Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • کیا کوئی سن رہا ہے؟

    کیا کوئی سن رہا ہے؟

    کیا کوئی سن رہا ہے؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ے جہاں ہر عام شہری نہ صرف زندہ رہنے کی جدوجہد کر رہا ہے بلکہ خود سے یہ سوال بھی پوچھ رہا ہے کہ "کیا میری آواز کسی تک پہنچ رہی ہے؟” مہنگائی کی چکی میں پسنے والا مزدور، روزگار کی تلاش میں سرگرداں نوجوان، بچوں کی فیس اور دوا کے بیچ جھولتا باپ اور بے یقینی میں ڈوبا ہر دل آج سراپا سوال ہے۔ سوشل میڈیا پر صدائیں بلند ہو رہی ہیں، لیکن اقتدار کے ایوانوں میں یہ صدائیں یا تو دبی جا رہی ہیں یا نظرانداز کی جا رہی ہیں۔
    یہ صرف ایک فرد کی نہیں، پوری قوم کی کیفیت ہے ایک ایسا اجتماعی اضطراب جو ہر گلی کے خاموش کونوں میں، ہر ماں کی دعاؤں میں اور ہر نوجوان کی آنکھوں کے بجھتے خوابوں میں چھپا ہوا ہے۔

    ہر صبح جب ایک عام پاکستانی اپنا بٹوہ کھولتا ہے تو مہنگائی کا ایک نیا جھٹکا اسے سکتے میں ڈال دیتا ہے۔ آٹا، چینی، دودھ، سبزی، بجلی کے ناجائز بل اور ایندھن کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق 44 فیصد پاکستانی روزانہ 1100 روپے سے کم کماتے ہیں۔ جب ایک کلو آٹاخریدنے کیلئےپیسے نہ ہوں تو ایک غریب آدمی اپنے بچوں کے لیے روٹی کیسے لے کر آئے؟ سوشل میڈیا پر عوام پوچھ رہے ہیں کہ جب تنخواہ وہی پرانی ہے تو یہ نئے ٹیکس اور بڑھتی قیمتیں کیسے برداشت کریں؟ بینک ٹرانزیکشنز پر نئے ٹیکس کو "معاشی قتل عام” قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک صارف نے لکھاکہ "ہماری کمائی پہلے ہی ٹیکسوں کی نذر ہو رہی ہے، اب بینک سے پیسے نکلوانے پر بھی ٹیکس؟ یہ کون سی انصاف کی حکومت ہے؟” عوام کا مطالبہ ہے کہ مراعات یافتہ طبقے سے ٹیکس وصول کیا جائے، دکانداروں اور بڑے کاروباریوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے اور عام آدمی پر بوجھ کم کیا جائے۔

    اس معاشی بحران کے ساتھ بے روزگاری نے بھی پاکستانی نوجوانوں کے خوابوں کو چکناچور کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر لاکھوں نوجوان اپنی کہانیاں سنا رہے ہیں کہ پڑھائی مکمل کی، ڈگری لی، لیکن نوکری کہیں نہیں۔ سرکاری ملازمتوں پر پابندی، سرکاری اداروں کی نجکاری اور معاشی بدحالی نے روزگار کے مواقع ختم کر دیے ہیں۔ ایک صارف نے لکھاکہ "ہمارے والدین نے ہمیں پڑھایا کہ ڈگری ہماری زندگی بدل دے گی، لیکن اب ہم ڈگری لے کر در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔” نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں، لیکن جب وہ مایوسی کے اندھیروں میں ڈوب رہے ہیں تو ملک کا مستقبل کون سنوارے گا؟ عوام کا مطالبہ ہے کہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، نجکاری کے بجائے سرکاری اداروں کو مضبوط کیا جائے اور ہنر سکھانے کے مؤثرپروگرام شروع کیے جائیں۔

    سیاسی افراتفری نے پاکستانی عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا ہے۔ 2024 کے انتخابات کے بعد پیدا ہونے والے تنازعات اور سیاسی جماعتوں کے درمیان عدم اتفاق نے عوام کے اعتماد کو مجروح کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر عوام پوچھ رہے ہیں کہ جب لیڈر ہی ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں تو ہمارے مسائل کون حل کرے گا؟ ایک صارف نے ایکس (ٹویٹر)پرلکھاکہ "ہر سیاسی جماعت دعوے کرتی ہے کہ وہ عوام کی آواز ہے، لیکن اقتدار ملنے پر سب اپنے مفادات کے پیچھے بھاگتے ہیں۔” سیاسی عدم استحکام نے معاشی اور سماجی اصلاحات کو روک دیا ہے اور عوام کا مطالبہ ہے کہ سیاسی استحکام لایا جائے، اداروں کے درمیان تناؤ ختم کیا جائے اور شفاف انتخابات کے ذریعے عوام کی آواز کو سنا جائے۔

    پانی کی کمی ایک خاموش قاتل بن کر پاکستان کے وجود کو چیلنج کر رہی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 2035 تک پاکستان شدید پانی کے بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ دیہی علاقوں میں کسان پانی کے بغیر فصلیں اگاتے ہیں جبکہ شہری علاقوں میں صاف پانی کی عدم دستیابی بیماریوں کو جنم دے رہی ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ "ہماری فصلیں سوکھ رہی ہیں، لیکن واٹر مینجمنٹ کے نام پر کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔” عوام کا مطالبہ ہے کہ واٹر مینجمنٹ کے موثر نظام بنائے جائیں، سندھ طاس معاہدے سے متعلق مسائل حل کیے جائیں اور پانی کی تقسیم صوبوں کے درمیان منصفانہ ہو۔

    دہشت گردی اور سیکیورٹی مسائل نے پاکستانی عوام کو خوف کے سائے میں جینے پر مجبور کر دیا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات، سرحد پار سے سمگلنگ اور عدالتی نظام کی ناکامی نے عوام کے تحفظ کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ "ہم اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے ہیں، لیکن دل میں خوف رہتا ہے کہ وہ واپس آئیں گے بھی یا نہیں۔” عوام کا مطالبہ ہے کہ سیکیورٹی فورسز کو مضبوط کیا جائے، عدالتی نظام کو شفاف بنایا جائے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔

