Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اوکاڑہ :پولیس کا ضلع بھر میں سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن، 33 ملزمان گرفتار

    اوکاڑہ :پولیس کا ضلع بھر میں سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن، 33 ملزمان گرفتار

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) ڈی پی او اوکاڑہ راشد ہدایت کی ہدایت پر ضلع بھر میں سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن کیا گیا، جس کے دوران مجموعی طور پر 33 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس ترجمان کے مطابق یہ کارروائیاں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہیں، جن کا مقصد امن و امان کی فضا کو یقینی بنانا ہے، خصوصاً محرم الحرام کے پیشِ نظر۔

    کارروائی کے دوران گوگیرہ پولیس نے ڈکیت گینگ کے 3 ملزمان کو گرفتار کیا، جب کہ 4 خطرناک اشتہاری ملزمان کو بھی حراست میں لیا گیا۔ ناجائز اسلحہ رکھنے کے الزام میں 4 افراد کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے 3 پستول، ایک رائفل اور 15 گولیاں برآمد کی گئیں۔

    منشیات کے خلاف کارروائی میں سٹی دیپالپور پولیس نے بڑی کامیابی حاصل کی، جہاں ایک منشیات فروش سے 2 کلو 200 گرام چرس برآمد کی گئی۔ اس کے علاوہ شراب فروشی میں ملوث 4 ملزمان کو گرفتار کرتے ہوئے 76 لیٹر شراب قبضے میں لے لی گئی۔

    پولیس ترجمان کے مطابق سرچ آپریشن کے دوران جوا کھیلنے میں ملوث 11 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا، جبکہ عارضی قیام گاہ ایکٹ کی خلاف ورزی پر ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا۔

    ڈی پی او راشد ہدایت کا کہنا ہے کہ یہ سرچ اینڈ کومبنگ آپریشنز آئندہ بھی تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گے تاکہ امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے اور جرائم پیشہ عناصر کا مکمل طور پر قلع قمع کیا جا سکے۔

  • اوکاڑہ: سکریپ کے گودام میں آگ لگنے سے 15 لاکھ روپے مالیت کا نقصان

    اوکاڑہ: سکریپ کے گودام میں آگ لگنے سے 15 لاکھ روپے مالیت کا نقصان

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) اوکاڑہ کے علاقے خان کالونی میں واقع ایک سکریپ کے گودام میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں تقریباً 15 لاکھ روپے مالیت کا سکریپ جل کر خاکستر ہو گیا۔ آگ علی ٹرسٹ ہسپتال کے قریب واقع گودام میں لگی، جس کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی موٹر بائیک سروس اور دو فائر وہیکلز فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر جارحانہ حکمت عملی اپناتے ہوئے پانی کی مدد سے فائر فائٹنگ شروع کر دی، اور کچھ ہی دیر میں آگ پر قابو پا لیا گیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق فوری کارروائی کی بدولت گودام میں موجود 17 لاکھ روپے مالیت کا سکریپ جلنے سے محفوظ رہا۔

    آتشزدگی کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہو سکیں، تاہم واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ ریسکیو 1122 کی بروقت اور مؤثر کارروائی پر مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

  • ماسکو سے گوادر تک. نئی راہیں، نئے امکان

    ماسکو سے گوادر تک. نئی راہیں، نئے امکان

    ماسکو سے گوادر تک. نئی راہیں، نئے امکان
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    ایک خبر کے مطابق پاکستان اور روس نے توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ ترجمان او جی ڈی سی ایل کے مطابق روس کے دورے پر گئے پاکستانی وفد کی سینٹ پیٹرزبرگ میں گیزپروم حکام سے ملاقات ہوئی، جس میں توانائی کے شعبے میں مشترکہ منصوبوں اور شراکت داری پر غور کیا گیا۔ ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور روس نے اقتصادی تعاون کے نئے مواقع کی تلاش پر زور دیا اور طے پایا کہ او جی ڈی سی ایل اور گیزپروم ممکنہ منصوبوں کی مل کر نشاندہی کریں گے۔ یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت اور اسٹریٹجک تعلقات کے ایک نئے دور کا پیش خیمہ ہے۔

