Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ننکانہ صاحب میں چیمبر آف کامرس کا باضابطہ افتتاح

    ننکانہ صاحب میں چیمبر آف کامرس کا باضابطہ افتتاح

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ننکانہ صاحب کی کاروباری برادری کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوئی ہے، جہاں ضلع میں پہلی بار چیمبر آف کامرس کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا۔ افتتاحی تقریب میں یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے سرپرست اعلیٰ اور ممتاز صنعتکار ایس ایم تنویر، سیکرٹری جنرل ظفر بختاوری، اور ملک بھر سے آنے والے کاروباری نمائندوں نے شرکت کی۔

    تقریب کے مہمانانِ خصوصی میں محمد عارف (چکوال چیمبر)، کاشف کھوکھر (صدر قصور چیمبر)، ملک محمد شبیر (صدر تلہ گنگ چیمبر)، راجا امتیاز عباسی (صدر مری چیمبر)، منظور الحق (شیخوپورہ چیمبر)، اور عبدالراؤف مختار (رحیم یار خان چیمبر) سمیت ملک بھر کے اہم تاجر و صنعتکار شامل تھے۔ اس موقع پر میاں ندیم جالندھری نے اپنے ساتھیوں سمیت یو بی جی میں شمولیت کا اعلان کیا۔

    ایس ایم تنویر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر حکومت شرح سود 11 فیصد سے کم کر کے 6 فیصد کرے تو سالانہ 3.5 ٹریلین روپے بچائے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے ننکانہ صاحب کو نہ صرف ایک مذہبی مقام بلکہ ایک ممکنہ Geo-Economic Hub قرار دیتے ہوئے تجویز دی کہ یہاں صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں، جن سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

    ظفر بختاوری نے چیمبر آف کامرس کو ایک فعال اور مضبوط ادارہ بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور اس کی مستقل عمارت کی جلد تعمیر کی نوید دی۔ انہوں نے چیمبر کے صدر میاں ندیم جالندھری اور ان کی ٹیم کو مکمل تعاون فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا۔

    مقررین نے کہا کہ چیمبر آف کامرس کے قیام سے مقامی صنعت، زراعت، اور خاص طور پر چاول، دودھ اور دیگر دیہی مصنوعات کو قومی و عالمی منڈیوں میں متعارف کروانے میں مدد ملے گی۔ اس پلیٹ فارم سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ علاقے میں معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔

    تقریب کے اختتام پر مہمانوں کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں اور بعد ازاں تمام تاجر نمائندوں نے بابا گورو نانک کے جنم استھان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے حکومتِ پاکستان کی تزئین و آرائش کی کوششوں کو سراہا۔

    یہ اقدام ننکانہ صاحب کے معاشی افق پر ایک روشن باب کا آغاز ثابت ہوگا۔

  • ڈسکہ: واپڈا کی غفلت سے کھمبے میں کرنٹ، تین کم سن بچے زخمی، ایک کی حالت تشویشناک

    ڈسکہ: واپڈا کی غفلت سے کھمبے میں کرنٹ، تین کم سن بچے زخمی، ایک کی حالت تشویشناک

    ڈسکہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک عمران)محکمہ واپڈا کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی کے باعث ڈسکہ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں بارش کے دوران بجلی کے کھمبے میں کرنٹ آنے سے تین کم سن بچے زخمی ہو گئے۔ ایک بچے کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جسے لاہور ریفر کر دیا گیا ہے۔

    یہ افسوسناک واقعہ تھانہ سٹی ڈسکہ کے علاقہ محلہ رائے والہ، گلہ بابا بھولا پیر میں اس وقت پیش آیا جب بارش کے باعث گلی میں نصب بجلی کے کھمبے میں کرنٹ آ گیا۔ اسی دوران وہاں سے گزرنے والے تین کم سن بچے — 13 سالہ احمد، 10 سالہ عمران، اور 12 سالہ اکرم — کرنٹ لگنے سے جھلس گئے۔