    قدرتی آفات نے بھی پاکستانی عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ 2022 کے سیلاب نے سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں تباہی مچائی، جس سے فصلوں، مویشیوں اور انفراسٹرکچر کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ عوام یہ پوچھ رہے ہیں کہ جب ہر سال سیلاب آتے ہیں تو ہمارے ڈیم اور واٹر مینجمنٹ سسٹم کہاں ہیں؟ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ نظر نہیں آتا۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیےمؤثر پالیسیاں بنائی جائیں، ڈیموں کی تعمیر کو ترجیح دی جائے اور متاثرین کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

    پاکستان کے عوام مشکلات میں گھرے ہیں، وہ معاشی انصاف، روزگار، سیاسی استحکام، پانی، سیکیورٹی اور قدرتی آفات سے تحفظ مانگ رہے ہیں۔ یہ سوالات صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہیں۔ کیا ہمارے لیڈر اس آواز کو سننے کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم ایک ایسا پاکستان بنا سکتے ہیں جہاں عام آدمی سکون سے سانس لے سکے؟ وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر ان مسائل کا حل تلاش کریں۔ اگر ہم آج خاموش رہے تو کل ہمارے بچوں کا مستقبل تاریک ہوگا۔ آئیے، اس چیخ کو ایک تحریک میں بدلیں اور ایک بہتر پاکستان کی بنیاد رکھیں۔

    پاکستان کے ہر گوشے سے اُٹھنے والی یہ صدائیں محض سوشل میڈیا کی پوسٹس نہیں بلکہ یہ مسائل کے زخموں سے چور قوم کی پکار ہیں۔ یہ آوازیں نہ سیاسی نعروں کا حصہ ہیں، نہ ہی کسی ایجنڈے کی گونج بلکہ یہ ان ماں باپ کی آہیں ہیں جن کے بچے بے روزگار ہیں، وہ کسان کی فریاد ہے جو پانی کو ترس رہا ہے، وہ طالبعلم کی مایوسی ہے جو ڈگری لے کر در در کی ٹھوکریں کھا رہاہے اور اس مزدور کی چیخ ہے جو بجلی کے بل کے نیچے دب چکا ہے۔ کیا ایوانوں کی بلند دیواروں سے باہر یہ آواز پہنچ رہی ہے؟ کیا وزیروں، مشیروں اور اشرافیہ کے قہقہوں کے بیچ میں ان آہوں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے؟ اگر نہیں تو پھر ایک دن ایسا آئے گا جب صرف عوام نہیں بلکہ خود اقتدار کے ایوان بھی ان خاموش چیخوں کی لپیٹ میں آئیں گے۔ وقت گزرنے سے صرف تاریخ بنتی ہے، قومیں نہیں۔ قومیں اس وقت بنتی ہیں جب ان کے رہنما عوام کی تکلیف کو اپنا درد سمجھیں، ان کی چیخ کو اپنا فرض اور ان کی امید کو اپنی ذمہ داری۔

    اب وقت آ چکا ہے کہ "کیا کوئی سن رہا ہے؟” کو ایک فریاد سے نکال کر، ایک نعرہ، ایک تحریک، ایک انقلاب میں بدلا جائے۔ ہر پاکستانی کو چاہیے کہ وہ اس آواز کا حصہ بنے کیونکہ اگر ہم خاموش رہے تو صرف ہمارا حال نہیں، ہمارا مستقبل بھی سوالیہ نشان بن جائے گا۔ آئیے! سوال کرنے سے نہ ڈریں۔ آئیے! اپنی آواز کو ایک سمت دیں۔ آئیے! اپنے پاکستان کو بچا لیں… اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ "کیا کوئی سن رہا ہے؟” … ہاں، اب سننا پڑے گا!

  • احمد پور شرقیہ: وین آتشزدگی میں ایک اور طالبہ جاں بحق، اموات کی تعداد 3 ہوگئی

    احمد پور شرقیہ: وین آتشزدگی میں ایک اور طالبہ جاں بحق، اموات کی تعداد 3 ہوگئی

    اوچ شریف (نامہ نگار، حبیب خان)احمد پور شرقیہ میں پانچ روز قبل پیش آنے والے طالبات کی وین آتشزدگی کے المناک واقعے میں جاں بحق ہونے والی طالبات کی تعداد تین ہو گئی ہے۔ نشتر ہسپتال ملتان میں زیر علاج 20 سالہ طالبہ ماریا بنت محمد اسلم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے آج دم توڑ گئی۔ اس سے قبل دو طالبات، منازہ عرف طیبہ عباس اور اجالا بنت سلیم بھی جان کی بازی ہار چکی ہیں۔

    یہ افسوسناک حادثہ پانچ روز قبل احمد پور شرقیہ ٹول پلازہ کے قریب اس وقت پیش آیا جب نجی کالج کی 19 طالبات امتحان دینے کے بعد احمد پور شرقیہ سے لیاقت پور واپس جا رہی تھیں۔ طالبات سے بھری ہائی ایس وین میں نصب ناقص ایل پی جی سلنڈر اچانک لیک ہونے کے بعد زور دار دھماکے سے پھٹ گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری وین شعلوں کی لپیٹ میں آ گئی۔ دھماکے اور آگ کے باعث موقع پر ہی ایک طالبہ جاں بحق ہو گئی تھی جبکہ دیگر 10 طالبات بری طرح جھلس گئی تھیں، جن میں سے دو مزید دوران علاج دم توڑ چکی ہیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق حادثے کے بعد وین سے بلند ہوتے شعلے دور سے نظر آ رہے تھے، طالبات مدد کے لیے چیختی چلاتی رہیں لیکن خوفناک آگ نے اُنہیں بری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ قریبی شہریوں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور ریسکیو 1122 کو اطلاع دی۔ امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا اور جھلسنے والی طالبات کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا۔ جن طالبات کی حالت تشویشناک تھی، اُنہیں نشتر ہسپتال ملتان ریفر کر دیا گیا جہاں مزید دو طالبات جاں بحق ہو گئیں۔

