Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • پنجاب کے 1183 تاریخی مقامات کھدائی کے منتظر، ہزاروں سال پرانی تہذیبیں مٹنے لگیں

    پنجاب کے 1183 تاریخی مقامات کھدائی کے منتظر، ہزاروں سال پرانی تہذیبیں مٹنے لگیں

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) پنجاب بھر میں 7 ہزار قبل مسیح سے لے کر برٹش دور تک کے 1183 آثار قدیمہ کی سائٹس کھدائی نہ ہونے کے باعث مٹنے کے خطرے سے دوچار ہو چکی ہیں۔ محکمہ آثار قدیمہ کی 29 سال پرانی تحقیق کے مطابق ان میں سے کسی ایک مقام پر بھی عملی کام شروع نہیں کیا جا سکا۔ فنڈز کی عدم دستیابی اور حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے ہزاروں سالہ تاریخی ورثہ زمین میں دفن ہو کر معدوم ہونے لگا ہے۔

    1992 میں مرتب کی گئی محکمانہ فہرست کے مطابق صرف بہاولپور اور چولستان میں 454 سائٹس موجود ہیں، جبکہ مجموعی طور پر صوبے بھر میں 7 ہزار قبل مسیح کی 19، 3300 قبل مسیح کی ہاکڑہ تہذیب، 2500 قبل مسیح کی ہڑپہ کے ابتدائی دور کی 56، درمیانے دور کی 31، 1400 قبل مسیح کی 5، 700 قبل مسیح کی 256 سائٹس، ابتدائی اسلامی دور (آٹھویں تا گیارہویں صدی) کی 145، سلاطین دور (12ویں تا 15ویں صدی) کی 195، مغلیہ دور (15ویں تا 18ویں صدی) کی 324 اور سکھ و برطانوی دور (18ویں صدی تا 1947) کی 176 سائٹس شامل ہیں۔

    ضلع بہاولپور میں 60، ملتان میں 50، خانیوال میں 51، وہاڑی میں 39، لودھراں میں 36، راجن پور میں 11، ڈیرہ غازی خان میں 14، مظفر گڑھ میں 20، لیہ میں 11 اور جھنگ میں 55 آثار قدیمہ کی نشان دہی کی جا چکی ہے۔ اوچ شریف میں محلہ بخاری جبکہ چولستان میں قلعہ ڈراوڑ سے 40 کلومیٹر دور گویری والا اور کڈھ والا سائٹس یزمان کی ہڑپہ دور کی تاریخ بیان کرتی ہیں، جن کی کھدائی سے قبل مسیح کے قدیم شہر منظر عام پر آ سکتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان مقامات پر سنجیدہ کھدائی شروع کی جائے تو پنجاب میں ہڑپہ اور سندھ میں موہنجو داڑو کے درمیانی دور کی مکمل گمشدہ تہذیب کو دریافت کیا جا سکتا ہے۔ تاہم محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے آج تک کسی بھی سائٹ پر کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا، جس کے باعث یہ قیمتی ورثہ وقت کے ساتھ مٹتا جا رہا ہے۔ ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری فنڈز فراہم کر کے ان تاریخی مقامات کی کھدائی اور تحفظ کا عمل شروع کیا جائے تاکہ ہزاروں سال پرانی تہذیبوں کی بقا ممکن ہو سکے۔