    اس تناظر میں اگر ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو 1948ء میں سفارتی تعلقات کے قیام سے لے کر اب تک پاکستان اور روس (سابقہ سوویت یونین) کے تعلقات سرد جنگ کے دوران محدود اور بعض اوقات کشیدہ رہے لیکن 1970ء کی دہائی میں پاکستان سٹیل ملز کے قیام جیسے منصوبوں نے تعاون کی راہ ہموار کی۔ 21ویں صدی کے آغاز خاص طور پر 2010ء کے بعد توانائی، دفاع، تجارت اور تعلیم کے شعبوں میں متعدد معاہدوں نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کیا۔ 2024ء تک کم از کم 20 سے 30 اہم معاہدوں یا مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط ہو چکے ہیں، جن میں پاکستان اسٹریم گیس پائپ لائن، دفاعی تعاون اور بارٹر ٹریڈ شامل ہیں۔

    اسی تسلسل میں سینٹ پیٹرزبرگ کی حالیہ ملاقات توانائی کے شعبے میں تعاون کی ایک نئی مثال ہے، جہاں پاکستان اسٹریم گیس پائپ لائن، جس پر 2016ء میں اتفاق اور 2021ء میں توثیق ہوئی، 2.5 بلین ڈالر کے منصوبے کے طور پر نمایاں ہے۔ روس نے پاکستان کو LNG درآمد کے لیے 1500 کلومیٹر طویل پائپ لائن کی حمایت بھی کی ہے جو پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے اور روس کے خطے میں اقتصادی اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے اہم ہے۔

    یہی رجحان دفاعی شعبے میں بھی نظر آتا ہے، جہاں 2016ء میں مشترکہ فوجی مشقوں "دروجبا” اور چار ایم آئی۔35 ہیلی کاپٹروں کی فراہمی نے خطے میں جغرافیائی سیاسی توازن کو تقویت دی، خاص طور پر جب پاکستان روایتی اتحادیوں سے ہٹ کر نئے اسٹریٹجک شراکت داروں کی تلاش میں ہے۔ تجارت و سرمایہ کاری میں بھی پیش رفت ہوئیہے، 2024ء میں ماسکو میں منعقدہ پہلے پاک روس تجارتی فورم میں بارٹر ٹریڈ معاہدے کے تحت پاکستان 20 ہزار ٹن چاول برآمد کرے گا جبکہ روس 20 ہزار ٹن چنے فراہم کرے گا۔

    اسی تسلسل میں دسمبر 2024ء کے 9ویں بین الحکومتی کمیشن اجلاس میں انسولین کی تیاری، تعلیمی تعاون اور دوطرفہ تجارت کے فروغ سمیت 8 معاہدوں پر دستخط ہوئے جو دوطرفہ تجارت کے حجم کو بڑھانے کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔

    یہ تمام پیش رفتیں پاکستان اور روس کے تعلقات کو ایک وسیع تر جغرافیائی تناظر میں بھی اہم بناتی ہیں، خاص طور پر وسط ایشیائی ریاستوں کے حوالے سے، جہاں روس ایک کلیدی کھلاڑی ہے۔ پاکستان کی گوادر بندرگاہ وسط ایشیائی ممالک کے لیے تجارت کا اہم راستہ بن سکتی ہے اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے فریم ورک کے تحت دونوں ممالک خطے میں استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کی چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) اور روس کی یوریشین اکنامک یونین (EAEU) کے درمیان ممکنہ تعاون خطے کے اقتصادی منظر نامے کو تبدیل کر سکتا ہے۔

    تاہم ان مثبت رجحانات کے باوجود موجودہ عالمی اور علاقائی حالات ان تعلقات پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی جو مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کا باعث ہے، پاک روس تعاون کو متاثر کر سکتی ہے، کیونکہ روس ایران کا اتحادی ہے اور پاکستان ایران کے ساتھ سرحدی اور تاریخی تعلقات رکھتا ہے۔ اگرچہ پاکستان غیر جانبداری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے لیکن مغربی دباؤ یا علاقائی عدم استحکام توانائی منصوبوں یا سرمایہ کاری میں تاخیر کا باعث بن سکتا ہے۔

    اسی طرح امریکہ کی علاقائی پالیسیاں خاص طور پر چین اور روس کے خلاف حکمت عملی، پاکستان کے لیے چیلنجز ہیں کیونکہ پاکستان امریکی مالیاتی اداروں پر انحصار کرتا ہے۔ امریکی پابندیوں کا خوف پاک روس معاہدوں کے نفاذ میں رکاوٹ بن سکتا ہے، لیکن ایک امکان یہ بھی موجود ہے کہ پاکستان کی چین کے ساتھ شراکت اور SCO کے ذریعے تعاون اس دباؤ کو کم کر سکتا ہے۔