    جھلسنے والی طالبات میں ثنا بنت اللہ دتہ، ثنا بنت رمضان، تانیا بنت محمد بخش، مشعل بنت ظفر، امِ حبیبہ بنت طاہر، عائشہ بنت الٰہی بخش، راحت بی بی بنت غلام مرتضیٰ سمیت دیگر طالبات شامل ہیں جن کی عمریں 17 سے 25 سال کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔ واقعے کے بعد پولیس نے تین نجی کالجز کی انتظامیہ، وین کے مالک اور ڈرائیور کے خلاف غفلت، لاپرواہی اور انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے وین ڈرائیور سمیت دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر ذمہ داران کی تلاش جاری ہے۔

    حادثے کے بعد علاقے کی فضا سوگوار ہے، جاں بحق طالبات کے گھروں میں صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے اور والدین شدید صدمے سے دوچار ہیں۔ شہری حلقوں کی جانب سے حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس حادثے کے ذمہ دار تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے، تاکہ آئندہ کسی ماں کی گود نہ اجڑے اور ایسے اندوہناک واقعات کا تدارک ممکن ہو سکے۔

  • یومِ عاشور: وہ دن جب کربلا کی ریت لہو سے سیراب ہوئی

    یومِ عاشور: وہ دن جب کربلا کی ریت لہو سے سیراب ہوئی

    یومِ عاشور: وہ دن جب کربلا کی ریت لہو سے سیراب ہوئی
    تحریر: سیدریاض حسین جاذب
    کربلا کی وہ زمین، جہاں کبھی قافلوں نے پڑاؤ ڈالے ہوں گے، جہاں کبھی ہوائیں مہربان ہوں گی، دسویں محرم کی صبح ایک الم ناک سناٹے کے ساتھ طلوع ہوئی۔ سورج نے اپنی کرنیں نہیں بکھیریں بلکہ ایک مغموم اداسی کے ساتھ آسمان پر چمکا، جیسے جانتا ہو کہ آج انسانیت پر ایسا زخم لگنے والا ہے جو قیامت تک ہرا رہے گا۔ خیموں میں بےچینی، سکوت اور دعاؤں کا شور تھا۔ امام حسینؑ رات بھر سجدے میں گڑگڑاتے رہے، آنکھیں اشکبار، دل پر بار عظیم اور زبان پر بس ایک جملہ "یا رب ہمیں صبر دے۔”

    علی اکبرؑ، قاسمؑ، عباسؑ، سب جان چکے تھے کہ آج جسم کٹے گا، سر جدا ہوں گے مگر حق کا پرچم جھکنے نہ پائے گا۔ بچوں کی سسکیاں، بیبیوں کی آہیں، اور بی بی زینبؑ کا بےتاب چہرہ فضا میں ایسا نوحہ بکھیر رہا تھا جو دلوں کے تار چیر دیتا تھا۔ مگر ان سب میں سب سے دل دہلا دینے والا منظر وہ تھا، جب امام حسینؑ نے اپنے معصوم، چھ ماہ کے لخت جگر علی اصغرؑ کو گود میں لیا۔ اس بچے کی آنکھیں خشک تھیں، ہونٹوں پر زخم، چہرے پر مٹی اور بدن پر کپکپاہٹ۔ امام نے دشمن کے لشکر کے سامنے آ کر نہ شمشیر اٹھائی، نہ کوئی خطبہ دیا، بس ہاتھ اٹھا کر علی اصغرؑ کو پیش کیا اور کہاکہ "اگر مجھے پیاسا رکھنا چاہتے ہو تو رکھو، مگر اس معصوم پر تو رحم کرو، اسے پانی دے دو۔”

    مگر نہ دل پگھلے، نہ آنکھیں نم ہوئیں۔ حرملہ، یزیدی فوج کا ایک تیر انداز، تین شاخوں والا ایسا تیر چھوڑتا ہے جو سیدھا علی اصغرؑ کے نازک گلے کو چیر دیتا ہے۔ ایک لمحہ میں امام کے بازو میں تھرتھراتا بچہ خاموش ہو گیا۔ اس تیر نے صرف ایک گردن نہیں کاٹی بلکہ انسانیت، رحم، شفقت اور وفا کو بھی لہولہان کر دیا۔ امام حسینؑ کا دل چور چور ہو گیا، مگر زبان سے شکوہ نہ نکلا۔ انہوں نے ننھے شہید کا خون اپنے ہاتھوں میں لیا اور آسمان کی طرف اچھال دیا۔ روایات کہتی ہیں کہ زمین نے وہ خون قبول نہ کیا، آسمان نے تھام لیا کیونکہ یہ خون ایک معصوم کا نہیں، شہادت کا تاج پہنے ہوئے ایک عظیم پیغام کا تھا۔

    پھر جب میدان خالی ہوا اور ایک ایک چراغ بجھ گیا، امام حسینؑ تنہا رہ گئے۔ جسم زخموں سے چور، پیاس سے نڈھال، دل زخمی، مگر نظریں بلند۔ انہوں نے خیموں کی طرف دیکھا، جہاں زینبؑ کا لرزتا وجود تھا، سکینہؑ کے آنسو، سجادؑ کی بےبسی اور ام کلثومؑ کی سسکیاں۔ امام نے وداعی کلمات ادا کیے، بچوں کو آخری بار گلے لگایا، بہن کو صبر کی تلقین کی اور میدانِ کربلا کی طرف روانہ ہو گئے۔ ان کے قدموں کے نیچے وہی ریت تھی جس پر ان کے یاروں کے لاشے پڑے تھے۔ دشمنوں نے چاروں طرف سے حملہ کیا، تلواریں، نیزے، تیر برسائے گئے، مگر امام حسینؑ کا سر نہ جھکا، ان کی زبان پر کلمہ جاری رہا۔ آخر کار جب سجدے میں گئے اور خدا کے حضور سر رکھا، شمر جیسے بدبخت نے ان کا سر تن سے جدا کر دیا۔