  • ڈسکہ: 90 لاکھ کی چوری چند گھنٹوں میں حل، بھتیجا گرفتار، مال برآمد

    ڈسکہ: 90 لاکھ کی چوری چند گھنٹوں میں حل، بھتیجا گرفتار، مال برآمد

    ڈسکہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک عمران) تھانہ صدر ڈسکہ پولیس نے شہری غلام رسول کے گھر ہونے والی 90 لاکھ روپے مالیت کی بڑی چوری کا معمہ چند گھنٹوں میں حل کر لیا۔ واردات میں ملوث ملزم کو گرفتار کر کے تمام مال مسروقہ برآمد کر لیا گیا۔ چوری کی یہ واردات تھانہ صدر کے علاقہ شیرا دا کوٹ میں پیش آئی جہاں نامعلوم افراد نے 25 تولے سونے کے زیورات اور نقدی چرا لی تھی۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سیالکوٹ فیصل شہزاد نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈی ایس پی صدر سرکل کو ہدایات دیں کہ ملزمان کو جلد گرفتار کر کے چوری شدہ سامان اصل مالک کو واپس کیا جائے۔ ڈی پی او کی ہدایات پر ایس ایچ او تھانہ صدر نے جدید تکنیکی ذرائع اور پیشہ ورانہ مہارت کا استعمال کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا، جو متاثرہ شہری کا سگا بھتیجا نکلا۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ ملزم نے گھر والوں کی غیر موجودگی میں واردات کی اور زیورات بینک لاکر میں چھپا دیے تھے۔

    پولیس نے ملزم کی نشاندہی پر تمام مسروقہ مال، جس کی مالیت تقریباً 90 لاکھ روپے ہے، برآمد کر کے اصل مالک کے حوالے کر دیا۔ ڈی پی او فیصل شہزاد نے پولیس ٹیم کی فوری اور کامیاب کارروائی کو سراہتے ہوئے ٹیم کے لیے نقد انعام اور تعریفی اسناد کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ پولیس شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتی ہے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔

  • ایران پر امریکی حملہ عالمی امن کے خلاف ہے، مسلم ممالک متحد ہوں: ثاقب مجید

    ایران پر امریکی حملہ عالمی امن کے خلاف ہے، مسلم ممالک متحد ہوں: ثاقب مجید

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز) پاکستان مرکزی مسلم لیگ ضلع ننکانہ صاحب کے جنرل سیکرٹری ثاقب مجید نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بھڑکانے اور عالمی امن کو خطرے میں ڈالنے کی دانستہ کوشش ہے۔

    ثاقب مجید نے کہا کہ امریکہ نے اسرائیل کے جنگی جنون کو روکنے کے بجائے خود جنگ کی آگ بھڑکا دی ہے، جس کے بعد پورے خطے اور دنیا کا امن خطرے سے دوچار ہو چکا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ، او آئی سی اور تمام مسلمان ممالک کو اس سنگین صورتحال میں فوری اور مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔

    انہوں نے زور دیا کہ مسلم ممالک کو اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے، اتحاد اور امن و استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات کرنے ہوں گے، کیونکہ جب تک امتِ مسلمہ تقسیم ہے، بیرونی طاقتیں اس کی خودمختاری اور وسائل کو کمزور کرتی رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مسلم دنیا متحد ہو کر ایک مؤثر، دوراندیش اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کرے تاکہ عالمی سطح پر اپنے وقار، استحکام اور امن کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • اوکاڑہ: منشیات فروش کو 35 سال قید، 13 لاکھ جرمانہ

    اوکاڑہ: منشیات فروش کو 35 سال قید، 13 لاکھ جرمانہ

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) ایڈیشنل سیشن جج رینالہ خورد محمد مسرور انور خان کی عدالت نے منشیات فروش اظہر عباس کو مجموعی طور پر 35 سال قید اور 13 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔ پولیس ترجمان کے مطابق مجرم کو چرس فروشی پر 20 سال قید اور 13 لاکھ روپے جرمانہ جبکہ افیون فروشی پر 15 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

    جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید 6 ماہ قید کاٹنا ہوگی۔ مجرم کو 2024 میں تھانہ صدر رینالہ پولیس نے گرفتار کیا تھا اور اس کے قبضے سے بھاری مقدار میں چرس و افیون برآمد ہوئی تھی۔ ڈی پی او اوکاڑہ راشد ہدایت نے مقدمے میں بہترین کارکردگی دکھانے پر سب انسپکٹر نوید نزیر اور لیگل ٹیم کو شاباش دی۔