    اسی ضمن میں بھارت کی پاکستان کے خلاف پراکسی وار، خاص طور پر افغانستان اور بلوچستان میں مبینہ مداخلت، ایک حساس معاملہ ہے کیونکہ روس کے بھارت کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں۔ تاہم، روس نے پاکستان کے ساتھ متوازن تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی ہے جس کی مثال دفاعی معاہدے اور مشترکہ فوجوی مشقوں کی صورت میں موجود ہے۔ بھارت کی پراکسی سرگرمیاں اگرچہ علاقائی استحکام کو متاثر کرتی ہیں، لیکن پاک روس تعلقات پر براہ راست اثر کا امکان کم ہے کیونکہ دونوں ممالک اپنے مشترکہ مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔

    علاوہ ازیں دیگر چیلنجز جیسے کہ افغانستان کی صورتحال، دہشت گردی کے خطرات اور بیوروکریٹک رکاوٹیں، تعاون کی رفتار کو سست کر سکتے ہیں، لیکن SCO اور CPEC جیسے پلیٹ فارمز ان سے نمٹنے کے لیے مضبوط فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔

    ان تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو خطے کی بدلتی جغرافیائی سیاسی صورتحال پاکستان اور روس کو قریب لا رہی ہیں۔ امریکہ اور چین کی رقابت، افغانستان کے حالات اور بھارت کے روس کے ساتھ تعلقات پاکستان کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ روس، جو مغربی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، ایشیا میں نئے شراکت داروں کی تلاش میں ہے اور پاکستان اس تناظر میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

    اس شراکت داری کی بنیاد اگرچہ ابھی محدود تجارت پر قائم ہے لیکن بارٹر ٹریڈ اور توانائی کے منصوبے اسے وسعت دے سکتے ہیں۔ روس کی تکنیکی مہارت اور پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن باہمی فائدے کی بنیاد ہے، جبکہ وسط ایشیائی منڈیوں تک رسائی کے لیے پاکستان ایک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ طلبہ اورثقافتی تقریبات و وفود کے تبادلوں اور تعلیمی معاہدوں (جیسے نیوٹیک اور کامسیٹس کے MoUs) سے عوامی سطح پر تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں، جو طویل مدتی شراکت داری کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

    چنانچہ پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتی قربت خطے کے نئے دور کا عکاس ہے۔ اگرچہ ایران اسرائیل تنازعہ، امریکی مفادات اور بھارت کی پراکسی سرگرمیاں چیلنجز ہیں لیکن مشترکہ مفادات اور بدلتی جغرافیائی سیاسی صورتحال اس شراکت داری کو مضبوط کر رہی ہیں۔ وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تعاون اور SCO جیسے پلیٹ فارمز اسے مزید گہرا کر رہے ہیں۔

    مناسب پالیسی سازی اور معاہدوں پر عمل درآمد کے عزم کے ساتھ پاکستان اور روس نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں بلکہ خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی خوشحالی کے معمار بن سکتے ہیں۔ یہ شراکت داری محض ایک امکان نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو خطے کے مستقبل کو روشن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جہاں ایک دوسرے کے تعاون سے تنازعات ختم ہوں گےاور مشترکہ ترقی سب کا مقدر بنے گی۔

    ماسکو سے گوادر تک ابھرتی ہوئی یہ نئی راہیں نہ صرف اقتصادی ترقی کا نیا نقشہ کھینچ رہی ہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی ازسرِنو متعین کر رہی ہیں۔ روس کے لیے پاکستان ایک بحری راستے کی شکل میں وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی کا دروازہ بن رہا ہے جبکہ پاکستان روس کی توانائی، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری سے اپنے معاشی ڈھانچے کو مستحکم کر سکتا ہے۔ بارٹر ٹریڈ سے لے کر اسٹریٹجک پائپ لائنز تک، دونوں ممالک ایسی بنیاد رکھ رہے ہیں جو آنے والے عشروں میں خطے کے سیاسی، اقتصادی اور سفارتی منظرنامے کو بدل سکتے ہیں۔ اگر یہ شراکت داری درست سمت میں مستحکم رہی تو گوادر کا ساحل اور ماسکو کی فضائیں ایک دوسرے کی ہم آواز بن سکتی ہیں، جہاں نئی راہیں صرف سفر کی نہیں بلکہ باہمی اعتماد، ترقی اور خودمختاری کی ضمانت ہوں گی۔