    وہ سر، جسے رسول اللہؐ نے چوما تھا، آج نیزے پر بلند ہو چکا تھا۔ وہ سینہ، جس پر نبیؐ سوتے تھے، آج خاک پر روند دیا گیا۔ زمین خون سے بھر گئی، آسمان سیاہ ہو گیا اور مظلومیت نے اپنا پرچم کربلا کے میدان میں گاڑ دیا۔ مگر ظلم یہیں پر نہیں رکا۔ امام حسینؑ کی شہادت کے بعد خیموں پر حملہ ہوا۔ آگ کے شعلے بی بیوں کے پردوں سے ٹکرا گئے۔ سکینہؑ، رقیہؑ، ام کلثومؑ، سب جلتے خیموں سے نکل نکل کر دوڑنے لگیں۔ زینبؑ نے اپنے ہاتھوں سے بچوں کو سمیٹا، چادر کو سنبھالا اور خاک میں لپٹی عزت کو اٹھا کر اپنے ساتھ لے گئیں۔

    وہ شام، جسے تاریخ نے "شامِ غریباں” کہا، وہ صرف اندھیرے کی نہیں تھی، وہ ایک قیامت کی رات تھی۔ بی بیوں کے سروں سے چادر چھین لی گئی، بچوں کو کوڑے مارے گئے، امام سجادؑ کو زنجیروں میں جکڑ دیا گیا۔ سکینہؑ بار بار پوچھتی کہ "میرا بابا کہاں ہے؟” مگر جواب میں صرف سسکیاں ملتیں۔ رقیہؑ جب قیدخانے میں بابا کے سر کو دیکھتی ہے تو اس سے لپٹ کر کہتی ہے، "بابا! مجھے کیوں چھوڑ گئے؟ میں آپ کے بغیر کیسے زندہ رہوں؟”

    یہ منظر، یہ نوحہ، یہ قیامت آج بھی ہر دل کو لرزا دیتا ہے۔ عاشورہ ختم ہو چکا، مگر کربلا زندہ ہے۔ علی اصغرؑ کا خون آج بھی امت سے سوال کرتا ہے: "کیا تم نے ظلم کے خلاف آواز بلند کی؟” امام حسینؑ کی تنہائی، ان کا سجدہ، آج بھی ہر غیرت مند دل کو بیدار کرتا ہے۔ بی بی زینبؑ کی قیادت، ان کا صبر، ان کا خطبہ آج بھی بتاتا ہے کہ پردہ نشین عورت جب میدان میں اترتی ہے تو یزید جیسے تخت لرز جاتے ہیں۔

    یہ کربلا کا پیغام ہے۔ یہ درد کا قصہ نہیں، یہ عشق کا دستور ہے۔ یہ وہ قربانی ہے جس نے دینِ محمدی کو ہمیشہ کے لیے زندہ رکھا۔ حسینؑ کا سر نیزے پر گیا، مگر جُھکا نہیں۔ اگر چاہو تو زندہ رہنے کا سلیقہ حسینؑ سے سیکھو اور مر مٹنے کا مفہوم علی اصغرؑ کے گلے سے سیکھو۔

  • سیالکوٹ: امام علی الحق شہید کے عرس پر پروفیشنل میڈیا ایسوسی ایشن کی چادر پوشی

    سیالکوٹ: امام علی الحق شہید کے عرس پر پروفیشنل میڈیا ایسوسی ایشن کی چادر پوشی

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)9 محرم الحرام کے موقع پر حضرت امام علی الحق شہیدؒ کے سالانہ عرس مبارک پر پروفیشنل پرنٹ اینڈ الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن (رجسٹرڈ) سیالکوٹ کے زیر اہتمام دربار عالیہ پر روحانی اور پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ایسوسی ایشن کے تمام ممبران اور عہدیداران نے اجتماعی طور پر شرکت کی۔

    عرس کی اس پرنور تقریب کے دوران ممبران نے دربار شریف پر حاضری دی، چادر پوشی کی سعادت حاصل کی اور حضرت امام علی الحقؒ کی تعلیمات و قربانیوں کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر دربار شریف کی انتظامیہ نے تمام صحافیوں کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے اُنہیں چادریں پہنائیں، جو محبت و عقیدت کا حسین مظہر تھا۔

    خصوصی دعا میں ملک و ملت کی سلامتی، امتِ مسلمہ کے اتحاد، پاکستان کی ترقی اور میڈیا کے مسائل کے حل کے لیے دعائیں کی گئیں۔ دربار شریف کی انتظامیہ کی جانب سے تمام مہمانوں کے لیے نیاز اور وسیع لنگر کا خصوصی اہتمام بھی کیا گیا۔

    تقریب میں شریک ہونے والے نمایاں ممبران میں خرم میر، رانا نوید، شاہد ریاض، رانا جاوید، مہر محمد ندیم، وقاص اسلم، کامران، یاسین وٹو، مہر مصطفی، مدثر رتو، محمد جمال، عیسو مسیح، ارحم میر اور عمران احمد گجر شامل تھے۔ شرکاء نے دربار کی تزئین و آرائش، سیکیورٹی اور دیگر انتظامات کو سراہتے ہوئے انتظامیہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

    شرکاء کا کہنا تھا کہ حضرت امام علی الحق شہیدؒ آٹھویں صدی کے عظیم مجاہد، مبلغ اور صوفی بزرگ تھے جنہوں نے راجہ سالوان کے ظلم و جبر کے خلاف علم جہاد بلند کیا اور حق و انصاف کی راہ میں جامِ شہادت نوش کیا۔ آپ کا مزار سیالکوٹ میں واقع ہے، جہاں ہر سال عرس کے موقع پر لاکھوں عقیدت مند حاضر ہوتے ہیں۔

    ایسوسی ایشن کے اراکین نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں بھی ایسی روحانی اور سماجی تقریبات کا سلسلہ جاری رکھیں گے تاکہ معاشرتی ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور مثبت صحافتی کردار کو فروغ دیا جا سکے۔