    زخمی بچوں کو فوری طور پر سول ہسپتال ڈسکہ منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد 10 سالہ عمران اور 12 سالہ اکرم کو ڈسچارج کر دیا گیا، تاہم 13 سالہ احمد کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث اسے لاہور ریفر کر دیا گیا۔ متاثرہ بچے احمد کا تعلق گورنمنٹ ہائی سکول ڈسکہ سے ہے، اور وہ ساتویں جماعت کا طالبعلم ہے۔

    احمد کے والد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک غریب محنت کش ہے، چاند گاڑی چلا کر روزی کماتا ہے اور کرایہ کے مکان میں رہائش پذیر ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ بیٹے کے مہنگے علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا۔

    واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، والدین نے بچوں کو گھروں سے نکلنے سے روک دیا ہے، جبکہ مکین سخت اضطراب کا شکار ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ محکمہ واپڈا کی سنگین غفلت اس واقعے کی بنیادی وجہ ہے، کیونکہ برسات کے موسم سے قبل کھمبوں کو ارتھ نہیں لگایا گیا تھا۔

    علاقہ مکینوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام محلوں میں لگے بجلی کے کھمبوں کو فوری طور پر ارتھ لگایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔ شہریوں نے واپڈا کے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

  • بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوام کی پریشانیاں

    بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوام کی پریشانیاں

    بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوام کی پریشانیاں
    تحریر:ملک ظفراقبال
    آج ہر خاص و عام کی زبان پر ایک ہی جملہ ہے کہ "مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آ چکا ہے”، جسے قابو کرنا اب ناممکن نظر آتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ وہ مافیاز ہیں جو ہر دور میں حکومتی اقدامات کو چیلنج کرتے آئے ہیں، اور نتیجتاً عوام کو لوٹنے کا یہ عمل تسلسل سے جاری ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ان عناصر کو اکثر حکومتی سرپرستی بھی حاصل رہی ہے۔

    مثال کے طور پر، ایک قصاب 800 روپے کی بجائے 1100 روپے میں گوشت فروخت کرتا ہے، جو سرکاری نرخ سے 300 روپے زیادہ ہے۔ سرکاری ادارے صرف 500 روپے کا چالان کرکے خانہ پری کر لیتے ہیں، اور قصاب محفوظ ہاتھوں سے اپنی مرضی سے کاروبار کرتا رہتا ہے۔ گویا جرمانہ ایک رسمی کارروائی بن کر رہ گیا ہے، جو ملی بھگت کا ایک خوبصورت مظہر ہے۔ عوام کو گویا اس بدعنوان نظام کو برداشت کرنے کا عادی بنایا جا رہا ہے۔

    مہنگائی محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایسا ناسور ہے جو غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ رہا ہے۔ بجلی، گیس، پانی کے بل ہوں یا روزمرہ اشیاء کی قیمتیں، سب کچھ آسمان کو چھو رہا ہے۔ رہی سہی کسر ناجائز ٹیکسوں نے پوری کر دی ہے، جس سے عوام شدید اضطراب کا شکار ہیں۔

    بلوں کا بوجھ اور ٹیکسوں کی بھرمار سے ہر پاکستانی شہری سر پکڑ کر بیٹھ گیا ہے۔ 200 سے 201 یونٹ بجلی استعمال کرنے پر اسپیشل اضافی چارجز، گرمیوں میں طویل لوڈشیڈنگ اور اوپر سے بجلی پر الگ سے ٹیکس، عوام کے لیے سوہان روح بن چکا ہے۔ گیس کے نرخوں میں ہوشربا اضافے نے سردیوں میں گزارا ناممکن کر دیا ہے۔

    حکومت کی جانب سے لگائے گئے مختلف قسم کے ٹیکس، جن میں سے کئی غیر ضروری اور ناجائز محسوس ہوتے ہیں، عوام پر اضافی بوجھ کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ تنخواہ دار طبقہ ہو یا چھوٹے تاجر، ہر کوئی اپنی آمدنی کا بڑا حصہ ان بلوں اور ٹیکسوں کی ادائیگی میں جھونکنے پر مجبور ہے۔ اس پر فائلر اور نان فائلر کا مضحکہ خیز تماشا عوام کے ساتھ مزید ناانصافی ہے۔

    مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو جہنم بنا دیا ہے۔ قوت خرید اس حد تک کم ہو چکی ہے کہ دال، سبزی، آٹا، چینی، گھی جیسی بنیادی اشیاء بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ بچوں کی تعلیم، صحت اور روزمرہ ضروریات پوری کرنا ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ والدین نہ بچوں کو اچھے اسکول میں پڑھا سکتے ہیں، نہ بیماری کی صورت میں مہنگا علاج کرا سکتے ہیں۔

    روزگار کے مواقع پہلے ہی محدود ہیں، اور مہنگائی نے زندگی کو مزید اجیرن بنا دیا ہے۔ لوگ قرض لے کر گھر کا چولہا جلا رہے ہیں، اور مالی مشکلات دگنی ہو گئی ہیں۔ اس ساری صورتِ حال کے برعکس، سرکاری سطح پر پروٹوکول اور عیاشیاں ویسے ہی جاری و ساری ہیں، جو عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

    مہنگائی کا براہ راست اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔ جب عوام کی قوتِ خرید ختم ہوتی ہے تو مارکیٹ میں کاروبار ٹھپ ہو جاتے ہیں۔ چھوٹے کاروباری دیوالیہ ہو رہے ہیں، اور بڑے سرمایہ کار بھی سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں۔ بے روزگاری میں اضافہ ایک سنگین سماجی مسئلہ بن چکا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ کئی بڑی صنعتیں پاکستان سے بنگلہ دیش منتقل ہو رہی ہیں۔

    یہ وقت کی پکار ہے کہ حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ بیانات سے کام نہیں چلے گا، اب عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے ناجائز ٹیکسوں کا خاتمہ کیا جائے، بجلی و گیس کے بلوں میں ریلیف دیا جائے، اور ذخیرہ اندوزوں و منافع خوروں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے کارروائی کی جائے۔

    حکومت کو ایسی پالیسیاں وضع کرنی ہوں گی جن سے عام آدمی کی قوت خرید بحال ہو، اور وہ مہنگائی کے اس بوجھ سے نجات پا سکے۔ زراعت اور صنعت کو فروغ دے کر روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ یہی عوامی ریلیف ملکی معیشت کے استحکام اور سماجی ہم آہنگی کی ضمانت ہو سکتی ہے۔

    عوام مہنگائی کے عفریت سے نجات چاہتے ہیں۔ یہ حکومتِ وقت کی آئینی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی چیخ و پکار سنے، اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ بصورت دیگر یہ سنگین مسئلہ سیاسی و سماجی انتشار کو جنم دے سکتا ہے، جس کے نتائج کسی کے قابو میں نہیں رہیں گے۔

  • سیالکوٹ: محرم الحرام کے انتظامات کا جائزہ، منشاء اللہ بٹ اور فیصل اکرام کا دورہ،

    سیالکوٹ: محرم الحرام کے انتظامات کا جائزہ، منشاء اللہ بٹ اور فیصل اکرام کا دورہ،

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی، صفائی و دیگر انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے اراکین صوبائی اسمبلی محمد منشاء اللہ بٹ اور چودھری فیصل اکرام نے ساتویں محرم کے روز مرکزی امام بارگاہ مستری عبداللہ اور امام بارگاہ اڈہ پسروریاں کا دورہ کیا۔ انہوں نے جلوسوں کے روٹس، روشنی، نکاسی آب، ریسکیو خدمات، سیکیورٹی اور دیگر متعلقہ امور کا موقع پر جائزہ لیا اور منتظمین سے انتظامات پر تبادلہ خیال کیا۔

    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اراکین اسمبلی نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں صوبہ بھر میں امن و امان، بین المذاہب ہم آہنگی اور بھائی چارے کو فروغ دینے کے لیے تاریخی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ یکم سے 10 محرم تک دفعہ 144 نافذ ہے تاکہ کسی بھی قسم کی شرانگیزی، لاؤڈ اسپیکر کے غلط استعمال اور اسلحے کی نمائش کی مؤثر روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