  • ننکانہ : ہیڈ بلوکی روڈ پر رکشہ اور ٹریکٹر ٹرالی میں خوفناک تصادم، ایک نوجوان جاں بحق، 6 افراد زخمی

    ننکانہ : ہیڈ بلوکی روڈ پر رکشہ اور ٹریکٹر ٹرالی میں خوفناک تصادم، ایک نوجوان جاں بحق، 6 افراد زخمی

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی،نامہ نگاراحسان اللہ ایاز)ننکانہ صاحب کے علاقے ہیڈ بلوکی روڈ پر تیز رفتار رکشہ اور ٹریکٹر ٹرالی کے درمیان خوفناک تصادم کے نتیجے میں ایک نوجوان جاں بحق جبکہ 6 افراد زخمی ہو گئے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والے نوجوان کی شناخت 20 سالہ عدنان ارشد کے طور پر ہوئی ہے۔

    زخمی ہونے والوں میں 60 سالہ صغراں بی بی، 27 سالہ شاہزیب، 12 سالہ نور، 30 سالہ وقاص، 25 سالہ کلثوم اور 2 سالہ اویس شامل ہیں، جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں حادثے کی وجہ تیز رفتاری کو قرار دیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں تاکہ ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔ حادثے کے بعد علاقے میں افسوس کی فضا قائم ہے۔

  • ڈسکہ: نہر اپر چناب میں نہاتے ہوئے دو نوجوان ڈوب گئے، ریسکیو آپریشن جاری

    ڈسکہ: نہر اپر چناب میں نہاتے ہوئے دو نوجوان ڈوب گئے، ریسکیو آپریشن جاری

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)ڈسکہ میں تھانہ موترہ کے علاقے موترہ کے مقام پر نہر اپر چناب میں نہاتے ہوئے دو نوجوان ڈوب گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق شدید گرمی کے باعث دونوں نوجوان نہانے کے لیے نہر پر آئے تھے اور موترہ پل کے قریب نہاتے ہوئے گہرے پانی میں چلے گئے۔

    ریسکیو 1122 نے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر نوید اقبال کی زیر نگرانی فوری طور پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ ڈوبنے والے نوجوانوں کی شناخت 27 سالہ عطا اللہ اور 19 سالہ رضوان کے نام سے ہوئی ہے، جو کہ آلو مہار گاؤں کے رہائشی اور آپس میں ماموں بھانجا تھے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق پانی کا بہاؤ تیز ہونے کے باعث سرچ آپریشن میں مشکلات درپیش ہیں، تاہم ریسکیو اہلکاروں کی جانب سے مسلسل کوششیں جاری ہیں تاکہ نوجوانوں کو تلاش کیا جا سکے۔ واقعہ کے باعث علاقے میں افسوس کی فضا قائم ہے۔

  • وسطی ایشیائی ریاستیں، تجارتی تعلقات کی نئی راہیں

    وسطی ایشیائی ریاستیں، تجارتی تعلقات کی نئی راہیں

    وسطی ایشیائی ریاستیں، تجارتی تعلقات کی نئی راہیں
    تحریر:ضیاء الحق سرحدی، پشاور
    📧 ziaulhaqsarhadi@gmail.com
    گزشتہ دنوں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی کے درمیان اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں ازبکستان، پاکستان اور افغانستان کے درمیان ریلوے لائن فریم ورک کی جلد تکمیل پر اتفاق کیا گیا ہے۔ بلاشبہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ پاکستان کے تجارتی تعلقات نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ وسطی ایشیا قدرتی وسائل سے مالا مال اور پاکستان کے لیے بے پناہ اقتصادی مواقع کا حامل ہے۔ حالیہ اقدامات نہ صرف سفارتی تعلقات میں گرم جوشی لانے کا باعث بن رہے ہیں، بلکہ خطے میں معاشی اور تجارتی ربطوں کو بھی نئی سمت دے رہے ہیں۔

