Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اوچ شریف: نابالغ سے جعلی نکاح کے ذریعے زیادتی، ہائی کورٹ کا سخت ایکشن،مقدمہ درج

    اوچ شریف: نابالغ سے جعلی نکاح کے ذریعے زیادتی، ہائی کورٹ کا سخت ایکشن،مقدمہ درج

    اوچ شریف(باغی ٹی وی ،نامہ نگار حبیب خان)نابالغ سے جعلی نکاح کے ذریعے زیادتی، ہائی کورٹ کا سخت ایکشن، مقدمہ درج

    اوچ شریف کی راؤ کالونی میں 14 سالہ عاصمہ بی بی کے ساتھ جعلی نکاح کے ذریعے زیادتی کے دل دہلا دینے والے واقعے پر بہاولپور ہائی کورٹ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ملوث افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کا حکم دے دیا۔

    متاثرہ لڑکی کی والدہ سلمیٰ بی بی نے عدالت میں درخواست دائر کی کہ ان کی بیٹی کو جنید سلیم، شاہد، محبوب، شہزاد اور مرکزی ملزم محمد زاہد نے اغوا کیا۔ بعد ازاں، قاضی محمد وسیم (نکاح خواں) اور دیگر گواہوں کی ملی بھگت سے ایک جعلی نکاح نامہ تیار کیا گیا تاکہ اس غیر قانونی فعل کو نکاح کا روپ دیا جا سکے۔

    عدالت عالیہ نے نادرا ریکارڈ کے مطابق متاثرہ لڑکی کی عمر 14 سے 15 سال قرار دی اور فیصلہ سنایا کہ نابالغ لڑکی نکاح کے معاہدے کی قانونی اہلیت نہیں رکھتی۔ عدالت نے ایس ایچ او تھانہ اوچ شریف کو ہدایت کی کہ محمد زاہد، قاضی محمد وسیم، نکاح رجسٹرار اور گواہوں کے خلاف اغوا، زیادتی، جعل سازی اور چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ سمیت فوجداری دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔


    عدالتی احکامات پر فوری عمل کرتے ہوئے پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور سب انسپکٹر محمد اعتزاز احسن کو تفتیش سونپ دی گئی ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور مکمل چالان جلد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ متاثرہ والدہ نے اعلیٰ حکام سے انصاف کی فراہمی اور ملزمان کو سخت سزا دینے کی اپیل کی ہے تاکہ معاشرے میں ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔

    اس واقعے نے مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے، اور رہائشیوں اور سماجی کارکنوں نے نابالغ بچیوں کے تحفظ کے لیے سخت قوانین اور ان کے نفاذ پر زور دیا ہے۔

  • اوچ شریف: ایم پی اے عامر علی شاہ کی گورنر پنجاب سے اہم ملاقات

    اوچ شریف: ایم پی اے عامر علی شاہ کی گورنر پنجاب سے اہم ملاقات

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)پی پی 250 سے رکنِ پنجاب اسمبلی مخدوم سید عامر علی شاہ نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان سے گورنر ہاؤس لاہور میں اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں حلقے کے ترقیاتی منصوبوں، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوامی مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

    مخدوم عامر علی شاہ نے تعلیم، صحت، سڑکوں کی تعمیر، زرعی سہولیات اور صاف پانی کے منصوبوں پر گورنر پنجاب کو بریف کیا اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے خصوصی توجہ کی اپیل کی۔ گورنر پنجاب نے مسائل کے حل اور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ مقامی نمائندوں کی سفارشات کو ترجیح دی جائے گی۔

    اس موقع پر مخدوم عامر علی شاہ نے گورنر پنجاب کو اوچ شریف کے دورے کی دعوت دی، جو انہوں نے قبول کرتے ہوئے جلد ممکنہ دورے کا وعدہ کیا۔ سیاسی حلقوں نے اس ملاقات کو عوامی فلاح کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔

  • سیالکوٹ: سیماپ کے زیر اہتمام ٹیکنالوجی اینڈ انویشن سمٹ 2025، جدید سرجیکل مصنوعات کی نمائش

    سیالکوٹ: سیماپ کے زیر اہتمام ٹیکنالوجی اینڈ انویشن سمٹ 2025، جدید سرجیکل مصنوعات کی نمائش

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیورو چیف شاہد ریاض)سرجیکل انسٹرومنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن پاکستان (سیماپ) کے زیر اہتمام "ٹیکنالوجی اینڈ انویشن سمٹ 2025” کا انعقاد کیا گیا جس میں جدید سرجیکل مصنوعات کی تیسری نمائش نجی مارکی میں منعقد ہوئی۔ اس نمائش کا مقصد سرجیکل آلات تیار کرنے والے اداروں، وینڈرز، خام مال، ٹولز، سرٹیفکیشن اور لاجسٹک سروسز فراہم کرنے والے اداروں کو ایک چھت تلے جمع کرنا تھا۔

    چیئرمین سیماپ زیشان طارق نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایونٹ سرجیکل انڈسٹری کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک جدید پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے جہاں وہ اپنی مصنوعات براہِ راست خریداروں کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جدید میٹریل کے لیے لاہور، کراچی یا بیرونِ ملک جانا پڑتا تھا، لیکن اب یہ سب سیالکوٹ میں ایک جگہ میسر ہے۔

    صدر وویمن چیمبر ڈاکٹر مریم نعمان نے اس نمائش کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سمٹ خواتین اور نوجوانوں کو کاروبار کی طرف راغب کرنے اور انڈسٹری کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مددگار ہے۔

    ایونٹ میں چیئرمین سیماپ زیشان طارق، وائس چیئرمین سلمان مغل، عبدالمومن، ایم پی اے فیصل اکرام، بانی اتحاد فاﺅنڈر گروپ ریاض الدین شیخ، سابق چیئرمین خلیل احمد، صدر چیمبر اکرام الحق، سینیئر وائس پریذیڈنٹ گلنار وقاص ملک، جنرل سیکرٹری سیماپ عثمان بٹ، ڈائریکٹر میٹل انڈسٹری ڈویلپمنٹ خرم شہزاد اعوان اور بڑی تعداد میں کاروباری و سماجی شخصیات شریک ہوئیں۔

  • اوکاڑہ: اسسٹنٹ کمشنردیپالپورکی شہر میں صفائی مہم کی مانیٹرنگ، زیرو ویسٹ کے لیے ہدایات جاری

    اوکاڑہ: اسسٹنٹ کمشنردیپالپورکی شہر میں صفائی مہم کی مانیٹرنگ، زیرو ویسٹ کے لیے ہدایات جاری

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر نعیم بشیر دیپالپورنے شہر میں صفائی ستھرائی کی صورتحال کا جائزہ لیا اور ستھرا پنجاب مہم کے تحت متعدد مقامات پر صفائی ٹیموں کی کارکردگی کا معائنہ کیا۔

    انہوں نے ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے افسران کو ہدایت کی کہ تمام صفائی امور کی مؤثر نگرانی کی جائے، صفائی عملہ فیلڈ میں متحرک رہے، اور کاموں میں مزید بہتری لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف روڈز کے اطراف پانی کا باقاعدہ چھڑکاؤ کیا جائے تاکہ مٹی اور دھول سے ماحول متاثر نہ ہو۔

    اسسٹنٹ کمشنر نے واضح کیا کہ تحصیل بھر میں صفائی کے بہترین انتظامات کو عملی شکل دی جا رہی ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے اپیل کی کہ صاف ماحول کے لیے اپنا کردار ضرور ادا کریں۔