    دربار شریف کی انتظامیہ نے میڈیا کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ صحافی معاشرے کی آنکھ اور زبان ہوتے ہیں، جو حق و صداقت کے پیغام کو عام کرتے ہیں۔ شرکاء نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام علی الحقؒ کی تعلیمات آج کے دور میں روشنی کا مینار ہیں جو عدل، صداقت اور قربانی کا پیغام دیتی ہیں۔

    تقریب کا اختتام اجتماعی دعا پر ہوا، جس میں پاکستان کی خوشحالی، اتحادِ امت، میڈیا کی آزادی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے پرخلوص دعائیں کی گئیں۔ تمام شرکاء نے دربار پر حاضری کو اپنی زندگی کا ایک روحانی اور یادگار لمحہ قرار دیا۔

    یاد رہے کہ حضرت امام علی الحق شہیدؒ آٹھویں صدی عیسوی کے معروف صوفی بزرگ، مجاہد، اور مبلغ اسلام تھے، جن کا تعلق سیالکوٹ سے تھا۔ آپ نے ہند و پنجاب میں اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ کا زمانہ راجہ سالوان کے دور حکومت سے منسلک ہے، جس کے خلاف آپ نے اسلام کی سربلندی اور مظلوم مسلمانوں کے تحفظ کے لیے جہاد کیا۔ اس معرکے میں آپ نے جامِ شہادت نوش کیا۔ آپ کی قربانی اور بہادری کے باعث آپ کو "شہید سیالکوٹ” کہا جاتا ہے۔ آپ کا مزار سیالکوٹ میں واقع ہے اور ہر سال محرم الحرام کے موقع پر آپ کا عرس منایا جاتا ہے، جس میں عقیدت مندوں کی بڑی تعداد شرکت کرتی ہے۔

  • سیالکوٹ: وزیر بلدیات کا سیف سٹیز دورہ، محرم سیکیورٹی کا جائزہ

    سیالکوٹ: وزیر بلدیات کا سیف سٹیز دورہ، محرم سیکیورٹی کا جائزہ

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض) صوبائی وزیر بلدیات میاں ذیشان رفیق نے سیف سٹیز اتھارٹی سیالکوٹ کا دورہ کیا اور محرم الحرام کے دوران نکالے جانے والے جلوسوں اور منعقد ہونے والی مجالس کی سیکیورٹی و سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے بریفنگ حاصل کرتے ہوئے انتظامات کو تسلی بخش قرار دیا اور زور دیا کہ عشرۂ محرم الحرام کے دوران امن و امان، بین المسالک ہم آہنگی اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں تاریخی نوعیت کے اقدامات کیے گئے ہیں۔

    میاں ذیشان رفیق نے بتایا کہ پنجاب بھر میں محرم الحرام کے دوران 38 ہزار 217 مجالس اور جلوسوں کے لیے فول پروف سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔ سیکیورٹی کے لیے 1 لاکھ 10 ہزار سے زائد پولیس اہلکار، 79 رینجرز کمپنیز، اور 59 پاک آرمی کمپنیز تعینات کی گئی ہیں، جب کہ سیف سٹی کیمروں، ٹریکرز، تھری ڈی میپنگ اور جدید نگرانی کے نظام سے ہر لمحہ مانیٹرنگ جاری ہے۔

    وزیر بلدیات نے بتایا کہ سڑکوں کی صفائی، روشنی، پینے کے ٹھنڈے پانی کی فراہمی، اور دیگر سہولیات کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔ ریسکیو 1122 اور تمام ضلعی اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے تاکہ فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ شکایات کے فوری ازالے کے لیے مانیٹرنگ سیل فعال ہیں، اور پولیس، ضلعی انتظامیہ، اور مجالس کے منتظمین کے درمیان مکمل رابطہ برقرار ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یکم تا 10 محرم الحرام پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ ہے جس کے تحت اسلحے کی نمائش، نفرت انگیز تقاریر، وال چاکنگ، غیر قانونی لاؤڈ اسپیکر کے استعمال، اور اشتعال انگیز مواد پر مکمل پابندی عائد ہے، جب کہ 9 اور 10 محرم کو ڈبل سواری اور ڈرون کیمروں کے استعمال پر بھی مکمل پابندی نافذ کی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ مواد پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی اور ڈی پی او فیصل شہزاد نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع سیالکوٹ میں 9 اور 10 محرم کو 152 روایتی و لائسنسی جلوس اور 197 مجالس کا انعقاد ہو گا، جن کی سیکیورٹی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا چکے ہیں۔ جلوسوں کے راستوں کی مرمت، صفائی، اضافی لائٹس اور زائرین کے لیے ٹھنڈے مشروبات کی سبیلیں بھی لگائی گئی ہیں۔ جلوسوں کی لائیو مانیٹرنگ کے لیے 100 اضافی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔

    اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد اقبال سنگھیڑا، ایڈیشنل ڈی سی جنرل ایوب بخاری اور ڈسٹرکٹ آفیسر سیف سٹیز شاہد حمید ورک بھی موجود تھے۔ وزیر بلدیات نے افسران کو ہدایت کی کہ جلوسوں کے دوران کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور عوامی تحفظ کو ہر صورت مقدم رکھا جائے۔

  • ڈیرہ غازی خان: یوم عاشور پر 11 ہزار اہلکار تعینات، سیکیورٹی ریڈ الرٹ

    ڈیرہ غازی خان: یوم عاشور پر 11 ہزار اہلکار تعینات، سیکیورٹی ریڈ الرٹ

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹرجواداکبر) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایات پر ڈیرہ غازی خان ریجن میں 10 محرم الحرام یومِ عاشور کے موقع پر سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) کیپٹن (ر) سجاد حسن خان کی سربراہی میں جاری کیے گئے ریڈ الرٹ پلان کے تحت چاروں اضلاع میں مجموعی طور پر 449 روایتی اور لائسنس یافتہ جلوس اور 481 مجالس کی حفاظت کے لیے غیر معمولی سیکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق سیکیورٹی پلان کے تحت 40 ڈی ایس پیز، 79 انسپکٹرز، 446 سب انسپکٹرز سمیت 11 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکاران تعینات کیے گئے ہیں، جب کہ امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے پولیس کے ہمراہ پاک فوج اور رینجرز کے دستے بھی فیلڈ میں موجود ہیں۔ ایلیٹ فورس، کوئیک ریسپانس فورس، پنجاب کانسٹیبلری، ہائی وے پٹرول، اور 2943 رضاکار (Volunteers) بھی سیکیورٹی ڈیوٹی میں معاونت کر رہے ہیں۔