    ازبکستان، افغانستان، پاکستان ریلوے منصوبے کا مقصد ازبکستان اور پاکستان کے درمیان براہ راست ریلوے کے ذریعے رابطہ بنانا ہے، جو افغانستان سے گزرے گا۔ اس منصوبے کا مقصد 573 کلومیٹر طویل ریل رابطہ قائم کر کے تجارت کو بڑھانا ہے جو تاشقند، کابل اور پشاور کو جوڑے گا۔ منصوبے پر عمل درآمد سے پاکستان اور وسطی ایشیا کے مابین تجارتی تعلقات کو تقویت ملنے کی توقع ہے، جس کا مقصد ازبکستان اور پاکستان کے درمیان کارگو کی فراہمی کے اوقات کو تقریباً پانچ دن کی مسافت تک نمایاں طور پر کم کرنا ہے۔ یہ ریلوے روٹ افغانستان میں ترمذ، مزار شریف اور لوگر سے گزرے گا جب کہ پاکستان کے ضلع کرم میں خرلاچی بارڈر کراسنگ تک جائے گا۔ یہ منصوبہ مسافروں اور مال برداری کی سہولت فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، اس مقصد کے لیے ریلوے علاقائی تجارت کو فروغ دینے اور علاقے میں مجموعی اقتصادی ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہے۔

    وسطی ایشیا قدرتی وسائل سے مالا مال اور پاکستان کے لیے بے پناہ اقتصادی مواقع کا حامل ہے۔ پاک بھارت کشیدگی سے سرخرو ہونے کے بعد حالیہ دنوں فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت اعلیٰ حکام کا ترکیہ، ایران، آذربائیجان اور تاجکستان کا سرکاری دورہ انتہائی اہم حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ ایرانی صدر کے ساتھ ملاقات میں ایران نے خطے میں امن قائم کرنے کی غرض سے دو طرفہ تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری بڑھانے کا اعادہ کیا ہے جبکہ پاکستان کو وسطی ایشیا سے تجارت کا گیٹ وے کہا جا سکتا ہے۔

    پاکستان کا محل وقوع ایسا ہے کہ عوامی جمہوریہ چین، وسطی ایشیا اور مشرق وسطی آ کر ملتے ہیں جب کہ جنوب میں بحر ہند کا وسیع سمندر ہے جو چین اور مشرق بعید سے مشرق وسطی، افریقہ اور یورپ کے درمیان اہم تجارتی راستوں کی گزرگاہ ہے۔ بحر ہند کی سمندری گزرگاہوں سے توانائی سے مالا مال وسطی ایشیائی ریاستوں تک جانے کے لیے کوئی سمندری ساحل اور بندرگاہ نہیں ہے، واحد زمینی راستہ ایران کے علاوہ پاکستان سے گزر کر جاتا ہے۔ پاکستان سے گزرنے والا یہ راستہ زیادہ تر میدانی اور ہموار ہونے کے باعث آئیڈیل راستہ ہے جب کہ ایران سے جانے والا راستہ زیادہ تر پہاڑی اور ناہموار ہے۔ یہ جغرافیائی حقیقت پاکستان کو وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے ایک دلکش کنجی بنا دیتی ہے۔

    پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک چین، ایران اور افغانستان کے علاوہ دیگر ایشیائی ریاستوں کے ساتھ بالعموم اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ بالخصوص تجارتی و دفاعی اور عسکری شعبوں میں قابل ذکر تعاون بڑھا سکتا ہے۔ آذربائیجان کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہو چکا ہے۔ آذربائیجان نے 31 دسمبر 2027 تک پاکستانی چاول پر عائد کردہ کسٹم ڈیوٹی کو استثنیٰ قرار دے رکھا ہے۔ یہ استثنیٰ پاکستان کے لیے بڑا ریلیف ہے، اگرچہ اس ٹیکس چھوٹ کے باوجود پاکستان کی چاول برآمدات آذربائیجان کی کل درآمدات کا محض 4 فیصد ہے۔

    قازقستان کی معیشت اس خطے کی بڑی معیشت ہے جہاں 370 بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری سامنے آئی ہے۔ قازقستان کے معدنی وسائل میں شامل کوئلہ، کرومائیٹ اور زنک کا ذخیرہ دنیا کا دوسرا بڑا ذخیرہ سمجھا جاتا ہے۔ قازقستان قدرتی گیس سے بھی مالا مال ہے۔

    ایران سے ہم سستے داموں تیل، لوہا، اسٹیل، چمڑا، شیشہ، تازہ سبزیاں اور پھل درآمد کر سکتے ہیں جب کہ گندم اور چاول برآمد کر سکتے ہیں۔ گندم اور چاول کی مصنوعات ہم ترکیہ کو بھی برآمد کر سکتے ہیں۔

    جنوبی ایشیاء، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے چوراہے پر پاکستان کا تزویراتی محل وقوع بلاشبہ اسے رابطے اور تجارتی نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے اچھی پوزیشن میں رکھتا ہے، جو پاکستان اور خطے کے لیے اسٹریٹجک اہمیت کے مرکز کے طور پر امکان پیش کرتا ہے۔

