائل فون قبضے میں لے کر پنجاب فرانزک لیبارٹری کو بھیج دیا ہے تاکہ ڈیجیٹل شواہد کا تجزیہ کیا جا سکے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایسی سرگرمیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے اور مذہبی ہم آہنگی کو سبوتاژ کرنے والوں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنائیں اور کسی بھی نفرت انگیز یا شرانگیز مواد کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