    آر پی او کیپٹن (ر) سجاد حسن خان خود فیلڈ میں موجود ہیں اور حساس امام بارگاہوں، مجالس اور مرکزی جلوسوں کے روٹس پر سیکیورٹی اقدامات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔ ان کے احکامات پر تمام اضلاع میں جلوس کے راستوں پر آنے والی گلیوں اور سڑکوں کو خاردار تاروں اور بیریئرز کے ذریعے مکمل سیل کر دیا گیا ہے، جب کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ اور اسپیشل برانچ کے ذریعے سکریننگ اور سکیننگ کا عمل بھی جاری ہے۔

    ریجن بھر میں 1290 سی سی ٹی وی کیمروں، سرویلنس گاڑیوں اور ڈرون کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے۔ جلوس کے راستوں پر موجود بلند عمارتوں پر سنائپرز تعینات کیے گئے ہیں، اور سادہ لباس اہلکاروں کو بھی سول پوشاک میں ڈیوٹی پر مامور کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی پر فوری ردِ عمل ممکن ہو۔

    بین الصوبائی سرحدوں اور چیک پوسٹوں کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر سخت سیکیورٹی چیکنگ اور جدید سائنسی طریقہ کار کے تحت اسکیننگ کا عمل جاری ہے۔

    آر پی او نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ تمام ضلعی پولیس سربراہان خود فیلڈ میں موجود رہیں اور سیکیورٹی پلان پر سو فیصد عمل درآمد یقینی بنائیں۔ انہوں نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، اسلحہ کی نمائش، لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی یا کسی بھی قانون شکنی پر بلاتفریق فوری کارروائی کے احکامات دیے ہیں۔ سپروائزری افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کو حساسیت سے آگاہ کرتے ہوئے مکمل بریفنگ دیں، اور طے شدہ معاہدوں، روٹس اور اوقات کی مکمل پابندی کو یقینی بنائیں۔

    یومِ عاشور کے موقع پر امن و امان کی فضا کو قائم رکھنے کے لیے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر متحرک اور الرٹ ہیں۔

  • اوکاڑہ : 9 محرم الحرام کا فلیگ مارچ، فول پروف سیکیورٹی انتظامات مکمل

    اوکاڑہ : 9 محرم الحرام کا فلیگ مارچ، فول پروف سیکیورٹی انتظامات مکمل

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) اوکاڑہ میں 9 محرم الحرام کے موقع پر امن و امان کے قیام اور شہریوں میں احساسِ تحفظ پیدا کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے فلیگ مارچ کا انعقاد کیا گیا۔ فلیگ مارچ کی قیادت ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) راشد ہدایت اور ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے کی، جب کہ رینجرز، ضلعی انتظامیہ، پی ای آر اے فورس، ایلیٹ فورس، ریسکیو 1122 اور ٹریفک پولیس کے دستے بھی شریک ہوئے۔

    مارچ ضلع کونسل سے شروع ہو کر ایم اے جناح روڈ، تحصیل روڈ، بے نظیر روڈ، گول چوک اور مین بازار سمیت شہر کے مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا ڈسٹرکٹ کمپلیکس پر اختتام پذیر ہوا۔ فلیگ مارچ کا مقصد 9 اور 10 محرم الحرام کے دوران شہریوں کو پرامن ماحول فراہم کرنا اور دہشت گردی یا شرپسندی کے کسی بھی خدشے کو ختم کرنا تھا۔

    ڈی پی او راشد ہدایت نے کہا کہ محرم کے جلوسوں اور مجالس کے لیے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔ 9 محرم کو ضلع بھر میں 26 عزاداری کے جلوس اور 66 مجالس کا انعقاد متوقع ہے، جن کی سیکیورٹی کے لیے 1200 سے زائد پولیس افسران اور جوان تعینات کیے گئے ہیں۔ جلوس کے راستوں کو قناتیں اور خاردار تاریں لگا کر مکمل طور پر سیل کر دیا جائے گا، جب کہ ریزرو نفری اور کیو آر ایف (کِک رسپانس فورس) کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔

    ڈی سی احمد عثمان جاوید کا کہنا تھا کہ ضابطہ اخلاق کی مکمل پابندی یقینی بنائی جائے گی، اور کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے شہریوں سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ امن کے دشمنوں کو ناکام بنانے کے لیے انتظامیہ اور عوام کا اشتراک ضروری ہے۔

  • ڈی جی خان سمیت ملک بھرمیں 6 اور 7 جولائی کو شدید بارشیں، اربن فلڈ کا الرٹ، بلوچستان ،نالوں میں طغیانی

    ڈی جی خان سمیت ملک بھرمیں 6 اور 7 جولائی کو شدید بارشیں، اربن فلڈ کا الرٹ، بلوچستان ،نالوں میں طغیانی

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹرجواداکبر) محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 6 اور 7 جولائی کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں شدید موسلادھار بارشوں کا امکان ہے جس کے نتیجے میں مقامی ندی نالوں میں طغیانی، شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ اور دیگر خطرناک صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بالخصوص مری، گلیات، مانسہرہ، کوہستان، ایبٹ آباد، چترال، دیر، سوات، شانگلہ، بونیر، نوشہرہ، صوابی، مردان، اسلام آباد، راولپنڈی، ڈی جی خان، شمال مشرقی پنجاب، کشمیر اور بلوچستان کے علاقوں میں شدید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے، جہاں برساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ بڑھ چکا ہے۔