    اس کے علاوہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشییٹو کا ایک اہم حصہ ہے، جس میں بنیادی ڈھانچے اور رابطوں میں اضافہ ہے جو وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت کو فروغ دے سکتا ہے۔ جبکہ پاکستان، چین، کرغیز جمہوریہ اور قازقستان نے 9 مارچ 1995 کو چہار فریقی ٹریفک اور ٹرانزٹ معاہدے (کیو ٹی ٹی اے) دستخط کیے۔ یہ چین، پاکستان، کرغیزستان اور قازقستان کے درمیان ٹرانزٹ ٹریفک اور تجارت کو آسان بنانے کے لیے ایک ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ ہے۔ یہ وسطی ایشیا اور بحیرہ عرب میں پاکستان کی گوادر بندرگاہ کے درمیان ایک مؤثر رابطہ نیٹ ورک فراہم کرتا ہے۔ چین نے اس کا خوب فائدہ اٹھایا اور اس خطے کے ساتھ اس کی تجارت تقریباً 100 بلین امریکی ڈالر ہے۔

    اس کے بعد ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، بھارت (تاپی) گیس پائپ لائن منصوبہ ہے۔ تاپی منصوبے کا مقصد ترکمانستان میں کلکنیش گیس فیلڈ سے قدرتی گیس افغانستان کے راستے پاکستان اور بھارت لانا ہے۔ تاپی منصوبہ حکومت پاکستان کے انرجی سیکیورٹی پلان کا حصہ ہے۔

    پاکستان کی پوزیشن اپنے ہمسایہ ممالک افغانستان اور ایران کے ساتھ بھی زیادہ مختلف نہیں ہے۔ جہاں مغرب، چین اور بھارت افغانستان کے وسیع معدنی وسائل کی طرف نظر جمائے ہوئے ہیں، پاکستان کی رسائی صرف چند ملین ڈالر کے اجناس کی تجارت تک محدود ہے۔ ایران کے ساتھ، پاکستان، ایران گیس پائپ لائن جو بہت ضروری ہے، دہائیوں سے التوا کا شکار ہے۔

    پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کا آغاز ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے، اس سے پاکستان کو جنوبی خطے میں اپنی حیثیت مضبوط کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

    پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کے مابین سہ فریقی تزویراتی اتحاد کی بنیاد شنگھائی تعاون تنظیم نے فراہم کی تھی جس میں چین، قازقستان، کرغیزستان، روس، تاجکستان، بھارت، پاکستان، ایران، بیلا روس شامل ہیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سی پیک کے منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کر کے پاکستان کے لیے اقتصادی راہداری کو ایران اور ترکیہ کے تیل اور گیس کی فراہمی، بجلی پیداوار اور ترسیل، تجارتی نقل و حمل، بندرگاہوں اور جہاز رانی کے ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کریں۔

    ایشیا کے دیگر ممالک جو پاکستان کی طرح بھارت کی جانب سے اشتعال انگیزی کا خطرہ محسوس کر سکتے ہیں، جیسے سری لنکا، بنگلہ دیش، بھوٹان، نیپال، میانمار کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو استوار کریں۔ باہمی تعاون اور اشتراک کے امکانات کو فروغ دیں۔

    قازقستان، ازبکستان، ترکمانستان، کرغیزستان اور تاجکستان توانائی، زراعت اور معدنیات کے وسائل سے مالا مال ہیں اور پاکستان ان کے لیے ایک اہم تجارتی اور ٹرانزٹ مرکز کے طور پر کام کر سکتا ہے۔

    سی پیک اور ٹرانس افغان ریلوے جیسے منصوبے بہتر رابطوں اور تجارت میں سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔ وسطی ایشیا کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات کو فروغ دے کر پاکستان اپنے اقتصادی چیلنجز پر قابو پا سکتا ہے، روایتی منڈیوں پر انحصار کم کر سکتا ہے اور ترقی کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔

  • ڈیرہ غازیخان: ویسٹ مینجمنٹ عملے کے لیے کیش ایوارڈ تقریب 21 جون کو ہوگی

    ڈیرہ غازیخان: ویسٹ مینجمنٹ عملے کے لیے کیش ایوارڈ تقریب 21 جون کو ہوگی

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی، نیوز رپورٹر شاہد خان)ڈسٹرکٹ مینیجر ویسٹ مینجمنٹ کمپنی توفیق عادل کے مطابق، عیدالاضحیٰ کے دوران صفائی کے مثالی انتظامات پر ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ڈیرہ غازیخان کے اسٹاف کو کیش ایوارڈ دینے کی تقریب 21 جون کو صبح 11 بجے مرحبا میرج ہال میں منعقد ہو گی۔

