Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ارشد خورشید کو APCAA کا چیئرمین منتخب ہونے پر ضیاء الحق سرحدی اور FCAA خیبرپختونخوا کی مبارکباد

    ارشد خورشید کو APCAA کا چیئرمین منتخب ہونے پر ضیاء الحق سرحدی اور FCAA خیبرپختونخوا کی مبارکباد

    پشاور (باغی ٹی وی) فرنٹیئر کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن (FCAA) خیبر پختونخوا کے صدر ضیاء الحق سرحدی، ان کے عہدیداران اور ایگزیکٹو کمیٹی نے آل پاکستان کسٹم ایجنٹس ایسوسی ایشن (APCAA) کے نومنتخب چیئرمین ارشد خورشید کو ان کے انتخاب پر دلی مبارکباد دی ہے۔

    ضیاء الحق سرحدی جو کہ پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PAJCCI) کے سینئر نائب صدر، سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (SCCI) کے سابق سینئر نائب صدر اور موجودہ ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن بھی ہیں، نے اپنے بیان میں کہا کہ ارشد خورشید ایک تجربہ کار تجارتی رہنما ہیں۔ وہ کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن (KCAA) کے سابق صدر رہ چکے ہیں اور انہیں کسٹمز آپریشنز، پورٹ کوآرڈینیشن اور پالیسی ایڈوکیسی میں ایک دہائی سے زائد کا عملی تجربہ حاصل ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ارشد خورشید کی قیادت میں توقع ہے کہ کسٹمز کے طریقہ کار کو مزید ہموار کیا جائے گا اور پاکستان بھر میں کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مضبوط آواز اٹھائی جائے گی۔ ارشد خورشید اس وقت وفاقی ٹیکس محتسب (FTO) کے اعزازی کوآرڈینیٹر کے طور پر بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، جہاں وہ ٹیکس سے متعلق شکایات کے حل اور قومی سطح کی رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے سرگرم ہیں۔

    ضیاء الحق سرحدی جو خود بھی FTO کے اعزازی کوآرڈینیٹر اور کسٹمز میڈیا ایڈوائزری کمیٹی کے ایڈوائزر ہیں، نے کہا کہ فرنٹیئر کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا اور ان کی مکمل کابینہ ارشد خورشید کو بھرپور تعاون کا یقین دلاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس برادری ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی قیادت میں مزید بہتری کی توقع رکھتی ہے۔

  • سیالکوٹ: ہولی پر 70 ہندو خاندانوں میں مالی امداد، وزیر اعلیٰ پنجاب کا تاریخی اقلیتی پیکیج

    سیالکوٹ: ہولی پر 70 ہندو خاندانوں میں مالی امداد، وزیر اعلیٰ پنجاب کا تاریخی اقلیتی پیکیج

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر مدثر رتو) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر اقلیتی برادری کے لیے تاریخی مالی امدادی اقدام کے تحت سیالکوٹ میں 70 ہندو خاندانوں کو ہولی تہوار کے موقع پر فی کس 15,000 روپے کی مالی امداد فراہم کی گئی۔ یہ امداد اقلیتی امور کے معاشی منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد ہندو برادری کو مذہبی تہوار کے موقع پر حکومتی سرپرستی مہیا کرنا ہے۔

    تقریب رکن صوبائی اسمبلی چوہدری فیصل اکرام کے رابطہ دفتر میں منعقد ہوئی، جس میں ہندو کمیونٹی کے معزز عمائدین سائیں اُداس، شادی لال اور دیگر افراد نے شرکت کی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے اس فراخدلانہ اقدام پر اظہار تشکر کیا اور اسے اقلیتوں کے لیے قابلِ تقلید مثال قرار دیا۔

    اس موقع پر چوہدری فیصل اکرام نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر صوبے بھر میں اقلیتی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے اربوں روپے کے فنڈز مختص کیے جا چکے ہیں۔ یہ تاریخی معاشی پیکیج نہ صرف اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے بلکہ یہ اقلیتوں کے مذہبی و سماجی حقوق کی مکمل ترجمانی بھی کرتا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کے یہ اقدامات بین المذاہب ہم آہنگی، رواداری اور اقلیتوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے عزم کی عملی تصویر ہیں۔ ہولی جیسے تہواروں میں حکومت کی شراکت داری اقلیتوں کے دل جیتنے کے مترادف ہے، جو پاکستان کے آئین اور سماجی اقدار کے عین مطابق ہے۔