    شہری علاقوں میں اسلام آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، سرگودھا، فیصل آباد، نوشہرہ اور پشاور جیسے نشیبی علاقے شدید بارشوں سے متاثر ہو سکتے ہیں اور ان کے زیر آب آنے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ شہریوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ نشیبی علاقوں سے گریز کریں اور اپنی حفاظت کے لیے حفاظتی اقدامات بروقت مکمل کریں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ہفتے کے روز ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور حبس زدہ رہنے کا امکان ہے، تاہم کشمیر، شمال مشرقی پنجاب، خطہ پوٹھوہار، بالائی خیبر پختونخوا، جنوب مشرقی سندھ اور شمال مشرقی و جنوبی بلوچستان میں بعض مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان بھی موجود ہے۔ رات کے وقت ان علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اتوار کے روز بھی صورتحال کم و بیش ایسی ہی رہے گی اور کشمیر، وسطی و بالائی پنجاب، خیبر پختونخوا، جنوب مشرقی سندھ اور بلوچستان کے کئی علاقے بارشوں کی لپیٹ میں رہیں گے۔

    بلوچستان میں مون سون کا دوسرا اسپیل شروع ہو چکا ہے، جہاں بارکھان، کوہلو اور خضدار میں موسلادھار بارشوں سے جل تھل ہو گیا ہے۔ گزشتہ رات سے اب تک بارکھان میں 17 ملی میٹر اور خضدار میں 6 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ 4 سے 8 جولائی تک صوبے کے 20 اضلاع میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ ان بارشوں کے نتیجے میں ندی نالوں میں طغیانی اور اربن فلڈنگ کا شدید خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں اب تک بلوچستان میں آبی ریلوں اور آسمانی بجلی گرنے سے 6 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جب کہ خضدار اور زیارت میں ایک درجن سے زائد مکانات زمین بوس ہو چکے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے نے اس صورتحال پر فوری ردعمل دیتے ہوئے متعلقہ اضلاع میں امدادی سامان روانہ کر دیا ہے اور اپنے عملے کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ شہریوں کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ندی نالوں، ڈیمز اور پکنک پوائنٹس سے دور رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں، خاص طور پر سیاحوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ محفوظ علاقوں میں رہیں اور موسم کی صورت حال پر نظر رکھیں۔ اگرچہ ملک کے بیشتر علاقوں میں گرمی اور مرطوب موسم جاری ہے، تاہم کئی مقامات پر گرج چمک اور بارش سے وقتی ریلیف مل رہا ہے۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسلام آباد سیدپور میں سب سے زیادہ 75 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، راولپنڈی کے شمس آباد اور کچہری میں 28 ملی میٹر، لاہور میں 1 ملی میٹر، شیخوپورہ 9، سیالکوٹ 5، چکوال 4، کوٹلی 14، مظفرآباد 7، بالاکوٹ 9، قلات 7 اور مٹھی 2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ درجہ حرارت کے لحاظ سے نوکنڈی میں سب سے زیادہ 47 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ چلاس، سبی، جیکب آباد اور دالبندین میں درجہ حرارت 45 سے 46 ڈگری تک رہا۔

    حکام نے ایک بار پھر عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں، تاکہ کسی بھی جانی یا مالی نقصان سے بچا جا سکے۔ طغیانی، سیلابی ریلے، بجلی گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے خطرات اس وقت حقیقی موجود ہیں، لہٰذا ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اور دوسروں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔

  • میرپورخاص: کرنل (ر) ڈاکٹر سید محمد علمدار رضا نے چیئرمین تعلیمی بورڈ کا چارج سنبھال لیا

    میرپورخاص: کرنل (ر) ڈاکٹر سید محمد علمدار رضا نے چیئرمین تعلیمی بورڈ کا چارج سنبھال لیا

    میرپورخاص (باغی ٹی وی، نامہ نگار سید شاہزیب شاہ) ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ میرپورخاص کے نئے چیئرمین کرنل (ر) ڈاکٹر سید محمد علمدار رضا نے اپنے عہدے کا باضابطہ چارج سنبھال لیا ہے۔ چیئرمین کی بورڈ آمد کے موقع پر کنٹرولر امتحانات انجینئر انور علیم خانزادہ راجپوت، سیکریٹری نوید شمشیر اور بورڈ کے دیگر افسران نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

    اس موقع پر بورڈ آفس میں سادہ مگر پُروقار تقریب منعقد کی گئی، جہاں بورڈ کے عملے اور افسران نے نئے چیئرمین کو خوش آمدید کہا اور تعلیمی میدان میں بہتری لانے کے لیے ان کی رہنمائی اور قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا۔

    ذرائع کے مطابق کرنل (ر) ڈاکٹر سید محمد علمدار رضا تعلیمی نظم و نسق اور انتظامی امور میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں، اور توقع کی جا رہی ہے کہ ان کی سربراہی میں میرپورخاص بورڈ میں اصلاحات، شفافیت اور معیارِ تعلیم کو فروغ حاصل ہوگا۔

  • جب زمین بھی روئی اور آسمان خاموش ہو گیا

    جب زمین بھی روئی اور آسمان خاموش ہو گیا

    جب زمین بھی روئی اور آسمان خاموش ہو گیا (9محرم)
    تحریر:سید ریاض حسین جاذب
    کربلا میں نو محرم کا سورج صرف روشنی نہیں، ایک اعلان تھا، یہ آخری دن ہے۔ یہ سورج افق پر نہیں، دلوں پر طلوع ہوا۔ اپنے ساتھ وہ سائے لے کر آیا جن کا نام فراق، پیاس اور وداع تھا۔ کربلا کی ریت تپ رہی تھی لیکن اس دن جو سورج طلوع ہوا، وہ صرف گرمی نہ لایا… وہ فیصلے کا سورج تھا، وہ آزمائش کی تپش تھا، وہ تاریخ کے عظیم ترین امتحان کا آغاز تھا۔