    تقریب میں کمشنر اشفاق احمد چوہدری، ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد، ایم پی اے محمد حنیف پتافی، اور سی ای او ویسٹ مینجمنٹ کمپنی شاہد ندیم رانا سمیت دیگر معززین شرکت کریں گے۔

  • تنگوانی: بازار کاروکاری تنازع پر میدانِ جنگ بن گیا، متعدد زخمی، پولیس خاموش

    تنگوانی: بازار کاروکاری تنازع پر میدانِ جنگ بن گیا، متعدد زخمی، پولیس خاموش

    تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ)تنگوانی شہر کا مصروف ترین بازار اس وقت میدانِ جنگ بن گیا جب پرانی کاروکاری کے تنازع پر بھلکانی اور بنگلانی قبائل کے درمیان شدید تصادم ہوا۔ دونوں جانب سے لاٹھیوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا، جس سے شہری خوف و ہراس کا شکار ہو گئے۔

    عینی شاہدین کے مطابق جھگڑا اچانک شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے بازار میں بدنظمی پھیل گئی۔ تصادم کے نتیجے میں دونوں فریقین کے پانچ افراد جن میں خادم حسین اور امتیاز حسین شامل ہیں شدید زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر سول ہسپتال تنگوانی منتقل کیا گیا۔

    واقعے کے بعد بھی تنگوانی پولیس کی جانب سے کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، جس پر شہریوں اور سماجی حلقوں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ بازار میں دن دیہاڑے لاٹھیوں کا کھیل اور پولیس کی خاموشی قابلِ مذمت ہے۔

    شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس فوری کارروائی کرے، مقدمات درج کرے، اور شہر میں امن و امان بحال کرنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں، تاکہ مستقبل میں کوئی قبیلہ یا گروہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی جرأت نہ کرے۔

  • ننکانہ: ڈی ایچ کیو ہسپتال میں بدانتظامی کی انتہا، میڈیکل سلپس ختم، مریض خوار، نظام مفلوج

    ننکانہ: ڈی ایچ کیو ہسپتال میں بدانتظامی کی انتہا، میڈیکل سلپس ختم، مریض خوار، نظام مفلوج

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ننکانہ: ڈی ایچ کیو ہسپتال میں بدانتظامی کی انتہا، میڈیکل سلپس ختم، مریض خوار، نظام مفلوج

    تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ننکانہ صاحب میں بنیادی سہولت کا فقدان مریضوں کے لیے شدید اذیت کا باعث بن گیا ، ہسپتال میں میڈیکل سلپس کی عدم دستیابی کے باعث ایمرجنسی سمیت تمام شعبوں میں علاج معالجے کا عمل متاثر ہو چکا ہے، جبکہ مریضوں اور طبی عملے دونوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    ہسپتال ذرائع کے مطابق پرچی نہ ہونے کے باعث ڈاکٹرز مریضوں کو ادویات تجویز کرنے سے قاصر ہیں جبکہ نرسنگ سٹاف کا ریکارڈ مرتب کرنا بھی ناممکن ہو چکا ہے۔ ایسے میں ہسپتال انتظامیہ نے "انویسٹی گیشن فارم” کو عبوری پرچی کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، جو نہ صرف غیر موزوں ہے بلکہ مستقبل کے ریکارڈ میں سنگین پیچیدگیاں پیدا کر رہا ہے۔

    یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب سالانہ کروڑوں روپے کے بجٹ سے چلنے والے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں لاکھوں روپے پرنٹنگ کی مد میں مختص کیے جانے کے باوجود دو پرتوں والی عام میڈیکل سلپ تک دستیاب نہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ انتظامی نااہلی کی بدترین مثال ہے، جس کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

    ایک مریض کے لواحق نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ”ڈاکٹر نے دوائی تو لکھ دی، لیکن پرچی ہی نہیں ملی، میڈیکل اسٹور والا کہتا ہے بغیر پرچی دوا نہیں دے گا۔ ہم کہاں جائیں؟ کیا سرکاری ہسپتال صرف نام کے لیے رہ گئے ہیں؟”