  • ڈیرہ غازیخان:ظلم کیخلاف جہاد ہماری روایت، امریکہ و اسرائیل انجام کو پہنچیں گے: قاری جمال

    ڈیرہ غازیخان:ظلم کیخلاف جہاد ہماری روایت، امریکہ و اسرائیل انجام کو پہنچیں گے: قاری جمال

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی ،سٹی رپورٹر جواد اکبر) جمعیت علماء اسلام پنجاب کے نائب امیر مولانا قاری جمال عبدالناصر نے اسلام آباد میں جمعیت کے مرکزی عہدیداران سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ، اسرائیل یا بھارت کی جانب سے مظلوموں پر ظلم کے خلاف ہم سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑے ہیں۔ ظلم سے بغاوت اور مظلوم کی بلا تفریق حمایت جمعیت کی تاریخ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم شیخ الہند کے مشن کے امین ہیں اور ہماری رگوں میں انگریز کی بغاوت خون کی طرح دوڑتی ہے۔ آل انڈیا سے خزانے لوٹ کر یورپ لے جانے والے برطانوی تاجروں اور شہنشاہوں کے خلاف ہمارے اساتذہ نے جہاد کیا اور برطانیہ جیسی سپر پاور کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ سویت یونین بھی علماء اور مجاہدین سے ٹکرایا اور پاش پاش ہو گیا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور یورپ نے اربوں ڈالر خرچ کر کے مسلمانوں میں فرقہ واریت، تشدد اور نفرت کو فروغ دیا، اور افغانستان، عراق، لیبیا، شام اور فلسطین میں خون کی ہولی کھیلی۔ آج وہی طاقتیں ایران پر جنگ مسلط کر چکی ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان نے فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر ایران کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اب امریکہ، اسرائیل اور بھارت کو ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں بچا سکتی۔

    اس موقع پر جمعیت علماء اسلام کے تحصیل امیر سردار عبدالمجید خان ڈیوآنی، مولانا کلیم اللہ ملکانی، مولانا شاہد ندیم ابوغازی، ملک نذیر خان انگاری، مولانا محمد عثمان گوندل، اکرم خان لودھی و دیگر ممبران مجلس عمومی جمعیت علماء اسلام پنجاب بھی موجود تھے۔ آخر میں مری میں ہونے والے شاندار اور کامیاب عمومی اجلاس پر جمعیت علماء اسلام پنجاب کے امیر سید محمود میاں صاحب، ناظم عمومی حافظ نصیر احمد احرار اور تمام مجلس عاملہ کو مبارکباد پیش کی گئی۔

  • بہاولپور: اسلامیہ یونیورسٹی کے لیکچرار پر طالبہ کو جنسی ہراساں کرنے کا الزام، مقدمہ درج

    بہاولپور: اسلامیہ یونیورسٹی کے لیکچرار پر طالبہ کو جنسی ہراساں کرنے کا الزام، مقدمہ درج

    بہاولپور (نامہ نگار) اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وزیٹنگ لیکچرار کی جانب سے طالبہ کو جنسی ہراسانی کا نشانہ بنانے کا افسوسناک واقعہ سامنے آ گیا۔ پولیس تھانہ بغداد الجدید نے مقدمہ درج کر کے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے جبکہ وائس چانسلر نے مذکورہ لیکچرار پر یونیورسٹی میں داخلے اور تدریسی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے شعبہ سافٹ ویئر انجنئیرنگ کی طالبہ (م) نے ایف آئی آر نمبر 1173/25 تھانہ بغداد الجدید میں موقف اختیار کیا ہے کہ احمد محمود نامی وزیٹنگ لیکچرار نے گزشتہ روز اسے اپنے گھر بلایا۔ وہاں اس نے نہ صرف 50 ہزار روپے رشوت طلب کی بلکہ جنسی خواہشات کی تکمیل نہ ہونے پر امتحان میں فیل کرنے کی دھمکی دی اور دست درازی کی کوشش کی۔