  • اوکاڑہ: پولیس اور فوڈ ونڈو ریسٹورنٹ میں رعایتی سہولیات کا معاہدہ

    اوکاڑہ: پولیس اور فوڈ ونڈو ریسٹورنٹ میں رعایتی سہولیات کا معاہدہ

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) پولیس اور فوڈ ونڈو ریسٹورنٹ کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہو گئے۔ ڈی پی او اوکاڑہ راشد ہدایت اور چیئرمین فوڈ ونڈو ریسٹورنٹ سلمان چوہدری نے معاہدے پر دستخط کیے۔

    اس معاہدے کے تحت پولیس شہداء اور فوت شدہ ملازمین کے اہل خانہ کو 25 فیصد رعایت دی جائے گی، جبکہ حاضر سروس ملازمین بھی 25 فیصد رعایت کے مستحق ہوں گے۔

    ایم او یو کا مقصد پولیس شہداء کے خاندانوں، حاضر سروس پولیس اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو معیاری اور رعایتی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

  • سیالکوٹ: مون سون و محرم الحرام کیلئے ضلعی اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت

    سیالکوٹ: مون سون و محرم الحرام کیلئے ضلعی اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض)ڈپٹی کمشنر صبا اصغر کی زیر قیادت ڈسٹرکٹ ایمرجنسی بورڈ/ڈسٹرکٹ ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد اقبال، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر نوید اقبال، ڈی ڈی ایم سی کیوان حسن کے علاوہ ضلع کے تمام اداروں کے سربراہوں نے شرکت کی۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر نوید اقبال نے ریسکیو کی بابت کارکردگی رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے محرم الحرام کے حوالے سے ریسکیو کی تیاریوں کی رپورٹ بھی اجلاس میں پیش کی۔ کیوان حسن نے حالیہ مون سون سیزن اور ممکنہ سیلاب کے حوالے سے ضلع کی تفصیلی رپورٹ پیش کی۔

    ڈپٹی کمشنر صبا اصغر نے ریسکیو کی کارکردگی کو سراہا اور ہدایت کی کہ نہروں اور دریاؤں پر نہانے کی پابندی کو برقرار رکھا جائے اور دفعہ 144 کا نفاذ جاری رہے گا۔ مون سون اور ممکنہ سیلاب کے پیش نظر تمام ضلعی ادارے اپنی تیاریاں مکمل رکھیں، کسی قسم کی کوتاہی قبول نہیں کی جائے گی۔

    ڈی سی نے ہدایت کی کہ بارشوں کے دوران ٹی ایم اے ہائی الرٹ رہے، ڈی واٹرنگ سیٹ آپریشنل ہوں اور عوام الناس کو بروقت ریلیف فراہم کیا جائے۔ علاوہ ازیں، شہر کے اندر اور بیرونی علاقوں میں قائم منی پیٹرول پمپس اور گیس ریفلنگ شاپس کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر نے سول ڈیفنس کو ہدایت دی کہ انہیں نوٹسز جاری کیے جائیں اور فوری بند کروایا جائے تاکہ کوئی حادثہ پیش نہ آئے۔

  • سگریٹ اور تمباکو پر ٹیکس لگے گا تو غریب عوام کی پہنچ سے دور ہو گا

    سگریٹ اور تمباکو پر ٹیکس لگے گا تو غریب عوام کی پہنچ سے دور ہو گا

    سگریٹ اور تمباکو پر ٹیکس لگے گا تو غریب عوام کی پہنچ سے دور ہو گا
    تحریر: راحین راجپوت
    دنیا بھر میں تمباکو نوشی کو ایک مہلک عادت تسلیم کیا جاتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف صحت بلکہ معیشت پر بھی پڑتے ہیں۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک دونوں میں حکومتیں تمباکو مصنوعات پر بھاری ٹیکس لگا کر اس کے استعمال کو کم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