  • مخدوم یاور بخاری کی عبدالمجید ناصح کی عیادت، سیاسی امور پر گفتگو

    مخدوم یاور بخاری کی عبدالمجید ناصح کی عیادت، سیاسی امور پر گفتگو

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کی ہر دلعزیز سیاسی و سماجی شخصیت مخدوم سید یاور عباس بخاری نے ڈیرہ نواب صاحب میں معروف مذہبی، سیاسی و سماجی رہنما عبدالمجید خان ناصح کی عیادت کی۔ انہوں نے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ ناصح صاحب دوستوں کا قیمتی اثاثہ ہیں، ان کی موجودگی حلقہ احباب کے لیے باعث برکت ہے۔

    اس موقع پر مخدوم یاور عباس بخاری نے کہا کہ انسان کی اصل طاقت رشتوں میں محبت اور رابطے کی مضبوطی ہوتی ہے، عبدالمجید ناصح جیسے لوگ دلوں پر راج کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ناصح صاحب کی عوامی خدمات اور خلوص انہیں محبوب بناتے ہیں۔

    عیادت کے دوران سیاسی گفتگو میں مخدوم یاور عباس بخاری نے انکشاف کیا کہ وہ جلد ولی عہد امیر آف بہاولپور پرنس بہاول عباس خان عباسی سے ملاقات کریں گے، جس میں اوچ شریف کی موجودہ سیاسی صورت حال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

  • چنیوٹ: مردہ مرغیوں کی بڑی کھیپ پکڑی گئی، 1800 کلو تلف، مقدمہ درج

    چنیوٹ: مردہ مرغیوں کی بڑی کھیپ پکڑی گئی، 1800 کلو تلف، مقدمہ درج

    چنیوٹ (نامہ نگار) چنیوٹ میں غذائی دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔ ڈی جی فوڈ اتھارٹی کی ہدایت پر جھنگ سرگودھا بائی پاس روڈ پر فوڈ سیفٹی ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے گاڑی نمبر BKI 146 سے 1800 کلو مردہ مرغیاں برآمد کر لیں، جنہیں فوری طور پر تلف کر دیا گیا۔

    غیر قانونی گوشت گاڑی اور لوڈر رکشے کے ذریعے چھ ڈرموں میں چھپا کر سپلائی کیا جا رہا تھا۔ چیکنگ کے دوران ملزمان کے پاس کوئی متعلقہ ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ سینئر ویٹرنری اسپیشلسٹ نے موقع پر معائنے کے بعد مرغیاں مضر صحت قرار دیں۔

    پولیس نے جعلسازی میں ملوث گاڑی تحویل میں لے لی جبکہ ایک ملزم کو گرفتار کر کے دو افراد کے خلاف تین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔ ترجمان فوڈ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ مردہ اور غیر معیاری گوشت سنگین بیماریوں کا سبب بنتا ہے، ایسے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں اور ان کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔

  • چنیوٹ: آر پی او فیصل آباد کا دورہ، محرم سیکیورٹی پلان پر ہدایات، بہترین کارکردگی پر افسران کو اعزازات

    چنیوٹ: آر پی او فیصل آباد کا دورہ، محرم سیکیورٹی پلان پر ہدایات، بہترین کارکردگی پر افسران کو اعزازات

    چنیوٹ (نامہ نگار) ریجنل پولیس آفیسر فیصل آباد ذیشان اصغر نے 19 جون کو چنیوٹ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ڈی پی او عبداللہ احمد کے ہمراہ ضلعی پولیس افسران سے ملاقات کی۔ اس موقع پر امن و امان کی مجموعی صورتحال، زیر تفتیش سنگین مقدمات، اور افسران کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    آر پی او نے محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسران میں تعریفی اسناد تقسیم کیں۔ اعزاز حاصل کرنے والوں میں ایس ایچ او تھانہ رجوعہ سب انسپکٹر رضوان علی، ایس ایچ او تھانہ کوٹ وساوا سب انسپکٹر وسیم سجاد، ایس ایچ او تھانہ سٹی سب انسپکٹر سیف اللہ، اے ایس آئی وقاص احمد اور دیگر اہلکار شامل ہیں۔

    ترجمان پولیس کے مطابق اچھی کارکردگی دکھانے والے افسران اور جوانوں کی حوصلہ افزائی کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔

  • اوچ شریف: تھانے میں ڈی پی او کی کھلی کچہری، شہریوں کے مسائل فوری حل کرنے کے احکامات

    اوچ شریف: تھانے میں ڈی پی او کی کھلی کچہری، شہریوں کے مسائل فوری حل کرنے کے احکامات

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بہاولپور محمد حسن اقبال نے تھانہ اوچ شریف میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا، جس میں اہل علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ڈی پی او نے شہریوں کے مسائل سنے اور انفرادی طور پر متعلقہ افسران کو فوری قانونی کارروائی اور واپسی رپورٹ کے احکامات جاری کیے۔

    ڈی پی او نے کہا کہ کھلی کچہری کا مقصد شہریوں کو ان کی دہلیز پر انصاف کی فراہمی اور تھانہ سطح پر میرٹ پر فوری دادرسی کو یقینی بنانا ہے۔ کھلی کچہری میں ایس ڈی پی او احمد پور شرقیہ، ایس ایچ او اوچ شریف سمیت دیگر افسران شریک ہوئے۔ ڈی پی او نے افسران کو شہریوں کے ساتھ خوش اخلاقی اور قانون کے دائرے میں خدمت کی ہدایت دی۔

    شہریوں نے کھلی کچہری کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈی پی او کی براہِ راست شرکت سے ان کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور فوری احکامات سے مسائل کے حل کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ آخر میں ڈی پی او نے شہریوں کی بھرپور شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

  • خلیج بنگال سے ہوتا ہوا اکھنڈ بھارت کا خواب، چاغی میں دفن

    خلیج بنگال سے ہوتا ہوا اکھنڈ بھارت کا خواب، چاغی میں دفن

    خلیج بنگال سے ہوتا ہوا اکھنڈ بھارت کا خواب، چاغی میں دفن
    تحریر: حاجی محمد اکرم آرائیں، واربرٹن
    1947 میں دو قومی نظریے کو جھٹلانے کا خواب لیے خلیج بنگال سے ابھرنے والا اکھنڈ بھارت کا فریب، بالآخر 1998 میں چاغی کے پہاڑوں میں پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے ساتھ ہمیشہ کے لیے دفن ہو گیا۔

    قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہندو سامراج نے پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ مختلف حیلوں بہانوں سے پاکستان پر چار جنگیں مسلط کیں۔ 1948ء کی جنگ میں یہ خود اقوامِ متحدہ گیا، جہاں موجودہ آزاد کشمیر کو استصواب رائے کا حق تسلیم کیا، مگر بعد میں مُکر گیا۔ 1965ء کی جنگ میں ناکامی کے بعد روس میں شملہ معاہدہ کے تحت جنگی اصولوں سے انحراف کیا۔ 1971ء میں سازش کے ذریعے بنگلہ دیش کو پاکستان سے جدا کروایا اور پھر غرور و تکبر سے اکڑ کر کہا گیاکہ
    "ہم نے دو قومی نظریہ کو خلیج بنگال میں غرق کر دیا ہے۔”

    مگر 5 اگست 2024ء کو وہی دو قومی نظریہ خلیج بنگال سے اس طاقت سے ابھرا کہ بھارت کو بنگلہ دیش سے دم دبا کر بھاگنا پڑا۔ اس ساری کشمکش اور ہٹ دھرمی سے خطہ ہمیشہ تناؤ اور جنگوں کا شکار رہا۔

    13 مئی 1998ء کو بھارت نے 5 ایٹمی دھماکے کر دیے اور برملا اعلان کیا کہ وہ آزاد کشمیر پر قبضہ کرنے جارہا ہے اوربرصغیر کا تھانیدار بننے کی کوشش کی۔ اکھنڈ بھارت کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے نہ صرف جشن منایا گیا بلکہ عالمی طاقتوں کی خاموشی نے اسے شہ دی۔نہ اقوامِ متحدہ نے کوئی مذمت کی، نہ کسی بڑی ایٹمی طاقت نے کوئی نوٹس لیا۔