    ہسپتال عملہ بھی پریشان ہے۔ ایک نرس کا کہنا تھا کہ:”ریکارڈ مرتب نہ ہونے سے ہمیں مریض کی حالت اور سابقہ علاج کی تفصیل یاد رکھنے میں شدید دقت ہوتی ہے۔ ہر روز کام کا دُہرا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔”

    شہری و سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ سے فوری نوٹس لینے اور متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں ایسی بنیادی سہولتوں کی کمی صرف نااہلی نہیں بلکہ عوامی صحت کے ساتھ مجرمانہ کھلواڑ ہے۔کیا سرکاری اسپتالوں میں قلم اور پرچی بھی اب عیاشی بن چکے ہیں؟

  • ٹھٹھہ: ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے ماں اور نوزائیدہ جاں بحق، ورثاء کا احتجاج

    ٹھٹھہ: ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے ماں اور نوزائیدہ جاں بحق، ورثاء کا احتجاج

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی،ڈسٹرکٹ رپورٹر بلاول سموں کی رپورٹ)سجاول سے تعلق رکھنے والی ماں اور نوزائیدہ کی زندگی ہسپتال کی دہلیز پر دفن، مبینہ غفلت پر عوام کا احتجاج، مرف کے ہسپتال نظام پر سوالیہ نشان

    گوٹھ ٹیمانی، بٹھورو روڈ سجاول کی رہائشی حاملہ خاتون یاسمین زوجہ اکرم ملاح کی زندگی سول ہسپتال مکلی میں ڈاکٹروں اور عملے کی مبینہ غفلت کی نذر ہو گئی جبکہ اس کا نوزائیدہ بچہ بھی ماں کے ساتھ ہی دم توڑ گیا۔ متاثرہ خاندان انصاف کے لیے دہائیاں دے رہا ہے جبکہ پورے علاقے میں محکمہ صحت کی مجرمانہ خاموشی پر شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق یاسمین کو تکلیف کے باعث پہلے سجاول ہسپتال لایا گیا، جہاں سے اسے فوری طور پر ٹھٹھہ سول ہسپتال مکلی ریفر کر دیا گیا۔ وہاں گائنی وارڈ میں بروقت علاج نہ ہونے، مبینہ غیرذمہ دارانہ آپریشن اور عملے کی لاپروائی کے نتیجے میں نوزائیدہ بچہ پیدا ہوتے ہی دم توڑ گیا جبکہ خاتون کی حالت نازک ہو گئی۔

    زخموں سے چور خاتون کو کراچی ریفر تو کر دیا گیا لیکن 1122 ایمبولینس میں مناسب سہولیات نہ ہونے کے باعث وہ راستے میں دم توڑ گئی۔ مزید بے حسی یہ کہ خاتون کی میت کو دوبارہ اسی ہسپتال لایا گیا جہاں سے اسے زندہ نکالا گیا تھا۔ سرکاری ایمبولینس کے ذریعے اس کی لاش واپس گوٹھ ٹیمانی پہنچائی گئی، جہاں کہرام مچ گیا۔

    مرحومہ کے شوہر اکرم ملاح نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ
    "میری بیوی بالکل تندرست تھی، سرکاری ہسپتال کی لاپرواہی نے میرے گھر کا چراغ بجھا دیا۔ یہ صرف ایک ماں اور بچے کی موت نہیں، یہ انسانیت کا قتل ہے۔ ہمیں انصاف چاہیے!”ورثاء اور اہلِ علاقہ نے ہسپتال کے باہر احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ:

    * مرف کے زیرانتظام سول ہسپتال مکلی میں ہونے والی غفلت کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کرائی جائے،
    * ذمہ دار ڈاکٹروں اور عملے کو فوری معطل کر کے مقدمہ درج کیا جائے،
    * سرکاری ہسپتالوں کو نجی این جی اوز کے حوالے کرنے کی پالیسی پر ازسرنو غور کیا جائے،
    * 1122 ایمبولینس سروس کی کارکردگی کا سخت آڈٹ کرایا جائے۔

    یاد رہے کہ جب سے سول ہسپتال مکلی کو مرف (NGO) کے حوالے کیا گیا ہے، ہسپتال میں مریضوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک، علاج میں تاخیر اور اموات کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، لیکن تاحال حکومت سندھ اور محکمہ صحت کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی سامنے نہیں آ سکی۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک اور ماں اور بچہ جان سے جائیں گے تب نوٹس لیا جائے گا؟

    عوام مطالبہ کر رہے ہیں کہ وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر صحت اور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ اس واقعے کا فوری نوٹس لیں اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