    پاکستان جیسے ملک میں جہاں غربت کی شرح بلند ہے اور صحت کی سہولیات محدود ہیں، وہاں سگریٹ اور تمباکو پر ٹیکس لگانے کی حکومتی پالیسی نہ صرف صحت عامہ کے حوالے سے اہم ہے بلکہ یہ غریب طبقے کی مالی حالت پر بھی گہرے اثرات ڈالتی ہے۔

    پاکستان میں تمباکو نوشی ایک عام عادت ہے، جو نوجوانوں سے لے کر بڑی عمر کے افراد تک میں پائی جاتی ہے۔ سگریٹ، نسوار، حقہ اور پان میں استعمال ہونے والا تمباکو روز مرہ کی زندگی میں بہت عام ہے۔ پاکستان میں ہر سال لاکھوں افراد تمباکو سے جڑی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں، جن میں پھیپھڑوں کا سرطان، دل کی بیماریاں اور سانس کی تکالیف شامل ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال 160,000 سے زائد اموات تمباکو نوشی سے منسلک بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

    جب حکومت سگریٹ اور تمباکو پر ٹیکس عائد کرتی ہے تو اس کے پیچھے دو بڑے مقاصد ہوتے ہیں:
    1۔ عوام کو تمباکو نوشی سے روکنا
    2۔ قومی خزانے کے لیے آمدنی اکٹھا کرنا

    جب کسی چیز پر ٹیکس لگایا جاتا ہے تو اقتصادی اصول کے مطابق جب کسی چیز کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کی مانگ کم ہو جاتی ہے۔ یہی تصور یہاں بھی کار فرما ہوتا ہے کہ سگریٹ مہنگی ہوگی تو لوگ کم خریدیں گے اور اس مہلک عادت سے باز آئیں گے۔

    تاہم پاکستان جیسے ملک میں جہاں سگریٹ نوشی کی عادت کئی دہائیوں سے جمی ہوئی ہے، وہاں صرف قیمتیں بڑھانا ہی کافی نہیں۔ جب سگریٹ پر ٹیکس لگتا ہے اور اس کی قیمت بڑھتی ہے، تو سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ غریب ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ محدود آمدنی میں اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں، اس لئے اگر کوئی فرد تمباکو نوشی کا عادی ہے تو وہ اپنی دیگر ضروریات جیسے کھانا، تعلیم یا دوا پر خرچ کر کے بھی سگریٹ خریدنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طرح ٹیکس سے تمباکو نوشی مکمل ختم تو نہیں ہوتی، لیکن غریب طبقے کی مالی حالت مزید خراب ہو جاتی ہے۔

    یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کم آمدنی والے افراد سگریٹ کی جگہ نسوار یا دیگر سستی مگر زیادہ نقصان دہ یا اس کی متبادل اشیاء ڈھونڈ لیتے ہیں، جس پر ٹیکس کی شرح یا تو کم ہوتی ہے یا بالکل نہیں۔ نتیجتاً، ٹیکس کا مقصد یعنی صحت بہتر بنانا، مکمل طور پر حاصل نہیں ہو پاتا۔

    بین الاقوامی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ تمباکو پر ٹیکس لگانے سے اس کے استعمال میں کمی واقع ہوتی ہے، خاص طور پر نوجوانوں میں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق تمباکو پر ٹیکس میں 10 فیصد اضافہ، اس کی کھپت میں تقریباً 4 فیصد کمی کرتا ہے، اور کم آمدنی والے ملکوں میں یہ شرح اور بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

    پاکستان میں بھی اس پالیسی کے کچھ مثبت اثرات دیکھے گئے ہیں، جیسے نوجوانوں میں سگریٹ شروع کرنے کی شرح میں معمولی کمی۔ تاہم مجموعی طور پر تمباکو نوشی کی شرح میں نمایاں کمی لانے کے لیے ٹیکس کے ساتھ ساتھ تعلیم، آگاہی اور صحت کی سہولیات بھی ضروری ہیں۔

    ٹیکس ایک مؤثر ہتھیار ہے لیکن اگر اس کے ساتھ دیگر اقدامات نہ کیئے جائیں تو یہ کافی نہیں ہوتا۔ حکومت کو چاہیے کہ سگریٹ اور تمباکو نوشی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات کرے:

    * تمباکو نوشی کے نقصانات سے متعلق آگاہی مہم چلائی جائے۔
    * سکولوں اور کالجوں میں تمباکو مخالف تعلیم کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔
    * سگریٹ کی فروخت پر عمر کی حد کو سختی سے لاگو کیا جائے۔
    * علاج معالجے کی سہولیات جیسے کہ تمباکو چھوڑنے والے مراکز قائم کیئے جائیں۔
    * تمباکو مصنوعات کی تشہیر پر مکمل پابندی ہو۔

    اگرچہ سگریٹ پر ٹیکس سے حکومت کو اربوں روپے کی آمدنی حاصل ہوتی ہے، لیکن ان فنڈز کا ایک حصہ صحت کے شعبے میں استعمال ہونا چاہیئے، خاص طور پر غریب طبقے کے لیے۔ حکومت اگر چاہے تو ان فنڈز کو عوامی ہسپتالوں میں صحت بہتر بنانے، تمباکو چھوڑنے کے پروگراموں اور بنیادی صحت کے مراکز کے قیام کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ اس طرح غریب عوام کو دو طرفہ فائدہ ہو سکتا ہے، ایک طرف صحت بہتر ہو اور دوسری طرف مالی بوجھ کم ہو۔

    سگریٹ اور تمباکو پر ٹیکس ایک اہم پالیسی اقدام ہے جو صحت عامہ کے فروغ کے لیے نا گزیر ہے، لیکن اس کا نفاذ اس انداز میں ہونا چاہیئے کہ غریب عوام پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑے۔ محض قیمتیں بڑھا دینا کافی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی مہمات، صحت کی سہولیات اور سماجی تبدیلی کے اقدامات بھی ضروری ہیں۔

    اگر یہ سب عوامل ایک دوسرے کے ساتھ چلیں، تو نہ صرف تمباکو نوشی میں کمی آئے گی بلکہ ایک صحت مند، خوشحال اور با خبر معاشرہ تشکیل پائے گا۔

  • اوکاڑہ: معذور افراد میں 73 معاون آلات تقسیم، وزیراعلیٰ فلیگ شپ پروگرام کے تحت تقریب

    اوکاڑہ: معذور افراد میں 73 معاون آلات تقسیم، وزیراعلیٰ فلیگ شپ پروگرام کے تحت تقریب

    اوکاڑہ( نامہ نگار ملک ظفر)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے فلیگ شپ پروگرام کے تحت خصوصی افراد میں معاون آلات کی تقسیم کے لیے گورنمنٹ ایم سی ہائی اسکول اوکاڑہ میں ایک پُروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ یہ تقریب محکمہ سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال کے زیر اہتمام منعقد ہوئی، جس میں 73 معذور افراد میں معاون آلات تقسیم کیے گئے۔

    تقریب کے مہمانانِ خصوصی ایم پی اے چوہدری غلام رضا ربیرہ اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس اینڈ پلاننگ چوہدری عبدالجبار گجر تھے، جنہوں نے معاون آلات خصوصی افراد میں تقسیم کیے۔ اس موقع پر لیگی رہنما چوہدری فیاض ظفر، ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر محمد اشتیاق خاں، دیگر محکموں کے افسران، اور خصوصی افراد کے اہل خانہ بھی موجود تھے۔

    ڈپٹی ڈائریکٹر محمد اشتیاق خاں نے خصوصی افراد کی فلاح و بہبود سے متعلق حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی۔ ایم پی اے غلام رضا ربیرہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب خصوصی افراد کی سہولیات کو اولین ترجیح دے رہی ہیں، تاکہ انہیں معاشرے کا مفید شہری بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پروگرام کے دوسرے مرحلے میں 73 اہل افراد میں معاون آلات تقسیم کیے جا رہے ہیں، جو ان کی روزمرہ زندگی میں آسانی پیدا کریں گے۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر چوہدری عبدالجبار گجر نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب کی یہ کاوش معذور افراد کی خودمختاری اور بہتر زندگی کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔ معاون آلات حاصل کرنے والے افراد اور ان کے اہل خانہ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