    جب خیموں پر سائے چھوٹے ہونے لگے اور خطرہ بڑا ہوتا چلا گیا۔ جب بچوں کے لب خشک، ماؤں کی آنکھیں نم اور جوانوں کی پیشانیاں وضو کے پانی سے نہیں بلکہ آنسوؤں سے تر تھیں۔ یہ سورج عباسؑ کی بصیرت پر پڑا، جو خیموں کے گرد پہرہ دے رہے تھے۔ یہ سورج زینبؑ کے آنچل پر پڑا، جو جانتی تھیں کہ اب حجاب کی آخری ساعتیں ہیں۔ یہ سورج سکینہؑ کے چہرے پر پڑا، جس کے ہونٹوں پر پیاس سے زیادہ ایک ہی سوال تھا: "بابا! کل ہم کہاں ہوں گے؟”

    نو محرم کی صبح عمر بن سعد نے لشکر کو تیار رہنے کا حکم دیا۔ خیموں کے گرد گھیرا مزید تنگ ہو گیا۔ اب لشکر کی تلواریں خیموں کی دیواروں کے سائے میں چمکنے لگیں۔ جیسے ظلم، خامشی کے پردے میں چلنے لگا ہو۔ حضرت عباسؑ گھوڑے پر سوار ہوئے، دشمن کے قریب پہنچے اور للکار کر پوچھا: "کس نیت سے آئے ہو؟” جواب آیا: "ہم جنگ کا آغاز کرنے آئے ہیں!” عباسؑ واپس امام حسینؑ کے پاس آئے اور امامؑ نے فقط ایک بات کہی: "بھیا، اُن سے کہو… ہمیں ایک رات کی مہلت دے دو!” یہ رات، عبادت کی رات تھی، رخصتی کی رات تھی، زندگی کا آخری چراغ تھی۔ ایک ایسی رات جس میں سجدوں کی نمی، رخصتی کے آنسو اور تقدیر کے فیصلے جمع تھے۔

    شام ڈھلنے لگی۔ قافلۂ حسینؑ کے چراغ روشن ہوئے اور خیموں میں تلاوتِ قرآن، دعائیں، اذانیں اور نالے بلند ہونے لگے۔ ہر سانس کے ساتھ لگتا تھا جیسے موت قریب آ رہی ہو، مگر خیموں میں کوئی خوف نہیں تھا۔ امامؑ نے سب اصحاب کو جمع کیا، اور کہا "کل میرے ساتھ رہنے والوں کی گردنیں کٹیں گی۔ تم سب چلے جاؤ۔ میں تمہیں رخصت کرتا ہوں!” مگر ہر زبان سے ایک ہی جواب آیا: "اے فرزندِ رسولؐ! ہم آپ کے بعد کیسے زندہ رہ سکتے ہیں؟” یہ جملہ صرف وفاداری نہیں، عشق کی زبان تھا۔ حضرت عباسؑ خاموشی سے خیموں کے گرد چکر لگاتے رہے… ہر خیمے کا در کھٹکھٹاتے، زینبؑ کے خیمے کے سامنے رک جاتے… اور صرف دل ہی دل میں کہتے: "کل اگر میں نہ رہوں، تو یہ خیمے کیسے محفوظ رہیں گے؟” اُن کے چہرے پر کوئی خوف نہ تھا، صرف فرض، غیرت اور اہلِ حرم کا تحفظ تھا۔

    رات گہری ہوئی… سکینہؑ امام حسینؑ کے سینے پر سوئی ہوئی تھی، مگر نیند بے چین تھی۔ اس معصوم بچی کے چہرے پر وہ پیاس لکھی تھی جو نہ صرف جسمانی تھی بلکہ دل کی بےچینی کا اظہار بھی۔ زینبؑ نے بھائی سے پوچھا: "کیا کل علی اکبرؑ بھی جائیں گے؟” امام خاموش ہو گئے۔ صرف آنکھ سے ایک آنسو گرا اور زمینِ کربلا نے اُسے اپنے سینے میں چھپا لیا۔ کوئی جواب نہ آیا، مگر خاموشی میں وہ صدمہ چھپا تھا جسے صرف بہنیں سمجھ سکتی ہیں۔

    کربلا میں نو محرم کا سورج صرف دن نہ تھا، وہ چراغوں کا الوداع تھا، وہ عباسؑ کی پہرہ داری کا آخری دن، وہ سکینہؑ کی گود کا آخری سایہ، وہ زینبؑ کی چادر کی آخری بے فکری اور حسینؑ کے لبوں پر "رضاً بقضائک” کی آخری مہک تھا۔ وہ دن جب حسینؑ نے خالق سے کہا: "اے پروردگار! اگر یہی تیرا فیصلہ ہے تو ہمیں قبول ہے!”، یہ وہ عزم تھا جسے میدانِ کربلا میں کسی تلوار نے نہیں توڑا، کسی نیزے نے جھکایا نہیں۔

    یہ سورج وہ سوال لے کر آیا جو آج بھی زندہ ہے، جب سچ تنہا رہ جائے، جب ظلم چاروں طرف ہو، جب وقت کا حسینؑ پکارے… تو کیا تم اُس کے ساتھ کھڑے ہو گے؟ کیا تم سکینہؑ کے سوال کا جواب دے سکو گے؟ کیا تم زینبؑ کی چادر بچانے کی ہمت رکھتے ہو؟

    اسی شبِ عاشور، امام حسینؑ نے اپنے خیمے کے باہر تمام اصحاب اور اہلِ بیت کو جمع کیا۔ خیموں کے چراغ مدھم ہو رہے تھے، مگر حسینؑ کا لہجہ مثلِ آفتاب روشن تھا۔ انہوں نے فرمایا: "میں تمہیں رخصت کرتا ہوں۔ یہ اندھیری رات ہے، جسے جانا ہے، چلا جائے۔ میں اپنی بیعت تم سے اٹھاتا ہوں۔ کل میرے ساتھ ہر وہ شخص مارا جائے گا جو میرے ساتھ رہے گا۔” مگر جواب میں ہر طرف سے ایک صدا آئی: "ہم آپ کے ساتھ جینے نہیں، صرف مرنے کے لیے آئے ہیں۔” یہ وہ رات تھی جب وفا نے تاریخ کی سب سے روشن قسم کھائی کہ کل سورج کربلا سے ڈوبے گا، مگر حسینؑ کا کارواں حق کی روشنی بن کر رہ جائے گا۔