    محمد منشاء اللہ بٹ نے بتایا کہ محرم کے دوران صوبے بھر میں سیکیورٹی اداروں کے 79 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں، جبکہ 38 ہزار 375 مجالس و جلوسوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔ حساس مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں اور صفائی، روشنی، نکاسی آب، ایمبولینس اور ریسکیو خدمات کو فعال رکھا گیا ہے۔ افواہوں اور فیک نیوز کی روک تھام کے لیے کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے جبکہ جلوسوں کے راستوں پر ڈرون کیمروں کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    دونوں اراکین اسمبلی نے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور ریسکیو اداروں کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ تمام ادارے شاندار کوآرڈینیشن سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے منتظمین کو یقین دلایا کہ حکومت پنجاب کے احکامات کے مطابق عوامی نمائندے ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے تاکہ محرم الحرام کے ایام پُرامن، باوقار اور منظم انداز میں مکمل کیے جا سکیں۔

    اراکین اسمبلی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم رکھیں، افواہوں پر کان نہ دھریں، 9 اور 10 محرم کے جلوسوں کے متبادل ٹریفک پلان پر عمل کریں اور پولیس و انتظامیہ سے مکمل تعاون کریں تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

  • واربرٹن: شہزادہ قاسم کی مہندی کا مرکزی جلوس،سیکیورٹی کے سخت انتظامات

    واربرٹن: شہزادہ قاسم کی مہندی کا مرکزی جلوس،سیکیورٹی کے سخت انتظامات

    واربرٹن (باغی ٹی وی،نامہ نگارعبدالغفار چوہدری) شہزادہ قاسم کی مہندی کا مرکزی جلوس،سیکیورٹی کے سخت انتظامات

    ساتویں محرم الحرام کے موقع پر شہزادہ قاسم کی مہندی کا مرکزی جلوس برمکان سید عارف حسین نقوی، چیف آرگنائزر انجمن جعفریہ واربرٹن سے برآمد ہوا۔ جلوس گلی عزت شاہ پہنچا تو خان برادران کی جانب سے مجلس عزا کا انعقاد کیا گیا جہاں معروف عالم دین علامہ محمد علی حسنین آف مدینہ منورہ نے خطاب کرتے ہوئے واقعہ کربلا کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ امام حسینؑ کی لازوال قربانی نے اسلام کو حیاتِ نو بخشی۔

    جلوس کی قیادت انجمن جعفریہ واربرٹن کے صدر سید نافع طاہر بخاری نے کی، جبکہ جنرل سیکرٹری سید آصف علی کاظمی سمیت دیگر منتظمین مجلس و جلوس نے بھرپور شرکت کی۔ میونسپل کمیٹی واربرٹن کے سی او میاں مبین خالد کی خصوصی ہدایات پر جلوس کے تمام مقررہ راستوں کی صفائی، روشنی اور پانی کی سبیلوں کا اعلیٰ انتظام کیا گیا۔ جلوس میں شریک عزاداروں کے لیے ٹھنڈے اور میٹھے پانی کی سبیلیں لگائی گئیں جن سے عزاداروں نے استفادہ کیا۔

    جلوس کی سیکیورٹی کے لیے تھانہ واربرٹن کے ایس ایچ او مجاہد عباس ملہی کی سربراہی میں فول پروف انتظامات کیے گئے۔ جلوس کے راستوں اور ملحقہ گلیوں کو قناعتیں لگا کر سیل کیا گیا اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا۔ ہر آنے والے عزادار کی چیکنگ بھی کی گئی تاکہ امن و امان کی فضا قائم رکھی جا سکے۔

    جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا مرکزی امام بارگاہ جعفریہ پہنچ کر بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔

  • میرپور ماتھیلو: مال بردار ٹرین کا انجن اور چار بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، متعدد ٹرینیں متاثر، اپ ٹریک بحال

    میرپور ماتھیلو: مال بردار ٹرین کا انجن اور چار بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، متعدد ٹرینیں متاثر، اپ ٹریک بحال