    پولیس نے مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے جبکہ یونیورسٹی کی ہراسمنٹ کمیٹی نے بھی واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ جنسی ہراسانی کے معاملے پر زیرو ٹالرینس کی پالیسی رکھتی ہے، اور اسی بنیاد پر لیکچرار احمد محمود کے نہ صرف کلاسز پڑھانے پر پابندی عائد کی گئی ہے بلکہ اس کے یونیورسٹی میں داخلے پر بھی مکمل طور پر روک لگا دی گئی ہے۔

  • اوکاڑہ: جنگلات کی بربادی. قدرتی خزانے کے ضیاع کی داستان

    اوکاڑہ: جنگلات کی بربادی. قدرتی خزانے کے ضیاع کی داستان

    اوکاڑہ: جنگلات کی بربادی ، قدرتی خزانے کے ضیاع کی داستان
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    ہم بحیثیت قوم وقت کا ضیاع اور وسائل کا صحیح استعمال نہ کرنا ہماری رگوں میں خون کی طرح شامل ہے۔ سرکاری اداروں کے ساتھ پبلک ریلیشن شپ نہ ہونے کی وجہ سے آج ہماری قوم نہ صرف مقروض ہے بلکہ آنے والی نسلیں بھی مقروض پیدا ہوتی رہیں گی۔

    آج ہم آپ کو اوکاڑہ کی سطح پر وسائل ہونے کے باوجود منصوبہ بندی نہ کرنے کے حوالہ سے محکمہ جنگلات پر بات چیت کرتے ہوئے یہ بتائیں گے کہ کس طرح ہم درختوں کے حوالہ سے فوائد حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ ضلع اوکاڑہ قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے۔ زرخیز زمین، وسیع نہری نظام، سازگار موسمی حالات اور بہترین آبی وسائل اس بات کے گواہ ہیں کہ یہاں جنگلات کے فروغ کی بے پناہ گنجائش موجود ہے، مگر افسوس کہ نہ حکومتی سطح پر سنجیدگی دکھائی گئی اور نہ ہی عوامی سطح پر شعور پیدا کیا جا سکا۔

    آج دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلیاں تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہیں۔ درخت اور جنگلات ہی وہ قدرتی ذریعہ ہیں جو کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے ماحول کو متوازن رکھتے ہیں، زمین کو بنجر ہونے سے بچاتے ہیں اور ہزاروں مخلوقات کے لیے مسکن مہیا کرتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے اوکاڑہ جیسے زرعی ضلع میں جنگلات کے فروغ کو کبھی حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں کیا گیا۔

    سال 2019/20 میں محکمہ جنگلات کی جانب سے اوکاڑہ میں ایک نئی امید کا چراغ روشن ہوا۔ اس وقت کے ایس ڈی او افتخار احمد جنجوعہ کی قیادت میں نہروں اور راجباہوں کے کناروں پر درخت لگانے کا ایک شاندار منصوبہ شروع ہوا۔ ان کی ٹیم نے لاکھوں درخت لگائے۔ یہ نہ صرف محکمانہ کارکردگی کی ایک مثال تھی بلکہ ایک عزم اور جذبے کی داستان بھی تھی۔ افتخار احمد جنجوعہ اور ان کی ٹیم کو بجا طور پر خراجِ تحسین پیش کیا جانا چاہیے کہ انہوں نے نہ صرف منصوبے کو عملی جامہ پہنایا بلکہ ایک نئی راہ بھی دکھائی۔

    مگر بدقسمتی سے افتخار احمد جنجوعہ کی ٹرانسفر کے بعد یہ منصوبہ بھی روایتی بدانتظامی اور کرپشن کی نذر ہو گیا۔ نہ صرف نئے درخت لگانے کا عمل رک گیا بلکہ پہلے سے لگے درختوں کی دیکھ بھال بھی چھوڑ دی گئی۔ نتیجتاً مقامی بااثر افراد اور زمینداروں نے محکمانہ ملی بھگت سے اربوں روپے مالیت کے درخت چوری کر کے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا۔