  • ایران پر امریکی حملے کی شدید مذمت، عالمی امن خطرے میں ہے: سابق ناظم خان نور نبی

    ایران پر امریکی حملے کی شدید مذمت، عالمی امن خطرے میں ہے: سابق ناظم خان نور نبی

    اوکاڑہ( نامہ نگار ملک ظفر)سابق ناظم خان نور نبی خان نے ایران پر امریکہ کی جانب سے ہونے والے حملے کو عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ حملہ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور امریکہ کی مسلسل جارحانہ پالیسیوں کا تسلسل ہے، جو دنیا کے مختلف خطوں میں بدامنی کو ہوا دے رہا ہے۔

    خان نور نبی خان نے واضح کیا کہ ہر خودمختار ریاست کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور ایران پر کسی بھی قسم کی جارحیت ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس غیر قانونی اقدام کا فوری نوٹس لے اور امریکہ کو اس کے نتائج سے آگاہ کرے۔

    انہوں نے امت مسلمہ سے بھی اپیل کی کہ وہ اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے جارحانہ اقدامات کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرے، کیونکہ اگر آج ایک اسلامی ملک نشانہ بنا ہے تو کل دیگر اسلامی ممالک بھی نشانہ بن سکتے ہیں۔

    خان نور نبی نے اقوام متحدہ اور او آئی سی سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ کی اس کھلی جارحیت کے خلاف مؤثر اور عملی قدم اٹھائیں۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان سے بھی مطالبہ کیا کہ ایران کے ساتھ کھل کر یکجہتی کا اظہار کرے اور عالمی فورمز پر امریکہ کی اس کارروائی کی شدید مخالفت کرے۔

  • اوکاڑہ: رواں ماہ 965 روڈ حادثات، ٹریفک کنٹرول اتھارٹی کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

    اوکاڑہ: رواں ماہ 965 روڈ حادثات، ٹریفک کنٹرول اتھارٹی کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

    اوکاڑہ( نامہ نگار ملک ظفر)اوکاڑہ میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات نہ صرف ضلعی ٹریفک کنٹرول اتھارٹی کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں بلکہ اس کی نااہلی بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ رواں ماہ کے ابتدائی تین ہفتوں میں ضلع بھر سے 965 روڈ حادثات رپورٹ ہوئے جن میں 17 قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں، جب کہ سینکڑوں مرد، خواتین اور بچے زخمی ہوئے۔

    تفصیلات کے مطابق تحصیل اوکاڑہ میں 557، دیپالپور میں 274 اور رینالہ خورد میں 134 حادثات رپورٹ ہوئے۔ ان حادثات میں 90 سے 95 فیصد موٹر سائیکل شامل ہیں، جو تیز رفتاری اور بے ہنگم ٹریفک کی علامت ہیں۔

    عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک کنٹرول اتھارٹی شاہراہوں پر قانونی حفاظت کے لیے ہر ماہ کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہے، لیکن عملی کارکردگی صفر ہے۔ سڑکوں پر قانون کی حکمرانی دکھائی نہیں دیتی، جبکہ افسران صرف عہدوں کے تمغے سجائے بیٹھے ہیں۔

    عوام نے ڈی پی او محمد راشد ہدایت سے سوال کیا ہے کہ اگر کسی اور جرم پر فوری نوٹس لیا جا سکتا ہے، تو روڈ حادثات میں ملوث نااہل عناصر کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟

    عوامی مطالبہ ہے کہ فوری ہنگامی اقدامات کیے جائیں تاکہ قیمتی جانوں کے ضیاع اور عمر بھر کی معذوری جیسے حادثات سے بچا جا سکے اور ٹریفک قانون کی بالا دستی یقینی ہو۔