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی رپورٹ)میرپور ماتھیلو کے قریب مال بردار ٹرین کا انجن اور چار بوگیاں اچانک ٹریک سے اتر گئیں، جس کے باعث اپ اور ڈاؤن ریل ٹریک بند کر دیے گئے، اور متعدد مسافر ٹرینیں مختلف اسٹیشنوں پر روک دی گئیں۔ حادثہ اُس وقت پیش آیا جب پنجاب سے کراچی جانے والی مال گاڑی گھوٹکی کے قریب پہنچی تو اس کی بوگیاں انجن سے الگ ہو کر پٹری سے اتر گئیں، جبکہ حادثے کے مقام پر ٹریک بھی اکھڑ گیا۔

    ریلوے حکام کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی روہڑی سے ریلیف ٹرین طلب کر لی گئی اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ اپ اور ڈاؤن ٹریک کی بندش کے باعث مسافر ٹرینوں کو مختلف مقامات پر روک دیا گیا، جن میں:

    عوام ایکسپریس کو لیاقت پور ریلوے اسٹیشن،پاک بزنس ٹرین کو صادق آباد،قراقرم ایکسپریس کو ولہار،کراچی ایکسپریس کو خان پور،ملتان جانے والی ذکریا ایکسپریس کو سانگھی،لاہور جانے والی تیزگام ایکسپریس کو گھوٹکی،لاہور جانے والی فرید ایکسپریس کو روہڑی اسٹیشن شامل ہیں۔ تیز گام ایکسپریس 7 گھنٹے 30 منٹ جبکہ فرید ایکسپریس 6 گھنٹے کی تاخیر کا شکار ہوئی۔

    ریلوے انتظامیہ کے مطابق ٹریک کی بحالی کا کام جاری ہے، اور کراچی سے پنجاب جانے والی اپ ٹریک بحال کر دی گئی ہے، جس پر ریلوے آپریشن جزوی طور پر بحال ہو چکا ہے۔ اسٹیشن ماسٹر کے مطابق ڈاؤن ٹریک کی مرمت اور بحالی کا کام تیز رفتاری سے جاری ہے اور جلد مکمل ہونے کی توقع ہے۔

    علاوہ ازیں شاہ حسین ایکسپریس کو اپ اور ڈاؤن دونوں روٹس پر معطل کر دیا گیا ہے۔

    ریلوے ذرائع کے مطابق حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے انکوائری کا عمل بھی جلد شروع کیا جائے گا۔

  • سیالکوٹ: محرم سیکیورٹی کیلئے کنٹرول روم 24/7 فعال، ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی

    سیالکوٹ: محرم سیکیورٹی کیلئے کنٹرول روم 24/7 فعال، ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر مدثر رتو)ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی نے کہا ہے کہ محرم الحرام کے دوران ضلع بھر میں امن و امان برقرار رکھنے اور فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے ڈی سی آفس میں قائم کنٹرول روم چوبیس گھنٹے فعال ہے، جو ڈی پی او آفس اور محکمہ داخلہ پنجاب کے مرکزی سسٹم سے منسلک ہے۔

    یہ بات انہوں نے دفتر ڈپٹی کمشنر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو اقبال سنگھیڑا اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ایوب بخاری بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

    ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ کنٹرول روم میں سیف سٹی کے 263 کیمروں کے علاوہ مزید 100 کیمرے بھی نصب کیے گئے ہیں تاکہ مجالس اور ماتمی جلوسوں کی مانیٹرنگ بہتر انداز میں کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے، جس کے تحت ڈرون کیمروں کے استعمال پر پابندی عائد ہے، اور سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں ایک شخص کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے اور ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

    صبا اصغر علی نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے محرم کے دوران 23 سبیلیں قائم کی جا رہی ہیں جبکہ 5 موبائل ٹوائلٹس بھی ماتمی جلوسوں کے ساتھ متحرک ہوں گے۔ انہوں نے میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ میڈیا امن و امان برقرار رکھنے میں اہم شراکت دار ہے، اور انتظامات میں اگر کوئی کمی ہو تو اس کی نشاندہی کی جائے تاکہ فوری اصلاح کی جا سکے۔

    ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ تمام مجالس و جلوسوں کے منتظمین سے ضلعی انتظامیہ مسلسل رابطے میں ہے۔ محکمہ صحت کی کلینک آن ویلز سروس، ریسکیو 1122 ٹیمیں، اور ستھرا پنجاب کے سینٹری ورکرز موقع پر موجود ہوں گے تاکہ صحت اور صفائی کے امور میں کوئی کوتاہی نہ ہو۔

    بعد ازاں میڈیا نمائندگان کو کنٹرول روم کا دورہ بھی کرایا گیا، جہاں انہیں سیکیورٹی اور مانیٹرنگ کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔

  • اوچ شریف: باکمال انجنیئرنگ اور بے مثال کرپشن، ایک ہی بارش میں سب کچھ بے نقاب

    اوچ شریف: باکمال انجنیئرنگ اور بے مثال کرپشن، ایک ہی بارش میں سب کچھ بے نقاب

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف میں حال ہی میں تعمیر کی گئی سڑک پہلی ہی بارش میں تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی، جس پر شہریوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ چوک بھٹہ روڈ موچی والی سولنگ تا کوٹلہ شیخاں تک نئی کارپٹ سڑک حالیہ بارشوں کے باعث جگہ جگہ سے بیٹھ گئی ہے، اور سڑک کناروں پر خطرناک گڑھے بن چکے ہیں۔

    مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ سڑک پر بننے والے گہرے کھڈے نہ صرف ٹریفک کی روانی کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ حادثات کا سبب بھی بن رہے ہیں۔ کئی موٹر سائیکل سوار اور گاڑیاں ان کھڈوں میں گر کر زخمی ہو چکے ہیں۔ عوام نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ ناقص تعمیرات ناقص میٹریل، کمیشن مافیا اور محکمہ ہائی وے کی غفلت کا نتیجہ ہیں۔

    شہریوں نے محکمہ ہائی وے کی غیر سنجیدگی اور سست روی پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کھڈوں کو پر کرنے کے لیے کوئی مستقل اور تکنیکی حل نہیں اپنایا جا رہا، جبکہ عملہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ بارشوں کے بعد سڑک پر پانی کھڑا ہونے سے صورتحال مزید خطرناک ہو گئی ہے۔

    مقامی رہائشیوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر مرمت نہ کی گئی تو یہ سڑک جان لیوا حادثات کا سبب بن سکتی ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام، منتخب نمائندگان اور محکمہ ہائی وے فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لیں، اور اس کی شفاف انکوائری کرا کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔

  • اوچ شریف: سول ڈیفنس کی سرپرستی میں خیرپور ڈاہا روڈ پر پٹرول بم نصب

    اوچ شریف: سول ڈیفنس کی سرپرستی میں خیرپور ڈاہا روڈ پر پٹرول بم نصب

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف کے نواحی علاقے خیرپور ڈاہا میں انسانی زندگیوں کو چند نوٹوں کے عوض داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔ غیر قانونی منی پٹرول پمپ، ایرانی اسمگل شدہ تیل کی کھلے عام فروخت، ناقص حفاظتی انتظامات، اور محکمہ سول ڈیفنس و انتظامیہ کی مجرمانہ خاموشی نے پورے علاقے کو خطرناک بارودی سرنگ میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں ہر لمحہ تباہی کی بو محسوس کی جا سکتی ہے۔

    ذرائع کے مطابق محکمہ سول ڈیفنس کے بعض افسران مبینہ طور پر بھاری رشوت کے عوض خاموشی کی قیمت وصول کر رہے ہیں۔ بغیر لائسنس، بغیر حفاظتی اقدامات، اور بغیر تربیت کے درجنوں فیول ایجنسیاں پٹرول اور ڈیزل کی فروخت میں مصروف ہیں۔ یہ تیل پلاسٹک کی بوتلوں، کھلے کینوں اور غیر معیاری برتنوں میں بیچا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف انسانی جانیں خطرے میں ہیں بلکہ پورے محلوں کو لمحوں میں راکھ میں تبدیل کرنے کا خدشہ موجود ہے۔