    تحصیل دیپالپور کے مقام پپلی پہاڑ پر جنگلات کی کٹائی آج بھی جاری ہے۔ سرکاری اہلکاروں کی چشم پوشی اور بدعنوان عناصر کی سرپرستی میں سرسبز درخت کاٹے جا رہے ہیں۔ یہ قومی اثاثہ ضائع ہو رہا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔

    حیران کن بات یہ ہے کہ اوکاڑہ میں وسیع نہریں، راجباہ اور کھالوں کا جال موجود ہے، جو سارا سال پانی مہیا کرتے ہیں۔ پانی کی دستیابی کے باوجود درخت لگانا حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں۔ یہ وہ قیمتی سرمایہ ہے جسے درست منصوبہ بندی اور نیک نیتی سے بروئے کار لایا جائے تو اوکاڑہ پورے پنجاب میں جنگلات کا ماڈل ضلع بن سکتا ہے۔

    اگر حکومت سنجیدہ ہے تو فوری طور پر درج ذیل اقدامات کرنے ہوں گے:

    * درختوں کی چوری میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
    * محکمہ جنگلات کو فعال کیا جائے اور مستقل نگرانی کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔
    * سرمایہ کاروں کو سہولیات دے کر جنگلات کے فروغ میں شریک کیا جائے۔
    * عوام میں درختوں اور جنگلات کی اہمیت پر شعور اجاگر کیا جائے۔
    * مقامی نوجوانوں کو جنگلات کی حفاظت اور نگہداشت کے لیے بھرتی کیا جائے تاکہ غربت اور بے روزگاری میں کمی آئے۔

    اوکاڑہ میں جنگلات کی بربادی صرف سرکاری نااہلی کی ایک مثال نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل سے کھلواڑ ہے۔ افتخار احمد جنجوعہ جیسے دیانتدار اور فرض شناس افسران کی محنت اور لگن ضائع نہ ہونے دی جائے۔

    وقت کا تقاضا ہے کہ جنگلات کے فروغ کو صرف ماحولیاتی ضرورت نہیں بلکہ معاشی استحکام کے مضبوط ستون کے طور پر لیا جائے۔ اگر ہم نے آج بھی آنکھیں نہ کھولیں تو کل ہمیں اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

    عوامی آگاہی کے لیے آج ہی اپنا کام شروع کرنا ہوگا۔ ہر پڑھے لکھے شخص کا یہ قومی فریضہ ہونا چاہئے کہ وہ درخت لگانے کی مہم میں صدقہ جاریہ سمجھ کر شامل ہو اور لوگوں کو آگاہ کرے کہ درخت کتنے ضروری ہیں۔

    برسات کا موسم جولائی میں شروع ہو جاتا ہے، جو کہ درخت لگانے کا ایک اچھا موسم ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ فروری مارچ بھی درخت لگانے کا اچھا موسم ہے۔ علاقائی آب و ہوا میں پلنے والے درخت لگانے چاہئیں۔ اوکاڑہ میں نیم، پیپل، بکین، شریں، جامن، بیری، شیشم، کیکر، آم، لسوڈا اور اس طرح کے کئی ایک درخت لگائے جا سکتے ہیں۔

  • راولپنڈی: محرم الحرام کے سلسلے میں "اتحاد بین المسلمین کانفرنس” کا انعقاد

    راولپنڈی: محرم الحرام کے سلسلے میں "اتحاد بین المسلمین کانفرنس” کا انعقاد

    راولپنڈی (باغی ٹی وی، نامہ نگار شوکت علی ملک) ڈویژنل انتظامیہ و امن کمیٹی راولپنڈی ڈویژن کے زیراہتمام محرم الحرام کے سلسلے میں ایک اہم "اتحاد بین المسلمین کانفرنس” کا انعقاد کیا گیا۔ یہ کانفرنس ایک نجی مارکی میں منعقد ہوئی، جس میں کمشنر راولپنڈی انجینئر عامر خٹک، آر پی او راولپنڈی بابر سرفراز الپا، ڈی پی او چکوال لیفٹیننٹ (ر) احمد محی الدین سمیت راولپنڈی ڈویژن کے ضلعی افسران، علمائے کرام اور مختلف مکاتب فکر کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی۔