    لیکن پاکستان کی باہمت قیادت، خصوصاً وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف، صدر محمد رفیق تارڑ، آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور دیگر سائنس دانوں نے سر جوڑ لیے۔ پاکستان پہلے ہی ایٹمی صلاحیت حاصل کر چکا تھا، فیصلہ صرف اعلانِ جُرأت کا تھا۔

    جب دنیا نے ایٹمی دھماکوں سے باز رکھنے کے لیے ڈالروں کی لالچ دی اور پھر دھمکیاں دیں، تو یہ لمحہِ آزمائش تھا۔ تب مجید نظامی مرحوم نے تاریخی جملے کہے:
    "میاں صاحب، ایٹمی دھماکہ کر دو ورنہ قوم آپ کا دھماکہ کر دے گی!”
    یہ بات دل میں لگی، حوصلہ بڑھا اور یوں 28 مئی 1998ء کو بلوچستان کے چاغی پہاڑ پر پاکستان نے 6 ایٹمی دھماکے کر کے بھارت کے 5 دھماکوں کا جواب دے دیا۔

    چاغی کا پہاڑ زرد ہو گیا، پورا ملک "اللہ اکبر” کے نعروں سے گونج اُٹھا، پاکستان اسلامی دنیا کا پہلا اور دنیا کا ساتواں ایٹمی ملک بن گیا۔ بھارت کا اکھنڈ بھارت کا خواب چاغی میں دفن ہو گیا۔

    پھر 7 مئی 2025ء کی رات بھارت نے دوبارہ حملہ کیالیکن اس بار پاک فوج اور فضائیہ نے بھارت کی غرور و تکبر بھری یلغار کو خاک میں ملا دیا۔ چند گھنٹوں میں پاکستان کے شاہینوں نے رافیل طیارے مار گرائے، اڈے تباہ کیے، اوڑی، اودھم پور، پٹھانکوٹ سمیت بجلی کی 70 فیصد سپلائی ختم کر دی۔

    بھارت نے گھٹنے ٹیک دیے، چوکیوں پر سفید پرچم لہرا دیے اور امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی سے جنگ بندی کا اعلان ہوا۔

    اس فتح کے پیچھے پوری قوم کا اتحاد، سوشل میڈیا کی جنگی حکمت عملی، پاکستانی میڈیا کا جرأت مندانہ کردار اور سفارتی محاذ پر کامیابی شامل تھی۔ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں تینوں مسلح افواج کی پیشہ ورانہ حکمت عملی نے نہ صرف دشمن کو حیران کیا بلکہ عالمی تجزیہ کار بھی دنگ رہ گئے۔

    یہ اسلام اور کفر کی نہ ختم ہونے والی جنگ ہے۔ ہمیں اندرونی سیاسی استحکام، قومی اتحاد اور عسکری دفاع پر مکمل اعتماد رکھنا ہوگا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ
    "ہنود، یہود و نصارٰی کبھی اسلام دوست نہیں ہو سکتے!”

    آج 56 اسلامی ممالک منتشر ہیں اور کفار متحد۔ اللہ تعالیٰ فلسطین، کشمیر اور دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی غیبی مدد فرمائے۔
    پاکستان زندہ باد! پاک فوج پائندہ باد!

  • اوکاڑہ میں میڈیکل کالج کا قیام

    اوکاڑہ میں میڈیکل کالج کا قیام

    اوکاڑہ میں میڈیکل کالج کا قیام
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    اوکاڑہ کے باسیوں کے دلوں پر راج کرنے والے میں برسوں سے ایک خواب پل رہا تھا کہ ان کے شہر میں بھی ایک مکمل میڈیکل کالج ہو، جہاں ان کے بچے میڈیکل کی اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں۔ آخرکار یہ خواب پورا ہو گیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی خصوصی دلچسپی اور چوہدری ریاض الحق جج ایم این اے اوکاڑہ کی انتھک کاوشوں سے یہ سنگ میل عبور ہوا اور 16 ارب روپے کی خطیر رقم سے اوکاڑہ میں میڈیکل کالج کی منظوری دے دی گئی ہے۔