    ایرانی اسمگل شدہ تیل کے استعمال سے نہ صرف گاڑیوں کے انجن تباہ ہو رہے ہیں بلکہ عوام کو مہنگے داموں دھوکہ دہی سے تیل فروخت کیا جا رہا ہے۔ پیمانے میں کمی، معیار میں جعلسازی، اور قیمتوں میں من مانی معمول بن چکا ہے۔ اس کے باوجود پولیس، تحصیل انتظامیہ اور ضلعی افسران کی خاموشی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے:
    کیا یہ خاموشی کسی اندرونی گٹھ جوڑ یا کرپشن کی علامت ہے؟
    کیا ضلعی انتظامیہ اس موت کے کاروبار میں شریکِ جرم بن چکی ہے؟

    عوامی حلقے، سماجی کارکنان، اور تاجر برادری سراپا احتجاج ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میڈیا رپورٹس، سوشل میڈیا ویڈیوز، اور بارہا شکایات کے باوجود اگر کوئی کاروائی نہ کی گئی تو کسی بڑے سانحے کی صورت میں مکمل ذمہ داری ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں پر عائد ہو گی۔

    مطالبہ کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکریٹری پنجاب، اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور فوری طور پر خیرپور ڈاہا میں غیر قانونی فیول ایجنسیوں، ایرانی تیل کی اسمگلنگ، اور محکمہ سول ڈیفنس میں موجود کالی بھیڑوں کے خلاف فیصلہ کن کریک ڈاؤن کریں۔ عوامی سلامتی کو مزید نظر انداز کرنا ایک مجرمانہ کوتاہی ہو گی جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

  • سیالکوٹ: سانحہ سوات پر جماعت اسلامی خواتین ونگ کا اظہارِ تعزیت، حکومتی بے حسی پر کڑی تنقید

    سیالکوٹ: سانحہ سوات پر جماعت اسلامی خواتین ونگ کا اظہارِ تعزیت، حکومتی بے حسی پر کڑی تنقید

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر: مدثر رتو)سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق کی ہدایت پر جماعت اسلامی ضلع سیالکوٹ کی خواتین کے وفد نے ڈسکہ میں سانحہ سوات کے شہداء کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کیا۔ وفد نے شہداء کی بلندی درجات کے لیے دعا کی اور متاثرہ خاندان کو ڈاکٹر حمیرا طارق کا تعزیتی پیغام پہنچایا۔

    وفد کے ہمراہ اہلِ محلہ کی بڑی تعداد بھی موجود تھی، جنہوں نے جماعت اسلامی کی اس بھرپور یکجہتی کو سراہا۔ ملاقات کے دوران حلقہ خواتین جماعت اسلامی کے نمائندگان نے کہا کہ جماعت اسلامی غم کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہے اور قانونی معاونت سمیت ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔

    اس موقع پر حکومتی بے حسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے وفد نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ جب ملک میں انسانی جانوں کے ضیاع پر قوم سوگوار ہے، تب بھی حکمران اپنے مشاغل میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ سوات وفاقی و صوبائی حکومتوں کی سنگ دلی اور نااہلی کی بدترین مثال ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ حکمران عوام کے دکھ درد میں شریک ہونے کے بجائے بے حسی کی چادر اوڑھے بیٹھے ہیں۔

    وفد نے مزید کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عوام آنکھیں کھولیں اور سوچیں کہ انہوں نے کیسے بے حس عناصر کو اقتدار میں پہنچایا۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ مون سون کا موسم قریب ہے، مگر حکومتی سطح پر کسی قسم کی تیاری نظر نہیں آ رہی۔ جگہ جگہ جوہڑ، گڑھے اور نالوں کی ناقص صفائی سے حادثات جنم لے سکتے ہیں، جس کے ذمہ دار نااہل حکمران ہوں گے۔

    جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ وہ ماضی میں بھی آفات و سانحات کے دوران عوامی خدمت میں پیش پیش رہی ہے اور آئندہ بھی مظلوم اور متاثرہ افراد کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