    کانفرنس کا مقصد محرم الحرام کے دوران امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنا، اتحاد بین المسلمین کو فروغ دینا، اور مذہبی ہم آہنگی کو یقینی بنانا تھا۔ مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ معاشرتی استحکام اور مذہبی رواداری کے لیے تمام طبقات کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ جلوسوں کے روٹس پر فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے اور کسی بھی قسم کی شرانگیزی یا مذہبی منافرت کو سختی سے روکا جائے۔

    کانفرنس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ راولپنڈی ڈویژن میں محرم الحرام کے دوران مکمل ہم آہنگی، امن اور بھائی چارے کی فضا قائم رکھی جائے گی، اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

  • ننکانہ صاحب:صوبائی وزیر خوراک بلال یٰسین کا دورہ، محرم انتظامات و کلینک آن ویلز کا افتتاح

    ننکانہ صاحب:صوبائی وزیر خوراک بلال یٰسین کا دورہ، محرم انتظامات و کلینک آن ویلز کا افتتاح

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز) صوبائی وزیر خوراک بلال یٰسین ننکانہ صاحب پہنچے جہاں ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ نے ان کا استقبال کیا۔ ان کی زیر صدارت ضلعی امن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈی پی او سید ندیم عباس، ضلعی افسران اور امن کمیٹی کے ارکان نے شرکت کی۔ اجلاس میں محرم الحرام کے انتظامات، سیکورٹی، صفائی، اور بین المسالک ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے امور زیر غور آئے۔

    صوبائی وزیر نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انیشیٹو "کلینک آن ویلز” کا باقاعدہ افتتاح کیا اور مرکزی امام بارگاہ و جلوس کے روٹس کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام امن، محبت اور رواداری کا دین ہے، تمام علماء منبر و محراب کے ذریعے فرقہ واریت کے خاتمے میں کردار ادا کریں۔

    بلال یٰسین نے افواجِ پاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن "بنیان مرصوص” کی کامیابی پاکستان کی فتح ہے اور پوری قوم حکومت کے عزمِ استحکام کے فیصلے کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محرم الحرام میں امن قائم رکھنا ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے اور شرپسندوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا جائے گا۔

    ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ نے کہا کہ ضابطہ اخلاق پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا، جلوسوں کی سی سی ٹی وی مانیٹرنگ، واک تھرو گیٹ کی تنصیب، اور صفائی کے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ محرم کے دوران کنٹرول رومز مکمل طور پر فعال رہیں گے تاکہ امن و آشتی برقرار رکھی جا سکے۔

  • سیالکوٹ: چوہوں کی بھرمار، شہری خوفزدہ، انتظامیہ خاموش

    سیالکوٹ: چوہوں کی بھرمار، شہری خوفزدہ، انتظامیہ خاموش

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض) سیالکوٹ شہر میں چوہوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے، جس نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں خصوصاً گھوئینکی، کوٹلی بھاگو، حاجی پورہ، رنگپورہ، کچہری روڈ، پیرس روڈ، اڈہ پسروریاں اور پرانے بازار چوہوں کی آماجگاہ بن چکے ہیں۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ چوہے گھروں، گلیوں، بازاروں اور دفاتر میں کھلے عام گھومتے ہیں، خوراک، کپڑوں اور برقی آلات کو نقصان پہنچا رہے ہیں، جبکہ بچوں کو کاٹنے کے واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں۔ چوہوں کی موجودگی نہ صرف شدید گندگی کا باعث ہے بلکہ ہیضہ، بخار اور دیگر متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔

    ماہرین صحت کے مطابق اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال صحتِ عامہ کے بڑے بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے پر فوری توجہ دے اور چوہوں کی افزائش روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔ فی الحال انتظامیہ کی خاموشی شہریوں کے لیے مزید پریشانی کا باعث بن رہی ہے۔

  • اوچ شریف: محکمہ ڈاک کی غفلت، بیٹ بختیاری کا شہری پارسل لینے آیا، خالی ہاتھ لوٹ گیا