    یہ محض ایک کالج نہیں بلکہ اوکاڑہ کی تقدیر بدلنے والا منصوبہ ہے۔ برسوں سے اوکاڑہ کے نوجوان میڈیکل کی تعلیم کے لیے لاہور، فیصل آباد اور ملتان جیسے بڑے شہروں کی خاک چھانتے رہے۔ کئی باصلاحیت طلباء و طالبات محض مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے اپنا خواب پورا نہ کر سکے۔ اب اُن کے خوابوں کو پَر لگ چکے ہیں۔ اپنے ہی شہر میں انہیں وہ تمام جدید تعلیمی سہولیات میسر آئیں گی جو کسی بڑے شہر کے میڈیکل کالج میں ہوتی ہیں۔

    اس میڈیکل کالج کی تعمیر کے ساتھ ایک مکمل تدریسی ہسپتال بھی قائم ہوگا جو جدید مشینری، تجربہ کار ڈاکٹروں اور تربیت یافتہ نرسنگ اسٹاف سے مزین ہوگا۔ اس اسپتال سے نہ صرف اوکاڑہ بلکہ گرد و نواح کے لاکھوں افراد مستفید ہوں گے۔ جہاں پہلے معمولی امراض کے علاج کے لیے بھی مریضوں کو لاہور لے جایا جاتا تھا، اب انہی بیماریوں کا علاج اپنے شہر میں میسر ہوگا۔

    یہ بات تسلیم کرنا ہوگی کہ اس خواب کو حقیقت بنانے میں چوہدری ریاض الحق جج کا کردار کلیدی رہا۔ انہوں نے ہر فورم پر اوکاڑہ کے عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے میڈیکل کالج کے قیام کی آواز بلند کی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی قیادت میں حکومت نے اس وعدے کو عملی جامہ پہنایا اور عوام کے دل جیت لیے۔

    16 ارب روپے کی اس سرمایہ کاری سے نہ صرف تعلیم اور صحت کے شعبوں میں انقلاب آئے گا بلکہ مقامی معیشت کو بھی فروغ ملے گا۔ نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، کاروباری سرگرمیوں میں وسعت آئے گی اور اوکاڑہ ایک تعلیمی و طبی مرکز کے طور پر ابھر کر سامنے آئے گا۔

    آج اوکاڑہ کے نوجوانوں کے چہروں پر خوشی کی چمک ہے، والدین کے دلوں میں اطمینان ہے اور شہر کے باسیوں میں ایک نئی امید جاگ چکی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب اور چوہدری ریاض الحق جج نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور قیادت مخلص ہو تو خواب شرمندہ تعبیر ہو جاتے ہیں۔

    یہ کالم لکھتے ہوئے مجھے اپنا بچپن یاد آ رہا ہے جب میڈیکل کے خواب دیکھنے والے کئی ہونہار بچے محض سہولیات کی کمی کی وجہ سے اپنا راستہ بدلنے پر مجبور ہو جاتے تھے۔ آج کا اوکاڑہ اُن کے خوابوں کی تعبیر بن چکا ہے۔ اب یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس منصوبے کی حفاظت کریں، اسے سیاست کی نذر نہ ہونے دیں اور اپنے بچوں کا مستقبل روشن بنائیں۔

    مگر اس موقع پر مرحوم راؤ سکندر اقبال سابقہ وزیر دفاع کا ذکر نہ کرنا اور ان کو اوکاڑہ کی ترقی کے حوالہ سے خراج تحسین پیش نہ کرنا سب سے بڑی زیادتی ہوگی۔ راؤ سکندر اقبال مرحوم کی خدمات اوکاڑہ کا ایک سنہری باب ہیں جن کی انتھک کوششوں سے اوکاڑہ کو چار چاند لگے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، آمین۔