    اوچ شریف: محکمہ ڈاک کی غفلت، بیٹ بختیاری کا شہری پارسل لینے آیا، خالی ہاتھ لوٹ گیا

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) محکمہ ڈاک اوچ شریف کی مجرمانہ غفلت اور غیر ذمہ داری کا ایک اور واقعہ، نواحی علاقے بیٹ بختیاری کے رہائشی محمد آصف کو شدید گرمی میں طویل فاصلہ طے کر کے پوسٹ آفس پہنچنے کے باوجود پارسل نہ دیا گیا۔

    محمد آصف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا ضروری پارسل اوچ شریف ڈاکخانے پہنچ چکا تھا، مگر متعلقہ عملے نے اسے گھر پہنچانے کے بجائے فون کر کے خود آنے کو کہا۔ محمد آصف کے مطابق جب وہ شدید گرمی میں تھکا ہارا پوسٹ آفس پہنچا تو عملے نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ ملازم ابھی آیا نہیں، کل آ کر پارسل لے جانا۔ کئی گھنٹوں کے انتظار کے باوجود بھی کسی نے شنوائی نہ کی، جس پر وہ خالی ہاتھ اور مایوس واپس لوٹا۔

    محمد آصف کا کہنا تھا کہ اس کی عزتِ نفس کو مجروح کیا گیا، اور وہ اذیت ناک تجربے سے گزرا۔ اس نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ غفلت برتنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور محکمہ ڈاک کے ناقص نظام کو درست کیا جائے۔

    اوچ شریف کے دیگر شہریوں نے بھی شکایات کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں، محکمہ ڈاک کی تاخیر، بدانتظامی اور غیر ذمہ دار عملے کی شکایات عام ہیں۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ محکمہ ڈاک کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ شہریوں کی بنیادی سہولیات میں مزید رکاوٹ نہ آئے۔

  • احمد پور شرقیہ: پسند کی شادی میں ناکامی پر نوجوان کی خودکشی، ورثہ کا پوسٹ مارٹم سے انکار، احتجاج

    احمد پور شرقیہ: پسند کی شادی میں ناکامی پر نوجوان کی خودکشی، ورثہ کا پوسٹ مارٹم سے انکار، احتجاج

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) تھانہ دھوڑکوٹ کی حدود میں موضع ودھنور کے رہائشی نوجوان نے پسند کی شادی نہ ہونے اور والد کی ڈانٹ سے دلبرداشتہ ہو کر زہریلی دوا پی کر خودکشی کر لی۔ متوفی کی شناخت 22/23 سالہ عبدالحمید ولد سعید احمد، قوم حسام کے طور پر ہوئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق عبدالحمید نے گھریلو رنجش اور مرضی کی شادی میں ناکامی پر گھر میں موجود فصلِ کپاس پر استعمال ہونے والی زہریلی اسپرے پی لی۔ تشویشناک حالت میں اسے فوری طور پر بہاول وکٹوریہ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دوران علاج دم توڑ گیا۔ واقعے کی اطلاع پر مقامی پولیس افسر خدا بخش ایس آئی نے ضابطے کی کارروائی مکمل کرتے ہوئے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے احمد پور شرقیہ ہسپتال منتقل کیا۔

    تاہم لواحقین نے پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کر دیا اور مطالبہ کیا کہ لاش بغیر پوسٹ مارٹم کے حوالے کی جائے۔ پولیس نے قانونی تقاضوں کے تحت پوسٹ مارٹم کو ضروری قرار دیا جس پر متوفی کے ورثہ نے سول ہسپتال کے باہر احتجاج کرتے ہوئے سڑک بلاک کر دی۔ احتجاج کی اطلاع پر ایس ایچ او تھانہ سٹی احمد پور شرقیہ فوری طور پر موقع پر پہنچے، ورثہ سے مذاکرات کیے اور انہیں اعتماد میں لے کر روڈ کھولوا دیا۔

    پولیس اور ورثہ کے درمیان جاری کشیدگی وقتی طور پر ختم کر دی گئی ہے، جبکہ قانونی کارروائی جاری ہے۔